aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "bahe"
جلال آتش و برق و سحاب پیدا کراجل بھی کانپ اٹھے وہ شباب پیدا کرترے خرام میں ہے زلزلوں کا راز نہاںہر ایک گام پر اک انقلاب پیدا کرصدائے تیشۂ مزدور ہے ترا نغمہتو سنگ و خشت سے چنگ و رباب پیدا کربہت لطیف ہے اے دوست تیغ کا بوسہیہی ہے جان جہاں اس میں آب پیدا کرترے قدم پہ نظر آئے محفل انجموہ بانکپن وہ اچھوتا شباب پیدا کرترا شباب امانت ہے ساری دنیا کیتو خار زار جہاں میں گلاب پیدا کرسکون خواب ہے بے دست و پا ضعیفی کاتو اضطراب ہے خود اضطراب پیدا کرنہ دیکھ زہد کی تو عصمت گنہ آلودگنہ میں فطرت عصمت مآب پیدا کرترے جلو میں نئی جنتیں نئے دوزخنئی جزائیں انوکھے عذاب پیدا کرشراب کھینچی ہے سب نے غریب کے خوں سےتو اب امیر کے خوں سے شراب پیدا کرگرا دے قصر تمدن کہ اک فریب ہے یہاٹھا دے رسم محبت عذاب پیدا کرجو ہو سکے ہمیں پامال کر کے آگے بڑھجو ہو سکے تو ہمارا جواب پیدا کربہے زمیں پہ جو میرا لہو تو غم مت کراسی زمیں سے مہکتے گلاب پیدا کرتو انقلاب کی آمد کا انتظار نہ کرجو ہو سکے تو ابھی انقلاب پیدا کر
دھرتی کی سلگتی چھاتی سے بے چین شرارے پوچھتے ہیںتم لوگ جنہیں اپنا نہ سکے وہ خون کے دھارے پوچھتے ہیںسڑکوں کی زباں چلاتی ہے ساگر کے کنارے پوچھتے ہیںیہ کس کا لہو ہے کون مرا اے رہبر ملک و قوم بتایہ جلتے ہوئے گھر کس کے ہیں یہ کٹتے ہوئے تن کس کے ہیںتقسیم کے اندر طوفاں میں لٹتے ہوئے گلشن کس کے ہیںبد بخت فضائیں کس کی ہیں برباد نشیمن کس کے ہیںکچھ ہم بھی سنیں ہم کو بھی سناکس کام کے ہیں یہ دین دھرم جو شرم کا دامن چاک کریںکس طرح کے ہیں یہ دیش بھگت جو بستے گھروں کو خاک کریںیہ روحیں کیسی روحیں ہیں جو دھرتی کو ناپاک کریںآنکھیں تو اٹھا نظریں تو ملاجس رام کے نام پہ خون بہے اس رام کی عزت کیا ہوگیجس دین کے ہاتھوں لاج لٹے اس دین کی قیمت کیا ہوگیانسان کی اس ذلت سے پرے شیطان کی ذلت کیا ہوگییہ وید ہٹا قرآن اٹھایہ کس کا لہو ہے کون مرااے رہبر ملک و قوم بتا
ایک آیا گیا دوسرا آئے گا دیر سے دیکھتا ہوں یوں ہی رات اس کی گزر جائے گیمیں کھڑا ہوں یہاں کس لیے مجھ کو کیا کام ہے یاد آتا نہیں یاد بھی ٹمٹماتاہوا اک دیا بن گئی جس کی رکتی ہوئی اور جھجکتی ہوئی ہر کرن بے صدا قہقہہ ہےمگر میرے کانوں نے کیسے اسے سن لیا ایک آندھی چلی چل کے مٹبھی گئی آج تک میرے کانوں میں موجود ہے سائیں سائیں مچلتی ہوئی اورابلتی ہوئی پھیلتی پھیلتی دیر سے میں کھڑا ہوں یہاں ایک آیا گیادوسرا آئے گا رات اس کی گزر جائے گی ایک ہنگامہ برپا ہے دیکھیں جدھرآ رہے ہیں کئی لوگ چلتے