aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "dalte"
تم بالکل ہم جیسے نکلےاب تک کہاں چھپے تھے بھائیوہ مورکھتا وہ گھامڑ پنجس میں ہم نے صدی گنوائیآخر پہنچی دوار توہارےارے بدھائی بہت بدھائیپریت دھرم کا ناچ رہا ہےقائم ہندو راج کرو گےسارے الٹے کاج کرو گےاپنا چمن تاراج کرو گےتم بھی بیٹھے کرو گے سوچاپوری ہے ویسی تیاریکون ہے ہندو کون نہیں ہےتم بھی کرو گے فتویٰ جاریہوگا کٹھن یہاں بھی جینادانتوں آ جائے گا پسیناجیسی تیسی کٹا کرے گییہاں بھی سب کی سانس گھٹے گیبھاڑ میں جائے شکشا وکشااب جاہل پن کے گن گاناآگے گڑھا ہے یہ مت دیکھوواپس لاؤ گیا زمانہمشق کرو تم آ جائے گاالٹے پاؤں چلتے جانادھیان نہ دوجا من میں آئےبس پیچھے ہی نظر جماناایک جاپ سا کرتے جاؤبارم بار یہی دہراؤکیسا ویر مہان تھا بھارتکتنا عالی شان تھا بھارتپھر تم لوگ پہنچ جاؤ گےبس پرلوک پہنچ جاؤ گےہم تو ہیں پہلے سے وہاں پرتم بھی سمے نکالتے رہنااب جس نرک میں جاؤ وہاں سےچٹھی وٹھی ڈالتے رہنا
اے مجاز اے ترانہ بار مجاززندہ پیغمبر بہار مجازاے بروۓ سمن وشاں گل پوشاے بہ کوۓ مغاں تمام خروشاے پرستار مہ رخان جہاںاے کماں دار شاعران جواںتجھ سے تاباں جبین مستقبلاے مرے سینۂ امید کے دلاے مجاز اے مبصر خد و خالاے شعور جمال و شمع خیالاے ثریا فریب و زہرہ نوازشاعر مست و رند شاہد بازناقد عشوۂ شباب ہے توصبح فردا کا آفتاب ہے توتجھ کو آیا ہوں آج سمجھانےحیف ہے تو اگر برا مانےخود کو غرق شراب ناب نہ کردیکھ اپنے کو یوں خراب نہ کرشاعری کو تری ضرورت ہےدور فردا کی تو امانت ہےصرف تیری بھلائی کو اے جاںبن کے آیا ہوں ناصح ناداںایک ٹھہراؤ اک تکان ہے تودیکھ کس درجہ دھان پان ہے توننگ ہے محض استخواں ہوناسخت اہانت ہے ناتواں ہونااستخوانی بدن دخانی پوستایک سنگین جرم ہے اے دوستشرم کی بات ہے وجود سقیمناتوانی ہے اک گناہ عظیمجسم اور علم طرفہ طاقت ہےیہی انسان کی نبوت ہےجو ضعیف و علیل ہوتا ہےعشق میں بھی ذلیل ہوتا ہےہر ہنر کو جو ایک دولت ہےعلم اور جسم کی ضرورت ہےکثرت بادہ رنگ لاتی ہےآدمی کو لہو رلاتی ہےخوش دلوں کو رلا کے ہنستی ہےشمع اختر بجھا کے ہنستی ہےاور جب آفت جگر پہ لاتی ہےرند کو مولوی بناتی ہےمے سے ہوتا ہے مقصد دل فوتمے ہے بنیاد مولویت و موتکان میں سن یہ بات ہے نشترمولویت ہے موت سے بد تراس سے ہوتا ہے کار عمر تماماس سے ہوتا ہے عقل کو سرساماس میں انساں کی جان جاتی ہےاس میں شاعر کی آن جاتی ہےیہ زمین آسمان کیا شے ہےآن جائے تو جان کیا شے ہےگوہر شاہ وار چن پیارےمجھ سے اک گر کی بات سن پیارےغم تو بنتا ہے چار دن میں نشاطشادمانی سے رہ بہت محتاطغم کے مارے تو جی رہے ہیں ہزارنہیں بچتے ہیں عیش کے بیمارآن میں دل کے پار ہوتی ہےپنکھڑی میں وہ دھار ہوتی ہےجوئے عشرت میں غم کے دھارے ہیںیخ و شبنم میں بھی شرارے ہیںہاں سنبھل کر لطافتوں کو برتٹوٹ جائے کہیں نہ کوئی پرتدیکھ کر شیشۂ نشاط اٹھایہ ورق ہے ورق ہے سونے کاکاغذ باد یہ نگینہ ہےبلکہ اے دوست آبگینہ ہےساغر شبنم خوش آب ہے یہآبگینہ نہیں حباب ہے یہروک لے سانس جو قریب آئےٹھیس اس کو کہیں نہ لگ جائےتیغ مستی کو احتیاط سے چھوورنہ ٹپکے گا انگلیوں سے لہومستیوں میں ہے تاب جلوۂ ماہاور سیہ مستیاں خدا کی پناہخوب ہے ایک حد پہ قائم نشہہلکا پھلکا سبک ملائم نشہہاں ادب سے اٹھا ادب سے جامتاکہ آب حلال ہو نہ حرامجام پر جام جو چڑھاتے ہیںاونٹ کی طرح بلبلاتے ہیںزندگی کی ہوس میں مرتے ہیںمے کو رسوائے دہر کرتے ہیںیاد ہے جب جگرؔ چڑھاتے تھےکیا الف ہو کے ہن ہناتے تھےمیری گردن میں بھر کے چند آہیںپاؤں سے ڈالتے تھے وہ بانہیںعقل کی موت علم کی پستیالاماں لعنت سیہ مستیاف گھٹا ٹوپ نشے کا طوفانبھوت عفریت دیو جن شیطانلات گھونسہ چھڑی چھری چاقولب لباہٹ لعاب کف بدبوطنز آوازہ برہمی افسادطعن تشنیع مضحکہ ایرادشور ہو حق ابے تبے ہے ہےاوکھیاں گالیاں دھماکے قےمس مساہٹ غشی تپش چکرسوز سیلاب سنسنی صرصرچل چخے چیخ چناں چنیں چنگھاڑچخ چخے چاؤں چاؤں چیل چلھاڑلپا ڈکی لتام لام لڑائیہول ہیجان ہانک ہاتھا پائیکھلبلی کاؤں کاؤں کھٹ منڈلہونک ہنگامہ ہمہمہ ہلچلالجھن آوارگی ادھم اینٹھنبھونک بھوں بھوں بھنن بھنن بھن بھندھول دھپا دھکڑ پکڑ دھتکارتہلکہ تو تڑاق تف تکراربو بھبھک بھیے بکس برر بھونچالدبدبے دندناہٹیں دھمالگاہ نرمی و لطف و مہر و سلامگاہ تلخی و ترشی و دشنامعقل کی موت علم کی پستیالاماں لعنت سیہ مستیصرف نشے کی بھیگنے دے مسیںان کو بننے نہ دے کبھی مونچھیںالاماں خوفناک کالا نشہاوہ ریش و بروت والا نشہاژدر مرگ او دیو خوں خواریالاماں نشۂ ''جٹادھاری''نشے کا جھٹ پٹا ہے نور حیاتجھٹپٹے کو بنا نہ کالی راتنشے کی تیز روشنی بھی غلطچودھویں کی سی چاندنی بھی غلطذہن انساں کو بخشتا ہے جمالنشہ ہو جب یہ قدر نور ہلالغرفۂ عقل بھیڑ تو اکثرپر اسے کچ کچا کے بند نہ کررات کو لطف جام ہے پیارےدن کا پینا حرام ہے پیارےدن ہے عفریت آز کی کھنکارات پازیب نازکی جھنکاردن ہے خاشاک خاک دھول دھواںرات آئینہ انجمن افشاںدن مسلح دواں کمر بستہرات طاق و رواق و گلدستہدن ہے فولاد سنگ تیغ علمرات کمخواب پنکھڑی شبنمدن ہے شیون دہائیاں دکھڑےرات مست انکھڑیاں جواں مکھڑےدن کڑی دھوپ کی بد آہنگیرات پچھلے پہر کی سارنگیدن بہادر کا بان بیر کی رتھرات چمپاکلی انگوٹھی نتھدن ہے طوفان جنبش و رفتاررات میزان کاکل و رخسارآفتاب و شراب