aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "chole"
کل بازار میں بھیا شافیپینے آئے ٹھنڈی کافیاک دو پیکٹ بسکٹ کھائےٹھونس گئے دو درجن ٹافیآلو چھولے کھا کر بولےبرفی ایک کلو ہے کافیامی جی کی بات نہ مانیابو سے کی وعدہ خلافیایسا کھٹکا پیٹ کا مٹکااللہ معافی اللہ معافیگڈو کا بھی حال سنائیںدودھ پئیں نہ انڈے کھائیںپھل ترکاری ایک نہ بھائےغصے میں بس ہونٹ چبائیںدیکھ کے دسترخوان پہ مچھلیپاؤں پٹختے بھاگے جائیںچاول روٹی گوشت کی بوٹیدیکھیں تو نخرے دکھلائیںدن کا ہو یا رات کا کھاناروئیں پیٹیں شور مچائیںدبلے پتلے روکھے سوکھےبات کرو تو لڑنے آئیںاتنے ہلکے پھلکے سے ہیںفین چلے تو اڑ ہی جائیں
شربت پکوڑے چھولےپھل چاٹ اور سموسےکیا کیا کھلایا رب نےاس کو نہ بھول جانانعمت ہے اس کی ہر شےروزہ رکھا تو جانا
حضرت آدم پہ جو گزری ہے سب کو یاد ہےدانۂ گندم کی زندہ آج تک بیداد ہےآج پھر اولاد آدم پر وہی افتاد ہےاس کا بانی بھی فرشتوں کا وہی استاد ہےدور دورہ آج اس کا چور بازاروں میں ہےماہرین چور بازاری کے غم خواروں میں ہےان میں دیکھا اس کا جلوہ جو ذخیرہ باز ہیںدفن تہہ خانوں میں جن کے بوریوں کے راز ہیںبوریوں سے ملتے جلتے توند کے انداز ہیںاور فریاد و بکا میں سب کے ہم آواز ہیںتوند پر ہے ہاتھ اور فاقوں سے حالت زار ہےان کو ایندھن اس جہنم کے لیے درکار ہےہو گیا بازار سے آٹے کا ایسا انتقالاب کھلے بازار میں آٹے کا ملنا ہے محالاک ذخیرہ باز مولانا نما دوکان دارقوم کے اس ابتلا سے کل بہت تھے بے قرارآہ اس ملت کا کیوں گیہوں پہ ہے دار و مدارکاش کھاتی باجرا یا کاش یہ کھاتی جواراس کے کھانے کے لیے نعمت ہر اک موجود ہےدانۂ گندم بھلا کیوں گوہر مقصود ہےسچ جو پوچھو تو کہوں شیطان کا راشن ہے یہجس نے جنت لوٹ لی انساں کا وہ دشمن ہے یہحیف ہے انسان کر دے اس پر جنت تک نثارسب کو گندم سے بچانا اے مرے پروردگارسینکڑوں من یوں تو گیہوں میرے تہہ خانے میں ہےاور مزا بھی کیا مجھے آزار پہچانے میں ہےمیرے حصہ کی وہی مے ہے جو پیمانے میں ہےہاں مگر دوزخ جو ہے گیہوں کے پروانے میں ہےجس نے گیہوں کھا لیا دوزخ میں گولے کھائے گاجس کو جنت چاہیئے وہ صرف چھولے کھائے گا
جھلک تو دیکھو ہمارے گھر کی یہاں ہیں نانی یہاں ہیں تائیہمارے ماں باپ اور چچا ہیں یہاں ہیں بہنیں یہاں ہیں بھائیہمارا گھر ہے حسین گلشن خوشی کی کلیاں کھلی ہوئی ہیںوفا کی خوشبو بسی ہوئی ہے ہوئی نہ ہوگی یہاں لڑائیہمارے ابو کی دیکھو عظمت ہر ایک کرتا ہے ان کی عزتنظر میں ان کی ہیں سب برابر انہیں سے ملتی ہے رہنمائیکما رہے ہیں حلال روزی بنا دیا ہے ہمیں نمازیانہیں سے گھر میں ہے خیروبرکت کسی کی کرتے نہیں برائیہماری امی ہیں نیک سیرت ہمیں ملی ہے انہیں سے راحتسدا کچن میں ہے کام ان کا پکا رہی ہیں چکن فرائیلبوں پہ ان کے سدا تبسم زبان ان کی ہے خوب شیریںنہیں ہے کاموں سے ان کو فرصت کبھی صفائی کبھی سلائیہمیں ہے ان سے دلی محبت انہیں کے قدموں تلے ہے جنتبڑی محبت سے پرورش کی ہے ان کی فطرت میں پارسائیعجیب شے ہیں چچا ہمارے نہیں کسی کی سمجھ میں آئےلیے ہیں پیالے میں مرغ چھولے اسی میں ڈالی ہے رس ملائیجو موڈ ہو تو سنائیں نامہ ٹھمک ٹھمک کر بجائیں طبلہگئے وہ اک روز چھت کے اوپر وہاں چچا نے پتنگ اڑائیمدد وہ امی کی کر رہے ہیں توے پہ چمچہ چلا رہے ہیںسویرے اٹھ کر چچا ہمارے گلی کی کرتے ہیں خود صفائیوہ سیر کرنے گئے ہیں