aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "chashm-e-suKHan-sanj"
اے نکتہ وران سخن آرا و سخن سنجاے نغمہ گران چمنستان معافیمانا کہ دل افروز ہے افسانۂ عذرامانا کہ دل آویز ہے سلمیٰ کی کہانیمانا کہ اگر چھیڑ حسینوں سے چلی جائےکٹ جائے گا اس مشغلے میں عہد جوانیگرمائے گا یہ ہمہمہ افسردہ دلوں کوبڑھ جائے گی دریائے طبیعت کی روانیمانا کہ ہیں آپ اپنے زمانے کے نظیریؔمانا کہ ہر اک آپ میں ہے عرفی ثانیمانا کی حدیث خط و رخسار کے آگےبے کار ہے مشائیوں کی فلسفہ دانیمانا کہ یہی زلف و خط و خال کی رودادہے مایۂ گل کاریٔ ایوان معافیلیکن کبھی اس بات کو بھی آپ نے سوچایہ آپ کی تقویم ہے صدیوں کی پرانیمعشوق نئے بزم نئی رنگ نیا ہےپیدا نئے خامے ہوئے ہیں اور نئے مانیؔمژگاں کی سناں کے عوض اب سنتی ہے محفلکانٹوں کی کتھا برہنہ پائی کی زبانیلذت وہ کہاں لعل لب یار میں ہے آججو دے رہی ہے پیٹ کے بھوکوں کی کہانیبدلا ہے زمانہ تو بدلیے روش اپنیجو قوم ہے بے دار یہ ہے اس کی نشانیاے ہم نفسو یاد رہے خوب یہ تم کوبستی نئی مشرق میں ہمیں کو ہے بسانی
پھر وہی وعدوں پہ لطف انتظارپھر وہی چشم سخن گو کے اشارے بار بار
نغمے پلے ہیں دولت گفتار سے تریپایا ہے نطق چشم سخن بار سے تریطاقت ہے دل میں نرگس بیمار سے تریکیا کیا ملا ہے جوشؔ کو سرکار سے تریبانکے خیال ہیں خم گردن لئے ہوئےہر شعر کی کلائی ہے کنگن لئے ہوئے
سر بزم ہم یہ ستم دیکھتے ہیںہماری طرف آپ کم دیکھتے ہیںجو ملتا ہے ساقی کے رخ کا پسینہنہ تاڑی نہ وہسکی نہ رم دیکھتے ہیںنہ دیکھے کسی نے اچھوتے وہ جلوےان آنکھوں سے تیری قسم دیکھتے ہیںچلیں سیدھے رستے یہ کیا نوجواں دلتری زلف میں پیچ و خم دیکھتے ہیںسر عیر پاپوش سے ہے صفاچٹمحبت کا کریا کرم دیکھتے ہیںخوشی غم جنوں ہجر گور غریباںمحبت کے اتنے جنم دیکھتے ہیںلگاتے ہیں دل بعد میں یہ حسین ابکہ جیبوں میں پہلے رقم دیکھتے ہیںظریف سخن سنج نغمہ سرا ہےیہ اردو کا فیض کرم دیکھتے ہیں
گلزار معانی کی چہکتی ہوئی بلبلشاعر تھی سخن سنج تھی اعجاز بیاں تھی
تم نور کا پیکر ہو تمہیں نظم میں ڈھالوںکچھ روشنی پڑ جائے تمہاری مرے فن پرمیں چشم تحیر سے تمہیں دیکھ رہا ہوںتم بیٹھی ہوئی ہو لب دریاے سخن پر
چشم بے خواب میں خوابوں کی بہاریعنی نادیدہ بہاروں کے چمنکتنے نا رستہ گلابوں کی پھبندشت امکان میں نا گفتہ سخنکتنے کابوس کے شب خوںشب دیجور نہ پوچھدل رنجور نہ پوچھ
نہ اب ہم ساتھ سیر گل کریں گےنہ اب مل کر سر مقتل چلیں گےحدیث دلبراں باہم کریں گےنہ خون دل سے شرح غم کریں گےنہ لیلائے سخن کی دوست دارینہ غم ہائے وطن پر اشک باریسنیں گے نغمۂ زنجیر مل کرنہ شب بھر مل کے چھلکائیں گے ساغربنام شاہد نازک خیالاںبیاد مستیٔ چشم غزالاںبنام انبساط بزم رنداںبیاد کلفت ایام زنداںصبا اور اس کا انداز تکلمسحر اور اس کا آغاز تبسمفضا میں ایک ہالہ سا جہاں ہےیہی تو مسند پیر مغاں ہےسحر گہ اب اسی کے نام ساقیکریں اتمام دور جام ساقیبساط بادۂ و مینا اٹھا لوبڑھا دو شمع محفل بزم والوپیو اب ایک جام الوداعیپیو اور پی کے ساغر توڑ ڈالو
