aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "bado"
ہم بھی مرتے جا رہے ہیںبعد تیرےہم دکھوں کےآنسوؤں کے باد و باراں میںنہتے دل کے ساتھبے پناہی راستوں پرپاؤں دھرتے جا رہے ہیںدن گزرتے جا رہے ہیںلمحہ لمحہ خوف کے مارے ہوئےرات دن کے وسوسوں میںکیا خبر کیا بیت جائے اگلے پلاس سفر میں ذہن سوچوں کے تھپیڑوںسے ہے شلاور ہم خود ہی سے ڈرتے جا رہے ہیںدن گزرتے جا رہے ہیں
میں اک حسیں خواب دیکھتا ہوںمیں دیکھتا ہوںوہ کشت ویراںکہ سالہا سال سےجو ابر کو بھی ترس رہی تھیوہ کشت ویراںکہ جس کے لب خشک ہو چکے تھےجو ابر نیساں کی منتظر تھیجو کتنی صدیوں سےباد و باراں کی منتظر تھیمیں دیکھتا ہوںاس اپنی مغموم کشت ویراں پہکچھ گھٹا نہیںجو آج لہرا کے چھا گئی ہیںیہ سرد ہوا کے جھونکےنہ رک سکے جو کسی کے روکےذرا تمازت جو کم ہوئی ہےحیات کچھ محترم ہوئی ہےمیں اک حسیں خواب دیکھتا ہوںمیں دیکھتا ہوںکہ جیسے شب کی سیاہ چادرسمٹ رہی ہےوہ تیرگیہم جسے مقدر سمجھ چکے تھےوہ چھٹ رہی ہےمیں دیکھتا ہوںکہ صبح فرداہزار رعنائیاں جلو میںلیے مسکرا رہی ہےمیں دیکھتا ہوںجبیں افق کی جو نور فردا سے ہے منورسحر کا پیغام دے رہی ہےجو روشنی کاجو زندگی کاہر اک کو انعام دے رہی ہے
مجھ سے ملو تماجنبی ملکوں کی سیر و سیاحت میںپیار کے رسم و رواج میںحلقۂ یاراں میںطوفان باد و باراں میںسینٹورس کے عقب میںچھپر ہوٹل کے ٹوٹے ہوئے ٹیبل پرچاند پہ بیٹھی ہوئی بڑھیا کے نورانی چرخے میںاسی کی دہائی کی فلموں کے ذکر میںپرانی کتابوں کی دوکان پرنسوانی خوشبوؤں کے چوک پربوسوں کی تکرار میںمجھ سے ملو تم
باد و باراں سے الجھتا خندہ زن گرداب پراک جزیرہ تیرتا جاتا ہے سطح آب پرگم کئی صدیوں کا اس میں جذبۂ تحقیق ہےیہ جزیرہ آدمی کے ذہن کی تخلیق ہےجا رہا ہے ہر گھڑی موجوں سے ٹکراتا ہوااپنے ہی انداز میں اپنا رجز گاتا ہوابحر کی امواج پر بہتے ہوئے شہر جمیلہر قدم تیرا لیے ہے تیری عظمت کی دلیلآندھیوں کا زور، موجوں کی روانی تجھ میں ہےارتقائے ذہن انساں کی کہانی تجھ میں ہےہر بھنور میں اور ہر طوفان میں ساحل ہے توسینۂ امروز و فردا کا دھڑکتا دل ہے توتو تجلی ہی تجلی ہے اندھیری رات میںروشنی کا ہے منارہ عالم ظلمات میںرات آئی جاگ اٹھا انساں کا ذوق بے بساطآخری اس کا ٹھکانہ مرد و زن کا اختلاطکس قدر ارزاں ہوئے تہذیب کے لمعات نوراللہ اللہ چار جانب روشنی کا یہ وفوراس طرح سے میں نے کب دیکھی تھی مے خانے میں دھومعورتوں مردوں کا لڑکوں لڑکیوں کا یہ ہجومسب نشے میں مست ہیں لیکن ہیں کتنے با خبرپھر رہے ہیں سب کے سب اک دوسرے کو تھام کراحمریں ساغر، لب لعلیں، نگاہیں مے فروشہر طرف ہے ایک مستی، ہر طرف ہے اک خروشاس جگہ ادراک سے بیگانہ کوئی بھی نہیںسب ہیں فرزانے یہاں دیوانہ کوئی بھی نہیںعقل کی اس بزم میں دیوانگی کا کام کیاڈھونڈھتا ہے تو یہاں آ کر دل ناکام کیااتنی آگاہی کسی کو ہو یہ مہلت ہی نہیںکس کی باہیں کس کی گردن میں حمائل ہو گئیںآ کے آغوش ہوس میں خود یہاں گرتا ہے حسنکس قدر کچے سہارے ڈھونڈھتا پھرتا ہے حسنجس سے خیرہ تیری آنکھیں ہیں چمک یورپ کی ہےدیکھ اے آزادؔ! یہ پہلی جھلک یورپ کی ہے
ویسے اس تاریک جنگل کے سفر کے قبل بھیہاتھ میں اس کےیہی اک ٹمٹماتا کانپتا ننھا دیا تھاکچھ تو شہرت کی ہوس نےاور کچھ احمق بہی خواہوں نےاس کی سادہ لوحی کو سزا دیاس کے طفلانہ ارادہ کو ہوا دیلا کے سرحد پر خدا حافظ کہااس کے خضاب آلودہ سر کو یہ سعادت دیدھواں کھائی ہوئیبد رنگ دستار قیادت دیتو وہ سینہ پھلائےاپنی دستار قیامت کو سنبھالےکانپتے ننھے دیے کوایک مشعل کی طرح اونچا اٹھائےچل پڑا تھاغالباً وہ دو قدم ہی جا سکا ہوگاکہ پیلی آندھیوں نےدست لرزاں میں لرزتے اس دیے کونزع کی ہچکی عطا کیاس پہ تیراچھین لی دستار اس کیاس نے آغاز سفر کی ساری خوش فہمیبکھرتی دیکھ کرجب لوٹنا چاہاتو یہ ممکن نہیں تھاہر طرف تاریکیاں تھیںدفعتاً کچھ دور پیچھےاس نے دیکھاآسماں سے بات کرتی دھول کی دیواربڑھتی آ رہی ہےاور کچھ قربت ہوئی تو اس نے دیکھاوہ کئی تھےان کے ہاتھوں میں بھڑکتی مشعلیں تھیںکاسۂ نمناک سے اس نےغرض کی گندگیجو اس کو فطرت میں ملی تھیپونچھ ڈالیاور فوراً غازۂ معصومیہ اس کی عادت بن چکی تھیاپنے چہرے پر چڑھایاایک ہی مقصد تھا یعنیدھول اڑاتے قافلے سےایک مشعل لے سکے وہغازۂ معصومیت پھر کام آیاقافلہ والوں نے اس کوایک مشعل دے کےاپنے ساتھ چلنے کو کہالیکن کہاں تکوہ نہایت تیز رو اور یک قدم تھےاس کے ناز پاؤںسوکھی ہڈیوں کے زور پر کیا ساتھ دیتےایک قدم یا دو قدمپھر تھک گیا وہرفتہ رفتہاس کی وہ مانگی ہوئی مشعلخود اپنے رنگ و روغن کھا رہی تھیاب فقط بھینچی ہوئی محتاط مٹھی میںاندھیرے کی چھڑی تھیباد و باراں تیز طوفاںذہن طفلک میں سفر کے قبلان دشواریوں کاایک ہلکا سا تصور بھی نہیں تھااب جو یہ برعکس صورت ہو گئی تھیرو پڑا وہاس کی پسپائی میں لیکن حوصلہ تھادامن امید اب بھی ہاتھ میں تھادفعتاً اس نے یہ دیکھادھندلی گہری روشنیوں کے کئی ہالوں میںکچھ بڑھتے قدم نزدیک ہوتے جا رہے تھےان کے ہونٹوں سے خموشی چھن رہی تھیسست رو تھےپھر بھی ان کی چال میں اک تمکنت تھیاس نے سوچاان نئے لوگوں کی طرح تیز نہیں ہےان کی ہم راہی میںقدموں کی نقاہت بے اثر ہےاور منزل ایک سعیٔ مختصر ہےاک نئی امید لے کرپشت پر مردہ دیے تاریک مشعل کو چھپا کرگفتگو میں مصلحت آمیز نرمی گھول کراس نے نئے لوگوں سے اک مشعل طلب کی
عجب سفر تھاعجب پر اسرار مرحلہ تھاعجیب ہنگام رہ نوردیعجیب شوق جہاں نما تھانہ کوئی صوت درا صدائے رحیل تھیاور نہ کوئی منزل نہ کارواں تھاعجیب خوئے سفر تھیجو زاد راہ تھیہم سفر تھیرہرو تھیراہبر تھینہ دل میں اندیشۂ مراحلنہ خوف جادہنہ انتظار سواد منزلہر اس طوفان باد و باراںنہ پائے رہ آفریں میں لغزشنہ راہ گم کردگی کا صدمہبس ایک بے باک حوصلہ تھاجو ساری ہستی پہ چھا گیا تھاکہ جان محشر بدست تھیپیچ و خم رہ پر خطر کے عقدہ کشا تھےدل فارغ خطر تھاعجب سفر تھاعجب بلا خیز مرحلہ تھاکہ دور تکسرحد افق تکسمندر و سبزہ زار و وادی و کوہ و صحرا و دشت و دریا تھےاور میں تھیمسافرت تھیسفر برائے سفر تھااک پیاس کا سمندر تھاجو رگ جاں میں موجزن تھاوہ عرصۂ معتبر تھایا عہد مختصر تھاوہ جو بھی تھااک عجب سفر تھاعجب بلا خیز مرحلہ تھا
نکلا ہوں خود کو ڈھونڈنے اس کا مگر ہے مجھ کو غمراہ جنوں دراز ہے میرا سفر قدم قدممجھ کو خبر نہیں کہ یاں کتنے لٹے ہیں کارواںکتنی گری ہیں بجلیاں کتنے جلے ہیں آشیاںچاک ہے پردۂ وجود پھر بھی کوئی مرا نہیںکون ہے جس کے واسطے حکم سزا جزا نہیںعالم آب و خاک میں میرا ظہور بھی حجابحشر میں سب کے سامنے میرا عمل ہے بے نقابمیری تمام زندگی معرکہ ہائے خیر و شرمیری نگاہ عرش پر میں کف خاک و خود نگرمیرے لیے ہیں دو جہاں میں ہوں خدا کے واسطےمیرا وجود آئنہ اہل صفا کے واسطےجس میں کہ خوب و زشت کا مد و جزر ہے صاف صافمنظر دوزخ و بہشت پیش نظر ہے صاف صافراہ بد و راہ نجات ہیں میرے اختیار میںغم ہیں مگر یہ راستے رنگ برنگ غبار میںحرص و ہوا کی ڈھیر پر اپنے قدم جما کے رکھتیغ زمانہ تیز ہے سر کو بچا بچا کے رکھکار گہہ حیات میں رکھ لے خود اپنی آبروتیرا مقام بندگی کام ہے تیرا آرزوخود دل و جگر سے کر جذب دروں کی پرورشکرتے رہیں ضمیر کو عشق کے نغمے مرتعشسن لے مرے ندیمؔ سن اقبالؔ کے تھا درد لبعشق تمام مصطفیٰ عقل تمام بو لہبحاصل عشق مصطفیٰ ان سے نظام کائناتان کے بغیر شرع و دین بت کدۂ تصوراتاپنی خودی کی اوٹ سے جلوۂ بے حجاب دیکھقلب و نظر کو پاک رکھ یار کو بے نقاب دیکھ
حسن ہے موجود ہر جا چشم بینا چاہئےدیدۂ دل کھول کر ہاں اس کو دیکھا چاہئےاس کا جلوہ ہے عیاں گلہائے رنگا رنگ سےسبزے میں شاخوں میں گھر اس نے کیا سو ڈھنگ سےجاگزیں ہے رات دن یہ بحر و بر کے دیس میںشہر میں آتا ہے یہ لعل و گہر کے بھیس میںحسن قدرت منحصر کچھ چھوٹی چیزوں پر نہیںبلکہ یہ جلوہ نما ہے ہر جہاں میں ہر کہیںکوہ و راغ و ابر و باد و مہر و مہ جن و بشرنور حسن حق سے ہیں یہ سب منور سربسرہے جہاں سارا منور اور مندر حسن کادیکھیے جو گھر نظر آتا ہے وہ گھر حسن کاآشنا ہیں جو وجود حسن قدرت سے وہ سبجانتے ہیں آپ کو محصور نور حسن ربدل اگر دانا بود در ہر سخن اسرار ہستچشم گر بینا بود یوسف ب ہر بازار ہست
بلاؤں کے ساگر میں ڈوبی ہوئی رات ہےباد و باراں کے طوفان سےدیو قامت درختوں نے اپنی جڑیں چھوڑ دی ہیںہوا جیسے بجلی کے تاروں سے الجھی ہوئیموت کی راگنی گا رہی ہےبہت دور سے آ رہا ہوں
