aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "behosh"
دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا ربکیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہوشورش سے بھاگتا ہوں دل ڈھونڈتا ہے میراایسا سکوت جس پر تقریر بھی فدا ہومرتا ہوں خامشی پر یہ آرزو ہے میریدامن میں کوہ کے اک چھوٹا سا جھونپڑا ہوآزاد فکر سے ہوں عزلت میں دن گزاروںدنیا کے غم کا دل سے کانٹا نکل گیا ہولذت سرود کی ہو چڑیوں کے چہچہوں میںچشمے کی شورشوں میں باجا سا بج رہا ہوگل کی کلی چٹک کر پیغام دے کسی کاساغر ذرا سا گویا مجھ کو جہاں نما ہوہو ہاتھ کا سرہانا سبزے کا ہو بچھوناشرمائے جس سے جلوت خلوت میں وہ ادا ہومانوس اس قدر ہو صورت سے میری بلبلننھے سے دل میں اس کے کھٹکا نہ کچھ مرا ہوصف باندھے دونوں جانب بوٹے ہرے ہرے ہوںندی کا صاف پانی تصویر لے رہا ہوہو دل فریب ایسا کوہسار کا نظارہپانی بھی موج بن کر اٹھ اٹھ کے دیکھتا ہوآغوش میں زمیں کی سویا ہوا ہو سبزہپھر پھر کے جھاڑیوں میں پانی چمک رہا ہوپانی کو چھو رہی ہو جھک جھک کے گل کی ٹہنیجیسے حسین کوئی آئینہ دیکھتا ہومہندی لگائے سورج جب شام کی دلہن کوسرخی لیے سنہری ہر پھول کی قبا ہوراتوں کو چلنے والے رہ جائیں تھک کے جس دمامید ان کی میرا ٹوٹا ہوا دیا ہوبجلی چمک کے ان کو کٹیا مری دکھا دےجب آسماں پہ ہر سو بادل گھرا ہوا ہوپچھلے پہر کی کوئل وہ صبح کی موذنمیں اس کا ہم نوا ہوں وہ میری ہم نوا ہوکانوں پہ ہو نہ میرے دیر و حرم کا احساںروزن ہی جھونپڑی کا مجھ کو سحر نما ہوپھولوں کو آئے جس دم شبنم وضو کرانےرونا مرا وضو ہو نالہ مری دعا ہواس خامشی میں جائیں اتنے بلند نالےتاروں کے قافلے کو میری صدا درا ہوہر دردمند دل کو رونا مرا رلا دےبے ہوش جو پڑے ہیں شاید انہیں جگا دے
مانا کہ میں بے ہوش ہوںپر ہوش ہے پرجوش ہوں
جینے سے دل بیزار ہےہر سانس اک آزار ہےکتنی حزیں ہے زندگیاندوہ گیں ہے زندگیوہ بزم احباب وطنوہ ہم نوایان سخنآتے ہیں جس دم یاد ابکرتے ہیں دل ناشاد ابگزری ہوئی رنگینیاںکھوئی ہوئی دلچسپیاںپہروں رلاتی ہیں مجھےاکثر ستاتی ہیں مجھےوہ زمزمے وہ چہچہےوہ روح افزا قہقہےجب دل کو موت آئی نہ تھییوں بے حسی چھائی نہ تھیکالج کی رنگیں وادیاںوہ دل نشیں آبادیاںوہ نازنینان وطنزہرہ جبینان وطنجن میں سے اک رنگیں قباآتش نفس آتش نواکر کے محبت آشنارنگ عقیدت آشنامیرے دل ناکام کوخوں گشتہ آلام کوداغ جدائی دے گئیساری خدائی لے گئیان ساعتوں کی یاد میںان راحتوں کی یاد میںمغموم سا رہتا ہوں میںغم کی کسک سہتا ہوں میںسنتا ہوں جب احباب سےقصے غم ایام کےبیتاب ہو جاتا ہوں میںآہوں میں کھو جاتا ہوں میںپھر وہ عزیز و اقرباجو توڑ کر عہد وفااحباب سے منہ موڑ کردنیا سے رشتہ توڑ کرحد افق سے اس طرفرنگ شفق سے اس طرفاک وادئ خاموش کیاک عالم بے ہوش کیگہرائیوں میں سو گئےتاریکیوں میں کھو گئےان کا تصور ناگہاںلیتا ہے دل میں چٹکیاںاور خوں رلاتا ہے مجھےبے کل بناتا ہے مجھےوہ گاؤں کی ہم جولیاںمفلوک دہقاں زادیاںجو دست فرط یاس سےاور یورش افلاس سےعصمت لٹا کر رہ گئیںخود کو گنوا کر رہ گئیںغمگیں جوانی بن گئیںرسوا کہانی بن گئیںان سے کبھی گلیوں میں ابہوتا ہوں میں دو چار جبنظریں جھکا لیتا ہوں میںخود کو چھپا لیتا ہوں میںکتنی حزیں ہے زندگیاندوہ گیں ہے زندگی
