aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "bedaar"
کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوںفکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوںنالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوںہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوںجرأت آموز مری تاب سخن ہے مجھ کوشکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کوہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہمقصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہمساز خاموش ہیں فریاد سے معمور ہیں ہمنالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہماے خدا شکوۂ ارباب وفا بھی سن لےخوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لےتھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات قدیمپھول تھا زیب چمن پر نہ پریشاں تھی شمیمشرط انصاف ہے اے صاحب الطاف عمیمبوئے گل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیمہم کو جمعیت خاطر یہ پریشانی تھیورنہ امت ترے محبوب کی دیوانی تھیہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظرکہیں مسجود تھے پتھر کہیں معبود شجرخوگر پیکر محسوس تھی انساں کی نظرمانتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کو کیونکرتجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام تراقوت بازوئے مسلم نے کیا کام ترابس رہے تھے یہیں سلجوق بھی تورانی بھیاہل چیں چین میں ایران میں ساسانی بھیاسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھیاسی دنیا میں یہودی بھی تھے نصرانی بھیپر ترے نام پہ تلوار اٹھائی کس نےبات جو بگڑی ہوئی تھی وہ بنائی کس نےتھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میںخشکیوں میں کبھی لڑتے کبھی دریاؤں میںدیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میںکبھی ایفریقا کے تپتے ہوئے صحراؤں میںشان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کیکلمہ پڑھتے تھے ہمیں چھاؤں میں تلواروں کیہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مصیبت کے لیےاور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لیےتھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیےسر بکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لیےقوم اپنی جو زرو و مال جہاں پر مرتیبت فروشی کے عوض بت شکنی کیوں کرتیٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھےپاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھےتجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھےتیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھےنقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نےزیر خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نےتو ہی کہہ دے کہ اکھاڑا در خیبر کس نےشہر قیصر کا جو تھا اس کو کیا سر کس نےتوڑے مخلوق خدا وندوں کے پیکر کس نےکاٹ کر رکھ دئیے کفار کے لشکر کس نےکس نے ٹھنڈا کیا آتشکدۂ ایراں کوکس نے پھر زندہ کیا تذکرۂ یزداں کوکون سی قوم فقط تیری طلب گار ہوئیاور تیرے لیے زحمت کش پیکار ہوئیکس کی شمشیر جہانگیر جہاں دار ہوئیکس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئیکس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھےمنہ کے بل گر کے ہو اللہ احد کہتے تھےآ گیا عین لڑائی میں اگر وقت نمازقبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی ہوئی قوم حجازایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایازنہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نوازبندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئےتیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئےمحفل کون و مکاں میں سحر و شام پھرےمئے توحید کو لے کر صفت جام پھرےکوہ میں دشت میں لے کر ترا پیغام پھرےاور معلوم ہے تجھ کو کبھی ناکام پھرےدشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نےبحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا ہم نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نےتیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نےتیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نےپھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیںہم وفادار نہیں تو بھی تو دل دار نہیںامتیں اور بھی ہیں ان میں گنہ گار بھی ہیںعجز والے بھی ہیں مست مئے پندار بھی ہیںان میں کاہل بھی ہیں غافل بھی ہیں ہشیار بھی ہیںسیکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بے زار بھی ہیںرحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پربرق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پربت صنم خانوں میں کہتے ہیں مسلمان گئےہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئےمنزل دہر سے اونٹوں کے حدی خوان گئےاپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئےخندہ زن کفر ہے احساس تجھے ہے کہ نہیںاپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیںیہ شکایت نہیں ہیں ان کے خزانے معمورنہیں محفل میں جنہیں بات بھی کرنے کا شعورقہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حور و قصوراور بے چارے مسلماں کو فقط وعدۂ حوراب وہ الطاف نہیں ہم پہ عنایات نہیںبات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیںکیوں مسلمانوں میں ہے دولت دنیا نایابتیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ حسابتو جو چاہے تو اٹھے سینۂ صحرا سے حبابرہرو دشت ہو سیلی زدۂ موج سرابطعن اغیار ہے رسوائی ہے ناداری ہےکیا ترے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہےبنی اغیار کی اب چاہنے والی دنیارہ گئی اپنے لیے ایک خیالی دنیاہم تو رخصت ہوئے اوروں نے سنبھالی دنیاپھر نہ کہنا ہوئی توحید سے خالی دنیاہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں ترا نام رہےکہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے جام رہےتیری محفل بھی گئی چاہنے والے بھی گئےشب کی آہیں بھی گئیں صبح کے نالے بھی گئےدل تجھے دے بھی گئے اپنا صلہ لے بھی گئےآ کے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئےآئے عشاق گئے وعدۂ فردا لے کراب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کردرد لیلیٰ بھی وہی قیس کا پہلو بھی وہینجد کے دشت و جبل میں رم آہو بھی وہیعشق کا دل بھی وہی حسن کا جادو بھی وہیامت احمد مرسل بھی وہی تو بھی وہیپھر یہ آرزدگئ غیر سبب کیا معنیاپنے شیداؤں پہ یہ چشم غضب کیا معنیتجھ کو چھوڑا کہ رسول عربی کو چھوڑابت گری پیشہ کیا بت شکنی کو چھوڑاعشق کو عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑارسم سلمان و اویس قرنی کو چھوڑاآگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیںزندگی مثل بلال حبشی رکھتے ہیںعشق کی خیر وہ پہلی سی ادا بھی نہ سہیجادہ پیمائی تسلیم و رضا بھی نہ سہیمضطرب دل صفت قبلہ نما بھی نہ سہیاور پابندی آئین وفا بھی نہ سہیکبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہےبات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہرجائی ہےسر فاراں پہ کیا دین کو کامل تو نےاک اشارے میں ہزاروں کے لیے دل تو نےآتش اندوز کیا عشق کا حاصل تو نےپھونک دی گرمئ رخسار سے محفل تو نےآج کیوں سینے ہمارے شرر آباد نہیںہم وہی سوختہ ساماں ہیں تجھے یاد نہیںوادیٔ نجد میں وہ شور سلاسل نہ رہاقیس دیوانۂ نظارۂ محمل نہ رہاحوصلے وہ نہ رہے ہم نہ رہے دل نہ رہاگھر یہ اجڑا ہے کہ تو رونق محفل نہ رہااے خوشا آں روز کہ آئی و بصد ناز آئیبے حجابانہ سوئے محفل ما باز آئیبادہ کش غیر ہیں گلشن میں لب جو بیٹھےسنتے ہیں جام بکف نغمۂ کو کو بیٹھےدور ہنگامۂ گلزار سے یکسو بیٹھےتیرے دیوانے بھی ہیں منتظر ہو بیٹھےاپنے پروانوں کو پھر ذوق خود افروزی دےبرق دیرینہ کو فرمان جگر سوزی دےقوم آوارہ عناں تاب ہے پھر سوئے حجازلے اڑا بلبل بے پر کو مذاق پروازمضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بوئے نیازتو ذرا چھیڑ تو دے تشنۂ مضراب ہے سازنغمے بیتاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لیےطور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لیےمشکلیں امت مرحوم کی آساں کر دےمور بے مایہ کو ہمدوش سلیماں کر دےجنس نایاب محبت کو پھر ارزاں کر دےہند کے دیر نشینوں کو مسلماں کر دےجوئے خوں می چکد از حسرت دیرینۂ مامی تپد نالہ بہ نشتر کدۂ سینۂ مابوئے گل لے گئی بیرون چمن راز چمنکیا قیامت ہے کہ خود پھول ہیں غماز چمنعہد گل ختم ہوا ٹوٹ گیا ساز چمناڑ گئے ڈالیوں سے زمزمہ پرداز چمنایک بلبل ہے کہ ہے محو ترنم اب تکاس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب تکقمریاں شاخ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئیںپتیاں پھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیںوہ پرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیںڈالیاں پیرہن برگ سے عریاں بھی ہوئیںقید موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کیکاش گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کیلطف مرنے میں ہے باقی نہ مزہ جینے میںکچھ مزہ ہے تو یہی خون جگر پینے میںکتنے بیتاب ہیں جوہر مرے آئینے میںکس قدر جلوے تڑپتے ہیں مرے سینے میںاس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیںداغ جو سینے میں رکھتے ہوں وہ لالے ہی نہیںچاک اس بلبل تنہا کی نوا سے دل ہوںجاگنے والے اسی بانگ درا سے دل ہوںیعنی پھر زندہ نئے عہد وفا سے دل ہوںپھر اسی بادۂ دیرینہ کے پیاسے دل ہوںعجمی خم ہے تو کیا مے تو حجازی ہے مرینغمہ ہندی ہے تو کیا لے تو حجازی ہے مری
