aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "bele"
نظر جھکائے عروس فطرت جبیں سے زلفیں ہٹا رہی ہےسحر کا تارا ہے زلزلے میں افق کی لو تھرتھرا رہی ہےروش روش نغمۂ طرب ہے چمن چمن جشن رنگ و بو ہےطیور شاخوں پہ ہیں غزل خواں کلی کلی گنگنا رہی ہےستارۂ صبح کی رسیلی جھپکتی آنکھوں میں ہیں فسانےنگار مہتاب کی نشیلی نگاہ جادو جگا رہی ہےطیور بزم سحر کے مطرب لچکتی شاخوں پہ گا رہے ہیںنسیم فردوس کی سہیلی گلوں کو جھولا جھلا رہی ہےکلی پہ بیلے کی کس ادا سے پڑا ہے شبنم کا ایک موتینہیں یہ ہیرے کی کیل پہنے کوئی پری مسکرا رہی ہےسحر کو مد نظر ہیں کتنی رعایتیں چشم خوں فشاں کیہوا بیاباں سے آنے والی لہو میں سرخی بڑھا رہی ہےشلوکا پہنے ہوئے گلابی ہر اک سبک پنکھڑی چمن میںرنگی ہوئی سرخ اوڑھنی کا ہوا میں پلو سکھا رہی ہےفلک پہ اس طرح چھپ رہے ہیں ہلال کے گرد و پیش تارےکہ جیسے کوئی نئی نویلی جبیں سے افشاں چھڑا رہی ہےکھٹک یہ کیوں دل میں ہو چلی پھر چٹکتی کلیو؟ ذرا ٹھہرناہوائے گلشن کی نرم رو میں یہ کسی کی آواز آ رہی ہے؟
تجھ سے جو میں نے پیار کیا ہے تیرے لیے؟ نہیں اپنے لیےوقت کی بے عنوان کہانی کب تک بے عنوان رہےاے مرے سوچ نگر کی رانی اے مرے خلد خیال کی حوراتنے دنوں جو میں گھلتا رہا ہوں تیرے بنا یونہی دور ہی دورسوچ تو کیا پھل مجھ کو ملا میں من سے گیا پھر تن سے گیاشہر وطن میں اجنبی ٹھہرا آخر شہر وطن سے گیاروح کی پیاس بجھانی تھی پر یہاں ہونٹوں کی پیاس بھی بجھ نہ سکیبچتے سنبھلتے بھی ایک سلگتا روگ بنی مرے جی کی لگیدور کی بات نہ سوچ ابھی مرے ہات میں تو ذرا ہات تو دےتجھ سے جو میں نے پیار کیا ہے تیرے لیے؟ نہیں اپنے لیےباغ میں ہے اک بیلے کا تختہ بھینی ہے اس بیلے کی سگندھاے کلیو کیوں اتنے دنوں تم رکھے رہیں اسے گود میں بندکتنے ہی ہم سے روپ کے رسیا آئے یہاں اور چل بھی دیئےتم ہو کہ اتنے حسن کے ہوتے ایک نہ دامن تھام سکےصحن چمن پر بھونروں کے بادل ایک ہی پل کو چھائیں گےپھر نہ وہ جا کر لوٹ سکیں گے پھر نہ وہ جا کر آئیں گےاے مرے سوچ نگر کی رانی وقت کی باتیں رنگ اور بوہر کوئی ساتھ کسی کا ڈھونڈے گل ہوں کہ بیلے میں ہوں کہ توجو کچھ کہنا ہے ابھی کہہ لے جو کچھ سننا ہے سن لےتجھ سے جو میں نے پیار کیا ہے تیرے لیے؟ نہیں اپنے لیے
اس نے میرے ہاتھ میں باندھااجلا کنگن بیلے کاپہلے پیار سے تھامی کلائیبعد اس کے ہولے ہولے پہنایاگہنا پھولوں کاپھر جھک کر ہاتھ کو چوم لیاپھول تو آخر پھول ہی تھےمرجھا ہی گئےلیکن میری راتیں ان کی خوشبو سے اب تک روشن ہیںبانہوں پر وہ لمس ابھی تک تازہ ہےشاخ صنوبر پر اک چاند دمکتا ہےپھول کا گہناپریم کا کنگنپیار کا بندھناب تک میری یاد کے ہاتھ سے لپٹا ہوا ہے
