aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "bindiyaa"
اگنی ماں سے بھی نہ جینے کی سند جب پائیزندگی کے نئے امکان نے لی انگڑائیاور کانوں میں کہیں دور سے آواز آئیبدھم شرنم گچھامیدھمم شرنم گچھامیسنگھم شرنم گچھامیچار ابرو کا صفایا کر کےبے سلے وستر سے ڈھانپا یہ بدنپونچھ کے پتنی کے ماتھے سے دمکتی بندیاسوتے بچوں کو بنا پیار کیےچل پڑا ہاتھ میں کشکول لیےچاہتا تھا کہیں بھکشا ہی میں جیون مل جائےجو کبھی بند نہ ہو دل کو وہ دھڑکن مل جائےمجھ کو بھکشا میں مگر زہر ملاہونٹ تھرانے لگے جیسے کرے کوئی گلہجھک کے سولی سے اسی وقت کسی نے یہ کہاتیرے اک گال پہ جس پل کوئی تھپڑ مارےدوسرا گال بھی آگے کر دےتیری دنیا میں بہت ہنسا ہےاس کے سینے میں اہنسا بھر دےکہ یہ جینے کا طریقہ بھی ہے انداز بھی ہےتیری آواز بھی ہے میری آواز بھی ہےمیں اٹھا جس کو اہنسا کا سبق سکھلانےمجھ کو لٹکا دیا سولی پہ اسی دنیا نے
ایک پتھر کی ادھوری مورتچند تانبے کے پرانے سکےکالی چاندی کے عجب سے زیوراور کئی کانسے کے ٹوٹے برتنایک صحرا ملےزیر زمیںلوگ کہتے ہیں کہ صدیوں پہلےآج صحرا ہے جہاںوہیں اک شہر ہوا کرتا تھااور مجھ کو یہ خیال آتا ہےکسی تقریبکسی محفل میںسامنا تجھ سے مرا آج بھی ہو جاتا ہےایک لمحے کوبس اک پل کے لئےجسم کی آنچاچٹتی سی نظرسرخ بندیا کی دمکسرسراہٹ تری ملبوس کیبالوں کی مہکبے خیالی میں کبھیلمس کا ننھا سا پھولاور پھر دور تک وہی صحراوہی صحرا کہ جہاںکبھی اک شہر ہوا کرتا تھا
وہ شہر دوست بھیرخصت ہوا کہ جس نے سداہمارے دل میں کھلائے تھے چاہتوں کے گلابخمار باقی ہے اب تک ہماری آنکھوں میںحسین لمحوں کا جو اس کے دم سے روشن تھےتمہارے بعد بھی آئیں گے یوں تو سب موسمبہت ستائیں گے لیکن ہر ایک موقعہ پرجو ہوتے تم تویہ کام اس طرح کرتےکریں گے یاد تمہیں ہم کئی حوالوں سےعجیب شخص تھاکڑوی کسیلی سن کر بھینہ تیز بولا کسی سےنہ وہ ہوا ناراضسجائے رہتا تھا ہونٹوں پہ چاہتوں کے گلاببچھڑ رہے ہو تو وعدہ کرو مرے ہمدمکبھی جو گزرو ادھر سے تو بھول مت جانایہیں ملیں گے کسی مولسری کے پیڑ تلےکریں گے باتیں شرنگار رس کے دوہوں کیکریں گے باتیں بہاری کی نائیکاؤں کیکریں گے باتیں کسی کے رسیلے ہونٹوں کیمہکتی زلفوں کی کاجل کی اس کی بندیا کیلچکتی شاخ سے جسموں کیچاند چہروں کیبچھڑ رہے ہو تو وعدہ کروکہ آؤ گےکبھی جو گزرو ادھر سے تو بھول مت جاناتمہارے ہجر کے موسم کی سبز چادر کومیں اپنے تن پہ سجائےیہیں ملوں گا تمہیں
جلتی بجھتی سی روشنی کے پرےہم نے اک رات ایسی پائی تھیروح کو دانت سے جس نے کاٹاجس کی ہر ادا مسکرائی تھیجس کی بھنچی ہوئی ہتھیلی سےسارے آتش فشاں ابل اٹھےجس کے ہونٹوں کی سرخی چھوتے ہیآگ سی تمام جنگلوں میں لگیراکھ ماتھے پہ چٹکی بھر کے رکھیخون کی جیوں بندیا لگائی ہوکس قدر جوان تھیمسمسی تھیمہنگی تھی وہ راتہم نے جو رات یوں ہی پائی تھی
چکی پہ آٹا پیسے سہاگنماتھے پہ بندیا ہاتھوں میں کنگنتھالی کٹورا چوکا رسوئیرہتی ہو جیسے کچھ کھوئی کھوئیجلتے توے پر انگلی جلا لے
