aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "baithak"
جب دن ڈھل جاتا ہے، سورج دھرتی کی اوٹ میں ہو جاتا ہےاور بھڑوں کے چھتے جیسی بھن بھنبازاروں کی گرمی، افرا تفریموٹر، بس، برقی ریلوں کا ہنگامہ تھم جاتا ہےچائے خانوں ناچ گھروں سے کمسن لڑکےاپنے ہم سن معشوقوں کوجن کی جنسی خواہش وقت سے پہلے جاگ اٹھی ہےلے کر جا چکتے ہیںبڑھتی پھیلتی اونچی ہمالہ جیسی تعمیروں پر خاموشی چھا جاتی ہےتھیٹر تفریح گاہوں میں تالے پڑ جاتے ہیںاور بظاہر دنیا سو جاتی ہےمیں اپنے کمرے میں بیٹھا سوچا کرتا ہوںکتوں کی دم ٹیڑھی کیوں ہوتی ہےیہ چتکبری دنیا جس کا کوئی بھی کردار نہیں ہےکوئی فلسفہ کوئی پائندہ اقدار نہیں، معیار نہیں ہےاس پر اہل دانش ودوان، فلسفیموٹی موٹی ادق کتابیں کیوں لکھا کرتے ہیں؟فرقتؔ کی ماں نے شوہر کے مرنے پر کتنا کہرام مچایا تھالیکن عدت کے دن پورے ہونے سے اک ہفتہ پہلےنیلمؔ کے ماموں کے ساتھ بدایوں جا پہنچی تھیبی بی کی صحنک، کونڈے، فاتحہ خوانیجنگ صفین، جمل اور بدر کے قصوںسیرت نبوی، ترک دنیا اور مولوی صاحب کے حلوے مانڈے میں کیا رشتہ ہے؟
زباں مچلتی ہے مٹی پہ چہچہوں کی طرحزباں نکلتی ہے چلمن سے زمزموں کی طرحزبان ابلتی ہے آنگن کے قہقہوں کی طرحزبان بنتی ہے چوپال میں جواں کی طرحزبان بنتی ہے بیٹھک میں داستاں کی طرحزبان ڈھلتی ہے بازار میں دکانوں میںزبان چلتی ہے کوچوں میں کارخانوں میںزباں قدم بہ قدم سیڑھیوں پہ چڑھتی ہےزبان پیار محبت سے آگے بڑھتی ہےنہ دفتروں نہ کہیں فائلوں میں ڈھلتی ہےزبان دھرتی کے سینے سے لگ کے چلتی ہے
زمیں اڑتی پھرے گی آسماں نیچے بچھا ہوگاذرا سوچو تو ایسا ہوگا دنیا میں تو کیا ہوگاستاروں کو پکڑ کر لوگ کمروں میں سجائیں گےہوا کو باندھ کر رکھیں گے گرمی میں چلائیں گےکبھی سورج نہیں نکلا تو سستی کی سزا دیں گےاٹھک بیٹھک کرائیں گے اسے مرغا بنا دیں گےکبھی کر دے منع جو چاند راتوں میں نکلنے سےاگر انکار کر دیں سارے موسم رت بدلنے سےکہے مچھلی کہ میں جاؤں گی اپنے پیر پر چل کراگر کچھوا کہے مجھ کو نکالو خول سے باہرلگا لیں لاؤڈ اسپیکر اگر بادل گرجنے کوکہیں بجلی نہیں ہے آئیں گے ہم کل برسنے کوپرندے خود چلا کر گاڑیاں جائیں جہاں چاہیںاور ہاتھی اڑتے پھرنے کو بڑا سا پنکھ لگوائیںذرا سوچو تو ایسا ہونے لگ جائے تو کیسا ہوزمیں پر کھانے پینے کا نہ ہو کچھ صرف پیسہ ہواگر ہر ایک وہ کرنے لگے جو اس کا دل چاہےتو کائنات کی ہر شے جگہ سے اپنی ہل جائےمگر اللہ نے ہر چیز کو قابو میں رکھا ہےنظام زندگی صفدرؔ تبھی تو اتنا اچھا ہے
میں بندی قربانضد نہیں کرتے میری جانکھیل کھلونے کاٹھ کے بونےسب کے سب حیرانضد نہیں کرتے میری جانرونی صورت کیا سوچیں گےگھر آئے مہمانضد نہیں کرتے میری جاندادی نے فرمائش پوری کر دیآن کی آنضد نہیں کرتے میری جانلو بیٹھک میں دوڑ کے دے آؤدادا کو پاناب تو ہنس دو میری جان
گھر کی بیٹھک میں اک میز پراک پرانی گھڑیصبح سے شام تکشام سے صبح تکاور پھر اس طرحصبح سے شام تکشام سے صبح تکوقت کے دائرے میں مسلسل کئی سال سےکر رہی ہے سفرمنزل انتہا سے بہت دور ہے آج تک وہ مگراصل میں اس کی منزل نہیں ہے کوئیآج میں دیر تک غور سے اس کو تکتا رہااور اس میں مجھے عکس انساں دکھائی دیا
