aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "chhat"
نہ جانے عاربہ کیوں آئے کیوں مستعربہ آئےمضر کے لوگ تو چھانے ہی والے تھے سو وہ چھائےمرے جد ہاشم عالی گئے غزہ میں دفنائےمیں ناقے کو پلاؤں گا مجھے واں تک وہ لے جائےلدوا للموت وابنو للحزاب سن خراباتیوہ مرد عوص کہتا ہے حقیقت ہے خرافاتییہ ظالم تیسرا پیگ اک اقانیمی بدایت ہےالوہی ہرزہ فرمائی کا سر طور لکنت ہےبھلا حورب کی جھاڑی کا وہ رمز آتشیں کیا تھامگر حورب کی جھاڑی کیا یہ کس سے کس کی نسبت ہےیہ نسبت کے بہت سے قافیے ہیں ہے گلہ اس کامگر تجھ کو تو یارا! قافیوں کی بے طرح لت ہےگماں یہ ہے کہ شاید بحر سے خارج نہیں ہوں میںذرا بھی حال کے آہنگ میں حارج نہیں ہوںتنا تن تن تنا تن تن تنا تن تن تنا تن تنتنا تن تن نہیں محنت کشوں کا تن نہ پیراہننہ پیراہن نہ پوری آدھی روٹی اب رہا سالنیہ سالے کچھ بھی کھانے کو نہ پائیں گالیاں کھائیںہے ان کی بے حسی میں تو مقدس تر حرامی پن
مرا قلم نہیں اوزار اس نقب زن کاجو اپنے گھر کی ہی چھت میں شگاف ڈالتا ہےمرا قلم نہیں اس دزد نیم شب کا رفیقجو بے چراغ گھروں پر کمند اچھالتا ہے
خیر اس بات کو تو چھوڑ بتا کیسی ہےتو نے چاہا تھا جسے وہ ترے نزدیک تو ہےکون سے غم نے تجھے چاٹ لیا اندر سےآج کل پھر سے تو چپ رہتی ہے سب ٹھیک تو ہے
میں جب بھیزندگی کی چلچلاتی دھوپ میں تپ کرمیں جب بھیدوسروں کے اور اپنے جھوٹ سے تھک کرمیں سب سے لڑ کے خود سے ہار کےجب بھی اس ایک کمرے میں جاتا تھاوہ ہلکے اور گہرے کتھئی رنگوں کا اک کمرہوہ بے حد مہرباں کمرہجو اپنی نرم مٹھی میں مجھے ایسے چھپا لیتا تھاجیسے کوئی ماںبچے کو آنچل میں چھپا لےپیار سے ڈانٹےیہ کیا عادت ہےجلتی دوپہر میں مارے مارے گھومتے ہو تموہ کمرہ یاد آتا ہےدبیز اور خاصا بھاریکچھ ذرا مشکل سے کھلنے والا وہ شیشم کا دروازہکہ جیسے کوئی اکھڑ باپاپنے کھردرے سینے میںشفقت کے سمندر کو چھپائے ہووہ کرسیاور اس کے ساتھ وہ جڑواں بہن اس کیوہ دونوںدوست تھیں میریوہ اک گستاخ منہ پھٹ آئینہجو دل کا اچھا تھاوہ بے ہنگم سی الماریجو کونے میں کھڑیاک بوڑھی انا کی طرحآئینے کو تنبیہ کرتی تھیوہ اک گلدانننھا سابہت شیطانان دنوں پہ ہنستا تھادریچہیا ذہانت سے بھری اک مسکراہٹاور دریچے پر جھکی وہ بیلکوئی سبز سرگوشیکتابیںطاق میں اور شیلف پرسنجیدہ استانی بنی بیٹھیںمگر سب منتظر اس بات کیمیں ان سے کچھ پوچھوںسرہانےنیند کا ساتھیتھکن کا چارہ گروہ نرم دل تکیہمیں جس کی گود میں سر رکھ کےچھت کو دیکھتا تھاچھت کی کڑیوں میںنہ جانے کتنے افسانوں کی کڑیاں تھیںوہ چھوٹی میز پراور سامنے دیوار پرآویزاں تصویریںمجھے اپنائیت سے اور یقیں سے دیکھتی تھیںمسکراتی تھیںانہیں شک بھی نہیں تھاایک دنمیں ان کو ایسے چھوڑ جاؤں گامیں اک دن یوں بھی جاؤں گاکہ پھر واپس نہ آؤں گا
اب مرے دوسرے بازو پہ وہ شمشیر ہے جواس سے پہلے بھی مرا نصف بدن کاٹ چکیاسی بندوق کی نالی ہے مری سمت کہ جواس سے پہلے مری شہہ رگ کا لہو چاٹ چکی
کچھ اکھڑے اکھڑے، کٹے ہوئے سے عجیب جملے،''کہانی وہ جس میں ایک شہزادی چاٹ لیتی ہےاپنی انگشتری کا ہیرا،وہ تم نے پوری نہیں سنائی''
شہر کے گوشوں میں ہیں بکھرے ہوئےپا شکستہ سر بریدہ خوابجن سے شہر والے بے خبر!گھومتا ہوں شہر کے گوشوں میں روز و شبکہ ان کو جمع کر لوںدل کی بھٹی میں تپاؤںجس سے چھٹ جائے پرانا میلان کے دست و پا پھر سے ابھر آئیںچمک اٹھیں لب و رخسار و گردنجیسے نو آراستہ دولہوں کے دل کی حسرتیںپھر سے ان خوابوں کو سمت رہ ملے!
