aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "bikheraa"
سجے تو کیسے سجے قتل عام کا میلہکسے لبھائے گا میرے لہو کا واویلامرے نزار بدن میں لہو ہی کتنا ہےچراغ ہو کوئی روشن نہ کوئی جام بھرےنہ اس سے آگ ہی بھڑکے نہ اس سے پیاس بجھےمرے فگار بدن میں لہو ہی کتنا ہےمگر وہ زہر ہلاہل بھرا ہے نس نس میںجسے بھی چھیدو ہر اک بوند قہر افعی ہےہر اک کشید ہے صدیوں کے درد و حسرت کیہر اک میں مہر بلب غیظ و غم کی گرمی ہےحذر کرو مرے تن سے یہ سم کا دریا ہےحذر کرو کہ مرا تن وہ چوب صحرا ہےجسے جلاؤ تو صحن چمن میں دہکیں گےبجائے سرو و سمن میری ہڈیوں کے ببولاسے بکھیرا تو دشت و دمن میں بکھرے گیبجائے مشک صبا میری جان زار کی دھولحذر کرو کہ مرا دل لہو کا پیاسا ہے
سمجھتے کیا ہو تم دل کوبالآخر کیا سمجھتے ہوکبھی کہتے ہو پتھر ہےتراشو خوب نکھرے گاکبھی شیشہ سمجھتے ہوجو آندھی نے بکھیرا ہوسیہ وہ راز صدیوں کےاسی دل میں چھپاتے ہوکبھی مردہ سی یادوں کوبھی سینے میں دباتے ہومیں اکثر فرض کرتی ہوںمیں جو تم سے اگر کہہ دوںکہ دل میں کوئی بستا ہےنگاہوں میں اترتا ہےبہاروں میں سنورتا ہےوہ دل کو گھر بتاتا ہےوہ گھر میں بت بناتا ہےوہ خود کا عکس چنتا ہےوہ دل کو چاک کرتا ہےمیں اس کی کارسازی میںخموشی سے تڑپتی ہوںاسے اپنا بتانے کےعمل کو پھر جھپٹتی ہوںدعا کرتی ہوں قدرت سےکہ جس نے گھر بنایا تھاجسے گھر کا مکیں جانااسے مہمان کر دے توتو قدرت پھر مرے ہاتھوںکو کچھ اوزار دیتی ہےمیں اپنے آپ ہی اس دلکے گھر کو نوچ دیتی ہوںتمہیں معلوم ہے کتنیمیں اب تکلیف سہتی ہوںکہ جب دیوار کو گھر کیمیں خود ہی صاف کرتی ہوںمیں اکثر فرض کرتی ہوںمیں جو تم سے اگر کہہ دوںکہ دل میں اب نہیں کوئییہ دل بنجر زمیں کوئیتو کیا تم پھر بھی آؤ گےتو کیا دل کو سنوارو گے
پھول کی خوشبو ہنستی آئیمیرے بسیرے کو مہکانےمیں خوشبو میں خوشبو مجھ میںاس کو میں جانوں مجھ کو وہ جانےمجھ سے چھو کر مجھ میں بس کراس کی بہاریں اس کے زمانےلاکھوں پھولوں کی مہکاریںرکھتے ہیں گلشن ویرانےمجھ سے الگ ہیں مجھ سے جدا ہیںمیں بیگانہ وہ بیگانےان کو بکھیرا ان کو اڑایادست خزاں نے موج صبا نےبھولا بھٹکا ناداں قطرہآنکھوں کی پتلی کو سجانےآنسو بن کر دوڑا آیامیری پلکیں اس کے ٹھکانےاس کا تھرکنا، اس کا تڑپنامیرے قصے میرے فسانےاس کی ہستی میری ہستیاس کے موتی میرے خزانےباقی سارے گوہر پارےخاک کے ذرے ریت کے دانےپربت کی اونچی چوٹی سےدامن پھیلایا جو گھٹا نےٹھنڈی ہوا کے ٹھنڈے جھونکےبے خود آوارہ مستانےاپنی ٹھنڈک لے کر آئےمیری آگ میں گھل مل جانےان کی ہستی کا پیراہنمیری سانس کے تانے بانےان کے جھکولے میری امنگیںان کی نوائیں میرے