aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "bilkul"
تم بالکل ہم جیسے نکلےاب تک کہاں چھپے تھے بھائیوہ مورکھتا وہ گھامڑ پنجس میں ہم نے صدی گنوائیآخر پہنچی دوار توہارےارے بدھائی بہت بدھائیپریت دھرم کا ناچ رہا ہےقائم ہندو راج کرو گےسارے الٹے کاج کرو گےاپنا چمن تاراج کرو گےتم بھی بیٹھے کرو گے سوچاپوری ہے ویسی تیاریکون ہے ہندو کون نہیں ہےتم بھی کرو گے فتویٰ جاریہوگا کٹھن یہاں بھی جینادانتوں آ جائے گا پسیناجیسی تیسی کٹا کرے گییہاں بھی سب کی سانس گھٹے گیبھاڑ میں جائے شکشا وکشااب جاہل پن کے گن گاناآگے گڑھا ہے یہ مت دیکھوواپس لاؤ گیا زمانہمشق کرو تم آ جائے گاالٹے پاؤں چلتے جانادھیان نہ دوجا من میں آئےبس پیچھے ہی نظر جماناایک جاپ سا کرتے جاؤبارم بار یہی دہراؤکیسا ویر مہان تھا بھارتکتنا عالی شان تھا بھارتپھر تم لوگ پہنچ جاؤ گےبس پرلوک پہنچ جاؤ گےہم تو ہیں پہلے سے وہاں پرتم بھی سمے نکالتے رہنااب جس نرک میں جاؤ وہاں سےچٹھی وٹھی ڈالتے رہنا
ہوئے یثرب کی سمت جب راہیسید ابطحیٰ کے ہم راہیرشتے الفت کے سارے توڑ چلےاور بالکل وطن کو چھوڑ چلےگو وطن سے چلے تھے ہو کے خفاپر وطن میں تھا سب کا جی اٹکادل لگی کے بہت ملے سامانپر نہ بھولے وطن کے ریگستاندل میں آٹھوں پہر کھٹکتے تھےسنگریزے زمین بطحا کےگھر جفاؤں سے جن کی چھوٹا تھادل سے رشتہ نہ ان کا ٹوٹا تھا
کہیں ایسا نہ ہو تم بھی انہی قبروں میں کھو جاؤانہی میں دفن ہو جاؤگلابی ہو کہیں ایسا نہ ہو تم زرد ہو جاؤمحبت کی حرارت کھو کے بالکل سرد ہو جاؤسراپا درد ہو جاؤ
اک لڑکی تھی چھوٹی سیدبلی سی اور موٹی سیننھی سی اور منی سیبالکل ہی تھن متھنی سیاس کے بال تھے کالے سےسیدھے گھنگریالے سےمنہ پر اس کے لالی سیچٹی سی مٹیالی سیاس کی ناک پکوڑی سینوکیلی سی چوڑی سیآنکھیں کالی نیلی سیسرخ سفید اور پیلی سیکپڑے اس کے تھیلے سےاجلے سے اور میلے سےیہ لڑکی تھی بھولی سیبی بی سی اور گولی سیہر دم کھیل تھا کام اس کاشاداں بی بی نام تھا اس کاہنستی تھی اور روتی تھیجاگتی تھی اور سوتی تھیہر دم اس کی اماں جانکھینچا کرتی اس کے کانکہتی تھیں مکتب کو جاکھیلوں میں مت وقت گنواامی سب کچھ کہتی تھیشاداں کھیلتی رہتی تھیاک دن شاداں کھیل میں تھیآئے اس کے ابا جیوہ لاہور سے آئے تھےچیزیں ویزیں لائے تھےباکس میں تھیں یہ چیزیں سبخیر تماشا دیکھو ابابا نے آتے ہی کہاشاداں آ کچھ پڑھ کے سناگم تھی اک مدت سے کتابکیا دیتی اس وقت جوابدو بہنیں تھیں شاداں