aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "bartano.n"
ایک نظم کہیں سے بھی شروع ہو سکتی ہےجوتوں کی جوڑی سےیا قبر سے جو بارش میں بیٹھ گئییا اس پھول سے جو قبر کی پائینی پر کھلاہر ایک کو کہیں نہ کہیں پناہ مل گئیچینٹیوں کو جائے نماز کے نیچےاور لڑکیوں کو مری آواز میںمردہ بیل کی کھوپڑی میں گلہری نے گھر بنا لیا ہےنظم کا بھی ایک گھر ہوگاکسی جلا وطن کا دل یا انتظار کرتی ہوئی آنکھیںایک پہیہ ہے جو بنانے والے سے ادھورا رہ گیا ہےاسے ایک نظم مکمل کر سکتی ہےایک گونجتا ہوا آسمان نظم کے لیے کافی ہوتا ہےلیکن یہ ایک ناشتہ دان میں با آسانی سما سکتی ہےپھول آنسو اور گھنٹیاں اس میں پروئی جا سکتی ہیںاسے اندھیرے میں گایا جا سکتا ہےتہواروں کی دھوپ میں سکھایا جا سکتا ہےتم اسے دیکھ سکتی ہوخالی برتنوں خالی قبضوں اور خالی گہواروں میںتم اسے سن سکتی ہوہاتھ گاڑیوں اور جنازوں کے ساتھ چلتے ہوئےتم اسے چوم سکتی ہوبندرگاہوں کی بھیڑ میںتم اسے گوندھ سکتی ہوپتھر کی ماند میںتم اسے اگا سکتی ہوپودینے کی کیاریوں میںایک نظمکسی بھی رات سے تاریک نہیں کی جا سکتیکسی تلوار سے کاٹی نہیں جا سکتیکسی دیوار میں قید نہیں کی جا سکتیایک نظمکہیں بھی ساتھ چھوڑ سکتی ہےبادل کی طرحہوا کی طرحراستے کی طرحباپ کے ہاتھ کی طرح
وہ کیسی ہےاسے میں نے نہیں دیکھاسنا ہے وہ زمیں زادیدھنک سے اپنے خوابوں کے افق گل رنگ رکھتی ہےمرے خاشاک سے آگے کسی منظر میں رہتی ہےہوا کے گھر میں رہتی ہےوہ کس سورج کا حصہ ہےوہ کس تارے کی مٹی ہےاسے میں نے نہیں دیکھامری آنکھوں سے لے کر اس کی آنکھوں تک کسے معلوم ہےکتنے ستارے ہیںمجھے کیا علم وہ کس رنگ کے کپڑے پہنتی ہےوہ خالی برتنوں میں اپنا دن کیسے بتاتی ہےوہ خوشیاں ڈھونڈتی ہے اور خود کو بند الماری میں رکھ کربھول جاتی ہےوہ گھر کے لان میں بیٹھی بہت کچھ سوچتی ہوگیکہ میرا رنگ کیسا ہےمری آنکھوں کے روشن قمقموں میں تاب کتنی ہےمری شریان میں سہمے ہوئے بچوں پہ کیا گزریوہ کس رستے پہ چل نکلے کہ اپنے گھر نہیں پہنچےوہ اکثر سوچتی ہوگیمرے کمرے میں بوڑھی فاحشہ تنہائی کے ہوتےمرے دن کیسے کٹتے ہیںمری بے خواب راتیں کن خیالوں میں گزرتی ہیںکہاں عشق گریزاں کی کہانی ختم ہوتی ہےوہ گھر کے لان میں بیٹھی یہی کچھ سوچتی ہوگیکہ میرے نام کے پیچھے مری تصویر کیسی ہےمرے خط بھی نہیں اس کے تصرف میںکہ ان کو کھول کر میرے بدن کے راز تک پہنچےمجھے اس نے نہیں دیکھانہ میں نے اس کو دیکھا ہےنہ اس نے مجھ کو دیکھا ہےمگر اپنی محبت میں عجب حسن توازن ہےوہ اکثر سوچتی ہوگیمیں کتنا اپنے دفتر میں ہوں کتنا گھر کی خلوت میںوہ مجھ کو مجھ پہ ہی تقسیم کر کے دیکھتی ہوگیمجھے محسوس ہوتا ہےکوئی دل چیرتی خوشبو مجھے آواز دیتی ہےمگر آواز کے پیچھے کوئی چہرہ نہیں ہوتاوہ مجھ کو دیکھ لیتی ہےمگر میری بصارت میں مہک چہرہ نہیں پاتیکہ خوشبو کس نے دیکھی ہےصدا کو کس نے پکڑا ہےمکانی دوریاں کیسی؟ زمانی قربتیں کیسی؟وہ میرا جسم ہے لیکن اسے میں نے نہیں دیکھا
