aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "daadaa"
نہیں معلوم زریونؔ اب تمہاری عمر کیا ہوگیوہ کن خوابوں سے جانے آشنا نا آشنا ہوگیتمہارے دل کے اس دنیا سے کیسے سلسلے ہوں گےتمہیں کیسے گماں ہوں گے تمہیں کیسے گلے ہوں گےتمہاری صبح جانے کن خیالوں سے نہاتی ہوتمہاری شام جانے کن ملالوں سے نبھاتی ہونہ جانے کون دوشیزہ تمہاری زندگی ہوگینہ جانے اس کی کیا بایستگی شائستگی ہوگیاسے تم فون کرتے اور خط لکھتے رہے ہو گےنہ جانے تم نے کتنی کم غلط اردو لکھی ہوگییہ خط لکھنا تو دقیانوس کی پیڑھی کا قصہ ہےیہ صنف نثر ہم نابالغوں کے فن کا حصہ ہےوہ ہنستی ہو تو شاید تم نہ رہ پاتے ہو حالوں میںگڑھا ننھا سا پڑ جاتا ہو شاید اس کے گالوں میںگماں یہ ہے تمہاری بھی رسائی نارسائی ہووہ آئی ہو تمہارے پاس لیکن آ نہ پائی ہووہ شاید مائدے کی گند بریانی نہ کھاتی ہووہ نان بے خمیر میدہ کم تر ہی چباتی ہووہ دوشیزہ بھی شاید داستانوں کی ہو دل دادہاسے معلوم ہوگا زالؔ تھا سہرابؔ کا داداتہمتن یعنی رستمؔ تھا گرامی سامؔ کا وارثگرامی سامؔ تھا صلب نر مانیؔ کا خوش زادہ(یہ میری ایک خواہش ہے جو مشکل ہے)وہ نجمؔ آفندی مرحوم کو تو جانتی ہوگیوہ نوحوں کے ادب کا طرز تو پہچانتی ہوگیاسے کد ہوگی شاید ان سبھی سے جو لپاڑی ہوںنہ ہوں گے خواب اس کا جو گویے اور کھلاڑی ہوں
نانی کے میاں تو نانا ہیںدادی کے میاں بھی دادا ہیںجب آپا سے میں نے یہ پوچھاباجی کے میاں کیا باجا ہیںوہ ہنس ہنس کر یہ کہنے لگیںاے بھائی نہیں اے بھائی نہیں
یہ شاخسار کے جھولوں میں پینگ پڑتے ہوئےیہ لاکھوں پتیوں کا ناچنا یہ رقص نباتیہ بے خودئ مسرت یہ والہانہ رقصیہ تال سم یہ چھما چھم کہ کان بجتے ہیںہوا کے دوش پہ کچھ اودی اودی شکلوں کینشے میں چور سی پرچھائیاں تھرکتی ہوئیافق پہ ڈوبتے دن کی جھپکتی ہیں آنکھیںخموش سوز دروں سے سلگ رہی ہے یہ شام!مرے مکان کے آگے ہے ایک چوڑا صحن وسیعکبھی وہ ہنستا نظر آتا ہے کبھی وہ اداساسی کے بیچ میں ہے ایک پیڑ پیپل کاسنا ہے میں نے بزرگوں سے یہ کہ عمر اس کیجو کچھ نہ ہوگی تو ہوگی قریب چھیانوے سالچھڑی تھی ہند میں جب پہلی جنگ آزادیجسے دبانے کے بعد اس کو غدر کہنے لگےیہ اہل ہند بھی ہوتے ہیں کس قدر معصوموہ دار و گیر وہ آزادیٔ وطن کی جنگوطن سے تھی کہ غنیم وطن سے غداریبپھر گئے تھے ہمارے وطن کے پیر و جواںدیار ہند میں رن پڑ گیا تھا چار طرفاسی زمانے میں کہتے ہیں میرے دادا نےجب ارض ہند سنچی خون سے ''سپوتوں'' کےمیان صحن لگایا تھا لا کے اک پوداجو آب و آتش و خاک و ہوا سے پلتا ہواخود اپنے قد سے بہ جوش نمو نکلتا ہوافسون روح بناتی رگوں