باہر پہن کے بنیان اور لنگوٹیبڑی سی پگڑی ہے سر کے اوپر لٹک رہی ہے گلے سے ٹائیبڑی ہیں سب سے ہماری نانی سناتی ہیں وہ ہمیں کہانیزباں پہ ذکر خدا ہے جاری ٹھکانا ان کا ہے چارپائیڈکارتی ہیں ہماری تائی ہمیشہ پیتی ہیں وہ دوائیبڑا سا تکیہ ہے سر کے نیچے بدن کے اوپر ہے اک رضائیبڑی بہن کا ہے نام رضیہ وہ ناولوں کی بہت ہے رسیاکشیدہ کاری میں ہے مہارت مزے سے کھاتی ہے وہ مٹھائیبہن ثریا نے لایا گڈا بہن رقیہ نے لائی گڑیاسہیلیوں کو بلا کے شادی خوشی سے دالان میں رچائیہمارا انور ہے دس برس کا مصوری سے اسے ہے رغبتبنا کے تصویر جب دکھائی تو بھائی بہنوں سے داد پائیہے سب سے چھوٹا میاں منور مگر ہے تعلیم سے محبتدوات لے کر وہ لکھ رہا تھا گرا دی کپڑوں پہ روشنائیذرا سا اپنا بھی حال کہہ دوں میں ایک کالج میں پڑھ رہا ہوںکتاب سے میری دوستی ہے کبھی نہ چھوڑوں گا میں پڑھائی
ٹکیاں یہ آلوؤں کی اس پر مزے کے چھولےلذت جو ان کی پائے گونگا زبان کھولے
جادوگر کو آ گیا جوشانڈوں سے نکلے خرگوشخرگوشوں نے بھری کلیلیہ دیکھو جادو کا کھیلکھا کر مٹھی بھر چھولےمنہ سے نکالے دس گولےگولوں سے نکلی اک ریلیہ دیکھو جادو کا کھیلکرسی پر ڈالی چادرکرسی بن گئی اک بندربندر پی گیا نو من تیلیہ دیکھو جادو کا کھیلڈال کے اک کمبل سر پرغائب ہو گیا جادوگرڈھونڈتے رہ گئے بھائی سہیلیہ دیکھو جادو کا کھیل
خالی گلاس کے مقدر میںہونٹوں کا لمس ہاتھوں کی نرمی کہاںشبنم روتی ہے اسے فنا کا غم ہےلمس کی قیمت کا احساس نہیں ہے اس کوپھولوں کی آغوش میں موت بھیحسین ہو جاتی ہے زندگی کی طرحخوش قسمت ہیں وہ لفافےجن پر ثبت ہوتی ہے مہرحسین لبوں کیمجھے بھی کوئی چھولےمجھے بھی کوئی پی لےمیں پھر ٹوٹ پھوٹ جاؤں گاخالی گلاس کے مقدر میں مگرہونٹوں کا لمس ہاتھوں کی نرمی کہاں
کل بازار میں بھیا شافیپینے آئے ٹھنڈی کافیاک دو پیکٹ بسکٹ کھائےٹھونس گئے دو درجن ٹافیآلو چھولے کھا کر بولےبرفی ایک کلو ہے کافیامی جی کی بات نہ مانیابو سے کی وعدہ خلافیپیٹ ہوا آپے سے باہرسہما کر سب نا انصافیایسا کھٹکا پیٹ کا مٹکااللہ معافی اللہ معافی
بم اسلحہ اور بارود کے چولے پہن کرہم سرپھرے تہذیب و تمدن کے لیےہیں گشت میں ایسےجیسے کہ یہ بم اور بارودہوں سب ہی مسائل کا حلجیسے ہوں یہی عظمت انساں کے محافظجیسے کہ مرے امن و اماںہو ان کے کرم پرجیسے کہ مرے باغ بہاراں کی حفاظتہو ان کی عنایتجیسے کہ حسیں پھولوں کی عصمت کے لئےاب موسم گل میں بھیگولی بم اور بندوقہو نعمت
نہ یہ کہ وہ چلے تو کہکشاں سی رہ گزر لگےمگر وہ ساتھ ہو تو پھر بھلا بھلا سفر لگے
کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوںفکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوںنالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوںہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوںجرأت آموز مری تاب سخن ہے مجھ کوشکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کوہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہمقصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہمساز خاموش ہیں فریاد سے معمور ہیں ہمنالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہماے خدا شکوۂ ارباب وفا بھی سن لےخوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لےتھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات قدیمپھول تھا