aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "baguulo.n"
بہت دنوں بعدتیرے خط کے اداس لفظوں نےتیری چاہت کے ذائقوں کی تمام خوشبومری رگوں میں انڈیل دی ہےبہت دنوں بعدتیری باتیںتری ملاقات کی دھنک سے دہکتی راتیںاجاڑ آنکھوں کے پیاس پاتال کی تہوں میںوصال وعدوں کی چند چنگاریوں کو سانسوں کی آنچ دے کرشریر شعلوں کی سرکشی کے تمام تیورسکھا گئی ہیںترے مہکتے مہین لفظوں کی آبشاریںبہت دنوں بعد پھر سےمجھ کو رلا گئی ہیںبہت دنوں بعدمیں نے سوچا تو یاد آیاکہ میرے اندر کی راکھ کے ڈھیر پر ابھی تکترے زمانے لکھے ہوئے ہیںسبھی فسانے لکھے ہوئے ہیںبہت دنوں بعدمیں نے سوچا تو یاد آیاکہ تیری یادوں کی کرچیاںمجھ سے کھو گئی ہیںترے بدن کی تمام خوشبوبکھر گئی ہےترے زمانے کی چاہتیںسب نشانیاںسب شرارتیںسب حکایتیں سب شکایتیں جو کبھی ہنر میںخیال تھیں خواب ہو گئی ہیںبہت دنوں بعدمیں نے سوچا تو یاد آیاکہ میں بھی کتنا بدل گیا ہوںبچھڑ کے تجھ سےکئی لکیروں میں ڈھل گیا ہوںمیں اپنے سگریٹ کے بے ارادہ دھوئیں کی صورتہوا میں تحلیل ہو گیا ہوںنہ ڈھونڈھ میری وفا کے نقش قدم کے ریزےکہ میں تو تیری تلاش کے بے کنار صحرا میںوہم کے بے اماں بگولوں کے وار سہہ کراداس رہ کرنہ جانے کس رہ میں کھو گیا ہوںبچھڑ کے تجھ سے تری طرح کیا بتاؤں میں بھینہ جانے کس کس کا ہو گیا ہوںبہت دنوں بعدمیں نے سوچا تو یاد آیا
ریگزاروں میں بگولوں کے سوا کچھ بھی نہیںسایۂ ابر گریزاں سے مجھے کیا لینا
دیار ہند تھا گہوارہ یاد ہے ہم دمبہت زمانہ ہوا کس کے کس کے بچپن کااسی زمین پہ کھیلا ہے رامؔ کا بچپناسی زمین پہ ان ننھے ننھے ہاتھوں نےکسی سمے میں دھنش بان کو سنبھالا تھااسی دیار نے دیکھی ہے کرشنؔ کی لیلایہیں گھروندوں میں سیتا سلوچنا رادھاکسی زمانے میں گڑیوں سے کھیلتی ہوں گییہی زمیں یہی دریا پہاڑ جنگل باغیہی ہوائیں یہی صبح و شام سورج چاندیہی گھٹائیں یہی برق و رعد و قوس قزحیہیں کے گیت روایات موسموں کے جلوسہوا زمانہ کہ سدھارتھؔ کے تھے گہوارےانہی نظاروں میں بچپن کٹا تھا وکرمؔ کاسنا ہے بھرترہریؔ بھی انہیں سے کھیلا تھابھرتؔ اگستؔ کپلؔ ویاسؔ پاشیؔ کوٹیلہؔجنکؔ وششتؔ منوؔ والمیکؔ وشوامترؔکنادؔ گوتمؔ و رامانجؔ کمارلؔ بھٹموہن جوڈارو ہڑپا کے اور اجنتا کےبنانے والے یہیں بلموں سے کھیلے تھےاسی ہنڈولے میں بھوبھوتؔ و کالیداسؔ کبھیہمک ہمک کے جو تتلا کے گنگنائے تھےسرسوتی نے زبانوں کو ان کی چوما تھایہیں کے چاند و سورج کھلونے تھے ان کےانہیں فضاؤں میں بچپن پلا تھا خسروؔ کااسی زمیں سے اٹھے تان سینؔ اور اکبرؔرحیمؔ نانکؔ و چیتنیہؔ اور چشتیؔ نےانہیں فضاؤں میں بچپن کے دن گزارے تھےاسی زمیں پہ کبھی شاہزادۂ خرمؔذرا سی دل شکنی پر جو رو دیا ہوگابھر آیا تھا دل نازک تو کیا عجب اس میںان آنسوؤں میں جھلک تاج کی بھی دیکھی ہواہلیا بائیؔ دمنؔ پدمنیؔ و رضیہؔ نےیہیں کے پیڑوں کی شاخوں میں ڈالے تھے جھولےاسی فضا میں بڑھائی تھی پینگ بچپن کیانہی نظاروں میں ساون کے گیت گائے تھےاسی زمین پہ گھٹنوں کے بل چلے ہوں گےملکؔ محمد و رسکھانؔ اور تلسیؔ داسانہیں فضاؤں میں گونجی تھی توتلی بولیکبیرؔ داس ٹکارامؔ سورؔ و میراؔ کیاسی ہنڈولے میں ودیاپتیؔ کا کنٹھ کھلااسی زمین کے تھے لال میرؔ و غالبؔ بھیٹھمک ٹھمک کے چلے تھے گھروں کے آنگن میںانیسؔ و حالیؔ و اقبالؔ اور وارثؔ شاہیہیں کی خاک سے ابھرے تھے پریم چندؔ و ٹیگورؔیہیں سے اٹھے تھے تہذیب ہند کے معماراسی زمین نے دیکھا تھا بال پن ان کایہیں دکھائی تھیں ان سب نے بال لیلائیںیہیں ہر ایک کے بچپن نے تربیت پائییہیں ہر ایک کے جیون کا بال کانڈ کھلایہیں سے اٹھتے بگولوں کے ساتھ دوڑے ہیںیہیں کی مست گھٹاؤں کے ساتھ جھومے ہیںیہیں کی مدھ بھری