کیچھوٹی ننھی منی سینام تھا منجھلی کا سیماںگڑیا سی ننھی ناداںوہ بولی اے ابا جیاب تو پڑھتی ہوں میں بھیبلی ہے سی اے ٹی کیٹچوہا ہے آر اے ٹی ریٹمنہ ماؤتھ ہے ناک ہے نوزاور گلاب کا پھول ہے روزمیں نے ابا جی دیکھاخوب سبق ہے یاد کیاشاداں نے اس وقت کہامیں نے ہی تو سکھایا تھالیکن ابا نے چپ چاپکھولا باکس کو اٹھ کر آپاس میں جو چیزیں نکلیںساری سیماں کو دے دیںاک چینی کی گڑیا تھیاک جادو کی پڑیا تھیاک ننھی سی تھی موٹرآپ ہی چلتی تھی فر فرگیندوں کا اک جوڑا تھااک لکڑی کا گھوڑا تھااک سیٹی تھی اک باجاایک تھا مٹی کا راجاشاداں کو کچھ بھی نہ ملایعنی کھیل کی پائی سزااب وہ غور سے پڑھتی ہےپورے طور سے پڑھتی ہے
راہ نورد شوق کو رہ میں کیسے کیسے یار ملےابر بہاراں عکس نگاراں خال رخ دلدار ملےکچھ بالکل مٹی کے مادھو کچھ خنجر کی دھار ملےکچھ منجدھار میں کچھ ساحل پر کچھ دریا کے پار ملےہم سب سے ہر حال میں لیکن یوں ہی ہاتھ پسار ملےصرف ان کی خوبی پہ نظر کی اس آباد خرابے میںدیکھو ہم نے کیسے بسر کی اس آباد خرابے میں
لمبے وقت سے سوچ رہا ہوںجانے کیوں ایسا ہوں میںملنے سے گھبراتا ہوں میں جھوٹ نہیں کہہ پاتا ہوںاس کے شکوے اس کی شکایت جھگڑے سے ڈر جاتا ہوںادھر ادھر کی باتیں مجھ کو ذرا نہ خوش کر پاتی ہیںجانے کیوں ایسا ہوں میںدوست نہیں بن پاتے میرےرشتے نہیں سنبھلتے ہیںبے جا محبت بے جا تکلفدونوں اوچھے لگتے ہیںاوروں کی کمیوں کو بالکلاچھا نہیں کہہ پاتا ہوںجانے کیوں ایسا ہوں میںاچھے بھلے کاموں میں اکثردیر بہت کر دیتا ہوںامی سے باتیں کرنی ہوں بیٹی کے اسکول ہو جاناکوئی نیا ناول پڑھنا ہو کوئی کہانی لکھنی ہوسب کو ٹالتا رہتا ہوںجانے کیوں ایسا ہوں میںبھیڑ بھرے شہروں سے مجھ کووحشت سی ہو جاتی ہےگاؤں جنگل سنسان جگہیںاکثر خوش آ جاتی ہیںکوئی الھڑ چہرہ دیکھوں من کو وہ بھا جاتا ہےجانے کیوں ایسا ہوں میںپیڑوں کے پیراہن دیکھوں پھولوں کی خوشبو کو سونگھوںرنگ برنگی تتلیاں پکڑوں ہلکی ہلکی بوندیں بھیٹھنڈی نرم ہوائیں جب جب چپکے سے چھو جاتی ہیںیا کوئل کی بولی سن لوں من بیاکل ہو جاتا ہےجانے کیوں ایسا ہوں میںنٹ بنجارن سنیاسی اور کھیل تماشے والے لوگکھنڈر ویرانہ جلتی دھوپ پھولی سرسوں دھان کے کھیتلال پتنگ اور پیلی مینا اندر دھنش اور ندی کی دھارآتے ہیں جب خواب میں میرے دیوانہ ہو جاتا ہوںجانے کیوں ایسا ہوں میںبہت مجھے اچھا کہتے ہیں برا بھی کوئی کہتا ہےسامنے میری مدح سرائی پیچھے گالی دیتا ہےہمدردی ہے کوئی دکھاتا کوئی سازش کرتا ہےپھر بھی چپ چپ سا رہتا ہوں جیسے بہت انجان ہوں میںجانے کیوں ایسا ہوں میںتھوڑی سی آزادی مجھ کو تھوڑا بہت وقت کا زیاںکبھی کبھار کی اچھی باتیں کسی کسی کا سچا پیارچھوٹی موٹی کوئی شرارت کھلکھلا کر ہنسنا بھییہ سب خوش کر جاتے ہیں جب تولگتا ہے کہ زندہ ہوںجانے کیوں ایسا ہوں میں