برسوں کیا کیا چنے چبائے، کیا کیا پاپڑ بیلےلہروں کو ہم راز بنایا، طوفانوں سے کھیلے
کرگل اڑ کر وہ پلکھن پر جا بیٹھیپیپل میں طوطے نے بچے دے رکھے ہیںگلدم جو پکڑی تھی کل بے چاری مر گئینجمہؔ کے بیلے میں کتنی کلیاں آئیں ہیںپھولوں کی خوشبو سے کیا کیا یاد آتا ہےیہ جب کا قصہ ہے سڑکوں پر نئی نئی بجلی آئی تھیاور مجھے سینے میں دل ہونے کا احساس ہوا تھاعید کے دن ہم نے لٹھے کی شلواریں سلوائی تھیںاور سویوں کا زردہ ہمسائے میں بھجوایا تھاسب نیچے بیٹھک میں بیٹھے تھےمیں اوپر کے کمرے میں بیٹھاکھڑکی سے زینبؔ کے گھر میں پھولوں کے گچھے پھینک رہا تھاکل زینبؔ کا گھر نیلام ہو رہا ہےسرکاری تحویل میں تھا اک مدت سے!
کانوں میں بیلے کے جھمکے آنکھیں مے کے کٹورےگورے رخ پر تل ہیں یا ہیں پھاگن کے دو بھونرےکومل کومل اس کی کلائی جیسے کمل کے ڈنٹھلنور سحر مستی میں اٹھائے جس کا بھیگا آنچلفطرت کے مے خانے کی وہ چلتی پھرتی بوتلآئی وہ پنگھٹ کی دیوی وہ پنگھٹ کی رانی
ہماری عمر رواں کی شبنمتری سیہ کاکلوں کی راتوںمیں تار چاندی کے گوندھ دے گیترے حسیں عارضوں کے رنگیںگلاب بیلے کے پھول ہوں گےشفق کا ہر رنگ غرق ہوگالطیف و پر کیف چاندنی میںتری کتاب رخ جواں پرکہ جو غزل کی کتاب ہے ابزمانہ لکھے گا اک کہانیاور ان گنت جھریوں کے اندرمری محبت کے سارے بوسےہزار لب بن کے ہنس پڑیں گے
پھر پھولوں سے لدنے لگا ہر بیلے کا پوراپودوں میں سے پھر پھول چرانے کے دن آئے
نیند پالکی اتری رات دور جنگل میںخواب خواب منظر تھا دھیرے دھیرے بہتی تھیسمفنی ہواؤں کی رات چاند بادل میںچاندنی کی بانہوں میں جھیل والتز کرتی تھیدھیمی دھیمی سی خوشبو ساتھ ساتھ چلتی تھیکنج میں درختوں کے بے خودی کے عالم میں مست ڈار ہرنوں کیبیلے رقص کرتی تھیہرنیوں کی آنکھوں میں مشک سی مہکتی تھیکالے پیرہن پہنے با وقار پیڑوں نے وائلن سنبھالے تھےجھومتے ہوئے پتے تالیاں بجاتے تھےگنگناتی بیلوں پر پھول کسمساتے تھےجگنوؤں کی جھلمل سے راج ہنس سوتے سے جاگ جاگ اٹھتے تھےآہٹیں پرندوں کی اپنے شب بسیروں میں پائلیں بجاتی تھیںاپنے بند کمرے میں آنکھ جو کھلی دیکھاشہر کی کثافت سے مضمحل سا سورج پھرایک اور نئے دن کی دھول لے کے آیا تھاٹی وی والے کمرے میں صبح کا خبر نامہ اطلاع دیتا تھاایک اور جنگل کو کاٹ کر نکالیں گے راستہ ترقی کا
رات تاریک تھی اک کالے سمندر کی طرحاجنبی دیس تھا تنہائی تھیجگمگاتے ہوئے بازاروں کی بے کیف فضااور بوجھل سا کئے دیتی تھی جسم و جاں کوشہر کی حد سے پرےدور تک پھیلے ہوئے ریت کی سفاکی تھیآسمان دھول میں لپٹا ہو تا حد نظرکوئی سایہ نہ سرابکار میں بجتا ہوا گیت بھی الفاظ کی تکرار تھابے روح تھی لےپھر اچانک مجھے مانوس سے اک لمس نے بیدار کیاتھپکیاں دے کے مرے شانے پرپیار سے سرگوشی کیمیں ترے ساتھ یہاں تک آیامیں ابھی چوم کے آیا ہوں تری خاک وطنتیری گلیاں ترے مانوس در و بام تیرا گھر آنگنتیرے ماں باپ کے آزردہ سے مشفق چہرےمنتظر آنکھوں کی خاموشی کو چوم آیا ہوںتیرے آنگن کی چنبیلی کی دعا لایا ہوںیاد ہے یاد ہےکوئی کہتا ہی رہاوہ ستمبر کی خنک رات تھی میں تھا تم تھیںریڈیو پر کوئی بجتی ہوئی اسپینش دھندور پیپل کے گھنے جنگل میںہم کو مدہوش کئے دیتی تھییاد ہےتجھ کو لڑکپن میں کبھیآم کے بور کی بیلے کی چنبیلی کی مہک ساتھ لئےکچے آنگن میں جھکے نیم کی شاخوں میں ہوا بہتی تھیاور ہم دونوں بہت دیر تلک جاگتے تھےراز کی باتیں کیا کرتے تھےکوئی کہتا ہی رہایاد کرو یاد کرودیپ سے دیپ جلے یادوں کےاور کچھ ایسا ہوایک بہ یک چلنے لگی باد صبا نجد کے صحراؤں میںاور اک نور کا دریا سا نظر آنے لگا صحرا میںکار کے بند دریچے سے اتر آیا مری گود میں چاند
لیکن اک با ہمت تارا اب بھی آنکھیں کھول رہا ہےاب بھی جہاں کو دیکھ رہا ہے اپنی مستانہ نظروں سےجیسے کسی تالاب میں لچکے کوئی شگفتہ پھول کنول کاجیسے بیلے کی شاخوں میں دور سے ایک شگوفہ چمکے
یہ ہرے لان میںسنگ مرمر کی بینچوں پہ بیٹھی ہوئیان مورتوں سے کہیں خوب صورت کہیں مختلفجن کے جوڑے میں جوہی کی کلیاں سجیںجو گلاب اور بیلے کی خوشبو پئیںاور رنگوں کی حدت سے پاگل پھریں
خواب گرمی کی چھٹیوں پہ گئےہو گئے بند گیٹ آنکھوں کےعشق کو داخلہ ملا ہی نہیںخواہشیں لاکروں میں قید رہیںجو بکے اس کے دام اچھے ہوںزندگی ہو کہ کوئی تتلی ہوبے ثباتی کے رنگ کچے ہیںکون بتلائے ان زمینوں کوجنگلوں کے گھنے درختوں میںگر خزاں بیلے ڈانس کرتی ہومصر کو کون یاد کرتا ہےکم نہیں لکھنؤ کی امراؤاس سے بہتر یہاں پہ ہیں فرعونکون سا دیوتا اور کیا رعمیسمرزا واجدؔ علی بھی کم تو نہیں
یہ ہرے لان میںسنگ مرمر کی بینچوں پہ بیٹھی ہوئیان حسیں مورتوں سے کہیں خوبصورتکہیں مختلفجن کے جوڑے میں جوہی کی کلیاں سجیںجو گلاب اور بیلے کی خوشبو پئیںاور رنگوں کی حدت سے پاگل پھریں
ابھی کچھ دن مجھے اس شہر میں آوارہ رہنا ہےکہ اب تک دل کو اس بستی کی شامیں یاد آتی ہیںجہاں بیلے کی جھاڑی میں کسی ناگن کی بانبی تھیابھی تک دل یہ کہتا ہے کہ اس بستی میں پھر جاؤبھرو دامن کو پھولوں سے بدن ناگن سے ڈسواؤجہاں اب ہوں وہاں بیلا ہے نہ ناگن کی بانبی ہےاسی کارن یہ ظالم دل مجھے الجھائے رکھتا ہےاسی کارن مجھے اس شہر میں آوارہ رہنا ہے