ہوا! کچھ آج کی شب کا بھی احوال سناکیا وہ اپنی چھت پر آج اکیلا تھا؟یا کوئی میرے جیسی ساتھ تھی اور اس نےچاند کو دیکھ کے اس کا چہرہ دیکھا تھا؟
اب جو لوٹا ہوں جہاں زادتو میں سوچتا ہوں!شاید اس جھونپڑے کی چھت پہ یہ مکڑی مری محرومی کیجسے تنتی چلی جاتی ہے وہ جالا تو نہیں ہوں میں بھی؟یہ سیہ جھونپڑا میں جس میں پڑا سوچتا ہوںمیرے افلاس کے روندے ہوئے اجداد کیبس ایک نشانی ہے یہیان کے فن ان کی معیشت کی کہانی ہے یہیمیں جو لوٹا ہوں تو وہ سوختہ بختآ کے مجھے دیکھتی ہے
اس نے اتنی کتابیں چاٹ ڈالیںکہ اس کی عورت کے پیر کاغذ کی طرح ہو گئےوہ روز کاغذ پہ اپنا چہرہ لکھتا اور گندہ ہوتااس کی عورت جو خاموشی کاڑھے بیٹھی تھیکاغذوں کے بھونکنے پر سارتر کے پاس گئیتم راںؔ بو اور فرائڈؔ سے بھی مل آئے ہو کیاسیفوؔ میری سیفوؔ میرابائیؔ کی طرح مت بولومیں سمجھ گئی اب اس کی آنکھیںکیٹسؔ کی آنکھیں ہوئی جاتی ہیںمیں جو سوہنی کا گھڑا اٹھائے ہوئے تھیاپنا نام لیلیٰ بتا چکی تھیمیں نے کہالیلیٰ مجمع کی باتیں میرے سامنے مت دہرایا کروتنہائی بھی کوئی چیز ہوتی ہےشیکسپئیر کے ڈراموں سے چن چن کر اس نے ٹھمکے لگائےمجھے تنہا دیکھ کرسارتر فرائڈؔ کے کمرے میں چلا گیاوہ اپنی تھیوری سے گر گر پڑتامیں سمجھ گئی اس کی کتاب کتنی ہےلیکن بہر حال سارتر تھااور کل کو مجمع میں بھی ملنا تھامیں نے بھیڑ کی طرف اشارہ کیا تو بولااتنے سارے سارتروں سے مل کر تمہیں کیا کرنا ہےاگر زیادہ ضد کرتی ہو تو اپنے وارث شاہؔہیر سیال کے کمروں میں چلے چلتے ہیںسارتر سے استعارہ ملتے ہیمیں نے ایک تنقیدی نشست رکھیمیں نے آدھا کمرہ بھی بڑی مشکل سے حاصل کیا تھاسو پہلے آدھے فرائڈؔ کو بلایاپھر آدھے راںؔ بو کو بلایاآدھی آدھی بات پوچھنی شروع کیجان ڈنؔ کیا کر رہا ہےسیکنڈ ہینڈ شاعروں سے نجات چاہتا ہےچوروں سے سخت نالاں ہےدانتےؔ اس وقت کہاں ہےوہ جہنم سے بھی فرار ہو چکا ہےاس کو شبہ تھاوہ خواجہ سراؤں سے زیادہ دیر مقابلہ نہیں کر سکتااپنے پس منظر میںایک کتا مسلسل بھونکنے کے لیے چھوڑ گیا ہےاس کتے کی خصلت کیا ہےبیاترؔچے کی یاد میں بھونک رہا ہےتمہارا تصور کیا کہتا ہےسارتروں کی تصور کے لحاظ سےاب اس کا رخ گوئٹےؔ کے گھر کی طرف ہو گیا ہے