بھلائی سب کی ہو جس سے وہ کام اس کا ہےجہاں بھی جاؤ وہیں احترام اس کا ہےاٹھائے سر کوئی کیا سر اٹھا نہیں سکتامقابلے کے لئے آگے آ نہیں سکتاکسی سے اس کو محبت کسی سے الفت ہےکسی کو اس کی ہے اس کو کسی کی حسرت ہےوفا و لطف ترحم کی خاص عادت ہےغرض کرم ہے مدارات ہے عنایت ہےکسی کو دیکھ ہی سکتا نہیں ہے مشکل میںیہ بات کیوں ہے کہ رکھتا ہے درد وہ دل میںوہ رشک شمع ہدایات ہے انجمن کے لئےوہ مثل روح رواں عنصر بدن کے لئےوہ ایک ساغر نو محفل کہن کے لئےوہ خاص مصلح کل شیخ و برہمن کے لئےلگن اسے ہے کہ سب مالک وطن ہو جائیںقفس سے چھوٹ کے زینت دہ چمن ہو جائیںجفا شعار سے ہوتا ہے بر سر پیکارنہ پاس توپ نہ گولا نہ قبضے میں تلوارزمانہ تابع ارشاد حکم پر تیاروہ پاک شکل سے پیدا ہیں جوش کے آثارکسی خیال سے چرخے کے بل پہ لڑتا ہےکھڑی ہے فوج یہ تنہا مگر اکڑتا ہےطرح طرح کے ستم دل پر اپنے سہتا ہےہزار کوئی کہے کچھ خموش رہتا ہےکہاں شریک ہیں آنکھوں سے خون بہتا ہےسنو سنو کہ یہ اک کہنے والا کہتا ہےجو آبرو تمہیں رکھنی ہو جوش میں آؤرہو نہ بے خود و بیہوش ہوش میں آؤاسی کو گھیرے امیر و غریب رہتے ہیںندیم و مونس و یار و حبیب رہتے ہیںادب کے ساتھ ادب سے ادیب رہتے ہیںنصیب ور ہیں وہ بڑے خوش نصیب رہتے ہیںکوئی بتائے تو یوں دیکھ بھال کس کی ہےجو اس سے بات کرے یہ مجال کس کی ہےرفاہ عام سے رغبت ہے اور مطلب ہےانوکھی بات نرالی روش نیا ڈھب ہےیہی خیال تھا پہلے یہی خیال اب ہےفقط ہے دین یہی بس یہی تو مذہب ہےاگر بجا ہے تو بسملؔ کی عرض بھی سن لوچمن ہے سامنے دو چار پھول تم چن لو
میں لاپتا ہو گیا ہوںکئی ہفتے ہوئےپولیس کو رپورٹ لکھوائےتب سے روز تھانے جاتا ہوںحوالدار سے پوچھتا ہوںمیرا کچھ پتا چلاہمدرد پولیس افسر مایوسی سے سر ہلاتا ہےپھنسی پھنسی آواز میں کہتا ہےابھی تک تمہارا کچھ سراغ نہیں ملاپھر وہ تسلی دیتا ہےکسی نہ کسی دنتم مل ہی جاؤ گےبے ہوشکسی سڑک کے کنارےیا بری طرح زخمیکسی اسپتال میںیا لاش کی صورتکسی ندی میںمیری آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیںمیں بازار چلا جاتا ہوںاپنا استقبال کرنے کے لیےگل فروش سے پھول خریدتا ہوںاپنے زخموں کے لیےکیمسٹ سےمرہم پٹی کا سامانتھوڑی روئیاور درد کشا گولیاںاپنی آخری رسومات کے لیےمسجد کی دکان سے ایک کفناور اپنی یاد منانے کے لیےکئی موم بتیاںکچھ لوگ کہتے ہیںکسی کے مرنے پرموم بتی نہیں جلانی چاہیےلیکن وہ یہ نہیں بتاتےکہ آنکھ کا تارہ لاپتا ہو جائےتو روشنی کہاں سے لائیںگھر کا چراغ بجھ جائےتو پھر کیا جلائیں
