aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "box"
یہ پانچ کرتے ہیں دیکھو یہ پانچ پاجامےڈلے ہوئے ہیں کمر بند ان میں اور دیکھویہ شیو بکس ہے اور یہ ہے اولڈ اسپائسنہیں حضور کی جھونجل کا اب کوئی باعث
اک لڑکی تھی چھوٹی سیدبلی سی اور موٹی سیننھی سی اور منی سیبالکل ہی تھن متھنی سیاس کے بال تھے کالے سےسیدھے گھنگریالے سےمنہ پر اس کے لالی سیچٹی سی مٹیالی سیاس کی ناک پکوڑی سینوکیلی سی چوڑی سیآنکھیں کالی نیلی سیسرخ سفید اور پیلی سیکپڑے اس کے تھیلے سےاجلے سے اور میلے سےیہ لڑکی تھی بھولی سیبی بی سی اور گولی سیہر دم کھیل تھا کام اس کاشاداں بی بی نام تھا اس کاہنستی تھی اور روتی تھیجاگتی تھی اور سوتی تھیہر دم اس کی اماں جانکھینچا کرتی اس کے کانکہتی تھیں مکتب کو جاکھیلوں میں مت وقت گنواامی سب کچھ کہتی تھیشاداں کھیلتی رہتی تھیاک دن شاداں کھیل میں تھیآئے اس کے ابا جیوہ لاہور سے آئے تھےچیزیں ویزیں لائے تھےباکس میں تھیں یہ چیزیں سبخیر تماشا دیکھو ابابا نے آتے ہی کہاشاداں آ کچھ پڑھ کے سناگم تھی اک مدت سے کتابکیا دیتی اس وقت جوابدو بہنیں تھیں شاداں کیچھوٹی ننھی منی سینام تھا منجھلی کا سیماںگڑیا سی ننھی ناداںوہ بولی اے ابا جیاب تو پڑھتی ہوں میں بھیبلی ہے سی اے ٹی کیٹچوہا ہے آر اے ٹی ریٹمنہ ماؤتھ ہے ناک ہے نوزاور گلاب کا پھول ہے روزمیں نے ابا جی دیکھاخوب سبق ہے یاد کیاشاداں نے اس وقت کہامیں نے ہی تو سکھایا تھالیکن ابا نے چپ چاپکھولا باکس کو اٹھ کر آپاس میں جو چیزیں نکلیںساری سیماں کو دے دیںاک چینی کی گڑیا تھیاک جادو کی پڑیا تھیاک ننھی سی تھی موٹرآپ ہی چلتی تھی فر فرگیندوں کا اک جوڑا تھااک لکڑی کا گھوڑا تھااک سیٹی تھی اک باجاایک تھا مٹی کا راجاشاداں کو کچھ بھی نہ ملایعنی کھیل کی پائی سزااب وہ غور سے پڑھتی ہےپورے طور سے پڑھتی ہے
وہ چھوٹا سا اک بکس لایا گیامیانہ جسے تھا بنایا گیاسواری یہ دلہن کی تھی آ گئیوہ بیٹھی دلہن وہ ہوئی رخصتیکہار اپنے کاندھے بدلتے چلےمیانے پہ دولہا کی دلہن لئےکڑم دھم کڑم دھم چلی پھر براتلگی گونجنے گانے باجے سے راتانار اور چھچھوندر چھٹاتے ہوئےنچھاور کے پیسے لٹاتے ہوئےسحر ہوتے ہوتے مکاں آ گئےدلہن لے کے گڈے میاں آ گئے
میرے کمرے میں پڑیٹیبل کے خانوں سے نکل کرخط ہوا میں اڑ رہے ہوںباکس میں رکھا ہوا رومالشعلہ بن گیا ہوبرف کے تودوں تلے دب کر ذہن بھیمنجمد ہونے کے بدلے جل رہا ہو
کالے کالے ڈاکوچھت پردھم دھم کرتےدوڑ رہے ہیںکمروں سے سب بکس اٹھا کرچھت پر لا کربے رحمی سے توڑ رہے ہیںان بکسوں میںایک بڑا سا بکس ہے میری ماں کا بھیجس میں میریشیشے والی گولی کی تھیلی رکھی ہےاس بکسے کے ٹوٹنے پرمیں خوش ہوتا ہوںچھت پر جا کربندوقوں کے سائے میںاپنی سب گولی چنتا ہوںصبح کو میرے سارے ساتھیمیری رنگ بھری گولی کوللچائی نظروں سے تکتے رہتے ہیںبربادی کا ماتممجھ کوگولی کے رنگوں سے ہلکا لگتا ہے
