aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "chalne"
دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا ربکیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہوشورش سے بھاگتا ہوں دل ڈھونڈتا ہے میراایسا سکوت جس پر تقریر بھی فدا ہومرتا ہوں خامشی پر یہ آرزو ہے میریدامن میں کوہ کے اک چھوٹا سا جھونپڑا ہوآزاد فکر سے ہوں عزلت میں دن گزاروںدنیا کے غم کا دل سے کانٹا نکل گیا ہولذت سرود کی ہو چڑیوں کے چہچہوں میںچشمے کی شورشوں میں باجا سا بج رہا ہوگل کی کلی چٹک کر پیغام دے کسی کاساغر ذرا سا گویا مجھ کو جہاں نما ہوہو ہاتھ کا سرہانا سبزے کا ہو بچھوناشرمائے جس سے جلوت خلوت میں وہ ادا ہومانوس اس قدر ہو صورت سے میری بلبلننھے سے دل میں اس کے کھٹکا نہ کچھ مرا ہوصف باندھے دونوں جانب بوٹے ہرے ہرے ہوںندی کا صاف پانی تصویر لے رہا ہوہو دل فریب ایسا کوہسار کا نظارہپانی بھی موج بن کر اٹھ اٹھ کے دیکھتا ہوآغوش میں زمیں کی سویا ہوا ہو سبزہپھر پھر کے جھاڑیوں میں پانی چمک رہا ہوپانی کو چھو رہی ہو جھک جھک کے گل کی ٹہنیجیسے حسین کوئی آئینہ دیکھتا ہومہندی لگائے سورج جب شام کی دلہن کوسرخی لیے سنہری ہر پھول کی قبا ہوراتوں کو چلنے والے رہ جائیں تھک کے جس دمامید ان کی میرا ٹوٹا ہوا دیا ہوبجلی چمک کے ان کو کٹیا مری دکھا دےجب آسماں پہ ہر سو بادل گھرا ہوا ہوپچھلے پہر کی کوئل وہ صبح کی موذنمیں اس کا ہم نوا ہوں وہ میری ہم نوا ہوکانوں پہ ہو نہ میرے دیر و حرم کا احساںروزن ہی جھونپڑی کا مجھ کو سحر نما ہوپھولوں کو آئے جس دم شبنم وضو کرانےرونا مرا وضو ہو نالہ مری دعا ہواس خامشی میں جائیں اتنے بلند نالےتاروں کے قافلے کو میری صدا درا ہوہر دردمند دل کو رونا مرا رلا دےبے ہوش جو پڑے ہیں شاید انہیں جگا دے
کتابیں جھانکتی ہیں بند الماری کے شیشوں سےبڑی حسرت سے تکتی ہیںمہینوں اب ملاقاتیں نہیں ہوتیںجو شامیں ان کی صحبت میں کٹا کرتی تھیں' اب اکثرگزر جاتی ہیں کمپیوٹر کے پردوں پربڑی بے چین رہتی ہیں کتابیںانہیں اب نیند میں چلنے کی عادت ہو گئی ہےبڑی حسرت سے تکتی ہیںجو قدریں وہ سناتی تھیںکہ جن کے سیل کبھی مرتے نہیں تھےوہ قدریں اب نظر آتی نہیں گھر میںجو رشتے وہ سناتی تھیںوہ سارے ادھڑے ادھڑے ہیں
کسی کا حکم ہے ساری ہوائیںہمیشہ چلنے سے پہلے بتائیںکہ ان کی سمت کیا ہےکدھر جا رہی ہیںہواؤں کو بتانا یہ بھی ہوگاچلیں گی اب تو کیا رفتار ہوگیہواؤں کو یہ اجازت نہیں ہےکہ آندھی کی اجازت اب نہیں ہےہماری ریت کی سب یہ فصیلیںیہ کاغذ کے محل جو بن رہے ہیںحفاظت ان کی کرنا ہے ضروریاور آندھی ہے پرانی ان کی دشمنیہ سبھی جنتے ہیںکسی کا حکم ہے دریا کی لہریںذرا یہ سرکشی کم کر لیں اپنی حد میں ٹھہریںابھرنا پھر بکھرنا اور بکھر کر پھر ابھرناغلط ہے یہ ان کا ہنگامہ کرنایہ سب ہے صرف وحشت کی علامتبغاوت کی علامتبغاوت تو نہیں برداشت ہوگییہ وحشت تو نہیں برداشت ہوگیاگر لہروں کو