ترانےباقی سارے طوفانوں کوجذب کیا پہنائے فضا نےفطرت کی یہ گونا گونیگلشن بن وادی ویرانےکانٹے کلیاں نور اندھیراانجمنیں شمعیں پروانےلاکھوں شاطر لاکھوں مہرےپھیلے ہیں شطرنج کے خانےجانتا ہوں میں یہ سب کیا ہیںصہبا سے خالی پیمانےبھوکی مٹی کو سونپے ہیںدنیا نے اپنے نذرانےجس نے میرا دامن تھاماآیا جو مجھ میں بس جانےمیرے طوفانوں میں بہنےمیری موجوں میں لہرانےمیرے سوز دل کی لو سےاپنے من کی جوت جگانےزیست کی پہنائی میں پھیلےموت کی گیرائی کو نہ جانےاس کا بربط میرے نغمےاس کے گیسو میرے شانےمیری نظریں اس کی دنیامیری سانسیں اس کے زمانے
جس نے آنکھوں میں ستارے سے کبھی گھولے تھےآج احساس پہ کاجل سا بکھیرا اس نےجس نے خود آ کے ٹٹولا تھا مرے سینے کولے لیا غیر کے پہلو میں بسیرا اس نے
گرمائے تہذیب کی محفل چمکایا افسانے کورنگ بکھیرا آنچل آنچل روپ کا مان بڑھانے کوشبدوں کے پیالے میں اس نے دل کی لالی گھولی ہےاردو پیار کی بولی ہے
نئی زندگی کی نئی خواہشوں نےغموں کو سمیٹا خوشی کو بکھیرا
جنگل میں ون ڈے کرکٹ کا ہوا انوکھا میچبندر نے کی خوب فیلڈنگ پکڑے چھ چھ کیچزیرو پر لنگور گیا تو ہرن تین پر آؤٹایل بی ڈبلیو گینڈا بھاگا نہیں تھا کوئی ڈاؤٹگیدڑ نے آتے ہی جیسے لی اپنی پوزیشنکنگارو کی گیند تھی اسپن بدل گئی سچویشنوکٹ بچا نہ پایا گیدڑ بلا عجب گھمایابندر کے ہاتھوں میں سیدھے اپنا کیچ تھمایاسینگ ہلاتے بارہ سنگھا نے اب بیٹ سنبھالاکنگارو کی سیکنڈ بال تھی چوک گیا بیچارہگیند گھسی اسٹمپ بکھیرا گلی چھٹکی دورایک بڑا اسکور کا سپنا ہو گیا آخر چورلوٹ چلا جب بارہ سنگھا بھالو چاچا آئےگیند تیسری کنگارو کی وہ بھی جھیل نہ پائےلگاتار تینوں گیندوں پر وکٹ گرے تھے تینکنگارو کے اس اوور نے بدل دیا تھا سینجلدی جلدی وکٹ گنوائے بگڑ گئی تھی حالتجمے جمائے ہاتھی دادا بھیج رہے تھے لعنتبھالو گیا زیبرا آیا اب کے بلا تھامےنوے پر ہاتھی پہنچا تھا لگا اسے سمجھانےبلا چمکا گیند اڑی امپائر بولا سکسہاتھی نے پھر فوراً ٹوکا پہلے ہولو فکسچوکے اور چھکے کی بارش تھوڑا رک کر کرنامیچ اگر ہے ہمیں جیتنا وکٹ بچائے رکھنااوور نیا لیے چیتا اب بالنگ کرنے آیادو گیندوں پر لگاتار ہاتھی نے سکس جمایابنا سینچری ہاتھی نے ارمان نئے کچھ باندھےچیتے کی اک تیز گیند نے توڑے سبھی ارادےہاتھی کے آؤٹ ہوتے ہی جو آیا وہ بے بسناٹ آؤٹ کا تمغہ لے کر ہوا زیبرا واپسکپتانی تھی شیر کے ذمے جیت لیا تھا میچبندر نے کی خوب فیلڈنگ پکڑے چھ چھ کیچ
چیل کوؤں نے مگر لاش کے ٹکڑے کر کےہر طرف کوچۂ جاناں میں بکھیرا ہوگا