میں چلتا ہوانگاہ شوق کے سانچوں میں روز ڈھلتا ہواسنا ہے راویوں سے دیدنی تھی اس کی اٹھانہر اک کے دیکھتے ہی دیکھتے چڑھا پروانوہی ہے آج یہ چھتنار پیڑ پیپل کاوہ ٹہنیوں کے کمنڈل لئے جٹادھاریزمانہ دیکھے ہوئے ہے یہ پیڑ بچپن سےرہی ہے اس کے لئے داخلی کشش مجھ میںرہا ہوں دیکھتا چپ چاپ دیر تک اس کومیں کھو گیا ہوں کئی بار اس نظارے میںوہ اس کی گہری جڑیں تھیں کہ زندگی کی جڑیں؟پس سکون شجر کوئی دل دھڑکتا تھامیں دیکھتا تھا اسے ہستیٔ بشر کی طرحکبھی اداس کبھی شادماں کبھی گمبھیرفضا کا سرمئی رنگ اور ہو چلا گہراگھلا گھلا سا فلک ہے دھواں دھواں سی ہے شامہے جھٹپٹا کہ کوئی اژدہا ہے مائل خوابسکوت شام میں درماندگی کا عالم ہےرکی رکی سی کسی سوچ میں ہے موج صبا
کاٹ لینا ہر کٹھن منزل کا کچھ مشکل نہیںاک ذرا انسان میں چلنے کی ہمت چاہئےمل نہیں سکتی نکموں کو زمانے میں مرادکامیابی کی جو خواہش ہو تو محنت چاہئےخاک محنت ہو سکے گی ہو نہ جب ہاتھوں میں زورتندرستی کے لئے ورزش کی عادت چاہئےخوش مزاجی سا زمانے میں کوئی جادو نہیںہر کوئی تحسیں کہے ایسی طبیعت چاہئےہنس کے ملنا رام کر لینا ہر ہر انسان کوسب سے میٹھا بولنے کی تم کو عادت چاہئےایک ہی اللہ کے بندے ہیں سب چھوٹے بڑےاپنے ہم جنسوں سے دنیا میں محبت چاہئےہے برائی ہی برائی کام کل پر چھوڑناآج سب کچھ کر کے اٹھو گر فراغت چاہئےجو بروں کے پاس بیٹھے گا برا ہو جائے گانیک ہونے کے لئے نیکوں کی صحبت چاہئےساتھ والے دیکھنا تم سے نہ بڑھ جائیں کہیںجوش ایسا چاہئے ایسی حمیت چاہئےحکمراں ہو کوئی اپنا ہو یا بیگانہدی خدا نے جس کو عزت اس کی عزت چاہئےدیکھ کر چلنا کچل جائے نہ چیونٹی راہ میںآدمی کو بے زبانوں سے بھی الفت چاہئےہے اسی میں بھید عزت کا اگر سمجھے کوئیچھوٹے بچوں کو بزرگوں کی اطاعت چاہئےعلم کہتے ہیں جسے سب سے بڑی دولت ہے یہڈھونڈ لو اس کو اگر دنیا میں عزت چاہئےسب برا کہتے ہیں لڑنے کو بری عادت ہے یہساتھ کے لڑکے جو ہوں ان سے رفاقت چاہئےہوں جماعت میں شرارت کرنے والے بھی اگردور کی ان سے فقط صاحب سلامت چاہئےدیکھنا آپس میں پھر نفرت نہ ہو جائے کہیںاس قدر حد سے زیادہ بھی نہ ملت چاہئےباپ دادا کی بڑائی پہ نہ اترانا کبھیآدمی کو اپنے کاموں کی شرافت چاہئےگر کتابیں ہو گئیں میلی تو کیا پڑھنے کا لطفکام کی چیزیں ہیں جو ان کی حفاظت چاہئے
