aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "bachpan"
اب سو جاؤاور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دوتم چاند سے ماتھے والے ہواور اچھی قسمت رکھتے ہوبچے کی سو بھولی صورتاب تک ضد کرنے کی عادتکچھ کھوئی کھوئی سی باتیںکچھ سینے میں چبھتی یادیںاب انہیں بھلا دو سو جاؤاور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دوسو جاؤ تم شہزادے ہواور کتنے ڈھیروں پیارے ہواچھا تو کوئی اور بھی تھیاچھا پھر بات کہاں نکلیکچھ اور بھی یادیں بچپن کیکچھ اپنے گھر کے آنگن کیسب بتلا دو پھر سو جاؤاور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دویہ ٹھنڈی سانس ہواؤں کییہ جھلمل کرتی خاموشییہ ڈھلتی رات ستاروں کیبیتے نہ کبھی تم سو جاؤاور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو
یہ دولت بھی لے لو یہ شہرت بھی لے لوبھلے چھین لو مجھ سے سے میری جوانیمگر مجھ کو لوٹا دو وہ بچپن کا ساونوہ کاغذ کی کشتی وہ بارش کا پانییہ دولت بھی لے لو یہ شہرت بھی لے لو
او دیس سے آنے والے بتاآخر میں یہ حسرت ہے کہ بتاوہ غارت ایماں کیسی ہےبچپن میں جو آفت ڈھاتی تھیوہ آفت دوراں کیسی ہےہم دونوں تھے جس کے پروانےوہ شمع شبستاں کیسی ہےاو دیس سے آنے والے بتا
یہ شاخسار کے جھولوں میں پینگ پڑتے ہوئےیہ لاکھوں پتیوں کا ناچنا یہ رقص نباتیہ بے خودئ مسرت یہ والہانہ رقصیہ تال سم یہ چھما چھم کہ کان بجتے ہیںہوا کے دوش پہ کچھ اودی اودی شکلوں کینشے میں چور سی پرچھائیاں تھرکتی ہوئیافق پہ ڈوبتے دن کی جھپکتی ہیں آنکھیںخموش سوز دروں سے سلگ رہی ہے یہ شام!مرے مکان کے آگے ہے ایک چوڑا صحن وسیعکبھی وہ ہنستا نظر آتا ہے کبھی وہ اداساسی کے بیچ میں ہے ایک پیڑ پیپل کاسنا ہے میں نے بزرگوں سے یہ کہ عمر اس کیجو کچھ نہ ہوگی تو ہوگی قریب چھیانوے سالچھڑی تھی ہند میں جب پہلی جنگ آزادیجسے دبانے کے بعد اس کو غدر کہنے لگےیہ اہل ہند بھی ہوتے ہیں کس قدر معصوموہ دار و گیر وہ آزادیٔ وطن کی جنگوطن سے تھی کہ غنیم وطن سے غداریبپھر گئے تھے ہمارے وطن کے پیر و جواںدیار ہند میں رن پڑ گیا تھا چار طرفاسی زمانے میں کہتے ہیں میرے دادا نےجب ارض ہند سنچی خون سے ''سپوتوں'' کےمیان صحن لگایا تھا لا کے اک پوداجو آب و آتش و خاک و ہوا سے پلتا ہواخود اپنے قد سے بہ جوش نمو نکلتا ہوافسون روح بناتی رگوں میں چلتا ہوانگاہ شوق کے سانچوں میں روز ڈھلتا ہواسنا ہے راویوں سے دیدنی تھی اس کی اٹھانہر اک کے دیکھتے ہی دیکھتے چڑھا پروانوہی ہے آج یہ چھتنار پیڑ پیپل کاوہ ٹہنیوں کے کمنڈل لئے جٹادھاریزمانہ دیکھے ہوئے ہے یہ پیڑ بچپن سےرہی ہے اس کے لئے داخلی کشش مجھ میںرہا ہوں دیکھتا چپ چاپ دیر تک اس کومیں کھو گیا ہوں کئی بار اس نظارے میںوہ اس کی گہری جڑیں تھیں کہ زندگی کی جڑیں؟پس سکون شجر کوئی دل دھڑکتا تھامیں دیکھتا تھا اسے ہستیٔ بشر کی طرحکبھی اداس کبھی شادماں کبھی گمبھیرفضا کا سرمئی رنگ اور ہو چلا گہراگھلا گھلا سا فلک ہے دھواں دھواں سی ہے شامہے جھٹپٹا کہ کوئی اژدہا ہے مائل خوابسکوت شام میں درماندگی کا عالم ہےرکی رکی سی کسی سوچ میں ہے موج صبا