سفر میں ہوں اور رکا کھڑا ہوںمیں چاروں سمتوں میں چل رہا ہوں مگر کہاں ہوںوہیں جہاں سرخ روشنائی کا ایک قطرہکسی قلم کی کثیف نب سے ٹپک پڑا ہےمیں خود بھی شاید کسی قلم سے گرا ہوا ایک سرخ قطرہ ہوںزندگی کی سجل جبیں پر چمکتی بندیا سی بن گیا ہوںمگر میں بندیا نہیں ہوں شاید کہ وہ تو تقدیس کا نشاں ہےدلوں کے دھاگوں کی اک گرہ ہےگرہ جو صدیوں میں بننے والے حسین رشتوں کا آشرم ہےجو آنے والے تڑپتی صدیوں کی ابتدا ہےگرہ تو جنکشن ہے پٹریوں کا مسافروں کا نئی نویلی رفاقتوں کامحبتوں کا اذیتوں کامگر میں تنہا ہوں بے کراں وسعتوں میں تنہاسفید ماضی سفید فردا سفید یہ لمحۂ عبادتکہ جس پہ کوئی نہیں عبارتسفید ماتھے پہ سرخ دھبہ ہوںابتدا انتہا کے دھاگوں سے کٹ چکا ہوںمیں سرخ دھبہ ہوںکپکپاتے لطیف عکسوں کا سلسلہ ہوںتمام چہرے جو تیرے اندر سے جھانکتے ہیںمرے ہی چہرے کی جھلکیاں ہیںمرے ہی سینے کی دھڑکنیں ہیںیہ تیز رنگوں کے تند دریاجو دکھ کے کوہ گراں سے رس کرزمیں کی بنجر اداس سی سلطنت کو چھو کراس ایک بے انت سرخ نقطے کے بحر ظلمات میں گرے ہیںمرے ہی بے نام دست و پا ہیںیہ جگمگاتی سی کہکشائیں جو ابتدا سےخلا کی ظلمت میں قید باہر کو اڑ رہی ہیںگرہیں بنی ہیںوہیں کھڑی ہیںوہیں جہاں سرخ روشنائی کا ایک قطرہکسی قلم کی کثیف نب سے ٹپک پڑا ہےوہ ایک قطرہ جو میرا دل ہےجو میرے عکسوں کا سلسلہ ہےجو میرے ہونے سے سرخ رو ہےجو میری پابستہ آرزو ہے
اک دن پارک کی بنچ پہ یوں ہیکیا جانے کیا سوچ کے تم نےبیٹھے بیٹھے اپنی بندیامیرے ماتھے پر چپکا دیاور ہنسیں تم آئے ہائےاس دن بندیا لگا کے جب میںخوش تھا نہ کہ شرمندہ تھاتب ہی میں نے جان لیا تھاشاید مجھ کو عشق ہوا ہے
میں ان فضاؤں میں سانس لیتا ہوںجن میں تم سانس لے رہی ہومیں تیری چنری کو تان کر خود پہ رات تخلیق کر رہا ہوںتری ہی بندیا سے نور لے کرمیں رات کو دن بنا رہا ہوں
دھل گئی رات کے ماتھے کی دمکتی بندیاتیلیاں نور کی خوابیدہ نگاہوں میں چبھیںپھر رلے خاک میں شبنم کے لرزتے موتییوں بجھی شمعیں بہاروں کی کہ دیکھی نہ گئیں
میرے بھوپال اے پیار کی انجمنسورماؤں کے گھر عاشقوں کے وطنتیری تہذیب میں ایکتا کی جھلکتیرے چہرے پہ ہے علم و فن کی دمکنغمہ و شعر تیری فضا میں جواںتیرے ذروں میں ہستی ہوئی کہکشاںتیرے ماتھے پہ ہندی کی بندیا لگیاور اردو کی مالا گلے میں پڑیاس ترے روپ کے عاشقوں میں ہیں ہمہم جو اہل محبت ہیں اہل قلمتیرے تالاب دل کو لبھاتے ہوئےراستے کوہ میں پیچ کھاتے ہوئےمندروں میں بھجن مسجدوں میں اذاںتجھ میں کشمیر ثانی کی ہیں وادیاںروز و شب کتنے پیارے ہیں اس شہر میںدوست ہی سب ہمارے ہیں اس شہر میںشہر بھوپال اے گلشن رنگ و بوتو رہے یونہی ہر دم جواں خوبرو
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہےپر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہےقدسی الاصل ہے رفعت پہ نظر رکھتی ہےخاک سے اٹھتی ہے گردوں پہ گزر رکھتی ہےعشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مراآسماں چیر گیا نالۂ بیباک مراپیر گردوں نے کہا سن کے کہیں ہے کوئیبولے سیارے سر عرش بریں ہے کوئیچاند کہتا تھا نہیں اہل زمیں ہے کوئیکہکشاں کہتی تھی پوشیدہ یہیں ہے کوئیکچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھامجھ کو جنت سے نکالا ہوا انساں سمجھاتھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیاعرش والوں پہ بھی کھلتا نہیں یہ راز ہے کیاتا سر عرش بھی انساں کی تگ و تاز ہے کیاآ گئی خاک کی چٹکی کو بھی پرواز ہے کیاغافل آداب سے سکان زمیں کیسے ہیںشوخ و گستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیںاس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہےتھا جو مسجود ملائک یہ وہی آدم ہےعالم کیف ہے