کون سا اسٹیشن ہے؟ڈاسنہ ہے صاحب جیآپ کو اترنا ہے؟''جی نہیں، نہیں،'' لیکنڈاسنہ تو تھا ہی وہمیرے ساتھ قیصر ؔتھییہ بڑی بڑی آنکھیںاک تلاش میں کھوئیرات بھر نہیں سوئیجب میں اس کو پہنچانےاس اجاڑ بستی میںساتھ لے کے آیا تھامیں نے ان سے پھر پوچھاآپ مستقل شایدڈاسنہ میں رہتے ہیں؟''جی یہاں پہ کچھ میریسوت کی دکانیں ہیںکچھ طعام خانے ہیں''میں سنا کیا بیٹھابولتا رہا وہ شخص''کچھ زمین داری ہےمیرے باپ دادا نےکچھ مکان چھوڑے تھےان کو بیچ کر میں نےکاروبار کھولا ہےاس حقیر بستی میںکون آ کے رہتا تھالیکن اب یہی بستیبمبئی ہے دلی ہےقیمتیں زمینوں کیاتنی بڑھ گئیں صاحباک زمین ہی کیا ہےکھانے پینے کی چیزیںعام جینے کی چیزیںبھاؤ دس گنے ہیں اب''بولتا رہا وہ شخص''اس قدر گرانی ہےآگ لگ گئی جیسےآسمان حد ہے بس''میں نے چونک کر پوچھاآسماں محل تھا اکسیدوں کی بستی میںآسماں نہیں صاحباب محل کہاں ہوگا؟ہنس پڑا یہ کہہ کر وہمیرے ذہن میں اس کیبات پے بہ پے گونجی
ہم نے بکری کے بچوں کو کمروں میں نچانا چھوڑ دیاناراض نہ ہو امی ہم نے ہر شوق پرانا چھوڑ دیاڈیڈی کے سوٹ پہن کر ہم صوفوں پر ڈانس نہیں کرتےسارے گھر کی بنیادوں کو اب ہم نے ہلانا چھوڑ دیادادا ابا کا اب چشمہ بکرے کو نہیں پہناتے ہمنانا ابا کی لٹھیا اب ہم نے چھپانا چھوڑ دیابندر کو سہرا باندھ کے ہم دولہا نہ بنائیں گے امیاب گھونگھٹ کاڑھ بندریا کو ڈولی میں بٹھانا چھوڑ دیاندیا کے گہرے پانی میں کھائے نہ کئی دن سے غوطےگھر ہی میں پڑے اب سڑتے ہیں ندیا پہ نہانا چھوڑ دیااب صبر کے میٹھے پھل آہیں بھر بھر کر کھاتے ہیںمالن کو بنا بیٹھے خالہ مالی کو رلانا چھوڑ دیاگھر میں بیٹھے سادھو بن کر اب علم کی مالا جپتے ہیںخرگوشوں کے پیچھے جنگل میں کتوں کو بھگانا چھوڑ دیاپنجروں میں بند جو رہتی تھیں وہ پھر سے اڑا دیں سب چڑیاںمرغوں میں صلح کراتے ہیں مرغوں کو لڑانا چھوڑ دیااب ہم نے کبھی کھانا کھا کر کپڑوں سے ہاتھ نہیں پونچھےدیکھو کئی دن سے دھوبی نے رونا چلانا چھوڑ دیاہر ایک بغاوت چھوڑی ہے ہر ایک شرارت رخصت ہےاب گھر میں فرشتے آتے ہیں شیطان نے آنا چھوڑ دیاہم سے پھر بھی ناراض ہو کیوں کیا تم سوتیلی امی ہواپنے ان پیارے بچوں کو اب منہ بھی لگانا چھوڑ دیاجن آنکھوں میں روز شرارت تھی ان آنکھوں میں آنسو اب دیکھوان آپ کی پیاری آنکھوں کو اب ہم نے رلانا چھوڑ دیاہے گھر کی فضا سہمی سہمی غمگین ہیں بچوں کے چہرےکب ہنس کے کہوں گی اے بچو کیوں ہم کو ستانا چھوڑ دیا
آسماں بادل کا پہنے خرقۂ دیرینہ ہےکچھ مکدر سا جبین ماہ کا آئینہ ہےچاندنی پھیکی ہے اس نظارۂ خاموش میںصبح صادق سو رہی ہے رات کی آغوش میںکس قدر اشجار کی حیرت فزا ہے خامشیبربط قدرت کی دھیمی سی نوا ہے خامشیباطن ہر ذرۂ عالم سراپا درد ہےاور خاموشی لب ہستی پہ آہ سرد ہےآہ جولاں گاہ عالمگیر یعنی وہ حصاردوش پر اپنے اٹھائے سیکڑوں صدیوں کا بارزندگی سے تھا کبھی معمور اب سنسان