وطن ڈھیر اک ان منجھے برتنوں کاجسے زندگی کے پسینوں میں ڈوبی ہوئی محنتیں در بہ در ڈھونڈھتی ہیںوطن وہ مسافر اندھیراجو اونچے پہاڑوں سے گرتی ہوئی ندیوں کے کناروں پہ شاداب شہروں میں رک کرکسی آہنی چھت سے اٹھتا دھواں بن گیا ہے
چاند سی رسوئی میںبرتنوں کے آئینےدکھ کو منہ چڑھاتے ہیں
تمہاری امی نے اپنی عزت کو مرتبانوں میں بند کر کےمکاں کی چھت سے لٹکتے چھینکے میں رکھ دیا تھاتمہاری امی نے بارہا تم سے یہ کہا تھا''اچار کچا ہے' تیل کی بو مٹی نہیں ہےابھی نہ یہ مرتبان کھولوہوا اگر برتنوں میں داخل ہوئی تو الیتمام پھانکوں کا ناس کر دے گی''تم مگر سوچ میں پڑی ہو''نہ جانے امی کو کیا ہوا ہےاچار کی پھانک ہی تو ہے نانہ کوئی ہیرا، نہ کوئی موتی، نہ کوئی سونے کی چیز مانگینہ کوئی کپڑا نہ کوئی لتا نہ کوئی ساڑی''تم اپنی معصوم اور پیاری سی انکھڑیوں میںہزار شکوے لئے یونہی سوچتی رہو گیمگر جو ایک ڈر تمہاری امی کی آنکھ میں آ کے بس گیا ہےاسے کہاں تم سمجھ سکو گیابھی تو تم بچپنے کی سرحد پھلانگنے ہی کی فکر میں ہوابھی تو تم مینڈھیاں بناتی ہو، چوٹیاں کس کے باندھتی ہوکبھی کبھی تم سڑک پہ جا کر جھگڑتے بچوں کو ڈانٹتی ہوتو تم کو چنی کا ہوش ہوتا ہےاور نہ آنکھوں میں ڈر کسی کااگر کبھی تم زبان کا ذائقہ بدلنے کا سوچ ہی لواگر کبھی تم اچار کا مرتبان نیچے اتار ہی لونظر بچا کر اچار باہر نکال ہی لوتو لمحہ بھر کے لئے ٹھہر کر یہ سوچ لیناتمہاری امی نے اپنی عزت کو مرتبانوں میں بند کر کےمکاں کی چھت سے لٹکتے چھینکے میں رکھ دیا تھا
حلوۂ بے دودھ کی تھالوں کا بحر بیکراںکشتیاں بہتی ہیں یا آ جا رہی ہیں مہریاںسالموں کے ساتھ ہیں ٹوٹے کھلونے کھانڈ کےمور کا سر شیر کا دھڑ پاؤں غائب سانڈ کےصحن میں کھیلیں بتاشے ابر سے برسے ہوئےبرتنوں کے پاس پتل رات کے پرسے ہوئے
جا رہی ہوں میںکر رہی ہوں تمہارا گھر تمہارے حوالےخالی ہو جائے گی ہر وو جگہجو میرے اشکوں سے بھری ہے ابھیلے جاؤں گی ہر اشک اپنے ساتھ سمیٹ کرکچھ گملوں کے پھول پہاوس سے چمک رہے ہوں گےکچھ سج دھج کے بیٹھے ہوں گے دہلیز پہزرد تھے جو کچھ جانے اڑ کے کہاں گرے ہوں گےکچھ مٹی کے اندر بیج بن کر گرے تھےاب وہ کیا بن کے اگے ہوں گےمیرے ہونٹوں سے لپٹے تھے جواب بھی ٹنگے ہوں گے وہاں تالے بن کرکچھ تمہارے کاندھے تک پہنچ پانے کیجد و جہد میں جوجھ رہے ہوں گےکچھ پوجا گھر کے دیئے کے ساتھ جل رہے ہوں گےکچھ کتابوں کے دھلے ہوئے شبدوں کیسیاہی سے جا ملے ہوں گےکچھ دھار بن کر میرے کانوں سے گزرے ہوں گےپیچھے سے بالوں میں جا چھپے ہوں گےکچھ تکیے کی نرم روئی نے چوس لئے ہوں گےرسوئی گھر کی بھاپ میں تو کچھبرتنوں میں سڑے پڑے ہوں گےکچھ معصوم سہمے ہوئے چھپ کے بیٹھے ہوں گےکچھ بے فکر حقیقت سے ٹہل رہے ہوں گےکچھ بوڑھے