تمہارے اور اپنے عشق کی ہر کیفیت سے آشنا ہوں میںمگر جاناںتمہیں بالکل بھلا دینے کی جانے کیفیت کیا ہےمجھے محسوس ہوتا ہےکہ مرگ ذات کے احساس سے بھر جاؤں گا فوراًتمہیں میں بھولنا چاہوں گا تو مر جاؤں گا فوراً
ہند کا آزاد ہو جانا کوئی آساں نہیںدیکھنا تم کو ابھی کیا کیا دکھایا جائے گادیکھنا تم سے ابھی کتنے کئے جائیں گے مکرکس طرح تم کو ابھی چکر میں لایا جائے گاتم میں ڈالا جائے گا اک سخت و نازک تفرقہتم کو شہ دے دے کے آپس میں لڑایا جائے گاپیشوایان مذاہب کو ملیں گی رشوتیںڈھونگ تبلیغ اور شدھی کا رچایا جائے گادھرم رکشا کے لئے تم سے لئے جائیں گے عہدتم کو مذہب اپنا خطرے میں دکھایا جائے گالیڈروں سے ہوں گے وعدے خلعت و انعام کےقلت و کثرت کا ہنگامہ اٹھایا جائے گاتم کو پروانہ عطا ہوگا خطاب و جاہ کاتم کو عہدے دے کے لالچ میں پھنسایا جائے گاگر یہ تدبیریں مقدر سے نہ راس آئیں تو پھردوسری صورت سے تم کو ڈگمگایا جائے گاانتہائی بربریت سے لیا جائے گا کامبند کر کے تم کو جیلوں میں سڑایا جائے گادانہ پانی کر دیا جائے گا بالکل تم پہ بندتم کو بھوکوں مار کے قبضے میں لایا جائے گاگرم لوہے سے تمہارے جسم داغے جائیں گےتم کو کوڑے مار کر الو بنایا جائے گاجائیدادیں سب تمہاری ضبط کر لی جائیں گیبال بچوں پر تمہارے ظلم ڈھایا جائے گاباوجود اس کے بھی تم قائم رہے ضد پر اگربے تأمل تم کو پھانسی پر چڑھایا جائے گااس طرح بھی تم اگر لائے نہ ابرو پر شکنسر تمہارے پاؤں پر آخر جھکایا جائے گا
تین ہماری بہنیں چھوٹیمل کر کھائیں آدھی روٹینا پتلی نا بالکل موٹیمیدو ان میں سب سے چھوٹیمیدو نے اک طوطا پالااس طوطے کا رنگ نرالانیچے نیلا اوپر کالاٹڈے ایسی آنکھوں والااس طوطے کی ہوئی چڑھائیدن بھر کر کے مغز کھپائیشام کو دی میدو نے دہائیاس طوطے کو لینا بھائیلاکھ پڑھائیں خاک نہ بولےدم نہ ہلائے چونچ نہ کھولےبہت کہو تو ہولے ہولےفرش پہ مارے رہ رہ ٹھولےبھائی نے سوچا اس کو بلائیںچھیڑا جو اس کو دائیں بائیںطوطا بولا کائیں کائیںمیدو بولی ہائیں ہائیںمیں نے اس کو طوطا سمجھایہ طوطا تو کوا نکلااس کوے کی دم میں تاگااس کے پیچھے چھوڑو کتا