برسات میں نہائے ہیںلپٹ کے کیچڑ و پانی سے بچپنے ان کےاسی زمین سے اٹھے وہ دیش کے ساونتاڑا دیا تھا جنہیں کمپنی نے توپوں سےاسی زمین سے اٹھی ہیں ان گنت نسلیںپلے ہیں ہند ہنڈولے میں ان گنت بچےمجھ ایسے کتنے ہی گمنام بچے کھیلے ہیںاسی زمیں سے اسی میں سپرد خاک ہوئےزمین ہند اب آرام گاہ ہے ان کیاس ارض پاک سے اٹھیں بہت سی تہذیبیںیہیں طلوع ہوئیں اور یہیں غروب ہوئیںاسی زمین سے ابھرے کئی علوم و فنونفراز کوہ ہمالہ یہ دور گنگ و جمناور ان کی گود میں پروردہ کاروانوں نےیہیں رموز خرام سکوں نما سیکھےنسیم صبح تمدن نے بھیرویں چھیڑییہیں وطن کے ترانوں کی وہ پویں پھوٹیںوہ بے قرار سکوں زا ترنم سحریوہ کپکپاتے ہوئے سوز و ساز کے شعلےانہی فضاؤں میں انگڑائیاں جو لے کے اٹھےلوؤں سے جن کے چراغاں ہوئی تھی بزم حیاتجنہوں نے ہند کی تہذیب کو زمانہ ہوابہت سے زاویوں سے آئینہ دکھایا تھااسی زمیں پہ ڈھلی ہے مری حیات کی شاماسی زمین پہ وہ صبح مسکرائی ہےتمام شعلہ و شبنم مری حیات کی صبحسناؤں آج کہانی میں اپنے بچپن کیدل و دماغ کی کلیاں ابھی نہ چٹکی تھیںہمیشہ کھیلتا رہتا تھا بھائی بہنوں میںہمارے ساتھ محلے کی لڑکیاں لڑکےمچائے رکھتے تھے بالک ادھم ہر ایک گھڑیلہو ترنگ اچھل پھاند کا یہ عالم تھامحلہ سر پہ اٹھائے پھرے جدھر گزرےہمارے چہچہے اور شور گونجتے رہتےچہار سمت محلے کے گوشے گوشے میںفضا میں آج بھی لا ریب گونجتے ہوں گےاگرچہ دوسرے بچوں کی طرح تھا میں بھیبظاہر اوروں کے بچپن سا تھا مرا بچپنیہ سب سہی مرے بچپن کی شخصیت بھی تھی ایکوہ شخصیت کہ بہت شوخ جس کے تھے خد و خالادا ادا میں کوئی شان انفرادی تھیغرض کچھ اور ہی لچھن تھے میرے بچپن کےمجھے تھا چھوٹے بڑوں سے بہت شدید لگاؤہر ایک پر میں چھڑکتا تھا اپنی ننھی سی جاںدل امڈا آتا تھا ایسا کہ جی یہ چاہتا تھااٹھا کے رکھ لوں کلیجے میں اپنی دنیا کومجھے ہے یاد ابھی تک کہ کھیل کود میں بھیکچھ ایسے وقفے پر اسرار آ ہی جاتے تھےکہ جن میں سوچنے لگتا تھا کچھ مرا بچپنکئی معانئ بے لفظ چھونے لگتے تھےبطون غیب سے میرے شعور اصغر کوہر ایک منظر مانوس گھر کا ہر گوشہکسی طرح کی ہو گھر میں سجی ہوئی ہر چیزمرے محلے کی گلیاں مکاں در و دیوارچبوترے کنویں کچھ پیڑ جھاڑیاں بیلیںوہ پھیری والے کئی ان کے بھانت بھانت کے بولوہ جانے بوجھے مناظر وہ آسماں و زمیںبدلتے وقت کا آئینہ گرمی و خنکیغروب مہر میں رنگوں کا جاگتا جادوشفق کے شیش محل میں گداز پنہاں سےجواہروں کی چٹانیں سی کچھ پگھلتی ہوئیںشجر حجر کی وہ کچھ سوچتی ہوئی دنیاسہانی رات کی مانوس رمزیت کا فسوںعلی الصباح افق کی وہ تھرتھراتی بھویںکسی کا جھانکنا آہستہ پھوٹتی پو سےوہ دوپہر کا سمے درجۂ تپش کا چڑھاؤتھکی تھکی سی فضا میں وہ زندگی کا اتارہوا کی بنسیاں بنسواڑیوں میں بجتی ہوئیںوہ دن کے بڑھتے ہوئے سائے سہ پہر کا سکوںسکوت شام کا جب دونوں وقت ملتے ہیںغرض جھلکتے ہوئے سرسری مناظر پرمجھے گمان پرستانیت کا ہوتا تھاہر ایک چیز کی وہ خواب ناک اصلیتمرے شعور کی چلمن سے جھانکتا تھا کوئیلیے ربوبیت کائنات کا احساسہر ایک جلوے میں غیب و شہود کا وہ ملاپہر اک نظارہ اک آئینہ خانۂ حیرتہر ایک منظر مانوس ایک حیرت زارکہیں رہوں کہیں کھیلوں کہیں پڑھوں لکھوںمرے شعور پہ منڈلاتے تھے مناظر دہرمیں اکثر ان کے تصور میں ڈوب جاتا تھاوفور جذبہ سے ہو جاتی تھی مژہ پر نممجھے یقین ہے ان عنصری مناظر سےکہ عام بچوں سے لیتا تھا میں زیادہ اثرکسی سمے مری طفلی رہی نہ بے پروانہ چھو سکی مری طفلی کو غفلت طفلییہ کھیل کود کے لمحوں میں ہوتا تھا احساسدعائیں دیتا ہو جیسے مجھے سکوت دوامکہ جیسے ہاتھ ابد رکھ دے دوش طفلی پرہر ایک لمحہ کے رخنوں سے جھانکتی صدیاںکہانیاں جو سنوں ان میں ڈوب