کشش نہیں ہے تمہارے بنا بہاروں میںیہ چھت یہ چاند ستارے اداس لگتے ہیںچمن کا رنگ نسیم سحر گلاب کے پھولنہیں ہو تم تو یہ سارے اداس لگتے ہیں
آنکھ کھل گئی میریہو گیا میں پھر زندہپیٹ کے اندھیروں سےذہن کے دھندلکوں تکایک سانپ کے جیسارینگتا خیال آیاآج تیسرا دن ہے۔۔۔۔۔۔ آج تیسرا دن ہےاک عجیب خاموشیمنجمد ہے کمرے میںایک فرش اور اک چھتاور چار دیواریںمجھ سے بے تعلق سبسب مرے تماشائیسامنے کی کھڑکی سےتیز دھوپ کی کرنیںآ رہی ہیں بستر پرچبھ رہی ہیں چہرے میںاس قدر نکیلی ہیںجیسے رشتے داروں کےطنز میری غربت پرآنکھ کھل گئی میریآج کھوکھلا ہوں میںصرف خول باقی ہےآج میرے بستر میںلیٹا ہے مرا ڈھانچہاپنی مردہ آنکھوں سےدیکھتا ہے کمرے کوآج تیسرا دن ہےآج تیسرا دن ہے
تمہیں پیار ہے، تو یقین دو،مجھے نہ کہو، تمہیں پیار ہے، مجھے دیکھنے کی نہ ضد کرو،تمہیں فکر ہو، مرے حال کی،کوئی گفتگو ہو ملال کی،جو خیال ہو، نہ کیا کرو،نہ کہا کرو مری فکر ہےمیں عزیز تر ہوں جہان سےیا ایمان سے، نہ کہا کرو،نہ لکھا کرو مجھے ورق پر، کسی فرش پر،نہ اداس ہو، نہ ہی خوش رہومجھے سوچ کر، یا کھروچ کر، میری یاد کو نہ آواز دو،مجھے خط میں لکھ کے خداؤں کا نہ دو واسطہتمہیں پیار میں نہ قرار ہے، مجھے اس زباں کا یقین نہیںکچھ اور ہو، جو سنا نہ ہو، جو کہا نہ ہو، جو لکھا نہ ہوتو یقین ہو!رکو اور تھوڑا سا ضبط لو، مجھے سوچ لینے کو وقت دو،چلو یوں کرو مرے واسطے کہ بلند و بالا عمارتوں کا لو جائزہجو فلک کو بوسہ لگا رہی ہوں عمارتیں،جو تمہارے پیار سے لے رہی ہوں مشابہتیںجو ہو سب سے زیادہ بلند و بالا الگ تھلگاسے سر کرو،اسے چھت تلک، ہاں یہیں رکو، یہ وہ ہی ہے چھت،ذرا سانس لینے کو قیام لو، مرا نام لو،تو سفر کی ساری تھکن یہیں پہ اتار لو،اب! مرے تمہارے جو درمیاں میں ہے فاصلہ، وہ ذرا سا ہے،وہ مٹا سکو، تو غرور ڈھاتی بلندیوں کو پھلانگ دو!تمہیں پیار ہے تو یقین دو!!
