aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "brazier"
وہ خاموش تھیاپنے دوزخ میں جلتی ہوئینیلگوں پانیوں کے شکنجے میں جکڑی ہوئیاک مچلتی ہوئی موج مہتاب کی سمت لپکیمگرریت پر آ گری سیپ اگلتی ہوئیخامشی کے بھنور سے نکلتی ہوئیوہ ہنسی اور ہنسیبریزیر میں سے باہر پھسلتی ہوئیاب وہ لڑکی نہیں صرف انگڑائی تھیاک توانائی تھینیم وا آنکھ میں کسمساتی ہوئیہاتھ ملتی ہوئیاک سمندر تھا بپھرا ہوااک شب تھی نہ ڈھلتی ہوئی
سب آنکھیں ٹانگوں میں جڑی ہیںریڑھ کی ہڈی کے منکوں میں کان لگے ہیںناف کے اوپر روئیں روئیں میں ایک زباں ہےپتلونیں ساری آوازیں سن لیتی ہیںدو پتلونیں جھگڑ رہی ہیں''اتنی قیمت کیوں لیتی ہو تم میں ایسی کیا خوبی ہے''کیسے گاہک ہو تم آخر مول بدن کا دے سکتے ہوپتی ورتا کا مول تمہارے پاس نہیں ہےچست نکیلا بریزیر یہ چیخ رہا ہےشرم نہیں آتی کتوں کو چرچ کے آگے کھڑے ہوئے ہیںرستم ٹھرہ پئے کھڑا ہے بس اسٹاپ کی چھت کے نیچےاور سہراب سے پوچھ رہا ہے''بیٹا مال کہاں ملتا ہے؟''مندر کی چوکھٹ پر بیٹھی اندھی آنکھیںآتے جاتے اوتاروں کی خفیہ جیبیں تاک رہی ہیںہسپتال کے اونچے نیچے زینوں پر اک اک مردے کوگاندھی جی دونوں ہاتھوں سے انجکشن دیتے پھرتے ہیںواشنگٹن وتنام میں بیٹھا برہم پتر کے پانی کو وہسکی کے جام میں گھول رہا ہےلندن لنکا کی سڑکوں پہ سر نیوڑھائے گھوم رہا ہےکانگوں آوارہ پھرتا ہے پیرس کے گندے چکلوں میںبدھ کے ٹوٹے پھوٹے بت کے سر پر بوڑھا کرگسمردوں کی مجلس میں بیٹھا اپنی بپتا سنا رہا ہےمسجد کے سائے میں بیٹھا کمسن گیدڑاس کی گواہی میں کہتا ہےبیچارہ کم سن ہے اس کی چونچ سے اب تکدودھ کی خوشبو سی آتی ہے''اوپر نیلے کھلے گگن میںایک کبوتر اپنی چونچ میں اک زیتون کی شاخ لیے اڑتا پھرتا ہےاور اس شاخ کے دونوں جانبایٹم بم کے پات لگے ہیںانساں کا دایاں بازو اک برگ خزاں کی طرح لرز کر ٹوٹ رہا ہےاور اس کے بائیں بازو پر کوہ ہمالیہ دھرا ہوا ہےجانے پھر بھی وہ تلوار کی دھار پہ کیسے چل سکتا ہےمیں اس بھیڑ میں چوراہے پر تنہا بیٹھا سوچ رہا ہوںدنیا اسرافیل کے پہلے صور کے بعد یوں ہی لگتی ہے''گیس کے کمرے ''میں شاید یوں ہی ہوتا ہےپوپ پال کی ٹوپی میرے بھیجے میں دھنستی جاتی ہے
سینے پہ یہ پلو ہے کہ اک موج حیابیماتھا ہے کہ اک صبح کا پرتو ہے شہابیآنکھیں ہیں کہ بہکے ہوئے دو مست شرابیپیکر ہے کہ انسان کے سانچے میں گلابیگیسو ہیں کہ گل بازیٔ مشک ختنی ہےکیا گل بدنی گل بدنی گل بدنی ہے