ہیں بیریبوتلیں دن کو ہیں پچھل پیریکر نہ پامال حرمت اوقاترات کو دن بنا نہ دن کو راتپی مگر صرف شام کے ہنگاماور وہ بھی بہ قدر یک دو جاموہی انساں ہے خرم و خورسندجو ہے مقدار و وقت کا پابندمیرے پینے ہی پر نہ جا مری جاںمجھ سے جینا بھی سیکھ ہیں قرباںاس کے پینے میں رنگ آتا ہےجس کو جینے کا ڈھنگ آتا ہےیہ نصائح بہت ہیں بیش بہاجلد سو جلد جاگ جلد نہاباغ میں جا طلوع سے پہلےتا نگار سحر سے دل بہلےسرو و شمشاد کو گلے سے لگاہر چمن زاد کو گلے سے لگامنہ اندھیرے فضائے گلشن دیکھساحل و سبزہ زار و سوسن دیکھگاہ آوارہ ابر پارے دیکھان کی رفتار میں ستارے دیکھجیسے کہرے میں تاب روئے نکوجیسے جنگل میں رات کو جگنوگل کا منہ چوم اک ترنم سےنہر کو گدگدا تبسم سےجسم کو کر عرق سے نم آلودتاکہ شبنم پڑھے لہک کے درودپھینک سنجیدگی کا سر سے بارناچ اچھل دندنا چھلانگیں ماردیکھ آب رواں کا آئینہدوڑ ساحل پہ تان کر سینہمست چڑیوں کا چہچہانا سنموج نو مشق کا ترانہ سنبوستاں میں صبا کا چلنا دیکھسبزہ و سرو کا مچلنا دیکھشبنم آلود کر سخن کا لباسچکھ دھندلکے میں بوئے گل کی مٹھاسشاعری کو کھلا ہوائے سحراس کا نفقہ ہے تیری گردن پررقص کی لہر میں ہو گم لب نہریوں ادا کر عروس شعر کا مہرجذب کر بوستاں کے نقش و نگارذہن میں کھول مصر کا بازارنرم جھونکوں کا آب حیواں پیبوئے گل رنگ شبنمستاں پیگن گنا کر نظر اٹھا کر پیصبح کا شیر دغدغہ کر پیتاکہ مجرے کو آئیں کل برکاتدولت جسم و علم و عقل و حیاتیہ نہ طعنہ نہ یہ الہنا ہےایک نکتہ بس اور کہنا ہےغیبت نور ہو کہ کثرت نورظلمت تام ہو کہ شعلۂ طورایک سا ہے وبال دونوں کاتیرگی ہے مآل دونوں کادرخور صاحب مآل نہیںہر وہ شے جس میں اعتدال نہیںشادمانی سے پی نہیں سکتاجس کو ہوکا ہو جی نہیں سکتااے پسر اے برادر اے ہم رازبن نہ اس طرح دور کی آوازکوئی بیمار تن نہیں سکتاخادم خلق بن نہیں سکتاخدمت خلق فرض ہے تجھ پردور ماضی کا قرض ہے تجھ پرعصر حاضر کے شاعر خوددارقرض داری کی موت سے ہشیارذہن انسانیت ابھار کے جازندگانی کا قرض اتار کے جاتجھ پہ ہندوستان ناز کرےعمر تیری خدا دراز کرے
روز ہی بڑھیا اٹھ کر کیوں کہتی ہےپیاس لگی ہےپانی ڈالتے ڈالتے مگ سے آ جاتی ہےگلاس گراؤ گے تمہاتھ تمہارے کانپ رہے ہیںجان جلا رکھی ہے اس نےخراٹے کیا میں لیتا ہوںناک تو اس کی پھراتی ہےآدھی رات کو اٹھ کر کہتی ہے کہ پنکھا بند کرو ناں ٹھنڈلگتی ہےپاؤں مار کے خود ہی تو چادر پھینکی تھیپاؤں پلنگ پہ مار کر پیر سجا رکھا ہےساری رات دباتا ہوںپین کلر کھا کھا کے بھی اب اوب گیا ہوںساری عمر جلایا اس نےایک برس ہونے کو آیاسیڑھی پر پھسلی تھی تو سر پھوڑ لیا تھااپنے ہاتھ سے آگ کے اوپر رکھ کر آیا تھا میں اس کواور کہا تھا تو چل میں بھی آتا ہوںپر جائے تب ناںساری رات مرے بستر پر کروٹیں لیتی رہتی ہے