برسات کا موسم رات اندھیری دل پہ بھی ہیبت چھائی ہوئیتھا پیڑ نظر آتا نہ کوئی گھر گھر گھٹا تھی آئی ہوئیطوفان تھا باد و باراں کا بجلی بھی کڑکتی پھرتی تھیسردی سے پھٹا جاتا تھا بدن وہ برف زمیں پر گرتی تھیتھی راستہ بھولی اک بیوہ اور داغ جگر پر کھائی ہوئیرگ رگ سے ٹپکتی حسرت تھی اور سر پہ اجل منڈلائی ہوئیتھا بال رنڈاپا سوگ نیا کپڑے تھے پھٹے زخمی تھا جگرملتی تھی کوئی اس کو نہ پناہ پھر پھر کے پلٹ آتی تھی نظربپتا کی وہ ماری ایسی تھی دنیا میں کوئی دل دار نہ تھاتھی ساری خدائی پیش نظر پر اس کا کوئی غم خوار نہ تھاماں باپ ہیں اس کے جنت میں اور سیر ہیں کرتے شام و سحراور گور میں بچے کھیلتے ہیں ساتھ اپنے پتا کے آٹھ پہریہ کھیلتا ان کو دیکھ سکے اک سودا سمایا تھا سر میںسینے سے لگا کر پیار کرے تھا شوق یہ قلب مضطر میںپہلو میں چھپائے حسرت کو صحراؤں میں تھی وہ گھوم رہیرک رک کے قدم کو بڑھاتی تھی مستوں کی طرح تھی جھوم رہیآخر وہ گری بے دم ہو کر کانٹوں سے لدی اک جھاڑی پرتھا ہوش نہ اس کو اپنا کچھ تھا دل میں نہ اس کے خوف و خطرجاتی ہے فضائے جنت میں دکھ درد وہ سارے بھولے گیالفت کے ترانے گا گا کر جھولے میں خوشی کے جھولے گی
اگر ہم روز ملتے یہ جہاں ویراں نہ ہوتادھڑکتا روز و شب دل اس طرح بے جاں نہ ہوتاطلسم باد و باراں میں کوئی طوفاں نہ ہوتامحبت ختم ہو جانے کا بھی امکاں نہ ہوتاافق کے پار کیا ہے جان اور دل کو خبر ہوتیجہاں تک جا نہیں سکتی وہاں شاید نظر ہوتی
یہاں مگر ایک طائر پر شکستہ شاید مقیم ہےداستاں یہ کہتی ہے بال و پر کی نمود ہوگی طلوع لمحۂ باد و باراں میںدشت پر تبسم کا سیل سیل رحمت پڑے گایہ ساعت نیک جب فراز جود سے خاک پر اتر کر قریب آئے گیطائر پر شکستہ پرواز کر کے کھو جائے گا زمانوں کی وسعتوں میں
سکوت شب میں خیالات کی روانی میںجو لفظ میں نے لکھے تھے نئی کہانی میںمیں ایسے لفظوں کو پابند کرنے آیا ہوںسطور حق کا میں تاوان بھرنے آیا ہوںسخن وری کی نزاکت سے ہوں نہیں واقفمنافقوں کی سیاست سے ہوں نہیں واقفجو میرے دل میں ہے اس کو کلام کرتا ہوںمیں اپنے عشق کو ولیوں کے نام کرتا ہوںیہ کیسے ہوگا کہ میں بھیڑیوں سے ڈر جاؤںمری سرشت میں شامل ہے لڑ کے مر جاؤںمیں سینہ ٹھونک کے کہتا ہوں کربلائی ہوںمیں ہوں پیمبر حق امن کا میں داعی ہوںمیں منظروں کو بدلنے کی تاب رکھتا ہوںمیں اپنی جھولی میں چند ایسے خواب رکھتا ہوںلکھاریوں کا جو میلہ ہے میں نے پرکھا ہےقلم امانت رب ہے انہیں خبر ہی نہیںانہیں نمائشی شہرت سے اتنی رغبت ہےہے رات ظلم کی اور وعدۂ سحر ہی نہیںجنون عشق کا فقدان کیوں ہوا ان میںجو ان کے من میں صداقت نہیں تو کچھ بھی نہیںمرا قلم تو ہے احساس درد سے بوجھلنہیں ہے عظمت انسان اگر تو کچھ بھی نہیںجو میں نے دیکھا ہے راہ وفا میں وہ سن لوذرا سا ایک دیا ہے جو ٹمٹماتا ہوایہ باد و باراں کی اک ضرب سہہ نہ پائے گااندھیرا موت کی صورت میں پھیل جائے گاسو اس سے پہلے رکے کاروان شعر و سخنسو اس سے پہلے رکے میری سانس اور دھڑکنقلم کی کھائی قسم میں نے آگہی لکھیخدائے واحد و برتر کی برتری لکھییہ سارا کھیل تماشا یہ زندگی لکھییہ بے ثباتی لکھی اپنی بے بسی لکھیسخن وری ہی تو باسطؔ ہے میرا وصف دگرسو میں نے شعر کہا میں نے شاعری لکھی
زرد سائے جو سر صحرا اٹھے تھےرقص کرتے دندناتے جھومتےشہر کے دیوار و در کو چاٹتےباد و باراں سے لپٹتےچاندنی راتوں کی عنابی سرنگوں میں سرکتےدھوپ کی سڑکوں پہ لہراتے مچلتےٹہنیوں کے درمیاں سرگوشیاں کرتےمحل کی سیڑھیوں تک آ گئے ہیںآؤ دیکھیںدست افعی میں کوئی منتر بچا ہےیا نہیں
نہ اختلاط میں وہ رمکہ بد مزہ ہوں خواہشیںنہ اس قدر سپردگیکہ زچ کریں نوازشیں
ان کتابوں نے بڑا ظلم کیا ہے مجھ پران میں اک رمز ہے جس رمز کا مارا ہوا ذہنمژدۂ عشرت انجام نہیں پا سکتازندگی میں کبھی آرام نہیں پا سکتا
کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوںفکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوںنالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوںہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوںجرأت آموز مری تاب سخن ہے مجھ کوشکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کوہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہمقصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہمساز خاموش ہیں فریاد سے معمور ہیں ہمنالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہماے خدا شکوۂ ارباب وفا بھی سن لےخوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لےتھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات قدیمپھول تھا زیب چمن پر نہ پریشاں تھی شمیمشرط انصاف ہے اے صاحب الطاف عمیمبوئے گل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیمہم کو جمعیت خاطر یہ پریشانی تھیورنہ امت ترے محبوب کی دیوانی تھیہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظرکہیں مسجود تھے پتھر کہیں معبود شجرخوگر پیکر محسوس تھی انساں کی نظرمانتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کو کیونکرتجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام تراقوت بازوئے مسلم نے کیا کام ترابس رہے تھے یہیں سلجوق بھی تورانی بھیاہل چیں چین میں ایران میں ساسانی بھیاسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھیاسی دنیا میں یہودی بھی تھے نصرانی بھیپر ترے نام پہ تلوار اٹھائی کس نےبات جو بگڑی ہوئی تھی وہ بنائی کس نےتھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میںخشکیوں میں کبھی لڑتے کبھی دریاؤں میںدیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میںکبھی ایفریقا کے تپتے ہوئے صحراؤں میںشان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کیکلمہ پڑھتے تھے ہمیں چھاؤں میں تلواروں کیہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مصیبت کے لیےاور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لیےتھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیےسر بکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لیےقوم اپنی جو زرو و مال جہاں پر مرتیبت فروشی کے عوض بت شکنی کیوں کرتیٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھےپاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھےتجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھےتیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھےنقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نےزیر خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نےتو ہی کہہ دے کہ اکھاڑا در خیبر کس نےشہر قیصر کا جو تھا اس کو کیا سر کس نےتوڑے مخلوق خدا وندوں کے پیکر کس نےکاٹ کر رکھ دئیے کفار کے لشکر کس نےکس نے ٹھنڈا کیا آتشکدۂ ایراں کوکس نے پھر زندہ کیا تذکرۂ یزداں کوکون سی قوم فقط تیری طلب گار ہوئیاور تیرے لیے زحمت کش پیکار ہوئیکس کی شمشیر جہانگیر جہاں دار ہوئیکس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئیکس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھےمنہ کے بل گر کے ہو اللہ احد کہتے تھےآ گیا عین لڑائی میں اگر وقت نمازقبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی ہوئی قوم حجازایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایازنہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نوازبندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئےتیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئےمحفل کون و مکاں میں سحر و شام پھرےمئے توحید کو لے کر صفت جام پھرےکوہ میں دشت میں لے کر ترا پیغام پھرےاور معلوم ہے تجھ کو کبھی ناکام پھرےدشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نےبحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا ہم نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نےتیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نےتیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نےپھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیںہم وفادار نہیں تو بھی تو