مسجد میں اور مندر میںگرجا گھر کی خاموشی سےحمد و ثنا کے گیتوں تکگردوارے کی بیٹھک میںڈھولک کی ہر تھاپ سے لے کرلاٹ صاحب کے پاٹ تلکمولویوں کے وعظ سے لے کرپنڈت کے بھجن کے اندرصحراؤں میںدریاؤں میںاس کونے سے اس کونے تککائنات کے ہر گوشے میںفرش سے لے کرعرش کے منظر نامے تکدیوار گریہ سے لے کرچشم طلب کے پار تلکاور خلا سے بھی اس پارجس کے لئے میں سرگرداں تھیجس کو ڈھونڈا گلی گلیچمن چمن اور کلی کلیوہ تو میری شہ رگ میں تھامیرا خدا بس میرا خدا
میری بند گلی کے سارے گھرکتنے عجیب سے لگتے ہیںمحرابی دروازےجیسے مالیخولیا کی بیماری میںدھیرے دھیرے مرتے شخص کیکیچ بھری آنکھیں ہوںآگے بڑھی ہوئی بلکونیاںجیسے احمق اور ہونق لوگوں کیلٹکی ہوئی تھوڑیاں ہوتی ہیںاک دوجے میں الجھےبیٹھک آنگن سونے والے کمرےاور رسوئیاںسارا یوں لگتا ہےجیسے اک پاگل کی گنجل سوچیں ہوںان کے اندر رہنے والےجیسےمیں بھی کیا پاگل ہوںکیا کیا سوچتا رہتا ہوں
چلو مکاں کی مصیبت سے بھی نجات ملییہ خواب گہ، یہ کچن، غسل خانہ اور بیٹھکمیں سوچتا ہوں مجھے سوچنے کو بات ملیہوئی ہیں صرف مشقت کی کوششیں ان تھکنظر ربا در و دیوار کے بنانے میںیہ قمقمے یہ تمدن کی اختراع جدیدبڑھی ضلالت ادراک تیرگی نہ مٹییہ سیڑھیاں ہیں نگاہوں کے پیچ کی مظہرحیات کی کوئی پیچیدگی نہ دور ہوئیمگر میں محو ہوں اوبار کے مٹانے میںیہ سیڑھیاں ہیں جو ان پر سے گر پڑے کوئیبری گھڑی نہ خدا لائے جانے کب آ جائےیہ چکنا فرش اسے دیکھتا رہے کوئیجو کل کو پاؤں تمہارا کہیں پھسل جائےخدا کرم کرے میرا تو دم نکل جائےمیں سوچتا ہوں مجھے سوچ کا جنوں جو ہوایہ میرے ذہن کا ماحول پر فسوں جو ہوایہ میرا ذہن مجھے لے چلا ہے دور کہیںوہاں جہاں کبھی پہلے بھی تھا مکاں اپنافلک کے سائے میں ہم تھے کبھی پناہ گزیںیہ فرش خاک تھا قالین زر فشاں اپنایہ مہر و ماہ یہ تارے تھے اپنے گھر کے دیئےگل و گیا سے ہے لبریز پر بہار زمیںجلو میں حسن لیے دعوت نظر کے لیےکبھی ہمارے لیے تھی نشست گاہ حسیںیہ زلف پیچ سے بیگانہ موج صہبا تھیکہ جس کا برسوں مری انگلیاں رہیں شانایہ تیری ہمدمی اک کیفیت تھی نشہ بھیجہاں بھی چاہنا فوراً وہیں چلے جاناوہ صبح ساحل دریا وہ شام زیر چنارگزر گئی وہ مسرت کی صبح و شام اپنیہمارے دوش پہ جب تھا نہ جبر و قدر کا بارچلو چلو یہ حکایت ہے تلخ کام اپنیاٹھو اٹھو در و دیوار کو سجانا ہےمکاں کو گہنوں لدی اک دلہن بنانا ہے
میں جھونپڑیوں میں رہتا ہوں تیرا پل کے نیچے مسکندونوں میں طاق نہ محرابیں کیسی بیٹھک کیسا آنگنپل کے نیچے تاریکی سے کھیلی نہ کبھی سورج کی کرناور چاند دریچوں سے مجھ کو دینے آیا نہ کبھی درشن
گلی وہی ہےنکڑ پر اب بھی اک بوڑھاگاڑے میلے کپڑے کی جھولی پھیلائےچہرے کی جھریوں میں چھپی آنکھوں سےہر آنے جانے والے کو تکتااک دوسرے کے مل جانے کی آس لگائےدن بھر یوںہی بیٹھا رہے گاتکتا رہے گا
جب کہیں بیٹھ کے روتے ہیں وہ بیکس جن کےاشک آنکھوں میں بلکتے ہوئے سو جاتے ہیںنا توانوں کے نوالوں پہ جھپٹتے ہیں عقاببازو تولے ہوئے منڈلاتے ہوئے آتے ہیں
کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوںفکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوںنالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوںہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوںجرأت آموز مری تاب سخن ہے مجھ کوشکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کوہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہمقصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہمساز خاموش ہیں فریاد سے معمور ہیں ہمنالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہماے خدا شکوۂ ارباب وفا بھی سن لےخوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لےتھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات قدیمپھول تھا زیب چمن پر نہ پریشاں تھی شمیمشرط انصاف ہے اے صاحب الطاف عمیمبوئے گل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیمہم کو جمعیت خاطر یہ پریشانی تھیورنہ امت ترے محبوب کی دیوانی تھیہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظرکہیں مسجود تھے پتھر کہیں معبود شجرخوگر پیکر محسوس تھی انساں کی نظرمانتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کو کیونکرتجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام تراقوت بازوئے مسلم نے کیا کام ترابس رہے تھے یہیں سلجوق بھی تورانی بھیاہل چیں چین میں ایران میں ساسانی بھیاسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھیاسی دنیا میں یہودی بھی تھے نصرانی بھیپر ترے نام پہ تلوار اٹھائی کس نےبات جو بگڑی ہوئی تھی وہ بنائی کس نےتھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میںخشکیوں میں کبھی لڑتے کبھی دریاؤں میںدیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میںکبھی ایفریقا کے تپتے ہوئے صحراؤں میںشان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کیکلمہ پڑھتے تھے ہمیں چھاؤں میں تلواروں کیہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مصیبت کے لیےاور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لیےتھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیےسر بکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لیےقوم اپنی جو زرو و مال جہاں پر مرتیبت فروشی کے عوض بت شکنی کیوں کرتیٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھےپاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھےتجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھےتیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھےنقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نےزیر خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نےتو ہی کہہ دے کہ اکھاڑا در خیبر کس نےشہر قیصر کا جو تھا اس کو کیا سر کس نےتوڑے مخلوق خدا وندوں کے پیکر کس نےکاٹ کر رکھ دئیے کفار کے لشکر کس نےکس نے ٹھنڈا کیا آتشکدۂ ایراں کوکس نے پھر زندہ کیا تذکرۂ یزداں کوکون سی قوم فقط تیری طلب گار ہوئیاور تیرے لیے زحمت کش پیکار ہوئیکس کی شمشیر جہانگیر جہاں دار ہوئیکس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئیکس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھےمنہ کے بل گر کے ہو اللہ احد کہتے تھےآ گیا عین لڑائی میں اگر وقت نمازقبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی ہوئی قوم حجازایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایازنہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نوازبندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئےتیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئےمحفل کون و مکاں میں سحر و شام پھرےمئے توحید کو لے کر صفت جام پھرےکوہ میں دشت میں لے کر ترا پیغام پھرےاور معلوم ہے تجھ کو کبھی ناکام پھرےدشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نےبحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا ہم نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نےتیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نےتیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نےپھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیںہم وفادار نہیں تو بھی تو دل دار نہیںامتیں اور بھی ہیں ان میں گنہ گار بھی ہیںعجز والے بھی ہیں مست مئے پندار بھی ہیںان میں کاہل بھی ہیں غافل بھی ہیں ہشیار بھی ہیںسیکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بے زار بھی ہیںرحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پربرق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پربت صنم خانوں میں کہتے ہیں مسلمان گئےہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئےمنزل دہر سے اونٹوں کے حدی خوان گئےاپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئےخندہ زن کفر ہے احساس تجھے ہے کہ نہیںاپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیںیہ شکایت نہیں ہیں ان کے خزانے معمورنہیں محفل میں جنہیں بات بھی کرنے کا شعورقہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حور و قصوراور بے چارے مسلماں کو فقط وعدۂ حوراب وہ الطاف نہیں ہم پہ عنایات نہیںبات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیںکیوں مسلمانوں میں ہے دولت دنیا نایابتیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ حسابتو جو چاہے تو اٹھے سینۂ صحرا سے حبابرہرو دشت ہو سیلی زدۂ موج سرابطعن اغیار ہے رسوائی ہے ناداری ہےکیا ترے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہےبنی اغیار کی اب چاہنے والی دنیارہ گئی اپنے لیے ایک خیالی دنیاہم تو رخصت ہوئے اوروں نے سنبھالی دنیاپھر نہ کہنا ہوئی توحید سے خالی دنیاہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں ترا نام رہےکہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے جام رہےتیری محفل بھی گئی چاہنے والے بھی گئےشب کی آہیں بھی گئیں صبح کے نالے بھی گئےدل تجھے دے بھی گئے اپنا صلہ لے بھی گئےآ کے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئےآئے عشاق گئے وعدۂ فردا لے کراب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کردرد لیلیٰ بھی وہی قیس کا پہلو بھی وہینجد کے دشت و جبل میں رم آہو بھی وہیعشق کا دل بھی وہی حسن کا جادو بھی وہیامت احمد مرسل بھی وہی تو بھی وہیپھر یہ آرزدگئ غیر سبب کیا معنیاپنے شیداؤں پہ یہ چشم غضب کیا معنیتجھ کو چھوڑا کہ رسول عربی کو چھوڑابت گری پیشہ کیا بت شکنی کو چھوڑاعشق کو عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑارسم سلمان و اویس قرنی کو چھوڑاآگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیںزندگی مثل بلال حبشی رکھتے ہیںعشق کی خیر وہ پہلی سی ادا بھی نہ سہیجادہ پیمائی تسلیم و رضا بھی نہ سہیمضطرب دل صفت قبلہ نما بھی نہ سہیاور پابندی آئین وفا بھی نہ سہیکبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہےبات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہرجائی ہےسر فاراں پہ کیا دین کو کامل تو نےاک اشارے میں ہزاروں کے لیے دل تو نےآتش اندوز کیا عشق کا حاصل تو نےپھونک دی گرمئ رخسار سے محفل تو نےآج کیوں سینے ہمارے شرر آباد نہیںہم وہی سوختہ ساماں ہیں تجھے یاد نہیںوادیٔ نجد میں وہ شور سلاسل نہ رہاقیس دیوانۂ نظارۂ محمل نہ رہاحوصلے وہ نہ رہے ہم نہ رہے دل نہ رہاگھر یہ اجڑا ہے کہ تو رونق محفل نہ رہااے خوشا آں روز کہ آئی و بصد ناز آئیبے حجابانہ سوئے محفل ما باز آئیبادہ کش غیر ہیں گلشن میں لب جو بیٹھےسنتے ہیں جام بکف نغمۂ کو کو بیٹھےدور ہنگامۂ گلزار سے یکسو بیٹھےتیرے دیوانے بھی ہیں منتظر ہو بیٹھےاپنے پروانوں کو پھر ذوق خود افروزی دےبرق دیرینہ کو فرمان جگر سوزی دےقوم آوارہ عناں تاب ہے پھر سوئے حجازلے اڑا بلبل بے پر کو مذاق پروازمضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بوئے نیازتو ذرا چھیڑ تو دے تشنۂ مضراب ہے سازنغمے بیتاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لیےطور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لیےمشکلیں امت مرحوم کی آساں کر دےمور بے مایہ کو ہمدوش سلیماں کر دےجنس نایاب محبت کو پھر ارزاں کر دےہند کے دیر نشینوں کو مسلماں کر دےجوئے خوں می چکد از حسرت دیرینۂ مامی تپد نالہ بہ نشتر کدۂ سینۂ مابوئے گل لے گئی بیرون چمن راز چمنکیا قیامت ہے کہ خود پھول ہیں غماز چمنعہد گل ختم ہوا ٹوٹ گیا ساز چمناڑ گئے ڈالیوں سے زمزمہ پرداز چمنایک بلبل ہے کہ ہے محو ترنم اب تکاس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب تکقمریاں شاخ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئیںپتیاں پھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیںوہ پرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیںڈالیاں پیرہن برگ سے عریاں بھی ہوئیںقید موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کیکاش گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کیلطف مرنے میں ہے باقی نہ مزہ جینے میںکچھ مزہ ہے تو یہی خون جگر پینے میںکتنے بیتاب ہیں جوہر مرے آئینے میںکس قدر جلوے تڑپتے ہیں مرے سینے میںاس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیںداغ جو سینے میں رکھتے ہوں وہ لالے ہی نہیںچاک اس بلبل تنہا کی نوا سے دل ہوںجاگنے والے اسی بانگ درا سے دل ہوںیعنی پھر زندہ نئے عہد وفا سے دل ہوںپھر اسی بادۂ دیرینہ کے پیاسے دل ہوںعجمی خم ہے تو کیا مے تو حجازی ہے مرینغمہ ہندی ہے تو کیا لے تو حجازی ہے مری
جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گیجب ارض خدا کے کعبے سےسب بت اٹھوائے جائیں گےہم اہل صفا مردود حرممسند پہ بٹھائے جائیں گےسب تاج اچھالے جائیں گےسب تخت گرائے جائیں گےبس نام رہے گا اللہ کاجو غائب بھی ہے حاضر بھیجو منظر بھی ہے ناظر بھیاٹھے گا انا الحق کا نعرہجو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