یوں ظلم نہ کر بیداد نہ کراے عشق ہمیں برباد نہ کر
1وہ صبح کبھی تو آئے گیان کالی صدیوں کے سر سے جب رات کا آنچل ڈھلکے گاجب دکھ کے بادل پگھلیں گے جب سکھ کا ساگر چھلکے گاجب امبر جھوم کے ناچے گا جب دھرتی نغمے گائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیجس صبح کی خاطر جگ جگ سے ہم سب مر مر کر جیتے ہیںجس صبح کے امرت کی دھن میں ہم زہر کے پیالے پیتے ہیںان بھوکی پیاسی روحوں پر اک دن تو کرم فرمائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیمانا کہ ابھی تیرے میرے ارمانوں کی قیمت کچھ بھی نہیںمٹی کا بھی ہے کچھ مول مگر انسانوں کی قیمت کچھ بھی نہیںانسانوں کی عزت جب جھوٹے سکوں میں نہ تولی جائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیدولت کے لیے جب عورت کی عصمت کو نہ بیچا جائے گاچاہت کو نہ کچلا جائے گا غیرت کو نہ بیچا جائے گااپنے کالے کرتوتوں پر جب یہ دنیا شرمائے گیوو صبح کبھی تو آئے گیبیتیں گے کبھی تو دن آخر یہ بھوک کے اور بیکاری کےٹوٹیں گے کبھی تو بت آخر دولت کی اجارہ داری کےجب ایک انوکھی دنیا کی بنیاد اٹھائی جائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیمجبور بڑھاپا جب سونی راہوں کی دھول نہ پھانکے گامعصوم لڑکپن جب گندی گلیوں میں بھیک نہ مانگے گاحق مانگنے والوں کو جس دن سولی نہ دکھائی جائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیفاقوں کی چتاؤں پر جس دن انساں نہ جلائے جائیں گےسینوں کے دہکتے دوزخ میں ارماں نہ جلائے جائیں گےیہ نرک سے بھی گندی دنیا جب سورگ بنائی جائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گی2وہ صبح ہمیں سے آئے گیجب دھرتی کروٹ بدلے گی جب قید سے قیدی چھوٹیں گےجب پاپ گھروندے پھوٹیں گے جب ظلم کے بندھن ٹوٹیں گےاس صبح کو ہم ہی لائیں گے وہ صبح ہمیں سے آئے گیوہ صبح ہمیں سے آئے گیمنحوس سماجی ڈھانچوں میں جب ظلم نہ پالے جائیں گےجب ہاتھ نہ کاٹے جائیں گے جب سر نہ اچھالے جائیں گےجیلوں کے بنا جب دنیا کی سرکار چلائی جائے گیوہ صبح ہمیں سے آئے گیسنسار کے سارے محنت کش کھیتوں سے ملوں سے نکلیں گےبے گھر بے در بے بس انساں تاریک بلوں سے نکلیں گےدنیا امن اور خوشحالی کے پھولوں سے سجائی جائے گیوہ صبح ہمیں سے آئے گی
ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھناپتھر کو گہر دیوار کو در کرگس کو ہما کیا لکھنااک حشر بپا ہے گھر میں دم گھٹتا ہے گنبد بے در میںاک شخص کے ہاتھوں مدت سے رسوا ہے وطن دنیا بھر میںاے دیدہ ورو اس ذلت کو قسمت کا لکھا کیا لکھناظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
ہوا خیمہ زن کاروان بہارارم بن گیا دامن کوہسارگل و نرگس و سوسن و نسترنشہید ازل لالہ خونیں کفنجہاں چھپ گیا پردۂ رنگ میںلہو کی ہے گردش رگ سنگ میںفضا نیلی نیلی ہوا میں سرورٹھہرتے نہیں آشیاں میں طیوروہ جوئے کہستاں اچکتی ہوئیاٹکتی لچکتی سرکتی ہوئیاچھلتی پھسلتی سنبھلتی ہوئیبڑے پیچ کھا کر نکلتی ہوئیرکے جب تو سل چیر دیتی ہے یہپہاڑوں کے دل چیر دیتی ہے یہذرا دیکھ اے ساقیٔ لالہ فامسناتی ہے یہ زندگی کا پیامپلا دے مجھے وہ مئے پردہ سوزکہ آتی نہیں فصل گل روز روزوہ مے جس سے روشن ضمیر حیاتوہ مے جس سے ہے مستی کائناتوہ مے جس میں ہے سوز و ساز ازلوہ مے جس سے کھلتا ہے راز ازلاٹھا ساقیا پردہ اس راز سےلڑا دے ممولے کو شہباز سےزمانے کے انداز بدلے گئےنیا راگ ہے ساز بدلے گئےہوا اس طرح فاش راز فرنگکہ حیرت میں ہے شیشہ باز فرنگپرانی سیاست گری خوار ہےزمیں میر و سلطاں سے بے زار ہےگیا دور سرمایہ داری گیاتماشا دکھا کر مداری گیاگراں خواب چینی سنبھلنے لگےہمالہ کے چشمے ابلنے لگےدل طور سینا و فاران دو نیمتجلی کا پھر منتظر ہے کلیممسلماں ہے توحید میں گرم جوشمگر دل ابھی تک ہے زنار پوشتمدن تصوف شریعت کلامبتان عجم کے پجاری تمامحقیقت خرافات میں کھو گئییہ امت روایات میں کھو گئیلبھاتا ہے دل کو کلام خطیبمگر لذت شوق سے بے نصیببیاں اس کا منطق سے سلجھا ہوالغت کے بکھیڑوں میں الجھا ہواوہ صوفی کہ تھا خدمت حق میں مردمحبت میں یکتا حمیت میں فردعجم کے خیالات میں کھو گیایہ سالک مقامات میں کھو گیابجھی عشق کی آگ اندھیر ہےمسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہےشراب کہن پھر پلا ساقیاوہی