اشک نئے جنموں کو آسرا دے رہے ہوں گےکچھ تمہاری خدمت سے تھکےزمین پہ سو رہے ہوں گےتپن سے جنمے کچھ ڈھونڈھ رہے ہوں گے ٹھنڈک سیکچھ دیوار پہ لگی ہماری تصویر تک رہے ہوں گےباغی سے کچھ تمہیں چھوڑنے کی ضد پہ اڑے ہوں گےکچھ تیری ایک نظر کی پیاس لیےنظر انداز کھڑے ہوں گےکچھ ذہن میں ہوں گے میرے جو بہنا نہیں جانتےکچھ ہے ایسے جنہیں ٹھہرنا نہیں آتاانہیں پیا ہے جیا ہے میں نےقسطوں میں ملے تھے مجھےایک ساتھ کیسے لے جاؤں گیآنگن بہہ جائے گا تمہاراراستے بھی یہ بہا دیں گےپر میرے اپنے ہے یہ یقین ہے مجھےمیرے آخری مقام تک پہنچا دیں گے
لے جاؤ درختوں کو لے جاؤمیرے کس کام کے یہ درختلے جاؤمیں تو مر رہا ہوںمیرے ساتھ جانے والےکچھ ہی لوگ تو ہیںمیں نے بات کی ان راستوں سےکہ جو راستے نہیں تھےپھر میں ندی میں ڈوب گیامجھے نہیں معلوم تھا کہ مجھے اس طرحآری سے کاٹ دیا جائے گاکہ درختوں میں بھیمیرا شمار نہیں ہوگامیں نیند کے آخری حصہ میں کھڑا ہوںایک مزدوربیلچے سے میری تصویر بنا رہا ہےرات گزر رہی ہےکہ اس کے گزرنے سے پہلے بھیایک رات گزر چکی ہےمیں بھلا کس رات کا حساب دوںمجھے مارنے والوں میںمیرا لہو بھی شامل ہوگایہ مجھے معلوم نہیں تھامیں مر رہا ہوںکہ مجھے مارنے والی ذاتمیری ریڑھ کی ہڈی سےکلام کر چکی ہےاس نے مجھے بٹن ٹانکنے والی معمولی سوئی سے چھید کےجانکنی سے گزار دیا ہےمگر اس سے پہلےمجھ سے یہ بھی نہیں پوچھاکہ میں کسی جہان میںزندہ تھا بھی یا نہیںقدیم کانسی کے برتنوںمیرے نام پر بہائے ہوئےآنسوؤں کا ایک خزانہ تو محفوظ ہےاور اس خزانے ہی پر تو میں نے اصرار کیاکیونکہ میں جانتا ہوںکہ یہ دنیاکیول ایک چنتا گھر ہےاس میں ہزاروں سال سے رہنے والے کو بھیرہنے کے لیےایک پل بھی میسر نہیںکیونکہ اک اک پل کادام چکانا پڑتا ہےپہاڑ ایک ذرہ کے ہاتھوںبک جاتا ہےمیں مر رہا ہوںمگر اس سے پہلےمیں نے ایک التجا کی ہےکہ مجھے اک اک پل کادام چکا کے مرنے دیا جائےمیرے نام کےان گنت نام درج ہیںٹھیک ہےمیرے وہ تمام الفاظ ہی تواکارت گئے ناجو محض ایک جھوٹ کے ناملکھے گئےمگر اب کچھ جاننے کے لیےرہ کیا گیا ہےکہ اگر میرا سچ اتنا بڑا تھاتو اسے چھوٹا کرنے کے لیےسیاہی سے بھری دواتقلم دان سے پرےکیوں الٹ دی گئیمیں مر رہا ہوںمگر مجھے اک اک پل کادام چکا کے مرنے دیا جائےاور ایک درخت بھیبچ گیا ہےتو لے جاؤ اسے لے جاؤ
کیسا سنسان ہے دشت آوارگیہر طرف دھوپ ہے ہر طرف تشنگیکیسی بے جان ہے مے کدے کی فضاجسم کی سنسنی روح کی خستگیاس دوراہے پہ کھوئے گئے حوصلےاس اندھیرے میں گم ہو گئی زندگیاے غم آرزو میں بہت تھک گیامجھ کو دے دے وہی میری اپنی گلیچھوٹا موٹا مگر خوبصورت سا گھرگھر کے آنگن میں خوشبو سی پھیلی ہوئیمنہ دھلاتی سویرے کی پہلی کرنسائباں پر امر بیل مہکی ہوئیکھڑکیوں پر ہواؤں کی اٹکھیلیاںروزن در سے چھنتی ہوئی روشنیشام کو ہلکا ہلکا اٹھتا دھواںپاس چولھے کے بیٹھی ہوئی لکشمیاک انگیٹھی میں کوئلے دہکتے ہوئےبرتنوں کی سہانی مدھر راگنیرس بھرے گیت معصوم سے قہقہےرات کو چھت پہ چھٹکی ہوئی چاندنیصبح کو اپنے اسکول جاتے ہوئےمیرے ننھے کے چہرے پہ اک تازگیرشتے ناطے ملاقاتیں مہمانیاںدعوتیں جشن تیوہار شادی غمیجی میں ہے اپنی آزادیاں بیچ کرآج لے لوں یہ پابندیوں کی خوشی