خیالات و احساسجو بے ساختہ لکھ دیے ہیںنہ جانے وہ کب سے دل و جاں کے اندر چھپے تھےکسی راز جیسےقلم بند ہونے کو بے چین تھےکئی درد الجھے سوالاتجو صفحے پہ سجنے کو بیتاب تھےوہ سبقلم سے مرے موتیوں کی طرحاب برسنے لگے ہیںسبھی رقص کرنے لگے ہیںمری چشم پر نمجو سیلاب روکے ہوئے ہےستارے چمکتے ہیں میری پلک پرانہیں میں رقم کر رہی ہوںجو طوفان ہے موجزن میرے اندروہ ارمان وہ خوابکئی لا شعوری مضامین بن کرورق در ورق جگمگانے لگے ہیںسبھی رقص کرنے لگے ہیںاور اباسی جذب و احساس کے زیر سایہغزل پھول بن کر مہکتی ہےکبھی نظم گاتی ہے وہ گیتکہ جو بے خیالی میں تخلیق ہو کربناتی ہے رنگین پیکریہ بزم سخن کو سجانے پہ مائلخیالات سب رقص کرنے لگے ہیںقلم سے مرے موتیوں کی طرحاب برسنے لگے ہیںسبھی رقص کرنے لگے ہیں
اب بزم سخن صحبت لب سوختگاں ہےاب حلقۂ مے طائفۂ بے طلباں ہےگھر رہیے تو ویرانئ دل کھانے کو آوےرہ چلیے تو ہر گام پہ غوغائے سگاں ہےپیوند رہ کوچۂ زر چشم غزالاںپابوس ہوس افسر شمشاد قداں ہےیاں اہل جنوں یک بہ دگر دست و گریباںواں جیش ہوس تیغ بکف درپئے جاں ہےاب صاحب انصاف ہے خود طالب انصافمہر اس کی ہے میزان بدست دگراں ہےہم سہل طلب کون سے فرہاد تھے لیکناب شہر میں تیرے کوئی ہم سا بھی کہاں ہے
اے نکتہ سنج شاعر یہ تو ہے کام تیراایسا ترانہ دیکھا بے شک کلام تیراکچھ ایسی تان چھیڑی محظوظ ہو گئے سبممنون ہو رہا ہے ہر خاص و عام تیرازلف سخن کی تیری اللہ ری رسائیہر سو بچھا ہوا ہے دنیا میں دام تیراتیرا کلام کیا ہے تسخیر کا عمل ہےہندو ہو یا مسلماں ہر اک ہے رام تیراسرشار ہے زمانہ اس بادۂ سخن سےدنیا کی محفلوں میں چلتا ہے جام تیراآوازہ تیرا پہنچا یونان میں عجم میںواصف ہے روم تیرا مداح شام تیراتو ایشیا میں بیٹھا کرتا ہے نکتہ سنجیپہنچا ہے جا کے یورپ لیکن کلام تیراچھوٹا نہیں ابھی تک پابندیٔ وطن سےغربت میں کیسے پہنچا باسطؔ یہ نام تیراتیرے شکستہ پر میں پرواز بھی نہیں ہےایسی رسا تو تیری آواز بھی نہیں ہے
انگلیاں فگار اس کی خامہ خوں چکاں اس کاحسن نور کی صورت آسمان سے اترےحرف روشنی ٹھہرےبحر بیکراں غم کا بس گیا رگ و پے میںدرد پیکر شب میں کہکشاں تصور میںنقش بن کے ابھرے ہیں صفحۂ تخیل پرصفحۂ تخیل پر خون دل کی تحریریںخون دل سے ابھری ہیں فکر و فن کی تصویریںانگلیاں فگار اس کی خامہ خوں چکاں اس کاعرش کے مکینوں میں گفتگو قلم کی ہےتذکرہ جنوں کا ہےذکر رنگ خوں کا ہےعرش کی فضاؤں میں غلغلہ سخن کا ہےمہر و ماہ گردش میں مہر و ماہ دامن میںمہر و ماہ آنکھوں میں اس کی جگمگاتے ہیںخواب چشم بینا کا خواب چشم حیرت کاخواب اس نے دیکھے بھی خواب اس نے بانٹے بھیخواب خوبصورت خواب آگہی کی رفعت کاخوب