ہےیہ خموشی اس کے ہنگاموں کا گورستان ہےاپنے سکان کہن کی خاک کا دل دادہ ہےکوہ کے سر پر مثال پاسباں استادہ ہےابر کے روزن سے وہ بالائے بام آسماںناظر عالم ہے نجم سبز فام آسماںخاک بازی وسعت دنیا کا ہے منظر اسےداستاں ناکامئ انساں کی ہے ازبر اسےہے ازل سے یہ مسافر سوئے منزل جا رہاآسماں سے انقلابوں کا تماشا دیکھتاگو سکوں ممکن نہیں عالم میں اختر کے لیےفاتحہ خوانی کو یہ ٹھہرا ہے دم بھر کے لیےرنگ و آب زندگی سے گل بدامن ہے زمیںسیکڑوں خوں گشتہ تہذیبوں کا مدفن ہے زمیںخواب گہ شاہوں کی ہے یہ منزل حسرت فزادیدۂ عبرت خراج اشک گلگوں کر اداہے تو گورستاں مگر یہ خاک گردوں پایہ ہےآہ اک برگشتہ قسمت قوم کا سرمایہ ہےمقبروں کی شان حیرت آفریں ہے اس قدرجنبش مژگاں سے ہے چشم تماشا کو حذرکیفیت ایسی ہے ناکامی کی اس تصویر میںجو اتر سکتی نہیں آئینۂ تحریر میںسوتے ہیں خاموش آبادی کے ہنگاموں سے دورمضطرب رکھتی تھی جن کو آرزوئے ناصبورقبر کی ظلمت میں ہے ان آفتابوں کی چمکجن کے دروازوں پہ رہتا ہے جبیں گستر فلککیا یہی ہے ان شہنشاہوں کی عظمت کا مآلجن کی تدبیر جہانبانی سے ڈرتا تھا زوالرعب فغفوری ہو دنیا میں کہ شان قیصریٹل نہیں سکتی غنیم موت کی یورش کبھیبادشاہوں کی بھی کشت عمر کا حاصل ہے گورجادۂ عظمت کی گویا آخری منزل ہے گورشورش بزم طرب کیا عود کی تقریر کیادردمندان جہاں کا نالۂ شب گیر کیاعرصۂ پیکار میں ہنگامۂ شمشیر کیاخون کو گرمانے والا نعرۂ تکبیر کیااب کوئی آواز سوتوں کو جگا سکتی نہیںسینۂ ویراں میں جان رفتہ آ سکتی نہیںروح مشت خاک میں زحمت کش بیداد ہےکوچہ گرد نے ہوا جس دم نفس فریاد ہےزندگی انساں کی ہے مانند مرغ خوش نواشاخ پر بیٹھا کوئی دم چہچہایا اڑ گیاآہ کیا آئے ریاض دہر میں ہم کیا گئےزندگی کی شاخ سے پھوٹے کھلے مرجھا گئےموت ہر شاہ و گدا کے خواب کی تعبیر ہےاس ستم گر کا ستم انصاف کی تصویر ہےسلسلہ ہستی کا ہے اک بحر نا پیدا کناراور اس دریائے بے پایاں کی موجیں ہیں مزاراے ہوس خوں رو کہ ہے یہ زندگی بے اعتباریہ شرارے کا تبسم یہ خس آتش سوارچاند جو صورت گر ہستی کا اک اعجاز ہےپہنے سیمابی قبا محو خرام ناز ہےچرخ بے انجم کی دہشت ناک وسعت میں مگربیکسی اس کی کوئی دیکھے ذرا وقت سحراک ذرا سا ابر کا ٹکڑا ہے جو مہتاب تھاآخری آنسو ٹپک جانے میں ہو جس کی فنازندگی اقوام کی بھی ہے یوں ہی بے اعتباررنگ ہائے رفتہ کی تصویر ہے ان کی بہاراس زیاں خانے میں کوئی ملت گردوں وقاررہ نہیں سکتی ابد تک بار دوش روزگاراس قدر قوموں کی بربادی سے ہے خوگر جہاںدیکھتا بے اعتنائی سے ہے یہ منظر جہاںایک صورت پر نہیں رہتا کسی شے کو