تو نے کیوں اپنے گالوں پہ سرسوں ملیتو نے کیوں اپنی آنکھوں میں چونا بھراتیری گویائی کس دشت کے بھیڑیے لے گئےبولتا کیوں نہیںبولتا کیوں نہیں طفل معصوم تو کب سے بیمار ہےکیسا آزار ہے جس نے تیری شبوں سے تری نیند تیرے دنوں سےکھلونے چرائےتو سویا نہیں ہے مگر جاگتا کیوں نہیںدیکھتا کیوں نہیں تیرے بابا کے بالوں میں کھجلی ہے اور انگلیاں جھڑ چکی ہیںحساب شب و روز کرتے ہوئےتیری اماں کے رعشہ زدہ ہاتھ خوش حالیاں ڈھونڈتے ڈھونڈتےان دھلے برتنوں میں پڑے رہ گئےصبح تعبیر نے شاخ پر سبز ہونے کی حسرت لکھیآنکھ کو موتیا دے دیادیکھتا کیوں نہیں آج بازار میں جشن افلاس ہےشہر کی بھوک چوری ہوئیاور خبروں نے اخبار گم کر دیالوگ روتے رہےلوگ ہنستے رہےتیرے بستر پہ اشکوں کی چمپا کھلیاور تو چپ رہاتیرے ماتھے پہ مسکان کا عطر چھڑکا گیااور تو چپ رہامیری ہنڈیا جلیمیرا چولہا بجھامیری جھولی سے حرف دعا گر گیامیرے بچے تو لب کھولتا کیوں نہیںبولتا کیوں نہیں
یہ کچھوے کیالٹی پیٹھ ایسیتختی کی کشتی میںپیروں کے پتوار چلاتےہمک ہمک اندر آتےاور چقوں کے پاس پہنچ کرتام چینی برتنوں سےچپر چپر کھانے کھاتےاور دادی جان کے سائے سےسہج سہج باتیں کرتے جاتے تھےسولہ سال یہی معمول رہادل داری اور شکم پری کا یہی اصول رہا
کسی کے پاؤں کی آہٹ نہیںچوڑیوں اور برتنوں کی کھنکھناہٹ بھی نہیںسوئی دھاگے ایک دوجے سے بھرے بیٹھے ہوئے ہیںدھول میں لپٹی کتابیںمیز پر بکھری پڑی ہیںاور چولھالکڑیوں کی یاد میں گم سمایک کونے میں پڑا ہےاور اک انجانا سایہگھر کی چوکھٹ پر کھڑا ہےاک حسیں تصویر جو دیوار پر لٹکی ہوئی ہےدیکھ کر مجھ کو ملولچپکے چپکے رو رہی ہےاور کالی رات کا پر ہول سناٹاکھلکھلا کر ہنس رہا ہے
الماری میں پڑے برتنوں کے ساتھایک عطیہ دانجو صدقے کے سکوں سے بھرا پڑا ہےآج اس میں چند سکےاور ڈال دئے جائیں گےتاکہ بلائیں دور رہیںلیکن بلاؤں کو دور رکھنااتنا آسان کیسے ہےمعلوم نہیںکیا اندر کی بلاؤں سےچھٹکارا پانے کیکوئی ایسی آسان تدبیربھی موجود ہےشاید گوگل کرنا پڑےمگر میں آج عجلت میںیہ گرم جوس کا گلاس ہیحلق میں انڈیلوں گی اورگم شدہ انگوٹھی کوپھر سے ڈھونڈنے کیکوشش نہیں کروں گیکیونکہ وہ مجھےبے دھیانی میںشیشہ گھورتے ہوئےاسی شیلف پر پڑی ملے گیجہاں ایک پرانا ٹوتھ برشاور ٹوٹی ہوئیکنگھی رکھی ہے