ہے دریا میں رہناتو ان کو ہوگا اب چپ چاپ بہناکسی کا حکم ہےاس گلستاں میں بس اک رنگ کے ہی پھول ہوں گےکچھ افسر ہوں گے جو یہ طے کریں گےگلستاں کس طرح بننا ہے کل کایقیناً پھول تو یک رنگیں ہوں گےمگر یہ رنگ ہوگا کتنا گہرا کتنا ہلکایہ افسر طے کریں گےکسی کو یہ کوئی کیسے بتائےگلستاں میں کہیں بھی پھول یک رنگیں نہیں ہوتےکبھی ہو ہی نہیں سکتےکہ ہر اک رنگ میں چھپ کر بہت سے رنگ رہتے ہیںجنھوں نے باغ یک رنگیں بنانا چاہے تھےان کو ذرا دیکھوکہ جب اک رنگ میں سو رنگ ظاہر ہو گئے ہیں توکتنے پریشاں ہیں کتنے تنگ رہتے ہیںکسی کو یہ کوئی کیسے بتائےہوائیں اور لہریں کب کسی کا حکم سنتی ہیںہوائیں حاکموں کی مٹھیوں میں ہتھکڑی میںقید خانوں میں نہیں رکتیںیہ لہریں روکی جاتی ہیںتو دریا کتنا بھی ہو پر سکوں بیتاب ہوتا ہےاور اس بیتابی کا اگلا قدم سیلاب ہوتا ہے
یہ جیون اک راہ نہیںاک دوراہا ہےپہلا رستہبہت سہل ہےاس میں کوئی موڑ نہیں ہےیہ رستہاس دنیا سے بے جوڑ نہیں ہےاس رستے پر ملتے ہیںریتوں کے آنگناس رستے پر ملتے ہیںرشتوں کے بندھناس رستے پر چلنے والےکہنے کو سب سکھ پاتے ہیںلیکنٹکڑے ٹکڑے ہو کرسب رشتوں میں بٹ جاتے ہیںاپنے پلے کچھ نہیں بچتابچتی ہےبے نام سی الجھنبچتا ہےسانسوں کا ایندھنجس میں ان کی اپنی ہر پہچاناور ان کے سارے سپنےجل بجھتے ہیںاس رستے پر چلنے والےخود کو کھو کر جگ پاتے ہیںاوپر اوپر تو جیتے ہیںاندر اندر مر جاتے ہیں
مرے خدایا میں زندگی کے عذاب لکھوں کہ خواب لکھوںیہ میرا چہرہ یہ میری آنکھیںبجھے ہوئے سے چراغ جیسےجو پھر سے چلنے کے منتظر ہوںوہ چاند چہرہ ستارہ آنکھیںوہ مہرباں سایہ دار زلفیںجنہوں نے پیماں کیے تھے مجھ سےرفاقتوں کے محبتوں کےکہا تھا مجھ سے کہ اے مسافر رہ وفا کےجہاں بھی جائے گا ہم بھی آئیں گے ساتھ تیرےبنیں گے راتوں میں چاندنی ہم تو دن میں سائے بکھیر دیں گےوہ چاند چہرہ ستارہ آنکھیںوہ مہرباں سایہ دار زلفیںوہ اپنے پیماں رفاقتوں کے محبتوں کےشکست کر کےنہ جانے اب کس کی رہ گزر کا منارۂ روشنی ہوئے ہیںمگر مسافر کو کیا خبر ہےوہ چاند چہرہ تو بجھ گیا ہےستارہ آنکھیں تو سو گئی ہیںوہ زلفیں بے سایہ ہو گئی ہیںوہ روشنی اور وہ سائے مری عطا تھےسو میری راہوں میں آج بھی ہیںکہ میں مسافر رہ وفا کاوہ چاند چہرہ ستارہ آنکھیںوہ مہرباں سایہ دار زلفیںہزاروں چہروں ہزاروں آنکھوںہزاروں زلفوں کا ایک سیلاب تند لے کرمرے تعاقب میں آ رہے ہیںہر ایک چہرہ ہے چاند چہرہہیں ساری آنکھیں ستارہ آنکھیںتمام ہیںمہرباں سایہ دار زلفیںمیں کس کو چاہوں میں کس کو چوموںمیں کس کے سائے میں بیٹھ جاؤںبچوں کہ طوفاں میں ڈوب جاؤںنہ میرا چہرہ نہ میری آنکھیںمرے خدایا میں زندگی کے عذاب لکھوں کہ خواب لکھوں