جاتا تھاکہ آدمی کے لیے آدمی کی جگ بیتیسے بڑھ کے کون سی شے اور ہو ہی سکتی ہےانہی فسانوں میں پنہاں تھے زندگی کے رموزانہی فسانوں میں کھلتے تھے راز ہائے حیاتانہیں فسانوں میں ملتی تھیں زیست کی قدریںرموز بیش بہا ٹھیٹھ آدمیت کےکہانیاں تھیں کہ صد درس گاہ رقت قلبہر اک کہانی میں شائستگی غم کا سبقوہ عنصر آنسوؤں کا داستان انساں میںوہ نل دمن کی کتھا سر گزشت ساوتریشکنتلاؔ کی کہانی بھرتؔ کی قربانیوہ مرگ بھیشم پتامہ وہ سیج تیروں کیوہ پانچوں پانڈوں کی سورگ یاترا کی کتھاوطن سے رخصت سدھارتھؔ رامؔ کا بن باسوفا کے بعد بھی سیتاؔ کی وہ جلا وطنیوہ راتوں رات سری کرشنؔ کو اٹھائے ہوئےبلا کی قید سے بسدیوؔ کا نکل جاناوہ اندھ کار وہ بارش، بڑھی ہوئی جمناغم آفرین کہانی وہ ہیرؔ رانجھاؔ کیشعور ہند کے بچپن کی یادگار عظیمکہ ایسے ویسے تخیل کی سانس اکھڑ جائےکئی محیر ادراک دیو مالائیںہت اوپدیش کے قصے کتھا سرت ساگرکروڑوں سینوں میں وہ گونجتا ہوا آلھامیں پوچھتا ہوں کسی اور ملک والوں سےکہانیوں کی یہ دولت یہ بے بہا دولتفسانے دیکھ لو ان کے نظر بھی آتی ہےمیں پوچھتا ہوں کہ گہوارے اور قوموں کےبسے ہوئے ہیں کہیں ایسی داستانوں سےکہانیاں جو میں سنتا تھا اپنے بچپن میںمرے لیے وہ نہ تھیں محض باعث تفریحفسانوں سے مرے بچپن نے سوچنا سیکھافسانوں سے مجھے سنجیدگی کے درس ملےفسانوں میں نظر آتی تھی مجھ کو یہ دنیاغم و خوشی میں رچی پیار میں بسائی ہوئیفسانوں سے مرے دل نے گھلاوٹیں پائیںیہی نہیں کہ مشاہیر ہی کے افسانےذرا سی عمر میں کرتے ہوں مجھ کو متأثرمحلے ٹولے کے گمنام آدمیوں کےکچھ ایسے سننے میں آتے تھے واقعات حیاتجوں یوں تو ہوتے تھے فرسودہ اور معمولیمگر تھے آئینے اخلاص اور شرافت کےیہ چند آئی گئی باتیں ایسی باتیں تھیںکہ جن کی اوٹ چمکتا تھا درد انسانییہ واردات نہیں رزمیے حیات کے تھےغرض کہ یہ ہیں مرے بچپنے کی تصویریںندیم اور بھی کچھ خط و خال ہیں ان کےیہ میری ماں کا ہے کہنا کہ جب میں بچہ تھامیں ایسے آدمی کی گود میں نہ جاتا تھاجو بد قمار ہو عیبی ہو یا ہو بد صورتمجھے بھی یاد ہے نو دس برس ہی کا میں تھاتو مجھ پہ کرتا تھا جادو سا حسن انسانیکچھ ایسا ہوتا تھا محسوس جب میں دیکھتا تھاشگفتہ رنگ تر و تازہ روپ والوں کاکہ ان کی آنچ مری ہڈیاں گلا دے گیاک آزمائش جاں تھی کہ تھا شعور جمالاور اس کی نشتریت اس کی استخواں سوزیغم و نشاط لگاوٹ محبت و نفرتاک انتشار سکوں اضطراب پیار عتابوہ بے پناہ ذکی الحسی وہ حلم و غرورکبھی کبھی وہ بھرے گھر میں حس تنہائیوہ وحشتیں مری ماحول خوش گوار میں بھیمری سرشت میں ضدین کے کئی جوڑےشروع ہی سے تھے موجود آب و تاب کے ساتھمرے مزاج میں پنہاں تھی ایک جدلیترگوں میں چھوٹتے رہتے تھے بے شمار انارندیم یہ ہیں مرے بال پن کے کچھ آثاروفور و شدت جذبات کا یہ عالم تھاکہ کوندے جست کریں دل کے آبگینے میںوہ بچپنا جسے برداشت اپنی مشکل ہووہ بچپنا جو خود اپنی ہی تیوریاں سی چڑھائےندیم ذکر جوانی سے کانپ جاتا ہوںجوانی آئی دبے پاؤں اور یوں آئیکہ اس کے آتے ہی بگڑا بنا بنایا کھیلوہ خواہشات کے جذبات کے امڈتے ہوئےوہ ہونکتے ہوئے بے نام آگ کے طوفاںوہ پھوٹتا ہوا جوالا مکھی جوانی کارگوں میں اٹھتی ہوئی آندھیوں کے وہ جھٹکےکہ جو توازن ہستی جھنجھوڑ کے رکھ دیںوہ زلزلے کہ پہاڑوں کے پیر اکھڑ جائیںبلوغیت کی وہ ٹیسیں وہ کرب نشو و نمااور ایسے میں مجھے بیاہا گیا بھلا کس سےجو ہو نہ سکتی تھی ہرگز مری شریک حیاتہم ایک دوسرے کے واسطے بنے ہی نہ تھےسیاہ ہو گئی دنیا مری نگاہوں میںوہ جس کو کہتے ہیں شادیٔ خانہ آبادیمرے لیے وہ بنی بیوگی جوانی کیلٹا سہاگ مری زندگی کا مانڈو میںندیم کھا گئی مجھ کو نظر جوانی کیبلائے جان مجھے ہو گیا