جام گردش میں لا ساقیامجھے عشق کے پر لگا کر اڑامری خاک جگنو بنا کر اڑاخرد کو غلامی سے آزاد کرجوانوں کو پیروں کا استاد کرہری شاخ ملت ترے نم سے ہےنفس اس بدن میں ترے دم سے ہےتڑپنے پھڑکنے کی توفیق دےدل مرتضی سوز صدیق دےجگر سے وہی تیر پھر پار کرتمنا کو سینوں میں بیدار کرترے آسمانوں کے تاروں کی خیرزمینوں کے شب زندہ داروں کی خیرجوانوں کو سوز جگر بخش دےمرا عشق میری نظر بخش دےمری ناؤ گرداب سے پار کریہ ثابت ہے تو اس کو سیار کربتا مجھ کو اسرار مرگ و حیاتکہ تیری نگاہوں میں ہے کائناتمرے دیدۂ تر کی بے خوابیاںمرے دل کی پوشیدہ بیتابیاںمرے نالۂ نیم شب کا نیازمری خلوت و انجمن کا گدازامنگیں مری آرزوئیں مریامیدیں مری جستجوئیں مریمری فطرت آئینۂ روزگارغزالان افکار کا مرغزارمرا دل مری رزم گاہ حیاتگمانوں کے لشکر یقیں کا ثباتیہی کچھ ہے ساقی متاع فقیراسی سے فقیری میں ہوں میں امیرمرے قافلے میں لٹا دے اسےلٹا دے ٹھکانے لگا دے اسےدما دم رواں ہے یم زندگیہر اک شے سے پیدا رم زندگیاسی سے ہوئی ہے بدن کی نمودکہ شعلے میں پوشیدہ ہے موج دودگراں گرچہ ہے صحبت آب و گلخوش آئی اسے محنت آب و گلیہ ثابت بھی ہے اور سیار بھیعناصر کے پھندوں سے بے زار بھییہ وحدت ہے کثرت میں ہر دم اسیرمگر ہر کہیں بے چگوں بے نظیریہ عالم یہ بت خانۂ شش جہاتاسی نے تراشا ہے یہ سومناتپسند اس کو تکرار کی خو نہیںکہ تو میں نہیں اور میں تو نہیںمن و تو سے ہے انجمن آفریںمگر عین محفل میں خلوت نشیںچمک اس کی بجلی میں تارے میں ہےیہ چاندی میں سونے میں پارے میں ہےاسی کے بیاباں اسی کے ببولاسی کے ہیں کانٹے اسی کے ہیں پھولکہیں اس کی طاقت سے کہسار چورکہیں اس کے پھندے میں جبریل و حورکہیں جزہ ہے شاہین سیماب رنگلہو سے چکوروں کے آلودہ چنگکبوتر کہیں آشیانے سے دورپھڑکتا ہوا جال میں ناصبورفریب نظر ہے سکون و ثباتتڑپتا ہے ہر ذرۂ کائناتٹھہرتا نہیں کاروان وجودکہ ہر لحظ ہے تازہ شان وجودسمجھتا ہے تو راز ہے زندگیفقط ذوق پرواز ہے زندگیبہت اس نے دیکھے ہیں پست و بلندسفر اس کو منزل سے بڑھ کر پسندسفر زندگی کے لیے برگ و سازسفر ہے حقیقت حضر ہے مجازالجھ کر سلجھنے میں لذت اسےتڑپنے پھڑکنے میں راحت اسےہوا جب اسے سامنا موت کاکٹھن تھا بڑا تھامنا موت کااتر کر جہان مکافات میںرہی زندگی موت کی گھات میںمذاق دوئی سے بنی زوج زوجاٹھی دشت و کوہسار سے فوج فوجگل اس شاخ سے ٹوٹتے بھی رہےاسی شاخ سے پھوٹتے بھی رہےسمجھتے ہیں ناداں اسے بے ثباتابھرتا ہے مٹ مٹ کے نقش حیاتبڑی تیز جولاں بڑی زود رسازل سے ابد تک رم یک نفسزمانہ کہ زنجیر ایام ہےدموں کے الٹ پھیر کا نام ہےیہ موج نفس کیا ہے تلوار ہےخودی کیا ہے تلوار کی دھار ہےخودی کیا ہے راز درون حیاتخودی کیا ہے بیداری کائناتخودی جلوہ بدمست و خلوت پسندسمندر ہے اک بوند پانی میں بنداندھیرے اجالے میں ہے تابناکمن و تو میں پیدا من و تو سے پاکازل اس کے پیچھے ابد سامنےنہ حد اس کے پیچھے نہ حد سامنےزمانے کے دریا میں بہتی ہوئیستم اس کی موجوں کے سہتی ہوئیتجسس کی راہیں بدلتی ہوئیدما دم نگاہیں بدلتی ہوئیسبک اس کے ہاتھوں میں سنگ گراںپہاڑ اس کی ضربوں سے ریگ رواںسفر اس کا انجام و آغاز ہےیہی اس کی تقویم کا راز ہےکرن چاند میں ہے شرر سنگ میںیہ بے رنگ ہے ڈوب کر رنگ میںاسے واسطہ کیا کم و بیش سےنشیب و فراز و پس و پیش سےازل سے ہے یہ کشمکش میں اسیرہوئی خاک آدم میں صورت پذیرخودی کا نشیمن ترے دل میں ہےفلک جس طرح آنکھ کے تل میں ہےخودی کے نگہباں کو ہے زہر نابوہ ناں جس سے جاتی رہے اس کی آبوہی ناں ہے اس کے لیے ارجمندرہے جس سے دنیا میں گردن بلندخودی فال محمود سے درگزرخودی پر نگہ رکھ ایازی نہ کروہی سجدہ ہے لائق اہتمامکہ ہو جس سے ہر سجدہ تجھ پر حرامیہ عالم یہ ہنگامۂ رنگ و صوتیہ عالم کہ ہے زیر فرمان موتیہ عالم یہ بتخانۂ چشم و گوشجہاں زندگی ہے فقط خورد و نوشخودی کی یہ ہے منزل اولیںمسافر یہ تیرا نشیمن نہیںتری آگ اس خاک داں سے نہیںجہاں تجھ سے ہے تو جہاں سے نہیںبڑھے جا یہ کوہ گراں توڑ کرطلسم زمان و مکاں توڑ کرخودی شیر مولا جہاں اس کا صیدزمیں اس کی صید آسماں اس کا صیدجہاں اور بھی ہیں ابھی بے نمودکہ خالی نہیں ہے ضمیر وجودہر اک منتظر تیری یلغار کاتری شوخئی فکر و کردار کایہ ہے مقصد گردش روزگارکہ تیری خودی تجھ پہ ہو آشکارتو ہے فاتح عالم خوب و زشتتجھے کیا بتاؤں تری سر نوشتحقیقت پہ ہے جامۂ حرف تنگحقیقت ہے آئینہ گفتار زنگفروزاں ہے سینے میں شمع نفسمگر تاب گفتار رکھتی ہے بساگر یک سر موئے برتر پرمفروغ تجلی بسوزد پرم