گر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم مرے دوستگر مجھے اس کا یقیں ہو کہ ترے دل کی تھکنتری آنکھوں کی اداسی تیرے سینے کی جلنمیری دل جوئی مرے پیار سے مٹ جائے گیگر مرا حرف تسلی وہ دوا ہو جس سےجی اٹھے پھر ترا اجڑا ہوا بے نور دماغتیری پیشانی سے ڈھل جائیں یہ تذلیل کے داغتیری بیمار جوانی کو شفا ہو جائےگر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم مرے دوستروز و شب شام و سحر میں تجھے بہلاتا رہوںمیں تجھے گیت سناتا رہوں ہلکے شیریںآبشاروں کے بہاروں کے چمن زاروں کے گیتآمد صبح کے، مہتاب کے، سیاروں کے گیتتجھ سے میں حسن و محبت کی حکایات کہوںکیسے مغرور حسیناؤں کے برفاب سے جسمگرم ہاتھوں کی حرارت میں پگھل جاتے ہیںکیسے اک چہرے کے ٹھہرے ہوئے مانوس نقوشدیکھتے دیکھتے یک لخت بدل جاتے ہیںکس طرح عارض محبوب کا شفاف بلوریک بیک بادۂ احمر سے دہک جاتا ہےکیسے گلچیں کے لیے جھکتی ہے خود شاخ گلابکس طرح رات کا ایوان مہک جاتا ہےیونہی گاتا رہوں گاتا رہوں تیری خاطرگیت بنتا رہوں بیٹھا رہوں تیری خاطرپر مرے گیت ترے دکھ کا مداوا ہی نہیںنغمہ جراح نہیں مونس و غم خوار سہیگیت نشتر تو نہیں مرہم آزار سہیتیرے آزار کا چارہ نہیں نشتر کے سوااور یہ سفاک مسیحا مرے قبضے میں نہیںاس جہاں کے کسی ذی روح کے قبضے میں نہیںہاں مگر تیرے سوا تیرے سوا تیرے سوا
دو پاؤں بنے ہریالی پرایک تتلی بیٹھی ڈالی پرکچھ جگمگ جگنو جنگل سےکچھ جھومتے ہاتھی بادل سےیہ ایک کہانی نیند بھریاک تخت پہ بیٹھی ایک پریکچھ گن گن کرتے پروانےدو ننھے ننھے دستانےکچھ اڑتے رنگیں غبارےببو کے دوپٹے کے تارےیہ چہرہ بنو بوڑھی کایہ ٹکڑا ماں کی چوڑی کایہ مجھ سے ملنے آئے ہیںمیں خود نہ جنہیں پہچان سکوںکچھ اتنے دھندلے سائے ہیں
تمہاری قبر پرمیں فاتحہ پڑھنے نہیں آیامجھے معلوم تھاتم مر نہیں سکتےتمہاری موت کی سچی خبر جس نے اڑائی تھیوہ جھوٹا تھاوہ تم کب تھےکوئی سوکھا ہوا پتہ ہوا سے مل کے ٹوٹا تھامری آنکھیںتمہارے منظروں میں قید ہیں اب تکمیں جو بھی دیکھتا ہوںسوچتا ہوںوہ وہی ہےجو تمہاری نیک نامی اور بد نامی کی دنیا تھیکہیں کچھ بھی نہیں بدلاتمہارے ہاتھ میری انگلیوں میں سانس لیتے ہیںمیں لکھنے کے لیےجب بھی قلم کاغذ اٹھاتا ہوںتمہیں بیٹھا ہوا میں اپنی ہی کرسی میں پاتا ہوںبدن میں میرے جتنا بھی لہو ہےوہ تمہاریلغزشوں ناکامیوں کے ساتھ بہتا ہےمری آواز میں چھپ کرتمہارا ذہن رہتا ہےمری بیماریوں میں تممری لاچاریوں میں تمتمہاری قبر پر جس نے تمہارا نام لکھا ہےوہ جھوٹا ہےتمہاری قبر میں میں دفن ہوںتم مجھ میں زندہ ہوکبھی فرصت ملے تو فاتحہ پڑھنے چلے آنا
حق بات پہ کوڑے اور زنداں باطل کے شکنجے میں ہے یہ جاںانساں ہیں کہ سہمے بیٹھے ہیں خونخوار درندے ہیں رقصاںاس ظلم و ستم کو لطف و کرم اس دکھ کو دوا کیا لکھناظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
اک روز مگر برکھا رت میں وہ بھادوں تھی یا ساون تھادیوار پہ بیچ سمندر کے یہ دیکھنے والوں نے دیکھامستانہ ہاتھ میں ہاتھ دیئے یہ ایک کگر پر بیٹھے تھےیوں شام ہوئی پھر رات ہوئی جب سیلانی گھر لوٹ گئےکیا رات تھی وہ جی چاہتا ہے اس رات پہ لکھیں افسانااس بستی کے اک کوچے میں اک انشاؔ نام کا دیوانا