ہوئے اور ٹہلتے ہوئے اور رکتے ہوئے پھر سےبڑھتے ہوئے اور لپکتے ہوئے آ رہے جا رہے ہیں ادھر سے ادھر اور ادھر سےادھر جیسے دل میں مرے دھیان کی لہر سے ایک طوفان ہے ویسے آنکھیںمری دیکھتی ہی چلی جا رہی ہیں کہ اک ٹمٹماتے دئیے کی کرن زندگی کو پھسلتےہوئے اور گرتے ہوئے ڈھب سے ظاہر کیے جا رہی ہے مجھے دھیانآتا ہے اب تیرگی اک اجالا بنی ہے مگر اس اجالے سے رستی چلی جا رہیہیں وہ امرت کی بوندیں جنہیں میں ہتھیلی پہ اپنی سنبھالے رہا ہوں ہتھیلیمگر ٹمٹماتا ہوا اک دیا بن گئی تھی لپک سے اجالا ہوا لو گری پھر اندھیرا ساچھانے لگا بیٹھتا بیٹھتا بیٹھ کر ایک ہی پل میں اٹھتا ہوا جیسے آندھی کےتیکھے تھپیڑوں سے دروازے کے طاق کھلتے رہیں بند ہوتے رہیںپھڑپھڑاتے ہوئے طائر زخم خوردہ کی مانند میں دیکھتا ہی رہا ایک آیاگیا دوسرا آئے گا سوچ آئی مجھے پاؤں بڑھنے سے انکار کرتےگئے میں کھڑا ہی رہا دل میں اک بوند نے یہ کہا رات یوں ہی گزر جائے گیدل کی اک بوند کو آنکھ میں لے کے میں دیکھتا ہی رہا پھڑپھڑاتے ہوئے طائرزخم خوردہ کی مانند دروازے کے طاق اک بار جب مل گئے مجھ کو آہستہ آہستہاحساس ہونے لگا اب یہ زخمی پرندہ نہ تڑپے گا لیکن مرے دل کو ہر وقتتڑپائے گا میں ہتھیلی پہ اپنی سنبھالے رہوں گا وہ امرت کی بوندیں جنہیں آنکھسے میری رسنا تھا لیکن مری زندگی ٹمٹماتا ہوا اک دیا بن گئی جس کی رکتی ہوئیاور جھجکتی ہوئی ہر کرن بے صدا قہقہہ ہے کہ اس تیرگی میں کوئی بات ایسی نہیںجس کو پہلے اندھیرے میں دیکھا ہو میں نے سفر یہ اجالے اندھیرے کا چلتارہا ہے تو چلتا رہے گا یہی رسم ہے راہ کی ایک آیا گیا دوسراآئے گا رات ایسے گزر جائے گی ٹمٹماتے ستارے بتاتے تھے رستے کیندی بہی جا رہی ہے بہے جا اس الجھن سے ایسے نکل جا کوئی سیدھا منزل پہ جاتاتھا لیکن کئی قافلے بھول جاتے تھے انجم کے دور یگانہ کے مبہم اشارے مگر وہبھی چلتے ہوئے اور بڑھتے ہوئے شام سے پہلے ہی دیکھ لیتے تھے مقصود کا بنددروازہ کھلنے لگا ہے مگر میں کھڑا ہوں یہاں مجھ کو کیا کام ہے میرا دروازہکھلتا نہیں ہے مجھے پھیلے صحرا کی سوئی ہوئی ریگ کا ذرہ ذرہ یہی کہہ رہا ہےکے ایسے خرابے میں سوکھی ہتھیلی ہے اک ایسا تلوا کے جس کو کسی خار کی نوک چبھنے پہ بھیکہہ نہیں سکتی مجھ کو کوئی بوند اپنے لہو کی پلا دو مگر میں کھڑا ہوں یہاں کس لیےکام کوئی نہیں ہے تو میں بھی ان آتے ہوئے اور جاتے ہوئے ایک دو تینلاکھوں بگولوں میں مل کر یوں ہی چلتے چلتے کہیں ڈوب جاتا کے جیسے یہاںبہتی لہروں میں کشتی ہر ایک موج کو تھام لیتی ہے اپنی ہتھیلی کے پھیلے کنولمیں مجھے دھیان آتا نہیں ہے کہ اس راہ میں تو ہر اک جانے والے کے بسمیں ہے منزل میں چل دوں چلوں آئیے آئیے آپ کیوں اس جگہایسے چپ چاپ تنہا کھڑے ہیں اگر آپ کہیے تو ہم اک اچھوتی سی ٹہنی سےدو پھول بس بس مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے میں اکدوست کا راستہ دیکھتا ہوں مگر وہ چلا بھی گیا ہے مجھے پھر بھیتسکین آتی نہیں ہے کہ میں ایک صحرا کا باشندہ معلوم ہونے لگا ہوں خوداپنی نظر میں مجھے اب کوئی بند دروازہ کھلتا نظر آئے یہ بات ممکن نہیں ہےمیں اک اور آندھی کا مشتاق ہوں جو مجھے اپنے پردے میں یکسر چھپا لےمجھے اب یہ محسوس ہونے لگا ہے سہانا سماں جتنا بس میں تھا میرےوہ سب ایک بہتا سا جھونکا بنا ہے جسے ہاتھ میرے نہیں روک سکتےکہ میری ہتھیلی میں امرت کی بوندیں تو باقی نہیں ہیں فقط ایک پھیلا ہواخشک بے برگ بے رنگ صحرا ہے جس میں یہ ممکن نہیں میں کہوںایک آیا گیا دوسرا آئے گا رات میری گزر جائے گی
اور سونے کے چمکتے سکےڈنک اٹھائے ہوئے پھن پھیلائےروح اور دل پہ چلا کرتے ہیںملک اور قوم کو دن رات ڈسا کرتے ہیںروٹیاں چکلوں کی قحبائیں ہیںجن کو سرمایہ کے دلالوں نےنفع خوری کے جھروکوں میں سجا رکھا ہےبالیاں دھان کی گیہوں کے سنہرے خوشےمصر و یونان کے مجبور غلاموں کی طرحاجنبی دیس کے بازاروں میں بک جاتے ہیںاور بد بخت کسانوں کی بلکتی ہوئی روحاپنے افلاس میں منہ ڈھانپ کے سو جاتی ہےہم کہاں جائیں کہیں کس سے کہ نادار ہیں ہمکس کو سمجھائیں غلامی کے گنہ گار ہیں ہمطوق خود ہم نے پہنا رکھا ہے ارمانوں کواپنے سینے میں جکڑ رکھا طوفانوں کواب بھی زندان غلامی سے نکل سکتے ہیںاپنی تقدیر کو ہم آپ بدل سکتے ہیں(3)آج پھر ہوتی ہیں زخموں سے زبانیں پیداتیرہ و تار فضاؤں سے برساتا ہے لہوراہ کی گرد کے نیچے سے ابھرتے ہیں قدمتارے آکاش پہ کمزور حبابوں کی طرحشب کے سیلاب سیاہی میں بہے جاتے ہیںپھوٹنے والی ہے مزدور کے ماتھے سے کرنسرخ پرچم افق صبح پہ لہراتے ہیں
گھر میں بیٹھے ہوئے کیا لکھتے ہوباہر نکلودیکھو کیا حال ہے دنیا کایہ کیا عالم ہےسونی آنکھیں ہیںسبھی خوشیوں سے خالی جیسےآؤ ان آنکھوں میں خوشیوں کی چمک ہم لکھ دیںیہ جو ماتھے ہیںاداسی کی لکیروں کے تلےآؤ ان ماتھوں پہ قسمت کی دمک ہم لکھ دیںچہروں سے گہری یہ مایوسی مٹا کےآؤان پہ امید کی اک اجلی کرن ہم لکھ دیںدور تک جو ہمیں ویرانے نظر آتے ہیںآؤ ویرانوں پر اب ایک چمن ہم لکھ دیںلفظ در لفظ سمندر سا بہےموج بہ موجبحر نغمات میںہر کوہ ستم حل ہو جائےدنیا دنیا نہ رہے ایک غزل ہو جائے