قرارذوق جدت سے ہے ترکیب مزاج روزگارہے نگین دہر کی زینت ہمیشہ نام نومادر گیتی رہی آبستن اقوام نوہے ہزاروں قافلوں سے آشنا یہ رہ گزرچشم کوہ نور نے دیکھے ہیں کتنے تاجورمصر و بابل مٹ گئے باقی نشاں تک بھی نہیںدفتر ہستی میں ان کی داستاں تک بھی نہیںآ دبایا مہر ایراں کو اجل کی شام نےعظمت یونان و روما لوٹ لی ایام نےآہ مسلم بھی زمانے سے یوں ہی رخصت ہواآسماں سے ابر آزاری اٹھا برسا گیاہے رگ گل صبح کے اشکوں سے موتی کی لڑیکوئی سورج کی کرن شبنم میں ہے الجھی ہوئیسینۂ دریا شعاعوں کے لیے گہوارہ ہےکس قدر پیارا لب جو مہر کا نظارہ ہےمحو زینت ہے صنوبر جوئبار آئینہ ہےغنچۂ گل کے لیے باد بہار آئینہ ہےنعرہ زن رہتی ہے کوئل باغ کے کاشانے میںچشم انساں سے نہاں پتوں کے عزلت خانے میںاور بلبل مطرب رنگیں نوائے گلستاںجس کے دم سے زندہ ہے گویا ہوائے گلستاںعشق کے ہنگاموں کی اڑتی ہوئی تصویر ہےخامۂ قدرت کی کیسی شوخ یہ تحریر ہےباغ میں خاموش جلسے گلستاں زادوں کے ہیںوادی کہسار میں نعرے شباں زادوں کے ہیںزندگی سے یہ پرانا خاک داں معمور ہےموت میں بھی زندگانی کی تڑپ مستور ہےپتیاں پھولوں کی گرتی ہیں خزاں میں اس طرحدست طفل خفتہ سے رنگیں کھلونے جس طرحاس نشاط آباد میں گو عیش بے اندازہ ہےایک غم یعنی غم ملت ہمیشہ تازہ ہےدل ہمارے یاد عہد رفتہ سے خالی نہیںاپنے شاہوں کو یہ امت بھولنے والی نہیںاشک باری کے بہانے ہیں یہ اجڑے بام و درگریۂ پیہم سے بینا ہے ہماری چشم تردہر کو دیتے ہیں موتی دیدۂ گریاں کے ہمآخری بادل ہیں اک گزرے ہوئے طوفاں کے ہمہیں ابھی صد ہا گہر اس ابر کی آغوش میںبرق ابھی باقی ہے اس کے سینۂ خاموش میںوادئ گل خاک صحرا کو بنا سکتا ہے یہخواب سے امید دہقاں کو جگا سکتا ہے یہہو چکا گو قوم کی شان جلالی کا ظہورہے مگر باقی ابھی شان جمالی کا ظہور
دل خراشی و جگر چاکی و خوں افشانیہوں تو ناکام پہ ہوتے ہیں مجھے کام بہتمدعا محو تماشائے شکست دل ہےآئنہ خانے میں کوئی لیے جاتا ہے مجھےرات کے پھیلے اندھیرے میں کوئی سایہ نہ تھاچاند کے آنے پہ سائے آئےسائے ہلتے ہوئے، گھلتے ہوئے کچھ بھوت سے بن جاتے ہیںمیر ہو مرزا ہو میرا جی ہواپنی ہی ذات کی غربال میں چھن جاتے ہیںدل خراشیدہ ہو خوں دادہ رہےآئنہ خانے کے ریزوں پہ ہم استادہ رہےچاند کے آنے پہ سائے بہت آئے بھیہم بہت سایوں سے گھبرائے بھیمیر ہو مرزا ہو میرا جی ہوآج جاں اک نئے ہنگامے میں در آئی ہےماہ بے سایہ کی دارائی ہےیاد وہ عشرت خوں ناب کسےفرصت خواب کسے
