aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "chimaT"
گزر رہے تھے مہ و سال اور موسم پرہمارے شہر میں آتی تھی گھر کے جب برساتجب آسمان میں اڑتے تھے ہر طرف جگنوہوا کی موج رواں پر دیئے جلائے ہوئےفضا میں رات گئے جب درخت پیپل کا!ہزاروں جگنوؤں سے کوہ طور بنتا تھاہزاروں وادیٔ ایمن تھیں جس کی شاخوں میںیہ دیکھ کر مرے دل میں یہ ہوک اٹھتی تھیکہ میں بھی ہوتا انہیں جگنوؤں میں اک جگنوتو ماں کی بھٹکی ہوئی روح کو دکھاتا راہوہ ماں میں جس کی محبت کے پھول چن نہ سکاوہ ماں میں جس سے محبت کے بول سن نہ سکاوہ ماں کہ بھینچ کے جس کو کبھی میں سو نہ سکامیں جس کے آنچلوں میں منہ چھپا کے رو نہ سکاوہ ماں کہ گھٹنوں سے جس کے کبھی لپٹ نہ سکاوہ ماں کہ سینے سے جس کے کبھی چمٹ نہ سکاہمک کے گود میں جس کی کبھی میں چڑھ نہ سکامیں زیر سایۂ امید جس کے بڑھ نہ سکاوہ ماں میں جس سے شرارت کی داد پا نہ سکامیں جس کے ہاتھوں محبت کی مار کھا نہ سکا
میں اک پھیری والابیچوں یادیںسستی مہنگی سچی جھوٹی اجلی میلی رنگ برنگی یادیںہونٹ کے آنسوآنکھوں کی مسکان ہری فریادیںمیں اک پھیری والابیچوں یادیںیادوں کے رنگین غبارےنیلے پیلے لال گلابیرنگ برنگے دھاگوں کے کندھوں پر بیٹھے کھیل رہے ہیںٹھیس لگی تو چیخ اٹھیں گےدھاگے کی گردن سے چمٹ کر رہ جائیں گےمیں پھر ان رنگیں دھاگوں میں یادوں کے کچھ نئے غبارے باندھ کے گلیوں بازاروں سےکچے پکے دروازوں سےآوازیں دیتا گزروں گاسستی مہنگی جھوٹی سچی اجلی میلی یادیں لے لوہونٹ کے آنسوآنکھوں کی مسکان ہری فریادیں لے لو
میرے مشکیزے میں پانی نہیں تھامیرے پاؤں ننگے تھےمجھے کسی منزل کا پتا نہیں تھااور کسی سمت کا تعین تک کرنے سےمیں قاصر تھامیرے پاس بس ایک ہی راستہ رہ گیا تھاسو میں نے اپنے پاؤں سے کانٹا نکالااور ریت میں بو دیاچند گھنٹوں میں وہ ایک سایہ دار درخت میں تبدیل ہو گیااور اس میں عجیب و غریب پھل پیدا ہو گئےمیں زہریلےاور غیر زہریلے پھلوں میں تمیز نہیں کر سکتا تھااور میرے لیےکوئی من و سلویٰ بھی آسمان سے اترتا نہیں تھاسو میں نے ان پھلوں کو رغبت سے کھایااتنے میں شام ہو گئیاور صحرا کی تاریکی میںصحرا کے زہریلے کیڑے مکوڑےاپنے بلوں سے نکل کر میرے بدن سے چمٹ گئےکرسی پر نیم دراز ہو جاتا ہےہم دونوںکوئی بات نہیں کرتےنہ سگریٹ جلانے کے لیےایک دوسرے کو لائٹر پیش کرتے ہیںاس کا بس چلے تو وہ مجھے ہلاک کر دےمیرے بھی اس کے بارے میںیہی کچھ جذبات ہیںاس کے باوجودجب بھی میں اسے بلاتا ہوںوہ آ جاتا ہےمیرے بلاوے میں نہ اصرار ہوتا ہےنہ دھمکینہ کوئی شرطیہ وہ بھی جانتا ہےمیرے بلاوے میںکسی خواہش کی رمق نہیںہم دونوںکسی بھی دناپنے قریب ترین ستون کی اوٹ لے کرایک دوسرے کو نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتے ہیںلیکنزندہ بچنے والے کے مقابلے میںمر جانے والازیادہ خوش نصیب ثابت ہوگابچنے والے کوہلاک ہونے والے کا جسماٹھا کر چلنا ہوگااس کے خون آلود کپڑے اتار کراسے صاف ستھرے کپڑے پہنانے ہوں گےمرنے والے کی لاش کوکسی بھی قسم کے خورد بینی کیڑوں سےمحفوظ رکھنے کے لیےجتن کرنا ہوں گےپھر اس کی لاش کوسہارا دے کرکسی آرام دہ کرسی پر بیٹھانا ہوگااس کے منہ سے سگریٹ لگانا ہوگااسے لائٹر بھی پیش کرنا ہوگابلکہ اس کی موت کواپنی موت سمجھتے ہوئےدو قبریںبرابر کھودنی ہوں گیبسیں اور کاریں ان کے قریب آ کردرختوں کو چھوتی ہیںاور انہیںسڑک کے دائیں یا بائیں ہٹانے میں جٹ جاتی ہیںلیکن اسی دورانشراب کی بو انہیں بھیبد مست کر دیتی ہےوہ بھی سڑک کے بیچوں بیچ ناچنے لگتی ہیںپھر تو بل کھاتی سڑک بھیاٹھ کھڑی ہوتی ہےاور ٹھمکے لگانے لگتی ہےگھر تھرتھرا اٹھتے ہیںان میں سوئے ہوئے مکینہڑبڑا کر جاگ جاتے ہیںانہیں اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آتاشرابی درختوںنشے میں دھت بسوں، کاروںاور بد مست ناچتی سڑک کوشہر میں بسنے والے لوگوں کیکوئی پروا نہیں