اے چچا خرو شچوف اے ماموں کینڈی السلامایک ہی خط ہے یہ ماموں اور چچا دونوں کے نامآپ دونوں کا ادب کرنا ہمارا فرض ہےپھر بھی سن لیجے جو چھوٹی سی ہماری عرض ہےآپ دونوں ہیں بہادر سورما کیا اس میں شکایک بادل کی گرج ہے ایک شعلے کی لپکآپ دونوں کے بیاں سن سن کے ڈر جاتے ہیں ہمدھم سے آ گرتے ہیں ہم بچوں پہ یہ لفظوں کے بمڈر کے چھپ جاتے ہیں اپنی ماؤں کے آغوش میںکاش ہم بے ہوش ہو کر پھر نہ آئیں ہوش میںآپ دونوں لڑ پڑے تو جانے کیا ہو جائے گادو منٹ میں اس جہاں کا خاتمہ ہو جائے گاآگ لگ جائے گی اس دنیا کو مر جائیں گے سبجو بیاں دیتے ہیں وہ خاموش ہو جائیں گے لبدو منٹ زندہ رہیں گے ہم بھی مرنے کے لئےکون پھر باقی رہے گا راج کرنے کے لئےایسا لگتا ہے کہ کچھ دن اور جینا ہے محالگر نہیں اپنا تو بچوں ہی کا کچھ کیجے خیالاک طرف نفرت کھڑی ہے دوسری جانب غرورقہر کی چکی میں پس جائیں نہ بچے بے قصورلے چکے ہیں آپ تو جی بھر کے دنیا کے مزےہم کو ان سے دور رکھنا چاہتے ہیں کس لئےگر اجازت ہو تو ہم بچے بھی دنیا دیکھ لیںچار دن ہم بھی یہ بھالو کا تماشا دیکھ لیںکچھ بھی تو اسکول اور گھر کے سوا دیکھا نہیںآپ کہئے آپ نے دنیا میں کیا دیکھا نہیںجنگ مت کیجے نہ دنیا کی عمارت ڈھائیےسوچئے کچھ غور کیجے دیکھیے باز آئیےآپ نے دنیا سجائی تھی مٹانے کے لئےعقل کی شمعیں جلائی تھیں بجھانے کے لئےعلم و حکمت سائنس نے کی تھی ترقی کے لئےعقل کی شمعیں جلائی تھیں بجھانے کے لئےعلم و حکمت سائنس نے کی تھی ترقی کس لئےنیست و نابود آج ہم کر دیں اسے کیا اس لئےہم نے مانا آپ کا آپس میں ہے کچھ اختلافاک جگہ ہم بیٹھ کر کر لیں نہ کیوں دل اپنے صافاپنی اس دنیا کی حالت اس قدر جب زار ہےاس کو دیکھیں چاند میں جانا ابھی بے کار ہےدور کیجے دل سے نفرت اور گلے مل لیجئےزندگی کی جستجو میں خود کشی مت کیجیےجنگ کرنی ہے تو کیجے ہو مگر ایسی وہ جنگآسماں بھی جنگ ایسی دیکھ کر ہو جائے دنگ
بندر چوہا اور خرگوشہنستے ہنستے تھے بے ہوشپاس تھی ایک گلہری بھیتھی چوہے سے موٹی بھیاور کتا تھا منہ کھولےٹانگوں میں تھا نیکر پہنےسب سے بڑی تھی لومڑیتھی اس کی موٹی کھوپڑییہ سب ہی پیار سے رہتے تھےسب ناچتے گاتے ہنستے تھےاک دن وہ بولے خوش ہو کےہم آنکھ مچولی کھیلیں گےجو پکڑا جائے چور بنےاس کی آنکھوں پہ پٹی بندھےجو بھی پکڑا نہ جائے گاآخر راجہ کہلائے گاپہلے کتے کی باری تھیاس کی سب سے ہی یار تھیاس نے سوچا کس کو پکڑوںآخر میں کس کو چور کہوںاتنے میں بولا بندر بھیآئے ہیں میاں چھچھوندر بھیکہتے ہیں میں بھی کھیلوں گامیں آخر سب کو پکڑوں گاکتے نے کہا آنے دو اسےہاں چور ذرا بننے دو اسےیہ سن کے شیخی میں آ کےخود آپ چھچھوندر نے بڑھ کےکتے سے کہا مجھ کو پکڑومیرے منہ پہ پٹی باندھومیں ہر ایک کو پکڑوں گاآخر راجہ کہلاؤں گااحمق تھے میاں چھچھوندر بھیپڑھتے تھے انتر منتر بھیکوئی بھی ہاتھ نہ آتا تھاکوئی بھی چور نہ بنتا تھاتھک تھک کے حال خراب ہوالیکن نہ کوئی کسی کو ہاتھ لگااچھا نہیں شیخی میں آنااچھا نہیں ہوتا اترانا
