aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "chhakka.D"
کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوںفکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوںنالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوںہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوںجرأت آموز مری تاب سخن ہے مجھ کوشکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کوہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہمقصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہمساز خاموش ہیں فریاد سے معمور ہیں ہمنالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہماے خدا شکوۂ ارباب وفا بھی سن لےخوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لےتھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات قدیمپھول تھا زیب چمن پر نہ پریشاں تھی شمیمشرط انصاف ہے اے صاحب الطاف عمیمبوئے گل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیمہم کو جمعیت خاطر یہ پریشانی تھیورنہ امت ترے محبوب کی دیوانی تھیہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظرکہیں مسجود تھے پتھر کہیں معبود شجرخوگر پیکر محسوس تھی انساں کی نظرمانتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کو کیونکرتجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام تراقوت بازوئے مسلم نے کیا کام ترابس رہے تھے یہیں سلجوق بھی تورانی بھیاہل چیں چین میں ایران میں ساسانی بھیاسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھیاسی دنیا میں یہودی بھی تھے نصرانی بھیپر ترے نام پہ تلوار اٹھائی کس نےبات جو بگڑی ہوئی تھی وہ بنائی کس نےتھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میںخشکیوں میں کبھی لڑتے کبھی دریاؤں میںدیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میںکبھی ایفریقا کے تپتے ہوئے صحراؤں میںشان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کیکلمہ پڑھتے تھے ہمیں چھاؤں میں تلواروں کیہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مصیبت کے لیےاور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لیےتھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیےسر بکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لیےقوم اپنی جو زرو و مال جہاں پر مرتیبت فروشی کے عوض بت شکنی کیوں کرتیٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھےپاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھےتجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھےتیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھےنقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نےزیر خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نےتو ہی کہہ دے کہ اکھاڑا در خیبر کس نےشہر قیصر کا جو تھا اس کو کیا سر کس نےتوڑے مخلوق خدا وندوں کے پیکر کس نےکاٹ کر رکھ دئیے کفار کے لشکر کس نےکس نے ٹھنڈا کیا آتشکدۂ ایراں کوکس نے پھر زندہ کیا تذکرۂ یزداں کوکون سی قوم فقط تیری طلب گار ہوئیاور تیرے لیے زحمت کش پیکار ہوئیکس کی شمشیر جہانگیر جہاں دار ہوئیکس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئیکس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھےمنہ کے بل گر کے ہو اللہ احد کہتے تھےآ گیا عین لڑائی میں اگر وقت نمازقبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی ہوئی قوم حجازایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایازنہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نوازبندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئےتیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئےمحفل کون و مکاں میں سحر و شام پھرےمئے توحید کو لے کر صفت جام پھرےکوہ میں دشت میں لے کر ترا پیغام پھرےاور معلوم ہے تجھ کو کبھی ناکام پھرےدشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نےبحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا ہم نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نےتیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نےتیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نےپھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیںہم وفادار نہیں تو بھی تو دل دار نہیںامتیں اور بھی ہیں ان میں گنہ گار بھی ہیںعجز والے بھی ہیں مست مئے پندار بھی ہیںان میں کاہل بھی ہیں غافل بھی ہیں ہشیار بھی ہیںسیکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بے زار بھی ہیںرحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پربرق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پربت صنم خانوں میں کہتے ہیں مسلمان گئےہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئےمنزل دہر سے اونٹوں کے حدی خوان گئےاپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئےخندہ زن کفر ہے احساس تجھے ہے کہ نہیںاپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیںیہ شکایت نہیں ہیں ان کے خزانے معمورنہیں محفل میں جنہیں بات بھی کرنے کا شعورقہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حور و قصوراور بے چارے مسلماں کو فقط وعدۂ حوراب وہ الطاف نہیں ہم پہ عنایات نہیںبات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیںکیوں مسلمانوں میں ہے دولت دنیا نایابتیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ حسابتو جو چاہے تو اٹھے سینۂ صحرا سے حبابرہرو دشت ہو سیلی زدۂ موج سرابطعن اغیار ہے رسوائی ہے ناداری ہےکیا ترے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہےبنی اغیار کی اب چاہنے والی دنیارہ گئی اپنے لیے ایک خیالی دنیاہم تو رخصت ہوئے اوروں نے سنبھالی دنیاپھر نہ کہنا ہوئی توحید سے خالی دنیاہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں ترا نام رہےکہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے جام رہےتیری محفل بھی گئی چاہنے والے بھی گئےشب کی آہیں بھی گئیں صبح کے نالے بھی گئےدل تجھے دے بھی گئے اپنا صلہ لے بھی گئےآ کے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئےآئے عشاق گئے وعدۂ فردا لے کراب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کردرد لیلیٰ بھی وہی قیس کا پہلو بھی وہینجد کے دشت و جبل میں رم آہو بھی وہیعشق کا دل بھی وہی حسن کا جادو بھی وہیامت احمد مرسل بھی وہی تو بھی وہیپھر یہ آرزدگئ غیر سبب کیا معنیاپنے شیداؤں پہ یہ چشم غضب کیا معنیتجھ کو چھوڑا کہ رسول عربی کو چھوڑابت گری پیشہ کیا بت شکنی کو چھوڑاعشق کو عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑارسم سلمان و اویس قرنی کو چھوڑاآگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیںزندگی مثل بلال حبشی رکھتے ہیںعشق کی خیر وہ پہلی سی ادا بھی نہ سہیجادہ پیمائی تسلیم و رضا بھی نہ سہیمضطرب دل صفت قبلہ نما بھی نہ سہیاور پابندی آئین وفا بھی نہ سہیکبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہےبات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہرجائی ہےسر فاراں پہ کیا دین کو