فقط حصے کی خاطرکٹ گئی یہ زندگی میلاد سننے میںبلا جانے کہ حصہ ہے تو کیسا اور کتنایہ سب آساں نہیں تھاگلاب اور عطر سے بھاری فضا میں سانس لینادیر تک آساں نہیں تھانہ آساں تھا سمجھنے کی اداکاری بھی کرنااس زباں کوجس سے میں نا آشنا تھا اور وو بھی با ادب رہ کربہت بھاری تھا بیلے کا وہ گجراجو پہنایا گیا تھا مجھ کو اگلی صف میں بٹھانے سے پہلےہاں سزا جیسا تھا میرا بیٹھنا اس صف میںجس میں ایک بھی بچہ نہیں تھااور جہاں سے دور تھیں سب چلمنیںاور ان سے چھنتی رونقیںیہ سب قربانیاں دے کر اگر حصے کی خواہش ہے مجھے تو کیا غلط ہےمرے حصے کی خواہش پر ہنسو متمرا حصہ تو پکا ہے اگر میں سو بھی جاؤںخدا کو سب پتا ہے
ٹاٹ کے اک پردے کے پیچھےگھٹی ہوئی گلیوں کی فضا میںایک کشیدہ کرنے والیگلکاری کی شائق لڑکیکرتی ہے ایسے گل باریململ ہو جیسے اک کیاریحبس اور گرمی میں یہ مالنبیل چڑھائے پھول لگائےچکن کے ٹانکوں سے کھل جائیںڈھیر چنبیلی کے لگ جائیںگجرے بیلے کے لہرائیں
دیکھیے آ کے ذرا بیلے کے پھولوں کی بہارجم گئے شاخ پہ یہ دودھ کے قطرے کیسےمرمریں پھول زمرد کے حسیں ڈنٹھل پرڈال پر بیٹھ گئے آ کے یہ بگلے کیسے
عشق کیا چیز ہے الفت کی حقیقت کیا ہےتیرے ہم راہ گزارا ہوا اک سال فقطجو ترے نام سے منسوب کیا تھا میں نےآج اس سال کی ٹھہری ہوئی یہ آخری شاماپنے بیتے ہوئے لمحوں کی کسک لے آئیمیری آنکھوں میں یہ نادیدہ چمک لے آئیوہ مرے ارض تمنا کی دل آویز صداتو جسے سن کے مرے پاس چلا آیا تھادل بھی پہلو میں مری جان اٹھا لایا تھاتو مری زیست کا حاصل تو مسیحائے وفاتو محبت کا امیں عشق کا شائستہ گلابتو نے الفت کے کئی باب سکھائے جاناںمیری آنکھوں میں حسیں خواب سجائے جاناںمیں ترے ساتھ بتائے ہوئے لمحات کے رنگاپنی آنکھوں میں سجائے ہوئے بیٹھی ہوں ابھیچاندنی رات یہ بیلے کی مہکتی خوشبواپنے آنچل میں بسائے ہوئے بیٹھی ہوں ابھیتیری قربت کی حسیں رات ملی ہے مجھ کواتنے برسوں میں یہ سوغات ملی ہے مجھ کورات ڈھل جائے نہ ہر روز کی صورت آ جاآج ممکن نہیں انکار کی صورت آ جامری آنکھوں میں مرے خواب مقفل کر دےآج کی رات مرا عشق مکمل کر دے
تم نے سوکھے ہوئے بیلے بھی کبھی سونگھے ہیںان کو مسلا نہ کروکتنی آزردہ مگر بھینی مہک دیتے ہیںان کو پھینکا نہ کروگرد آلود بجھے چہروں کو سمجھا بھی کروصرف دیکھا نہ کروہاتھ کے چھالوں کا گٹھوں کا مداوا بھی کروصرف چھیڑا نہ کروتم نے سوکھے ہوئے بیلے بھی کبھی سونگھے ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books