ان ہاتھوں کی تعظیم کروان ہاتھوں کی تکریم کرودنیا کے چلانے والے ہیںان ہاتھوں کو تسلیم کروتاریخ کے اور مشینوں کے پہیوں کی روانی ان سے ہےتہذیب کی اور تمدن کی بھرپور جوانی ان سے ہےدنیا کا فسانہ ان سے ہے، انساں کی کہانی ان سے ہےان ہاتھوں کی تعظیم کروصدیوں سے گزر کر آئے ہیں، یہ نیک اور بد کو جانتے ہیںیہ دوست ہیں سارے عالم کے، پر دشمن کو پہچانتے ہیںخود شکتی کا اوتار ہیں، یہ کب غیر کی شکتی مانتے ہیںان ہاتھوں کو تعظیم کروایک زخم ہمارے ہاتھوں کے، یہ پھول جو ہیں گل دانوں میںسوکھے ہوئے پیاسے چلو تھے، جو جام ہیں اب مے خانوں میںٹوٹی ہوئی سو انگڑائیوں کی محرابیں ہیں ایوانوں میںان ہاتھوں کی تعظیم کروراہوں کی سنہری روشنیاں، بجلی کے جو پھیلے دامن میںفانوس حسیں ایوانوں کے، جو رنگ و نور کے خرمن میںیہ ہاتھ ہمارے جلتے ہیں، یہ ہاتھ ہمارے روشن ہیںان ہاتھوں کی تعظیم کروخاموش ہیں یہ خاموشی سے، سو بربط و چنگ بناتے ہیںتاروں میں راگ سلاتے ہیں، طبلوں میں بول چھپاتے ہیںجب ساز میں جنبش ہوتی ہے، تب ہاتھ ہمارے گاتے ہیںان ہاتھوں کی تعظیم کرواعجاز ہے یہ ان ہاتھوں کا، ریشم کو چھوئیں تو آنچل ہےپتھر کو چھوئیں تو بت کر دیں، کالکھ کو چھوئیں تو کاجل ہےمٹی کو چھوئیں تو سونا ہے، چاندی کو چھوئیں تو پائل ہےان ہاتھوں کی تعظیم کروبہتی ہوئی بجلی کی لہریں، سمٹے ہوئے گنگا کے دھارےدھرتی کے مقدر کے مالک، محنت کے افق کے سیارےیہ چارہ گران درد جہاں، صدیوں سے مگر خود بے چارےان ہاتھوں کی تعظیم کروتخلیق یہ سوز محنت کی، اور فطرت کے شہکار بھی ہیںمیدان عمل میں لیکن خود، یہ خالق بھی معمار بھی ہیںپھولوں سے بھری یہ شاخ بھی ہیں اور چلتی ہوئی تلوار بھی ہیںان ہاتھوں کی تعظیم کرویہ ہاتھ نہ ہوں تو مہمل سب، تحریریں اور تقریریں ہیںیہ ہاتھ نہ ہوں تو بے معنی انسانوں کی تقریریں ہیںسب حکمت و دانش علم و ہنر ان ہاتھوں کی تفسیریں ہیںان ہاتھوں کی تعظیم کرویہ کتنے سبک اور نازک ہیں، یہ کتنے سڈول اور اچھے ہیںچالاکی میں استاد ہیں یہ اور بھولے پن میں بچے ہیںاس جھوٹ کی گندی دنیا میں بس ہاتھ ہمارے سچے ہیںان ہاتھوں کی تعظیم کرویہ سرحد سرحد جڑتے ہیں اور ملکوں ملکوں جاتے ہیںبانہوں میں بانہیں ڈالتے ہیں اور دل سے دل کو ملاتے ہیںپھر ظلم و ستم کے پیروں کی زنجیر گراں بن جاتے ہیںان ہاتھوں کی تعظیم کروتعمیر تو ان کی فطرت ہے، اک اور نئی تعمیر سہیاک اور نئی تدبیر سہی، اک اور نئی تقدیر سہیاک شوخ و حسیں خواب اور سہی اک شوخ و حسیں تعبیر سہیان ہاتھوں کی تعظیم کروان ہاتھوں کی تکریم کرودنیا کو چلانے والے ہیںان ہاتھوں کو تسلیم کرو