دانائے رموز کم ہےہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہےناز ہے طاقت گفتار پہ انسانوں کوبات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کوآئی آواز غم انگیز ہے افسانہ ترااشک بیتاب سے لبریز ہے پیمانہ تراآسماں گیر ہوا نعرۂ مستانہ تراکس قدر شوخ زباں ہے دل دیوانہ تراشکر شکوے کو کیا حسن ادا سے تو نےہم سخن کر دیا بندوں کو خدا سے تو نےہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیںراہ دکھلائیں کسے رہرو منزل ہی نہیںتربیت عام تو ہے جوہر قابل ہی نہیںجس سے تعمیر ہو آدم کی یہ وہ گل ہی نہیںکوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیںڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیںہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیںامتی باعث رسوائی پیغمبر ہیںبت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیںتھا براہیم پدر اور پسر آزر ہیںبادہ آشام نئے بادہ نیا خم بھی نئےحرم کعبہ نیا بت بھی نئے تم بھی نئےوہ بھی دن تھے کہ یہی مایۂ رعنائی تھانازش موسم گل لالۂ صحرائی تھاجو مسلمان تھا اللہ کا سودائی تھاکبھی محبوب تمہارا یہی ہرجائی تھاکسی یکجائی سے اب عہد غلامی کر لوملت احمد مرسل کو مقامی کر لوکس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہےہم سے کب پیار ہے ہاں نیند تمہیں پیاری ہےطبع آزاد پہ قید رمضاں بھاری ہےتمہیں کہہ دو یہی آئین وفاداری ہےقوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیںجذب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیںجن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن تم ہونہیں جس قوم کو پروائے نشیمن تم ہوبجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہوبیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہوہو نکو نام جو قبروں کی تجارت کر کےکیا نہ بیچوگے جو مل جائیں صنم پتھر کےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا کس نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا کس نےمیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا کس نےمیرے قرآن کو سینوں سے لگایا کس نےتھے تو آبا وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہوہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہوکیا کہا بہر مسلماں ہے فقط وعدۂ حورشکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعورعدل ہے فاطر ہستی کا ازل سے دستورمسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حور و قصورتم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیںجلوۂ طور تو موجود ہے موسیٰ ہی نہیںمنفعت ایک ہے اس قوم کا نقصان بھی ایکایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایکحرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایککچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایکفرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیںکیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیںکون ہے تارک آئین رسول مختارمصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیارکس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعار اغیارہو گئی کس کی نگہ طرز سلف سے بے زارقلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیںکچھ بھی پیغام محمد