کاٹ لینا ہر کٹھن منزل کا کچھ مشکل نہیںاک ذرا انسان میں چلنے کی ہمت چاہئےمل نہیں سکتی نکموں کو زمانے میں مرادکامیابی کی جو خواہش ہو تو محنت چاہئےخاک محنت ہو سکے گی ہو نہ جب ہاتھوں میں زورتندرستی کے لئے ورزش کی عادت چاہئےخوش مزاجی سا زمانے میں کوئی جادو نہیںہر کوئی تحسیں کہے ایسی طبیعت چاہئےہنس کے ملنا رام کر لینا ہر ہر انسان کوسب سے میٹھا بولنے کی تم کو عادت چاہئےایک ہی اللہ کے بندے ہیں سب چھوٹے بڑےاپنے ہم جنسوں سے دنیا میں محبت چاہئےہے برائی ہی برائی کام کل پر چھوڑناآج سب کچھ کر کے اٹھو گر فراغت چاہئےجو بروں کے پاس بیٹھے گا برا ہو جائے گانیک ہونے کے لئے نیکوں کی صحبت چاہئےساتھ والے دیکھنا تم سے نہ بڑھ جائیں کہیںجوش ایسا چاہئے ایسی حمیت چاہئےحکمراں ہو کوئی اپنا ہو یا بیگانہدی خدا نے جس کو عزت اس کی عزت چاہئےدیکھ کر چلنا کچل جائے نہ چیونٹی راہ میںآدمی کو بے زبانوں سے بھی الفت چاہئےہے اسی میں بھید عزت کا اگر سمجھے کوئیچھوٹے بچوں کو بزرگوں کی اطاعت چاہئےعلم کہتے ہیں جسے سب سے بڑی دولت ہے یہڈھونڈ لو اس کو اگر دنیا میں عزت چاہئےسب برا کہتے ہیں لڑنے کو بری عادت ہے یہساتھ کے لڑکے جو ہوں ان سے رفاقت چاہئےہوں جماعت میں شرارت کرنے والے بھی اگردور کی ان سے فقط صاحب سلامت چاہئےدیکھنا آپس میں پھر نفرت نہ ہو جائے کہیںاس قدر حد سے زیادہ بھی نہ ملت چاہئےباپ دادا کی بڑائی پہ نہ اترانا کبھیآدمی کو اپنے کاموں کی شرافت چاہئےگر کتابیں ہو گئیں میلی تو کیا پڑھنے کا لطفکام کی چیزیں ہیں جو ان کی حفاظت چاہئے
یہ آئے دن کے ہنگامےیہ جب دیکھو سفر کرنایہاں جانا وہاں جانااسے ملنا اسے ملناہمارے سارے لمحےایسے لگتے ہیںکہ جیسے ٹرین کے چلنے سے پہلےریلوے اسٹیشن پرجلدی جلدی اپنے ڈبے ڈھونڈتےکوئی مسافر ہوںجنہیں کب سانس بھی لینے کی مہلت ہےکبھی لگتا ہےتم کو مجھ سے مجھ کو تم سے ملنے کاخیال آئےکہاں اتنی بھی فرصت ہےمگر جب سنگ دل دنیا میرا دل توڑتی ہے توکوئی امید چلتے چلتےجب منہ موڑتی ہے توکبھی کوئی خوشی کا پھولجب اس دل میں کھلتا ہےکبھی جب مجھ کو اپنے ذہن سےکوئی خیال انعام ملتا ہےکبھی جب اک تمنا پوری ہونے سےیہ دل خالی سا ہوتا ہےکبھی جب درد آ کے پلکوں پہ موتی پروتا ہےتو یہ احساس ہوتا ہےخوشی ہو غم ہو حیرت ہوکوئی جذبہ ہواس میں جب کہیں اک موڑ آئے تووہاں پل بھر کوساری دنیا پیچھے چھوٹ جاتی ہےوہاں پل بھر کواس کٹھ پتلی جیسی زندگی کیڈوری ٹوٹ جاتی ہےمجھے اس موڑ پربس اک تمہاری ہی ضرورت ہےمگر یہ زندگی کی خوب صورت اک حقیقت ہےکہ میری راہ میں جب ایسا کوئی موڑ آیا ہےتو ہر اس موڑ پر میں نےتمہیں ہمراہ پایا ہے
بھورے بادلوں کا دلدور اڑتا جاتا ہےپیڑ پر کہیں بیٹھااک پرند گاتا ہے''چل چل'' اک گلہری کیکان میں کھٹکتی ہےریل چلنے لگتی ہےراہ کے درختوں کیچھاؤں ڈھلنے لگتی ہے''مجھ سے کتنے چھوٹے ہو''اور مری گراں گوشیدیوڑھی کا سناٹااور ہماری سرگوشیہے رقم کہاں وہ سب؟