تو مجھے گود میں لے کے یاروں عزیزوں میں بازار و دفتر کو جاتامجھے یاد ہے یہشہر کی نیم تاریک گلیوں میں اکثر میں سنتا تھا اک ڈر کی چاپ اپنے پیچھے سے آتیمیرے بچپن کی شفاف معصوم آنکھوں میں نامہرباں جانے پہچانے چہروں کا ڈر تھامیرے دل کا یہ شیشہ اک انہونے ڈر سے تڑخ سا گیا تھا کہ جس کی صدا تک نہیں تھییہ وہ ڈر تھا کہ جس کی کوئی ایک تشریح ممکن نہیں تھیمگر میرے کچے سے دل میںایک آسیبی پیپل کی جڑ تھی مجھ کو تو اک دن انہی میں اکیلا چھوڑ دے گاجس کی شاخیں ہراساں نگاہوں سے نکلی وہ شاخیں مجھے بید مجنوں سا لرزائے رکھتیںتیرا سینہ وہ دیوار کعبہ تھا جس سے چمٹ کر میں دنیا کے ہر غم سے بیگانہ ہوتاتیرے مشفق دو لب گویا باب حرم تھےوہ بوسہ نہیں تھا حلاوت کا در اک کھلا تھاجس سے شیریں لطافت میں گوندھی تمازت مرے دن کو تاباں مری رات کو گرم رکھتیڈر اندھیرے کا ڈر شہر کی تنگ و تاریک گلیوں کا ڈر میرے بچپن کا حصہ رہا ہےڈر وہ اسکول کے راستے میں کھڑے ایک مجہول انساں کا ڈر جس کو خود ہم سے ڈر تھاڈر وہ متروک بالیں پہ ڈیرا کیے کچھ چڑیلوں کا ڈر جو ہمیشہ کا قصہ رہا ہےخیر یہ ڈر تو بچپن کا حصہ ہوئے بے مروت شناسا سے چہروں کا ڈر ہے ابھی بھیمیرے اندر کا سہما سا بچہ وہ دیوار کعبہ ابھی ڈھونڈھتا ہے کہ جس میں اماں تھیآج دفتر سلامت ہے بازار و کوچہ کی رونق وہی ہےوہ دیوار کعبہ مگر اب نہیں ہےمیں نومبر کے اس سرد دن میں ٹھٹھرتا ہوں اب بھی کہ جب تو اکیلا مجھے کر گیا تھا
ترس آتا ہے رہ رہ کر مجھے ان نا توانوں پرپڑے ہیں بوجھ بن کر جو تھکے ہارے جوانوں پرسلاخوں سے چمٹ کر جو کھڑے ہیں پائدانوں پرہیں ان کی خانہ بربادی کے قصے آسمانوں پرہر اک جھٹکے پہ ٹانگیں کانپتی ہیں دم نکلتا ہےسنبھل کر کوئی گرتا ہے کوئی گر کر سنبھلتا ہے
تو ہے اک تانبے کا تھالجو سورج کی گرمی میں سارا سال تپےکوئی ہلکا نیلا بادل جب اس پر بوندیں برسائےایک چھناکا ہو اور بوندیں بادل کو اڑ جائیںتانبا جلتا رہےوہ ہے اک بجلی کا تارجس کے اندر تیز اور آتش ناک اک برقی رو دوڑےجو بھی اس کے پاس سے گزرےاس کی جانب کھینچتا جائےاس کے ساتھ چمٹ کے موت کے جھولے جھولےبرقی رو ویسی ہی سرعت اور تیزی سے دوڑتی جائےمیں ہوں برگ شجرسورج چمکے میں اس کی کرنوں کو اپنے روپ میں دھاروںبادل برسے میں اس کی بوندیں اپنی رگ رگ میں اتاروںباد چلے میں اس کی لہروں کو نغموں میں ڈھالوںاور خزاں آئے تو اس کے منہ میں اپنا رس ٹپکا کر پیڑ سے اتروںدھرتی میں مدغم ہو جاؤںدھرتی جب مجھ کو اگلے تو پودا بن کر پھوٹوں
موج ہوا کو اب خبروں کے دام سے بھی چھٹ جانے دوگہرے دھوئیں اور گرد کے بادل میںکاغذ اور ریت کے ذرےآدھے سچ کے ساتھ چمٹ کراب گھر گھر تک آ پہنچے ہیںاپنی سانسیں روک رہے ہیںبین سناناشور مچاناخاک اڑانا کب تککب تک یہ سب کو دھمکاناتم بھی صبر کروجبراً خود کو کیا مظلوم بنانا ممکن ہوگاطاقت ور ہواپنے گھر تکسچائی انصاف محبت کے قائل ہولیکن گھر سے باہر آنکھیں ساتھ نہیں ہیںکبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہےیہ لکھا ہوا ہےجب ہاتھی کی سونڈ میں گھس کرچیونٹی آفت بن جاتی ہےایک غلیل سےڈیوڈگولئیتھ کو مار دیا کرتے ہیںحد سے جب اونچے ہو جائیںقصر گرا کرتے ہیں
پہاڑوں کی چاندی صفت چوٹیاںآسماں چھو رہی ہیںزمیں کے بدن میںشجر اپنی لمبی نکیلی جڑیںبو رہا ہےہر اک شخص ساحل پہاک دوسرے سے چمٹپڑا ہےسمندر کی موجیںاگر کوئی ساعت جنوں خیز ٹھہریںسمندر مگرروز اول سے خاموش ہےاپنی وسعت کا شایدہر اک سمت وہ جائزہ لے رہا ہے
ہم شوریدہ کڑوے تلخ کسیلے ذائقےرات کی پر شہوت آنکھوں سے ٹپکے تازہ قطرےشام کے کالے سیاہ ماتھے کی ننگی مخروطی خارشدوپہروں کے جلتے گوشت کی تیز بساندرات کی کالی ران سے بہتا اندھا لاواخلیج کی گہرائی سے باہر آتاقدم قدم پر خوف تباہی دہشت پیدا کرتابکھر رہا ہےراتوں کی سیال ملامت اپنی لمبی زلف بکھیرےکڑوے موسم کے جشنوں میں ناچ رہی ہےکڑوے تلخ کسیلے ذائقوں کے ان جشنوں میںگردن تک میں پگھل گیا ہوںماتھے پر ان شوریدہ جشنوں کی مہریں ثبت ہوئی ہیںکڑوے ذائقے جونکیں بن کر تالو سے اب چمٹ گئے ہیںتیز اور تند تیزابی سورجہانپتے اور کراہتے سرد مکانوں کی متورم چیخیںمتورم سانسوں میں سرخ تشدد کی چیخیںمیرے کان میں سرخ تشدد کی چیخوں کیچھاؤنیاں آباد ہوئی ہیںہم شوریدہ کڑوے تلخ کسیلے ذائقےنوزائدہ شہروں کے منہ پہقطرہ قطرہ ٹپک رہے ہیں
کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوںفکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوںنالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوںہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوںجرأت آموز مری تاب سخن ہے مجھ کوشکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کوہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہمقصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہمساز خاموش ہیں فریاد سے معمور ہیں ہمنالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہماے خدا شکوۂ ارباب وفا بھی سن لےخوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لےتھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات قدیمپھول تھا زیب چمن پر نہ پریشاں تھی شمیمشرط انصاف ہے اے صاحب الطاف عمیمبوئے گل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیمہم کو جمعیت خاطر یہ پریشانی تھیورنہ امت ترے محبوب کی دیوانی تھیہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظرکہیں مسجود تھے پتھر کہیں معبود شجرخوگر پیکر محسوس تھی انساں کی نظرمانتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کو کیونکرتجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام تراقوت بازوئے مسلم نے کیا کام ترابس رہے تھے یہیں سلجوق بھی تورانی بھیاہل چیں چین میں ایران میں ساسانی بھیاسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھیاسی دنیا میں یہودی بھی تھے نصرانی بھیپر ترے نام پہ تلوار اٹھائی کس نےبات جو بگڑی ہوئی تھی وہ بنائی کس نےتھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میںخشکیوں میں کبھی لڑتے کبھی دریاؤں میںدیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میںکبھی ایفریقا کے تپتے ہوئے صحراؤں میںشان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کیکلمہ پڑھتے تھے ہمیں چھاؤں میں تلواروں کیہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مصیبت کے لیےاور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لیےتھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیےسر بکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لیےقوم اپنی جو زرو و مال جہاں پر مرتیبت فروشی کے عوض بت شکنی کیوں کرتیٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھےپاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھےتجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھےتیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھےنقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نےزیر خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نےتو ہی کہہ دے کہ اکھاڑا در خیبر کس نےشہر قیصر کا جو تھا اس کو کیا سر کس نےتوڑے مخلوق خدا وندوں کے پیکر کس نےکاٹ کر رکھ دئیے کفار کے لشکر کس نےکس نے ٹھنڈا کیا آتشکدۂ ایراں کوکس نے پھر زندہ کیا تذکرۂ یزداں کوکون سی قوم فقط تیری طلب گار ہوئیاور تیرے لیے زحمت کش پیکار ہوئیکس کی شمشیر جہانگیر جہاں دار ہوئیکس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئیکس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھےمنہ کے بل گر کے ہو اللہ احد کہتے تھےآ گیا عین لڑائی میں اگر وقت نمازقبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی ہوئی قوم حجازایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایازنہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نوازبندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئےتیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئےمحفل کون و مکاں میں سحر و شام پھرےمئے توحید کو لے کر صفت جام پھرےکوہ میں دشت میں لے کر ترا پیغام پھرےاور معلوم ہے تجھ کو کبھی ناکام پھرےدشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نےبحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا ہم نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نےتیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نےتیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نےپھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیںہم وفادار نہیں تو بھی تو دل دار نہیںامتیں اور بھی ہیں