دل دار نہیںامتیں اور بھی ہیں ان میں گنہ گار بھی ہیںعجز والے بھی ہیں مست مئے پندار بھی ہیںان میں کاہل بھی ہیں غافل بھی ہیں ہشیار بھی ہیںسیکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بے زار بھی ہیںرحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پربرق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پربت صنم خانوں میں کہتے ہیں مسلمان گئےہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئےمنزل دہر سے اونٹوں کے حدی خوان گئےاپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئےخندہ زن کفر ہے احساس تجھے ہے کہ نہیںاپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیںیہ شکایت نہیں ہیں ان کے خزانے معمورنہیں محفل میں جنہیں بات بھی کرنے کا شعورقہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حور و قصوراور بے چارے مسلماں کو فقط وعدۂ حوراب وہ الطاف نہیں ہم پہ عنایات نہیںبات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیںکیوں مسلمانوں میں ہے دولت دنیا نایابتیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ حسابتو جو چاہے تو اٹھے سینۂ صحرا سے حبابرہرو دشت ہو سیلی زدۂ موج سرابطعن اغیار ہے رسوائی ہے ناداری ہےکیا ترے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہےبنی اغیار کی اب چاہنے والی دنیارہ گئی اپنے لیے ایک خیالی دنیاہم تو رخصت ہوئے اوروں نے سنبھالی دنیاپھر نہ کہنا ہوئی توحید سے خالی دنیاہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں ترا نام رہےکہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے جام رہےتیری محفل بھی گئی چاہنے والے بھی گئےشب کی آہیں بھی گئیں صبح کے نالے بھی گئےدل تجھے دے بھی گئے اپنا صلہ لے بھی گئےآ کے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئےآئے عشاق گئے وعدۂ فردا لے کراب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کردرد لیلیٰ بھی وہی قیس کا پہلو بھی وہینجد کے دشت و جبل میں رم آہو بھی وہیعشق کا دل بھی وہی حسن کا جادو بھی وہیامت احمد مرسل بھی وہی تو بھی وہیپھر یہ آرزدگئ غیر سبب کیا معنیاپنے شیداؤں پہ یہ چشم غضب کیا معنیتجھ کو چھوڑا کہ رسول عربی کو چھوڑابت گری پیشہ کیا بت شکنی کو چھوڑاعشق کو عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑارسم سلمان و اویس قرنی کو چھوڑاآگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیںزندگی مثل بلال حبشی رکھتے ہیںعشق کی خیر وہ پہلی سی ادا بھی نہ سہیجادہ پیمائی تسلیم و رضا بھی نہ سہیمضطرب دل صفت قبلہ نما بھی نہ سہیاور پابندی آئین وفا بھی نہ سہیکبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہےبات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہرجائی ہےسر فاراں پہ کیا دین کو کامل تو نےاک اشارے میں ہزاروں کے لیے دل تو نےآتش اندوز کیا عشق کا حاصل تو نےپھونک دی گرمئ رخسار سے محفل تو نےآج کیوں سینے ہمارے شرر آباد نہیںہم وہی سوختہ ساماں ہیں تجھے یاد نہیںوادیٔ نجد میں وہ شور سلاسل نہ رہاقیس دیوانۂ نظارۂ محمل نہ رہاحوصلے وہ نہ رہے ہم نہ رہے دل نہ رہاگھر یہ اجڑا ہے کہ تو رونق محفل نہ رہااے خوشا آں روز کہ آئی و بصد ناز آئیبے حجابانہ سوئے محفل ما باز آئیبادہ کش غیر ہیں گلشن میں لب جو بیٹھےسنتے ہیں جام بکف نغمۂ کو کو بیٹھےدور ہنگامۂ گلزار سے یکسو بیٹھےتیرے دیوانے بھی ہیں منتظر ہو بیٹھےاپنے پروانوں کو پھر ذوق خود افروزی دےبرق دیرینہ کو فرمان جگر سوزی دےقوم آوارہ عناں تاب ہے پھر سوئے حجازلے اڑا بلبل بے پر کو مذاق پروازمضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بوئے نیازتو ذرا چھیڑ تو دے تشنۂ مضراب ہے سازنغمے بیتاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لیےطور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لیےمشکلیں امت مرحوم کی آساں کر دےمور بے مایہ کو ہمدوش سلیماں کر دےجنس نایاب محبت کو پھر ارزاں کر دےہند کے دیر نشینوں کو مسلماں کر دےجوئے خوں می چکد از حسرت دیرینۂ مامی تپد نالہ بہ نشتر کدۂ سینۂ مابوئے