تر سفر کا خوابخوب تر جہاں کا خوابحسن خوب تر کا خوابنقشہائے رنگا رنگروشنائی اشکوں کی مشعلوں کی لو بن کرچہرۂ محبت کو تابناک کرتی ہےزندگی کی راہوں میں روشنی کی محرابیںانگلیاں فگار اس کی خامہ خوں چکاں اس کاشاعری کا سرمایہ فکر و فن کا سرچشمہنوک خامہ سے اس کی چاندنی ٹپکتی ہےروشنی نکھرتی ہے تیرگی سمٹتی ہےخامہ خوں چکاں اس کا اک جہان معنی ہےانگلیاں فگار اس کیخیر و شر کی دنیا میں خیر کی علامت ہیںانگلیاں فگار اس کی روشنی کی قندیلیںکرب کی ہیں تصویریںجبر کی نفی جن سے جہل کی نفی جن سےکفر کی نفی جن سے صبح و شام ہوتی ہےوہ سفیر دانائی وہ نقیب بینائیخامہ خوں چکاں اس کا حسن کا مصور ہےعشق کا مسافر ہےزیست کی صداقت کا وہ امین و پیغمبروہ صحیفۂ غم کا معتبر مصنف ہےانگلیاں فگار اس کی خامہ خوں چکاں اس کا
میں ہوں مجازؔ آج بھی زمزمہ سنج و نغمہ خواںشاعر محفل وفا مطرب بزم دلبراں
نواح جاں میں ایک شبوہ عجب خواب کی ساعت تھیعجب رنگ کی راتچاند نے جب سخن آغاز کیا تھا ہم سےتیری مانوس سی خوشبو سے ہوا تھی لبریزلمس اول کی سنہری تحریرتیرے اور میرے سبک ماتھے پرجب بشارت کی طرح لکھی گئیاک اسی شب کے لیےپاٹ کر وقت کے دریا کوبڑی دور سے آئی تھی میںآیت ہجر ہوئی تھی منسوخاک اسی شب کے لیےہم نے اک عمر کسی دور کے سیارے پرسورۂ عشق تلاوت کی تھیتو بھی آیا تھا پہن کر نئی پوشاک بدندل کی زیبائی پہ کچھ میں نے بھی محنت کی تھیباغ میں ہنستے ہوئے زرد چراغشاخ پر کھلتے ہوئے سرخ گلابچشم حیراں میں دمکتے ہوئے خوابسب پذیرائی کو بیتاب ہوئے جاتے تھےراستے قرب کی حدت سے گھلے جاتے تھےجسم پر وصل ابد تاب کی شیریں دستکروح کا نقرئی در کھولتی تھیتیری آواز بہت پاس آ کرمیرا سامان سفر کھولتی تھیجنبش چشم پہ تیری وہ دھڑکنا دل کاایک موہوم اشارے پہ سنبھلنا دل کایاد کی جھیل میں ہر آن اترتی ہوئی راتدل سے گزری ہی نہیں پھر وہ پگھلتی ہوئی راتہونٹ جب ناؤ بنے اور کنارہ سا بدنشب تری یاد میں لرزاں تھا ستارہ سا بدن
اے ہمالہ اے فصیل کشور ہندوستاںچومتا ہے تیری پیشانی کو جھک کر آسماںتجھ میں کچھ پیدا نہیں دیرینہ روزی کے نشاںتو جواں ہے گردش شام و سحر کے درمیاںایک جلوہ تھا کلیم طور سینا کے لیےتو تجلی ہے سراپا چشم بینا کے لیےامتحان دیدۂ ظاہر میں کوہستاں ہے توپاسباں اپنا ہے تو دیوار ہندستاں ہے تومطلع اول فلک جس کا ہو وہ دیواں ہے توسوئے خلوت گاہ دل دامن کش انساں ہے توبرف نے باندھی ہے دستار فضیلت تیرے سرخندہ زن ہے جو کلاہ مہر عالم تاب پرتیری عمر رفتہ کی اک آن ہے عہد کہنوادیوں میں ہیں تری کالی گھٹائیں خیمہ زنچوٹیاں تیری ثریا سے ہیں سرگرم سخنتو زمیں پر اور پہنائے فلک تیرا وطنچشمۂ دامن ترا آئینۂ سیال ہےدامن موج ہوا جس کے لیے رومال ہےابر کے ہاتھوں میں رہوار ہوا کے واسطےتازیانہ دے دیا برق سر کوہسار نےاے ہمالہ کوئی بازی گاہ ہے تو بھی جسےدست قدرت نے بنایا