شعور جمالتلاش شعلۂ الفت سے یہ ہوا حاصلکہ نفرتوں کا اگن کنڈ بن گئی ہستیوہ حلق و سینہ و رگ رگ میں بے پناہ چبھاندیم جیسے نگل لی ہو میں نے ناگ پھنیز عشق زادم و عشقم کمشت زار و دریغخبر نہ برد بہ رستم کسے کہ سہرابمنہ پوچھ عالم کام و دہن ندیم مرےثمر حیات کا جب راکھ بن گیا منہ میںمیں چلتی پھرتی چتا بن گیا جوانی کیمیں کاندھا دیتا رہا اپنے جیتے مردے کویہ سوچتا تھا کہ اب کیا کروں کہاں جاؤںبہت سے اور مصائب بھی مجھ پہ ٹوٹ پڑےمیں ڈھونڈھنے لگا ہر سمت سچی جھوٹی پناہتلاش حسن میں شعر و ادب میں دوستی میںرندھی صدا سے محبت کی بھیک مانگی ہےنئے سرے سے سمجھنا پڑا ہے دنیا کوبڑے جتن سے سنبھالا ہے خود کو میں نے ندیممجھے سنبھلنے میں تو چالیس سال گزرے ہیںمیری حیات تو وش پان کی کتھا ہے ندیممیں زہر پی کے زمانے کو دے سکا امرتنہ پوچھ میں نے جو زہرابۂ حیات پیامگر ہوں دل سے میں اس کے لیے سپاس گزارلرزتے ہاتھوں سے دامن خلوص کا نہ چھٹابچا کے رکھی تھی میں نے امانت طفلیاسے نہ چھین سکی مجھ سے دست برد شباببقول شاعر ملک فرنگ ہر بچہخود اپنے عہد جوانی کا باپ ہوتا ہےیہ کم نہیں ہے کہ طفلیٔ رفتہ چھوڑ گئیدل حزیں میں کئی چھوٹے چھوٹے نقش قدممری انا کی رگوں میں پڑے ہوئے ہیں ابھینہ جانے کتنے بہت نرم انگلیوں کے نشاںہنوز وقت کے بے درد ہاتھ کر نہ سکےحیات رفتہ کی زندہ نشانیوں کو فنازمانہ چھین سکے گا نہ میری فطرت سےمری صفا مرے تحت الشعور کی عصمتتخیلات کی دوشیزگی کا رد عملجوان ہو کے بھی بے لوث طفل وش جذباتسیانا ہونے پہ بھی یہ جبلتیں میرییہ سر خوشی و غم بے ریا یہ قلب گدازبغیر بیر کے ان بن غرض سے پاک تپاکغرض سے پاک یہ آنسو غرض سے پاک ہنسییہ دشت دہر میں ہمدردیوں کا سرچشمہقبولیت کا یہ جذبہ یہ کائنات و حیاتاس ارض پاک پر ایمان یہ ہم آہنگیہر آدمی سے ہر اک خواب و زیست سے یہ لگاؤیہ ماں کی گود کا احساس سب مناظر میںقریب و دور زمیں میں یہ بوئے وطینتنظام شمس و قمر میں پیام حفظ حیاتبہ چشم شام و سحر مامتا کی شبنم سییہ ساز و دل میں مرے نغمۂ انالکونینہر اضطراب میں روح سکون بے پایاںزمانۂ گزراں میں دوام کا سرگمیہ بزم جشن حیات و ممات سجتی ہوئیکسی کی یاد کی شہنائیاں سی بجتی ہوئییہ رمزیت کے عناصر شعور پختہ میںفلک پہ وجد میں لاتی ہے جو فرشتوں کووہ شاعری بھی بلوغ مزاج طفلی ہےیہ نشتریت ہستی یہ اس کی شعریتیہ پتی پتی پہ گلزار زندگی کے کسیلطیف نور کی پرچھائیاں سی پڑتی ہوئیبہم یہ حیرت و مانوسیت کی سرگوشیبشر کی ذات کہ مہر الوہیت بہ جبیںابد کے دل میں جڑیں مارتا ہوا سبزہغم جہاں مجھے آنکھیں دکھا نہیں سکتاکہ آنکھیں دیکھے ہوئے ہوں میں نے اپنے بچپن کیمرے لہو میں ابھی تک سنائی دیتی ہیںسکوت حزن میں بھی گھنگھرؤں کی جھنکاریںیہ اور بات کہ میں اس پہ کان دے نہ سکوںاسی ودیعت طفلی کا اب سہارا ہےیہی ہیں مرہم کافور دل کے زخموں پرانہی کو رکھنا ہے محفوظ تا دم آخرزمین ہند ہے گہوارہ آج بھی ہم دماگر حساب کریں دس کروڑ بچوں کایہ بچے ہند کی سب سے بڑی امانت ہیںہر ایک بچے میں ہیں صد جہان امکاناتمگر وطن کا حل و عقد جن کے ہاتھ میں ہےنظام زندگئ ہند جن کے بس میں ہےرویہ دیکھ کے ان کا یہ کہنا پڑتا ہےکسے پڑی ہے کہ سمجھے وہ اس امانت کوکسے پڑی ہے کہ بچوں کی زندگی کو بچائےخراب ہونے سے ٹلنے سے سوکھ جانے سےبچائے کون ان آزردہ ہونہاروں کووہ زندگی جسے یہ دے رہے ہیں بھارت کوکروڑوں بچوں کے مٹنے کا اک المیہ ہےچرائے جاتے ہیں بچے ابھی گھروں سے یہاںکہ جسم توڑ دیے جائیں ان کے تاکہ ملےچرانے والوں کو خیرات ماگھ میلے کیجو اس عذاب سے بچ جائیں تو گلے پڑ جائیںوہ لعنتیں کہ ہمارے کروڑوں بچوں کیندیم خیر سے مٹی خراب ہو جائےوہ مفلسی کہ خوشی چھین لے وہ بے برگیاداسیوں