قسم اس بدن کیاور قسم اس بدن پر کھلے پھولوں کیرت بہار کی ہے اور ہوا کی رانوں میں مہک کھلی ہےاب تک۔۔۔بریزئیر میں تنی ان چھاتیوں سےپرندے اپنی چونچوں میں شیر بھر کے لاتے ہیںاور محبت کی ابدیت کے گیت گاتے ہیں۔''لے میں جن کی حرارت ان شبوں کی ہےگزریں جو قربت میں تیرے بدن کیگہری آنکھوں والی غم گسار شبیںبطن میں جن کے صدیاں گونجتی تھیںلیکن۔۔۔ ابدیت کس کو تھیماسوا اس لہراتی جنبش کے(جیسے تان پورے پہ غیر ارادتاً پڑ گئی ہو)اور تا دیر درد میں ڈوبی آوازتیرے بدن سے ابھرتی تھییہ درد کیا تھا؟کہ ہر صبح لذت جس کی لبوں پہپپڑیوں کی مانند جمی ہوتیتیرے لبوں پہمیرے لبوں پہبہار بہت تھی چار سو باغوں میںاور سڑکوں کی ویرانی میںشامیں جو ایستادہ تھیںدیواروں کی مانند ہمارے مابین تنی رہیںتاریک شبوں میں جبسرما کی تیز ہوائیں چلتی تھیںاداسی تیری پنڈلیوں میں سرسراتی تھیتیرے کانپتے بدن کی خوشبولہریے لیتی سرشاری میںیوں ڈوبتی ابھرتی تھیگویا۔۔۔!اور میری انگلیوں کی پوروں میں سلگتی تھی جو آگتیری چھاتیوں کی گولائیوں کو ماپتیپیمائش تیرے بدن کی تھیپیمائش زندگی کیدن بیت گئے!!اور خواب ہمارے اپنے اپنے بدن کنارےجلتے رہے چراغوں کی طرحاور میں کہ اب تکیاد کے پیڑوں سے محبتوں کے پھول چن چن کردل کے طشت میں دھرتا جاؤںتیری موجودگی کی طلب میں
لحد میں سو رہی ہے آج بے شک مشت خاک اس کیمگر گرم عمل ہے جاگتی ہے جان پاک اس کیوہ اک فانی بشر تھا میں یہ باور کر نہیں سکتابشر اقبال ہو جائے تو ہرگز مر نہیں سکتابہ زیر سایۂ دیوار مسجد ہے جو آسودہیہ خاکی جسم ہے ستر برس کا راہ پیمودہیہ خاکی جسم بھی اس کا بہت ہی بیش قیمت تھاجسے ہم جلوہ سمجھے تھے وہ پردہ بھی غنیمت تھااسے ہم ناپتے تھے لے کے آنکھوں ہی کا پیماناغزل خواں اس کو جانا ہم نے شاعر اس کو گردانافقط صورت ہی دیکھی اس کے معنی ہم نہیں سمجھےنہ دیکھا رنگ تصویر آئنے کو دل نشیں سمجھےہمیں ضعف بصارت سے کہاں تھی تاب نظارہسکھائے اس کے پردے نے ہمیں آداب نظارایہ نغمہ کیا ہے زیر پردہ ہائے ساز کم سمجھےرہے سب گوش بر آواز لیکن راز کم سمجھےشکست پیکر محسوس نے توڑا حجاب آخرطلوع صبح محشر بن کے چمکا آفتاب آخرمقید اب نہیں اقبالؔ اپنے جسم فانی میںنہیں وہ بند حائل آج دریا کی روانی میںوجود مرگ کی قائل نہیں تھی زندگی اس کیتعالی اللہ اب دیکھے کوئی پائندگی اس کیجسے ہم مردہ سمجھے زندہ تر پائندہ تر نکلامہ و خورشید سے ذرے کا دل تابندہ تر نکلاابھی اندازہ ہو سکتا نہیں اس کی بلندی کاابھی دنیا کی آنکھوں پر ہے پردہ فرقہ بندی کامگر میری نگاہوں میں ہیں چہرے ان جوانوں کےجنہیں اقبالؔ نے بخشے ہیں بازو قہر مانوں کے