کا تمہیں پاس نہیںجا کے ہوتے ہیں مساجد میں صف آرا تو غریبزحمت روزہ جو کرتے ہیں گوارا تو غریبنام لیتا ہے اگر کوئی ہمارا تو غریبپردہ رکھتا ہے اگر کوئی تمہارا تو غریبامرا نشۂ دولت میں ہیں غافل ہم سےزندہ ہے ملت بیضا غربا کے دم سےواعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہیبرق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہیرہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہیفلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہیمسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہےیعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہےشور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابودہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجودوضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنودیہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہودیوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہوتم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہودم تقریر تھی مسلم کی صداقت بیباکعدل اس کا تھا قوی لوث مراعات سے پاکشجر فطرت مسلم تھا حیا سے نمناکتھا شجاعت میں وہ اک ہستی فوق الادراکخود گدازی نم کیفیت صہبایش بودخالی از خویش شدن صورت مینا یش بودہر مسلماں رگ باطل کے لیے نشتر تھااس کے آئینۂ ہستی میں عمل جوہر تھاجو بھروسا تھا اسے قوت بازو پر تھاہے تمہیں موت کا ڈر اس کو خدا کا ڈر تھاباپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہوپھر پسر قابل میراث پدر کیونکر ہوہر کوئی مست مئے ذوق تن آسانی ہےتم مسلماں ہو یہ انداز مسلمانی ہےحیدری فقر ہے نے دولت عثمانی ہےتم کو اسلاف سے کیا نسبت روحانی ہےوہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کراور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کرتم ہو آپس میں غضب ناک وہ آپس میں رحیمتم خطا کار و خطا بیں وہ خطا پوش و کریمچاہتے سب ہیں کہ ہوں اوج ثریا پہ مقیمپہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلب سلیمتخت فغفور بھی ان کا تھا سریر کے بھییوں ہی باتیں ہیں کہ تم میں وہ حمیت ہے بھیخودکشی شیوہ تمہارا وہ غیور و خوددارتم اخوت سے گریزاں وہ اخوت پہ نثارتم ہو گفتار سراپا وہ سراپا کردارتم ترستے ہو کلی کو وہ گلستاں بکناراب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کینقش ہے صفحۂ ہستی پہ صداقت ان کیمثل انجم افق قوم پہ روشن بھی ہوئےبت ہندی کی محبت میں برہمن بھی ہوئےشوق پرواز میں مہجور نشیمن بھی ہوئےبے عمل تھے ہی جواں دین سے بدظن بھی ہوئےان کو تہذیب نے ہر بند سے آزاد کیالا کے کعبے سے صنم خانے میں آباد کیاقیس زحمت کش تنہائی صحرا نہ رہےشہر کی کھائے ہوا بادیہ پیما نہ رہےوہ تو دیوانہ ہے بستی میں رہے یا نہ رہےیہ ضروری ہے حجاب رخ لیلا نہ رہےگلۂ جور نہ ہو شکوۂ بیداد نہ ہوعشق آزاد ہے کیوں حسن بھی آزاد نہ ہوعہد نو برق ہے آتش زن ہر خرمن ہےایمن اس سے کوئی صحرا نہ کوئی گلشن ہےاس نئی آگ کا اقوام کہن ایندھن ہےملت ختم رسل شعلہ بہ پیراہن ہےآج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیداآگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدادیکھ کر رنگ چمن ہو نہ پریشاں مالیکوکب غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والیخس و خاشاک