سے بھری زندگی کی بے رنگیوہ یاسیات نہ جس کو چھوئے شعاع امیدوہ آنکھیں دیکھتی ہیں ہر طرف جو بے نوریوہ ٹکٹکی کہ جو پتھرا کے رہ گئی ہو ندیموہ بے دلی کی ہنسی چھین لے جو ہونٹوں سےوہ دکھ کہ جس سے ستاروں کی آنکھ بھر آئےوہ گندگی وہ کثافت مرض زدہ پیکروہ بچے چھن گئے ہوں جن سے بچپنے ان کےہمیں نے گھونٹ دیا جس کے بچپنے کا گلاجو کھاتے پیتے گھروں کے ہیں بچے ان کو بھی کیاسماج پھولنے پھلنے کے دے سکا سادھنوہ سانس لیتے ہیں تہذیب کش فضاؤں میںہم ان کو دیتے ہیں بے جان اور غلط تعلیمملے گا علم جہالت نما سے کیا ان کونکل کے مدرسوں اور یونیورسٹیوں سےیہ بد نصیب نہ گھر کے نہ گھاٹ کے ہوں گےمیں پوچھتا ہوں یہ تعلیم ہے کہ مکاریکروڑوں زندگیوں سے یہ بے پناہ دغانصاب ایسا کہ محنت کریں اگر اس پربجائے علم جہالت کا اکتساب کریںیہ الٹا درس ادب یہ سڑی ہوئی تعلیمدماغ کی ہو غذا یا غذائے جسمانیہر اک طرح کی غذا میں یہاں ملاوٹ ہےوہ جس کو بچوں کی تعلیم کہہ کے دیتے ہیںوہ درس الٹی چھری ہے گلے پہ بچپن کےزمین ہند ہنڈولا نہیں ہے بچوں کاکروڑوں بچوں کا یہ دیس اب جنازہ ہےہم انقلاب کے خطروں سے خوب واقف ہیںکچھ اور روز یہی رہ گئے جو لیل و نہارتو مول لینا پڑے گا ہمیں یہ خطرہ بھیکہ بچے قوم کی سب سے بڑی امانت ہیں
ایک آیا گیا دوسرا آئے گا دیر سے دیکھتا ہوں یوں ہی رات اس کی گزر جائے گیمیں کھڑا ہوں یہاں کس لیے مجھ کو کیا کام ہے یاد آتا نہیں یاد بھی ٹمٹماتاہوا اک دیا بن گئی جس کی رکتی ہوئی اور جھجکتی ہوئی ہر کرن بے صدا قہقہہ ہےمگر میرے کانوں نے کیسے اسے سن لیا ایک آندھی چلی چل کے مٹبھی گئی آج تک میرے کانوں میں موجود ہے سائیں سائیں مچلتی ہوئی اورابلتی ہوئی پھیلتی پھیلتی دیر سے میں کھڑا ہوں یہاں ایک آیا گیادوسرا آئے گا رات اس کی گزر جائے گی ایک ہنگامہ برپا ہے دیکھیں جدھرآ رہے ہیں کئی لوگ چلتے ہوئے اور ٹہلتے ہوئے اور رکتے ہوئے پھر سےبڑھتے ہوئے اور لپکتے ہوئے آ رہے جا رہے ہیں ادھر سے ادھر اور ادھر سےادھر جیسے دل میں مرے دھیان کی لہر سے ایک طوفان ہے ویسے آنکھیںمری دیکھتی ہی چلی جا رہی ہیں کہ اک ٹمٹماتے دئیے کی کرن زندگی کو پھسلتےہوئے اور گرتے ہوئے ڈھب سے ظاہر کیے جا رہی ہے مجھے دھیانآتا ہے اب تیرگی اک اجالا بنی ہے مگر اس اجالے سے رستی چلی جا رہیہیں وہ امرت کی بوندیں جنہیں میں ہتھیلی پہ اپنی سنبھالے رہا ہوں ہتھیلیمگر ٹمٹماتا ہوا اک دیا بن گئی تھی لپک سے اجالا ہوا لو گری پھر اندھیرا ساچھانے لگا بیٹھتا بیٹھتا بیٹھ کر ایک ہی پل میں اٹھتا ہوا جیسے آندھی کےتیکھے تھپیڑوں سے دروازے کے طاق کھلتے رہیں بند ہوتے رہیںپھڑپھڑاتے ہوئے طائر زخم خوردہ کی مانند میں دیکھتا ہی رہا ایک آیاگیا دوسرا آئے گا سوچ آئی مجھے پاؤں بڑھنے سے انکار کرتےگئے میں کھڑا ہی رہا دل میں اک بوند نے یہ کہا رات یوں ہی گزر جائے گیدل کی اک بوند کو آنکھ میں لے کے میں دیکھتا ہی رہا پھڑپھڑاتے ہوئے طائرزخم خوردہ کی مانند دروازے کے طاق اک بار جب مل گئے مجھ کو آہستہ آہستہاحساس ہونے لگا اب یہ زخمی پرندہ نہ تڑپے گا لیکن مرے دل کو ہر وقتتڑپائے گا میں ہتھیلی پہ اپنی سنبھالے رہوں گا وہ امرت کی بوندیں جنہیں آنکھسے میری رسنا تھا لیکن مری زندگی ٹمٹماتا ہوا اک دیا بن گئی جس کی رکتی ہوئیاور جھجکتی ہوئی ہر کرن بے صدا قہقہہ ہے کہ اس تیرگی میں کوئی بات ایسی نہیںجس کو پہلے اندھیرے میں دیکھا ہو میں نے سفر یہ اجالے اندھیرے کا چلتارہا ہے تو چلتا رہے گا یہی رسم ہے راہ کی ایک آیا گیا دوسراآئے گا رات ایسے گزر جائے گی ٹمٹماتے ستارے بتاتے تھے رستے کیندی بہی جا رہی ہے بہے جا اس الجھن سے ایسے نکل جا کوئی سیدھا منزل پہ جاتاتھا لیکن کئی قافلے بھول جاتے تھے