کیا زندگی ہماریسب کچھ ہے اپنے بس میںآزاد ہیں فضائیںدنیا ہے دسترس میںکیا کیا ہمیں ملا ہےکچھ وقت کچھ برس میںلیکن جو مڑ کے دیکھیںتھی اک عجب کہانیدشوار کیسا جینامشکل تھی زندگانیاک آفت مسلسلآلام ناگہانیروزانہ صبح اٹھناآسان تھا نہ اتناہر روز ڈانٹ کھاناہر روز کا سسکناہر بات کے تماشےہر بات پر جھگڑناابا وہیں کھڑے ہیںاخبار پڑھ رہے ہیںکیا کام ہم کو دے دیںہر وقت سوچتے ہیںاولاد کو تو اپنینوکر سمجھ رہے ہیںامی کے سامنے توبالکل نہ منہ کو کھولیںہم بد تمیز ٹھہرےگو اچھی بات بولیںچپ چاپ ہی رہیں بسکتنا بھی خوار ہو لیںپانی برس رہا ہےپر دل ترس رہا ہےوہ سائیکل کھڑی ہےمانجھا وہیں رکھا ہےکنچے یہاں پڑے ہیںبلا وہاں کھڑا ہےلیکن نہیں ہمیں کیالادے کمر پہ بستہاسکول جا رہے ہیںتاریخ کا ہے پرچہاچھا نہیں ہوا توبس بند جیب خرچہاردو کا کام پوراکل رات کر لیا تھالیکن ہمیں ریاضیبالکل سمجھ نہ آیااللہ کے ہیں بندےہم سے ہے واسطہ کیاامی نے صرف ڈانٹابالوں میں تیل ڈالابھیا نے صرف جھڑکاباجی نے خوب ٹالاسب کے لئے ہے جی میںنفرت کا ایک جالابھیا کی سائیکل کیکس نے ہوا نکالیہم کو بھلا خبر کیاہر شخص ہے سوالیاس نے ہماری چڑیااس دن جو توڑ ڈالیسچ ہے بہت ستم تھاگویا تھے اک کھلوناجیسے ہو سب برابرگھر میں نہ ہونا ہونادیکھا نہیں کسی نےچھپ چھپ ہمارا رونااب ہو گیا ہے اپنا ہر چیز پر اجارہسب اپنی ذمہ داریسب فیصلے ہمارےہر چیز اختیاریلیکن وہ بچپنے کی ہے یاد پیاری پیاریکیا زندگی ہماریکیا زندگی ہماری
اتوار کی دوپہر تو ہمیشہ ہی اچھی ہوتی ہےبالکل تمہاری طرحبے فکر بے پرواہ آزادمیں نے بھی ہمیشہ اسے اپنے ہی طریقے سے بتایا ہےپر جانے کیوںکچھ عرصے سے جب بھی یہ سکون بھرا وقت اپنے ساتھ بتانے کی کوشش کیتم دور دراز کے وقتوں سے نکل کے چپ چاپ میرے قریب بیٹھ جاتے ہومیرے ہاتھوں کی کھلی کتاب بند کر کےاپنے ہی قصہ سنانے لگتے ہودسمبر کی سردیبارش کی بوندےاور اتوار کی دوپہروہی قصہ جو تم نے جیا تھا کبھیمیرے ساتھلگ بھگ ہر ہفتہ دہراتے ہواور مجھے احساس بھی نہیں ہوتا کہ میں قید ہوںکچھ آزاد سے لمحوں میں ہمیشہ کے لیے
چہرہ اس کا سرخ گلابہونٹ بھرے یاقوت سے ہیںجھیل سی گہری کالی آنکھیںچاند جبیں پہ رہتا ہےزلفوں میں عنبر کی خوشبوتاج محل سا اس کا جسمغنچوں سے بھری ڈالی کی طرح وہلہراتی بل کھاتی ہےبے خوفی بے فکری میںمست مگن سی رہتی ہےجیسے مدھوبن کی بالاجیسے حسینہ گاؤں کیجیسی حسرتؔ کی محبوبہجیسی پیاری شاہ قطبؔ کیجیسے غزل وہ میرؔ کی ہوہاں وہ بالکل ایسی ہی ہےہاں وہ میری معشوقہ ہےمیری ہی معشوقہ ہے وہ