سے ہوتا ہے گلستاں خالیگل بر انداز ہے خون شہدا کی لالیرنگ گردوں کا ذرا دیکھ تو عنابی ہےیہ نکلتے ہوئے سورج کی افق تابی ہےامتیں گلشن ہستی میں ثمر چیدہ بھی ہیںاور محروم ثمر بھی ہیں خزاں دیدہ بھی ہیںسیکڑوں نخل ہیں کاہیدہ بھی بالیدہ بھی ہیںسیکڑوں بطن چمن میں ابھی پوشیدہ بھی ہیںنخل اسلام نمونہ ہے برومندی کاپھل ہے یہ سیکڑوں صدیوں کی چمن بندی کاپاک ہے گرد وطن سے سر داماں تیراتو وہ یوسف ہے کہ ہر مصر ہے کنعاں تیراقافلہ ہو نہ سکے گا کبھی ویراں تیراغیر یک بانگ درا کچھ نہیں ساماں تیرانخل شمع استی و در شعلہ دو ریشۂ توعاقبت سوز بود سایۂ اندیشۂ توتو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سےنشۂ مے کو تعلق نہیں پیمانے سےہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سےپاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سےکشتئ حق کا زمانے میں سہارا تو ہےعصر نو رات ہے دھندلا سا ستارا تو ہےہے جو ہنگامہ بپا یورش بلغاری کاغافلوں کے لیے پیغام ہے بیداری کاتو سمجھتا ہے یہ ساماں ہے دل آزاری کاامتحاں ہے ترے ایثار کا خودداری کاکیوں ہراساں ہے صہیل فرس اعدا سےنور حق بجھ نہ سکے گا نفس اعدا سےچشم اقوام سے مخفی ہے حقیقت تیریہے ابھی محفل ہستی کو ضرورت تیریزندہ رکھتی ہے زمانے کو حرارت تیریکوکب قسمت امکاں ہے خلافت تیریوقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہےنور توحید کا اتمام ابھی باقی ہےمثل بو قید ہے غنچے میں پریشاں ہو جارخت بر دوش ہوائے چمنستاں ہو جاہے تنک مایہ تو ذرے سے بیاباں ہو جانغمۂ موج ہے ہنگامۂ طوفاں ہو جاقوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دےدہر میں اسم محمد سے اجالا کر دےہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہوچمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہویہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہوبزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہوخیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہےنبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہےدشت میں دامن کہسار میں میدان میں ہےبحر میں موج کی آغوش میں طوفان میں ہےچین کے شہر مراقش کے بیابان میں ہےاور پوشیدہ مسلمان کے ایمان میں ہےچشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھےرفعت شان رفعنا لک ذکرک دیکھےمردم چشم زمیں یعنی وہ کالی دنیاوہ تمہارے شہدا پالنے والی دنیاگرمی مہر کی پروردہ ہلالی دنیاعشق والے جسے کہتے ہیں بلالی دنیاتپش اندوز ہے اس نام سے پارے کی طرحغوطہ زن نور میں ہے آنکھ کے تارے کی طرحعقل ہے تیری سپر عشق ہے شمشیر تریمرے درویش خلافت ہے جہانگیر تریما سوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تریتو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تریکی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیںیہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