انجم کے دور یگانہ کے مبہم اشارے مگر وہبھی چلتے ہوئے اور بڑھتے ہوئے شام سے پہلے ہی دیکھ لیتے تھے مقصود کا بنددروازہ کھلنے لگا ہے مگر میں کھڑا ہوں یہاں مجھ کو کیا کام ہے میرا دروازہکھلتا نہیں ہے مجھے پھیلے صحرا کی سوئی ہوئی ریگ کا ذرہ ذرہ یہی کہہ رہا ہےکے ایسے خرابے میں سوکھی ہتھیلی ہے اک ایسا تلوا کے جس کو کسی خار کی نوک چبھنے پہ بھیکہہ نہیں سکتی مجھ کو کوئی بوند اپنے لہو کی پلا دو مگر میں کھڑا ہوں یہاں کس لیےکام کوئی نہیں ہے تو میں بھی ان آتے ہوئے اور جاتے ہوئے ایک دو تینلاکھوں بگولوں میں مل کر یوں ہی چلتے چلتے کہیں ڈوب جاتا کے جیسے یہاںبہتی لہروں میں کشتی ہر ایک موج کو تھام لیتی ہے اپنی ہتھیلی کے پھیلے کنولمیں مجھے دھیان آتا نہیں ہے کہ اس راہ میں تو ہر اک جانے والے کے بسمیں ہے منزل میں چل دوں چلوں آئیے آئیے آپ کیوں اس جگہایسے چپ چاپ تنہا کھڑے ہیں اگر آپ کہیے تو ہم اک اچھوتی سی ٹہنی سےدو پھول بس بس مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے میں اکدوست کا راستہ دیکھتا ہوں مگر وہ چلا بھی گیا ہے مجھے پھر بھیتسکین آتی نہیں ہے کہ میں ایک صحرا کا باشندہ معلوم ہونے لگا ہوں خوداپنی نظر میں مجھے اب کوئی بند دروازہ کھلتا نظر آئے یہ بات ممکن نہیں ہےمیں اک اور آندھی کا مشتاق ہوں جو مجھے اپنے پردے میں یکسر چھپا لےمجھے اب یہ محسوس ہونے لگا ہے سہانا سماں جتنا بس میں تھا میرےوہ سب ایک بہتا سا جھونکا بنا ہے جسے ہاتھ میرے نہیں روک سکتےکہ میری ہتھیلی میں امرت کی بوندیں تو باقی نہیں ہیں فقط ایک پھیلا ہواخشک بے برگ بے رنگ صحرا ہے جس میں یہ ممکن نہیں میں کہوںایک آیا گیا دوسرا آئے گا رات میری گزر جائے گی
فضا میں گرم بگولوں کا رقص جاری ہےافق پہ خون کی مینا چھلک رہی ہے ابھیکہاں کا مہر منور کہاں کی تنویریںکہ بام و در پہ سیاہی جھلک رہی ہے ابھی
قیس نے عشق کیاپر شاعری نہیں کیاس نے لیلیٰ کی باتیںہواؤں سے بگولوں سے درختوں سے اور بیلوں سےپھولوں سے اور خوشبو سے کیں
مری شاعری خار زاروں کی دنیاتہی دستی و پستی و خستہ حالیبگولوں سے معمور پھولوں سے خالیوہ بیشہ کہ ہے مزرع خشک سالیجہاں ابر بھولا ہے دریا نوالینہ بھولی اسے بھی مری فکر عالیمری شاعری خارزاروں کی دنیا
دیکھتا ہے کون صحرا کے بگولوں کی طرفجو نظر اٹھتی ہے بس جاتی ہے پھولوں کی طرفعیش میں رہ کر ہمیں کچھ بھی خیال غم نہیںمسکراہٹ لب پہ ہے آنکھیں مگر پر نم نہیںدیکھتا اس کے کرشمے کس کو اتنا ہوش تھاپتی پتی دم بخود تھی گل چمن خاموش تھامحو نظارہ تھیں آنکھیں دل میں طاری بے خودیمجھ کو دیوانہ کئے دیتی تھی پھولوں کی ہنسیدیکھتی تھی میں بھی یہ حسن چمن رنگ بہارناگہاں آئی صدائے دل کہ غافل ہوشیارکھول آنکھیں دیکھ اپنے مسلموں کا حال زاران کو تو ان کافر یہودوں نے بنایا ہے شکاران مظالم پر بھی تو سرشار ہے مدہوش ہےمسجدوں میں جانور بندھتے ہیں تو خاموش ہیںنام کو باقی نہیں اسلام کا عز و وقارتیری آنکھوں سے مگر جاتا نہیں اب تک خمارہم ہیں حالانکہ بہت یہ ہو چکا ہے انقلابسن رہے ہیں داستان غم مگر کیا دیں جوابہو کے پابند حکومت کس قدر مجبور ہیںیعنی کوسوں ہم عرب کی منزلوں سے دور ہیںہوک اٹھتی ہے یہ سن میرے دل ناکام میںپلٹنیں کفار کی ہوں خانۂ اسلام میں
میں وہی قطرۂ بے بحر وہی دشت نورداپنے کاندھوں پہ اٹھائے ہوئے صحرا کا طلسماپنے سینے میں چھپائے ہوئے سیلاب کا دردٹوٹ کر رشتۂ تسبیح سے آ نکلا ہوںدل کی دھڑکن میں دبائے ہوئے اعمال کی فردمیرے دامن میں برستے ہوئے لمحوں کا خروشمیری پلکوں پہ بگولوں کی اڑائی ہوئی گرد