جہاں میں ہر طرف ہے علم ہی کی گرم بازاریزمیں سے آسماں تک بس اسی کا فیض ہے جارییہی سرچشمۂ اصلی ہے تہذیب و تمدن کابغیر اس کے بشر ہونا بھی ہے اک سخت بیماریبناتا ہے یہی انسان کو کامل ترین انساںسکھاتا ہے یہی اخلاق و ایثار و روا دارییہی قوموں کو پہنچاتا ہے بام اوج و رفعت پریہی ملکوں کے اندر پھونکتا ہے روح بیداریاسی کے نام کا چلتا ہے سکہ سارے عالم میںاسی کے سر پہ رہتا ہے ہمیشہ تاج سرداریاسی کے سب کرشمے یہ نظر آتے ہیں دنیا میںاسی کے دم سے رونق عالم امکاں کی ہے سارییہ لا سلکی، یہ ٹیلیفون یہ ریلیں، یہ طیارےیہ زیر آب و بالائے فلک انساں کی طراریحدود استوا قطبین سے یوں ہو گئے مدغمکہ ہے اب ربع مسکوں جیسے گھر کی چار دیواریسمندر ہو گئے پایاب صحرا بن گئے گلشنکیا سائنس نے بھی اعتراف عجز و ناچاریبخار و برق کا جرار لشکر ہے اب آمادہاگلوا لے زمین و آسماں کی دولتیں ساریغرض چاروں طرف اب علم ہی کی بادشاہی ہےکہ اس کے بازوؤں میں قوت دست الٰہی ہےنگاہ غور سے دیکھو اگر حالات انسانیتو ہو سکتا ہے حل یہ عقدۂ مشکل بہ آسانیوہی قومیں ترقی کے مدارج پر ہیں فائق ترکہ ہے جن میں تمدن اور سیاست کی فراوانیاسی کے زعم میں ہے جرمنی چرخ تفاخر پراسی کے زور پر مریخ کا ہمسر ہے جاپانیاسی کی قوت بازو پہ ہے مغرور امریکہاسی کے بل پر لڑکی ہو رہی ہے رستم ثانیاشارے پر اسی کے نقل و حرکت ہے سب اٹلی کیاسی کے تابع فرمان ہیں روسی و ایرانیاسی کے جنبش ابرو پہ ہے انگلینڈ کا غرہاسی کے ہیں سب آوردے فرانسیسی و البانیکوئی ملک اب نہیں جن میں یہ جوہر ہو نہ رخشندہنہ غافل اس سے چینی ہیں نہ شامی ہیں نہ افغانیبغیر اس کے جو رہنا چاہتے ہیں اس زمانے میںسمجھ رکھیں فنا ان کے لیے ہے حکم ربانیزمانہ پھینک دے گا خود انہیں قعر ہلاکت میںوہ اپنے ہاتھ سے ہوں گے خود اپنی قبر کے بانیزمانے میں جسے ہو صاحب فتح و ظفر ہوناضروری ہے اسے علم و ہنر سے بہرہ ور ہوناترقی کی کھلی ہیں شاہراہیں دہر میں ہر سونظر آتا ہے تہذیب و تمدن سے جہاں مملوچلے جاتے ہیں اڑتے شہسواران فلک پیماخراج تہنیت لیتے ہوئے کرتے ہوئے جادوگزرتے جا رہے ہیں دوسروں کو چھوڑتے پیچھےکبھی ہوتا ہے صحرا مستقر ان کا کبھی ٹاپوکمر باندھے ہوئے دن رات چلنے پر ہیں آمادہدماغ افکار سے اور دل وفور شوق سے ملولالگ رہ کر خیال زحمت و احساس راحت سےلگے ہیں اپنی اپنی فکر میں با