سفید شرٹ تھی تم سیڑھیوں پہ بیٹھے تھےمیں جب کلاس سے نکلی تھی مسکراتے ہوئےہماری پہلی ملاقات یاد ہے نا تمہیںاشارے کرتے تھے تم مجھ کو آتے جاتے ہوئےتمام رات وہ آنکھیں نہ بھولتی تھیں مجھےکہ جن میں میرے لئے عزت اور وقار دکھےمجھے یہ دنیا بیابان تھی مگر اک دنتم ایک بار دکھے اور بے شمار دکھےمجھے یہ ڈر تھا کہ تم بھی کہیں وہی تو نہیںجو جسم پر ہی تمنا کے داغ چھوڑتے ہیںخدا کا شکر ہے کہ تم ان سے مختلف نکلےجو پھول توڑ کے غصے میں باغ چھوڑتے ہیںزیادہ وقت نہ گزرا تھا اس تعلق کوکہ اس کے بعد وہ لمحہ قریں قریں آیاچھوا تھا تم نے مجھے اور مجھے محبت پریقین آیا تھا لیکن کبھی نہیں آیاپھر اس کے بعد میرا نشۂ سکوت گیامیں کشمکش میں تھی تم میرے کون لگتے ہومیں امرتا تمہیں سوچوں تو میرے ساحر ہومیں فارحہ تمہیں دیکھوں تو جون لگتے ہوہم ایک ساتھ رہے اور ہمیں پتہ نہ چلاتعلقات کی حد بندیاں بھی ہوتی ہیںمحبتوں کے سفر میں جو راستے ہیں وہیہوس کی سمت میں پگڈنڈیاں بھی ہوتی ہیںتمہارے واسطے جو میرے دل میں ہے حافیؔتمہیں میں کاش یہ سب کچھ کبھی بتا پاتیاور اب مزید نہ ملنے کی کوئی وجہ نہیںبس اپنی ماں سے میں آنکھیں نہیں ملا پاتی
اے دیکھنے والواس حسن کو دیکھواس راز کو سمجھویہ نقش خیالییہ فکرت عالییہ پیکر تنویریہ کرشن کی تصویرمعنی ہے کہ صورتصنعت ہے کہ فطرتظاہر ہے کہ مستورنزدیک ہے یا دوریہ نار ہے یا نوردنیا سے نرالایہ بانسری والاگوکل کا گوالاہے سحر کہ اعجازکھلتا ہی نہیں رازکیا شان ہے واللہکیا آن ہے واللہحیران ہوں کیا ہےاک شان خدا ہےبت خانے کے اندرخود حسن کا بت گربت بن گیا آ کروہ طرفہ نظارےیاد آ گئے سارےجمنا کے کنارےسبزے کا لہکناپھولوں کا مہکناگھنگھور گھٹائیںسرمست ہوائیںمعصوم امنگیںالفت کی ترنگیںوہ گوپیوں کے ساتھہاتھوں میں دیئے ہاتھرقصاں ہوا برج ناتھبنسی میں جو لے ہےنشہ ہے نہ مے ہےکچھ اور ہی شے ہےاک روح ہے رقصاںاک کیف ہے لرزاںایک عقل ہے مے نوشاک ہوش ہے مدہوشاک خندہ ہے سیالاک گریہ ہے خوش حالاک عشق ہے مغروراک حسن ہے مجبوراک سحر ہے مسحوردربار میں تنہالاچار ہے کرشناآ شیام ادھر آسب اہل خصومتہیں در پئے عزتیہ راج دلارےبزدل ہوئے سارےپردہ نہ ہو تاراجبیکس کی رہے لاجآ جا میرے کالےبھارت کے اجالےدامن میں چھپا لےوہ ہو گئی ان بنوہ گرم ہوا رنغالب ہے دریودھنوہ آ گئے جگدیشوہ مٹ گئی تشویشارجن کو بلایااپدیش سنایاغم زاد کا غم کیااستاد کا غم کیالو ہو گئی تدبیرلو بن گئی تقدیرلو چل گئی شمشیرسیرت ہے عدو سوزصورت نظر افروزدل کیفیت اندوزغصے میں جو آ جائےبجلی ہی گرا جائےاور لطف پر آئےتو گھر بھی لٹا جائےپریوں میں ہے گلفامرادھا کے لیے شیامبلرام کا بھیامتھرا کا بسیابندرا میں کنھیابن ہو گئے ویراںبرباد گلستاںسکھیاں ہیں پریشاںجمنا کا کناراسنسان ہے ساراطوفان ہیں خاموشموجوں میں نہیں جوشلو تجھ سے لگی ہےحسرت ہی یہی ہےاے ہند کے راجااک بار پھر آ جادکھ درد مٹا جاابر اور ہوا سےبلبل کی صدا سےپھولوں کی ضیا سےجادو اثری گمشوریدہ سری گمہاں تیری جدائیمتھرا کو نہ بھائیتو آئے تو شان آئےتو آئے تو جان آئےآنا نہ اکیلےہوں ساتھ وہ میلےسکھیوں کے جھمیلے
کس زباں سے کہہ رہے ہو آج تم سوداگرودہر میں انسانیت کے نام کو اونچا کروجس کو سب کہتے ہیں ہٹلر بھیڑیا ہے بھیڑیابھیڑیے کو مار دو گولی پئے امن و بقاباغ انسانی میں چلنے ہی پہ ہے باد خزاںآدمیت لے رہی ہے ہچکیوں پر ہچکیاںہاتھ ہے ہٹلر کا رخش خود سری کی باگ پرتیغ کا پانی چھڑک دو جرمنی کی آگ پرسخت حیراں ہوں کہ محفل میں تمہاری اور یہ ذکرنوع انسانی کے مستقبل کی اب کرتے ہو فکرجب یہاں آئے تھے تم سوداگری کے واسطےنوع انسانی کے مستقبل سے کیا واقف نہ تھےہندیوں کے جسم میں کیا روح آزادی نہ تھیسچ بتاؤ کیا وہ انسانوں کی آبادی نہ تھیاپنے ظلم بے نہایت کا فسانہ یاد