ہے عناصر کے لیےہائے کیا فرط طرب میں جھومتا جاتا ہے ابرفیل بے زنجیر کی صورت اڑا جاتا ہے ابرجنبش موج نسیم صبح گہوارہ بنیجھومتی ہے نشۂ ہستی میں ہر گل کی کلییوں زباں برگ سے گویا ہے اس کی خامشیدست گلچیں کی جھٹک میں نے نہیں دیکھی کبھیکہہ رہی ہے میری خاموشی ہی افسانہ مراکنج خلوت خانۂ قدرت ہے کاشانہ مراآتی ہے ندی فراز کوہ سے گاتی ہوئیکوثر و تسنیم کی موجوں کو شرماتی ہوئیآئینہ سا شاہد قدرت کو دکھلاتی ہوئیسنگ رہ سے گاہ بچتی گاہ ٹکراتی ہوئیچھیڑتی جا اس عراق دل نشیں کے ساز کواے مسافر دل سمجھتا ہے تری آواز کولیلئ شب کھولتی ہے آ کے جب زلف رسادامن دل کھینچتی ہے آبشاروں کی صداوہ خموشی شام کی جس پر تکلم ہو فداوہ درختوں پر تفکر کا سماں چھایا ہواکانپتا پھرتا ہے کیا رنگ شفق کوہسار پرخوش نما لگتا ہے یہ غازہ ترے رخسار پراے ہمالہ داستاں اس وقت کی کوئی سنامسکن آبائے انساں جب بنا دامن تراکچھ بتا اس سیدھی سادھی زندگی کا ماجراداغ جس پر غازۂ رنگ تکلف کا نہ تھاہاں دکھا دے اے تصور پھر وہ صبح و شام تودوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو
بھول گئی ہے آج تو رہبر حق نگاہ کوبھول گئی ہے آج تو مرد جہاں پناہ کوبھول گئی ہے آج تو ضبط کے بادشاہ کوتجھ سے کہوں تو کیا کہوں اے مری بامراد قوماے مری زندہ باد قوم اے مری زندہ باد قومتیرے مہنت تو ابھی مست ہیں ذات پات میںتیرے بڑے بڑے گرو غرق ہیں چھوت چھات میںآہ کہ ڈھونڈھتی ہے تو نور اندھیری رات میںتجھ سے کہوں تو کیا کہوں اے مری بامراد قوماے مری زندہ باد قوم اے مری زندہ باد قومآہ کہ تو نے ضبط کے درس کو بھی بھلا دیاآہ کہ تو نے قلب سے نام صفا مٹا دیاآہ کہ دوستوں کو بھی تو نے عدو بنا دیاتجھ سے کہوں تو کیا کہوں اے مری بامراد قوماے مری زندہ باد قوم اے مری زندہ باد قومتیرے مشیر بے عمل تیرے وزیر بے عملتیرے غریب بے عمل تیرے امیر بے عملتیرے سفیر بے عمل تیرے کبیر بے عملتجھ سے کہوں تو کیا کہوں اے مری بامراد قوماے مری زندہ باد قوم اے مری زندہ باد قوماف کہ قدم قدم پہ ہے تیرا شریک اہرمناف کہ تجھے نصیب ہیں فرقہ پرست راہزناف کہ تجھے عزیز ہیں چرب زبان و بد سخنتجھ سے کہوں تو کیا کہوں اے مری بامراد قوماے مری زندہ باد قوم اے مری زندہ باد قوماف کہ جہالتوں پہ بھی عقل کا ہے گماں تجھےاف کہ ابھی پسند ہے جہل کی داستاں تجھےاف کہ ہے فرقہ دوستی دیتی ابھی اماں تجھےتجھ سے کہوں تو کیا کہوں اے مری بامراد قوماے مری زندہ باد قوم اے مری زندہ باد قومظلم کیے ہیں تو نے جو ظلم کے شاہدوں سے پوچھقتل کیے ہیں کس قدر اپنے مجاہدوں سے پوچھپیتے ہیں روز کتنی مے جھوٹ کے زاہدوں سے پوچھتجھ سے کہوں تو کیا کہوں اے مری بامراد قوماے مری زندہ باد قوم اے مری زندہ باد قومدرس مہاتما کا بھی تجھ پر کوئی اثر نہیںقول مہاتما پہ بھی آج تری نظر نہیںکون ہے اس کا جانشیں اس کی تجھے خبر نہیںتجھ سے