کامل تو نےاک اشارے میں ہزاروں کے لیے دل تو نےآتش اندوز کیا عشق کا حاصل تو نےپھونک دی گرمئ رخسار سے محفل تو نےآج کیوں سینے ہمارے شرر آباد نہیںہم وہی سوختہ ساماں ہیں تجھے یاد نہیںوادیٔ نجد میں وہ شور سلاسل نہ رہاقیس دیوانۂ نظارۂ محمل نہ رہاحوصلے وہ نہ رہے ہم نہ رہے دل نہ رہاگھر یہ اجڑا ہے کہ تو رونق محفل نہ رہااے خوشا آں روز کہ آئی و بصد ناز آئیبے حجابانہ سوئے محفل ما باز آئیبادہ کش غیر ہیں گلشن میں لب جو بیٹھےسنتے ہیں جام بکف نغمۂ کو کو بیٹھےدور ہنگامۂ گلزار سے یکسو بیٹھےتیرے دیوانے بھی ہیں منتظر ہو بیٹھےاپنے پروانوں کو پھر ذوق خود افروزی دےبرق دیرینہ کو فرمان جگر سوزی دےقوم آوارہ عناں تاب ہے پھر سوئے حجازلے اڑا بلبل بے پر کو مذاق پروازمضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بوئے نیازتو ذرا چھیڑ تو دے تشنۂ مضراب ہے سازنغمے بیتاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لیےطور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لیےمشکلیں امت مرحوم کی آساں کر دےمور بے مایہ کو ہمدوش سلیماں کر دےجنس نایاب محبت کو پھر ارزاں کر دےہند کے دیر نشینوں کو مسلماں کر دےجوئے خوں می چکد از حسرت دیرینۂ مامی تپد نالہ بہ نشتر کدۂ سینۂ مابوئے گل لے گئی بیرون چمن راز چمنکیا قیامت ہے کہ خود پھول ہیں غماز چمنعہد گل ختم ہوا ٹوٹ گیا ساز چمناڑ گئے ڈالیوں سے زمزمہ پرداز چمنایک بلبل ہے کہ ہے محو ترنم اب تکاس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب تکقمریاں شاخ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئیںپتیاں پھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیںوہ پرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیںڈالیاں پیرہن برگ سے عریاں بھی ہوئیںقید موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کیکاش گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کیلطف مرنے میں ہے باقی نہ مزہ جینے میںکچھ مزہ ہے تو یہی خون جگر پینے میںکتنے بیتاب ہیں جوہر مرے آئینے میںکس قدر جلوے تڑپتے ہیں مرے سینے میںاس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیںداغ جو سینے میں رکھتے ہوں وہ لالے ہی نہیںچاک اس بلبل تنہا کی نوا سے دل ہوںجاگنے والے اسی بانگ درا سے دل ہوںیعنی پھر زندہ نئے عہد وفا سے دل ہوںپھر اسی بادۂ دیرینہ کے پیاسے دل ہوںعجمی خم ہے تو کیا مے تو حجازی ہے مرینغمہ ہندی ہے تو کیا لے تو حجازی ہے مری
اس نے کہاسنعہد نبھانے کی خاطر مت آناعہد نبھانے والے اکثرمجبوری یا مہجوری کی تھکن سے لوٹا کرتے ہیںتم جاؤاور دریا دریا پیاس بجھاؤجن آنکھوں میں ڈوبوجس دل میں اترومیری طلب آواز نہ دے گیلیکن جب میری چاہتاور مری خواہش کی لواتنی تیز اور اتنیاونچی ہو جائےجب دل رو دےتب لوٹ آنا
دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا ربکیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہوشورش سے بھاگتا ہوں دل ڈھونڈتا ہے میراایسا سکوت جس پر تقریر بھی فدا ہومرتا ہوں خامشی پر یہ آرزو ہے میریدامن میں کوہ کے اک چھوٹا سا جھونپڑا ہوآزاد فکر سے ہوں عزلت میں دن گزاروںدنیا کے غم کا دل سے کانٹا نکل گیا ہولذت سرود کی ہو چڑیوں کے چہچہوں میںچشمے کی شورشوں میں باجا سا بج رہا ہوگل کی کلی چٹک کر پیغام دے کسی کاساغر ذرا سا گویا مجھ کو جہاں نما ہوہو ہاتھ کا سرہانا سبزے کا ہو بچھوناشرمائے جس سے جلوت خلوت میں وہ ادا ہومانوس اس قدر ہو صورت سے میری بلبلننھے سے دل میں اس کے کھٹکا نہ کچھ مرا ہوصف باندھے دونوں جانب بوٹے ہرے ہرے ہوںندی کا صاف پانی تصویر لے رہا ہوہو دل