ترے صوفے ہیں افرنگی ترے قالیں ہیں ایرانیلہو مجھ کو رلاتی ہے جوانوں کی تن آسانیامارت کیا شکوہ خسروی بھی ہو تو کیا حاصلنہ زور حیدری تجھ میں نہ استغنائے سلمانینہ ڈھونڈ اس چیز کو تہذیب حاضر کی تجلی میںکہ پایا میں نے استغنا میں معراج مسلمانیعقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میںنظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میںنہ ہو نومید نومیدی زوال علم و عرفاں ہےامید مرد مومن ہے خدا کے راز دانوں میںنہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پرتو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
(اندلس کے میدان جنگ میں)یہ غازی یہ تیرے پر اسرار بندےجنہیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائیدو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریاسمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائیدو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کوعجب چیز ہے لذت آشنائیشہادت ہے مطلوب و مقصود مومننہ مال غنیمت نہ کشور کشائیخیاباں میں ہے منتظر لالہ کب سےقبا چاہیئے اس کو خون عرب سےکیا تو نے صحرا نشینوں کو یکتاخبر میں نظر میں اذان سحر میںطلب جس کی صدیوں سے تھی زندگی کووہ سوز اس نے پایا انہیں کے جگر میںکشاد در دل سمجھتے ہیں اس کوہلاکت نہیں موت ان کی نظر میںدل مرد مومن میں پھر زندہ کر دےوہ بجلی کہ تھی نعرۂ لا تذر میںعزائم کو سینوں میں بیدار کر دےنگاہ مسلماں کو تلوار کر دے
آ بتاؤں تجھ کو رمز آيۂ ان الملوکسلطنت اقوام غالب کی ہے اک جادوگریخواب سے بے دار ہوتا ہے ذرا محکوم اگرپھر سلا دیتی ہے اس کو حکمراں کی ساحریجادوئے محمود کی تاثیر سے چشم ايازدیکھتی ہے حلقۂ گردن میں ساز دل بریخون اسرائيل آ جاتا ہے آخر جوش میںتوڑ دیتا ہے کوئی موسیٰ طلسم سامریسروری زیبا فقط اس ذات بے ہمتا کو ہےحکمراں ہے اک وہی باقی بتان آذریاز غلامی فطرت آزاد را رسوا مکنتا تراشی خواجۂ از برہمن کافر تریہے وہی ساز کہن مغرب کا جمہوری نظامجس کے پردوں میں نہیں غير از نوائے قيصريدیو استبداد جمہوری قبا میں پائے کوبتو سمجھتا ہے یہ آزادی کی ہے نیلم پریمجلس آئين و اصلاح و رعايات و حقوقطب مغرب میں مزے میٹھے اثر خواب آوریگرمئ گفتار اعضائے مجالس الاماںیہ بھی اک سرمایہ داروں کی ہے جنگ زرگریاس سراب رنگ و بو کو گلستاں سمجھا ہے توآہ اے ناداں قفس کو آشیاں سمجھا ہے توسرمایہ و محنت
نہیں منت کش تاب شنیدن داستاں میریخموشی گفتگو ہے بے زبانی ہے زباں میرییہ دستور زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میںیہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میریاٹھائے کچھ ورق لالے نے کچھ نرگس نے کچھ گل نےچمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میریاڑا لی قمریوں نے طوطیوں نے عندلیبوں نےچمن والوں نے مل کر لوٹ لی طرز فغاں میریٹپک اے شمع آنسو بن کے پروانے کی آنکھوں سےسراپا درد ہوں حسرت بھری ہے داستاں میریالٰہی پھر مزہ کیا ہے یہاں دنیا میں رہنے کاحیات جاوداں میری نہ مرگ ناگہاں میریمرا رونا نہیں رونا ہے یہ سارے گلستاں کاوہ گل ہوں میں خزاں ہر گل کی ہے گویا خزاں میریدریں حسرت سرا عمریست افسون جرس دارمز فیض دل طپیدن ہا خروش بے نفس دارمریاض دہر میں نا آشنائے بزم عشرت ہوںخوشی روتی ہے جس کو میں وہ محروم مسرت ہوںمری بگڑی ہوئی تقدیر کو روتی ہے گویائیمیں حرف زیر لب شرمندۂ گوش سماعت ہوںپریشاں ہوں میں مشت خاک لیکن کچھ نہیں کھلتاسکندر ہوں کہ آئینہ ہوں یا گرد کدورت ہوںیہ سب کچھ ہے مگر ہستی مری مقصد ہے قدرت کاسراپا نور ہو جس کی حقیقت میں وہ ظلمت ہوںخزینہ ہوں چھپایا مجھ کو مشت خاک صحرا نےکسی کو کیا خبر ہے میں کہاں ہوں کس کی دولت ہوںنظر میری نہیں ممنون سیر عرصۂ ہستیمیں وہ چھوٹی سی دنیا ہوں کہ آپ اپنی ولایت ہوںنہ صہبا ہوں نہ ساقی ہوں نہ مستی ہوں نہ پیمانہمیں اس مے خانۂ ہستی میں ہر شے کی حقیقت ہوںمجھے راز دو عالم دل کا آئینہ دکھاتا ہےوہی کہتا ہوں جو کچھ سامنے آنکھوں کے آتا ہےعطا ایسا بیاں مجھ کو ہوا رنگیں بیانوں میںکہ بام عرش کے طائر ہیں میرے ہم زبانوں میںاثر یہ بھی ہے اک میرے جنون فتنہ ساماں کامرا آئینۂ دل ہے قضا کے راز دانوں میںرلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوکہ عبرت خیز ہے تیرا فسانہ سب فسانوں میںدیا رونا مجھے ایسا کہ سب کچھ دے دیا گویالکھا کلک ازل نے مجھ کو تیرے نوحہ خوانوں میںنشان برگ گل تک بھی نہ چھوڑ اس باغ میں گلچیںتری قسمت سے رزم آرائیاں ہیں باغبانوں میںچھپا کر آستیں میں بجلیاں رکھی ہیں گردوں نےعنادل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آشیانوں میںسن اے غافل صدا میری یہ ایسی چیز ہے جس کووظیفہ جان کر پڑھتے ہیں طائر بوستانوں میںوطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہےتری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میںذرا