وہ جن کے معدے بھرے ہوئے ہیںانہیں بتا دویہ دین و دنیا سے ماورا ہیںانہیں جہنم سے مت ڈرائیںیہ روز اپنے بدن جہنم میں ڈالتے ہیں
صبح ہوتے ہی آٹھ کروڑ مسخرے نکل آتے ہیں سڑکوں پراور شروع کر دیتے ہیں ناچآٹھ کروڑ مسخرے نکل آتے ہیں اپنے رنگے چہروں اور لمبی ٹوپیوں کے ساتھتوڑ پھوڑ ڈالتے ہیں آسماندھجی دھجی کر دیتے ہیں دھوپالجھا لیتے ہیں ہوا کی ڈور اپنے ہاتھوں میںراستہ نہیں دیتے میت گاڑیوں کو اور آگ بجھانے والے انجن کوبھر دیتے ہیں سیارے کو بیہودہ فقروں سےاور شام آتی ہےلوٹ جاتے ہیں سورج کے ساتھ کورس گاتے ہوئےاور رات ہوتی ہےاور صبح ہوتی ہےصبح ہوتے ہی آٹھ کروڑ مسخرے نکل آتے ہیں سڑکوں پراور شروع کر دیتے ہیں ناچ۔۔۔
دیکھ کر کسی کا دیش کے لئے اپواسہم نیتاؤں کا اڑاتے ہیں اپہاساور دیتے ہیں گالیاںبس ہمارا فرض پوراجب بھی ہوتا ہے کوئی آندولنہم یار دوستوں کا کر کے سمیلننگاہ سرکار پہ ڈالتے ہیں سوالیہبس ہمارا فرض پورادیش جاتا ہے جہاں جائےنیتا چاہے جیسے بھی دیش کو چلائیںہم ڈیوٹی کر دیتے ہیں پانچ سالبس ہمارا فرض پوراپانی ہو چلا ہے ہمارا خوناب کہاں دیش بھکتی کا جنونروز کہتے ہیں اچھا نہیں ہمارا قانونبس ہمارا فرض پوراہم ڈر سے مانتے ہیں قانون قاعدہایسی آزادی کا کیا فائدہسچ مانتے ہیں پانچ سال والا وعدہبس ہمارا فرض پوراجلدی بھلا دیتے ہیں اوپر پڑی لات کوپھر کیوں بھنتے ہیں ہم بنا بات کوجب اتنا ہی بہانہ بنانا ہے ہم آپ کوکہ بس ہمارا فرض پورا
خدا گر ہمیں اک پرندہ بناتاجہاں میں ہم اک آشیانہ بناتےکسی سبز وادی میں اپنا نشیمنیا صحن چمن کو ٹھکانہ بناتےکبھی اڑتے بادل میں ہوتا بسیراکبھی ڈالتے کنج وحشت میں ڈیراکبھی دامن کوہ ہوتا ہماراکبھی بنتا گھر اک ندی کا کناراکبھی گیت گاتے گھٹاؤں کے نیچےکبھی ہوتے پاگل ہواؤں کے پیچھےفضاؤں میں ہم صبح سے شام کرتےاندھیرے سے پہلے زمیں پر اترتےکوئی گلستاں ملک ہوتا ہماراہم اس کے لیے اک ترانہ بناتےخدا گر ہمیں اک پرندہ بناتااسے ہم پرندے خدا نہ بناتے
نہ تھے شاعر ہی کچھ بڑے غالبدل لگی میں بھی خوب تھے غالبخوب ہنستے ہنساتے رہتے تھےبڑی پر لطف بات کہتے تھےعام ان کو پسند تھے بے حدیعنی رسیا تھے آم کے بے حدخود بھی بازار سے منگاتے تھےدوست بھی آم ان کو بھجواتےپھر بھی آموں سے جی نہ بھرتا تھاآم کا شوق ان کو اتنا تھاان کے قصے تمہیں سنائیں ہمان کی باتوں سے کچھ ہنسائیں ہمایک محفل میں وہ بھی بیٹھے تھےلوگ آموں کا ذکر کرتے تھےآم ایسا ہو آم ویسا ہوپوچھا غالب سے عام کیسا ہوبولے غالب کہ پوچھتے ہو اگرصرف دو خوبیوں پہ رکھیے نظربات پہلی یہ ہے