کس زباں سے کہہ رہے ہو آج تم سوداگرودہر میں انسانیت کے نام کو اونچا کروجس کو سب کہتے ہیں ہٹلر بھیڑیا ہے بھیڑیابھیڑیے کو مار دو گولی پئے امن و بقاباغ انسانی میں چلنے ہی پہ ہے باد خزاںآدمیت لے رہی ہے ہچکیوں پر ہچکیاںہاتھ ہے ہٹلر کا رخش خود سری کی باگ پرتیغ کا پانی چھڑک دو جرمنی کی آگ پرسخت حیراں ہوں کہ محفل میں تمہاری اور یہ ذکرنوع انسانی کے مستقبل کی اب کرتے ہو فکرجب یہاں آئے تھے تم سوداگری کے واسطےنوع انسانی کے مستقبل سے کیا واقف نہ تھےہندیوں کے جسم میں کیا روح آزادی نہ تھیسچ بتاؤ کیا وہ انسانوں کی آبادی نہ تھیاپنے ظلم بے نہایت کا فسانہ یاد ہےکمپنی کا پھر وہ دور مجرمانہ یاد ہےلوٹتے پھرتے تھے جب تم کارواں در کارواںسر برہنہ پھر رہی تھی دولت ہندوستاںدست کاروں کے انگوٹھے کاٹتے پھرتے تھے تمسرد لاشوں سے گڈھوں کو پاٹتے پھرتے تھے تمصنعت ہندوستاں پر موت تھی چھائی ہوئیموت بھی کیسی تمہارے ہات کی لائی ہوئیاللہ اللہ کس قدر انصاف کے طالب ہو آجمیر جعفرؔ کی قسم کیا دشمن حق تھا سراجؔکیا اودھ کی بیگموں کا بھی ستانا یاد ہےیاد ہے جھانسی کی رانی کا زمانہ یاد ہےہجرت سلطان دہلی کا سماں بھی یاد ہےشیر دل ٹیپوؔ کی خونیں داستاں بھی یاد ہےتیسرے فاقے میں اک گرتے ہوئے کو تھامنےکس کے تم لائے تھے سر شاہ ظفر کے سامنےیاد تو ہوگی وہ مٹیا برج کی بھی داستاںاب بھی جس کی خاک سے اٹھتا ہے رہ رہ کر دھواںتم نے قیصر باغ کو دیکھا تو ہوگا بارہاآج بھی آتی ہے جس سے ہائے اخترؔ کی صداسچ کہو کیا حافظے میں ہے وہ ظلم بے پناہآج تک رنگون میں اک قبر ہے جس کی گواہذہن میں ہوگا یہ تازہ ہندیوں کا داغ بھییاد تو ہوگا تمہیں جلیانوالا باغ بھیپوچھ لو اس سے تمہارا نام کیوں تابندہ ہےڈائرؔ گرگ دہن آلود اب بھی زندہ ہےوہ بھگتؔ سنگھ اب بھی جس کے غم میں دل ناشاد ہےاس کی گردن میں جو ڈالا تھا وہ پھندا یاد ہےاہل آزادی رہا کرتے تھے کس ہنجار سےپوچھ لو یہ قید خانوں کے در و دیوار سےاب بھی ہے محفوظ جس پر طنطنہ سرکار کاآج بھی گونجی ہوئی ہے جن میں کوڑوں کی صداآج کشتی امن کے امواج پر کھیتے ہو کیوںسخت حیراں ہوں کہ اب تم درس حق دیتے ہو کیوںاہل قوت دام حق میں تو کبھی آتے نہیں''بینکی'' اخلاق کو خطرے میں بھی لاتے نہیںلیکن آج اخلاق کی تلقین فرماتے ہو تمہو نہ ہو اپنے میں اب قوت نہیں پاتے ہو تماہل حق روشن نظر ہیں اہل باطن کور ہیںیہ تو ہیں اقوال ان قوموں کے جو کمزور ہیںآج شاید منزل قوت میں تم رہتے نہیںجس کی لاٹھی اس کی بھینس اب کس لئے کہتے نہیںکیا کہا انصاف ہے انساں کا فرض اولیںکیا فساد و ظلم کا اب تم میں کس باقی نہیںدیر سے بیٹھے ہو نخل راستی کی چھاؤں میںکیا خدا ناکردہ کچھ موچ آ گئی ہے پاؤں میںگونج ٹاپوں کی نہ آبادی نہ ویرانے میں ہےخیر تو ہے اسپ تازی کیا شفا خانے میں ہےآج کل تو ہر نظر میں رحم کا انداز ہےکچھ طبیعت کیا نصیب دشمناں ناساز ہےسانس کیا اکھڑی کہ حق کے نام پر مرنے لگےنوع انساں کی ہوا خواہی کا دم بھرنے لگےظلم بھولے راگنی انصاف کی گانے لگےلگ گئی ہے آگ کیا گھر میں کہ چلانے لگےمجرموں کے واسطے زیبا نہیں یہ شور و شینکل یزیدؔ و شمرؔ تھے اور آج بنتے ہو حسینؔخیر اے سوداگرو اب ہے تو بس اس بات میںوقت کے فرمان کے آگے جھکا دو گردنیںاک کہانی وقت لکھے گا نئے مضمون کیجس کی سرخی کو ضرورت ہے تمہارے خون کیوقت کا فرمان اپنا رخ بدل سکتا نہیںموت ٹل سکتی ہے اب فرمان ٹل سکتا نہیں