گل لے گئی بیرون چمن راز چمنکیا قیامت ہے کہ خود پھول ہیں غماز چمنعہد گل ختم ہوا ٹوٹ گیا ساز چمناڑ گئے ڈالیوں سے زمزمہ پرداز چمنایک بلبل ہے کہ ہے محو ترنم اب تکاس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب تکقمریاں شاخ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئیںپتیاں پھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیںوہ پرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیںڈالیاں پیرہن برگ سے عریاں بھی ہوئیںقید موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کیکاش گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کیلطف مرنے میں ہے باقی نہ مزہ جینے میںکچھ مزہ ہے تو یہی خون جگر پینے میںکتنے بیتاب ہیں جوہر مرے آئینے میںکس قدر جلوے تڑپتے ہیں مرے سینے میںاس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیںداغ جو سینے میں رکھتے ہوں وہ لالے ہی نہیںچاک اس بلبل تنہا کی نوا سے دل ہوںجاگنے والے اسی بانگ درا سے دل ہوںیعنی پھر زندہ نئے عہد وفا سے دل ہوںپھر اسی بادۂ دیرینہ کے پیاسے دل ہوںعجمی خم ہے تو کیا مے تو حجازی ہے مرینغمہ ہندی ہے تو کیا لے تو حجازی ہے مری
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہےپر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہےقدسی الاصل ہے رفعت پہ نظر رکھتی ہےخاک سے اٹھتی ہے گردوں پہ گزر رکھتی ہےعشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مراآسماں چیر گیا نالۂ بیباک مراپیر گردوں نے کہا سن کے کہیں ہے کوئیبولے سیارے سر عرش بریں ہے کوئیچاند کہتا تھا نہیں اہل زمیں ہے کوئیکہکشاں کہتی تھی پوشیدہ یہیں ہے کوئیکچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھامجھ کو جنت سے نکالا ہوا انساں سمجھاتھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیاعرش والوں پہ بھی کھلتا نہیں یہ راز ہے کیاتا سر عرش بھی انساں کی تگ و تاز ہے کیاآ گئی خاک کی چٹکی کو بھی پرواز ہے کیاغافل آداب سے سکان زمیں کیسے ہیںشوخ و گستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیںاس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہےتھا جو مسجود ملائک یہ وہی آدم ہےعالم کیف ہے دانائے رموز کم ہےہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہےناز ہے طاقت گفتار پہ انسانوں کوبات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کوآئی آواز غم انگیز ہے افسانہ ترااشک بیتاب سے لبریز ہے پیمانہ تراآسماں گیر ہوا نعرۂ مستانہ تراکس قدر شوخ زباں ہے دل دیوانہ تراشکر شکوے کو کیا حسن ادا سے تو نےہم سخن کر دیا بندوں کو خدا سے تو نےہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیںراہ دکھلائیں کسے رہرو منزل ہی نہیںتربیت عام تو ہے جوہر قابل ہی نہیںجس سے تعمیر ہو آدم کی یہ وہ گل ہی نہیںکوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیںڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیںہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیںامتی باعث رسوائی پیغمبر ہیںبت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیںتھا براہیم پدر اور پسر آزر ہیںبادہ آشام نئے بادہ نیا خم بھی نئےحرم کعبہ نیا بت بھی نئے تم بھی نئےوہ بھی دن تھے کہ یہی مایۂ رعنائی تھانازش موسم گل لالۂ صحرائی تھاجو مسلمان تھا اللہ کا سودائی تھاکبھی محبوب تمہارا یہی ہرجائی تھاکسی یکجائی سے اب عہد غلامی کر لوملت احمد مرسل کو مقامی کر لوکس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہےہم سے کب پیار ہے ہاں نیند تمہیں پیاری ہےطبع آزاد پہ قید رمضاں بھاری ہےتمہیں کہہ دو یہی آئین وفاداری ہےقوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیںجذب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیںجن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن تم ہونہیں جس قوم کو پروائے نشیمن تم ہوبجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہوبیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہوہو نکو نام جو