کہ میٹھا ہودوسری بات یہ بہت سا ہوایک دن دوست ان کے گھر آئےآم غالب نے تھے بہت کھائےسامنے گھر کے تھے پڑے چھلکےاس گلی میں سے کچھ گدھے گزرےان گدھوں نے نہ چھلکے وہ کھائےسونگھ کر ان کو بڑھ گئے آگےدوست نے جب یہ ماجرا دیکھاسوچا غالب کو اب ہے سمجھانادوست بولے ہے شے بری سی آمدیکھو کھاتے نہیں گدھے بھی آمہنس کے غالب یہ دوست سے بولےجی ہاں بے شک گدھے نہیں کھاتےبادشہ کر رہے تھے سیر باغخوش تھا آموں سے ان کا قلب و دماغبادشہ کے تھے ساتھ غالب بھیڈالتے تھے نظر وہ للچائیجی میں یہ تھا کہ خوب کھائیں آمبادشہ سے جو آج پائیں عامگھورتے تھے جو غالب آموں کوبادشہ بولے گھورتے کیا ہوبادشہ سے یہ بولے وہ ہنس کرمہر ہوتی ہے دانے دانے پردیکھتا ہوں یوں گھور کر میں آمشاید ان پر لکھا ہو میرا ناممقصد ان کا جو بادشہ پائےپھر بہت آم ان کو بھجوائے
کروں گا فتح کوئی شام تو میں اتروں گا الجھتی سانس کے کیکر سے اورخوابوں سے رفت و بود کے اس پارابد کے حسن حریری کے سفید سے پھول اپنی پلکوں پہ چن سکوں گا میںمیں بن سکوں گا خود اپنا لباس خود اپنا تار نفسنہ سن سکوں گا کوئی لفظ کوئی نظم اور کوئی آوازسکوت ذات میں لمحوں کی چاپ تک نہ آئے گیچمکتے ہوش و حواس تھک چکیں تو سواد شام میںسوئے ہوئے شجر کے تلے پڑاؤ ڈالتے ہیںپرانی یادوں کے رنگیں پرندے شجر سے نیچے اترتے ہیںاداس آنکھوں کے پرانے گھر میں خیال و خوابکا ملبوس پہنے آتے ہیںمیں ننھے طفل کے مانند انہیں پکڑنے کھلی نیم اجلیوادیوں میں دوڑتا ہوںکہیں پہ پیر پھسلتا ہے اور دھڑام سے نیچے کالی کھائیوںمیں ڈوبتا ہوںآنکھ کھلتی ہےچہار سمت اندھیرا ہے اندھیرے میں سپیدیکوئی رنگ کوئی لباس نہیںکوئی خوشبو کوئی باس نہیںبڑی ہی دیر تلک گھورتے اندھیرے میںرفتہ رفتہ گھلے ہیں سیاہی مجھ میں اور میںسیاہی میںاتھاہ نیند کے ساحل پہ ساری عمر کے داغتمام نسل کے سارے گناہ دھلتے ہیںمگر حواس کہاں چھوڑتے ہیں جسم کے روگسویرے پہلی کرن روشنی کی جیسے ہی جھلملاتی ہےخوابیدہ آنکھ کلبلاتی ہےاتھاہ نیند کے ساحل پہ دھوپ پھیلتی ہےداغ اجالوں میں پھر چمکنے لگتے ہیںسارے گناہ اندھیری روح کے طاقوں پہپھر چراغ کی مانند جلنے لگتے ہیںنہ شام فتح ہوئی اور نہ صبح فتح ہوئیرات فتح ہوئی اور نہ بات فتح ہوئیوہی ہوں میں وہی دن رات اور وہی من و تووہی زمانہ وہی یادیں اور وہی خوابنشہ اترنے پہ وہی مخلوق اور وہی دنیاوہیں ہیں موٹریں وہی راستے وہی شہر اور وہی گاؤںوہی ہے بیوی وہی بچے وہی گھر اور وہی چھاؤںکروں گا فتح کوئی شام تو میں اتروں گاترے کنارے (میرے روبرو) کہ جہاںنہ کوئی صبح نہ شام اور نہ کوئی نیند نہ خوابنہ کوئی رستہ نہ منزل نہ کوئی گھر ہے نہ گھاٹ!