ترے پورے بدن پر اک مقدس آگ کا پہرہ ہےجو تیری طرف بڑھتے ہوئے ہاتھوں کے ناخن روک لیتا ہےترے ہونٹوں سے نکلے سانس کی خوشبودر و دیوار سے رستہ بنا کر سارے بر اعظموں میں پھیل سکتی ہےتری بانہیں ابد کو جانے والی شاہراہیں ہیںتری دائیں ہتھیلی کی لکیریں دوسری دنیاؤں کے نقشے ہیں جو ان منشیوں کے بس سے باہر ہیںتری آنکھیں نہیں یہ دیوتاؤں کی پنہ گاہیں ہیںجن میں وقت جیسے زہر کا تریاق ہےتری زلفوں کی وسعت اس جہاں کی انتہاؤں سے پرے تک ہےتری گردن کسی جنت کے پاکیزہ درختوں کے تنے کو دیکھ کر ترشی گئی ہےہمارے جسم پر سے تیری پرچھائی گزر جائےتو ممکن ہے کہ ہم اس موت جیسے خوف سے آزاد ہو جائیںہمارے پاس ایسا کیا ہے جو تجھ کو بتا کر ہم تجھے قائل کریںبس اتنا ہے کہ اپنے لفظ برسا کر تری چھتری پہ بارش پھینک دیں گےیا ترے چہرے پہ اپنی نظم کی اک سطر سے چھاؤں کریں گےدھوپ دے دیں گےمگر کیا فائدہ اس کا کہ موسم خود ترے جوتوں کے تسموں سے بندھے ہیںترے ہم راہ چلنے کی کوئی خواہش اگر دل میں کبھی تھی بھیتو ہم نے ترک کر دی ہےہم اس لائق نہیں ہیںہمیں معلوم ہے کہ اگلے وقتوں میں یہ لوگترے پیروں کے سانچوں سے نئی سمتوں کے اندازے لگائیں گے
یہ جھیل وہ ہے کہ جس کے اوپرہزاروں انساںافق کے متوازی چل رہے ہیںافق کے متوازی چلنے والوں کو پار لاتی ہیںوقت لہریںجنہیں تمنا، مگر، سماوی خرام کی ہوانہی کو پاتال زمزموں کی صدا سناتی ہیںوقت لہریںانہیں ڈبوتی ہیں وقت لہریں!تمام ملاح اس صدا سے سدا ہراساں، سدا گریزاںکہ جھیل میں اک عمود کا چور چھپ کے بیٹھا ہےاس کے گیسو افق کی چھت سے لٹک رہے ہیںپکارتا ہے: ''اب آؤ، آؤ!ازل سے میں منتظر تمہارامیں گنبدوں کے تمام رازوں کو جانتا ہوںدرخت مینار برج زینے مرے ہی ساتھیمرے ہی متوازی چل رہے ہیںمیں ہر ہوائی جہاز کا آخری بسیراسمندروں پر جہاز رانوں کا میں کنارااب آؤ، آؤ!تمہارے جیسے کئی فسانوں کو میں نے ان کےابد کے آغوش میں اتارا''تمام ملاح اس کی آواز سے گریزاںافق کی شاہراہ مبتذل پر تمام سہمے ہوئے خراماںمگر سماوی خرام والےجو پست و بالا کے آستاں پر جمے ہوئے ہیںعمود کے اس طناب ہی سے اتر رہے ہیںاسی کو تھامے ہوئے بلندی پہ چڑھ رہے ہیں!
سفید کاغذ پرپنسل کے چلنے کی آوازبہت کم ہےسڑک پر ٹینک گزرنے کی آوازاس سے کچھ زیادہ ہےاور شاید میری آوازان دونوں آوازوں سے زیادہ ہے
مجھ کو یوں لگا ایسے!جیسے میری بیٹی ہومیری ناز کی پالیمیری کوکھ جائی ہوڈال سے بندھا جھولاطاق میں سجی گڑیاںگھر میں چھوڑ آئی ہوتیز تیز چلنے پرمیں نے اس کو ٹوکا ہوہاتھ تھام لینے پر!میرا اس کا جھگڑا ہوکھو گئی ہو میلے میںبہہ گئی ہو ریلے میںاور پھر اندھیرے میںاپنے گھر کا دروازہخود نہ دیکھ پائی ہو!