چھوٹے چھوٹے قصبوں کےدکھ عجیب ہوتے ہیںسکھ عجیب ہوتے ہیںآنسوؤں کی بستی میںرسنے بسنے والوں کوکب کوئی غرض اس سےکاروبار ہستی میںنفع کیا خسارا کیاعمر کے خزانے میںبیش و کم کا یارا کیاان کا اپنا مسلک ہےان کی اپنی دنیا ہےان گھروں کی چوکھٹ پروقت بانگ دیتا ہےمنہ اندھیرے چکی میںخواب پیسے جاتے ہیںچاند سی رسوئی میںبرتنوں کے آئینےدکھ کو منہ چڑھاتے ہیںان گھروں کے آنگن میںدن شروع ہوتا ہےخواب کاتے جانے سےزندگی کی ڈوری میںسکھ پروئے جانے سےآنکھ کے کٹوروں میںغم سموئے جانے سےمہرباں مشقت کےبوجھ ڈھوئے جانے سےدن طلوع ہوتا ہےکیاریوں کی مٹی میںگیت جب نہاتے ہیںرنگ چہچہاتے ہیںساتھ کی منڈیروں پرخواب پر سکھاتے ہیںبچیاں خیالوں میںاپنے گھر بساتی ہیںموم کے گھروندوں میںزندگی کی ہنڈ کلیادھوپ سے پکاتی ہیںبے زبان گڑیوں سےجن کی آنکھ دھاگے کیجن کے ہونٹ ریشم کےاپنے دل کی سب باتیںبارہا بتاتی ہیںاور رموز جینے کےآپ سیکھ جاتی ہیںان گھروں کے آنگن میںدوپہر اترتی ہےایک ننھی سوئی کیآنکھ کے جھروکے سےاک کرن کے موکھے سےدھوپ کے حنائی ہاتھطشتری بڑھاتے ہیںچاہتوں کے میٹھے رنگذائقوں کے نادیدہلمس چھوڑ جاتے ہیںچوڑیاں کھنکتی ہیںہاتھ بات کرتے ہیںانگ انگ ہنستا ہےپور پور کے اندردل دھڑکنے لگتا ہےپور پور روتی ہےاوڑھنی بھگوتی ہےخواب وہ پڑوسی ہےجس کے اجلے کرتے کاروز اک بٹن ٹوٹےدل کہ وہ محلہ ہےجس کے بسنے والوں سےروز اک خوشی روٹھےجانے کتنے جسموں کوبے ریا محبت کیآگ چاٹ جاتی ہےجانے کتنے نو مولودخواب دفن ہوتے ہیںدل کے سرد خانے میںجانے کتنے رشتوں کودفن کر کے چپکے سےوقت کے گناہوں پرخاک ڈالی جاتی ہےان اداس گلیوں میںسردیوں کی راتوں میںدور پار سے آتےدل نواز گیتوں کےسانولے سلونے بولچاند کو رلاتے ہیںچاند بھولا بھالا ہےچاند کو یہ کیا معلومزندگی کی نوٹنکییونہی چلتی رہتی ہےمفلسی کی رقاصہتال پر زمانہ کیجانے کتنی صدیوں سےایک جیسے بولوں پررقص کرتی رہتی ہےصبح سے ذرا پہلےبے بسی کے بستر پروہ جو آ کے ڈھہتی ہےبستروں کے سب پیونداس کو گدگداتے ہیںبے سبب ہنساتے ہیںبے سبب رلاتے ہیںان گلی محلوں میںرات جب اترتی ہےمائیں اپنے بچوں کولوریاں سناتی ہیںاپنی سرد بانہوں کاپالنا ہلاتی ہیںخواب وہ دکھاتی ہیںافسری کے شاہی کےخواب کج کلاہی کےچاند اور گلاب ان کےمدرسے جو جاتے ہیںقمچیوں سے ہوتا ہےبچپنے کا استقبالپھول جیسے جسموں پربید جب برستی ہےدور تک چٹائی پراک قطار میں بیٹھےلفظ تھرتھراتے ہیںسب ورق کتابوں کےایسے پھڑپھڑاتے ہیںجیسے جان کھنچتی ہوان کی درس گاہوں میںقمچیاں معلم ہیںقمچیاں مدرس ہیںقمچیاں رٹاتی ہیںصبر اچھی عادت ہےصبر اور قناعت سےزندگی سنورتی ہےان گلی محلوں کاحسن کم سخن بھی ہےاور بھولا بھالا بھیہاں یہ کم سخن لڑکابھیگتی مسوں کے ساتھگھر سے جب نکلتا ہےعمر کی حدیں سارییوں پھلانگ جاتا ہےمفلسی ہوس پیشہپھول جیسے گالوں کارنگ چوس لیتی ہےبھولی بھالی باتوں سےرس نچوڑ لیتی ہےاور پھر زمانہ کےبیچ چھوڑ دیتی ہےپیٹ بے حیا دلالدر بہ در پھراتا ہےسو جتن سکھاتا ہےچھوٹے چھوٹے قصبوں میںگھر کے سامنے بیٹھیسیدھی سادی امیدیںراہ تکتی رہتی ہیںعمریں بیت جاتی ہےکچھ خبر نہیں ملتیڈاکیا جب آتا ہےچاہتوں کی پونجی میںاک رقم بڑھاتا ہےاور لوٹ جاتا ہےسیدھی سادی امیدیںگھر سے جانے والوں کوایک جیسے لفظوں کیبھیجتی ہیں سوغاتیںوقت بوڑھا منشی ہےجس کو خط کا سب مضمونلفظ لفظ ازبر ہےپھر بھی پوچھ لیتا ہےاور کیا لکھوں بولوپھر سے اب کے ساون میںسائباں ٹپکتا ہےتن کی اور اک دیوارڈھہ گئی ہے اب کے بارسیدھی سادی امیدیںروز و شب کی چوکھٹ پرعمر کاٹ دیتی ہیںجسم خاک ہو جائےجان راکھ ہو جائےپیٹ تو جہنم ہےیہ جوان رہتا ہےان کی آنکھ کا ساونچاہے کوئی موسم ہومہربان رہتا ہےچھوٹے چھوٹے قصبوں کےدکھ عجیب ہوتے ہیںسکھ عجیب ہوتے ہیں
ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعدپھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعدکب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہارخون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعدتھے بہت بے درد لمحے ختم درد عشق کےتھیں بہت بے مہر صبحیں مہرباں راتوں کے بعددل تو چاہا پر شکست دل نے مہلت ہی نہ دیکچھ گلے شکوے بھی کر لیتے مناجاتوں کے بعدان سے جو کہنے گئے تھے فیضؔ جاں صدقہ کیےان کہی ہی رہ گئی وہ بات سب باتوں کے بعد
ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلافگر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہیظالم کو جو نہ روکے وہ شامل ہے ظلم میںقاتل کو جو نہ ٹوکے وہ قاتل کے ساتھ ہےہم سر بکف اٹھے ہیں کہ حق فتح یاب ہوکہہ دو اسے جو لشکر باطل کے ساتھ ہےاس ڈھنگ پر ہے زور تو یہ ڈھنگ ہی سہیظالم کی کوئی ذات نہ مذہب نہ کوئی قومظالم کے لب پہ ذکر بھی ان کا گناہ ہےپھلتی نہیں ہے شاخ ستم اس زمین پرتاریخ جانتی ہے زمانہ گواہ ہےکچھ کور باطنوں کی نظر تنگ ہی سہییہ زر کی جنگ ہے نہ زمینوں کی جنگ ہےیہ جنگ ہے بقا کے اصولوں کے واسطےجو خون ہم نے نذر دیا ہے زمین کووہ خون ہے گلاب کے پھولوں کے واسطےپھوٹے گی صبح امن لہو رنگ ہی سہی
یہ کھیپ بھرے جو جاتا ہے یہ کھیپ میاں مت گن اپنیاب کوئی گھڑی پل ساعت میں یہ کھیپ بدن کی ہے کفنیکیا تھال کٹوری چاندی کی کیا پیتل کی ڈبیا ڈھکنیکیا برتن سونے چاندی کے کیا مٹی کی ہنڈیا چینیسب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا
یہ ملیں یہ جاگیریںکس کا خون پیتی ہیںبیرکوں میں یہ فوجیںکس کے بل پہ جیتی ہیںکس کی محنتوں کا پھلداشتائیں کھاتی ہیںجھونپڑوں سے رونے کیکیوں صدائیں آتی ہیںجب شباب پر آ کرکھیت لہلہاتا ہےکس کے نین روتے ہیںکون مسکراتا ہےکاش تم کبھی سمجھوکاش تم کبھی سمجھوکاش تم کبھی جانودس کروڑ انسانو!علم و فن کے رستے میںلاٹھیوں کی یہ باڑیںکالجوں کے لڑکوں پرگولیوں کی بوچھاڑیںیہ کرائے کے غنڈےیادگار شب دیکھوکس قدر بھیانک ہےظلم کا یہ ڈھب دیکھورقص آتش و آہندیکھتے ہی جاؤ گےدیکھتے ہی جاؤ گےہوش میں نہ آؤ گےہوش میں نہ آؤ گےاے خموش طوفانو!دس کروڑ انسانو!