برسوں بعد بر نوک زبان رہتا ہے کوئی شعرپھر ایک دناس کے جانے پہچانے ہزار مرتبہ دہرائے ہوئے الفاظ کے اندرکھل جاتا ہے معانی کا ایک نیا دروازہاور رہ جاتے ہیں ہم ہکا بکاجس مفہوم پر سر دھنتے آئے تھے کل تک کتنا سطحی کتنا ادھورا تھا وہشکر کرتے ہیں کہ نہیں پوچھ لیا کسی نے ہم سے اس شعر کا مطلبستیہ ناس کر ڈالتے اچھے بھلے شعر کا ان نئے معانی کے بغیر ہمیہی کچھ ہوتا ہے زندگی میں پیش آنے والےواقعات و حادثات کے ساتھ بھیجو کچھ بیت گیا اور بیت رہا ہے ہم پردیر تک راز ہی نہیں کھلتا اس کی اہمیت کابے مقصد ہو رہا ہے یہ سب کچھیا اس کا ہمارے مستقبل اور مقدر سے بھی تعلق ہے کچھپھر پردہ سا ہٹتا ہے اور ہو جاتے ہیں ہم غرق حیرتکتنا محدود تھا ہمارا نقد علماور کن مغالطوں میں پڑے ہوئے تھے ہممجھے تو خوگر سا بنا دیا ہے روزمرہ کی اس حیرانی و پریشانی نےنئے سے نیا صدمہ سہنے کو تیار رہتا ہوں صبح و شاماپنی جہالت کے انکشاف پرونڈے کرکٹ تو شوق سے دیکھتے ہیں آپ بھییوں سمجھیے کہ مشق تھا گزشتہ کل کا میچ آج کے میچ کیمشق ہے آج کا میچ آنے والے کل کے لیےاور کل جو میچ ہوگا اپنی جگہ وہ فائنل ہی کیوں نہ ہومشق ہوگا پرسوں کے میچ کیہڈیاں گل گئیں اتنی سادہ سی بات سمجھتے سمجھتےکہ ہر دن طلوع ہوتا ہے اپنے ساتھ ایک نیا سوال ایک نیا چیلنج لے کراور مطالبہ کرتا ہے ہم سے ایک نئے جواب ایک نئے طرز عمل کانہ تو زندگی ہی جامد ہے نہ زندگی کا خالق خدازندگی بہتے دریا کی طرح بدلتی رہتی ہے ہر لحظہ قائم و دائم رہتے ہوئےاور نت نئی تخلیق میں مصروف خدا بھی نہیں ہوتا کبھی پہلے والا خداجب زندگی اور اس کے خالق ہی کی کایا کلپ ہوتی رہتی ہے یوںتو اشعار ہوں یا واقعات و حادثات بدل جاتا ہے ہر شے کا مفہومبھئی، بدل جاتے ہیں ہم خود بدل جاتی ہے ہماری نظر ہمارا احساسبدل جاتی ہیں وہ محبتیںجن کے ازلی و ابدی ہونے کی قسمیں کھایا کرتے تھے ہمبدل جاتی ہیں بے بدل دوستیاںوہ خواہشیں بدل جاتی ہیں جنہوں نےایک عمر پاگل بنائے رکھا ہوتا ہے ہمیںاور تو اور بدل جاتے ہیں دین اور ایمانراستے ہی نہیں بدل جاتی ہیں منزلیںسن رہے ہیں آپبھر تو نہیں پائے آپ بھی؟کدھر چل دیے آپ؟بدل تو نہیں گئے آپ بھی؟
ہم وہ نہیں جو تم سمجھتے ہوہم وہ ہیں جو تم نہیں سمجھتےہم لاش کے منہ پہ اپنی نظم کی مٹی ڈالتے ہیںاور چین سے سو جاتے ہیںصبح اٹھ کر کام کی تلاش میں نکلتے ہیںہمیں ایسے مت دیکھوجیسے سوکھی گھاس بادل کو دیکھتی ہےہمیں ایسے دیکھوجیسے مرنے والا گور کن کو دیکھتا ہے
تمہارے بعد کیا ہواتمہیں تو کچھ خبر نہیںغموں نے زندگی کے سارے زاویے بدل دئےمری تمام خواہشوں کے حوصلے کچل دئےمری تو ساری عمر ہی اسی میں کٹ کے رہ گئیاداسیوں کی بھیڑ میںسفر کی تیز دھوپ میںخوشی کی کوئی بزم ہو کہ غم کا سلسلہ کہیںمیں ہر جگہ تمہیں فقط تمہیں تلاشتا رہامگر نہ جانے کیا ہوامیں تھک گیامیں تھک گیا تمہارے نقش پا تلاشتے ہوئےمیں تھک گیا ہوں اس بدن میں جان ڈالتے ہوئےیہ سوچتا ہوںزندگی کے بوجھ کو میں اب نہیں اٹھاؤں گابھلے تمہیں خبر نہ ہومیں تم کو بھول جاؤں گا