لو آ گئی ہیں وہ بن کر مہیب تصویریںوہ آرزوئیں کہ جن کا کیا تھا خوں میں نےلو آ گئے ہیں وہی پیروان اہریمنکیا تھا جن کو سیاست سے سرنگوں میں نےکبھی نہ جان پہ دیکھا تھا یہ عذاب الیمکبھی نہیں اے مرے بخت واژگوں میں نےمگر یہ جتنی اذیت بھی دیں مجھے کم ہےکیا ہے روح کو اپنی بہت زبوں میں نےاسے نہ ہونے دیا میں نے ہم نوائے شبابنہ اس پہ چلنے دیا شوق کا فسوں میں نےاے کاش چھپ کے کہیں اک گناہ کر لیتاحلاوتوں سے جوانی کو اپنی بھر لیتاگناہ ایک بھی اب تک کیا نہ کیوں میں نے
اک دم سےچلتے چلتےاس نے کمر کے جھٹکے سےراہ چلنے والےشہدوں، حرام خوروںسے التفات مانگااور دعوت نظر دیاس کے ضخیمکولھوں نےآگ اور لذتخالی دلوں میں بھر دی
دن بھر کافی ہاؤس میں بیٹھے کچھ دبلے پتلے نقادبحث یہی کرتے رہتے ہیں سست ادب کی ہے رفتارصرف ادب کے غم میں غلطاں چلنے پھرنے سے لاچارچہروں سے ظاہر ہوتا ہے جیسے برسوں کے بیماراردو ادب میں ڈھائی ہیں شاعر میرؔ و غالبؔ آدھا جوشؔیا اک آدھ کسی کا مصرعہ یا اقبالؔ کے چند اشعاریا پھر نظم ہے اک چوہے پر حامد مدنیؔ کا شہکارکوئی نہیں ہے اچھا شاعر کوئی نہیں افسانہ نگارمنٹوؔ کرشنؔ ندیمؔ اور بیدیؔ ان میں جان تو ہے لیکنعیب یہ ہے ان کے ہاتھوں میں کند زباں کی ہے تلوارعالؔی افسر انشاؔ بابو ناصرؔ میرؔ کے بر خوردارفیضؔ نے جو اب تک لکھا ہے کیا لکھا ہے سب بیکاران کو ادب کی صحت کا غم مجھ کو ان کی صحت کایہ بے چارے دکھ کے مارے جینے سے ہیں کیوں بے زارحسن سے وحشت عشق سے نفرت اپنی ہی صورت سے پیارخندۂ گل پر ایک تبسم گریۂ شبنم سے انکار
جہاں میں ہر طرف ہے علم ہی کی گرم بازاریزمیں سے آسماں تک بس اسی کا فیض ہے جارییہی سرچشمۂ اصلی ہے تہذیب و تمدن کابغیر اس کے بشر ہونا بھی ہے اک سخت بیماریبناتا ہے یہی انسان کو کامل ترین انساںسکھاتا ہے یہی اخلاق و ایثار و روا دارییہی قوموں کو پہنچاتا ہے بام اوج و رفعت پریہی ملکوں کے اندر پھونکتا ہے روح بیداریاسی کے نام کا چلتا ہے سکہ سارے عالم میںاسی کے سر پہ رہتا ہے ہمیشہ تاج سرداریاسی کے سب کرشمے یہ نظر آتے ہیں دنیا میںاسی کے دم سے رونق عالم امکاں کی ہے سارییہ لا سلکی، یہ ٹیلیفون یہ ریلیں، یہ طیارےیہ زیر آب و بالائے فلک انساں کی طراریحدود استوا قطبین سے یوں ہو گئے مدغمکہ ہے اب ربع مسکوں جیسے گھر کی چار دیواریسمندر ہو گئے پایاب صحرا بن گئے گلشنکیا سائنس نے بھی اعتراف عجز و ناچاریبخار و برق کا جرار لشکر ہے اب آمادہاگلوا لے زمین و آسماں کی دولتیں ساریغرض چاروں طرف اب علم ہی کی بادشاہی ہےکہ اس کے بازوؤں میں قوت دست الٰہی ہےنگاہ غور سے دیکھو اگر حالات انسانیتو ہو سکتا ہے حل یہ عقدۂ مشکل بہ آسانیوہی قومیں ترقی کے مدارج پر ہیں فائق ترکہ ہے جن میں تمدن اور سیاست کی فراوانیاسی کے زعم میں ہے جرمنی چرخ تفاخر پراسی کے زور پر مریخ کا ہمسر ہے جاپانیاسی کی قوت بازو پہ ہے مغرور امریکہاسی کے بل پر لڑکی ہو رہی ہے رستم ثانیاشارے پر اسی کے نقل و حرکت ہے سب اٹلی کیاسی کے تابع فرمان ہیں روسی و ایرانیاسی کے جنبش ابرو پہ ہے انگلینڈ کا غرہاسی کے ہیں سب آوردے فرانسیسی و البانیکوئی ملک اب نہیں جن میں یہ جوہر ہو نہ رخشندہنہ غافل اس سے چینی ہیں نہ شامی ہیں نہ افغانیبغیر اس کے جو رہنا چاہتے ہیں اس زمانے میںسمجھ رکھیں فنا ان کے لیے ہے حکم ربانیزمانہ پھینک دے گا خود انہیں قعر ہلاکت میںوہ اپنے ہاتھ سے ہوں گے خود اپنی قبر کے بانیزمانے میں جسے ہو صاحب فتح و ظفر ہوناضروری ہے اسے علم و ہنر سے بہرہ ور ہوناترقی کی کھلی ہیں شاہراہیں دہر میں ہر سونظر آتا ہے تہذیب و تمدن سے جہاں مملوچلے جاتے ہیں اڑتے شہسواران فلک پیماخراج تہنیت لیتے ہوئے کرتے ہوئے جادوگزرتے جا رہے ہیں دوسروں کو چھوڑتے پیچھےکبھی ہوتا ہے صحرا مستقر ان کا کبھی ٹاپوکمر باندھے ہوئے دن رات چلنے پر ہیں آمادہدماغ افکار سے اور دل وفور شوق سے ملولالگ رہ کر خیال زحمت و احساس راحت سےلگے ہیں اپنی اپنی فکر میں با خاطر یکسومگر ہم ہیں کہ اصلاً حس نہیں ہم کو کوئی اس کیہمارے پائے ہمت ان مراحل میں ہیں بے قابوجہاں پہلا قدم رکھا تھا روز اولیں ہم نےنہیں سرکے اس اپنے اصلی مرکز سے بقدر مویہ حالت ہے کہ ہم پر بند ہے ہر ایک دروازہنظر آتا نہیں ہرگز کوئی امید کا پہلومگر واحسرتا پھر بھی ہم اپنے زعم باطل میںسمجھتے ہیں زمانے بھر سے آگے خود کو منزل میںضرورت ہے کہ ہم میں روشنی ہو علم کی پیدانظر آئے ہمیں بھی تاکہ اصل حالت دنیاہمیں معلوم ہو حالات اب کیا ہیں زمانے کےہمارے ساتھ کا جو قافلہ تھا وہ کہاں پہنچاجو پستی میں تھے اب وہ جلوہ گر ہیں بام رفعت پرجو بالک بے نشاں تھے آج ہے ان کا علم برپاہماری خوبیاں سب دوسروں نے چھین لیں ہم سےزمانے نے ہمیں اتنا جھنجھوڑا کر دیا ننگاروا داری، اخوت، دوستی، ایثار ،ہمدردیخیال ملک و ملت، درد قوم، اندیشۂ فردایہ سب جوہر ہمارے تھے کبھی اے واۓ محرومیبنے ہیں خوبیٔ قسمت سے جو اب غیر کا حصااگر ہو جائیں راغب اب بھی ہم تعلیم کی جانبتو کر سکتے ہیں اب بھی ملک میں ہم زندگی پیدابہت کچھ وقت ہم نے کھو دیا ہے لیکن اس پر بھیاگر چاہیں تو کر دیں پیش رو کو اپنے ہم پسپانکما کر دیا ہے کاہلی نے گو ہمیں لیکنرگوں میں ہے ہماری خون ابھی تک دوڑتا پھرتاکوئی مخفی حرارت گر ہمارے دل کو گرما دےہمارے جسم میں پھر زندگی کی روح دوڑا دےوطن والو بہت غافل رہے اب ہوش میں آؤاٹھو بے دار ہو عقل و خرد کو کام میں لاؤتمہارے قوم کے بچوں میں ہے تعلیم کا فقداںیہ گتھی سخت پیچیدہ ہے اس کو جلد سلجھاؤیہی بچے بالآخر تم سبھوں کے جانشیں ہوں گےتم اپنے سامنے جیسا انہیں چاہو بنا جاؤبہت ہی رنج دہ ہو جائے گی اس وقت کی غفلتکہیں ایسا نہ ہو موقع نکل جانے پہ پچھتاؤیہ ہے کار اہم دو چار اس کو کر نہیں سکتےخدا را تم بھی اپنے فرض کا احساس فرماؤیہ بوجھ ایسا نہیں جس کو اٹھا لیں چار چھ مل کرسہارا دو، سہارا دوسروں سے اس میں دلواؤجو ذی احساس ہیں حاصل کرو تم خدمتیں ان کیجو ذی پروا ہیں ان کو جس طرح ہو اس طرف لاؤغرض جیسے بھی ہو جس شکل سے بھی ہو یہ لازم ہےتم اپنے قوم کے بچوں کو اب تعلیم دلواؤاگر تم مستعدی کو بنا لو گے شعار اپنایقیں جانو کہ مستقبل ہے بے