کہوں تو کیا کہوں اے مری بامراد قوماے مری زندہ باد قوم اے مری زندہ باد قومتجھ کو بتائے کون آج اصل میں راہبر ہے کونتجھ کو بتائے کون آج بندۂ معتبر ہے کونتجھ کو بتائے کون آج پیر جواں نظر ہے کونتجھ سے کہوں تو کیا کہوں اے مری بامراد قوماے مری زندہ باد قوم اے مری زندہ باد قومدیکھ نہ چشم شوق سے پتھروں کے تو طور توقدر جواہر حسیں دیکھ بہ چشم غور توورنہ ہزار ذلتیں تیرے لیے ہیں اور توتجھ سے کہوں تو کیا کہوں اے مری بامراد قوماے مری زندہ باد قوم اے مری زندہ باد قوم
نہیں منت کش تاب شنیدن داستاں میریخموشی گفتگو ہے بے زبانی ہے زباں میرییہ دستور زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میںیہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میریاٹھائے کچھ ورق لالے نے کچھ نرگس نے کچھ گل نےچمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میریاڑا لی قمریوں نے طوطیوں نے عندلیبوں نےچمن والوں نے مل کر لوٹ لی طرز فغاں میریٹپک اے شمع آنسو بن کے پروانے کی آنکھوں سےسراپا درد ہوں حسرت بھری ہے داستاں میریالٰہی پھر مزہ کیا ہے یہاں دنیا میں رہنے کاحیات جاوداں میری نہ مرگ ناگہاں میریمرا رونا نہیں رونا ہے یہ سارے گلستاں کاوہ گل ہوں میں خزاں ہر گل کی ہے گویا خزاں میریدریں حسرت سرا عمریست افسون جرس دارمز فیض دل طپیدن ہا خروش بے نفس دارمریاض دہر میں نا آشنائے بزم عشرت ہوںخوشی روتی ہے جس کو میں وہ محروم مسرت ہوںمری بگڑی ہوئی تقدیر کو روتی ہے گویائیمیں حرف زیر لب شرمندۂ گوش سماعت ہوںپریشاں ہوں میں مشت خاک لیکن کچھ نہیں کھلتاسکندر ہوں کہ آئینہ ہوں یا گرد کدورت ہوںیہ سب کچھ ہے مگر ہستی مری مقصد ہے قدرت کاسراپا نور ہو جس کی حقیقت میں وہ ظلمت ہوںخزینہ ہوں چھپایا مجھ کو مشت خاک صحرا نےکسی کو کیا خبر ہے میں کہاں ہوں کس کی دولت ہوںنظر میری نہیں ممنون سیر عرصۂ ہستیمیں وہ چھوٹی سی دنیا ہوں کہ آپ اپنی ولایت ہوںنہ صہبا ہوں نہ ساقی ہوں نہ مستی ہوں نہ پیمانہمیں اس مے خانۂ ہستی میں ہر شے کی حقیقت ہوںمجھے راز دو عالم دل کا آئینہ دکھاتا ہےوہی کہتا ہوں جو کچھ سامنے آنکھوں کے آتا ہےعطا ایسا بیاں مجھ کو ہوا رنگیں بیانوں میںکہ بام عرش کے طائر ہیں میرے ہم زبانوں میںاثر یہ بھی ہے اک میرے جنون فتنہ ساماں کامرا آئینۂ دل ہے قضا کے راز دانوں میںرلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوکہ عبرت خیز ہے تیرا فسانہ سب فسانوں میںدیا رونا مجھے ایسا کہ سب کچھ دے دیا گویالکھا کلک ازل نے مجھ کو تیرے نوحہ خوانوں میںنشان برگ گل تک بھی نہ چھوڑ اس باغ میں گلچیںتری قسمت سے رزم آرائیاں ہیں باغبانوں میںچھپا کر آستیں میں بجلیاں رکھی ہیں گردوں نےعنادل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آشیانوں میںسن اے غافل صدا میری یہ ایسی چیز ہے جس کووظیفہ جان کر پڑھتے ہیں طائر بوستانوں میںوطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہےتری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میںذرا دیکھ اس کو جو کچھ ہو رہا ہے ہونے والا ہےدھرا کیا ہے بھلا عہد کہن کی داستانوں میںیہ خاموشی کہاں تک لذت فریاد پیدا کرزمیں پر تو ہو اور تیری صدا ہو آسمانوں میںنہ سمجھوگے تو مٹ جاؤگے اے ہندوستاں والوتمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میںیہی آئین قدرت ہے یہی اسلوب فطرت ہےجو ہے راہ عمل میں گامزن محبوب فطرت ہےہویدا آج اپنے زخم پنہاں کر کے چھوڑوں گالہو رو رو کے محفل کو گلستاں کر کے چھوڑوں گاجلانا ہے مجھے ہر شمع دل کو سوز پنہاں سےتری تاریک راتوں میں چراغاں کر کے چھوڑوں گامگر غنچوں کی صورت ہوں دل درد آشنا پیداچمن میں مشت خاک اپنی پریشاں کر کے چھوڑوں گاپرونا ایک ہی تسبیح میں ان بکھرے دانوں کوجو مشکل ہے تو اس مشکل کو آساں کر کے چھوڑوں گامجھے اے ہم نشیں رہنے دے شغل سینہ کاوی میںکہ میں داغ محبت کو نمایاں کر کے چھوڑوں گادکھا دوں گا جہاں کو جو مری آنکھوں نے دیکھا ہےتجھے بھی صورت آئینہ حیراں کر کے چھوڑوں گاجو ہے پردوں میں پنہاں چشم بینا دیکھ لیتی ہےزمانے کی طبیعت کا تقاضا دیکھ لیتی ہےکیا رفعت کی لذت سے نہ دل کو آشنا تو نےگزاری عمر پستی میں مثال نقش پا تو نےرہا دل بستۂ محفل مگر اپنی نگاہوں کوکیا بیرون محفل سے نہ حیرت آشنا تو نےفدا کرتا رہا دل کو حسینوں کی اداؤں پرمگر دیکھی نہ اس آئینے میں اپنی ادا تو نےتعصب چھوڑ ناداں دہر کے آئینہ خانے میںیہ تصویریں ہیں تیری جن کو سمجھا ہے برا تو نےسراپا نالۂ بیدار سوز زندگی ہو جاسپند آسا گرہ میں باندھ رکھی ہے صدا تو نےصفائے دل کو کیا آرائش رنگ تعلق سےکف آئینہ پر باندھی ہے او ناداں حنا تو نےزمیں کیا آسماں بھی تیری کج بینی پہ روتا ہےغضب ہے سطر قرآں کو چلیپا کر دیا تو نےزباں سے گر کیا توحید کا دعویٰ تو کیا حاصلبنایا ہے بت پندار کو اپنا خدا تو نےکنویں میں تو نے یوسف کو جو دیکھا بھی تو کیا دیکھاارے غافل جو مطلق تھا مقید کر دیا تو نےہوس بالائے منبر ہے تجھے رنگیں بیانی کینصیحت بھی تری صورت ہے اک افسانہ خوانی کیدکھا وہ حسن عالم سوز اپنی چشم پر نم کوجو تڑپاتا ہے پروانے کو رلواتا ہے شبنم کوذرا نظارہ ہی اے بو الہوس مقصد نہیں اس کابنایا ہے کسی نے کچھ سمجھ کر چشم آدم کواگر دیکھا بھی اس نے سارے عالم کو تو کیا دیکھانظر آئی نہ کچھ اپنی حقیقت جام سے جم کوشجر ہے فرقہ آرائی تعصب ہے ثمر اس کایہ وہ پھل ہے کہ جنت سے نکلواتا ہے آدم کونہ اٹھا جذبۂ خورشید سے اک برگ گل تک بھییہ رفعت کی تمنا ہے کہ لے اڑتی ہے شبنم کوپھرا کرتے نہیں مجروح الفت فکر درماں میںیہ زخمی آپ کر لیتے ہیں پیدا اپنے مرہم کومحبت کے شرر سے دل سراپا نور ہوتا ہےذرا سے بیج سے پیدا ریاض طور ہوتا ہےدوا ہر دکھ کی ہے مجروح تیغ آرزو رہناعلاج زخم ہے آزاد