قبروں کی تجارت کر کےکیا نہ بیچوگے جو مل جائیں صنم پتھر کےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا کس نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا کس نےمیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا کس نےمیرے قرآن کو سینوں سے لگایا کس نےتھے تو آبا وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہوہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہوکیا کہا بہر مسلماں ہے فقط وعدۂ حورشکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعورعدل ہے فاطر ہستی کا ازل سے دستورمسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حور و قصورتم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیںجلوۂ طور تو موجود ہے موسیٰ ہی نہیںمنفعت ایک ہے اس قوم کا نقصان بھی ایکایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایکحرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایککچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایکفرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیںکیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیںکون ہے تارک آئین رسول مختارمصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیارکس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعار اغیارہو گئی کس کی نگہ طرز سلف سے بے زارقلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیںکچھ بھی پیغام محمد کا تمہیں پاس نہیںجا کے ہوتے ہیں مساجد میں صف آرا تو غریبزحمت روزہ جو کرتے ہیں گوارا تو غریبنام لیتا ہے اگر کوئی ہمارا تو غریبپردہ رکھتا ہے اگر کوئی تمہارا تو غریبامرا نشۂ دولت میں ہیں غافل ہم سےزندہ ہے ملت بیضا غربا کے دم سےواعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہیبرق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہیرہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہیفلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہیمسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہےیعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہےشور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابودہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجودوضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنودیہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہودیوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہوتم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہودم تقریر تھی مسلم کی صداقت بیباکعدل اس کا تھا قوی لوث مراعات سے پاکشجر فطرت مسلم تھا حیا سے نمناکتھا شجاعت میں وہ اک ہستی فوق الادراکخود گدازی نم کیفیت صہبایش بودخالی از خویش شدن صورت مینا یش بودہر مسلماں رگ باطل کے لیے نشتر تھااس کے آئینۂ ہستی میں عمل جوہر تھاجو بھروسا تھا اسے قوت بازو پر تھاہے تمہیں موت کا ڈر اس کو خدا کا ڈر تھاباپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہوپھر پسر قابل میراث پدر کیونکر ہوہر کوئی مست مئے ذوق تن آسانی ہےتم مسلماں ہو یہ انداز مسلمانی ہےحیدری فقر ہے نے دولت عثمانی ہےتم کو اسلاف سے کیا نسبت روحانی ہےوہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کراور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کرتم ہو آپس میں غضب ناک وہ آپس میں رحیمتم خطا کار و خطا بیں وہ خطا پوش و کریمچاہتے سب ہیں کہ ہوں اوج ثریا پہ مقیمپہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلب سلیمتخت فغفور بھی ان کا تھا سریر کے بھییوں ہی باتیں ہیں کہ تم میں وہ حمیت ہے بھیخودکشی شیوہ تمہارا وہ غیور و خوددارتم اخوت سے گریزاں وہ اخوت پہ نثارتم ہو گفتار سراپا وہ سراپا کردارتم ترستے ہو کلی کو وہ گلستاں بکناراب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کینقش ہے صفحۂ ہستی پہ صداقت ان کیمثل انجم افق قوم پہ روشن بھی ہوئےبت ہندی کی محبت میں برہمن بھی ہوئےشوق پرواز میں مہجور نشیمن بھی ہوئےبے عمل تھے ہی جواں