دیکھ اس کو جو کچھ ہو رہا ہے ہونے والا ہےدھرا کیا ہے بھلا عہد کہن کی داستانوں میںیہ خاموشی کہاں تک لذت فریاد پیدا کرزمیں پر تو ہو اور تیری صدا ہو آسمانوں میںنہ سمجھوگے تو مٹ جاؤگے اے ہندوستاں والوتمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میںیہی آئین قدرت ہے یہی اسلوب فطرت ہےجو ہے راہ عمل میں گامزن محبوب فطرت ہےہویدا آج اپنے زخم پنہاں کر کے چھوڑوں گالہو رو رو کے محفل کو گلستاں کر کے چھوڑوں گاجلانا ہے مجھے ہر شمع دل کو سوز پنہاں سےتری تاریک راتوں میں چراغاں کر کے چھوڑوں گامگر غنچوں کی صورت ہوں دل درد آشنا پیداچمن میں مشت خاک اپنی پریشاں کر کے چھوڑوں گاپرونا ایک ہی تسبیح میں ان بکھرے دانوں کوجو مشکل ہے تو اس مشکل کو آساں کر کے چھوڑوں گامجھے اے ہم نشیں رہنے دے شغل سینہ کاوی میںکہ میں داغ محبت کو نمایاں کر کے چھوڑوں گادکھا دوں گا جہاں کو جو مری آنکھوں نے دیکھا ہےتجھے بھی صورت آئینہ حیراں کر کے چھوڑوں گاجو ہے پردوں میں پنہاں چشم بینا دیکھ لیتی ہےزمانے کی طبیعت کا تقاضا دیکھ لیتی ہےکیا رفعت کی لذت سے نہ دل کو آشنا تو نےگزاری عمر پستی میں مثال نقش پا تو نےرہا دل بستۂ محفل مگر اپنی نگاہوں کوکیا بیرون محفل سے نہ حیرت آشنا تو نےفدا کرتا رہا دل کو حسینوں کی اداؤں پرمگر دیکھی نہ اس آئینے میں اپنی ادا تو نےتعصب چھوڑ ناداں دہر کے آئینہ خانے میںیہ تصویریں ہیں تیری جن کو سمجھا ہے برا تو نےسراپا نالۂ بیدار سوز زندگی ہو جاسپند آسا گرہ میں باندھ رکھی ہے صدا تو نےصفائے دل کو کیا آرائش رنگ تعلق سےکف آئینہ پر باندھی ہے او ناداں حنا تو نےزمیں کیا آسماں بھی تیری کج بینی پہ روتا ہےغضب ہے سطر قرآں کو چلیپا کر دیا تو نےزباں سے گر کیا توحید کا دعویٰ تو کیا حاصلبنایا ہے بت پندار کو اپنا خدا تو نےکنویں میں تو نے یوسف کو جو دیکھا بھی تو کیا دیکھاارے غافل جو مطلق تھا مقید کر دیا تو نےہوس بالائے منبر ہے تجھے رنگیں بیانی کینصیحت بھی تری صورت ہے اک افسانہ خوانی کیدکھا وہ حسن عالم سوز اپنی چشم پر نم کوجو تڑپاتا ہے پروانے کو رلواتا ہے شبنم کوذرا نظارہ ہی اے بو الہوس مقصد نہیں اس کابنایا ہے کسی نے کچھ سمجھ کر چشم آدم کواگر دیکھا بھی اس نے سارے عالم کو تو کیا دیکھانظر آئی نہ کچھ اپنی حقیقت جام سے جم کوشجر ہے فرقہ آرائی تعصب ہے ثمر اس کایہ وہ پھل ہے کہ جنت سے نکلواتا ہے آدم کونہ اٹھا جذبۂ خورشید سے اک برگ گل تک بھییہ رفعت کی تمنا ہے کہ لے اڑتی ہے شبنم کوپھرا کرتے نہیں مجروح الفت فکر درماں میںیہ زخمی آپ کر لیتے ہیں پیدا اپنے مرہم کومحبت کے شرر سے دل سراپا نور ہوتا ہےذرا سے بیج سے پیدا ریاض طور ہوتا ہےدوا ہر دکھ کی ہے مجروح تیغ آرزو رہناعلاج زخم ہے آزاد احسان رفو رہناشراب بے خودی سے تا فلک پرواز ہے میریشکست رنگ سے سیکھا ہے میں نے بن کے بو رہناتھمے کیا دیدۂ گریاں وطن کی نوحہ خوانی میںعبادت چشم شاعر کی ہے ہر دم با وضو رہنابنائیں کیا سمجھ کر شاخ گل پر آشیاں اپناچمن میں آہ کیا رہنا جو ہو بے آبرو رہناجو تو سمجھے تو آزادی ہے پوشیدہ محبت میںغلامی ہے اسیر امتیاز ما و تو رہنایہ استغنا ہے پانی میں نگوں رکھتا ہے ساغر کوتجھے بھی چاہیئے مثل حباب آبجو رہنانہ رہ اپنوں سے بے پروا اسی میں خیر ہے تیریاگر منظور ہے دنیا میں او بیگانہ خو رہناشراب روح پرور ہے محبت نوع انساں کیسکھایا اس نے مجھ کو مست بے جام و سبو رہنامحبت ہی سے پائی ہے شفا بیمار قوموں نےکیا ہے اپنے بخت خفتہ کو بیدار قوموں نےبیابان محبت دشت غربت بھی وطن بھی ہےیہ ویرانہ قفس بھی آشیانہ بھی چمن بھی ہےمحبت ہی وہ منزل ہے کہ منزل بھی ہے صحرا بھیجرس بھی کارواں بھی راہبر بھی راہزن بھی ہےمرض کہتے ہیں سب اس کو یہ ہے لیکن مرض ایساچھپا جس میں علاج گردش چرخ کہن بھی ہےجلانا دل کا ہے گویا سراپا نور ہو جانایہ پروانہ جو سوزاں ہو تو شمع انجمن بھی ہےوہی اک حسن ہے لیکن نظر آتا ہے ہر شے میںیہ شیریں بھی ہے گویا بے ستوں بھی کوہ کن بھی ہےاجاڑا ہے تمیز ملت و آئیں نے قوموں کومرے اہل وطن کے دل میں کچھ فکر وطن بھی ہےسکوت آموز طول داستان درد ہے ورنہزباں بھی ہے ہمارے منہ میں اور تاب سخن بھی ہےنمیگردید کو تہ رشتۂ معنی رہا کردمحکایت بود بے پایاں بخاموشی ادا کردم