حد شاندار اپناخداوندا! دعاؤں میں ہماری ہو اثر پیداشب غفلت ہماری پھر کرے نور سحر پیداہمارے سارے خوابیدہ قویٰ بے دار ہو جائیںسر نو ہو پھر ان میں زندگی کی کر و فر پیداہمیں احساس ہو ہم کون تھے اور آج ہم کیا ہیںکریں ماحول ملکی کے لیے گہری نظر پیداملا رکھا ہے اپنے جوہر کامل کو مٹی میںہم اب بھی خاک سے کر سکتے ہیں لعل و گہر پیدااگر چاہیں تو ہم مشکل وطن کی دم میں حل کر دیںہزاروں صورتیں کر سکتے ہیں ہم کارگر پیدابظاہر گو ہم اک تودہ ہیں بالکل راکھ کا لیکناگر چاہیں تو خاکستر سے کر دیں سو شرر پیداوطن کا نکبت و افلاس کھو دیں ہم اشارے میںجہاں ٹھوکر لگا دیں ہو وہیں سے کان زر پیداہم اس منزل کے آخر پر پہنچ کر بالیقیں دم لیںاگر کچھ تازہ دم ہو جائیں اپنے ہم سفر پیداجو کوشش متحد ہو کر کہیں اک بار ہو جائےیقیں ہے ملک کی قسمت کا بیڑا پار ہو جائے
دو رستے ہیںدونوں تیرے گھر جاتے ہیںاس رستے سے تین برس میں گھر پہنچے گااس پر سات برس لگتے ہیںجس پر سات برس لگتے ہیں وہ رستہ ہموار بھی ہےاس رستے کے دونوں جانب شہر بھی ہے بازار بھی ہےتین برس والے رستے کے بیچ میں جنگل پڑتا ہےجنگل جس میں برس برس تکسونے والے کالے اژدراپنے مقناطیسی زہر سے اپنی جانب کھینچتے ہیںجنگل جس کے مہلک پتےپیروں کے چھالوں سے لپٹ کرسارا لہو پی جاتے ہیںتو مالک ہےجس رستے سے جانا چاہے جا سکتا ہے
چلنے ہی کو ہے اک سموم ابھیرقص فرما ہے روح بربادیبربریت کے کاروانوں سےزلزلے میں ہے سینۂ گیتی
طاقت ہو کسی میں تو مٹائے مری ہستیڈائن ہے مرا نام لقب فرقہ پرستیمیں نے بڑی چالاکی سے اک کام کیا ہےپہلے ہی محبت کا گلا گھونٹ دیا ہےمیں فتنے اٹھا دیتی ہوں ہر اٹھتے قدم سےاس دیش کے ٹکڑے بھی ہوئے میرے ہی دم سےسرمایہ پرستوں نے جنم مجھ کو دیا ہےمذہب کے تعصب نے مجھے گود لیا ہےہے ملک کی تقسیم لڑکپن کی کہانیاس وقت تو بچپن تھا مرا اب ہے جوانیگھبراتا ہے شیطاں مری تقریر کے فن سےمیں زہر اگلتی ہوں زباں بن کے دہن سےدرکار ہوا جب بھی مجھے خون زیادہمیں آ گئی اوڑھے ہوئے مذہب کا لبادہمیں دیش کی قتالہ ہوں اور سب سے بڑی ہوںبچوں کی بھی گردن پہ چھری بن کے چلی ہوںگولی کو سکھا دیتی ہوں چلنے کا قرینہمیں چھید کے رکھ دیتی ہوں مظلوم کا سینہہر سوکھے ہوئے ہونٹ سے لیتی ہوں تری میںدم توڑنے والوں کی اڑاتی ہوں ہنسی میںمعصوموں کے ماں باپ کا سر میں نے لیا ہےبچوں کو یتیمی کا لقب میں نے دیا ہےہندو کا لہو ہو کہ مسلماں کا لہو ہومطلب ہے لہو سے کسی انساں کا لہو ہومل جائے تو میں کس کا لہو پی نہیں سکتیمجبور ہوں بے خون پیے جی نہیں سکتیہر فرقے کے لوگوں کا لہو چاٹ رہی ہوںفصلوں کی طرح سب کے گلے کاٹ رہی ہوںجس وقت جہاں چاہوں وہاں آگ لگا دوںجس بستی کو چاہوں اسے ویرانہ بنا دوںجس شہر کو پھونکا نہ مکیں تھے نہ مکاں تھااٹھتا ہوا کچھ دیر اگر تھا تو دھواں تھاگلشن مرے ہاتھوں یوں ہی تاراج رہے گامیں زندہ رہوں گی تو مرا راج رہے گاطاقت ہو کسی میں تو مٹائے مری ہستیڈائن ہے مرا نام لقب فرقہ پرستی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books