میں ان سے پوچھتا ہوں:پل کیسے بنایا جاتا ہےپل بنانے والے کہتے ہیں:تم نے کبھی محبت نہیں کیمیں کہتا ہوں: محبت کیا چیز ہےوہ اپنے اوزار رکھتے ہوئے کہتے ہیں:محبت کا مطلب جاننا چاہتے ہوتو پہلے دریا سے ملو۔۔۔روئے زمین پر دریا سے زیادہ محبت کرنے والا کوئی نہیںدریا اپنے سمندر کی طرف بہتا رہتا ہےیہ سپردگی ہےیہ سپردگی بچپن ہے اور بچپن بہشت۔۔۔لیکن بہشت تک پہنچنے کے لئے ایک جہنم سے گزرنا پڑتا ہےمیں پوچھتا ہوں جہنم کیا ہے؟وہ کہتے ہیں: اس سوال کا جواب درختوں کے پاس ہےکوئی بھی موسم ہو وہ اپنی جگہ نہیں چھوڑتےانہیں مٹی سے محبت ہےانہیں پرندوں اور چیونٹیوں سے محبت ہےجو ان کے جسم میں گھر بناتی ہیں'گھر کیا ہے؟' میں پوچھتا ہوں؟وہ سب ہنسنے لگتے ہیںپہلا مزدور کہتا ہے:اپنی عورت کی طرف جاؤہر سوال کا جواب مل جائے گا
دیار ہند تھا گہوارہ یاد ہے ہم دمبہت زمانہ ہوا کس کے کس کے بچپن کااسی زمین پہ کھیلا ہے رامؔ کا بچپناسی زمین پہ ان ننھے ننھے ہاتھوں نےکسی سمے میں دھنش بان کو سنبھالا تھااسی دیار نے دیکھی ہے کرشنؔ کی لیلایہیں گھروندوں میں سیتا سلوچنا رادھاکسی زمانے میں گڑیوں سے کھیلتی ہوں گییہی زمیں یہی دریا پہاڑ جنگل باغیہی ہوائیں یہی صبح و شام سورج چاندیہی گھٹائیں یہی برق و رعد و قوس قزحیہیں کے گیت روایات موسموں کے جلوسہوا زمانہ کہ سدھارتھؔ کے تھے گہوارےانہی نظاروں میں بچپن کٹا تھا وکرمؔ کاسنا ہے بھرترہریؔ بھی انہیں سے کھیلا تھابھرتؔ اگستؔ کپلؔ ویاسؔ پاشیؔ کوٹیلہؔجنکؔ وششتؔ منوؔ والمیکؔ وشوامترؔکنادؔ گوتمؔ و رامانجؔ کمارلؔ بھٹموہن جوڈارو ہڑپا کے اور اجنتا کےبنانے والے یہیں بلموں سے کھیلے تھےاسی ہنڈولے میں بھوبھوتؔ و کالیداسؔ کبھیہمک ہمک کے جو تتلا کے گنگنائے تھےسرسوتی نے زبانوں کو ان کی چوما تھایہیں کے چاند و سورج کھلونے تھے ان کےانہیں فضاؤں میں بچپن پلا تھا خسروؔ کااسی زمیں سے اٹھے تان سینؔ اور اکبرؔرحیمؔ نانکؔ و چیتنیہؔ اور چشتیؔ نےانہیں فضاؤں میں بچپن کے دن گزارے تھےاسی زمیں پہ کبھی شاہزادۂ خرمؔذرا سی دل شکنی پر جو رو دیا ہوگابھر آیا تھا دل نازک تو کیا عجب اس میںان آنسوؤں میں جھلک تاج کی بھی دیکھی ہواہلیا بائیؔ دمنؔ پدمنیؔ و رضیہؔ نےیہیں کے پیڑوں کی شاخوں میں ڈالے تھے جھولےاسی فضا میں بڑھائی تھی پینگ بچپن کیانہی نظاروں میں ساون کے گیت گائے تھےاسی زمین پہ گھٹنوں کے بل چلے ہوں گےملکؔ محمد و رسکھانؔ اور تلسیؔ داسانہیں فضاؤں میں گونجی تھی توتلی بولیکبیرؔ داس ٹکارامؔ سورؔ و میراؔ کیاسی ہنڈولے میں ودیاپتیؔ کا کنٹھ کھلااسی زمین کے تھے لال میرؔ و غالبؔ بھیٹھمک ٹھمک کے چلے تھے گھروں کے آنگن میںانیسؔ و حالیؔ و اقبالؔ اور وارثؔ شاہیہیں کی خاک سے ابھرے تھے پریم چندؔ و ٹیگورؔیہیں سے اٹھے تھے تہذیب ہند کے معماراسی زمین نے دیکھا تھا بال پن ان کایہیں دکھائی تھیں ان سب نے بال لیلائیںیہیں ہر ایک کے بچپن نے تربیت پائییہیں ہر ایک کے جیون کا بال کانڈ کھلایہیں سے اٹھتے بگولوں کے ساتھ دوڑے ہیںیہیں کی مست گھٹاؤں کے ساتھ جھومے ہیںیہیں کی مدھ بھری برسات میں نہائے ہیںلپٹ کے کیچڑ و پانی سے بچپنے ان کےاسی زمین سے اٹھے وہ دیش کے ساونتاڑا دیا تھا جنہیں کمپنی نے توپوں سےاسی زمین سے اٹھی ہیں ان گنت نسلیںپلے ہیں ہند ہنڈولے میں ان گنت بچےمجھ ایسے کتنے ہی گمنام بچے کھیلے ہیںاسی زمیں سے اسی میں سپرد خاک ہوئےزمین ہند اب آرام گاہ ہے ان کیاس ارض پاک سے اٹھیں بہت سی تہذیبیںیہیں طلوع ہوئیں اور یہیں غروب ہوئیںاسی زمین سے ابھرے کئی علوم و فنونفراز کوہ ہمالہ یہ دور گنگ و جمناور ان کی گود میں پروردہ کاروانوں نےیہیں رموز خرام سکوں نما سیکھےنسیم صبح تمدن نے بھیرویں چھیڑییہیں وطن کے ترانوں