خاطر یکسومگر ہم ہیں کہ اصلاً حس نہیں ہم کو کوئی اس کیہمارے پائے ہمت ان مراحل میں ہیں بے قابوجہاں پہلا قدم رکھا تھا روز اولیں ہم نےنہیں سرکے اس اپنے اصلی مرکز سے بقدر مویہ حالت ہے کہ ہم پر بند ہے ہر ایک دروازہنظر آتا نہیں ہرگز کوئی امید کا پہلومگر واحسرتا پھر بھی ہم اپنے زعم باطل میںسمجھتے ہیں زمانے بھر سے آگے خود کو منزل میںضرورت ہے کہ ہم میں روشنی ہو علم کی پیدانظر آئے ہمیں بھی تاکہ اصل حالت دنیاہمیں معلوم ہو حالات اب کیا ہیں زمانے کےہمارے ساتھ کا جو قافلہ تھا وہ کہاں پہنچاجو پستی میں تھے اب وہ جلوہ گر ہیں بام رفعت پرجو بالک بے نشاں تھے آج ہے ان کا علم برپاہماری خوبیاں سب دوسروں نے چھین لیں ہم سےزمانے نے ہمیں اتنا جھنجھوڑا کر دیا ننگاروا داری، اخوت، دوستی، ایثار ،ہمدردیخیال ملک و ملت، درد قوم، اندیشۂ فردایہ سب جوہر ہمارے تھے کبھی اے واۓ محرومیبنے ہیں خوبیٔ قسمت سے جو اب غیر کا حصااگر ہو جائیں راغب اب بھی ہم تعلیم کی جانبتو کر سکتے ہیں اب بھی ملک میں ہم زندگی پیدابہت کچھ وقت ہم نے کھو دیا ہے لیکن اس پر بھیاگر چاہیں تو کر دیں پیش رو کو اپنے ہم پسپانکما کر دیا ہے کاہلی نے گو ہمیں لیکنرگوں میں ہے ہماری خون ابھی تک دوڑتا پھرتاکوئی مخفی حرارت گر ہمارے دل کو گرما دےہمارے جسم میں پھر زندگی کی روح دوڑا دےوطن والو بہت غافل رہے اب ہوش میں آؤاٹھو بے دار ہو عقل و خرد کو کام میں لاؤتمہارے قوم کے بچوں میں ہے تعلیم کا فقداںیہ گتھی سخت پیچیدہ ہے اس کو جلد سلجھاؤیہی بچے بالآخر تم سبھوں کے جانشیں ہوں گےتم اپنے سامنے جیسا انہیں چاہو بنا جاؤبہت ہی رنج دہ ہو جائے گی اس وقت کی غفلتکہیں ایسا نہ ہو موقع نکل جانے پہ پچھتاؤیہ ہے کار اہم دو چار اس کو کر نہیں سکتےخدا را تم بھی اپنے فرض کا احساس فرماؤیہ بوجھ ایسا نہیں جس کو اٹھا لیں چار چھ مل کرسہارا دو، سہارا دوسروں سے اس میں دلواؤجو ذی احساس ہیں حاصل کرو تم خدمتیں ان کیجو ذی پروا ہیں ان کو جس طرح ہو اس طرف لاؤغرض جیسے بھی ہو جس شکل سے بھی ہو یہ لازم ہےتم اپنے قوم کے بچوں کو اب تعلیم دلواؤاگر تم مستعدی کو بنا لو گے شعار اپنایقیں جانو کہ مستقبل ہے بے حد شاندار اپناخداوندا! دعاؤں میں ہماری ہو اثر پیداشب غفلت ہماری پھر کرے نور سحر پیداہمارے سارے خوابیدہ قویٰ بے دار ہو جائیںسر نو ہو پھر ان میں زندگی کی کر و فر پیداہمیں احساس ہو ہم کون تھے اور آج ہم کیا ہیںکریں ماحول ملکی کے لیے گہری نظر پیداملا