وہ میرا نیا دوست خالدذرا دور تختے کے پیچھے کھڑیاک تنو مند لیکن فسوں کارقفقاز کی رہنے والی حسینہ سے شیر و شکر تھا!یہ بھوکا مسافرجو دستے کے ساتھایک خیمے میں اک دور افتادہ صحرا میںمدت سے عزلت گزیں تھابڑی التجاؤں سےاس حور قفقاز سے کہہ رہا تھا:''نجانے کہاں سے ملا ہےتمہاری زباں کو یہ شہداور لہجے کو مستی!میں کیسے بتاؤںمیں کس درجہ دل دادہ ہوں روسیوں کامجھے اشتراکی تمدن سے کتنی محبت ہےکیسے بتاؤں!یہ ممکن ہے تم مجھ کو روسی سکھا دو؟کہ روسی ادیبوں کی سر چشمہ گاہوں کو میں دیکھنا چاہتا ہوں''
اور مفلسوں کی ہے یہ تمنا کی فاتحہدریا پہ جا کے دیتے ہیں بابا کی فاتحہبھٹیاری کے تنور پہ نانا کی فاتحہحلوائی کی دکان پہ دادا کی فاتحہیاں تک تو ان پہ لاتی ہے ناچاری شب برات
کس قدر بول چال ہے سادہسورؔ تلسیؔ تھے اس کے دل دادہ
مرے دادا جو برٹش فوج کے نامی بھگوڑے تھےنہ جانے کتنی جیلوں کے انہوں نے قفل توڑے تھےچرس کا اور گانجے کا وہ کاروبار کرتے تھےخدا سے بھی نہیں ڈرتے تھے بس بیگم سے ڈرتے تھےمرے تائے بھی اپنے وقت کے مشہور چیٹر تھےکئی جیلوں کے تو وہ ہاف ایرلی بھی وزیٹر تھےہر اک غنڈہ انہیں گھر بیٹھے غنڈہ ٹیکس دیتا تھاتجوری توڑنے کا فن انہیں سے میں نے سیکھا تھاچچا مرحوم ناسک جیل سے جب واپس آئے تھےتو مشہور زمانہ اک طوائف ساتھ لائے تھےوہ ٹھمری دادرا اور بھیرویں میں بات کرتی تھیترنم میں ثریا اور لتا کو مات کرتی تھیمرے والد خدا بخشے کہیں آتے نہ جاتے تھےسحر سے شام تک اماں کے آگے دم ہلاتے تھےتھی اک بکرے نما براق داڑھی ان کے چہرے پرمگر پھر بھی کبڈی کھیلتے تھے رات کو اکثرمیں اپنے باپ دادا کے ہی نقش پا پہ چلتا ہوںمگر بس فرق اتنا ہے وہ غنڈے تھے میں نیتا ہوںپولس پیچھے تھی ان کے تھرڈ ڈگری کی ضیافت کومرے پیچھے بھی رہتی ہے مگر میری حفاظت کونہیں پروا کہ لیڈر کون اچھا کون گندہ ہےسیاست میری روزی ہے الیکشن میرا دھندہ ہےسیاست میں قدم رکھ کر حقیقت میں نے یہ جانیچرا کارے کند عاقل کہ باز آید پشیمانی
ہر دم علم سکھاتی ہےعقل کے راز بتاتی ہےپیارا نام کتاب ہے اس کامعلومات بڑھاتی ہےکوئی بچہ ہو یا بوڑھاسب کو یکساں بھاتی ہےدادا ابا مول اگر لیںپوتے کے کام آتی ہےگھر بیٹھے ہی دنیا بھر کیہم کو سیر کراتی ہےاگلے وقتوں کے لوگوں کاسارا حال سناتی ہےاس کی دانائی تو دیکھوجو پوچھو سمجھاتی ہےجاہل سے جاہل کو آخرقابل شخص بناتی ہےہر دفتر کے ہر افسر کویہ پروان چڑھاتی ہےدل کی آنکھیں روشن کرکےحق کی راہ دکھاتی ہےپڑھنے والے خوش ہوتے ہیںان کا رنج مٹاتی ہےتنہائی میں ہمدم بن کرفیضؔ ہمیں پہنچاتی ہے
دادی اماں۔۔۔(بستی کے سب سے ممتازگھرانے کی بیٹی۔۔۔سب سے معززآنگن کی دلہنماشاء اللہستر کے پیٹے میں ہوں گی)اپنا۔۔۔ استحقاق مانگتی ہیں