ہےکمپنی کا پھر وہ دور مجرمانہ یاد ہےلوٹتے پھرتے تھے جب تم کارواں در کارواںسر برہنہ پھر رہی تھی دولت ہندوستاںدست کاروں کے انگوٹھے کاٹتے پھرتے تھے تمسرد لاشوں سے گڈھوں کو پاٹتے پھرتے تھے تمصنعت ہندوستاں پر موت تھی چھائی ہوئیموت بھی کیسی تمہارے ہات کی لائی ہوئیاللہ اللہ کس قدر انصاف کے طالب ہو آجمیر جعفرؔ کی قسم کیا دشمن حق تھا سراجؔکیا اودھ کی بیگموں کا بھی ستانا یاد ہےیاد ہے جھانسی کی رانی کا زمانہ یاد ہےہجرت سلطان دہلی کا سماں بھی یاد ہےشیر دل ٹیپوؔ کی خونیں داستاں بھی یاد ہےتیسرے فاقے میں اک گرتے ہوئے کو تھامنےکس کے تم لائے تھے سر شاہ ظفر کے سامنےیاد تو ہوگی وہ مٹیا برج کی بھی داستاںاب بھی جس کی خاک سے اٹھتا ہے رہ رہ کر دھواںتم نے قیصر باغ کو دیکھا تو ہوگا بارہاآج بھی آتی ہے جس سے ہائے اخترؔ کی صداسچ کہو کیا حافظے میں ہے وہ ظلم بے پناہآج تک رنگون میں اک قبر ہے جس کی گواہذہن میں ہوگا یہ تازہ ہندیوں کا داغ بھییاد تو ہوگا تمہیں جلیانوالا باغ بھیپوچھ لو اس سے تمہارا نام کیوں تابندہ ہےڈائرؔ گرگ دہن آلود اب بھی زندہ ہےوہ بھگتؔ سنگھ اب بھی جس کے غم میں دل ناشاد ہےاس کی گردن میں جو ڈالا تھا وہ پھندا یاد ہےاہل آزادی رہا کرتے تھے کس ہنجار سےپوچھ لو یہ قید خانوں کے در و دیوار سےاب بھی ہے محفوظ جس پر طنطنہ سرکار کاآج بھی گونجی ہوئی ہے جن میں کوڑوں کی صداآج کشتی امن کے امواج پر کھیتے ہو کیوںسخت حیراں ہوں کہ اب تم درس حق دیتے ہو کیوںاہل قوت دام حق میں تو کبھی آتے نہیں''بینکی'' اخلاق کو خطرے میں بھی لاتے نہیںلیکن آج اخلاق کی تلقین فرماتے ہو تمہو نہ ہو اپنے میں اب قوت نہیں پاتے ہو تماہل حق روشن نظر ہیں اہل باطن کور ہیںیہ تو ہیں اقوال ان قوموں کے جو کمزور ہیںآج شاید منزل قوت میں تم رہتے نہیںجس کی لاٹھی اس کی بھینس اب کس لئے کہتے نہیںکیا کہا انصاف ہے انساں کا فرض اولیںکیا فساد و ظلم کا اب تم میں کس باقی نہیںدیر سے بیٹھے ہو نخل راستی کی چھاؤں میںکیا خدا ناکردہ کچھ موچ آ گئی ہے پاؤں میںگونج ٹاپوں کی نہ آبادی نہ ویرانے میں ہےخیر تو ہے اسپ تازی کیا شفا خانے میں ہےآج کل تو ہر نظر میں رحم کا انداز ہےکچھ طبیعت کیا نصیب دشمناں ناساز ہےسانس کیا اکھڑی کہ حق کے نام پر مرنے لگےنوع انساں کی ہوا خواہی کا دم بھرنے لگےظلم بھولے راگنی انصاف کی گانے لگےلگ گئی ہے آگ کیا گھر میں کہ چلانے لگےمجرموں کے واسطے زیبا نہیں یہ شور و شینکل یزیدؔ و شمرؔ تھے اور آج بنتے ہو حسینؔخیر اے سوداگرو اب ہے تو بس اس بات میںوقت کے فرمان کے آگے جھکا دو گردنیںاک کہانی وقت لکھے گا نئے مضمون کیجس کی سرخی کو ضرورت ہے تمہارے خون کیوقت کا فرمان اپنا رخ بدل سکتا نہیںموت ٹل سکتی ہے اب فرمان ٹل سکتا نہیں
یہ ہے مل والا وہ بنیا ہے یہ ساہوکار ہےیہ ہے دوکاں دار وہ ہے وید یہ عطار ہےوہ اگر ٹھگ ہے تو یہ ڈاکو ہے وہ بٹ مار ہےآج ہر گردن میں کالی جیت کا اک ہار ہے
عالم نسواں پہ کالی رات جب چھا جائے گییہ ترے ماتھے کی بندی صبح کو شرمائے گی
اور جب وہ دہکتا انگارہچھن سے ساگر میں ڈوب جاتا ہےتیرگی اوڑھ لیتی ہے دنیاکشتیاں کچھ کنارے آتی ہیںبھنگ گانجا، چرس شراب، افیونجو بھی لائیں جہاں سے بھی لائیںدوڑتے ہیں ادھر سے کچھ سایےاور سب کچھ اتار لاتے ہیںگاڑی جاتی ہے عدل کی میزانجس کا حصہ اسی کو ملتا ہےیہاں خطرہ نہیں خیانت کاتم یہاں کیوں کھڑے ہو مدت سےیہ تمہاری تھکی تھکی بھیڑیںرات جن کو زمیں کے سینے پرصبح ہوتے انڈیل دیتی ہےمنڈیوں ،دفتروں ملوں کی طرفہانک دیتی دھکیل دیتی ہےراستے میں یہ رک نہیں سکتیںتوڑ کے گھٹنے جھک نہیں سکتیںان سے تم کیا توقع رکھتے ہوبھیڑیا ان کے ساتھ چلتا ہے