نہیں منت کش تاب شنیدن داستاں میریخموشی گفتگو ہے بے زبانی ہے زباں میرییہ دستور زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میںیہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میریاٹھائے کچھ ورق لالے نے کچھ نرگس نے کچھ گل نےچمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میریاڑا لی قمریوں نے طوطیوں نے عندلیبوں نےچمن والوں نے مل کر لوٹ لی طرز فغاں میریٹپک اے شمع آنسو بن کے پروانے کی آنکھوں سےسراپا درد ہوں حسرت بھری ہے داستاں میریالٰہی پھر مزہ کیا ہے یہاں دنیا میں رہنے کاحیات جاوداں میری نہ مرگ ناگہاں میریمرا رونا نہیں رونا ہے یہ سارے گلستاں کاوہ گل ہوں میں خزاں ہر گل کی ہے گویا خزاں میریدریں حسرت سرا عمریست افسون جرس دارمز فیض دل طپیدن ہا خروش بے نفس دارمریاض دہر میں نا آشنائے بزم عشرت ہوںخوشی روتی ہے جس کو میں وہ محروم مسرت ہوںمری بگڑی ہوئی تقدیر کو روتی ہے گویائیمیں حرف زیر لب شرمندۂ گوش سماعت ہوںپریشاں ہوں میں مشت خاک لیکن کچھ نہیں کھلتاسکندر ہوں کہ آئینہ ہوں یا گرد کدورت ہوںیہ سب کچھ ہے مگر ہستی مری مقصد ہے قدرت کاسراپا نور ہو جس کی حقیقت میں وہ ظلمت ہوںخزینہ ہوں چھپایا مجھ کو مشت خاک صحرا نےکسی کو کیا خبر ہے میں کہاں ہوں کس کی دولت ہوںنظر میری نہیں ممنون سیر عرصۂ ہستیمیں وہ چھوٹی سی دنیا ہوں کہ آپ اپنی ولایت ہوںنہ صہبا ہوں نہ ساقی ہوں نہ مستی ہوں نہ پیمانہمیں اس مے خانۂ ہستی میں ہر شے کی حقیقت ہوںمجھے راز دو عالم دل کا آئینہ دکھاتا ہےوہی کہتا ہوں جو کچھ سامنے آنکھوں کے آتا ہےعطا ایسا بیاں مجھ کو ہوا رنگیں بیانوں میںکہ بام عرش کے طائر ہیں میرے ہم زبانوں میںاثر یہ بھی ہے اک میرے جنون فتنہ ساماں کامرا آئینۂ دل ہے قضا کے راز دانوں میںرلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوکہ عبرت خیز ہے تیرا فسانہ سب فسانوں میںدیا رونا مجھے ایسا کہ سب کچھ دے دیا گویالکھا کلک ازل نے مجھ کو تیرے نوحہ خوانوں میںنشان برگ گل تک بھی نہ چھوڑ اس باغ میں گلچیںتری قسمت سے رزم آرائیاں ہیں باغبانوں میںچھپا کر آستیں میں بجلیاں رکھی ہیں گردوں نےعنادل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آشیانوں میںسن اے غافل صدا میری یہ ایسی چیز ہے جس کووظیفہ جان کر پڑھتے ہیں طائر بوستانوں میںوطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہےتری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میںذرا دیکھ اس کو جو کچھ ہو رہا ہے ہونے والا ہےدھرا کیا ہے بھلا عہد کہن کی داستانوں میںیہ خاموشی کہاں تک لذت فریاد پیدا کرزمیں پر تو ہو اور تیری صدا ہو آسمانوں میںنہ سمجھوگے تو مٹ جاؤگے اے ہندوستاں والوتمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میںیہی آئین قدرت ہے یہی اسلوب فطرت ہےجو ہے راہ عمل میں گامزن محبوب فطرت ہےہویدا آج اپنے زخم پنہاں کر کے چھوڑوں گالہو رو رو کے محفل کو گلستاں کر کے چھوڑوں گاجلانا ہے مجھے ہر شمع دل کو سوز پنہاں سےتری تاریک راتوں میں چراغاں کر کے چھوڑوں گامگر غنچوں کی صورت ہوں دل درد آشنا پیداچمن میں مشت خاک اپنی پریشاں کر کے چھوڑوں گاپرونا ایک ہی تسبیح میں ان بکھرے دانوں کوجو مشکل ہے تو اس مشکل کو آساں کر کے چھوڑوں گامجھے اے ہم نشیں رہنے دے شغل سینہ کاوی میںکہ میں داغ محبت کو نمایاں کر کے چھوڑوں گادکھا دوں گا جہاں کو جو مری آنکھوں نے دیکھا ہےتجھے بھی صورت آئینہ حیراں کر کے چھوڑوں گاجو ہے پردوں میں