کی وہ پویں پھوٹیںوہ بے قرار سکوں زا ترنم سحریوہ کپکپاتے ہوئے سوز و ساز کے شعلےانہی فضاؤں میں انگڑائیاں جو لے کے اٹھےلوؤں سے جن کے چراغاں ہوئی تھی بزم حیاتجنہوں نے ہند کی تہذیب کو زمانہ ہوابہت سے زاویوں سے آئینہ دکھایا تھااسی زمیں پہ ڈھلی ہے مری حیات کی شاماسی زمین پہ وہ صبح مسکرائی ہےتمام شعلہ و شبنم مری حیات کی صبحسناؤں آج کہانی میں اپنے بچپن کیدل و دماغ کی کلیاں ابھی نہ چٹکی تھیںہمیشہ کھیلتا رہتا تھا بھائی بہنوں میںہمارے ساتھ محلے کی لڑکیاں لڑکےمچائے رکھتے تھے بالک ادھم ہر ایک گھڑیلہو ترنگ اچھل پھاند کا یہ عالم تھامحلہ سر پہ اٹھائے پھرے جدھر گزرےہمارے چہچہے اور شور گونجتے رہتےچہار سمت محلے کے گوشے گوشے میںفضا میں آج بھی لا ریب گونجتے ہوں گےاگرچہ دوسرے بچوں کی طرح تھا میں بھیبظاہر اوروں کے بچپن سا تھا مرا بچپنیہ سب سہی مرے بچپن کی شخصیت بھی تھی ایکوہ شخصیت کہ بہت شوخ جس کے تھے خد و خالادا ادا میں کوئی شان انفرادی تھیغرض کچھ اور ہی لچھن تھے میرے بچپن کےمجھے تھا چھوٹے بڑوں سے بہت شدید لگاؤہر ایک پر میں چھڑکتا تھا اپنی ننھی سی جاںدل امڈا آتا تھا ایسا کہ جی یہ چاہتا تھااٹھا کے رکھ لوں کلیجے میں اپنی دنیا کومجھے ہے یاد ابھی تک کہ کھیل کود میں بھیکچھ ایسے وقفے پر اسرار آ ہی جاتے تھےکہ جن میں سوچنے لگتا تھا کچھ مرا بچپنکئی معانئ بے لفظ چھونے لگتے تھےبطون غیب سے میرے شعور اصغر کوہر ایک منظر مانوس گھر کا ہر گوشہکسی طرح کی ہو گھر میں سجی ہوئی ہر چیزمرے محلے کی گلیاں مکاں در و دیوارچبوترے کنویں کچھ پیڑ جھاڑیاں بیلیںوہ پھیری والے کئی ان کے بھانت بھانت کے بولوہ جانے بوجھے مناظر وہ آسماں و زمیںبدلتے وقت کا آئینہ گرمی و خنکیغروب مہر میں رنگوں کا جاگتا جادوشفق کے شیش محل میں گداز پنہاں سےجواہروں کی چٹانیں سی کچھ پگھلتی ہوئیںشجر حجر کی وہ کچھ سوچتی ہوئی دنیاسہانی رات کی مانوس رمزیت کا فسوںعلی الصباح افق کی وہ تھرتھراتی بھویںکسی کا جھانکنا آہستہ پھوٹتی پو سےوہ دوپہر کا سمے درجۂ تپش کا چڑھاؤتھکی تھکی سی فضا میں وہ زندگی کا اتارہوا کی بنسیاں بنسواڑیوں میں بجتی ہوئیںوہ دن کے بڑھتے ہوئے سائے سہ پہر کا سکوںسکوت شام کا جب دونوں وقت ملتے ہیںغرض جھلکتے ہوئے سرسری مناظر پرمجھے گمان پرستانیت کا ہوتا تھاہر ایک چیز کی وہ خواب ناک اصلیتمرے شعور کی چلمن سے جھانکتا تھا کوئیلیے ربوبیت کائنات کا احساسہر ایک جلوے میں غیب و شہود کا وہ ملاپہر اک نظارہ اک آئینہ خانۂ حیرتہر ایک منظر مانوس ایک حیرت زارکہیں رہوں کہیں کھیلوں کہیں پڑھوں لکھوںمرے شعور پہ منڈلاتے تھے مناظر دہرمیں اکثر ان کے تصور میں ڈوب جاتا تھاوفور جذبہ سے ہو جاتی تھی مژہ پر نممجھے یقین ہے ان عنصری مناظر سےکہ عام بچوں سے لیتا تھا میں زیادہ اثرکسی سمے مری طفلی رہی نہ بے پروانہ چھو سکی مری طفلی کو غفلت طفلییہ کھیل کود کے لمحوں میں ہوتا تھا احساسدعائیں دیتا ہو جیسے مجھے سکوت دوامکہ جیسے ہاتھ ابد رکھ دے دوش طفلی پرہر ایک لمحہ کے رخنوں سے جھانکتی صدیاںکہانیاں جو سنوں ان میں ڈوب جاتا تھاکہ آدمی کے لیے آدمی کی جگ بیتیسے بڑھ کے کون سی شے اور ہو ہی سکتی ہےانہی فسانوں میں پنہاں تھے زندگی کے رموزانہی فسانوں میں کھلتے تھے راز ہائے حیاتانہیں فسانوں میں ملتی تھیں زیست کی قدریںرموز بیش بہا ٹھیٹھ آدمیت کےکہانیاں تھیں کہ صد درس گاہ رقت قلبہر اک کہانی میں شائستگی غم کا سبقوہ عنصر آنسوؤں کا داستان انساں میںوہ نل دمن کی کتھا سر گزشت ساوتریشکنتلاؔ کی کہانی بھرتؔ کی قربانیوہ مرگ بھیشم پتامہ وہ سیج تیروں کیوہ پانچوں پانڈوں کی سورگ یاترا کی کتھاوطن سے رخصت سدھارتھؔ رامؔ کا بن باسوفا کے بعد بھی سیتاؔ کی وہ جلا وطنیوہ راتوں رات سری کرشنؔ کو اٹھائے ہوئےبلا کی قید سے بسدیوؔ کا نکل جاناوہ اندھ کار وہ بارش، بڑھی ہوئی جمناغم آفرین کہانی وہ ہیرؔ رانجھاؔ کیشعور ہند کے بچپن کی یادگار عظیمکہ ایسے ویسے تخیل کی سانس اکھڑ جائےکئی محیر ادراک دیو مالائیںہت اوپدیش کے قصے کتھا سرت ساگرکروڑوں سینوں میں وہ گونجتا ہوا آلھامیں پوچھتا ہوں کسی اور ملک والوں سےکہانیوں کی یہ دولت یہ بے بہا دولتفسانے دیکھ لو ان کے نظر بھی آتی ہےمیں پوچھتا ہوں کہ گہوارے اور قوموں کےبسے ہوئے ہیں کہیں ایسی داستانوں سےکہانیاں جو میں سنتا تھا اپنے بچپن میںمرے لیے وہ نہ تھیں محض باعث تفریحفسانوں سے مرے بچپن نے سوچنا سیکھافسانوں سے مجھے سنجیدگی کے درس ملےفسانوں میں نظر آتی تھی مجھ کو یہ دنیاغم و خوشی میں رچی پیار میں بسائی ہوئیفسانوں سے مرے دل نے گھلاوٹیں پائیںیہی نہیں کہ مشاہیر ہی کے افسانےذرا سی عمر میں کرتے ہوں مجھ کو متأثرمحلے ٹولے کے گمنام آدمیوں کےکچھ ایسے سننے میں آتے تھے واقعات حیاتجوں یوں تو ہوتے تھے فرسودہ اور معمولیمگر تھے آئینے اخلاص اور شرافت کےیہ چند آئی گئی باتیں ایسی باتیں تھیںکہ جن کی اوٹ چمکتا تھا درد انسانییہ واردات نہیں رزمیے حیات کے تھےغرض کہ یہ ہیں مرے بچپنے کی تصویریںندیم اور بھی کچھ خط و خال ہیں ان کےیہ میری ماں کا ہے کہنا کہ جب میں بچہ تھامیں ایسے آدمی کی گود میں نہ جاتا تھاجو بد قمار ہو عیبی ہو یا ہو بد صورتمجھے بھی یاد ہے نو دس برس ہی کا میں تھاتو مجھ پہ کرتا تھا جادو سا حسن انسانیکچھ ایسا ہوتا تھا محسوس جب میں دیکھتا تھاشگفتہ رنگ تر و تازہ روپ والوں کاکہ ان کی آنچ مری ہڈیاں گلا دے گیاک آزمائش جاں تھی کہ تھا شعور جمالاور اس کی نشتریت اس کی استخواں سوزیغم و نشاط لگاوٹ محبت و نفرتاک انتشار سکوں اضطراب پیار عتابوہ بے پناہ ذکی الحسی وہ حلم و غرورکبھی کبھی وہ بھرے گھر میں حس تنہائیوہ وحشتیں مری ماحول خوش گوار میں بھیمری سرشت میں ضدین کے کئی جوڑےشروع ہی سے تھے موجود آب و تاب کے ساتھمرے مزاج میں پنہاں تھی ایک جدلیترگوں میں چھوٹتے رہتے تھے بے شمار انارندیم یہ ہیں مرے بال پن کے کچھ آثاروفور و شدت جذبات کا یہ عالم تھاکہ کوندے جست کریں دل کے آبگینے میںوہ بچپنا جسے برداشت اپنی مشکل ہووہ بچپنا جو خود اپنی ہی تیوریاں سی چڑھائےندیم ذکر جوانی سے کانپ جاتا ہوںجوانی آئی دبے پاؤں اور یوں آئیکہ اس کے آتے ہی بگڑا بنا بنایا کھیلوہ خواہشات کے جذبات کے امڈتے ہوئےوہ ہونکتے ہوئے بے نام آگ کے طوفاںوہ پھوٹتا ہوا جوالا مکھی جوانی کارگوں میں اٹھتی ہوئی آندھیوں کے وہ جھٹکےکہ جو توازن ہستی جھنجھوڑ کے رکھ دیںوہ زلزلے کہ پہاڑوں کے پیر اکھڑ جائیںبلوغیت کی وہ ٹیسیں وہ کرب نشو و نمااور ایسے میں مجھے بیاہا گیا بھلا کس سےجو ہو نہ سکتی تھی ہرگز مری شریک حیاتہم ایک دوسرے کے واسطے بنے ہی نہ تھےسیاہ ہو گئی دنیا مری نگاہوں میںوہ جس کو کہتے ہیں شادیٔ خانہ آبادیمرے لیے وہ بنی بیوگی جوانی کیلٹا سہاگ مری زندگی کا مانڈو میںندیم کھا گئی مجھ کو نظر جوانی کیبلائے جان مجھے ہو گیا شعور جمالتلاش شعلۂ الفت سے یہ ہوا حاصلکہ نفرتوں کا