جو بچے اس وقت سو رہے ہیںیہ ان کے بستر پہ جھومتی ہیںوہ چپ ہیں بے ہوش ہو رہے ہیںیہ ان کی آنکھوں کو چومتی ہیں
زماں مکاں کے ہزار ہنگامے قلب خستہ کو اس طرح ڈھیر کر گئے ہیںکہ جیسے اک خشک خشک پتے کی کپکپاتی ہوئی رگوں سےچپک رہی ہو تمام ماحول کے مناظر کی ماندگی بھیہر ایک جھونکے کی خستگی بھییہ خشک پتہہوا کے مبہوت دائروں میں زمین سے سر پٹک کے اپنی تمام رنگت بدل چکا ہےاب ایک پتھر کے یخ زدہ اور سیاہ سینے پہ آ کے بے ہوش ہو گیا ہےمیں قلب خستہ کو لے کے سنگین دور کے فرش پر پڑا ہوںمگر یکایک کچھ ایسے چونکایا قلب خستہ کو ایک خواب حسیں نے آ کرکہ جیسے بارش کا پہلا قطرہکچھ اتنی شدت سے خشک پتے پہ آ گرے اس کو توڑ ڈالے
یہ چڑیاں چہچہاتی ہیں تو ان کو چہچہانے دوپرندوں کو درختوں پر خوشی کے گیت گانے دوزمیں پر ابر کی ہر بوند کو نغمے سنانے دوفلک پر لیلیٔ قوس قزح کو مسکرانے دومرا دل سرد ہے مجھ کو یوں ہی بے ہوش رہنے دومجھے خاموش رہنے دو
خون اتنا بہہ گیا کہ بے ہوش ہو گیا وہآیا جو ہوش اپنی حالت پہ رو پڑا وہ
ان میں خوش کار بھی ہیں ان میں ریاکار بھی ہیںان میں غم خوار بھی ہیں ان میں جفا کار بھی ہیںخارہائے محن و درد کے تجار بھی ہیںاور گلہائے محبت کے خریدار بھی ہیںشعبدہ گر بھی ہیں چالاک بھی عیار بھی ہیںاور گردیدۂ محنت بھی ہیں فن کار بھی ہیںان میں بے ہوش بھی ہیں ان میں جنوں کار بھی ہیںان میں دانا بھی ہیں بینا بھی ہیں ہوشیار بھی ہیں
جھکی جھکی نظروں سے پستکوںکو سینے سے لگائےدھک دھک کرتے دل کو سنبھالےکہیں آنکھیں چار نہ ہو جائیںلیب میں چور نظر سے گھستےکہ آج تو درشن ہو جائیںپر مدہوشی کا عالم تو دیکھیں کہنظریں ملیں تو شاید بے ہوش ہو جائیںای میل پر کھلے عام خط کی بات نہیں یہوہ کچرے میں پھینکا کاغذ بھی کئی تہوںمیں لگا کر سینے میں چھپائیںکوئی جان نہ لے ہماری اس خاموش محبت کوسوچ اس خیال سے ہی لال ہو جائےچھپ چھپ کر راشی پھل پڑھتےکہ شاید آج ملاقات ہو جائےہونٹوں کو سیے چپ چاپ گھومتےکہ بھول سے تیرا نام بھی لبوں پر نہ آ جائےایسی تھیں وہ محبتیں جہاں بنا دیکھےکئی صدیاں گزر جائیں
مجھے یاد آیاگندی گالیاں اور میلے بوٹوں کی بھاری ایڑیاںمیرے اعصاب اور جسم کو شل کر رہی تھیںکندھوں کولھوں اور رانوں پربد بو دار دانتوں کے نشاندہکتی سلاخوں سے مٹانے کی کوشش بھی کی گئیمیں اونچی کھڑکی سے چھلانگ لگا سکتا تھا!مگر سادہ کاغذ پر دستخط کے بغیرمجھے اس سہولت کی اجازت بھی نہیں دی گئیوہ سب میرے زندہ ہاتھوں سے زیادہمیری مردہ آنکھوں سے خوف زدہ تھے شایدمیں نے انہیں بتا دیا تھاکہ میں صرف بے مقصد زندگیاور بے وقعت موت سے ڈرتا ہوںمیں نے کہازخمی دانتوں کے ساتھ مجھ سے ہنسا نہیں جاتالاؤ کاغذ ادھر لاؤمیں اس پر ایک زور دار قہقہہ لکھ کر دستخط کر دوںمجھے یاد ہےوہ تھک ہار کے بے ہوش ہونے چلے گئے تھے