ماں پاپا بہت خوش تھے میرے آنے پرنہ جانے کیوں پھر دادہ دادی کا چہرہ نہیں کھلا تھاجب میرے حق میں پاپا نے انہیں سمجھایاتبھی تو مجھے میرا ہیرو ملا تھا
یہ جا کر کوئی بزم خوباں میں کہہ دوکہ اب درخور بزم خوباں نہیں میںمبارک تمہیں قصر و ایواں تمہارےوہ دلدادۂ قصر و ایواں نہیں میںجوانی بھی سرکش محبت بھی سرکشوہ زندانی زلف پیچاں نہیں میںتڑپ میری فطرت تڑپتا ہوں لیکنوہ زخمیٔ پیکان مژگاں نہیں میںدھڑکتا ہے دل اب بھی راتوں کو لیکنوہ نوحہ گر درد ہجراں نہیں میںبہ ایں تشنہ کامی بہ ایں تلخ کامیرہین لب شکر افشاں نہیں میںشراب و شبستاں کا مارا ہوں لیکنوہ غرق شراب شبستاں نہیں میںقسم نطق کی شعلہ افشانیوں کیکہ شاعر تو ہوں اب غزل خواں نہیں میں
دادا میاں کا چشمہ آنکھوں میں ہم لگا کررستہ چلیں کمر کو اپنی ذرا جھکا کر
حامد نے اک نبی کا قصہ مجھے سنایاپر بات تھی کچھ ایسی مجھ کو یقیں نہ آیاامی سے میں نے پوچھا ابو سے میں نے پوچھادادا حضور کو بھی سب واقعہ بتایااستاد محترم سے حاصل کی رہنمائیاپنے امام صاحب کا در بھی کھٹکھٹایاپھر انبیا کے قصوں والی کتاب دیکھیلیکن کہیں بھی ایسا قصہ کوئی نہ پایاسمجھایا میں نے جا کر حامد کو اس کے گھر پریوں مت سناؤ سب کو قصہ سنا سنایاجو واقعہ سناؤ تحقیق پہلے کر لویعنی سہی غلط کی تصدیق پہلے کر لو
پیارا ہندستان ہمارا پیارا ہندوستانجان فدا ہے اس پر اپنی دل اس پر قربانملک نہیں یہ ہے جنت کا دل کش ایک مکانپیارا ہندستان ہمارا پیارا ہندوستانپیارے پیارے دریا اس کے پیاری پیاری نہریںپیارے پیارے چشمے اس کے پیاری پیاری لہریںپیارے پیارے منظر پیاری پیاری اس کی شانپیارا ہندستان ہمارا پیارا ہندستانپیاری کھیتی باڑی پیاری پیاری پیداوارپیاری پیاری آب و ہوا ہے پیاری اس کی بہاردل میں ہمارے رہتا ہے ہر وقت اسی کا دھیانپیارا ہندستان ہمارا پیارا ہندستانپیارا پیارا دن ہے اس کا پیاری پیاری راتپیارا شام و سحر کا جلوہ پیاری ہر اک باتپیارے پیارے نظاروں کی پیاری پیاری کانپیارا ہندستان ہمارا پیارا ہندستانپیارے پھل پیاری ترکاری پیارے اس کے پھولپیارے آم اور جامن اس کے پیارے نیم ببولپیارے غلے پیارے میوے پیارے پیارے دھانپیارا ہندستان ہمارا پیارا ہندوستانپیاری گرمی پیاری سردی پیاری ہر برساتپیاری ہر ہر بات ہے اس کی پیاری ہر ہر گھاتپیاری ہے ہر اک ادا پیارا ہر ایک نشانپیارا ہندستان ہمارا پیارا ہندستاناقبالؔ اور ٹیگورؔ سے شاعر پی سی رے سے فاضلوی سی رامن شاہ سلیماں جے سی بوس سے کاملگاندھیؔ اور جناحؔ سے لیڈر ذاکرؔ سے ودوانپیارا ہندستان ہمارا پیارا ہندستانجوہرؔ انصاریؔ اجملؔ آزادؔ جواہر لالؔدادا بھائیؔ داسؔ تلکؔ گوکھیلؔ سے نیک خصال