سنتے ہیں شہر میں جو خواتین کا ہے بینکپرویز کا نہیں ہے یہ پروین کا ہے بینکرکھی ہیں اس لیے یہاں خاتون منیجراس محکمے کو چاہئے باتون منیجرلیڈیز اتحاد جو بیگانگی سے ہےکیا جانے خوف کیا انہیں مردانگی سے ہےنوک زباں بھی چلنے لگی ہے زباں کے ساتھبیٹی بھی ہے شریک لڑائی میں ماں کے ساتھہر نازنیں کے سامنے اک بیوٹی بکس ہےباقی رکھا ہے گھر میں یہ تھوڑا سا عکس ہےبیٹھی ہیں اپنے سامنے گیسو سنوار کےلاکر میں رکھ دیا ہے دوپٹہ اتار کےچٹخارے ہیں زباں پہ نظر میں اشارے ہیںہر ماہ وش کے پرس میں املی کٹارے ہیںجو بات کر رہی ہیں کمائی کے شعبے کیوہ ہیڈ ہیں لگائی بجھائی کے شعبے کیکل ساس سے زبان کے بل پر لڑی ہیں یہعلم لسانیات میں پی ایچ ڈی ہیں یہکھاتے کی ان کو فکر نہ لیجر کی فکر ہےنندوں کی غیبتیں ہیں تو دیور کا ذکر ہےشادی کے بعد نقطہ بنیں ڈیش ہو گئیںپہلے جو چیک بک تھیں وہ اب کیش ہو گئیںہر نازنیں کی عمر بھی خفیہ اکاؤنٹ ہےکیا جانے ان کی عمر میں کتنا اماؤنٹ ہےیہ حسن کا خزانہ کوئی کیا دبوچے گاڈاکو بھی ڈاکہ ڈالنے سے پہلے سوچے گاناکارہ شوہروں کو بھی ڈیبٹ کرائیےنسوانیت یہاں سے کریڈٹ کرائیے
میرا بچہ راہم جب اسکول سے لوٹامیں نے اس سے بستہ اپنے ہاتھ لے کر اس سے پوچھااتنا بھاری کیوں ہے بستہتین کتابیں لے کر تم اسکول گئے تھےاک پانی کی بوتل تھی اور لنچ بکس تھااتنا بھاری کیوں ہے بستہبولا بابا میں کیا بولوںروز تو یہ ہلکا ہوتا ہےآج نہ جانے بھاری کیوں ہےمجھ کو کچھ تشویش ہوئی تومیں نے اس کا بستہ کھولاکھول کے دیکھاتین کتابیں نہیں تھیں اس میں چھ تھیںپانی کی بوتل بھی ایک نہیں تھیدو دو تھیںلنچ بکس بھی دو تھے لیکن ایک ہی جیسےراہم کا کچھ خالی تھا پر دوسرا پورا بھرا ہوا تھا
مجھے ویٹنس باکس میں طلب کیا جا چکا تھامقتول کے ورثااور دوسرے لوگوں کی نظریںمیرے چہرے پر جمی ہوئی تھیںاس لیے کہ میں اس مقدمے کاتنہا چشم دید گواہ تھامیری گواہی قاتل کو سزائے موتیا عمر قید کی سزا دلا سکتی تھی لیکناس سے پہلے کہ میرے ہونٹ ہلتےجج نے مجھے گھورتے ہوئے کہاتم گواہی نہیں دے سکتےتمہاری شہادت کی انگلی کٹی ہوئی ہے
کچھ نوٹ بکس جن پر بہت سے محبت کےخطوط لکھے گئے جو کبھی پوسٹ نہیں ہوئےکچھ بلب جن کو روشن کرکے آپ اپنی خودکشیکا ایک اچھا سا نوٹ لکھ سکیںاور وہ نوٹ روشن دان میں بیٹھے پرندےکو دیتے وقت آپ کہہ سکیں کہیہ نوٹ کسی قریبی ہسپتال کے پتے پرپوسٹ کر دو شاید میری لاشسے میرے گھر کا نقشہ نکال کر پھینک دیاجائے اور مجھے مردہ خانے میں اپنابستر منتخب کرنے میں کوئی مشکل پیش نہ آئے
عجیب لوگ ہیںصحرا میں شہر میں گھر میںسلگتی ریت پہ ٹھٹھرے ہوئے سمندر میںخلا میں چاند کی بنجر زمیں کے سینے پرجو صبح و شام کی بے ربط راہ میں چپ چاپتعلقات کی تعمیر کرتے رہتے ہیںہوا کے دوش پہ طوفان زلزلہ سیلابدیا سلائی کی تیلی پہ ٹینک ایٹم بمکوئی جلوس کوئی پوسٹر کوئی تقریرامڈتی بھیڑ کا ہر ووٹ کوئی بیلٹ باکسپھسلتی کرسی کا جادو بسوں کی لمبی کیو،کہیں پہ صحن میں گوبر کہیں پہ گائے کا سرہر ایک گوشہ ہے شمشان قبر ہے بستراکیلا پھرتا ہے سنسان شہر میں کرفیوقریب گھور پہ چھتڑوں میں جسم کے ٹکڑےمہکتی رات سے جنمی ہوئی فسردہ صبحبگڑتے بنتے ہوئے زاویے کھسکتی اینٹتمام سلسلے بے ربط منقطع رشتےمگر وہ دوڑتے پیروں پہ اٹھتے بڑھتے ہاتھہر ایک جبر سے بے خوف بے نیازانہجو صبح و شام کی بے ربط راہ میں چپ چاپتعلقات کی تعمیر کرتے رہتے ہیںعجیب لوگ ہیں