تیری صورت جب بھی یاد آئی جگر تڑپا گئیتیری فرقت میں مرے پاؤں میں کل موچ آ گئیخامشی سی میری دنیائے نظر میں چھا گئیکر کے بحر غم میں میری کشتئ دل پاش پاشبازیٔ گوئی کہ دامن تر مکن ہشیار باش
تم ہماری طرف رخ کر کے کتاب دیکھتےاور تختۂ سیاہ کی طرف رخ کر کےلکھتےمیں بھی ایک حسابی الجھن سلجھا رہا تھاتمہارے زانوتمہارے کولھوں سے زیادہ فربہ کیوں ہیںتمہیں ملی ہوئی نعمتوں کے تشکر میںجھکی رہنے والی بریزئرمرے استقبال کے لیے کھڑی ہو گئی تھی
رنگ میں ڈوب کے نکھری ہے فضا آج کی راتدامن فرش میں ہے نور خدا آج کی راتگدگداتی ہوئی احساس کا ہر تار لطیفگنگناتی ہوئی پھرتی ہے ہوا آج کی راتباس کا لمس مسیحا ہے صبا آب حیاتدرد کو ڈھونڈھتی پھرتی ہے دوا آج کی راتاوڑھ لی رونق بازار و در و بام نے بھیرامش و رنگ کی محفل کی قبا آج کی راتشوق تزئین سے بے ساختہ مہکی ہے حیالکشمی روپ سہاگن نے بھرا آج کی راتدیپ ہی دیپ ہیں ہر سمت جدھر بھی دیکھوجلوۂ حسن تناسب ہے سوا آج کی راتجگمگاتے ہیں لب بام ستاروں کی طرحکر گئی نقل خدا خلق خدا آج کی راتشور اور گل میں نمایاں ہے تسلسل ترتیبتھاپ طبلے کی ہے آہٹ کی صدا آج کی راتبچپنا بندش پروا سے برابر مفرورکھیل اور کود میں ہے مست ہوا آج کی راتنار سے چھیڑ رہے نور کے دیوانوں کیکیا ہوا ہاتھ جلا پیر جلا آج کی راتبازیٔ جاں کے کھلاڑی ہیں یہی کھیلنے والےدیکھیے یہ بھی پنپنے کی ادا آج کی راتزیست اک مشغلۂ عیش نظر آتی ہےصورت زندہ دلی کیا نہ ہوا آج کی رات
بستان وفا دہر میں آباد ہے ہم سےدن رات زمانے کو خدا یاد ہے ہم سےتاریخ جنوں خون سے کی ہم نے نگارشآفاق ہیں ہر مسند ارشاد ہے ہم سےروشن کیا ظلمات میں قندیل ہنر کوصحرا میں چمن نور کا آباد ہے ہم سےہم جنت پرویز کے ہیں حسن تفاخرشیریں کی طلب تیشۂ فرہاد ہے ہم سےسانچے میں غم و درد کے انسان کو ڈھالاشہکار جہاں ساز بھی ایجاد ہے ہم سےخوابیدہ شبستاں میں اذاں ہم نے پکاریایمان سرا دہر کا آباد ہے ہم سےہم شہر تفلسف میں ہیں تدریس کی تنویرشمشیر بکف بازو فولاد ہے ہم سےتعمیر کیا تیشہ فن سے چمن دہرتنقید حق آثار بھی ایجاد ہے ہم سےمعمار یقیں ساز ہیں درویش کے آدابباقی ابھی تعلیم خداداد ہے ہم سےاخلاص کے موتی سے بھرا دامن اغیاراقلیم جہاں میں عدل و راد ہے ہم سےایوان زر و سیم میں محشر ہوا برپاخائف ہمہ تن لشکر شداد ہے ہم سےماحول زمانہ ہے المناک و جگر دوزقائم ولے کچھ رحمت جواد ہے ہم سےسر بازیٔ پیہم سے ہے گلزار مرتبسر چشمۂ انوار کی بنیاد ہے ہم سےہم احسن تقویم کے ہیں بولتی