بہار ہو یا خزاں موسم دونوں ہینغمگی سے بھرپور ہیںوصل سے جدائی تکایک ساز بجتا ہےجس کی دھن پہ دھڑکنیںماہ و سال کا قصیدہ پڑھتی ہیںشاخ نے چاہاپتوں کو جوڑے رکھے مگررنگ کی تبدیلی نےملاقات کے ذائقوں کا لطف ختم کر دیاہوا نے ایک سبز درخت کو بکھیرامٹی کی خوشبو نے بانہیں پھیلا کرزرد رنگ کا استقبال کیااکتوبر کے ڈھلتے شب و روزتھکن کا احساس پیدا کرتے ہوئے اپنا پیغامثبت کر رہے ہیںروح اداسی کے گھیرے میںسبز رنگ کی متلاشی ہےخواب کو تعبیر پہناتے ہوئےمیں نے ہوا کا ذائقہ چکھااور یہ بھید پا لیاکہ زرد اور سبز کا ملاپ
ہم نے سوچا اب شکستہ گھر مقفل نہیں ہو سکتےکواڑوں کے بغیراچھے کواڑ اچھی عمارت کے بغیرہم نے کچھ کالی تجارت سے کمائی کیادھر کچھ جنگلوں کے چور اپنے یار تھےلکڑی خریدی اور کواڑوں اور کڑیوں میں گھڑینقشے بنائے اور دیواریں چنیں ہم نے چھتیں ڈالیںنئی تعمیر کو ہر رنگ کی ہر آرٹ کی دھج دیپھر اپنی سوچ اور احساس کی رعنا نظر افروزتصویروں سے کمروں کو سجا کر آئنے کے سامنے آئےاور اک فن کار کی نخوت سے بالوں کو بکھیرااور چہرے کو بناوٹ دییہی چہرہ ہمارے ساتھ سگریٹ پھونکتاسڑکوں پہ پھرتا ہوٹلوں میں چائے پیتا تھازمانے بھر کی گپیں ہانکتا تھالیکن اس سچ کی صدا اس میں مقفل تھی جو اس کے عہد کا سچ تھاوہ گونگا تھاکواڑوں کی طرح اپنے مکاں میں اپنی تصویر کی صورت ہم مقفل تھےاور اب جب شہر میں بڑھتے دھماکوں نےمکاں لرزا دیا ہے توڑ ڈالے ہیں کواڑ اور مسخ کر ڈالی ہیں تصویریںہمیں یہ دکھ ہے ہم خود میں مقفل کیوں ہوئے تھےجبر کی بڑھتی ہوئی میعاد میںصبر کی شفقت بھری بوڑھی دعائیں کیوں نہیںہم نے خود پر کیوں خلا کے فاصلے لمبے کئےسچ کی خاموشی کے مجرم کیوں بنےچپ گوارہ کیوں ہوئیبات گونگے کا اشارہ کیوں ہوئیہم اگر لب کھولتےکچھ دوسرے بھی بولتےکچھ دوسرے بھی بولتے
عجب رات تھیاور اسی راتمیں اور محمود درویشاجل یافتہ بستیوںمنہدم منتشر منظروں کی طرفرقص کرتے ہوئے جا رہے تھےہم نے ان بستیوں مسکنوں اور شفا خانوں کی لاش پراپنی نظموں کوتازہ غذاؤں دواؤں روشنی اور پانی کے بدلےانہیں نذر کرنے کی خاطرپھول کی پتیوں کی طرحیوں بکھیراکہ ہم نے یہ سمجھاکہ ہم بھیاجل یافتہ بستیوں کےسسکتے ہوئے بام و در کے لئےایک چٹکی محبت کی شرکتادا کر رہے ہیں
یہ آواز اسی طرح پیچھا کرے گیزمیں سے فضا تک فضا سے خلا تکتمناؤں کی جاگتی داستانیں بکھیرا کرے گییہ آواز تاریخ کی بے ریا وادیوں سےنکلتی ہوئی مرحلہ مرحلہوقت کا پیچھا کرتی چلی آئی ہےخندہ ساماں گزرتی چلی آئی ہے
بجھا جو روزن زنداں تو دل یہ سمجھا ہےکہ تیری مانگ ستاروں سے بھر گئی ہوگیچمک اٹھے ہیں سلاسل تو ہم نے جانا ہےکہ اب سحر ترے رخ پر بکھر گئی ہوگیغرض تصور شام و سحر میں جیتے ہیںگرفت سایۂ دیوار و در میں جیتے ہیں