رکھا ہے اپنے جوہر کامل کو مٹی میںہم اب بھی خاک سے کر سکتے ہیں لعل و گہر پیدااگر چاہیں تو ہم مشکل وطن کی دم میں حل کر دیںہزاروں صورتیں کر سکتے ہیں ہم کارگر پیدابظاہر گو ہم اک تودہ ہیں بالکل راکھ کا لیکناگر چاہیں تو خاکستر سے کر دیں سو شرر پیداوطن کا نکبت و افلاس کھو دیں ہم اشارے میںجہاں ٹھوکر لگا دیں ہو وہیں سے کان زر پیداہم اس منزل کے آخر پر پہنچ کر بالیقیں دم لیںاگر کچھ تازہ دم ہو جائیں اپنے ہم سفر پیداجو کوشش متحد ہو کر کہیں اک بار ہو جائےیقیں ہے ملک کی قسمت کا بیڑا پار ہو جائے
ابھی بالکل ابھی میں نے کھلی آنکھوں سے دیکھا ہےکہ منظر کیسے بدلا ہےوہی مسجد کا دروازہ وہی ہے پیڑ گولر کااور اس گولر کے نیچےاک حسیں آنکھوں سنہری چوٹیوں والیوہ لڑکی میری جگنی تھی
سچ ہے اب ہم اپنی اپنی دنیاؤں میں گم رہتے ہیںیہ بھی سچ ہم دونوں بالکل تنہا جینا سیکھ گئے ہیںسچ ہے چاہت کی وہ باتیںدونوں ہی کو یاد نہیں ہیںیہ بھی سچ تجدید وفا ابنا ممکن ہےسب کچھ سچ ہےلیکن تم سے آنکھ ملاتے دل ڈرتا ہے
آگے پیچھے دائیں بائیںکائیں کائیں کائیں کائیںصبح سویرے نور کے تڑکےمنہ دھو دھا کر ننھے لڑکےبیٹھتے ہیں جب کھانا کھانےکوے لگتے ہیں منڈلانےتوبہ توبہ ڈھیٹ ہیں کتنےکوے ہیں یا کالے فتنےلاکھ ہنکاؤ لاکھ اڑاؤمنہ سے چیخو ہاتھ ہلاؤگھورو گھڑکو یا دھتکاروکوئی چیز اٹھا کر ماروکوے باز نہیں آتے ہیںجاتے ہیں پھر آ جاتے ہیںہر دم ہے کھانے کی عادتشور مچانے کی ہے عادتبچوں سے بالکل نہیں ڈرتاان کی کچھ پروا نہیں کرتادیکھا ننھا بھولا بھالاچھین لیا ہاتھوں سے نوالاکوئی اشارہ ہو یا آہٹتاڑ کے اڑ جاتا ہے جھٹ پٹاب کرنے دو کائیں کائیںہم کیوں اپنی جان کھپائیں
ہے دھوم سے ہولی کی کہیں شور کہیں غلہوتا نہیں کچھ رنگ چھڑکنے میں تأملدف بجتے ہیں سب ہنستے ہیں اور دھوم ہے بالکلہولی کی خوشی میں تو نہ کر ہم سے تغافلاے جان ہمارا بھی کہا مان ادھر دیکھ
میرے لیے تمہارا پیار بالکل ویسا تھاجیسے چائے کے آخری گھونٹ میں دوسرے کپ کی طلبدوسرا کپ جس کی قسمت میں اکثر لکھا ہوتا ہےمیز کے کنارے پڑے پڑے ٹھنڈا ہوناخیر یہی فرق ہے انسان اور چائے میںکہ انسان کو پہلی محبت میں ہی دوسرے کپ والی بے رخی مل جاتی کبھی
نیلی پیلی ہری گلابیمیں نے سب رنگین نقابیںاپنی جیبوں میں بھر لی ہیںاب میرا چہرہ ننگا ہےبالکل ننگا
دوسری جو ہیں پڑھنے میں گو تیز ہیںان کو دیکھو تو بالکل ہی انگریز ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books