زیب چمن پر نہ پریشاں تھی شمیمشرط انصاف ہے اے صاحب الطاف عمیمبوئے گل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیمہم کو جمعیت خاطر یہ پریشانی تھیورنہ امت ترے محبوب کی دیوانی تھیہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظرکہیں مسجود تھے پتھر کہیں معبود شجرخوگر پیکر محسوس تھی انساں کی نظرمانتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کو کیونکرتجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام تراقوت بازوئے مسلم نے کیا کام ترابس رہے تھے یہیں سلجوق بھی تورانی بھیاہل چیں چین میں ایران میں ساسانی بھیاسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھیاسی دنیا میں یہودی بھی تھے نصرانی بھیپر ترے نام پہ تلوار اٹھائی کس نےبات جو بگڑی ہوئی تھی وہ بنائی کس نےتھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میںخشکیوں میں کبھی لڑتے کبھی دریاؤں میںدیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میںکبھی ایفریقا کے تپتے ہوئے صحراؤں میںشان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کیکلمہ پڑھتے تھے ہمیں چھاؤں میں تلواروں کیہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مصیبت کے لیےاور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لیےتھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیےسر بکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لیےقوم اپنی جو زرو و مال جہاں پر مرتیبت فروشی کے عوض بت شکنی کیوں کرتیٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھےپاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھےتجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھےتیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھےنقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نےزیر خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نےتو ہی کہہ دے کہ اکھاڑا در خیبر کس نےشہر قیصر کا جو تھا اس کو کیا سر کس نےتوڑے مخلوق خدا وندوں کے پیکر کس نےکاٹ کر رکھ دئیے کفار کے لشکر کس نےکس نے ٹھنڈا کیا آتشکدۂ ایراں کوکس نے پھر زندہ کیا تذکرۂ یزداں کوکون سی قوم فقط تیری طلب گار ہوئیاور تیرے لیے زحمت کش پیکار ہوئیکس کی شمشیر جہانگیر جہاں دار ہوئیکس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئیکس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھےمنہ کے بل گر کے ہو اللہ احد کہتے تھےآ گیا عین لڑائی میں اگر وقت نمازقبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی ہوئی قوم حجازایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایازنہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نوازبندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئےتیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئےمحفل کون و مکاں میں سحر و شام پھرےمئے توحید کو لے کر صفت جام پھرےکوہ میں دشت میں لے کر ترا پیغام پھرےاور معلوم ہے تجھ کو کبھی ناکام پھرےدشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نےبحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا ہم نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نےتیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نےتیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نےپھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیںہم وفادار نہیں تو بھی تو دل دار نہیںامتیں اور بھی ہیں ان میں گنہ گار بھی ہیںعجز والے بھی ہیں مست مئے پندار بھی ہیںان میں کاہل بھی ہیں غافل بھی ہیں ہشیار بھی ہیںسیکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بے زار بھی ہیںرحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پربرق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پربت صنم خانوں میں کہتے ہیں مسلمان گئےہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئےمنزل دہر سے اونٹوں کے حدی خوان گئےاپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئےخندہ زن کفر ہے احساس تجھے ہے کہ نہیںاپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیںیہ شکایت نہیں ہیں ان کے خزانے معمورنہیں محفل میں جنہیں بات بھی کرنے کا شعورقہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حور و قصوراور بے چارے مسلماں کو فقط وعدۂ حوراب وہ الطاف نہیں ہم پہ عنایات نہیںبات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیںکیوں مسلمانوں میں ہے دولت دنیا نایابتیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ حسابتو جو چاہے تو اٹھے سینۂ صحرا سے حبابرہرو دشت ہو سیلی زدۂ موج سرابطعن اغیار ہے رسوائی ہے ناداری ہےکیا ترے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہےبنی اغیار کی اب چاہنے والی دنیارہ گئی اپنے لیے ایک خیالی دنیاہم تو رخصت ہوئے اوروں نے سنبھالی دنیاپھر نہ کہنا ہوئی توحید سے خالی دنیاہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں ترا نام رہےکہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے جام رہےتیری محفل بھی گئی چاہنے والے بھی گئےشب کی آہیں بھی گئیں صبح کے نالے بھی گئےدل تجھے دے بھی گئے اپنا صلہ لے بھی گئےآ کے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئےآئے عشاق گئے وعدۂ فردا لے کراب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کردرد لیلیٰ بھی وہی قیس کا پہلو بھی وہینجد کے دشت و جبل میں رم آہو بھی وہیعشق کا دل بھی وہی حسن کا جادو بھی وہیامت احمد مرسل بھی وہی تو بھی وہیپھر یہ آرزدگئ غیر سبب کیا معنیاپنے شیداؤں پہ یہ چشم غضب کیا معنیتجھ کو چھوڑا کہ رسول عربی کو چھوڑابت گری پیشہ کیا بت شکنی کو چھوڑاعشق کو عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑارسم سلمان و اویس قرنی کو چھوڑاآگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیںزندگی مثل بلال حبشی رکھتے ہیںعشق کی خیر وہ پہلی سی ادا بھی نہ سہیجادہ پیمائی تسلیم و رضا بھی نہ سہیمضطرب دل صفت قبلہ نما بھی نہ سہیاور پابندی آئین وفا بھی نہ سہیکبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہےبات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہرجائی ہےسر فاراں پہ کیا دین کو کامل تو نےاک اشارے میں ہزاروں کے لیے دل تو نےآتش اندوز کیا عشق کا حاصل تو نےپھونک دی گرمئ رخسار سے محفل تو نےآج کیوں سینے ہمارے شرر آباد نہیںہم وہی سوختہ ساماں ہیں تجھے یاد نہیںوادیٔ نجد میں وہ شور سلاسل نہ رہاقیس دیوانۂ نظارۂ محمل نہ رہاحوصلے وہ نہ رہے ہم نہ رہے دل نہ رہاگھر یہ اجڑا ہے کہ تو رونق محفل نہ رہااے خوشا آں