ہر طرف بکھری ہوئی رنگینیاں رعنائیاںہر قدم پر عشرتیں لیتی ہوئی انگڑائیاںبڑھ رہی ہیں گود پھیلائے ہوئے رسوائیاںاے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں
کچھ اجڑی مانگیں شاموں کیآواز شکستہ جاموں کیکچھ ٹکڑے خالی بوتل کےکچھ گھنگرو ٹوٹی پائل کےکچھ بکھرے تنکے چلمن کےکچھ پرزے اپنے دامن کےیہ تارے کچھ تھرائے ہوئےیہ گیت کبھی کے گائے ہوئےکچھ شعر پرانی غزلوں کےعنوان ادھوری نظموں کےٹوٹی ہوئی اک اشکوں کی لڑیاک خشک قلم اک بند گھڑیمت روکو انہیں پاس آنے دویہ مجھ سے ملنے آئے ہیںمیں خود نہ جنہیں پہچان سکوںکچھ اتنے دھندلے سائے ہیں
جو مٹی کے سکوروں کی طرح بکھری پڑی ہیںگلاسوں نے انہیں متروک کر ڈالازباں پر ذائقہ آتا تھا جو صفحے پلٹنے کااب انگلی کلک کرنے سے بس اکجھپکی گزرتی ہےبہت کچھ تہہ بہ تہہ کھلتا چلا جاتا ہے پردے پر
بہت خوبصورت ہو تم بہت خوبصورت ہو تمکبھی میں جو کہہ دوں محبت ہے تم سےتو مجھ کو خدا را غلط مت سمجھناکہ میری ضرورت ہو تم بہت خوبصورت ہو تمہیں پھولوں کی ڈالی پہ بانہیں تمہاریہیں خاموش جادو نگاہیں تمہاریجو کانٹے ہوں سب اپنے دامن میں رکھ لوںسجاؤں میں کلیوں سے راہیں تمہارینظر سے زمانے کی خود کو بچاناکسی اور سے دیکھو دل مت لگاناکہ میری امانت ہو تمبہت خوبصورت ہو تمہے چہرا تمہارا کہ دن ہے سنہراہے چہرا تمہارا کہ دن ہے سنہرااور اس پر یہ کالی گھٹاؤں کا پہراگلابوں سے نازک مہکتا بدن ہےیہ لب ہیں تمہارے کہ کھلتا چمن ہےبکھیرو جو زلفیں تو شرمائے بادلفرشتے بھی دیکھیں تو ہو جائیں پاگلوہ پاکیزہ مورت ہو تم بہت خوبصورت ہو تمجو بن کے کلی مسکراتی ہے اکثرشب ہجر میں جو رلاتی ہے اکثرجو لمحوں ہی لمحوں میں دنیا بدل دےجو شاعر کو دے جائے پہلو غزل کےچھپانا جو چاہیں چھپائی نہ جائےبھلانا جو چاہیں بھلائی نہ جائےوہ پہلی محبت ہو تم بہت خوبصورت ہو تم
وہ کتاب حسن وہ علم و ادب کی طالبہوہ مہذب وہ مؤدب وہ مقدس راہبہکس قدر پیرایہ پرور اور کتنی سادہ کارکس قدر سنجیدہ و خاموش کتنی با وقارگیسوئے پر خم سواد دوش تک پہنچے ہوئےاور کچھ بکھرے ہوئے الجھے ہوئے سمٹے ہوئےرنگ میں اس کے عذاب خیرگی شامل نہیںکیف احساسات کی افسردگی شامل نہیںوہ مرے آتے ہی اس کی نکتہ پرور خامشیجیسے کوئی حور بن جائے یکایک فلسفیمجھ پہ کیا خود اپنی فطرت پر بھی وہ کھلتی نہیںایسی پر اسرار لڑکی میں نے دیکھی ہی نہیںدختران شہر کی ہوتی ہے جب محفل کہیںوہ تعارف کے لیے آگے کبھی بڑھتی نہیں
تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیںمرے پلنگ پہ بکھری ہوئی کتابوں کو
کچھ دھول ہے بکھری یادوں کیکچھ گرد آلود سے موسم ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books