اسے دکھ کے ساتھ بیاہا گیاکہ جب آنکھ کھلی تو سر پر سورج جلتی ناند میں دھولاسے دھوپ کے ساتھ بیاہا گیاکہ جو شام پڑے سے دن گزرے تک سوتی تھیاسے نیند کے ساتھ بیاہا گیاکہ جو آج کے خواب سے کل کے خواب کا سودا کرتی تھیاسے بیاہ کے ساتھ بیاہا گیاکہ جو کشٹ اٹھاتی دھوپ میں بیٹھی سائے سے باتیں کرتی تھیاسے سائے کے ساتھ بیاہا گیاملاحوں نے اس کی آنکھوں کی تعریف نہیں کیبچے اس کو دیکھ کے رکے نہیںلڑکیاں اس کے لباس پہ چونکیں نہیںاسے یوں دفنایا جیسے مچھلیاں جال سے جال میں ڈالتے ہیںاسے یوں نہلایا جیسے بارش آبی پودوں کو نہلا کر خوش ہوتی ہےاسے شام کے ساتھ وداع کیاجب چاند گھنے بادل میں چھپتا پھرتا تھااور آنکھیں چننے والی مچھلیاں چنی گئی تھیںاور ناؤ نے ناؤ کے ساتھ گناہ کیا تھامٹی پانی کے بیٹے یہ سب کچھ دیکھ چکے ہوتے تو دہشت سے پہلے مر جاتے
ہم وہ نہیں جو تم سمجھتے ہوہم وہ ہیں جو تم نہیں سمجھتےہم لاش کے منہ پہ اپنی نظم کی مٹی ڈالتے ہیںاور چین سے سو جاتے ہیںصبح اٹھ کر کام کی تلاش میں نکلتے ہیںہمیں ایسے مت دیکھوجیسے سوکھی گھاس بادل کو دیکھتی ہےہمیں ایسے دیکھوجیسے مرنے والا گورکن کو دیکھتا ہے
ہم ایسی زرد دوپہروں میںجب دکھ کی راکھ برستی ہےاس راکھ کو تیری یاد کے زیور پہنا کرراتوں کو خواب پروتے ہیںاور دوسری صبحوہ خواب انا کی تھال میں رکھمجروح پندار کے ہاتھوںتیرے قدموں پہ ہم ڈالتے ہیںوہ خواب جو اپنے پل پل کی اس راکھ سے ہم تعمیر کریںہر روز ہم اپنے خوابوں کی توہین کریں
موت کو اتنا قریب دیکھ کر بھیان کی ہنسی بند نہیں ہوتیان کے قدم نہیں لڑکھڑاتےوہ ہنستے ہی رہتے ہیںہر سمت میں بے شمارگولیاں چلاتےہر دیوار ہر دروازے پربہت سے سوراخ کرتےسیاہ سڑک پر انسانی خون سےسرخ نشان ڈالتےاپنے پیچھے تر و تازہ پھولوں سے بھریقبروں کی جنتاپنے پیچھےلاتعداد آنسوؤں سے بھراشفاف دریا چھوڑتےہنستے ہوئےوہ گزر جاتے ہیں
یہ نمک خواران ملت جب کہیں پیتے ہیں چائے''آگہی دام شنیدن جس قدر چاہے بچھائے''ڈالتے ہیں یہ ''سویٹکس'' اس میں چینی کی بجائےجس کو اپنی جان پیاری ہو شکر کس طرح کھائےیہ ہیں وہ فرہاد جو شیریں سے اپنی دور ہیںہے ذیابیطس وہ بڑھیا جس سے یہ مجبور ہیں
بچوں نے اک باغ لگایاباغ کو اپنے خوب سجایاکرتے وہ کام باری باریپودے لگاتے کیاری کیاریروز وہ خبر اس کی لیتےوقت پہ کھاد اور پانی ڈالتےرنگ برنگے پھول مہکتےآ کے پرندے اس پہ چہکتےپھل بھی میٹھے میٹھے آتےپھل بھی وہ جو سب کو بھاتےجو بھی بچہ محنت کرتاوقت مزے سے اس کا گزرتا
یہ بنگالی حسیناؤں کی جلوہ گاہ ہے ہمدمیہاں پیر و جواں آ کر متاع دل لٹاتے ہیںجنوں انگیز لے میں نرم و شیریں گیت گاتے ہیںنگاہوں میں نگاہیں ڈالتے ہیں مسکراتے ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books