ہمیں ہر روزپھول خریدنے چاہئیںاور موم بتیاںاور پانی کی خالی بوتلیںاور پلاسٹک کے برتنجنگ میں کوئی بھی چیز کام آ سکتی ہےہمیں کھلونے نہیں خریدنے چاہئیںکتابوں کی طرف نہیں دیکھنا چاہیئےدھوپ کے چشمے اور چھتریاں چھپا دینی چاہئیںگیس لائٹر بھی چھپا دینے چاہئیںہمیں اپنی جیب میں بسکٹاور ماچس کی ڈبیا ہمیشہ رکھنی چاہیئےکسی کو دینے یا کچھ جلانے کے لیےایک رومال بھی ضروری ہےزخمی انگلیوں یا جلتی ہوئی آنکھوں کے لیےایک پوسٹ کارڈ روزانہلیٹر بکس میں ڈال دینے چاہیئےڈاک نظام بحال ہونے پرہماری خیریت دوستوں تک پہنچ جائے گیشاید وہ ہماری تلاش میں ادھر آ جائیںجہاں بار بار ڈھونے والے لوگکھوئے ہوئے ہیں
تمہیں یاد ہےمیری آنکھوں پر کس کر باندھا گیاوہ اپنا رومالپھولوں میں درختوں کے جھنڈ کے درمیاںاسٹور روم میں کھمبوں کے پیچھےکبھی پلنگ کے نیچےچھپتے پھرتے تھے تممیں کہاں ہوں مجھے ڈھونڈومیرے آگے پیچھے دوڑتی بھاگتی تمہاری آوازیںمجھے چھو چھو کر دور ہو جاتی تھیںمیں اپنا ہاتھ پھیلائے ڈھونڈ ڈھونڈ کرتمہیں پا ہی لیتی تھییہ ہمارا من پسند کھیل تھانہ جانے کب کیسے اور کہاں کھیل ہی کھیل میںیا تمہارے دوڑتے بھاگتے قدموں کے غبار میںتم کہیں کھو گئےاور میرے گلے میں اٹکی رہ گئیبس ایک دھولکھانس کھانس کر صاف کرتی ہوںنکلتی ہی نہیںاٹا پڑا ہے میرا چہرہ گرد سےآئنہ دیکھوں تو سمجھ میں نہیں آتا کسے دیکھ رہی ہوںاپنی آنکھوں پر بندھا رومالمیں نے اپنے ہی ہاتھوں کھولا تھااور احتیاط سے باکس میں رکھ دیا تھامیں کہاں ہوں مجھے ڈھونڈ لو والا کھیلکھیلنے والا کوئی تھا ہی نہیںمگر آج میری گود میں تمہارا بچہمجھ سے مانگ رہا ہے وہی رومالآج نکالوں گی اسے دھو صاف کر کےاپنے سینے کی خوشبو سے بساؤں گیکہ پھر شروع کرنا ہے مجھے وہی من پسند کھیلاور اس بار میں کھو جاؤں گی
شاید یہ آواز نہیں ہےسرگوشی کے لیٹر بکس میںدیر سے آنے والا خط ہے
بچے نے جس بکس میں اپنےننھے منےکھیل کھلونوں کی جو دنیا بسا رکھی تھیممی پاپا کے ہاتھوں وہ اجڑ گئی ہےممی پاپا نے کیا جانےبکس میں کیا کیا بھر رکھا ہےایک بڑے سے گیٹ کے آگےبکس اٹھائےبچہ روتا چلاتا ہےاپنے جیسا اسے بنانے کی کوشش کاپہلا دن ہے
کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوںفکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوںنالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوںہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوںجرأت آموز مری تاب سخن ہے مجھ کوشکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کوہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہمقصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہمساز خاموش ہیں فریاد سے معمور ہیں ہمنالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہماے خدا شکوۂ ارباب وفا بھی سن لےخوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لےتھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات قدیمپھول تھا زیب چمن پر نہ پریشاں تھی شمیمشرط انصاف ہے اے صاحب الطاف عمیمبوئے گل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیمہم کو جمعیت خاطر یہ پریشانی تھیورنہ امت ترے محبوب کی دیوانی تھیہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظرکہیں مسجود تھے پتھر کہیں معبود شجرخوگر پیکر محسوس تھی انساں کی نظرمانتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کو کیونکرتجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام تراقوت بازوئے مسلم نے کیا کام ترابس رہے تھے یہیں سلجوق بھی تورانی بھیاہل چیں چین میں ایران میں ساسانی بھیاسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھیاسی دنیا میں یہودی بھی تھے نصرانی بھیپر ترے نام پہ تلوار اٹھائی کس نےبات جو بگڑی ہوئی تھی وہ بنائی کس نےتھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میںخشکیوں میں کبھی لڑتے کبھی دریاؤں میںدیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میںکبھی ایفریقا کے تپتے ہوئے صحراؤں میںشان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کیکلمہ پڑھتے تھے ہمیں چھاؤں میں تلواروں کیہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مصیبت کے لیےاور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لیےتھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیےسر بکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لیےقوم اپنی جو زرو و مال جہاں پر مرتیبت فروشی کے عوض بت شکنی کیوں کرتیٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھےپاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھےتجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھےتیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھےنقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نےزیر خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نےتو ہی کہہ دے کہ اکھاڑا در خیبر کس نےشہر قیصر کا جو تھا اس کو کیا سر کس نےتوڑے مخلوق خدا وندوں کے پیکر کس نےکاٹ کر رکھ دئیے کفار کے لشکر کس نےکس نے ٹھنڈا کیا آتشکدۂ ایراں کوکس نے پھر زندہ کیا تذکرۂ یزداں کوکون سی قوم فقط تیری طلب گار ہوئیاور تیرے لیے زحمت کش پیکار ہوئیکس کی شمشیر جہانگیر جہاں دار ہوئیکس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئیکس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھےمنہ کے بل گر کے ہو اللہ احد کہتے تھےآ گیا عین لڑائی میں اگر وقت نمازقبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی ہوئی قوم حجازایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایازنہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نوازبندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئےتیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئےمحفل کون و مکاں میں سحر و شام پھرےمئے توحید کو لے کر صفت جام پھرےکوہ میں دشت میں لے کر ترا پیغام پھرےاور معلوم ہے تجھ کو کبھی ناکام پھرےدشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نےبحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا ہم نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نےتیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نےتیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نےپھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیںہم وفادار نہیں تو بھی تو دل دار نہیںامتیں اور بھی ہیں ان میں گنہ گار بھی ہیںعجز والے بھی ہیں مست مئے پندار بھی ہیںان میں کاہل بھی ہیں غافل بھی ہیں ہشیار بھی ہیںسیکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بے زار بھی ہیںرحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پربرق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پربت صنم خانوں میں کہتے ہیں مسلمان گئےہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئےمنزل دہر سے اونٹوں کے حدی خوان گئےاپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئےخندہ زن کفر ہے احساس تجھے ہے کہ نہیںاپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیںیہ شکایت نہیں ہیں ان کے خزانے معمورنہیں محفل میں جنہیں بات بھی کرنے کا شعورقہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حور و قصوراور بے چارے مسلماں کو فقط وعدۂ حوراب وہ الطاف نہیں ہم پہ عنایات نہیںبات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیںکیوں مسلمانوں میں ہے دولت دنیا نایابتیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ حسابتو جو چاہے تو اٹھے سینۂ صحرا سے حبابرہرو دشت ہو سیلی زدۂ موج سرابطعن اغیار ہے رسوائی ہے ناداری ہےکیا ترے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہےبنی اغیار کی اب چاہنے والی دنیارہ گئی اپنے لیے ایک خیالی دنیاہم تو رخصت ہوئے اوروں نے سنبھالی دنیاپھر نہ کہنا ہوئی توحید سے خالی دنیاہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں ترا نام رہےکہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے جام رہےتیری محفل بھی گئی چاہنے والے بھی گئےشب کی آہیں بھی گئیں صبح کے نالے بھی گئےدل تجھے دے بھی گئے اپنا صلہ لے بھی گئےآ کے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئےآئے عشاق گئے وعدۂ فردا لے کراب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کردرد لیلیٰ بھی وہی قیس کا پہلو بھی وہینجد کے دشت و جبل میں رم آہو بھی وہیعشق کا دل بھی وہی حسن کا جادو بھی وہیامت احمد مرسل بھی وہی تو بھی وہیپھر یہ آرزدگئ غیر سبب کیا معنیاپنے شیداؤں پہ یہ چشم غضب کیا معنیتجھ کو چھوڑا کہ رسول عربی کو چھوڑابت گری پیشہ کیا بت شکنی کو چھوڑاعشق کو عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑارسم سلمان و اویس قرنی کو چھوڑاآگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیںزندگی مثل بلال حبشی رکھتے ہیںعشق کی خیر وہ پہلی سی ادا بھی نہ سہیجادہ پیمائی تسلیم و رضا بھی نہ سہیمضطرب دل صفت قبلہ نما بھی نہ سہیاور پابندی آئین وفا بھی نہ سہیکبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہےبات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہرجائی ہےسر فاراں پہ کیا دین کو کامل تو نےاک اشارے میں ہزاروں کے لیے دل تو نےآتش اندوز کیا عشق کا حاصل تو نےپھونک دی گرمئ رخسار سے محفل تو نےآج کیوں سینے ہمارے شرر آباد نہیںہم وہی سوختہ ساماں ہیں تجھے یاد نہیںوادیٔ نجد میں وہ شور