ان میں گنہ گار بھی ہیںعجز والے بھی ہیں مست مئے پندار بھی ہیںان میں کاہل بھی ہیں غافل بھی ہیں ہشیار بھی ہیںسیکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بے زار بھی ہیںرحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پربرق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پربت صنم خانوں میں کہتے ہیں مسلمان گئےہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئےمنزل دہر سے اونٹوں کے حدی خوان گئےاپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئےخندہ زن کفر ہے احساس تجھے ہے کہ نہیںاپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیںیہ شکایت نہیں ہیں ان کے خزانے معمورنہیں محفل میں جنہیں بات بھی کرنے کا شعورقہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حور و قصوراور بے چارے مسلماں کو فقط وعدۂ حوراب وہ الطاف نہیں ہم پہ عنایات نہیںبات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیںکیوں مسلمانوں میں ہے دولت دنیا نایابتیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ حسابتو جو چاہے تو اٹھے سینۂ صحرا سے حبابرہرو دشت ہو سیلی زدۂ موج سرابطعن اغیار ہے رسوائی ہے ناداری ہےکیا ترے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہےبنی اغیار کی اب چاہنے والی دنیارہ گئی اپنے لیے ایک خیالی دنیاہم تو رخصت ہوئے اوروں نے سنبھالی دنیاپھر نہ کہنا ہوئی توحید سے خالی دنیاہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں ترا نام رہےکہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے جام رہےتیری محفل بھی گئی چاہنے والے بھی گئےشب کی آہیں بھی گئیں صبح کے نالے بھی گئےدل تجھے دے بھی گئے اپنا صلہ لے بھی گئےآ کے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئےآئے عشاق گئے وعدۂ فردا لے کراب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کردرد لیلیٰ بھی وہی قیس کا پہلو بھی وہینجد کے دشت و جبل میں رم آہو بھی وہیعشق کا دل بھی وہی حسن کا جادو بھی وہیامت احمد مرسل بھی وہی تو بھی وہیپھر یہ آرزدگئ غیر سبب کیا معنیاپنے شیداؤں پہ یہ چشم غضب کیا معنیتجھ کو چھوڑا کہ رسول عربی کو چھوڑابت گری پیشہ کیا بت شکنی کو چھوڑاعشق کو عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑارسم سلمان و اویس قرنی کو چھوڑاآگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیںزندگی مثل بلال حبشی رکھتے ہیںعشق کی خیر وہ پہلی سی ادا بھی نہ سہیجادہ پیمائی تسلیم و رضا بھی نہ سہیمضطرب دل صفت قبلہ نما بھی نہ سہیاور پابندی آئین وفا بھی نہ سہیکبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہےبات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہرجائی ہےسر فاراں پہ کیا دین کو کامل تو نےاک اشارے میں ہزاروں کے لیے دل تو نےآتش اندوز کیا عشق کا حاصل تو نےپھونک دی گرمئ رخسار سے محفل تو نےآج کیوں سینے ہمارے شرر آباد نہیںہم وہی سوختہ ساماں ہیں تجھے یاد نہیںوادیٔ نجد میں وہ شور سلاسل نہ رہاقیس دیوانۂ نظارۂ محمل نہ رہاحوصلے وہ نہ رہے ہم نہ رہے دل نہ رہاگھر یہ اجڑا ہے کہ تو رونق محفل نہ رہااے خوشا آں روز کہ آئی و بصد ناز آئیبے حجابانہ سوئے محفل ما باز آئیبادہ کش غیر ہیں گلشن میں لب جو بیٹھےسنتے ہیں جام بکف نغمۂ کو کو بیٹھےدور ہنگامۂ گلزار سے یکسو بیٹھےتیرے دیوانے بھی ہیں منتظر ہو بیٹھےاپنے پروانوں کو پھر ذوق خود افروزی دےبرق دیرینہ کو فرمان جگر سوزی دےقوم آوارہ عناں تاب ہے پھر سوئے حجازلے اڑا بلبل بے پر کو مذاق پروازمضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بوئے نیازتو ذرا چھیڑ تو دے تشنۂ مضراب ہے سازنغمے بیتاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لیےطور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لیےمشکلیں امت مرحوم کی آساں کر دےمور بے مایہ کو ہمدوش سلیماں کر دےجنس نایاب محبت کو پھر ارزاں کر دےہند کے دیر نشینوں کو مسلماں کر دےجوئے خوں می چکد از حسرت دیرینۂ مامی تپد نالہ بہ نشتر کدۂ سینۂ مابوئے گل لے گئی بیرون چمن راز چمنکیا قیامت ہے کہ خود پھول ہیں غماز چمنعہد گل ختم ہوا ٹوٹ گیا ساز چمناڑ گئے ڈالیوں سے زمزمہ پرداز چمنایک بلبل ہے کہ ہے محو ترنم اب تکاس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب تکقمریاں شاخ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئیںپتیاں پھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیںوہ پرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیںڈالیاں پیرہن برگ سے عریاں بھی ہوئیںقید موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کیکاش گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کیلطف مرنے میں ہے باقی نہ مزہ جینے میںکچھ مزہ ہے تو یہی خون جگر پینے میںکتنے بیتاب ہیں جوہر مرے آئینے میںکس قدر جلوے تڑپتے ہیں مرے سینے میںاس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیںداغ جو سینے میں رکھتے ہوں وہ لالے ہی نہیںچاک اس بلبل تنہا کی نوا سے دل ہوںجاگنے والے اسی بانگ درا سے دل ہوںیعنی پھر زندہ نئے عہد وفا سے دل ہوںپھر اسی بادۂ دیرینہ کے پیاسے دل ہوںعجمی خم ہے تو کیا مے تو حجازی ہے مرینغمہ ہندی ہے تو کیا لے تو حجازی ہے مری
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہےپر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہےقدسی الاصل ہے رفعت پہ نظر رکھتی ہےخاک سے اٹھتی ہے گردوں پہ گزر رکھتی ہےعشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مراآسماں چیر گیا نالۂ بیباک مراپیر گردوں نے کہا سن کے کہیں ہے کوئیبولے سیارے سر عرش بریں ہے کوئیچاند کہتا تھا نہیں اہل زمیں ہے کوئیکہکشاں کہتی تھی پوشیدہ یہیں ہے کوئیکچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھامجھ کو جنت سے نکالا ہوا انساں سمجھاتھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیاعرش والوں پہ بھی کھلتا نہیں یہ راز ہے کیاتا سر عرش بھی انساں کی تگ و تاز ہے کیاآ گئی خاک کی چٹکی کو بھی پرواز ہے کیاغافل آداب سے سکان زمیں کیسے ہیںشوخ و گستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیںاس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہےتھا جو مسجود ملائک یہ وہی آدم ہےعالم کیف ہے دانائے رموز کم ہےہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہےناز ہے طاقت گفتار پہ انسانوں کوبات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کوآئی آواز غم انگیز ہے افسانہ ترااشک بیتاب سے لبریز ہے پیمانہ تراآسماں گیر ہوا نعرۂ مستانہ تراکس قدر شوخ زباں ہے دل دیوانہ تراشکر شکوے کو کیا حسن ادا سے تو نےہم سخن کر دیا بندوں کو خدا سے تو نےہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیںراہ دکھلائیں کسے رہرو منزل ہی نہیںتربیت عام تو ہے جوہر قابل ہی نہیںجس سے تعمیر ہو آدم کی یہ وہ گل ہی نہیںکوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیںڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیںہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیںامتی باعث رسوائی پیغمبر ہیںبت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیںتھا براہیم پدر اور پسر آزر ہیںبادہ آشام نئے بادہ نیا خم بھی نئےحرم کعبہ نیا بت بھی نئے تم بھی نئےوہ بھی دن تھے کہ یہی مایۂ رعنائی تھانازش موسم گل لالۂ صحرائی تھاجو مسلمان تھا اللہ کا سودائی تھاکبھی محبوب تمہارا یہی ہرجائی تھاکسی یکجائی سے اب عہد غلامی کر لوملت احمد مرسل کو مقامی کر لوکس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہےہم سے کب پیار ہے ہاں نیند تمہیں پیاری ہےطبع آزاد پہ قید رمضاں بھاری ہےتمہیں کہہ دو یہی آئین وفاداری ہےقوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیںجذب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیںجن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن تم ہونہیں جس قوم کو پروائے نشیمن تم ہوبجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہوبیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہوہو نکو نام جو قبروں کی تجارت کر کےکیا نہ بیچوگے جو مل جائیں صنم پتھر کےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا کس نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا کس نےمیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا کس نےمیرے قرآن کو سینوں سے لگایا کس نےتھے تو آبا وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہوہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہوکیا کہا بہر مسلماں ہے فقط وعدۂ حورشکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعورعدل ہے فاطر ہستی کا ازل سے دستورمسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حور و قصورتم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیںجلوۂ طور تو موجود ہے موسیٰ ہی نہیںمنفعت ایک ہے اس قوم کا نقصان بھی ایکایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایکحرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایککچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایکفرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیںکیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیںکون ہے تارک آئین رسول مختارمصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیارکس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعار اغیارہو گئی کس کی نگہ طرز سلف سے بے زارقلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیںکچھ بھی پیغام محمد کا تمہیں پاس نہیںجا کے ہوتے ہیں مساجد میں صف آرا تو غریبزحمت روزہ جو کرتے ہیں گوارا تو غریبنام لیتا ہے اگر کوئی ہمارا تو غریبپردہ رکھتا ہے اگر کوئی تمہارا تو غریبامرا نشۂ دولت میں ہیں غافل ہم سےزندہ ہے ملت بیضا غربا کے دم سےواعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہیبرق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہیرہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہیفلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہیمسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہےیعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہےشور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابودہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجودوضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنودیہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہودیوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہوتم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہودم تقریر تھی مسلم کی صداقت بیباکعدل اس کا تھا قوی لوث مراعات سے پاکشجر فطرت مسلم تھا حیا سے نمناکتھا شجاعت میں وہ اک ہستی فوق الادراکخود گدازی نم کیفیت صہبایش بودخالی از خویش شدن صورت مینا یش بودہر مسلماں رگ باطل کے لیے نشتر تھااس کے آئینۂ ہستی میں عمل جوہر تھاجو بھروسا تھا اسے قوت بازو پر تھاہے تمہیں موت کا ڈر اس کو خدا کا ڈر تھاباپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہوپھر پسر قابل میراث پدر کیونکر ہوہر کوئی مست مئے ذوق تن آسانی ہےتم مسلماں ہو یہ انداز مسلمانی ہےحیدری فقر ہے نے دولت عثمانی ہےتم کو اسلاف سے کیا نسبت روحانی ہےوہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کراور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کرتم ہو آپس میں غضب ناک وہ آپس میں رحیمتم خطا کار و خطا بیں وہ خطا پوش و کریمچاہتے سب ہیں کہ ہوں اوج ثریا پہ مقیمپہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلب سلیمتخت فغفور بھی ان کا تھا سریر کے بھییوں ہی باتیں ہیں کہ تم میں وہ حمیت ہے بھیخودکشی شیوہ تمہارا وہ غیور و خوددارتم اخوت سے گریزاں وہ اخوت پہ نثارتم ہو گفتار سراپا وہ سراپا کردارتم ترستے ہو کلی کو وہ گلستاں بکناراب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کینقش ہے صفحۂ ہستی پہ صداقت ان کیمثل انجم افق قوم پہ روشن بھی ہوئےبت ہندی کی محبت میں برہمن بھی ہوئےشوق پرواز میں مہجور نشیمن بھی ہوئےبے عمل تھے ہی جواں دین سے بدظن بھی ہوئےان کو تہذیب نے ہر بند سے آزاد کیالا کے کعبے سے صنم خانے میں آباد کیاقیس زحمت کش تنہائی صحرا نہ رہےشہر کی کھائے ہوا بادیہ پیما نہ رہےوہ تو دیوانہ ہے بستی میں رہے یا نہ رہےیہ ضروری ہے حجاب