تفسیررنگین دل گیتی کی روداد ہے ہم سےبخشی ہے غلاموں کو بھی احرار کی جرأتدنیا کا گرفتار بھی آزاد ہے ہم سےہم مٹ گئے دنیا سے تو دنیا نہیں ہوگیہر ذرہ ہے روشن تو جہاں شاد ہے ہم سےالحاد کی ظلمت سے زمانے کو نکالااسلاف کی محفل ابھی آباد ہے ہم سےسر مستیٔ کردار سے رخشندہ ہے آفاقمحفوظ ابھی مخزن اجداد ہے ہم سےتہذیب و تمدن کا سبق ہم نے پڑھایاہر حسن جہاں ساز کی ایجاد ہے ہم سےببیاکؔ کہاں گوش بر آواز زمانہکچھ ملت معصوم کی فریاد ہے ہم سے
سحر کی کلیاں لٹی ہوئی ہیںگلوں کی شاخیں جھکی ہوئی ہیںحسین تالاب کے کنارےحسین پریاں کھڑی ہوئی ہیںبہ زیر شاخ گل شگفتہ میں صورت شمع چپ کھڑی ہوںفضا میں کوئل کی اک صدا ہےتمام جنگل لرز رہا ہےحسین دنیا کی رہنے والیحسیں فضاؤں میں نغمہ زا ہےمیں مثل اک غنچۂ فسردہ نوائے تصویر بن رہی ہوںیہ کون منظر ہے پیش دنیایہ کیسی دنیا ہے حسن آرایہ کیا تماشا سا ہو رہا ہےیہ کیسے منظر ہیں جلوہ آرامیں دل میں تصویر کھینچتی ہوں نگاہ حیرت سے دیکھتی ہوںیہ کیا ہے اے میری چشم حیراںہے کیا تماشا رخ گلستاںمیں کیا کروں اس مصوری کومجھے ہے الجھن مجھے ہے خلجانادھر ادھر کو جو دیکھتی ہوں حسین طائر ہیں زمزمہ زاوہ ان کا گانا بصد مسرتیہ کیوں نوا ہے نوائے عشرتیہ ان کے نغمے رباب جنتہیں صورت شمع محو حیرتالٰہی اس مشت پر میں چھپ کر ادا سے یہ کون گا رہا ہےکہ دل پہ چوٹیں لگا رہا ہےجگر میں ٹیسیں اٹھا رہا ہےفضا میں نغمے لٹا رہا ہےمجھے پریشاں بنا رہا ہےیہ مثل دیوار چپ کھڑی ہوں یہ کون گاتا ہے اس ادا سےفضا میں نغموں کی یہ نزاکتیہ پھول چن کر ہوں محو حیرتمیں کیا کروں زمزموں کا یا ربیہ ہے تعجب یہ ہی ہے حیرتجمالؔ حیران و پر تحیر ہے حسن دنیا فضاۓ حیرت
بساط خونچکاں پرہر بہادر گھٹنے ٹیکےاپنے خانے میں پریشاں سر جھکائےہاتھ سینے سے لگائےعالم حیرت سے اک دوجے کو تکتا ہےتماشائی کھڑے چپ چاپپتھر لب لئے اور سانس روکےبازیٔ شطرنج پر نظریں جمائےمحو منظر ہیںیہ منظر خوب منظر ہے کہ جس میںناتواں ہاتھوں نے زور آور کا نشہایک لمحے میں اتارا ہے
تم مری کھوج میںیوں ہی تاریک غاروں مٹھوں معبدوں خانقاہوں میںگھٹ گھٹ کے مر جاؤ گےمیں نہیں مل سکوں گا تمہیں اب کبھیدھرم میں سنگھ میں دھیان میں گیان میںنیلے ساگر کی تہہ میں اتر کربرازیل کے جنگلوں میں بھٹک کرہمالہ کی چوٹی پہ چڑھ کرمجھے تم نہ آواز دو