اگن کنڈ بن گئی ہستیوہ حلق و سینہ و رگ رگ میں بے پناہ چبھاندیم جیسے نگل لی ہو میں نے ناگ پھنیز عشق زادم و عشقم کمشت زار و دریغخبر نہ برد بہ رستم کسے کہ سہرابمنہ پوچھ عالم کام و دہن ندیم مرےثمر حیات کا جب راکھ بن گیا منہ میںمیں چلتی پھرتی چتا بن گیا جوانی کیمیں کاندھا دیتا رہا اپنے جیتے مردے کویہ سوچتا تھا کہ اب کیا کروں کہاں جاؤںبہت سے اور مصائب بھی مجھ پہ ٹوٹ پڑےمیں ڈھونڈھنے لگا ہر سمت سچی جھوٹی پناہتلاش حسن میں شعر و ادب میں دوستی میںرندھی صدا سے محبت کی بھیک مانگی ہےنئے سرے سے سمجھنا پڑا ہے دنیا کوبڑے جتن سے سنبھالا ہے خود کو میں نے ندیممجھے سنبھلنے میں تو چالیس سال گزرے ہیںمیری حیات تو وش پان کی کتھا ہے ندیممیں زہر پی کے زمانے کو دے سکا امرتنہ پوچھ میں نے جو زہرابۂ حیات پیامگر ہوں دل سے میں اس کے لیے سپاس گزارلرزتے ہاتھوں سے دامن خلوص کا نہ چھٹابچا کے رکھی تھی میں نے امانت طفلیاسے نہ چھین سکی مجھ سے دست برد شباببقول شاعر ملک فرنگ ہر بچہخود اپنے عہد جوانی کا باپ ہوتا ہےیہ کم نہیں ہے کہ طفلیٔ رفتہ چھوڑ گئیدل حزیں میں کئی چھوٹے چھوٹے نقش قدممری انا کی رگوں میں پڑے ہوئے ہیں ابھینہ جانے کتنے بہت نرم انگلیوں کے نشاںہنوز وقت کے بے درد ہاتھ کر نہ سکےحیات رفتہ کی زندہ نشانیوں کو فنازمانہ چھین سکے گا نہ میری فطرت سےمری صفا مرے تحت الشعور کی عصمتتخیلات کی دوشیزگی کا رد عملجوان ہو کے بھی بے لوث طفل وش جذباتسیانا ہونے پہ بھی یہ جبلتیں میرییہ سر خوشی و غم بے ریا یہ قلب گدازبغیر بیر کے ان بن غرض سے پاک تپاکغرض سے پاک یہ آنسو غرض سے پاک ہنسییہ دشت دہر میں ہمدردیوں کا سرچشمہقبولیت کا یہ جذبہ یہ کائنات و حیاتاس ارض پاک پر ایمان یہ ہم آہنگیہر آدمی سے ہر اک خواب و زیست سے یہ لگاؤیہ ماں کی گود کا احساس سب مناظر میںقریب و دور زمیں میں یہ بوئے وطینتنظام شمس و قمر میں پیام حفظ حیاتبہ چشم شام و سحر مامتا کی شبنم سییہ ساز و دل میں مرے نغمۂ انالکونینہر اضطراب میں روح سکون بے پایاںزمانۂ گزراں میں دوام کا سرگمیہ بزم جشن حیات و ممات سجتی ہوئیکسی کی یاد کی شہنائیاں سی بجتی ہوئییہ رمزیت کے عناصر شعور پختہ میںفلک پہ وجد میں لاتی ہے جو فرشتوں کووہ شاعری بھی بلوغ مزاج طفلی ہےیہ نشتریت ہستی یہ اس کی شعریتیہ پتی پتی پہ گلزار زندگی کے کسیلطیف نور کی پرچھائیاں سی پڑتی ہوئیبہم یہ حیرت و مانوسیت کی سرگوشیبشر کی ذات کہ مہر الوہیت بہ جبیںابد کے دل میں جڑیں مارتا ہوا سبزہغم جہاں مجھے آنکھیں دکھا نہیں سکتاکہ آنکھیں دیکھے ہوئے ہوں میں نے اپنے بچپن کیمرے لہو میں ابھی تک سنائی دیتی ہیںسکوت حزن میں بھی گھنگھرؤں کی جھنکاریںیہ اور بات کہ میں اس پہ کان دے نہ سکوںاسی ودیعت طفلی کا اب سہارا ہےیہی ہیں مرہم کافور دل کے زخموں پرانہی کو رکھنا ہے محفوظ تا دم آخرزمین ہند ہے گہوارہ آج بھی ہم دماگر حساب کریں دس کروڑ بچوں کایہ بچے ہند کی سب سے بڑی امانت ہیںہر ایک بچے میں ہیں صد جہان امکاناتمگر وطن کا حل و عقد جن کے ہاتھ میں ہےنظام زندگئ ہند جن کے بس میں ہےرویہ دیکھ کے ان کا یہ کہنا پڑتا ہےکسے پڑی ہے کہ سمجھے وہ اس امانت کوکسے پڑی ہے کہ بچوں کی زندگی کو بچائےخراب ہونے سے ٹلنے سے سوکھ جانے سےبچائے کون ان آزردہ ہونہاروں کووہ زندگی جسے یہ دے رہے ہیں بھارت کوکروڑوں بچوں کے مٹنے کا اک المیہ ہےچرائے جاتے ہیں بچے ابھی گھروں سے یہاںکہ جسم توڑ دیے