پنہاں چشم بینا دیکھ لیتی ہےزمانے کی طبیعت کا تقاضا دیکھ لیتی ہےکیا رفعت کی لذت سے نہ دل کو آشنا تو نےگزاری عمر پستی میں مثال نقش پا تو نےرہا دل بستۂ محفل مگر اپنی نگاہوں کوکیا بیرون محفل سے نہ حیرت آشنا تو نےفدا کرتا رہا دل کو حسینوں کی اداؤں پرمگر دیکھی نہ اس آئینے میں اپنی ادا تو نےتعصب چھوڑ ناداں دہر کے آئینہ خانے میںیہ تصویریں ہیں تیری جن کو سمجھا ہے برا تو نےسراپا نالۂ بیدار سوز زندگی ہو جاسپند آسا گرہ میں باندھ رکھی ہے صدا تو نےصفائے دل کو کیا آرائش رنگ تعلق سےکف آئینہ پر باندھی ہے او ناداں حنا تو نےزمیں کیا آسماں بھی تیری کج بینی پہ روتا ہےغضب ہے سطر قرآں کو چلیپا کر دیا تو نےزباں سے گر کیا توحید کا دعویٰ تو کیا حاصلبنایا ہے بت پندار کو اپنا خدا تو نےکنویں میں تو نے یوسف کو جو دیکھا بھی تو کیا دیکھاارے غافل جو مطلق تھا مقید کر دیا تو نےہوس بالائے منبر ہے تجھے رنگیں بیانی کینصیحت بھی تری صورت ہے اک افسانہ خوانی کیدکھا وہ حسن عالم سوز اپنی چشم پر نم کوجو تڑپاتا ہے پروانے کو رلواتا ہے شبنم کوذرا نظارہ ہی اے بو الہوس مقصد نہیں اس کابنایا ہے کسی نے کچھ سمجھ کر چشم آدم کواگر دیکھا بھی اس نے سارے عالم کو تو کیا دیکھانظر آئی نہ کچھ اپنی حقیقت جام سے جم کوشجر ہے فرقہ آرائی تعصب ہے ثمر اس کایہ وہ پھل ہے کہ جنت سے نکلواتا ہے آدم کونہ اٹھا جذبۂ خورشید سے اک برگ گل تک بھییہ رفعت کی تمنا ہے کہ لے اڑتی ہے شبنم کوپھرا کرتے نہیں مجروح الفت فکر درماں میںیہ زخمی آپ کر لیتے ہیں پیدا اپنے مرہم کومحبت کے شرر سے دل سراپا نور ہوتا ہےذرا سے بیج سے پیدا ریاض طور ہوتا ہےدوا ہر دکھ کی ہے مجروح تیغ آرزو رہناعلاج زخم ہے آزاد احسان رفو رہناشراب بے خودی سے تا فلک پرواز ہے میریشکست رنگ سے سیکھا ہے میں نے بن کے بو رہناتھمے کیا دیدۂ گریاں وطن کی نوحہ خوانی میںعبادت چشم شاعر کی ہے ہر دم با وضو رہنابنائیں کیا سمجھ کر شاخ گل پر آشیاں اپناچمن میں آہ کیا رہنا جو ہو بے آبرو رہناجو تو سمجھے تو آزادی ہے پوشیدہ محبت میںغلامی ہے اسیر امتیاز ما و تو رہنایہ استغنا ہے پانی میں نگوں رکھتا ہے ساغر کوتجھے بھی چاہیئے مثل حباب آبجو رہنانہ رہ اپنوں سے بے پروا اسی میں خیر ہے تیریاگر منظور ہے دنیا میں او بیگانہ خو رہناشراب روح پرور ہے محبت نوع انساں کیسکھایا اس نے مجھ کو مست بے جام و سبو رہنامحبت ہی سے پائی ہے شفا بیمار قوموں نےکیا ہے اپنے بخت خفتہ کو بیدار قوموں نےبیابان محبت دشت غربت بھی وطن بھی ہےیہ ویرانہ قفس بھی آشیانہ بھی چمن بھی ہےمحبت ہی وہ منزل ہے کہ منزل بھی ہے صحرا بھیجرس بھی کارواں بھی راہبر بھی راہزن بھی ہےمرض کہتے ہیں سب اس کو یہ ہے لیکن مرض ایساچھپا جس میں علاج گردش چرخ کہن بھی ہےجلانا دل کا ہے گویا سراپا نور ہو جانایہ پروانہ جو سوزاں ہو تو شمع انجمن بھی ہےوہی اک حسن ہے لیکن نظر آتا ہے ہر شے میںیہ شیریں بھی ہے گویا بے ستوں بھی کوہ کن بھی ہےاجاڑا ہے تمیز ملت و آئیں نے قوموں کومرے اہل وطن کے دل میں کچھ فکر وطن بھی ہےسکوت آموز طول داستان درد ہے ورنہزباں بھی ہے ہمارے منہ میں اور تاب سخن بھی ہےنمیگردید کو تہ رشتۂ معنی رہا کردمحکایت بود بے پایاں بخاموشی ادا کردم
ادائیں لے کے آئی ہے وہ فطرت کے خزانوں سےجگا سکتی ہے محفل کو نظر کے تازیانوں سےوہ ملکہ ہے خراج اس نے لیے ہیں بوستانوں سےبس اک میں نے ہی اکثر کی ہیں نافرمانیاں اس کی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books