فریب ایسا کوہسار کا نظارہپانی بھی موج بن کر اٹھ اٹھ کے دیکھتا ہوآغوش میں زمیں کی سویا ہوا ہو سبزہپھر پھر کے جھاڑیوں میں پانی چمک رہا ہوپانی کو چھو رہی ہو جھک جھک کے گل کی ٹہنیجیسے حسین کوئی آئینہ دیکھتا ہومہندی لگائے سورج جب شام کی دلہن کوسرخی لیے سنہری ہر پھول کی قبا ہوراتوں کو چلنے والے رہ جائیں تھک کے جس دمامید ان کی میرا ٹوٹا ہوا دیا ہوبجلی چمک کے ان کو کٹیا مری دکھا دےجب آسماں پہ ہر سو بادل گھرا ہوا ہوپچھلے پہر کی کوئل وہ صبح کی موذنمیں اس کا ہم نوا ہوں وہ میری ہم نوا ہوکانوں پہ ہو نہ میرے دیر و حرم کا احساںروزن ہی جھونپڑی کا مجھ کو سحر نما ہوپھولوں کو آئے جس دم شبنم وضو کرانےرونا مرا وضو ہو نالہ مری دعا ہواس خامشی میں جائیں اتنے بلند نالےتاروں کے قافلے کو میری صدا درا ہوہر دردمند دل کو رونا مرا رلا دےبے ہوش جو پڑے ہیں شاید انہیں جگا دے
تیرے ہونٹوں کے پھولوں کی چاہت میں ہمدار کی خشک ٹہنی پہ وارے گئےتیرے ہاتوں کی شمعوں کی حسرت میں ہمنیم تاریک راہوں میں مارے گئے
ردیف و قافیہ کیا ہیں شکست ناروا کیا ہےشکست ناروا نے مجھ کو پارہ پارہ کر ڈالاانا کو میری بے اندازہ تر بے چارہ کر ڈالامیں اپنے آپ میں ہارا ہوں اور خوارانہ ہارا ہوںجگر چاکانہ ہارا ہوں دل افگارانہ ہارا ہوں
1وہ صبح کبھی تو آئے گیان کالی صدیوں کے سر سے جب رات کا آنچل ڈھلکے گاجب دکھ کے بادل پگھلیں گے جب سکھ کا ساگر چھلکے گاجب امبر جھوم کے ناچے گا جب دھرتی نغمے گائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیجس صبح کی خاطر جگ جگ سے ہم سب مر مر کر جیتے ہیںجس صبح کے امرت کی دھن میں ہم زہر کے پیالے پیتے ہیںان بھوکی پیاسی روحوں پر اک دن تو کرم فرمائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیمانا کہ ابھی تیرے میرے ارمانوں کی قیمت کچھ بھی نہیںمٹی کا بھی ہے کچھ مول مگر انسانوں کی قیمت کچھ بھی نہیںانسانوں کی عزت جب جھوٹے سکوں میں نہ تولی جائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیدولت کے لیے جب عورت کی عصمت کو نہ بیچا جائے گاچاہت کو نہ کچلا جائے گا غیرت کو نہ بیچا جائے گااپنے کالے کرتوتوں پر جب یہ دنیا شرمائے گیوو صبح کبھی تو آئے گیبیتیں گے کبھی تو دن آخر یہ بھوک کے اور بیکاری کےٹوٹیں گے کبھی تو بت آخر دولت کی اجارہ داری کےجب ایک انوکھی دنیا کی بنیاد اٹھائی جائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیمجبور بڑھاپا جب سونی راہوں کی دھول نہ پھانکے گامعصوم لڑکپن جب گندی گلیوں میں بھیک نہ مانگے گاحق مانگنے والوں کو جس دن سولی نہ دکھائی جائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیفاقوں کی چتاؤں پر جس دن انساں نہ جلائے جائیں گےسینوں کے دہکتے دوزخ میں ارماں نہ جلائے جائیں گےیہ نرک سے بھی گندی دنیا جب سورگ بنائی جائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گی2وہ صبح ہمیں سے آئے گیجب دھرتی کروٹ بدلے گی جب قید سے قیدی چھوٹیں گےجب پاپ گھروندے پھوٹیں گے جب ظلم کے بندھن ٹوٹیں گےاس صبح کو ہم ہی لائیں گے وہ صبح ہمیں سے آئے گیوہ صبح ہمیں سے آئے گیمنحوس سماجی ڈھانچوں میں جب ظلم نہ پالے جائیں گےجب ہاتھ نہ کاٹے جائیں گے جب سر نہ اچھالے جائیں گےجیلوں کے بنا جب دنیا کی سرکار چلائی جائے گیوہ صبح ہمیں سے آئے گیسنسار کے سارے محنت کش کھیتوں سے ملوں سے نکلیں گےبے گھر بے در بے بس انساں تاریک بلوں سے نکلیں گےدنیا امن اور خوشحالی کے پھولوں سے سجائی جائے گیوہ صبح ہمیں سے آئے گی