اک ننھی منی سی پجارنپتلی بانہیں پتلی گردنبھور بھئے مندر آئی ہےآئی نہیں ہے ماں لائی ہےوقت سے پہلے جاگ اٹھی ہےنیند ابھی آنکھوں میں بھری ہےٹھوڑی تک لٹ آئی ہوئی ہےیوں ہی سی لہرائی ہوئی ہےآنکھوں میں تاروں کی چمک ہےمکھڑے پہ چاندی کی جھلک ہےکیسی سندر ہے کیا کہیےننھی سی اک سیتا کہیےدھوپ چڑھے تارا چمکا ہےپتھر پر اک پھول کھلا ہےچاند کا ٹکڑا پھول کی ڈالیکمسن سیدھی بھولی بھالیہاتھ میں پیتل کی تھالی ہےکان میں چاندی کی بالی ہےدل میں لیکن دھیان نہیں ہےپوجا کا کچھ گیان نہیں ہےکیسی بھولی چھت دیکھ رہی ہےماں بڑھ کر چٹکی لیتی ہےچپکے چپکے ہنس دیتی ہےہنسنا رونا اس کا مذہباس کو پوجا سے کیا مطلبخود تو آئی ہے مندر میںمن اس کا ہے گڑیا گھر میں
دانشور کہلانے والوتم کیا سمجھومبہم چیزیں کیا ہوتی ہیںتھل کے ریگستان میں رہنے والے لوگوتم کیا جانوساون کیا ہےاپنے بدن کورات میں اندھی تاریکی سےدن میں خود اپنے ہاتھوں سےڈھانپنے والوعریاں لوگوتم کیا جانوچولی کیا ہے دامن کیا ہےشہر بدر ہو جانے والوفٹ پاتھوں پر سونے والوتم کیا سمجھوچھت کیا ہے دیواریں کیا ہیںآنگن کیا ہےاک لڑکی کا خزاں رسیدہ بازو تھامےنبض کے اوپر ہاتھ جمائےایک صدا پر کان لگائےدھڑکن سانسیں گننے والوتم کیا جانومبہم چیزیں کیا ہوتی ہیںدھڑکن کیا ہے جیون کیا ہےسترہ نمبر کے بستر پراپنی قید کا لمحہ لمحہ گننے والییہ لڑکی جوبرسوں کی بیمار نظر آتی ہے تم کوسولہ سال کی اک بیوہ ہےہنستے ہنستے رو پڑتی ہےاندر تک سے بھیگ چکی ہےجان چکی ہےساون کیا ہےاس سے پوچھوکانچ کا برتن کیا ہوتا ہےاس سے پوچھومبہم چیزیں کیا ہوتی ہیںسونا آنگن تنہا جیون کیا ہوتا ہے
بادل ہوا کے اوپر ہو مست چھا رہے ہیںجھڑیوں کی مستیوں سے دھومیں مچا رہے ہیںپڑتے ہیں پانی ہر جا جل تھل بنا رہے ہیںگلزار بھیگتے ہیں سبزے نہا رہے ہیںکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں
وہ چالیس راتوں سے سویا نہ تھاوہ خوابوں کو اونٹوں پہ لادے ہوئےرات کے ریگزاروں میں چلتا رہاچاندنی کی چتاؤں میں جلتا رہامیز پرکانچ کے اک پیالے میں رکھے ہوئےدانت ہنستے رہےکالی عینک کے شیشوں کے پیچھے سے پھرموتیے کی کلی سر اٹھانے لگیآنکھ میں تیرگی مسکرانے لگیروح کا ہاتھچھلنی ہوا سوئی کی نوک سےخواہشوں کے دیےجسم میں بجھ گئےسبز پانی کی سیال پرچھائیاںلمحہ لمحہ بند میں اترنے لگیںگھر کی چھت میں جڑےدس ستاروں کے سایوں تلےعکس دھندلا گئےعکس مرجھا گئے
لو وہ چاہ شب سے نکلا پچھلے پہر پیلا مہتابذہن نے کھولی رکتے رکتے ماضی کی پارینہ کتابیادوں کے بے معنی دفتر خوابوں کے افسردہ شہابسب کے سب خاموش زباں سے کہتے ہیں اے خانہ خرابگزری بات صدی یا پل ہو گزری بات ہے نقش بر آبیہ روداد ہے اپنے سفر کی اس آباد خرابے میںدیکھو ہم نے کیسے بسر کی اس آباد خرابے میں
مسجد کا گنبد سونا ہےمندر کی گھنٹی خاموشجزدانوں میں لپٹے آدرشوں کودیمک کب کی چاٹ چکی ہےرنگگلابینیلےپیلےکہیں نہیں ہیںتم اس جانبمیں اس جانببیچ میں میلوں گہرا غارلفظوں کا پل ٹوٹ چکا ہےتم بھی تنہامیں بھی تنہا
سبزہ سبزہ سوکھ رہی ہے پھیکی زرد دوپہردیواروں کو چاٹ رہا ہے تنہائی کا زہردور افق تک گھٹتی بڑھتی اٹھتی رہتی ہےکہر کی صورت بے رونق دردوں کی گدلی لہربستا ہے اس کہر کے پیچھے روشنیوں کا شہر
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books