سلاسل نہ رہاقیس دیوانۂ نظارۂ محمل نہ رہاحوصلے وہ نہ رہے ہم نہ رہے دل نہ رہاگھر یہ اجڑا ہے کہ تو رونق محفل نہ رہااے خوشا آں روز کہ آئی و بصد ناز آئیبے حجابانہ سوئے محفل ما باز آئیبادہ کش غیر ہیں گلشن میں لب جو بیٹھےسنتے ہیں جام بکف نغمۂ کو کو بیٹھےدور ہنگامۂ گلزار سے یکسو بیٹھےتیرے دیوانے بھی ہیں منتظر ہو بیٹھےاپنے پروانوں کو پھر ذوق خود افروزی دےبرق دیرینہ کو فرمان جگر سوزی دےقوم آوارہ عناں تاب ہے پھر سوئے حجازلے اڑا بلبل بے پر کو مذاق پروازمضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بوئے نیازتو ذرا چھیڑ تو دے تشنۂ مضراب ہے سازنغمے بیتاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لیےطور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لیےمشکلیں امت مرحوم کی آساں کر دےمور بے مایہ کو ہمدوش سلیماں کر دےجنس نایاب محبت کو پھر ارزاں کر دےہند کے دیر نشینوں کو مسلماں کر دےجوئے خوں می چکد از حسرت دیرینۂ مامی تپد نالہ بہ نشتر کدۂ سینۂ مابوئے گل لے گئی بیرون چمن راز چمنکیا قیامت ہے کہ خود پھول ہیں غماز چمنعہد گل ختم ہوا ٹوٹ گیا ساز چمناڑ گئے ڈالیوں سے زمزمہ پرداز چمنایک بلبل ہے کہ ہے محو ترنم اب تکاس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب تکقمریاں شاخ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئیںپتیاں پھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیںوہ پرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیںڈالیاں پیرہن برگ سے عریاں بھی ہوئیںقید موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کیکاش گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کیلطف مرنے میں ہے باقی نہ مزہ جینے میںکچھ مزہ ہے تو یہی خون جگر پینے میںکتنے بیتاب ہیں جوہر مرے آئینے میںکس قدر جلوے تڑپتے ہیں مرے سینے میںاس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیںداغ جو سینے میں رکھتے ہوں وہ لالے ہی نہیںچاک اس بلبل تنہا کی نوا سے دل ہوںجاگنے والے اسی بانگ درا سے دل ہوںیعنی پھر زندہ نئے عہد وفا سے دل ہوںپھر اسی بادۂ دیرینہ کے پیاسے دل ہوںعجمی خم ہے تو کیا مے تو حجازی ہے مرینغمہ ہندی ہے تو کیا لے تو حجازی ہے مری
میری ناکام محبت کی کہانی مت چھیڑاپنی مایوس امنگوں کا فسانہ نہ سنازندگی تلخ سہی زہر سہی سم ہی سہیدرد و آزار سہی جبر سہی غم ہی سہیلیکن اس درد و غم و جبر کی وسعت کو تو دیکھظلم کی چھاؤں میں دم توڑتی خلقت کو تو دیکھاپنی مایوس امنگوں کا فسانہ نہ سنامیری ناکام محبت کی کہانی مت چھیڑجلسہ گاہوں میں یہ دہشت زدہ سہمے انبوہرہ گزاروں پہ فلاکت زدہ لوگوں کے گروہبھوک اور پیاس سے پژمردہ سیہ فام زمیںتیرہ و تار مکاں مفلس و بیمار مکیںنوع انساں میں یہ سرمایہ و محنت کا تضادامن و تہذیب کے پرچم تلے قوموں کا فسادہر طرف آتش و آہن کا یہ سیلاب عظیمنت نئے طرز پہ ہوتی ہوئی دنیا تقسیملہلہاتے ہوئے کھیتوں پہ جوانی کا سماںاور دہقان کے چھپر میں نہ بتی نہ دھواںیہ فلک بوس ملیں دل کش و سیمیں بازاریہ غلاظت پہ جھپٹتے ہوئے بھوکے ناداردور ساحل پہ وہ شفاف مکانوں کی قطارسرسراتے ہوئے پردوں میں سمٹتے گل زاردر و دیوار پہ انوار کا سیلاب رواںجیسے اک شاعر مدہوش کے خوابوں کا جہاںیہ سبھی کیوں ہے یہ کیا ہے مجھے کچھ سوچنے دےکون انساں کا خدا ہے مجھے کچھ سوچنے دےاپنی مایوس امنگوں کا فسانہ نہ سنامیری ناکام محبت کی کہانی مت چھیڑ
میرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنگل پوش تیری وادیاںفرحت نشاں راحت رساںتیرے چمن زاروں پہ ہےگلزار جنت کا گماںہر شاخ پھولوں کی چھڑیہر نخل طوبیٰ ہے یہاںکوثر کے چشمے جا بجاتسنیم ہر آب رواںہر برگ روح تازگیہر پھول جان گلستاںہر باغ باغ دلکشیہر باغ باغ بے خزاںدل کش چراگاہیں تریڈھوروں کے جن میں کارواںانجم صفت گلہائے نوہر تختۂ گل آسماںنقش ثریا جا بجاہر ہر روش اک کہکشاںتیری بہاریں دائمیتیری بہاریں جاوداںتجھ میں ہے روح زندگیپیہم رواں پیہم دواںدریا وہ تیرے تند خوجھیلیں وہ تیری بے کراںشام اودھ کے لب پہ ہےحسن ازل کی داستاںکہتی ہے راز سرمدیصبح بنارس کی زباںاڑتا ہے ہفت افلاک پران کارخانوں کا دھواںجن میں ہیں لاکھوں محنتیصنعت گری کے پاسباںتیری بنارس کی زریرشک حریر و پرنیاںبیدر کی فن کاری میں ہیںصنعت کی سب باریکیاںعظمت ترے اقبال کیتیرے پہاڑوں سے عیاںدریاؤں کا پانی، تریتقدیس کا اندازہ داںکیا بھارتیندوؔ نے کیاگنگا کی لہروں کا بیاںاقبالؔ اور چکبستؔ ہیںعظمت کے تیری نغمہ خواںجوشؔ و فراقؔ و پنتؔ ہیںتیرے ادب کے ترجماںتلسیؔ و خسروؔ ہیں تیریتعریف میں رطب اللساںگاتے ہیں نغمہ مل کے سباونچا رہے تیرا نشاںمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنتیرے نظاروں کے نگیںدنیا کی خاتم میں نہیںسارے جہاں میں منتخبکشمیر کی ارض حسیںفطرت کا رنگیں معجزہفردوس بر روئے زمیںفردوس بر روئے زمیںہاں ہاں ہمیں است و ہمیںسر سبز جس کے دشت ہیںجس کے جبل ہیں سرمگیںمیوے بہ کثرت ہیں جہاںشیریں مثال انگبیںہر زعفراں کے پھول میںعکس جمال حورعیںوہ مالوے کی چاندنیگم جس میں ہوں دنیا و دیںاس خطۂ نیرنگ میںہر اک فضا حسن آفریںہر شے میں حسن زندگیدل کش مکاں دل کش زمیںہر مرد مرد خوب روہر ایک عورت نازنیںوہ تاج کی خوش پیکریہر زاویے سے دل نشیںصنعت گروں کے دور کیاک یادگار مرمریںہوتی ہے جو ہر شام کوفیض شفق سے احمریںدریا کی موجوں سے الگیا اک بط نظارہ بیںیا طائر نوری کوئیپرواز کرنے کے قریںیا اہل دنیا سے الگاک عابد عزلت گزیںنقش اجنتا کی قسمجچتا نہیں ارژنگ چیںشان ایلورا دیکھ کرجھکتی ہے آذر کی جبیںچتوڑ ہو یا آگرہایسے نہیں قلعے کہیںبت گر ہو یا نقاش ہوتو سب کی عظمت کا امیںمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطندل کش ترے دشت و چمنرنگیں ترے شہر و چمنتیرے جواں رعنا جواںتیرے حسیں گل پیرہناک انجمن دنیا ہے یہتو اس میں صدر انجمنتیرے مغنی خوش نواشاعر ترے شیریں سخنہر ذرہ اک ماہ مبیںہر خار رشک نستریںغنچہ ترے صحرا کا ہےاک نافۂ مشک ختنکنکر ہیں تیرے بے بہاپتھر ترے لعل یمنبستی سے جنگل خوب ترباغوں سے حسن افروز بنوہ مور وہ کبک دریوہ چوکڑی بھرتے ہرنرنگیں ادا وہ تتلیاںبابنی میں وہ ناگوں کے پھنوہ شیر جن کے نام سےلرزے میں آئے اہرمنکھیتوں کی برکت سے عیاںفیضان رب ذو المننچشموں کے شیریں آب سےلذت کشاں کام و دہنتابندہ تیرا عہد نوروشن ترا عہد کہنکتنوں