تم روٹھ چکے دل ٹوٹ چکا اب یاد نہ آؤ رہنے دواس محفل غم میں آنے کی زحمت نہ اٹھاؤ رہنے دویہ سچ کہ سہانے ماضی کے لمحوں کو بھلانا کھیل نہیںیہ سچ کہ بھڑکتے شعلوں سے دامن کو بچانا کھیل نہیںرستے ہوئے دل کے زخموں کو دنیا سے چھپانا کھیل نہیںاوراق نظر سے جلووں کی تحریر مٹانا کھیل نہیںلیکن یہ محبت کے نغمے اس وقت نہ گاؤ رہنے دوجو آگ دبی ہے سینے میں ہونٹوں پہ نہ لاؤ رہنے دوجاری ہیں وطن کی راہوں میں ہر سمت لہو کے فوارےدکھ درد کی چوٹیں کھا کھا کر لرزاں ہیں دلوں کے گہوارےانگشت بہ لب ہیں شمس و قمر حیران و پریشاں ہیں تارےہیں باد سحر کے جھونکے بھی طوفان مسلسل کے دھارےاب فرصت ناؤ نوش کہاں اب یاد نہ آؤ رہنے دوطوفان میں رہنے والوں کو غافل نہ بناؤ رہنے دومانا کہ محبت کی خاطر ہم تم نے قسم بھی کھائی تھییہ امن و سکوں سے دور فضا پیغام سکوں بھی لائی تھیوہ دور بھی تھا جب دنیا کی ہر شے پہ جوانی چھائی تھیخوابوں کی نشیلی بد مستی معصوم دلوں پر چھائی تھیلیکن وہ زمانہ دور گیا اب یاد نہ آؤ رہنے دوجس راہ پہ جانا لازم ہے اس سے نہ ہٹاؤ رہنے دواب وقت نہیں ان نغموں کا جو خوابوں کو بیدار کریںاب وقت ہے ایسے نعروں کا جو سوتوں کو ہشیار کریںدنیا کو ضرورت ہے ان کی جو تلواروں کو پیار کریںجو قوم و وطن کے قدموں پر قربانی دیں ایثار کریںروداد محبت پھر کہنا اب مان بھی جاؤ رہنے دوجادو نہ جگاؤ رہنے دو فتنے نہ اٹھاؤ رہنے دومیں زہر حقیقت کی تلخی خوابوں میں چھپاؤں گا کب تکغربت کے دہکتے شعلوں سے دامن کو بچاؤں گا کب تکآشوب جہاں کی دیوی سے یوں آنکھ چراؤں گا کب تکجس فرض کو پورا کرنا ہے وہ فرض بھلاؤں گا کب تکاب تاب نہیں نظارے کی جلوے نہ دکھاؤ رہنے دوخورشید محبت کے رخ سے پردے نہ اٹھاؤ رہنے دوممکن ہے زمانہ رخ بدلے یہ دور ہلاکت مٹ جائےیہ ظلم کی دنیا کروٹ لے یہ عہد ضلالت مٹ جائےدولت کے فریبی بندوں کا یہ کبر اور نخوت مٹ جائےبرباد وطن کے محلوں سے غیروں کی حکومت مٹ جائےاس وقت بہ نام عہد وفا میں خود بھی تمہیں یاد آؤں گامنہ موڑ کے ساری دنیا سے الفت کا سبق دہراؤں گا
اور کچھ دیر ٹھہر جاؤ کہ پھر نشتر صبحزخم کی طرح ہر اک آنکھ کو بیدار کرےاور ہر کشتۂ واماندگئ آخرِ شببھول کر ساعت درماندگئ آخر شبجان پہچان ملاقات پہ اصرار کرے
ہوں جو الفاظ کے ہاتھوں میں ہیں سنگ دشنامطنز چھلکائے تو چھلکایا کرے زہر کے جامتیکھی نظریں ہوں ترش ابروئے خم دار رہیںبن پڑے جیسے بھی دل سینوں میں بیدار رہیںبے بسی حرف کو زنجیر بہ پا کر نہ سکےکوئی قاتل ہو مگر قتل نوا کر نہ سکے
خوب پہچان لو اسرار ہوں میںجنس الفت کا طلب گار ہوں میںعشق ہی عشق ہے دنیا میریفتنۂ عقل سے بیزار ہوں میںخواب عشرت میں ہیں ارباب خرداور اک شاعر بیدار ہوں میںچھیڑتی ہے جسے مضراب المساز فطرت کا وہی تار ہوں میںرنگ نظارۂ قدرت مجھ سےجان رنگینئ کہسار ہوں میںنشۂ نرگس خوباں مجھ سےغازۂ عارض و رخسار ہوں میںعیب جو حافظ و خیام میں تھاہاں کچھ اس کا بھی گنہ گار ہوں میںزندگی کیا ہے گناہ آدمزندگی ہے تو گنہ گار ہوں میںرشک صد ہوش ہے مستی میریایسی مستی ہے کہ ہشیار ہوں میںلے کے نکلا ہوں گہر ہائے سخنماہ و انجم کا خریدار ہوں میںدیر و کعبہ میں مرے ہی چرچےاور رسوا سر بازار ہوں میںکفر و الحاد سے نفرت ہے مجھےاور مذہب سے بھی بیزار ہوں میںاہل دنیا کے لیے ننگ سہیرونق انجمن یار ہوں میںعین اس بے سر و سامانی میںکیا یہ کم ہے کہ گہر بار ہوں میںمیری باتوں میں مسیحائی ہےلوگ کہتے ہیں کہ بیمار ہوں میںمجھ سے برہم ہے مزاج پیریمجرم شوخئ گفتار ہوں میںحور و غلماں کا یہاں ذکر نہیںنوع انساں کا پرستار ہوں میںمحفل دہر پہ طاری ہے جموداور وارفتۂ رفتار ہوں میںاک لپکتا ہوا شعلہ ہوں میںایک چلتی ہوئی تلوار ہوں میں
اے سپہر بریں کے سیارواے فضائے زمیں کے گل زارواے پہاڑوں کی دل فریب فضااے لب جو کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوااے عنادل کے نغمۂ سحریاے شب ماہتاب تاروں بھریاے نسیم بہار کے جھونکودہر ناپائیدار کے دھوکوتم ہر اک حال میں ہو یوں تو عزیزتھے وطن میں مگر کچھ اور ہی چیزجب وطن میں ہمارا تھا رمناتم سے دل باغ باغ تھا اپناتم مری دل لگی کے ساماں تھےتم مرے درد دل کے درماں تھےتم سے کٹتا تھا رنج تنہائیتم سے پاتا تھا دل شکیبائیآن اک اک تمہاری بھاتی تھیجو ادا تھی وہ جی لبھاتی تھیکرتے تھے جب تم اپنی غم خواریدھوئی جاتی تھیں کلفتیں ساریجب ہوا کھانے باغ جاتے تھےہو کے خوش حال گھر میں آتے تھےبیٹھ جاتے تھے جب کبھی لب آبدھو کے اٹھتے تھے دل کے داغ شتابکوہ و صحرا و آسمان و زمیںسب مری دل لگی کی شکلیں تھیںپر چھٹا جس سے اپنا ملک و دیارجی ہوا تم سے خود بہ خود بیزارنہ گلوں کی ادا خوش آتی ہےنہ صدا بلبلوں کی بھاتی ہےسیر گلشن ہے جی کا اک جنجالشب مہتاب جان کو ہے وبالکوہ و صحرا سے تا لب دریاجس طرف جائیں جی نہیں لگتاکیا ہوئے وہ دن اور وہ راتیںتم میں اگلی سی اب نہیں باتیںہم ہی غربت میں ہو گئے کچھ اوریا تمہارے بدل گئے کچھ طورگو وہی ہم ہیں اور وہی دنیاپر نہیں ہم کو لطف دنیا کااے وطن اے مرے بہشت بریںکیا ہوئے تیرے آسمان و زمیںرات اور دن کا وہ سماں نہ رہاوہ زمیں اور وہ آسماں نہ رہاتیری دوری ہے مورد آلامتیرے چھٹنے سے چھٹ گیا آرامکاٹے کھاتا ہے باغ بن تیرےگل ہیں نظروں میں داغ بن تیرےمٹ گیا نقش کامرانی کاتجھ سے تھا لطف زندگانی کاجو کہ رہتے ہیں تجھ سے دور سداان کو کیا ہوگا زندگی کا مزاہو گیا یاں تو دو ہی دن میں یہ حالتجھ بن ایک ایک پل ہے اک اک سالسچ بتا تو سبھی کو بھاتا ہےیا کہ مجھ سے ہی تیرا ناتا ہےمیں ہی کرتا ہوں تجھ پہ جان نثاریا کہ دنیا ہے تیری عاشق زارکیا زمانے کو تو عزیز نہیںاے وطن تو تو ایسی چیز نہیںجن و انسان کی حیات ہے تومرغ و ماہی کی کائنات ہے توہے نباتات کا نمو تجھ سےروکھ تجھ بن ہرے نہیں ہوتےسب کو ہوتا ہے تجھ سے نشو و نماسب کو بھاتی ہے تیری آب و ہواتیری اک مشت خاک کے بدلےلوں نہ ہرگز اگر بہشت ملےجان جب تک نہ ہو بدن سے جداکوئی دشمن نہ ہو وطن سے ہوا
یہ اپنے نغمات پر اثر سے دلوں کو بیدار کر چکی ہےیہ اپنے نعروں کی فوج سے دشمنوں پہ یلغار کر چکی ہےستم گروں کی ستم گری پر ہزارہا وار کر چکی ہے
لذت خواب سے مخمور ہوائیں جاگیںجیل کی زہر بھری چور صدائیں جاگیںدور دروازہ کھلا کوئی کوئی بند ہوادور مچلی کوئی زنجیر مچل کے روئیدور اترا کسی تالے کے جگر میں خنجر
دور آفاق پہ لہرائی کوئی نور کی لہرخواب ہی خواب میں بیدار ہوا درد کا شہرخواب ہی خواب میں بیتاب نظر ہونے لگیعدم آباد جدائی میں سحر ہونے لگیکاسۂ دل میں بھری اپنی صبوحی میں نےگھول کر تلخئ دیر میں امروز کا زہردور آفاق پہ لہرائی کوئی نور کی لہرآنکھ سے دور کسی صبح کی تمہید لیےکوئی نغمہ، کوئی خوشبو، کوئی کافر صورتبے خبر گزری، پریشانیٔ امید لیےگھول کر تلخئ دیروز میں امروز کا زہرحسرت روز ملاقات رقم کی میں نےدیس پردیس کے یاران قدح خوار کے نامحسن آفاق، جمال لب و رخسار کے نام
مری جاں اب بھی اپنا حسن واپس پھیر دے مجھ کوابھی تک دل میں تیرے عشق کی قندیل روشن ہےترے جلووں سے بزم زندگی جنت بدامن ہےمری روح اب بھی تنہائی میں تجھ کو یاد کرتی ہےہر اک تار نفس میں آرزو بیدار ہے اب بھیہر اک بے رنگ ساعت منتظر ہے تیری آمد کینگاہیں بچھ رہی ہیں راستہ زر کار ہے اب بھیمگر جان حزیں صدمے سہے گی آخرش کب تکتری بے مہریوں پر جان دے گی آخرش کب تکتری آواز میں سوئی ہوئی شیرینیاں آخرمرے دل کی فسردہ خلوتوں میں جا نہ پائیں گییہ اشکوں کی فراوانی سے دھندلائی ہوئی آنکھیںتری رعنائیوں کی تمکنت کو بھول جائیں گیپکاریں گے تجھے تو لب کوئی لذت نہ پائیں گےگلو میں تیری الفت کے ترانے سوکھ جائیں گےمبادا یاد ہائے عہد ماضی محو ہو جائیںیہ پارینہ فسانے موج ہائے غم میں کھو جائیںمرے دل کی تہوں سے تیری صورت دھل کے بہہ جائےحریم عشق کی شمع درخشاں بجھ کے رہ جائےمبادا اجنبی دنیا کی ظلمت گھیر لے تجھ کومری جاں اب بھی اپنا حسن واپس پھیر دے مجھ کو
دل زندہ و بے دار اگر ہو تو بتدریجبندے کو عطا کرتے ہیں چشم نگراں اوراحوال و مقامات پہ موقوف ہے سب کچھہر لحظہ ہے سالک کا زماں اور مکاں اورالفاظ و معانی میں تفاوت ۔۔۔نہیں لیکنملا کی اذاں اور مجاہد کی اذاں اورپرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میںکرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور
بچے ماؤں کی گودوں میں سہمے ہوئے ہیںعصمتیں سر برہنہ پریشان ہیںہر طرف شور آہ و بکا ہےاور میں اس تباہی کے طوفان میںآگ اور خوں کے ہیجان میںسرنگوں اور شکستہ مکانوں کے ملبے سے پر راستوں پراپنے نغموں کی جھولی پسارےدر بدر پھر رہا ہوںمجھ کو امن اور تہذیب کی بھیک دومیرے گیتوں کی لے میرا سر میری نےمیرے مجروح ہونٹوں کو پھر سونپ دوساتھیو! میں نے برسوں تمہارے لیےانقلاب اور بغاوت کے نغمے الاپےاجنبی راج کے ظلم کی چھاؤں میںسرفروشی کے خوابیدہ جذبے ابھارےاور اس صبح کی راہ دیکھیجس میں اس ملک کی روح آزاد ہوآج زنجیر محکومیت کٹ چکی ہےاور اس ملک کے بحر و بر بام و دراجنبی قوم کے ظلمت افشاں پھریرے کی منحوس چھاؤں سے آزاد ہیںکھیت سونا اگلنے کو بے چین ہیںوادیاں لہلہانے کو بیتاب ہیںکوہساروں کے سینے میں ہیجان ہےسنگ اور خشت بے خواب و بے دار ہیںان کی آنکھوں میں تعمیر کے خواب ہیںان کے خوابوں کو تکمیل کا روپ دوملک کی وادیاں گھاٹیاں کھیتیاںعورتیں بچیاںہاتھ پھیلائے خیرات کی منتظر ہیںان کو امن اور تہذیب کی بھیک دوماؤں کو ان کے ہونٹوں کی شادابیاںننھے بچوں کو ان کی خوشی بخش دوملک کی روح کو زندگی بخش دومجھ کو میرا ہنر میری لے بخش دوآج ساری فضا ہے بھکاریاور میں اس بھکاری فضا میںاپنے نغموں کی جھولی پسارےدر بدر پھر رہا ہوںمجھ کو پھر میرا کھویا ہوا ساز دومیں تمہارا مغنی تمہارے لیےجب بھی آیا نئے گیت لاتا رہوں گا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books