جائیں ان کے تاکہ ملےچرانے والوں کو خیرات ماگھ میلے کیجو اس عذاب سے بچ جائیں تو گلے پڑ جائیںوہ لعنتیں کہ ہمارے کروڑوں بچوں کیندیم خیر سے مٹی خراب ہو جائےوہ مفلسی کہ خوشی چھین لے وہ بے برگیاداسیوں سے بھری زندگی کی بے رنگیوہ یاسیات نہ جس کو چھوئے شعاع امیدوہ آنکھیں دیکھتی ہیں ہر طرف جو بے نوریوہ ٹکٹکی کہ جو پتھرا کے رہ گئی ہو ندیموہ بے دلی کی ہنسی چھین لے جو ہونٹوں سےوہ دکھ کہ جس سے ستاروں کی آنکھ بھر آئےوہ گندگی وہ کثافت مرض زدہ پیکروہ بچے چھن گئے ہوں جن سے بچپنے ان کےہمیں نے گھونٹ دیا جس کے بچپنے کا گلاجو کھاتے پیتے گھروں کے ہیں بچے ان کو بھی کیاسماج پھولنے پھلنے کے دے سکا سادھنوہ سانس لیتے ہیں تہذیب کش فضاؤں میںہم ان کو دیتے ہیں بے جان اور غلط تعلیمملے گا علم جہالت نما سے کیا ان کونکل کے مدرسوں اور یونیورسٹیوں سےیہ بد نصیب نہ گھر کے نہ گھاٹ کے ہوں گےمیں پوچھتا ہوں یہ تعلیم ہے کہ مکاریکروڑوں زندگیوں سے یہ بے پناہ دغانصاب ایسا کہ محنت کریں اگر اس پربجائے علم جہالت کا اکتساب کریںیہ الٹا درس ادب یہ سڑی ہوئی تعلیمدماغ کی ہو غذا یا غذائے جسمانیہر اک طرح کی غذا میں یہاں ملاوٹ ہےوہ جس کو بچوں کی تعلیم کہہ کے دیتے ہیںوہ درس الٹی چھری ہے گلے پہ بچپن کےزمین ہند ہنڈولا نہیں ہے بچوں کاکروڑوں بچوں کا یہ دیس اب جنازہ ہےہم انقلاب کے خطروں سے خوب واقف ہیںکچھ اور روز یہی رہ گئے جو لیل و نہارتو مول لینا پڑے گا ہمیں یہ خطرہ بھیکہ بچے قوم کی سب سے بڑی امانت ہیں
اسی زباں میں ہمارے بچپن نے ماؤں سے لوریاں سنی ہیںجوان ہو کر اسی زباں میں کہانیاں عشق نے کہی ہیںاسی زباں کو چمکتے ہیروں سے علم کی جھولیاں بھری ہیں
تیری ہی گردن رنگیں میں ہیں بانہیں اپنیتیرے ہی عشق میں ہیں صبح کی آہیں اپنیتیرے ہی حسن سے روشن ہیں نگاہیں اپنیکج ہوئیں تیری ہی محفل میں کلاہیں اپنیبانکپن سیکھ لیا عشق کی افتادوں سےدل لگایا بھی تو تیرے ہی پری زادوں سے
کیا بچے سلجھے ہوتے ہیںجب گیند سے الجھے ہوتے ہیںوہ اس لیے مجھ کو بھاتے ہیںدن بیتے یاد دلاتے ہیںوہ کتنے حسین بسیرے تھےجب دور غموں سے ڈیرے تھےجو کھیل میں حائل ہوتا تھانفرین کے قابل ہوتا تھاہر اک سے الجھ کر رہ جانارک رک کے بہت کچھ کہہ جاناہنس دینا باتوں باتوں پربرسات کی کالی راتوں پربادل کی سبک رفتاری پربلبل کی آہ و زاری پراور شمع کی لو کی گرمی پرپروانوں کی ہٹ دھرمی پردنیا کے دھندے کیا جانیںآزاد یہ پھندے کیا جانیںمعصوم فضا میں رہتے تھےہم تو یہ سمجھ ہی بیٹھے تھےخوشیوں کا الم انجام نہیںدنیا میں خزاں کا نام نہیںماحول نے کھایا پھر پلٹاناگاہ تغیر آ جھپٹااور اس کی کرم فرمائی سےحالات کی اک انگڑائی سےآ پہنچے ایسے بیڑوں میںجو لے گئے ہمیں تھپیڑوں میںبچپن کے سہانے سائے تھےسائے میں ذرا سستائے تھےوہ دور مقدس بیت گیایہ وقت ہی بازی جیت گیااب ویسے مرے حالات نہیںوہ چیز نہیں وہ بات نہیںجینے کا سفر اب دوبھر ہےہر گام پہ سو سو ٹھوکر ہےوہ دل جو روح قرینہ تھاآشاؤں کا ایک خزینہ تھااس دل میں نہاں اب نالے ہیںتاروں سے زیادہ چھالے ہیںجو ہنسنا ہنسانا ہوتا ہےرونے کو چھپانا ہوتا ہےکوئی غنچہ دل میں کھلتا ہےتھوڑا سا سکوں جب ملتا ہےغم تیز قدم پھر بھرتا ہےخوشیوں کا تعاقب کرتا ہےمیں سوچتا رہتا ہوں یوں ہیآخر یہ تفاوت کیا معنییہ سوچ عجب تڑپاتی ہےآنکھوں میں نمی بھر جاتی ہےپھر مجھ سے دل یہ کہتا ہےماضی کو تو روتا رہتا ہےکچھ آہیں دبی سی رہنے دےکچھ آنسو باقی رہنے دےیہ حال بھی ماضی ہونا ہےاس پر بھی تجھے کچھ رونا ہے