نیا دن روز مجھ کو کتنا پیچھے پھینک دیتا ہےیہ آج اندازہ ہوتا ہے کہ میں آہستہ آہستہہزاروں میل کی دوری پہ تم سے آ گیا اور ابدنوں سالوں مہینوں کو اکٹھا کر کے گم گشتہدیار ہو میں بیٹھا ہوں نہ کچھ آگے نہ کچھ پیچھےسوا کچھ وسوسوں کے کچھ خساروں کے کمر بستہکہیں چلنے کو آگے جس کا واضح کچھ تصور ہی نہیں کوئیہمارے سب مسائل جن کا ہم پر بوجھ ہے اتناہماری کشت بے مایہ ہیں اس صحرا میں کیا بویابگولوں کے سوا کچھ گرم جھونکوں کے سوا ہم نےچلو اک تیز دھارے میں کہیں پر ڈال دیں کشتیلطافت ٹھنڈے پانی کی کریں محسوس کچھ تھوڑا بکھر جائیںہنسیں بے وجہ یوں ہی غل مچائیں بے سبب دوڑیںاڑیں ان بادلوں کے پیچھے اور میلوں نکل جائیں
تو نے پوچھا ہے مرے دوست تو میں سوچتی ہوںوہ جو اک چیز ہے دنیا جسے غم کہتی ہےمجھے تسلیم، مرا اس سے علاقہ نہ رہازندگی گویا کوئی سیج رہی پھولوں کیپھر وہ کیا ہے کہ جو کانٹوں سی چبھا کرتی ہےمیں نے دیکھی ہیں وہ بے مہر نگاہیں اے دوستجن کی بے گانگی دل چیر دیا کرتی ہےمیں نے گھومے ہیں وہ تنہائی کے آسیب نگرجن کی سرحد پہ کہیں موت پھرا کرتی ہےمیں نے کاٹی ہیں وہ صبحیں کہ جبیں پر جن کیتیرگی برف کے مانند گرا کرتی ہےاپنے آنگن میں ملی وحشت صحرا مجھ کوغیریت جس میں بگولوں سی اڑا کرتی ہے
اجنبی تجھ سے تعلق کا صلہ خوب ہے یہتیری خواہش ہے کہ ہر روز نئی نظم لکھوں تیرے ناممیری کوشش بھی عجب ہے لیکنروز تازہ نئے جذبات کہاں سے لاؤںکورے الفاظ کی سوغات کہاں سے لاؤںخشک آنکھوں کے کٹوروں سے میں برسات کہاں سے لاؤںاجنبی تو ہی بتا نسخۂ نایاب کوئیاجنبی مجھ کو دکھا خطۂ شاداب کوئیبرگ آوارہ کی صورت ہوں ہوا کی زد پرمیں کہ رقصا ہوں ابھی گرم بگولوں کے ساتھاجنبی تو بھی مرے رقص فلک رنگ میں شامل ہو جاشاعری کیا ہے مری جان کا حاصل ہو جاتو مرا جسم قبا تو مری روح کی پر نور غذاشہد سے میٹھی مرے لب کی دعااجنبی کون ہے تو میرے سوا مجھ سے جدا
چائے کی بھاپ میںگھلتے، معدوم ہوتے ہوئے قہقہے شام کا بانکپنکوئی مصرع دھوئیں کے بگولوں میں کمپوز ہوتا ہواکوئی نکتہ جو اسرار کے گھپ اندھیرے سے شعلہ صفت سر اٹھائےعجب دھیما دھیما نشہ اختلافات کااپنے نچلے سروں میں کوئی فکر مربوط کرتا ہوا زاویہطنز کے ناوک خوش سلیقہ کی سن سنہواؤں سے محفوظ سانسوں میں آراستہ مختلف سگریٹوں کی مہکشام کے سرمئی بانکپن میں کسی کوٹ، مفلر، سوئیٹر سے اٹھتی ہوئیخوشبوئے آشناجوڑتی ہے ہمیں اک سمے سے جو مدت سےاک ناملائم زمانے میں محکوم ہےکون لحظے کو واپس بلائےسمے کو مکمل کرےاپنی نظمیں اسی اک تسلسل زدہ دائرے میں ہیںپرکار جن کی رہائی پہ مائل نہیںریستورانوں کے کونوں میں سہمی ہوئیکتنی شاموں کا جادو یہاں سطر در سطر محبوس ہےہم جو قید زماں و مکاں سے نکلنے کو پر مارتے ہیںبھلا شام ڈھلنے پہ الفاظ کے پنچھیوں کو جکڑتے ہیں کیوںدام تصویر میںیہ بگولے، دھواں، بھاپ اسیری کے عادی نہیںشام خود رات کی گود میں جا کے گرنے کو بے تاب ہے
سائےبیتی صدیاں جیسے پر پھیلائے اٹھیں گول گولاپنی لاشیں چھوڑ کر میری طرف آئیںکہ جیسے نوچ کھائیں گی مجھےاور پھر مردہ لاشیں یک بیک وحشی بگولوں کی طرحرقص کرتی چار سوڈھول تاشوں اور نقاروں کی ہیبت ناک آوازوں پہ رقصکھڑکھڑاتی ہڈیاں خود شعلے بن کر ناچتی ہیں چار سواور اک زرتشت سجدہ ریز ہو کران کی ہیبت ان کی عظمت ان کی بے رحمی کو کرتا ہو سلاماور وہاس کو اپنی گل فشاں آغوش میں لے کر اٹھیںجیسے ماںاپنے بچے کو اٹھائےاور میںوقت کے بے رحم ہاتھوں میں ہوں جیسے گدھ کے چنگل میں کوئی زندہ پرندبیتی صدیاں شب کے سناٹے میں شب خوں مار کراس طرح یلغار کرتی ہیں کہ جیسے میں نہتا ہوںمرے ترکش کے تیرمیرے ہی سینے میں ہیں پیوستمیں زندہ نہیںزندہ نہیں2دیکھ اے چشم خیالسار کے تاروں پہ اٹھلاتی ہوئی وہ جوئے نغمہ بوئے گلوہ عروس آرزو وہ چاندنی کے پیرہن میں حسن رقصاں موج مےوہ بہاروں کا تبسم وہ جوانی کا غرورتتلیوں کی خامشی گنگناتی راگنیآ رہی ہے میری جانب ہاتھ پھیلائے ہوئےحسن جس کے لوچ سے ہے سنگ مرمر میں گدازحسن جس کے روپ سے آہن ہوا آئینہ سازحسن انگڑائی میں جس کی سیکڑوں قوموں کا رازحسن جس کے ابروؤں کا جلوہ محراب نمازحسن جس کا رس بھرا سینہ ہزاروں گنبدوں پر سرفرازکیا ہوا وہ حسن وہ دوشیزہ وہ میرےخیالوں کی دلہنکھو گئی اپنی نمو کے پردۂ رنگیں کے پیچھے کھو گئیوقت کے صحرا میں ایوانوں کی عظمت سنگ سازوں کی تراشحجلۂ سیمیں کی رعنائی کا افسوں ہو گئیحسن پتھر بن گیا فن کی رگوں کا گرم خوںمردہ صدیوں کے شبستانوں میں اپنی آرزو سے جی اٹھااور سورج کی طرح روشن ہوا
دشت اجنبیت میںآشنائی کی چھاؤںساتھ چھوڑ جائے توہر طرف بگولوں کارقص گھیر لیتا ہے
پھر صدا تنگ و تاریک غاروں سے ابھریتا بہ حد نظرنیلگوں آسمانوں سے الجھیپھر صداؤں کے بے نور سے شامیانےمقید فضاؤں کا حصہ بنےاور بگولوں میں الجھا ہوااک مسافر گرازردیوں نے صداؤں کا پیچھا کیاپھر صداؤں کے اندھے کنویں سےزبانوں کے پر شور رہٹوں کی اک اک کڑی سامنے آ گئیتب کسی نے کہامیں صدا کے سفر میںمنافع کا منشور لے کرتجارت کی منڈی میں اتراکسی کی صدا تھیمجھے نیک و بد سے تعلق نہیںاب مری جیب میں توچمکتے دمکتے خداؤں کا ڈیراکسی نے کہاہے بھیانک سفر موت ساسنسناتی ہوئی خامشی زاد راہغم زدہ ادھر مرے ہم سفرمیں خدا کی بھلائی کو نکلا ہوںلیکنمرے ہاتھ میں زندگی کی سمٹتی لکیریںسیاہی میں لپٹا ہواخون آشام خواہش کا سنگ گراںراستے وحشتیںزرد ویران چہرےپھرتی ہوئی سرد آنکھیںجو پل پل ابھرتیتمناؤں کا جسم نوچیںتواک شور بے ربط ابھرےصدا بے نوا آج کا ایلیااے خدا اے خدامجھ کو آرام دےزندگی کی سلگتی صداؤں سے مجھ کو بچا
آندھیاں آسمانوں کا نوحہ زمیں کو سناتی ہیںاپنی گلو گیر آواز میں کہہ رہی ہیں،درختوں کی چنگھاڑنیچی چھتوں پر یہ رقص آسمانی بگولوں کااونچی چھتوں کے تلے کھیلے جاتے ڈرامہ کا منظر ہےیہ اس ظلم کا استعارہ ہےجو شہ رگ سے ہابیل کی گرم و تازہ لہو بن کے ابلا ہےآندھیوں میں تھا اک شور کرب و بلااور میں نے سنا کربلا۔۔۔کربلارات کے سہم سے، ان کہے وہم سےبند آنکھوں میں وحشت زدہ خواب اتراصبح اخبار کی سرخیاں بن گیا
میں امیدوں کی یہ بجھتی کرنیں لئےیوں اندھیروں میں کب تک بھٹکتی پھروںاپنے زخموں پہ پھیلاؤں میں کب تلکبے صدا خواہشوں کی سلگتی قبااور پھر کب تلکتشنگی کے جو پیوند ہیں جا بجااس جہاں کی نظر سے چھپاتی پھروںکب تلک میں سنوں نغمۂ زندگیہر اکھڑتی ہوئی سانس کے ساز پرکب تلک یوں جمائے رہوں میں قدموقت کی اس خطرناک ڈھلوان پرجس کی پھسلن لئے جا رہی ہے اسےدور مجھ سے بہت دور جانے کدھردن بہ دن اس کی معدوم ہوتی ہوئیدھندلی دھندلی سی پرچھائیاں دیکھ کرجی کہےآتما کا گلا گھونٹ دوںاور پھر یاس کے تلملاتے ہوئےاندھے وحشی بگولوں کی یورش بنوںرقص وحشت کروں
ساجدہ کن یگوں کی مسافت سمیٹے ہوئےاس بیاباں میں یوں ہی بھٹکتی رہو گیان بگولوں کے ہم راہ یوں رقص کرتی رہو گیکتنے صحراؤں میں تم نے پھوڑے ہیں پاؤں کے چھالےکتنی بیدار راتوں سے مانگا ہے تم نے خراج تمناساجدہ کچھ کہوہجر کی کن زمانوں میں اشکوں کی مالا پروئیکن حسابوں چکایا قرض جنوںکون سے مرحلوں سے گزر کر بنا روح کا پیرہنکس طرح جاں سے گزرے ہیں طوفان غم
رائیگاں وقت کے ویرانے میںکہ جہاں درد ہراساں ہےبگولوں کی طرحمضطرب فکر سے زخمی طائرکب سے ہیں خاک نشیںزرد لمحات کے ملبے میں دبےجذبہ و احساس کے کچلے ہوئے جسماور تا حد نظرکاوش پیہم کے کھنڈرکہ جہاں یاس کے بھوتوں نےلگا رکھا ہے ڈیرا اپناکہنہ الفاظ کی زنجیر میں جکڑے ہوئےمعنی کے بدنوہیں دم توڑ رہے ہوں گے کہیںرائیگاں ربط کے سناٹے میں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books