احسان رفو رہناشراب بے خودی سے تا فلک پرواز ہے میریشکست رنگ سے سیکھا ہے میں نے بن کے بو رہناتھمے کیا دیدۂ گریاں وطن کی نوحہ خوانی میںعبادت چشم شاعر کی ہے ہر دم با وضو رہنابنائیں کیا سمجھ کر شاخ گل پر آشیاں اپناچمن میں آہ کیا رہنا جو ہو بے آبرو رہناجو تو سمجھے تو آزادی ہے پوشیدہ محبت میںغلامی ہے اسیر امتیاز ما و تو رہنایہ استغنا ہے پانی میں نگوں رکھتا ہے ساغر کوتجھے بھی چاہیئے مثل حباب آبجو رہنانہ رہ اپنوں سے بے پروا اسی میں خیر ہے تیریاگر منظور ہے دنیا میں او بیگانہ خو رہناشراب روح پرور ہے محبت نوع انساں کیسکھایا اس نے مجھ کو مست بے جام و سبو رہنامحبت ہی سے پائی ہے شفا بیمار قوموں نےکیا ہے اپنے بخت خفتہ کو بیدار قوموں نےبیابان محبت دشت غربت بھی وطن بھی ہےیہ ویرانہ قفس بھی آشیانہ بھی چمن بھی ہےمحبت ہی وہ منزل ہے کہ منزل بھی ہے صحرا بھیجرس بھی کارواں بھی راہبر بھی راہزن بھی ہےمرض کہتے ہیں سب اس کو یہ ہے لیکن مرض ایساچھپا جس میں علاج گردش چرخ کہن بھی ہےجلانا دل کا ہے گویا سراپا نور ہو جانایہ پروانہ جو سوزاں ہو تو شمع انجمن بھی ہےوہی اک حسن ہے لیکن نظر آتا ہے ہر شے میںیہ شیریں بھی ہے گویا بے ستوں بھی کوہ کن بھی ہےاجاڑا ہے تمیز ملت و آئیں نے قوموں کومرے اہل وطن کے دل میں کچھ فکر وطن بھی ہےسکوت آموز طول داستان درد ہے ورنہزباں بھی ہے ہمارے منہ میں اور تاب سخن بھی ہےنمیگردید کو تہ رشتۂ معنی رہا کردمحکایت بود بے پایاں بخاموشی ادا کردم
اب یہ احساس دم فکر سخن ہونے لگااپنی ہی نظموں کا بھولا ہوا کردار ہوں میں
بندۂ مزدور کو جا کر مرا پیغام دےخضر کا پیغام کیا ہے یہ پيام کائناتاے کہ تجھ کو کھا گیا سرمايہ دار حيلہ گرشاخ آہو پر رہی صدیوں تلک تیری براتدست دولت آفريں کو مزد یوں ملتی رہیاہل ثروت جیسے دیتے ہیں غریبوں کو زکوٰۃساحر الموط نے تجھ کو دیا برگ حشيشاور تو اے بے خبر سمجھا اسے شاخ نباتنسل قومیت کلیسا سلطنت تہذیب رنگخواجگی نے خوب چن چن کے بنائے مسکراتکٹ مرا ناداں خیالی دیوتاؤں کے لیےسکر کی لذت میں تو لٹوا گیا نقد حیاتمکر کی چالوں سے بازی لے گیا سرمایہ دارانتہائے سادگی سے کھا گیا مزدور ماتاٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہےمشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہےہمت عالی تو دریا بھی نہیں کرتی قبولغنچہ ساں غافل ترے دامن میں شبنم کب تلکنغمۂ بيداریٔ جمہور ہے سامان عیشقصۂ خواب آور اسکندر و جم کب تلکآفتاب تازہ پیدا بطن گیتی سے ہواآسمان ڈوبے ہوئے تاروں کا ماتم کب تلکتوڑ ڈالیں فطرت انساں نے زنجیریں تمامدوریٔ جنت سے روتی چشم آدم کب تلکباغبان چارہ فرما سے یہ کہتی ہے بہارزخم گل کے واسطے تدبیر مرہم کب تلککرمک ناداں طواف شمع سے آزاد ہواپنی فطرت کے تجلی زار میں آباد ہودنیائے اسلام
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books