ہے امتحاں سر پر کھڑا محنت کرو محنت کروباندھو کمر بیٹھے ہو کیا محنت کرو محنت کروبے شک پڑھائی ہے سوا اور وقت ہے تھوڑا رہاہے ایسی مشکل بات کیا محنت کرو محنت کروشکوے شکایت جو کہ تھے تم نے کہے ہم نے سنےجو کچھ ہوا اچھا ہوا محنت کرو محنت کرومحنت کرو انعام لو انعام پر اکرام لوجو چاہو گے مل جائے گا محنت کرو محنت کروجو بیٹھ جائیں ہار کر کہہ دو انہیں للکار کرہمت کا کوڑا مار کر محنت کرو محنت کروتدبیریں ساری کر چکے باتوں کے دریا بہہ چکےبک بک سے اب کیا فائدہ محنت کرو محنت کرویہ بیج اگر ڈالوگے تم دل سے اسے پا لو گے تمدیکھو گے پھر اس کا مزا محنت کرو محنت کرومحنت جو کی جی توڑ کر ہر شوق سے منہ موڑ کرکر دو گے دم میں فیصلہ محنت کرو محنت کروکھیتی ہو یا سوداگری ہو بھیک ہو یا چاکریسب کا سبق یکساں سنا محنت کرو محنت کروجس دن بڑے تم ہو گئے دنیا کے دھندوں میں پھنسےپڑھنے کی پھر فرصت کجا محنت کرو محنت کروبچپن رہا کس کا بھلا انجام کو سوچو ذرایہ تو کہو کھاؤ گے کیا محنت کرو محنت کرو
کل وہ ملی جو بچپن میں میرے بھائی سے کھیلا کرتی تھیجانے تب کیا بات تھی اس میں مجھ سے بہت ہی ڈرتی تھیپر کیا ہوا؟ وہ کہاں گئی؟ اب کون یہ باتیں جانتا ہےکب اتنی دوری سے کوئی شکلوں کو پہچانتا ہےلیکن اب جو ملی ہے مجھ سے ایسا کبھی نہ دیکھا تھااس کو اتنی چاہ تھی میری میں نے کبھی نہ سوچا تھانام بھی اس نے بچے کا میرے ہی نام پہ رکھا تھاپھر کہیں اس سے بچھڑ نہ جاؤں ایسے مجھ کو تکتی تھیکوئی گہری بات تھی جی میں جسے وہ کہہ بھی نہ سکتی تھیایسی چپ اور پاگل آنکھیں دمک رہی تھیں شدت سےمیں تو سچ مچ ڈرنے لگا تھا اس خاموش محبت سے
ترے آغوش میں بچپن کے ہم نے دن بتائے ہیںترے آنگن میں کتنا روئے کتنا مسکرائے ہیںیہاں مسرور آنکھوں میں نئے ارماں جگائے ہیںیہاں معصوم ہونٹوں سے ترانے ہم نے گائے ہیں
کل رات مرا بیٹا مرے گھرچہرے پہ منڈھے خاکی کپڑابندوق اٹھائے آ پہنچانو عمری کی سرخی سے رچی اس کی آنکھیںمیں جان گئیاور بچپن کے صندل سے منڈھا اس کا چہرہپہچان گئیوہ آیا تھا خود اپنے گھرگھر کی چیزیں لے جانے کوان کہی کہی منوانے کو
کتنی مستانہ سی تھی عید مرے بچپن کیاب خیالوں میں بھی لاتا ہوں تو کھو جاتی ہے
مجھ کو شکوہ ہے مرے بھائی کہ تم جاتے ہوئےلے گئے ساتھ مری عمر گزشتہ کی کتاباس میں تو میری بہت قیمتی تصویریں تھیںاس میں بچپن تھا مرا اور مرا عہد شباباس کے بدلے مجھے تم دے گئے جاتے جاتےاپنے غم کا یہ دمکتا ہوا خوں رنگ گلابکیا کروں بھائی یہ اعزاز میں کیوں کر پہنوںمجھ سے لے لو مری سب چاک قمیصوں کا حسابآخری بار ہے لو مان لو اک یہ بھی سوالآج تک تم سے میں لوٹا نہیں مایوس جوابآ کے لے جاؤ تم اپنا یہ دمکتا ہوا پھولمجھ کو لوٹا دو مری عمر گزشتہ کی کتاب
وہ گلیوں میں بارش وہ گل نار چہرےتمناؤں کے وہ بھنور گہرے گہرےبھری دھوپ میں وہ پتنگیں پکڑنا''وہ باتوں ہی باتوں میں لڑنا جھگڑنا''کوئی کاش مجھ پر یہ احسان کر دےکی بچپن کے کچھ پل میرے نام کر دےمیں اب اس پرانے محلے میں جا کرخدا سے یہ فریاد کرنے لگا ہوںمیں بچپن تجھے یاد کرنے لگا ہوں