کٹتی نہیں سرد راتڈھلتی نہیں زرد راترات جدائی کی راتخالی گلاسوں کی سمتتکتی ہوئی آنکھ میںقطرۂ شبنم نہیںکون لہو میں بہےمیری رگوں میں چلےتیز ہو سانسوں کا شورجلنے لگے پور پورآئے سمندر میں جوشگر پڑے دیوار ہوشسوکھی ہوئی شاخ پربرگ و ثمر کھل اٹھیںآؤ مری نیند کیبکھری ہوئی پتیاںآج سمیٹو ذراکب سے کھلا ہے بدناس کو لپیٹو ذراایک شکن دو شکنبستر تنہائی پرپھر سے بڑھا دو ذرامجھ کو رلا دو ذراایک پہر رات ہےرات جدائی کی رات
رات کی کوکھ سےصبح کی ایک ننھی کرن نے جنم یوں لیاشب نے ننھی شفق کی گلابی حسیں مٹھیاں کھول کرکچھ لکیریں پڑھیںاور صبا سے نہ معلوم چپکے سے کیا کہہ دیایوں کہ شبنم کی آنکھوں سے آنسو بہےاک ستارہ ہنساچاندنی مسکراتی ہوئی چل پڑیاور نقاہت سے پہلو بدلتے ہوئےچونک کر میری ماں نے بڑے شوق سےکچھ اشارہ کیاآہٹوں اور سرگوشیوں میں کسی نے کہاآہ لڑکی ہے یہ
کس نے دروازہ کھٹکھٹایا ہےجا کے دیکھوں تو کون آیا ہےکون آیا ہے میرے دوارے پررات آئی کہاں بچارے پرمیرے چھپر سے ٹیک کر کاندھاکون استادہ ہے تھکا ماندہمیری کٹیا میں آؤ سستا لویہ مرا ساغر شکستہ لومیری چھاگل سے گھونٹ پانی پیواک نئے عزم کی جوانی پیوٹمٹماتے دیے کی جھلمل میںجوت سلگا لو اک نئی دل میںیہ مرے آنسوؤں کی شبنم لوپاؤں کے آبلوں کی مرہم لویہ مجھے افتخار دو بیٹھوسر سے گٹھڑی اتار دو بیٹھومیرے زانو پر اپنا سر رکھ کرطاق پر کاہش سفر رکھ کرنیند کی انجمن میں کھو جاؤمنزلوں کے سپن میں کھو جاؤخواب وادی و کہسار کے خوابدشت و دریا و آبشار کے خوابخواب اندھیری طویل راہوں کےکنج صحرا کی خیمہ گاہوں کےجہاں اک شمع ابھی فروزاں ہےجہاں اک دل تپاں ہے سوزاں ہےتم لپٹ جاؤ ان خیالوں سےاور میں کھیلوں تمہارے بالوں سےصبح جب نور کا فسوں برسےسونی پگڈنڈیوں پہ خوں برسےباگ تھامے حسیں ارادوں کیتم خبر لو پھر اپنے جادوں کیجب تلک زیست کا سفینہ بہےاجنبی اجنبی کو یاد رہےمجھ کو یہ اپنی یاد دے جاؤآؤ بھی کیوں جھجھکتے ہو آؤتم کہاں ہو کہاں جواب تو دواو مرے میہماں جواب تو دوتم نے دروازہ کھٹکھٹایا تھاکس کی دستک تھی کون آیا تھانیم شب قافلے ستاروں کےتیز ہرکارے ابر پاروں کےکس نے نیندوں کو میری ٹوکا تھاکوئی جھونکا تھا کوئی دھوکا تھا
بہے جاتے تھے بیٹھے عشق کے زریں سفینے میںتمناؤں کا طوفاں کروٹیں لیتا تھا سینے میںجو چھو لیتا میں اس کو وہ نہا جاتا پسینے میںمئے دوآتشہ کے سے مزے آتے تھے جینے میںیہیں کھیتوں میں پانی کے کنارے یاد ہے اب بھی
تو گھر سے نکل آئے تو دھرتی کو جگا دےتو باغ میں جس وقت لچکتی ہوئی آئےساون کی طرح جھوم کے پودوں کو جھمائےجوڑے کی گرہ کھول کے بیلا جو اٹھائےپربت پہ برستی ہوئی برکھا کو نچا دےتو گھر سے نکل آئے تو دھرتی کو جگا دےآنکھوں کو جھکائے ہوئے پلو کو اٹھائےمکھڑے پہ لیے صبح کے مچلے ہوئے سائےلیتی ہوئی انگڑائی اگر گھاٹ پہ آئےگنگا کی ہر اک لہر میں اک دھوم مچا دےتو گھر سے نکل آئے تو دھرتی کو جگا دےکرنوں سے گرے اوس جو ہو تیرا اشارامٹی کو نچوڑے تو بہے رنگ کا دھاراذرے کو جو روندے تو بنے صبح کا تاراکانٹے پہ جو تو پاؤں دھرے پھول بنا دےتو گھر سے نکل آئے تو دھرتی کو جگا دے
یہ روپ دکھا کر ہولی کے جب مین رسیلے ٹک مٹکےمنگوائے تھال گلالوں کے بھر ڈالے رنگوں سے مٹکےپھر سانگ بہت تیار ہوئے اور ٹھاٹھ خوشی کے جھر مٹکےغل شور ہوئے خوشحالی کے اور ناچنے گانے کے کھٹکےمردنگیں باجیں تال بجے کچھ کھنک کھنک کچھ دھنک دھنک
روز آنسو بہے روز آہت ہوئےرات گھائل ہوئی دن دیونگت ہوئےہم جنہیں ہر گھڑی یاد کرتے رہےرکت من میں نئی پیاس بھرتے رہےروز جن کے ہردے میں اترتے رہےوے سبھی دن چتا کی لپٹ پر رکھےروز جلتے ہوئے آخری خط ہوئےدن دیونگت ہوئے
ندی کے لرزتے ہوئے پانیوں پرتھرکتی ہوئی شوخ کرنوں نے چنگاریاں گھول دی ہیںتھکی دھوپ نے آ کے لہروں کی پھیلی ہوئی ننگی بانہوں پہ اپنی لٹیں کھول دی ہیںیہ جوئے رواں ہےکہ بہتے ہوئے پھول ہیں جن کی خوشبوئیں گیتوں کی سسکاریاں ہیںیہ پگھلے ہوئے زرد تانبے کی چادر پہ الجھی ہوئی سلوٹیں ہیںکہ زنجیر ہائے رواں ہیںبس اک شور طوفاںکنارا نہ ساحلنگاہوں کی حد تکسلاسل سلاسلکہ جن کو اٹھائے ہوئے ڈولتی پنکھڑیوں کے سفینے بہے جا رہے ہیںبہے جا رہے ہیںکہیں دور ان گھور اندھیروں میں جو فاصلوں کی ردائیں لپیٹے کھڑے ہیںجہاں پر ابد کا کنارا ہے اور اک وہ گاؤںوہ گنے کے کیاروں پہ آتی ہوئی ڈاک گاڑی کے بھورے دھوئیں کی چھچھلتی سی چھاؤں
شام کو پھر سے چراغاں کروں ہمت ہی نہیںقصے وہ پھر سے سناؤں تجھے قوت ہی نہیںجو دریا بہہ گیا وہ پھر نہ لوٹ کر آتاہوں اداکار اداکاری نہیں کر پاتا
قاتل و مقتول برابرظالم و مظلوم برابرقلم بھی بندوق برابرمعتوب و محبوب برابراپنی گویا ساتھی کیہر اک خاتون برابرنئی دانشوری جو پڑھیموسیٰ و قارون برابرظلم تو سب پر سانجھا تھابنی اسرائیل و فرعون برابرماں چاہے روتی رہےشہید بچے اور ملعون برابربلوچ جو گھر سے غائب ہیںسب پر مگر قانون برابرظلم کی اندھی فکر میںیزید و حسین برابرنئی نئی پڑھی صحافتمشعل و ہجوم برابراندھیرا بھی اجالے سا ہےظلمت و نور برابربصیرت پر پردہ پڑاسچ اور ہر اک جھوٹ برابرالٹی گنگا بہتی ہےمداری و افلاطون برابرجب تک اپنا نہ بہےآب و خون برابراک ان کا بھی مار گراؤپھر کہنا مارنے والا اور مرحوم برابر