یہاں گل خان جتنے ہیں وہ سب پرجوش بیٹھے ہیںمگر پنجاب کے جو لوگ ہیں خاموش بیٹھے ہیںکئی کچھ ہوش میں ہیں اور کچھ بے ہوش بیٹھے ہیںکئی نعرہ بلب ہیں اور کفن بر دوش بیٹھے ہیںہے بھیڑ اتنی کہ عزرائیل سے در تک نہیں ہلتااسے بوگی میں گھسنے کا کوئی رستہ نہیں ملتا
ہوا تو ایک بہتر آغازاپنے افسانے کاپر تم نے سوچا اچھا ذریعہ ہےکچھ دیر بہلانے کاکب منہ پھیر کے تم بن گئے انجانکب ملا اس بے ہوش آغاز کوہوش کا انجاممیرا دل آج تک اس بات کوسمجھا نہیںہاں شاید تم نے میرے پیار کےانداز کو سمجھا نہیں
تم مروتم تو بچے نہیںتم تو مسجد کے قیدی ہو قرآن پڑتے رہوسجدے کرتے رہویہ جو پیکر تمہارا ہے اس میں لہو کی جگہ زہر ہےیہ جو مندر میں بچے ہمکتے ہیں بچے نہیںیہ کلیسا میں بے داغ بچے بھی بچے نہیںیہ جو مسلک کی کھیتی میں کھلتے ہیں بچے یہ بچے نہیںاپنے پومی کو دیکھ آؤں میںکال آئی ہے اسکول سےننھی بچی سے لڑتے ہوئے گر پڑا ہے وہاںاور اب کچھ خراشوں سے بے ہوش ہےگھر میں لا کر اسےایک تقریب میں بھی پہنچنا ہے جلدی مجھےاور پڑھنا ہے مضمون جس کا ہے عنواں ہماری نئی نسل کے خواب پروان کیسے چڑھیں
دور تک دھندلکے سے پر ہے فضا وادی کیشے ہر اک دود نے آغوش میں لے رکھی ہےرہ گزر گولف کا میدان سبزہ زار و درختثبت تصویر کی مانند ہوئے ہیں سارےشہر کی کوئی عمارت نظر نہیں آتیکوئی گل کوئی حرارت نظر نہیں آتیخامشی ثبت ہے بے ہوش سی بے ہوشی ہےخواب خوابیدہ ہے مدہوش سی مدہوشی ہےکوئی ہیجان نہیں دکھ نہیں راحت بھی نہیںدور تک کوئی نہیں کچھ بھی نہیں کچھ بھی نہیںایک جانب کہ جدھر دھند اور زیادہ ہےوہ کسی سائے کے مانند چلا جاتا ہے
داستان رنج و غم جب سن چکی وہ نازنیںناز سے بولی کہ یہ سب سچ ہے ہاں اے نکتہ چیںآخری اک امتحاں ہے اس سے یہ ثابت کروہم سے بڑھ کر کوئی دنیا میں تمہیں پیارا نہیںاپنی ماں کا دل جو تم لاؤ گے سینہ چیر کرآئے گا اس وقت ہم کو ایسی باتوں کا یقیںہو گیا خاموش عاشق سن کے یہ حکم عجیبگھر کو پہنچا مضطرب با چشم تر اندوہگیںماں کی الفت پر ہوئی غالب محبت یار کیوہ کیا اس نے جو دنیا میں کوئی کرتا نہیںلے کے دل اور لاش ماں کی چھوڑ کر جب وہ چلاکانپ اٹھی ساری زمیں تھرا گیا چرخ بریںاتفاقاً اس کو گھبراہٹ میں اک ٹھوکر لگیگر پڑا بے ہوش ہو کر عاشق صادق وہیںقلب مادر سے تڑپ کر یہ صدا نکلی شمیمؔمیں ترے قربان بیٹا چوٹ تو آئی نہیں
شہر کے اندر سناٹا ہےجیسے کسی ماتم کا منظرسڑکیں ہیں ویران اکیلیراتیں ہیں پر ہول اندھیریلوگ گھروں میں بند ہیں سارےسوئے ہوئے ہیں بخت کے مارےغم سے ہیں آزادحد درجہ بے ہوشعاصمؔ مت کر شورعاصمؔ بس خاموش
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books