نہ آرام شب کو نہ راحت سویرےغلاظت میں گھر نالیوں میں بسیرےجو بگڑیں تو اک دوسرے کو لڑا دوذرا ایک روٹی کا ٹکڑا دکھا دویہ ہر ایک کی ٹھوکریں کھانے والےیہ فاقوں سے اکتا کے مر جانے والےمظلوم مخلوق گر سر اٹھائےتو انسان سب سرکشی بھول جائےیہ چاہیں تو دنیا کو اپنا بنا لیںیہ آقاؤں کی ہڈیاں تک چبا لیںکوئی ان کو احساس ذلت دلا دےکوئی ان کی سوئی ہوئی دم ہلا دے
تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیںسورج کے لہو میں لتھڑی ہوئی وہ شام ہے اب تک یاد مجھےچاہت کے سنہرے خوابوں کا انجام ہے اب تک یاد مجھے
یہ کوچے یہ نیلام گھر دل کشی کےیہ لٹتے ہوئے کارواں زندگی کے
کبھی ریت کے اونچے ٹیلوں پہ جاناگھروندے بنانا بنا کے مٹاناوہ معصوم چاہت کی تصویر اپنیوہ خوابوں کھلونوں کی جاگیر اپنینہ دنیا کا غم تھا نہ رشتوں کے بندھنبڑی خوب صورت تھی وہ زندگانی
دنیا میں پادشہ ہے سو ہے وہ بھی آدمیاور مفلس و گدا ہے سو ہے وہ بھی آدمیزردار بے نوا ہے سو ہے وہ بھی آدمینعمت جو کھا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمیٹکڑے چبا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمیابدال، قطب و غوث، ولی آدمی ہوئےمنکر بھی آدمی ہوئے اور کفر کے بھرےکیا کیا کرشمے کشف و کرامات کے لیےحتٰی کہ اپنے زہد و ریاضت کے زور سےخالق سے جا ملا ہے سو ہے وہ بھی آدمیفرعون نے کیا تھا جو دعویٰ خدائی کاشداد بھی بہشت بنا کر ہوا خدانمرود بھی خدا ہی کہاتا تھا برملایہ بات ہے سمجھنے کی آگے کہوں میں کیایاں تک جو ہو چکا ہے سو ہے وہ بھی آدمیکل آدمی کا حسن و قبح میں ہے یاں ظہورشیطاں بھی آدمی ہے جو کرتا ہے مکر و زوراور ہادی رہنما ہے سو ہے وہ بھی آدمیمسجد بھی آدمی نے بنائی ہے یاں میاںبنتے ہیں آدمی ہی امام اور خطبہ خواںپڑھتے ہیں آدمی ہی قرآن اور نمازیاںاور آدمی ہی ان کی چراتے ہیں جوتیاںجو ان کو تاڑتا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی پہ جان کو وارے ہے آدمیاور آدمی پہ تیغ کو مارے ہے آدمیپگڑی بھی آدمی کی اتارے ہے آدمیچلا کے آدمی کو پکارے ہے آدمیاور سن کے دوڑتا ہے سو ہے وہ بھی آدمیچلتا ہے آدمی ہی مسافر ہو لے کے مالاور آدمی ہی مارے ہے پھانسی گلے میں ڈالیاں آدمی ہی صید ہے اور آدمی ہی جالسچا بھی آدمی ہی نکلتا ہے میرے لالاور جھوٹ کا بھرا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی ہی شادی ہے اور آدمی بیاہقاضی وکیل آدمی اور آدمی گواہتاشے بجاتے آدمی چلتے ہیں خواہ مخواہدوڑے ہیں آدمی ہی تو مشعل جلا کے راہاور بیاہنے چڑھا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی نقیب ہو بولے ہے بار باراور آدمی ہی پیادے ہیں اور آدمی سوارحقہ صراحی جوتیاں دوڑیں بغل میں مارکاندھے پہ رکھ کے پالکی ہیں دوڑتے کہاراور اس میں جو پڑا ہے سو ہے وہ بھی آدمیبیٹھے ہیں آدمی ہی دکانیں لگا لگااور آدمی ہی پھرتے ہیں رکھ سر پہ خونچاکہتا ہے کوئی لو کوئی کہتا ہے لا رے لاکس کس طرح کی بیچیں ہیں چیزیں بنا بنااور مول لے رہا ہے سو ہے وہ آدمیطبلے مجیرے دائرے سارنگیاں بجاگاتے ہیں آدمی ہی ہر اک طرح جا بجارنڈی بھی آدمی ہی نچاتے ہیں گت لگااور آدمی ہی ناچے ہیں اور دیکھ پھر مزاجو ناچ دیکھتا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی ہی لعل و جواہر میں بے بہااور آدمی ہی خاک سے بد تر ہے ہو گیاکالا بھی آدمی ہے کہ الٹا ہے جوں تواگورا بھی آدمی ہے کہ ٹکڑا ہے چاند سابد شکل بد نما ہے سو ہے وہ بھی آدمیاک آدمی ہیں جن کے یہ کچھ زرق برق ہیںروپے کے جن کے پاؤں ہیں سونے کے فرق ہیںجھمکے تمام غرب سے لے تا بہ شرق ہیںکم خواب تاش شال دو شالوں میں غرق ہیںاور چیتھڑوں لگا ہے سو ہے وہ بھی آدمیحیراں ہوں یارو دیکھو تو کیا یہ سوانگ ہےاور آدمی ہی چور ہے اور آپی تھانگ ہےہے