دین سے بدظن بھی ہوئےان کو تہذیب نے ہر بند سے آزاد کیالا کے کعبے سے صنم خانے میں آباد کیاقیس زحمت کش تنہائی صحرا نہ رہےشہر کی کھائے ہوا بادیہ پیما نہ رہےوہ تو دیوانہ ہے بستی میں رہے یا نہ رہےیہ ضروری ہے حجاب رخ لیلا نہ رہےگلۂ جور نہ ہو شکوۂ بیداد نہ ہوعشق آزاد ہے کیوں حسن بھی آزاد نہ ہوعہد نو برق ہے آتش زن ہر خرمن ہےایمن اس سے کوئی صحرا نہ کوئی گلشن ہےاس نئی آگ کا اقوام کہن ایندھن ہےملت ختم رسل شعلہ بہ پیراہن ہےآج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیداآگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدادیکھ کر رنگ چمن ہو نہ پریشاں مالیکوکب غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والیخس و خاشاک سے ہوتا ہے گلستاں خالیگل بر انداز ہے خون شہدا کی لالیرنگ گردوں کا ذرا دیکھ تو عنابی ہےیہ نکلتے ہوئے سورج کی افق تابی ہےامتیں گلشن ہستی میں ثمر چیدہ بھی ہیںاور محروم ثمر بھی ہیں خزاں دیدہ بھی ہیںسیکڑوں نخل ہیں کاہیدہ بھی بالیدہ بھی ہیںسیکڑوں بطن چمن میں ابھی پوشیدہ بھی ہیںنخل اسلام نمونہ ہے برومندی کاپھل ہے یہ سیکڑوں صدیوں کی چمن بندی کاپاک ہے گرد وطن سے سر داماں تیراتو وہ یوسف ہے کہ ہر مصر ہے کنعاں تیراقافلہ ہو نہ سکے گا کبھی ویراں تیراغیر یک بانگ درا کچھ نہیں ساماں تیرانخل شمع استی و در شعلہ دو ریشۂ توعاقبت سوز بود سایۂ اندیشۂ توتو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سےنشۂ مے کو تعلق نہیں پیمانے سےہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سےپاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سےکشتئ حق کا زمانے میں سہارا تو ہےعصر نو رات ہے دھندلا سا ستارا تو ہےہے جو ہنگامہ بپا یورش بلغاری کاغافلوں کے لیے پیغام ہے بیداری کاتو سمجھتا ہے یہ ساماں ہے دل آزاری کاامتحاں ہے ترے ایثار کا خودداری کاکیوں ہراساں ہے صہیل فرس اعدا سےنور حق بجھ نہ سکے گا نفس اعدا سےچشم اقوام سے مخفی ہے حقیقت تیریہے ابھی محفل ہستی کو ضرورت تیریزندہ رکھتی ہے زمانے کو حرارت تیریکوکب قسمت امکاں ہے خلافت تیریوقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہےنور توحید کا اتمام ابھی باقی ہےمثل بو قید ہے غنچے میں پریشاں ہو جارخت بر دوش ہوائے چمنستاں ہو جاہے تنک مایہ تو ذرے سے بیاباں ہو جانغمۂ موج ہے ہنگامۂ طوفاں ہو جاقوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دےدہر میں اسم محمد سے اجالا کر دےہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہوچمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہویہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہوبزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہوخیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہےنبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہےدشت میں دامن کہسار میں میدان میں ہےبحر میں موج کی آغوش میں طوفان میں ہےچین کے شہر مراقش کے بیابان میں ہےاور پوشیدہ مسلمان کے ایمان میں ہےچشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھےرفعت شان رفعنا لک ذکرک دیکھےمردم چشم زمیں یعنی وہ کالی دنیاوہ تمہارے شہدا پالنے والی دنیاگرمی مہر کی پروردہ ہلالی دنیاعشق والے جسے کہتے ہیں بلالی دنیاتپش اندوز ہے اس نام سے پارے کی طرحغوطہ زن نور میں ہے آنکھ کے تارے کی طرحعقل ہے تیری سپر عشق ہے شمشیر تریمرے درویش خلافت ہے جہانگیر تریما سوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تریتو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تریکی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیںیہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
ہر اک جسم گھائل ہر اک روح پیاسینگاہوں میں الجھن دلوں میں اداسییہ دنیا ہے یا عالم بد حواسییہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
ہر طرف بکھری ہوئی رنگینیاں رعنائیاںہر قدم پر عشرتیں لیتی ہوئی انگڑائیاںبڑھ رہی ہیں گود پھیلائے ہوئے رسوائیاںاے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books