نے تجھ پر کر دیاقربان اپنا مال دھنکتنے شہیدوں کو ملےتیرے لیے دار و رسنکتنوں کو تیرا عشق تھاکتنوں کو تھی تیری لگنتیرے جفا کش محنتیرکھتے ہیں عزم کوہ کنتیرے سپاہی سورمابے مثل یکتائے زمنبھیشمؔ سا جن میں حوصلہارجنؔ سا جن میں بانکپنعالم جو فخر علم ہیںفن کار نازاں جن پہ فنرائےؔ و بوسؔ و شیرؔگلدنکرؔ، جگرؔ متھلیؔ شرنولاٹھولؔ، ماہرؔ، بھارتیبچنؔ، مہادیویؔ، سمنؔکرشننؔ، نرالاؔ، پریمؔ چندٹیگورؔ و آزادؔ و رمنؔمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنکھیتی تری ہر اک ہریدل کش تری خوش منظریتیری بساط خاک کےذرے ہیں مہر و مشتریجہلم کاویری ناگ وہگنگا کی وہ گنگوتریوہ نربدا کی تمکنتوہ شوکت گوداوریپاکیزگی سرجو کی وہجمنا کی وہ خوش گوہریدلربہ آب نیلگوںکشمیر کی نیلم پریدل کش پپیہے کی صداکوئل کی تانیں مد بھریتیتر کا وہ حق سرہطوطی کا وہ ورد ہریصوفی ترے ہر دور میںکرتے رہے پیغمبریچشتیؔ و نانکؔ سے ملیفقر و غنا کو برتریعدل جہانگیری میں تھیمضمر رعایا پروریوہ نورتن جن سے ہوئیتہذیب دور اکبریرکھتے تھے افغان و مغلاک صولت اسکندریراناؤں کے اقبال کیہوتی ہے کس سے ہم سریساونت وہ یودھا ترےتیرے جیالے وہ جرینیتی ودر کی آج تککرتی ہے تیری رہبریاب تک ہے مشہور زماںچانکیہؔ کی دانش وریویاس اور وشوامتر سےمنیوں کی شان قیصریپاتنجلی و سانکھ سےرشیوں کی حکمت پروریبخشے تجھے انعام نوہر دور چرخ چنبریخوش گوہری دے آب کواور خاک کو خوش جوہریذروں کو مہر افشانیاںقطروں کو دریا گستریمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنتو رہبر نوع بشرتو امن کا پیغام برپالے ہیں تو نے گود میںصاحب خرد صاحب نظرافضل تریں ان سب میں ہےباپو کا نام معتبرہر لفظ جس کا دل نشیںہر بات جس کی پر اثرجس نے لگایا دہر میںنعرہ یہ بے خوف و خطربے کار ہیں تیر و سناںبے سود ہیں تیغ و تبرہنسا کا رستہ جھوٹ ہےحق ہے اہنسا کی ڈگردرماں ہے یہ ہر درد کایہ ہر مرض کا چارہ گرجنگاہ عالم میں کوئیاس سے نہیں بہتر سپرکرتا ہوں میں تیرے لیےاب یہ دعائے مختصررونق پہ ہوں تیرے چمنسرسبز ہوں تیرے شجرنخل امید بہتریہر فصل میں ہو بارورکوشش ہو دنیا میں کوئیخطہ نہ ہو زیر و زبرتیرا ہر اک باسی رہےنیکو صفت نیکو سیرہر زن سلیقہ مند ہوہر مرد ہو صاحب ہنرجب تک ہیں یہ ارض و فلکجب تک ہیں یہ شمس و قمرمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطن
بربط دل کے تار ٹوٹ گئےہیں زمیں بوس راحتوں کے محلمٹ گئے قصہ ہائے فکر و عمل!بزم ہستی کے جام پھوٹ گئےچھن گیا کیف کوثر و تسنیمزحمت گریہ و بکا بے سودشکوۂ بخت نا رسا بے سودہو چکا ختم رحمتوں کا نزولبند ہے مدتوں سے باب قبولبے نیاز دعا ہے رب کریمبجھ گئی شمع آرزوئے جمیلیاد باقی ہے بے کسی کی دلیلانتظار فضول رہنے دےراز الفت نباہنے والےبار غم سے کراہنے والےکاوش بے حصول رہنے دے
جہاں پہاڑوں کے آسماں بوس سلسلے ہیںوہاں کبھی بحر موجزن تھےجہاں بیاباں میں ریت اڑتی ہےباد مسموم گونجتی ہےوہاں کبھی سبزہ زار و گلگشت کا سماں تھابلند و بالا حقیر و ہیچاس شکست و تعمیر کے تسلسل میں بہہ رہے ہیںشکست و تعمیر کے تسلسل میں تو ہے میں ہوں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books