دکیانوسی کہہ کر بٹیا تم پر ہنستی ہےتم کو نہیں معلوم کی پھبتی تم پر کستی ہےسیدھی عورت کی بھی اپادھی تم کو ڈستی ہےاور تمہاری اس گھر میں ہی دنیا بستی ہےچھت دیواریں کونا کونا کیسا ہوتا ہےماں ہو تم اور ماں کا ہونا ایسا ہوتا ہے
شجر حجر پہ ہیں غم کی گھٹائیں چھائی ہوئیسبک خرام ہواؤں کو نیند آئی ہوئیرگیں زمیں کے مناظر کی پڑ چلیں ڈھیلییہ خستہ حالی یہ درماندگی یہ سناٹافضائے نیم شبی بھی ہے سنسنائی ہوئیدھواں دھواں سے مناظر ہیں شبنمستاں کےسیارہ رات کی زلفیں ہیں رسمسائی ہوئییہ رنگ تاروں بھری رات کے تنفس کاکہ بوئے درد میں ہر سانس ہے بسائی ہوئیخنک اداس فضاؤں کی آنکھوں میں آنسوترے فراق کی یہ ٹیس ہے اٹھائی ہوئیسکوت نیم شبی گہرا ہوتا جاتا ہےرگیں ہیں سینۂ ہستی کی تلملائی ہوئیہے آج ساز نوا ہائے خونچکاں اے دوستحیات تیری جدائی کی چوٹ کھائی ہوئیمری ان آنکھوں سے اب نیند پردہ کرتی ہےجو تیرے پنجۂ رنگیں کی تھیں جگائی ہوئیسرشک پالے ہوئے تیرے نرم دامن کےنشاط تیرے تبسم سے جگمگائی ہوئیلٹک وہ گیسوؤں کی جیسے پیچ و تاب کمندلچک بھوؤں کی وہ جیسے کماں جھکائی ہوئیسحر کا جیسے تبسم دمک وہ ماتھے کیکرن سہاگ کی بندی کی لہلہائی ہوئیوہ انکھڑیوں کا فسوں روپ کی وہ دیوئیتوہ سینہ روح نمو جس میں کنمنائی ہوئیوہ سیج سانس کی خوشبو کو جس پہ نیند آئےوہ قد گلاب کی اک شاخ لہلہائی ہوئیوہ جھلملاتے ستارے ترے پسینے کےجبین شام جوانی تھی جگمگائی ہوئیہو جیسے بت کدہ آذر کا بول اٹھنے کووہ کوئی بات سی گویا لبوں تک آئی ہوئیوہ دھج وہ دلبری وہ کام روپ آنکھوں کاسجل اداؤں میں وہ راگنی رچائی ہوئیہو خواب گاہ میں شعلوں کی کروٹیں دم صبحوہ بھیرویں تری بیداریوں کی گائی ہوئیوہ مسکراتی ہوئی لطف دید کی صبحیںتری نظر کی شعاعوں کی گدگدائی ہوئیلگی جو تیرے تصور کے نرم شعلوں سےحیات عشق سے اس آنچ کی تپائی ہوئیہنوز وقت کے کانوں میں چہچہاہٹ ہےوہ چاپ تیرے قدم کی سنی سنائی ہوئیہنوز سینۂ ماضی میں جگمگاہٹ ہےدمکتے روپ کی دیپاولی جلائی ہوئیلہو میں ڈوبی امنگوں کی موت روک ذراحریم دل میں چلی آتی ہے ڈھٹائی ہوئیرہے گی یاد جواں بیوگی محبت کیسہاگ رات کی وہ چوڑیاں بڑھائی ہوئییہ میری پہلی محبت نہ تھی مگر اے دوستابھر گئی ہیں وہ چوٹیں دبی دبائی ہوئیسپردگی و خلوص نہاں کے پردے میںجو تیری نرم نگاہی کی تھیں بٹھائی ہوئیاٹھا چکا ہوں میں پہلے بھی ہجر کے صدمےوہ سانس دکھتی ہوئی آنکھ ڈبڈبائی ہوئییہ حادثہ ہے عجب تجھ کو پا کے کھو دینایہ سانحہ ہے غضب تیری یاد آئی ہوئیعجیب درد سے کوئی پکارتا ہے تجھےگلا رندھا ہوا آواز تھر تھرائی ہوئیکہاں ہے آج تو اے رنگ و نور کی دیویاندھیری ہے مری دنیا لٹی لٹائی ہوئیپہنچ سکے گی بھی تجھ تک مری نوائے فراقجو کائنات کے اشکوں میں ہے نہائی ہوئی
اے حسندامن وقت پر جتنے پھول اور بوٹے سجے ہیںجہاں زاد کی زخم پوروں نے رنگ ان میںاپنے جنوں کے بھرے ہیںیہ تاوان ہیں چمپئی انگلیوں کاترے جام و مینا پہجس خال و خد کی نزاکت کی پرچھائیاں تھیںتجھے کیا خبر یہ کن آنکھوں کی بینائیاں تھیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books