اس طرح آج پھر آباد ہے ویرانۂ دلکہ ہے لبریز مئے شوق سے پیمانۂ دلدل بے تاب میں پنہاں ہے ہر ارمان نظرچشم مشتاق میں ہے سرخیٔ افسانۂ دلآج شمعوں سے یہ کہہ دو کہ خبردار رہیںآج بے دار ہے خاکستر پروانۂ دلاس کو ہے ایک فقط دیکھنے والا درکارطور سے کم تو نہیں جلوۂ جانانۂ دلجاگ بھی خواب سے اے مشرق و مغرب کے حکیمکہ ترے واسطے لایا ہوں میں نذرانۂ دلیہ ذرا دیکھ کہ آئے ہیں کہاں سے دونوںدل تری خاک کا دیوانہ میں دیوانۂ دلشوق کی راہ میں اک سخت مقام آیا ہےمرا ٹوٹا ہوا دل ہی مرے کام آیا ہےساقیٔ جاں ترے مے خانے کا اک رند حقیرمثل بو توڑ کے ہر قید مقام آیا ہےاللہ اللہ تری بزم کا یہ عالم کیفمیرے ہاتھوں میں چھلکتا ہوا جام آیا ہےترے نام آج زمانے کے مہکتے ہوئے پھولغالبؔ و میرؔ کے گلشن کا سلام آیا ہےوہ مری حسرت دیرینہ کا شہباز جلیلکتنی مدت میں بالآخر تہہ دام آیا ہےتجھ کو بھی دل میں بسایا ہے جو اقبالؔ کے ساتھتو کہیں جا کے یہ انداز کلام آیا ہےکیوں تجھے یہ ابدی نیند پسند آئی ہےاے کہ ہر لفظ ترا شان مسیحائی ہےساقی مے کدۂ زیست ذرا آنکھ تو کھولتری تربت پہ سیہ مست گھٹا چھائی ہےجاگ بھی خواب سے دل دادۂ گل زار و چمنکہ ترے دیس کی باغوں پہ بہار آئی ہےجو ترے گھر میں ہے آج اس چمنستاں کو تو دیکھذرے ذرے کو جنون چمن آرائی ہےہاتھوےؔ کا ہے مکاں وہ کہ ''مقام نو'' ہےجو بھی خطہ ہے وہ اک پیکر زیبائی ہےکچھ خبر بھی ہے کہ ایواں کی حسیں موجوں میںجو ترے دور میں تھی اب بھی وہ رعنائی ہےوہ ترا نغمہ کہ سینوں میں تپاں آج بھی ہےاہل احساس کا سرمایۂ جاں آج بھی ہےرند ہیں مشرق و مغرب میں اسی کے مشتاقوہ ترا بادۂ کہنہ کہ جواں آج بھی ہےآج بھی کعبۂ ارباب نظر ہے تری فکرورثۂ اہل جنوں تیرا بیاں آج بھی ہےآج سے چار صدی قبل جو چمکا تھا کبھیترے نغمات میں وہ سوز نہاں آج بھی ہےجس میں ہے بادہ جنوں کا بھی مئے ہوش کے ساتھترے ہاتھوں میں وہی رطل گراں آج بھی ہےتو نے تمثیل کے جادے پہ دکھایا جو کبھیوہی میل اور وہی سنگ نشاں آج بھی ہےظلمت دہر کی راتوں میں سحر بار ہے توزیست اک قافلہ ہے قافلہ سالار ہے توتو ہر اک دور میں ہے دیدۂ بینا کی طرحہر زمانے میں دل زندہ و بے دار ہے توجس کی باتوں میں دھڑکتا ہے دل عصر رواںآج تمثیل زمانہ کا وہ کردار ہے توکیوں نہ ہو لوح و قلم کو ترے اسلوب پہ نازحسن گفتار ہے گنجینۂ افکار ہے توبزم جاناں ہو تو انداز ترا پھول کی شاخظلم کے سامنے شمشیر جگر دار ہے توتو کسی ملک کسی دور کا فن کار نہیںبلکہ ہر ملک کا ہر دور کا فن کار ہے تو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books