آتا ہے یاد مجھ کو بچپن کا وہ زمانہرہتا تھا ساتھ میرے خوشیوں کا جب خزانہہر روز گھر میں ملتے عمدہ لذیذ کھانےبے محنت و مشقت حاصل تھا آب و دانہبچوں کے ساتھ رہنا خوشیوں کے گیت گانادل میں نہ تھی کدورت تھا سب سے دوستانہمہندی کے پتے لانا اور پیس کر لگاناپھر سرخ ہاتھ اپنے ہر ایک کو دکھاناآواز ڈگڈگی کی جوں ہی سنائی دیتیاس کی طرف لپکنا بچوں کا والہانہہر سال پیارے ابو لاتے تھے ایک بکراچارہ اسے کھلانا میدان میں گھماناوہ دور جا چکا ہے آتا نہیں پلٹ کربچپن کا وہ زمانہ لگتا ہے اک فسانہدادی کو میں نے اک دن یہ مشورہ دیا تھاچہرے کی جھریوں کو آسان ہے مٹاناچہرے پہ آپ کے ہیں جو بے شمار شکنیںآیا مری سمجھ میں ان سے نجات پاناکپڑے کی ساری شکنیں مٹتی ہیں استری سےآسان سا عمل ہے یہ استری چلانااک گرم استری کو چہرے پہ آپ پھیریںعمدہ ہے میرا نسخہ ہے شرط آزمانااک روز والدہ سے جا کر کہا کچن میںاب چھوڑیئے گا امی یہ روٹیاں پکانااک پیڑ روٹیوں کا دالان میں لگائیںاس پیڑ کو کہیں گے روٹی کا کارخانہشاخوں سے تازہ تازہ پھر روٹیاں ملیں گیتوڑیں گے روٹیاں ہم کھائیں گے گھر میں کھاناکیسی عجیب باتیں آتی تھیں میرے لب پرآج ان کو کہہ رہا ہوں باتیں ہیں احمقانہوہ پیاری پیاری باتیں اب یاد آ رہی ہیںبچپن کا وہ زمانہ کیا خواب تھا سہانا
میرے اجداد کا وطن یہ شہرمیری تعلیم کا جہاں یہ مقاممیرے بچپن کی دوست یہ گلیاںجن میں رسوا ہوا شباب کا نامیاد آتے ہیں ان فضاؤں میںکتنے نزدیک اور دور کے نامکتنے خوابوں کے ملگجے چہرےکتنی یادوں کے مرمریں اجسامکتنے ہنگامے کتنی تحریکیںکتنے نعرے جو تھے زباں زد عاممیں یہاں جب شعور کو پہنچااجنبی قوم کی تھی قوم غلامیونین جیک درس گاہ پہ تھااور وطن میں تھا سامراجی نظاماسی مٹی کو ہاتھ میں لے کرہم بنے تھے بغاوتوں کے امامیہیں جانچے تھے دھرم کے وشواسیہیں پرکھے تھے دین کے اوہامہیں منکر بنے روایت کےیہیں توڑے رواج کے اصنامیہیں نکھرا تھا ذوق نغمہ گرییہیں اترا تھا شعر کا الہاممیں جہاں بھی رہا یہیں کا رہامجھ کو بھولے نہیں ہیں یہ در و بامنام میرا جہاں جہاں پہنچاساتھ پہنچا ہے اس دیار کا ناممیں یہاں میزباں بھی مہماں بھیآپ جو چاہیں دیجیے مجھے نامنذر کرتا ہوں ان فضاؤں کیاپنا دل اپنی روح اپنا کلاماور فیضان علم جاری ہواور اونچا ہو اس دیار کا ناماور شاداب ہو یہ ارض حسیںاور مہکے یہ وادئ گلفاماور ابھریں صنم گری کے نقوشاور چھلکیں مے سخن کے جاماور نکلیں وہ بے نوا جن کواپنا سب کچھ کہیں وطن کے عوامقافلے آتے جاتے رہتے ہیںکب ہوا ہے یہاں کسی کا قیامنسل در نسل کام جاری ہےکار دنیا کبھی ہوا نہ تمامکل جہاں میں تھا آج تو ہے وہاںاے نئی نسل تجھ کو میرا سلام
ایک پہاڑی کچرے کیاور اس پر پھرتےآوارہ کتوں سے بچےاپنا بچپن ڈھونڈ رہے ہیں
کبھی کبھی یہ سوچتی ہوںآخر میں ٹیچر کیوں ہوںکچھ اور نہ کر سکیکیا اس لیے میں ٹیچر ہوںجواب یہی بس آتا ہےسب کچھ کر سکتی ہوںشاید اسی لیے میں ٹیچر ہوںننھے منے بچوں میںمیں اپنا بچپن دیکھتی ہوںکسی میں سر سیدؔکسی میں کلامؔ دیکھتی ہوںکبھی کبھی یہ سوچتی ہوںکہ مجھے صرف کتابوں کےنصاب ہی پڑھانے ہیںیا کہ ان کے ذہن کی کوری تختی پرکچھ اور لکھنا ہےبچے تو کچی مٹی کے لوندے ہیںانہیں مجھے ہی سنوارنا سجانا ہےاور انسانیت کے سانچے میں ڈھال کرایک بہتر انسان بنانا ہےاگر میں یہ سب کچھ کر سکی توکامیاب ہے میرا مقصدمیرا کام سے محبتخدا کی خاص رحمتکبھی کبھی سوچتی ہوںمجھے ہی تو بنانی ہےان نونہالوں کی شخصیتجو آج کمزور پودے ہیںکل سایہ دار درخت ہوں گےیہی قوم و ملت کے بخت ہوں گےشاید اسی لیے میں ٹیچر ہوں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books