اندھیرا ہےابھی تم اپنے ہونٹوں کویونہی میرے لبوں سے متصل رکھوابھی اس وقت تک تھامے رہومیرے بدن کو اپنی بانہوں سےکہ جب تکاک دھماکے سے پھٹےآتش فشاں جسموں کااور کتنے ہی قرنوں کی چھپی حدتبہے لاوے کی صورت میںکہ جب تکسائرن کی چیختی مکروہ موسیقیفضا کو پھاڑ دے اور جگمگائیں بجلیاں ہر سو
خدا نے بحر الفت میں تری الفت کو کھویا تھاعنادل بھی بڑھے تیری طرف دامن کو پھیلائے
میں نے آواز دیاور حصار رفاقت میںاس کو بلایامگر وہ نہ آیاگل خواب کی پتیاںدھوپ کی گرم راحت میں گم تھیںمرے جسم پرنرم بارش کی بوندیں بھی گھوڑے کا سم تھیںزمیں ایک انبوہ ہجراں میںاس چاپ کی منتظر تھیجو لا علم پھیلاؤ میں منتشر تھیپرندے سبک ریشمیں ٹہنیاںاپنی منقار میں تھام کر اڑ رہے تھےنشیب جنوں کی طرفپانیوں کی طرح میرے سائے بہے تھےکف چشم پر میں نے اس کے لیےشہر گریہ سجایامگر وہ نہ آیا
کل جو سپنے تھے ادھورے آج پورے ہوں گے وہآج ہم جمہوریت کا گیت گائیں گے ضرورامن کی شمعیں جلیں ہر سو اجالا ہو گیامٹ گئے ہیں ظلم کی تاریکیوں کے سب غرورکہہ دو ساری ظلمتوں سے تلخیوں سے ہوں وہ دورکیوں کہ ارزاں ہو گئی ہے دہر میں صہبائے نورآج پھر تاریکیوں کے مٹ ہی جائیں گے نشاںدیپ خوشیوں کے جلیں گے بستیٔ غم خوار میںخود بخود منزل کھنچی آئے گی قدموں کے تلےعزم نو کی خو بھی شامل ہوگی جب اطوار میںمتحد ہے کتنا بھارت دہر کو بتلائیں گےعظمت جمہوریت دنیا کو ہم دکھلائیں گےایک ہی دیوار کے سائے میں ہیں دیر و حرمہاں وہی بھارت ہے یہ جو امن کی تصویر ہےگوتم و گاندھی جواہر لال اور آزاد نےدیکھا تھا جو خواب پہروں اس کی یہ تعبیر ہےکہہ دو دنیا سے حسیں کردار بھی اب سیکھ لےآئے ہم سے امن کے اطوار بھی اب سیکھ لےآج وہ دن ہے کہ جس دن کے لیے تھے خوں بہےچندر شیکھر اور بھگت سنگھ اور پھر گاندھی کے خوناور ہاں جوہر علی مختار و سید تھے وہیتھا سدا جن کے دلوں سے سر کٹانے کا جنوندیش کی خاطر ہوا جن کا جنم اور موت بھیموت جن کی موت پہ روتی رہی روتی رہی
میں نے چاہا تھا کوئی اجالے سا ہاتھمیری انگلی پکڑ کر مجھے آگے بڑھنا سکھائےمدرسوں دفتروں شاہراہوں مکانوں دوکانوںتلک لے چلےلیکن ایسا ہواجس جگہ آنکھیں کھولی تھی میں نےوہاں ہاتھ سارے روٹی بنانے پہ مامور تھےخوف آتا تھا گھر سے نکلتے ہوئےڈگمگاتے قدمگنگ الفاظبے بس نگاہیں لیےآگے بڑھتی تھی میںچونکہ رکنا کوئی حل نہیں تھاسو میں اپنی گلی سے نکل کر جہاں بھی گئیاجنبی میری سہمی ہوئی ذات پہڈرتے ڈرتے ادا ہوتی ہر بات پہفقرے کستے رہےاور ہنستے رہےتب سے اب تک نہیں یادکتنے ہی دریا بہےکب گلابی بدن سانولا ہو گیااجلی بے داغ آنکھوں میںکب درد کے زرد موسم اتر آئےکب آئنہ دھول سے بھر گیا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books