چھینا جھپٹی اور بانگ تانگ ہےدیکھا تو آدمی ہی یہاں مثل رانگ ہےفولاد سے گڑھا ہے سو ہے وہ بھی آدمیمرنے میں آدمی ہی کفن کرتے ہیں تیارنہلا دھلا اٹھاتے ہیں کاندھے پہ کر سوارکلمہ بھی پڑھتے جاتے ہیں روتے ہیں زارزارسب آدمی ہی کرتے ہیں مردے کے کاروباراور وہ جو مر گیا ہے سو ہے وہ بھی آدمیاشراف اور کمینے سے لے شاہ تا وزیریہ آدمی ہی کرتے ہیں سب کار دل پذیریاں آدمی مرید ہے اور آدمی ہی پیراچھا بھی آدمی ہی کہاتا ہے اے نظیرؔاور سب میں جو برا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
یہ تلخ تلخ راحتیں، جراحتیں لیے ہوئےیہ خونچکاں لطافتیں کثافتیں لیے ہوئےیہ تار تار پیرہن عروسۂ بہار کایہ خندہ زن صداقتیں قیامتیں لیے ہوئےزمین کی تہوں میں آفتاب ڈھونڈھتا ہوں میںجنہیں سحر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈھتا ہوں میںکہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈھتا ہوں میں
وہ صبح کبھی تو آئے گیان کالی صدیوں کے سر سے جب رات کا آنچل ڈھلکے گاجب دکھ کے بادل پگھلیں گے جب سکھ ساگر چھلکے گاجب امبر جھوم کے ناچے گا جب دھرتی نغمے گائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیجس صبح کی خاطر جگ جگ سے ہم سب مرمر کے جیتے ہیںجس صبح کے امرت کی دھن میں ہم زہر کے پیالے پیتے ہیںان بھوکی پیاسی روحوں پر اک دن تو کرم فرمائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیمانا کہ ابھی تیرے میرے ارمانوں کی قیمت کچھ بھی نہیںمٹی کا بھی ہے کچھ مول مگر انسانوں کی قیمت کچھ بھی نہیںانسانوں کی عزت جب جھوٹے سکوں میں نہ تولی جائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیدولت کے لئے جب عورت کی عصمت کو نہ بیچا جائے گاچاہت کو نہ کچلا جائے گا غیرت کو نہ بیچا جائے گااپنے کالے کرتوتوں پر جب یہ دنیا شرمائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیبیتیں گے کبھی تو دن آخر یہ بھوک کے اور بیکاری کےٹوٹیں گے کبھی تو بت آخر دولت کی اجارہ داری کےجب ایک انوکھی دنیا کی بنیاد اٹھائے جائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیمجبور بڑھاپا جب سونی راہوں کی دھول نہ پھانکے گامعصوم لڑکپن جب گندی گلیوں میں بھیک نہ مانگے گاحق مانگنے والوں کو جس دن سولی نہ دکھائی جائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیفاقوں کی چتاؤں پر جس دن انساں نہ جلائے جائیں گےسینے کے دہکتے دوزخ میں ارماں نہ جلائے جائیں گےیہ نرک سے بھی گندی دنیا جب سورگ بتائی جائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گی
سو سال سے جو تربت چادر کو ترستی تھیاب اس پہ عقیدت کے پھولوں کی نمائش ہےاردو کے تعلق سے کچھ بھید نہیں کھلتایہ جشن یہ ہنگامہ خدمت ہے کہ سازش ہے
اب کیوں اس دن کا ذکر کروجب دل ٹکڑے ہو جائے گااور سارے غم مٹ جائیں گےجو کچھ پایا کھو جائے گاجو مل نہ سکا وہ پائیں گےیہ دن تو وہی پہلا دن ہےجو پہلا دن تھا چاہت کاہم جس کی تمنا کرتے رہےاور جس سے ہر دم ڈرتے رہےیہ دن تو کئی بار آیاسو بار بسے اور اجڑ گئےسو بار لٹے اور بھر پایا
سبز مدھم روشنی میں سرخ آنچل کی دھنکسرد کمرے میں مچلتی گرم سانسوں کی مہکبازوؤں کے سخت حلقے میں کوئی نازک بدنسلوٹیں ملبوس پر آنچل بھی کچھ ڈھلکا ہواگرمئ رخسار سے دہکی ہوئی ٹھنڈی ہوانرم زلفوں سے ملائم انگلیوں کی چھیڑ چھاڑسرخ ہونٹوں پر شرارت کے کسی لمحے کا عکسریشمیں بانہوں میں چوڑی کی کبھی مدھم کھنکشرمگیں لہجوں میں دھیرے سے کبھی چاہت کی باتدو دلوں کی دھڑکنوں میں گونجتی تھی اک صداکانپتے ہونٹوں پہ تھی اللہ سے صرف اک دعاکاش یہ لمحے ٹھہر جائیں ٹھہر جائیں ذرا!
وہ سب اک برفانی بھاپ کی چمکیلی اور چکر کھاتی گولائی تھےسو میرے خوابوں کی راتیں جلتی اور دہکتی راتیں
چلو چھوڑومحبت جھوٹ ہےعہد وفا اک شغل ہے بے کار لوگوں کاطلب سوکھے ہوئے پتوں کا بے رونق جزیرہ ہےخلش دیمک زدہ اوراق پر بوسیدہ سطروں کا ذخیرہ ہےخمار وصل تپتی دھوپ کے سینے پہ اڑتے بادلوں کی رائیگاں بخشش!غبار ہجر صحرا میں سرابوں سے اٹے موسم کا خمیازہچلو چھوڑوکہ اب تک میں اندھیروں کی دھمک میں سانس کی ضربوں پہچاہت کی بنا رکھ کر سفر کرتا رہا ہوں گامجھے احساس ہی کب تھاکہ تم بھی موسموں کے ساتھ اپنے پیرہن کے رنگ بدلو گیچلو چھوڑووہ سارے خواب کچی بھربھری مٹی کے بے قیمت گھروندے تھےوہ سارے ذائقے میری زباں پر زخم بن کر جم گئے ہوں گےتمہاری انگلیوں کی نرم پوریں پتھروں پر نام لکھتی تھیں مرا لیکنتمہاری انگلیاں تو عادتاً یہ جرم کرتی تھیںچلو چھوڑوسفر میں اجنبی لوگوں سے ایسے حادثے سرزد ہوا کرتے ہیں صدیوں سےچلو چھوڑومرا ہونا نہ ہونا اک برابر ہےتم اپنے خال و خد کو آئینے میں پھر نکھرنے دوتم اپنی آنکھ کی بستی میں پھر سے اک نیا موسم اترنے دومرے خوابوں کو مرنے دونئی تصویر دیکھوپھر نیا مکتوب لکھوپھر نئے موسم نئے لفظوں سے اپنا سلسلہ جوڑومرے ماضی کی چاہت رائیگاں سمجھومری یادوں سے کچے رابطے توڑوچلو چھوڑومحبت جھوٹ ہےعہد وفا اک شغل ہے بے کار لوگوں کا
وہ شخص کہ جس کی خاطر ہماس دیس پھریں اس دیس پھریںجوگی کا بنا کر بھیس پھریںچاہت کے نرالے گیت لکھیںجی موہنے والے گیت لکھیںدھرتی کے مہکتے باغوں سےکلیوں کی جھولی بھر لائیںامبر کے سجیلے منڈل سےتاروں کی ڈولی بھر لائیں
کاش میں تیرے حسیں ہاتھ کا کنگن ہوتاتو بڑے پیار سے چاؤ سے بڑے مان کے ساتھاپنی نازک سی کلائی میں چڑھاتی مجھ کواور بیتابی سے فرقت کے خزاں لمحوں میںتو کسی سوچ میں ڈوبی جو گھماتی مجھ کومیں ترے ہاتھ کی خوشبو سے مہک سا جاتاجب کبھی موڈ میں آ کر مجھے چوما کرتیتیرے ہونٹوں کی میں حدت سے دہک سا جاتارات کو جب بھی تو نیندوں کے سفر پر جاتیمرمریں ہاتھ کا اک تکیہ بنایا کرتیمیں ترے کان سے لگ کر کئی باتیں کرتاتیری زلفوں کو ترے گال کو چوما کرتاجب بھی تو بند قبا کھولنے لگتی جاناںاپنی آنکھوں کو ترے حسن سے خیرہ کرتامجھ کو بیتاب سا رکھتا تری چاہت کا نشہمیں تری روح کے گلشن میں مہکتا رہتامیں ترے جسم کے آنگن میں کھنکتا ہوتاکچھ نہیں تو یہی بے نام سا بندھن ہوتاکاش میں تیرے حسیں ہاتھ کا کنگن ہوتا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books