رخ لیلا نہ رہےگلۂ جور نہ ہو شکوۂ بیداد نہ ہوعشق آزاد ہے کیوں حسن بھی آزاد نہ ہوعہد نو برق ہے آتش زن ہر خرمن ہےایمن اس سے کوئی صحرا نہ کوئی گلشن ہےاس نئی آگ کا اقوام کہن ایندھن ہےملت ختم رسل شعلہ بہ پیراہن ہےآج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیداآگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدادیکھ کر رنگ چمن ہو نہ پریشاں مالیکوکب غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والیخس و خاشاک سے ہوتا ہے گلستاں خالیگل بر انداز ہے خون شہدا کی لالیرنگ گردوں کا ذرا دیکھ تو عنابی ہےیہ نکلتے ہوئے سورج کی افق تابی ہےامتیں گلشن ہستی میں ثمر چیدہ بھی ہیںاور محروم ثمر بھی ہیں خزاں دیدہ بھی ہیںسیکڑوں نخل ہیں کاہیدہ بھی بالیدہ بھی ہیںسیکڑوں بطن چمن میں ابھی پوشیدہ بھی ہیںنخل اسلام نمونہ ہے برومندی کاپھل ہے یہ سیکڑوں صدیوں کی چمن بندی کاپاک ہے گرد وطن سے سر داماں تیراتو وہ یوسف ہے کہ ہر مصر ہے کنعاں تیراقافلہ ہو نہ سکے گا کبھی ویراں تیراغیر یک بانگ درا کچھ نہیں ساماں تیرانخل شمع استی و در شعلہ دو ریشۂ توعاقبت سوز بود سایۂ اندیشۂ توتو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سےنشۂ مے کو تعلق نہیں پیمانے سےہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سےپاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سےکشتئ حق کا زمانے میں سہارا تو ہےعصر نو رات ہے دھندلا سا ستارا تو ہےہے جو ہنگامہ بپا یورش بلغاری کاغافلوں کے لیے پیغام ہے بیداری کاتو سمجھتا ہے یہ ساماں ہے دل آزاری کاامتحاں ہے ترے ایثار کا خودداری کاکیوں ہراساں ہے صہیل فرس اعدا سےنور حق بجھ نہ سکے گا نفس اعدا سےچشم اقوام سے مخفی ہے حقیقت تیریہے ابھی محفل ہستی کو ضرورت تیریزندہ رکھتی ہے زمانے کو حرارت تیریکوکب قسمت امکاں ہے خلافت تیریوقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہےنور توحید کا اتمام ابھی باقی ہےمثل بو قید ہے غنچے میں پریشاں ہو جارخت بر دوش ہوائے چمنستاں ہو جاہے تنک مایہ تو ذرے سے بیاباں ہو جانغمۂ موج ہے ہنگامۂ طوفاں ہو جاقوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دےدہر میں اسم محمد سے اجالا کر دےہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہوچمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہویہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہوبزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہوخیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہےنبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہےدشت میں دامن کہسار میں میدان میں ہےبحر میں موج کی آغوش میں طوفان میں ہےچین کے شہر مراقش کے بیابان میں ہےاور پوشیدہ مسلمان کے ایمان میں ہےچشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھےرفعت شان رفعنا لک ذکرک دیکھےمردم چشم زمیں یعنی وہ کالی دنیاوہ تمہارے شہدا پالنے والی دنیاگرمی مہر کی پروردہ ہلالی دنیاعشق والے جسے کہتے ہیں بلالی دنیاتپش اندوز ہے اس نام سے پارے کی طرحغوطہ زن نور میں ہے آنکھ کے تارے کی طرحعقل ہے تیری سپر عشق ہے شمشیر تریمرے درویش خلافت ہے جہانگیر تریما سوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تریتو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تریکی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیںیہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
بجھا جو روزن زنداں تو دل یہ سمجھا ہےکہ تیری مانگ ستاروں سے بھر گئی ہوگیچمک اٹھے ہیں سلاسل تو ہم نے جانا ہےکہ اب سحر ترے رخ پر بکھر گئی ہوگیغرض تصور شام و سحر میں جیتے ہیںگرفت سایۂ دیوار و در میں جیتے ہیں
یہ چمن زار یہ جمنا کا کنارہ یہ محلیہ منقش در و دیوار یہ محراب یہ طاق
اس نے کہاسنعہد نبھانے کی خاطر مت آناعہد نبھانے والے اکثرمجبوری یا مہجوری کی تھکن سے لوٹا کرتے ہیںتم جاؤاور دریا دریا پیاس بجھاؤجن آنکھوں میں ڈوبوجس دل میں اترومیری طلب آواز نہ دے گیلیکن جب میری چاہتاور مری خواہش کی لواتنی تیز اور اتنیاونچی ہو جائےجب دل رو دےتب لوٹ آنا
دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا ربکیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہوشورش سے بھاگتا ہوں دل ڈھونڈتا ہے میراایسا سکوت جس پر تقریر بھی فدا ہومرتا ہوں خامشی پر یہ آرزو ہے میریدامن میں کوہ کے اک چھوٹا سا جھونپڑا ہوآزاد فکر سے ہوں عزلت میں دن گزاروںدنیا کے غم کا دل سے کانٹا نکل گیا ہولذت سرود کی ہو چڑیوں کے چہچہوں میںچشمے کی شورشوں میں باجا سا بج رہا ہوگل کی کلی چٹک کر پیغام دے کسی کاساغر ذرا سا گویا مجھ کو جہاں نما ہوہو ہاتھ کا سرہانا سبزے کا ہو بچھوناشرمائے جس سے جلوت خلوت میں وہ ادا ہومانوس اس قدر ہو صورت سے میری بلبلننھے سے دل میں اس کے کھٹکا نہ کچھ مرا ہوصف باندھے دونوں جانب بوٹے ہرے ہرے ہوںندی کا صاف پانی تصویر لے رہا ہوہو دل فریب ایسا کوہسار کا نظارہپانی بھی موج بن کر اٹھ اٹھ کے دیکھتا ہوآغوش میں زمیں کی سویا ہوا ہو سبزہپھر پھر کے جھاڑیوں میں پانی چمک رہا ہوپانی کو چھو رہی ہو جھک جھک کے گل کی ٹہنیجیسے حسین کوئی آئینہ دیکھتا ہومہندی لگائے سورج جب شام کی دلہن کوسرخی لیے سنہری ہر پھول کی قبا ہوراتوں کو چلنے والے رہ جائیں تھک کے جس دمامید ان کی میرا ٹوٹا ہوا دیا ہوبجلی چمک کے ان کو کٹیا مری دکھا دےجب آسماں پہ ہر سو بادل گھرا ہوا ہوپچھلے پہر کی کوئل وہ صبح کی موذنمیں اس کا ہم نوا ہوں وہ میری ہم نوا ہوکانوں پہ ہو نہ میرے دیر و حرم کا احساںروزن ہی جھونپڑی کا مجھ کو سحر نما ہوپھولوں کو آئے جس دم شبنم وضو کرانےرونا مرا وضو ہو نالہ مری دعا ہواس خامشی میں جائیں اتنے بلند نالےتاروں کے قافلے کو میری صدا درا ہوہر دردمند دل کو رونا مرا رلا دےبے ہوش جو پڑے ہیں شاید انہیں جگا دے
تیرے ہونٹوں کے پھولوں کی چاہت میں ہمدار کی خشک ٹہنی پہ وارے گئےتیرے ہاتوں کی شمعوں کی حسرت میں ہمنیم تاریک راہوں میں مارے گئے
گر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم مرے دوستگر مجھے اس کا یقیں ہو کہ ترے دل کی تھکنتری آنکھوں کی اداسی تیرے سینے کی جلنمیری دل جوئی مرے پیار سے مٹ جائے گیگر مرا حرف تسلی وہ دوا ہو جس سےجی اٹھے پھر ترا اجڑا ہوا بے نور دماغتیری پیشانی سے ڈھل جائیں یہ تذلیل کے داغتیری بیمار جوانی کو شفا ہو جائےگر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم مرے دوستروز و شب شام و سحر میں تجھے بہلاتا رہوںمیں تجھے گیت سناتا رہوں ہلکے شیریںآبشاروں کے بہاروں کے چمن زاروں کے گیتآمد صبح کے، مہتاب کے، سیاروں کے گیتتجھ سے میں حسن و محبت کی حکایات کہوںکیسے مغرور حسیناؤں کے برفاب سے جسمگرم ہاتھوں کی حرارت میں پگھل جاتے ہیںکیسے اک چہرے کے ٹھہرے ہوئے مانوس نقوشدیکھتے دیکھتے یک لخت بدل جاتے ہیںکس طرح عارض محبوب کا شفاف بلوریک بیک بادۂ احمر سے دہک جاتا ہےکیسے گلچیں کے لیے جھکتی ہے خود شاخ گلابکس طرح رات کا ایوان مہک جاتا ہےیونہی گاتا رہوں گاتا رہوں تیری خاطرگیت بنتا رہوں بیٹھا رہوں تیری خاطرپر مرے گیت ترے دکھ کا مداوا ہی نہیںنغمہ جراح نہیں مونس و غم خوار سہیگیت نشتر تو نہیں مرہم آزار سہیتیرے آزار کا چارہ نہیں نشتر کے سوااور یہ سفاک مسیحا مرے قبضے میں نہیںاس جہاں کے کسی ذی روح کے قبضے میں نہیںہاں مگر تیرے سوا تیرے سوا تیرے سوا
مخاطب ہے بندے سے پروردگارتو حسن چمن تو ہی رنگ بہار
اس وقت تو یوں لگتا ہے اب کچھ بھی نہیں ہےمہتاب نہ سورج، نہ اندھیرا نہ سویراآنکھوں کے دریچوں پہ کسی حسن کی چلمناور دل کی پناہوں میں کسی درد کا ڈیراممکن ہے کوئی وہم تھا، ممکن ہے سنا ہوگلیوں میں کسی چاپ کا اک آخری پھیراشاخوں میں خیالوں کے گھنے پیڑ کی شایداب آ کے کرے گا نہ کوئی خواب بسیرااک بَیر، نہ اک مہر، نہ اک ربط نہ رشتہتیرا کوئی اپنا، نہ پرایا کوئی میرا
کچھ اجڑی مانگیں شاموں کیآواز شکستہ جاموں کیکچھ ٹکڑے خالی بوتل کےکچھ گھنگرو ٹوٹی پائل کےکچھ بکھرے تنکے چلمن کےکچھ پرزے اپنے دامن کےیہ تارے کچھ تھرائے ہوئےیہ گیت کبھی کے گائے ہوئےکچھ شعر پرانی غزلوں کےعنوان ادھوری نظموں کےٹوٹی ہوئی اک اشکوں کی لڑیاک خشک قلم اک بند گھڑیمت روکو انہیں پاس آنے دویہ مجھ سے ملنے آئے ہیںمیں خود نہ جنہیں پہچان سکوںکچھ اتنے دھندلے سائے ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books