جوانی کیا ہے تم سے کیا کہیں ہمجوانی کا ہے اب پیری میں ماتمجوانی شعلۂ آتش فشاں ہےجوانی زیست کا راز نہاں ہےجوانی ہے جواب خندۂ گلجوانی اہتمام ساغر و ملجوانی اضطراب زندگی ہےجوانی پیچ و تاب زندگی ہےجوانی زندگی کا اک تبسمجوانی زندگی کا اک ترنمجوانی مطلع نور سحر ہےجوانی رشک خورشید و قمر ہےجوانی زندگی کا خون تازہجوانی چہرۂ انساں کا غازہجوانی کیا شراب زندگی ہےجوانی التہاب زندگی ہےجوانی گرمیٔ بازار عالمجوانی گیسوئے خم دار عالمجوانی خامشی کی گفتگو ہےجوانی خوبصورت خوب رو ہےجوانی ہے بہار زندگانیجوانی لالہ زار زندگانیجوانی میں عجب اک دل کشی ہےجوانی میں عجب اک مہ وشی ہےجوانی زندگی کا نقش اولجوانی ایک شورش ایک ہلچلجوانی سایۂ بال ہما ہےجوانی میں جہاں بھی زیر پا ہےجوانی جیسے پانی کی روانیجوانی میں ہر اک غم پانی پانیجوانی میں نہاں اک بانکپن ہےجوانی زندگانی کی دلہن ہےجوانی ابتدائے ذوق پروازجوانی انتہائے شوق پروازجوانی ایک حرف دل نشیں ہےجوانی زیست کا تاج و نگیں ہےجوانی زندگانی کا ہے دم خمجوانی طاقت سہراب و رستمجوانی آسمان زندگی ہےجوانی ہی نشان زندگی ہےجوانی کوہکن کا زور بازوجوانی ایک افسوں ایک جادوجوانی جوشش کردار پیہمجوانی گرمیٔ رفتار پیہمجوانی مخزن حرف و حکایاتجوانی مرکز کشف و کراماتجوانی چشمۂ تسنیم و کوثرجوانی آب رحمت کا سمندرجوانی لغزش مستانۂ عشقجوانی بازیٔ طفلانۂ عشقجوانی داستان قیس و لیلیٰجوانی قصۂ یوسف زلیخاجوانی کیا ہے برق طور گویاجوانی کیا جمال حور گویاجوانی سوزش روز قیامتجوانی ایک حدت اک حرارتجوانی خودستائی خود نمائیجوانی جنگ جوئی کج ادائیجوانی زندگی کا زمزمہ ہےجوانی زندگی کا طنطنہ ہےمگر اب زندگی کو ساتھ لے کرجوانی جا چکی پیری کو دے کرجوانی کو نہ پوچھو اب کہاں ہےجوانی شمع کشتہ کا دھواں ہے
بدھا عظیم شخص تھاجو تخت و تاج چھوڑ کربتان نسل و قومیتوقار عز و سلطنتغرور جاہ و مرتبتکے بندھنوں کو توڑ کربہ زیر سایۂ شجرتپسیا میں محو تھاگیان دھیان میں مگننئی روش خیال میںجو آدمی کو آدمی کے ظلم سے نجات دےجو ذات پات کے طلسم سامری کو مات دےبرہمنوں کی قدغنوں کا زور پاش پاش ہوجہاں میں جو اندھیر ہے اسے شکست فاش ہووہ سوچتا چلا گیا اسے سراغ مل گیامہاتما مہاتما عظیم اس کی آتماکہ جس کے دل میں کرب کائنات تھاستودۂ صفات تھاپکار کر کہا کہ اے جہان غم کے باسیومری صدا کو تو سنواہنسا پرمو دھرما اک اصول لا زوال ہےیہ فکر بے نظیر ہے یہ سوچ بے مثال ہےکسی کو دکھ نہ دو کہ یہ گناہ ہے وبال ہےجو اس سے منحرف ہوئے تو زندگی محال ہےیہی ہے راز زندگیطریق صلح و آشتییہی نجات روح ہےیہی ہے دل کی شانتیمہاتما عظیم تھامہاتما نے سچ کہا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books