پھر دیکھے ہیں وہ ہجر کے تپتے ہوئے دن بھیجب فکر دل و جاں میں فغاں بھول گئی ہےہر شب وہ سیہ بوجھ کہ دل بیٹھ گیا ہےہر صبح کی لو تیر سی سینے میں لگی ہے
تم آج ہزاروں میل یہاں سے دور کہیں تنہائی میںیا بزم طرب آرائی میںمیرے سپنے بنتی ہوں گی بیٹھی آغوش پرائی میںاور میں سینے میں غم لے کر دن رات مشقت کرتا ہوںجینے کی خاطر مرتا ہوںاپنے فن کو رسوا کر کے اغیار کا دامن بھرتا ہوںمجبور ہوں میں مجبور ہو تم مجبور یہ دنیا ساری ہےتن کا دکھ من پر بھاری ہےاس دور میں جینے کی قیمت یا دار و رسن یا خواری ہےمیں دار و رسن تک جا نہ سکا تم جہد کی حد تک آ نہ سکیںچاہا تو مگر اپنا نہ سکیںہم تو دو ایسی روحیں ہیں جو منزل تسکیں پا نہ سکیںجینے کو جئے جاتے ہیں مگر سانسوں میں چتائیں جلتی ہیںخاموش وفائیں جلتی ہیںسنگین حقائق زاروں میں خوابوں کی ردائیں جلتی ہیںاور آج جب ان پیڑوں کے تلے پھر دو سائے لہرائے ہیںپھر دو دل ملنے آئے ہیںپھر موت کی آندھی اٹھی ہے پھر جنگ کے بادل چھائے ہیںمیں سوچ رہا ہوں ان کا بھی اپنی ہی طرح انجام نہ ہوان کا بھی جنوں ناکام نہ ہوان کے بھی مقدر میں لکھی اک خون میں لتھڑی شام نہ ہوسورج کے لہو میں لتھڑی ہوئی وہ شام ہے اب تک یاد مجھےچاہت کے سنہرے خوابوں کا انجام ہے اب تک یاد مجھےہمارا پیار حوادث کی تاب لا نہ سکامگر انہیں تو مرادوں کی رات مل جائےہمیں تو کشمکش مرگ بے اماں ہی ملیانہیں تو جھومتی گاتی حیات مل جائےبہت دنوں سے ہے یہ مشغلہ سیاست کاکہ جب جوان ہوں بچے تو قتل ہو جائیںبہت دنوں سے یہ ہے خبط حکمرانوں کاکہ دور دور کے ملکوں میں قحط بو جائیںبہت دنوں سے جوانی کے خواب ویراں ہیںبہت دنوں سے ستم دیدہ شاہراہوں میںنگار زیست کی عصمت پناہ ڈھونڈھتی ہےچلو کہ آج سبھی پائمال روحوں سےکہیں کہ اپنے ہر اک زخم کو زباں کر لیںہمارا راز ہمارا نہیں سبھی کا ہےچلو کہ سارے زمانے کو رازداں کر لیںچلو کہ چل کے سیاسی مقامروں سے کہیںکہ ہم کو جنگ و جدل کے چلن سے نفرت ہےجسے لہو کے سوا کوئی رنگ راس نہ آئےہمیں حیات کے اس پیرہن سے نفرت ہےکہو کہ اب کوئی قاتل اگر ادھر آیاتو ہر قدم پہ زمیں تنگ ہوتی جائے گیہر ایک موج ہوا رخ بدل کے جھپٹے گیہر ایک شاخ رگ سنگ ہوتی جائے گیاٹھو کہ آج ہر اک جنگ جو سے یہ کہہ دیںکہ ہم کو کام کی خاطر کلوں کی حاجت ہےہمیں کسی کی زمیں چھیننے کا شوق نہیںہمیں تو اپنی زمیں پر ہلوں کی حاجت ہےکہو کہ اب کوئی تاجر ادھر کا رخ نہ کرےاب اس جگہ کوئی کنواری نہ بیچی جائے گییہ کھیت جاگ پڑے اٹھ کھڑی ہوئیں فصلیںاب اس جگہ کوئی کیاری نہ بیچی جائے گییہ سر زمین ہے گوتم کی اور نانک کیاس ارض پاک پہ وحشی نہ چل سکیں گے کبھیہمارا خون امانت ہے نسل نو کے لئےہمارے خون پہ لشکر نہ پل سکیں گے کبھیکہو کہ آج بھی ہم سب اگر خموش رہےتو اس دمکتے ہوئے خاکداں کی خیر نہیںجنوں کی ڈھالی ہوئی ایٹمی بلاؤں سےزمیں کی خیر نہیں آسماں کی خیر نہیںگذشتہ جنگ میں گھر ہی جلے مگر اس بارعجب نہیں کہ یہ تنہائیاں بھی جل جائیںگذشتہ جنگ میں پیکر جلے مگر اس بارعجب نہیں کہ یہ پرچھائیاں بھی جل جائیںتصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books