روز کہ آئی و بصد ناز آئیبے حجابانہ سوئے محفل ما باز آئیبادہ کش غیر ہیں گلشن میں لب جو بیٹھےسنتے ہیں جام بکف نغمۂ کو کو بیٹھےدور ہنگامۂ گلزار سے یکسو بیٹھےتیرے دیوانے بھی ہیں منتظر ہو بیٹھےاپنے پروانوں کو پھر ذوق خود افروزی دےبرق دیرینہ کو فرمان جگر سوزی دےقوم آوارہ عناں تاب ہے پھر سوئے حجازلے اڑا بلبل بے پر کو مذاق پروازمضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بوئے نیازتو ذرا چھیڑ تو دے تشنۂ مضراب ہے سازنغمے بیتاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لیےطور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لیےمشکلیں امت مرحوم کی آساں کر دےمور بے مایہ کو ہمدوش سلیماں کر دےجنس نایاب محبت کو پھر ارزاں کر دےہند کے دیر نشینوں کو مسلماں کر دےجوئے خوں می چکد از حسرت دیرینۂ مامی تپد نالہ بہ نشتر کدۂ سینۂ مابوئے گل لے گئی بیرون چمن راز چمنکیا قیامت ہے کہ خود پھول ہیں غماز چمنعہد گل ختم ہوا ٹوٹ گیا ساز چمناڑ گئے ڈالیوں سے زمزمہ پرداز چمنایک بلبل ہے کہ ہے محو ترنم اب تکاس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب تکقمریاں شاخ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئیںپتیاں پھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیںوہ پرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیںڈالیاں پیرہن برگ سے عریاں بھی ہوئیںقید موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کیکاش گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کیلطف مرنے میں ہے باقی نہ مزہ جینے میںکچھ مزہ ہے تو یہی خون جگر پینے میںکتنے بیتاب ہیں جوہر مرے آئینے میںکس قدر جلوے تڑپتے ہیں مرے سینے میںاس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیںداغ جو سینے میں رکھتے ہوں وہ لالے ہی نہیںچاک اس بلبل تنہا کی نوا سے دل ہوںجاگنے والے اسی بانگ درا سے دل ہوںیعنی پھر زندہ نئے عہد وفا سے دل ہوںپھر اسی بادۂ دیرینہ کے پیاسے دل ہوںعجمی خم ہے تو کیا مے تو حجازی ہے مرینغمہ ہندی ہے تو کیا لے تو حجازی ہے مری
دیپ جس کا محلات ہی میں جلےچند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلےوہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلےایسے دستور کو صبح بے نور کومیں نہیں مانتا میں نہیں جانتا
میں پل دو پل کا شاعر ہوں پل دو پل مری کہانی ہےپل دو پل میری ہستی ہے پل دو پل مری جوانی ہےمجھ سے پہلے کتنے شاعر آئے اور آ کر چلے گئےکچھ آہیں بھر کر لوٹ گئے کچھ نغمے گا کر چلے گئےوہ بھی اک پل کا قصہ تھے میں بھی اک پل کا قصہ ہوںکل تم سے جدا ہو جاؤں گا گو آج تمہارا حصہ ہوںپل دو پل میں کچھ کہہ پایا اتنی ہی سعادت کافی ہےپل دو پل تم نے مجھ کو سنا اتنی ہی عنایت کافی ہےکل اور آئیں گے نغموں کی کھلتی کلیاں چننے والےمجھ سے بہتر کہنے والے تم سے بہتر سننے والےہر نسل اک فصل ہے دھرتی کی آج اگتی ہے کل کٹتی ہےجیون وہ مہنگی مدرا ہے جو قطرہ قطرہ بٹتی ہےساگر سے ابھری لہر ہوں میں ساگر میں پھر کھو جاؤں گامٹی کی روح کا سپنا ہوں مٹی میں پھر سو جاؤں گاکل کوئی مجھ کو یاد کرے کیوں کوئی مجھ کو یاد کرےمصروف زمانہ میرے لیے کیوں وقت اپنا برباد کرے
نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاںچلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلےجو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلےنظر چرا کے چلے جسم و جاں بچا کے چلےہے اہل دل کے لیے اب یہ نظم بست و کشادکہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد
یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحروہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیںیہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کرچلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیںفلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزلکہیں تو ہوگا شب سست موج کا ساحلکہیں تو جا کے رکے گا سفینۂ غم دلجواں لہو کی پر اسرار شاہراہوں سےچلے جو یار تو دامن پہ کتنے ہاتھ پڑےدیار حسن کی بے صبر خواب گاہوں سےپکارتی رہیں باہیں بدن بلاتے رہےبہت عزیز تھی لیکن رخ سحر کی لگنبہت قریں تھا حسینان نور کا دامنسبک سبک تھی تمنا دبی دبی تھی تھکن
جب گھلی تیری راہوں میں شام ستمہم چلے آئے لائے جہاں تک قدملب پہ حرف غزل دل میں قندیل غماپنا غم تھا گواہی ترے حسن کیدیکھ قائم رہے اس گواہی پہ ہمہم جو تاریک راہوں پہ مارے گئے
ہدف ہوں گے تمہارا کون تم کس کے ہدف ہوگےنہ جانے وقت کی پیکار میں تم کس طرف ہوگےہے رن یہ زندگی اک رن جو برپا لمحہ لمحہ ہےہمیں اس رن میں کچھ بھی ہو کسی جانب تو ہونا ہےسو ہم بھی اس نفس تک ہیں سپاہی ایک لشکر کےہزاروں سال سے جیتے چلے آئے ہیں مر مر کےشہود اک فن ہے اور میری عداوت بے فنوں سے ہےمری پیکار ازل سےیہ خسروؔ میرؔ غالبؔ کا خرابہ بیچتا کیا ہےہمارا غالبؔ اعظم تھا چور آقائے بیدلؔ کاسو رزق فخر اب ہم کھا رہے ہیں میرؔ بسمل کاسدھارت بھی تھا شرمندہ کہ دو آبے کا باسی تھاتمہیں معلوم ہے اردو جو ہے پالی سے نکلی ہےوہ گویا اس کی ہی اک پر نمو ڈالی سے نکلی ہے
تمہاری قبر پرمیں فاتحہ پڑھنے نہیں آیامجھے معلوم تھاتم مر نہیں سکتےتمہاری موت کی سچی خبر جس نے اڑائی تھیوہ جھوٹا تھاوہ تم کب تھےکوئی سوکھا ہوا پتہ ہوا سے مل کے ٹوٹا تھامری آنکھیںتمہارے منظروں میں قید ہیں اب تکمیں جو بھی دیکھتا ہوںسوچتا ہوںوہ وہی ہےجو تمہاری نیک نامی اور بد نامی کی دنیا تھیکہیں کچھ بھی نہیں بدلاتمہارے ہاتھ میری انگلیوں میں سانس لیتے ہیںمیں لکھنے کے لیےجب بھی قلم کاغذ اٹھاتا ہوںتمہیں بیٹھا ہوا میں اپنی ہی کرسی میں پاتا ہوںبدن میں میرے جتنا بھی لہو ہےوہ تمہاریلغزشوں ناکامیوں کے ساتھ بہتا ہےمری آواز میں چھپ کرتمہارا ذہن رہتا ہےمری بیماریوں میں تممری لاچاریوں میں تمتمہاری قبر پر جس نے تمہارا نام لکھا ہےوہ جھوٹا ہےتمہاری قبر میں میں دفن ہوںتم مجھ میں زندہ ہوکبھی فرصت ملے تو فاتحہ پڑھنے چلے آنا
اب پاؤں کھڑاؤں دھول بھریاور جسم پہ جوگ کا چولا ہےسب سنگی ساتھی بھید بھرےکوئی ماسہ ہے کوئی تولا ہےاس تاک میں یہ اس گھات میں وہہر اور ٹھگوں کا ٹولا ہے
دیکھوں جو آسماں سے تو اتنی بڑی زمیںاتنی بڑی زمین پہ چھوٹا سا ایک شہرچھوٹے سے ایک شہر میں سڑکوں کا ایک جالسڑکوں کے جال میں چھپی ویران سی گلیویراں گلی کے موڑ پہ تنہا سا اک شجرتنہا شجر کے سائے میں چھوٹا سا اک مکانچھوٹے سے اک مکان میں کچی زمیں کا صحنکچی زمیں کے صحن میں کھلتا ہوا گلابکھلتے ہوئے گلاب میں مہکا ہوا بدنمہکے ہوئے بدن میں سمندر سا ایک دلاس دل کی وسعتوں میں کہیں کھو گیا ہوں میںیوں ہے کہ اس زمیں سے بڑا ہو گیا ہوں میں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books