aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "darshan"
آہو مانگے بن کا رمنابھنورا چاہے پھول کی ڈالیسوکھے کھیت کی کونپل مانگےاک گھنگھور بدریا کالیدھوپ جلے کہیں سایہ چاہیںاندھی راتیں دیپ دوالیہم کیا مانگیں ہم کیا چاہیںہونٹ سلے اور جھولی خالیدل بھنورا نہ پھول نہ کونپلبگیا نا بگیا کا مالیدل آہو نہ دھوپ نہ سایادل کی اپنی بات نرالیدل تو کسی درشن کا بھوکادل تو کسی درشن کا سوالینام لیے بن پڑا پکارےکسے پکارے دشت کنارے
ایک اسی کشمیر کا درشنکتنوں کے دکھ درد کا درپنآس نہائے برسے جیونمیرا نواس استھان یہی ہےپیارا ہندوستان یہی ہے
ترے جمال سے اے آفتاب ننکانہنکھر نکھر گیا حسن شعور رندانہکچھ ایسے رنگ سے چھیڑا رباب مستانہکہ جھومنے لگا روحانیت کا مے خانہتری شراب سے مدہوش ہو گئے مے خواردوئی مٹا کے ہم آغوش ہو گئے مے خوارترا پیام تھا ڈوبا ہوا تبسم میںبھری تھی روح لطافت ترے تکلم میںنوائے حق کی کشش تھی ترے ترنم میںیقیں کی شمع جلائی شب توہم میںدلوں کو حق سے ہم آہنگ کر دیا تو نےگلوں کو گوندھ کے یک رنگ کر دیا تو نےتری نوا نے دیا نور آدمیت کومٹا کے رکھ دیا حرص و ہوا کی ظلمت کودلوں سے دور کیا سیم و زر کی رغبت کوکہ پا لیا تھا ترے دل نے حق کی دولت کوہجوم ظلمت باطل میں حق پناہی کیفقیر ہو کے بھی دنیا میں بادشاہی کیتری نگاہ میں قرآن و دید کا عالمترا خیال تھا راز حیات کا محرمہر ایک گل پہ ٹپکتی تھی پیار کی شبنمکہ بس گیا تھا نظر میں بہشت کا موسمنفس نفس میں کلی رنگ و بو کی ڈھلتی تھینسیم تھی کہ فرشتوں کی سانس چلتی تھیتری شراب سے بابا فرید تھے سرشارترے خلوص سے بے خود تھے صوفیان کبارکہاں کہاں نہیں پہنچی ترے قدم کی بہارترے عمل نے سنوارے جہان کے کردارتری نگاہ نے صہبائے آگہی دے دیبشر کے ہاتھ میں قندیل زندگی دے دیترے پیام سے ایسی کی تھی مسیحائیترے سخن میں حبیب خدا کی رعنائیترے کلام میں گوتم کا نور دانائیترے ترانے میں مرلی کا لحن یکتائیہر ایک نور نظر آیا تیرے پیکر میںتمام نکہتیں سمٹی ہیں اک گل تر میںجہاں جہاں بھی گیا تو نے آگہی بانٹیاندھیری رات میں چاہت کی روشنی بانٹیعطا کیا دل بیدار زندگی بانٹیفساد و جنگ کی دنیا میں شانتی بانٹیبہار آئی کھلی پیار کی کلی ہر سوترے نفس سے نسیم سحر چلی ہر سورضائے حق کو نجات بشر کہا تو نےتعینات خودی کو ضرر کہا تو نےوفا نگر کو حقیقت نگر کہا تو نےظہور عشق کو سچی سحر کہا تو نےجہان عشق میں کچھ بیش و کم کا فرق نہ تھاتری نگاہ میں دیر و حرم کا فرق نہ تھابتایا تو نے کہ عرفاں سے آشنا ہوناکبھی نہ عاشق دنیائے بے وفا ہونابدی سے شام و سحر جنگ آزما ہوناخدا سے دور نہ اے بندۂ خدا ہونانشے میں دولت و زر کے نہ چور ہو جاناقریب آئے جو دنیا تو دور ہو جاناجو روح بن کے سما جائے ہر رگ و پے میںتو پھر نہ شہد میں لذت نہ ساغر مے میںوہی ہے ساز کے پردے میں لحن میں لے میںاسی کی ذات کی پرچھائیاں ہر اک شے میںنہ موج ہے نہ ستاروں کی آب ہے کوئیتجلیوں کے ادھر آفتاب ہے کوئیابد کا نور فراہم کیا سحر کے لئےدیا پیام بہاروں کا دشت و در کے لئےدیے جلا دئے تاریک رہ گزر کے لئےجیا بشر کے لئے جان دی بشر کے لیےدعا یہ ہے کہ رہے عشق حشر تک تیرازمیں پہ عام ہو یہ درد مشترک تیراخدا کرے کہ زمانہ سنے تری آوازہر اک جبیں کو میسر ہو تیرا عکس نیازجہاں میں عام ہو تیرے ہی پیار کا اندازخلوص دل سے ہو پوجا خلوص دل سے نمازترے پیام کی برکت سے نیک ہو جائیںیہ امتیاز مٹیں لوگ ایک ہو جائیں
رہ عشق کی انتہا چاہتا ہوںجنوں سا کوئی رہنما چاہتا ہوںجو عرفان کی زندگی کو بڑھا دےمیں وہ بادۂ جانفزا چاہتا ہوںمٹا کر مجھے آئی میں جذب کر لےبقا کے لیے میں فنا چاہتا ہوںبیاں حال دل میں کروں کیوں زباں سےکوئی جانتا ہے میں کیا چاہتا ہوںمجھے کیا ضرورت ہے کیا تم سے مانگوںمگر میں تمہارا بھلا چاہتا ہوںمرے چارہ گر میں ہوں بیمار تیراترے ہاتھ ہی شفا چاہتا ہوں
آئی نظر تجلی جب شاہد ازل کیذروں میں جا کے چمکی پھولوں میں جا کے جھلکیہندوستان ہے اک دریائے حسن قدرتاور اس میں پنکھڑی ہے تو خوش نما کنول کینکلی ہمالیہ سے محو خروش ہو کرتو آہ تشنہ لب تھی وہ جلوۂ ازل کیکرتی ہوئی زمیں پر موتی نثار آئیدرشن کو آہ ہر کے تو ہریدوار آئی
آؤ بچو سیر کرائیںبھارت کا دل تم کو دکھائیںبھارت کا دل کیا ہے بولودنیا دیکھو آنکھیں کھولوہر لب پر ہے جس کا فسانہدہلی ہے وہ شہر پراناشہر کہ جس میں میرؔ نے گائےرنج و خوشی کے دل کش نغمےشہر کہ جس میں غالبؔ نے بھیچھیڑیں شیریں غزلیں اپنیشہر کہ جس میں شاہ ظفرؔ نےغزلیں لکھیں لکھے نوحےدہلی جو ہے شہر پرانابچو وہ ہے دل بھارت کاوہ سنبھلا تو ہم بھی سنبھلےوہ بگڑا تو ہم بھی بگڑےشہر نہیں تہذیب ہے دہلیشان وطن ہے اس سے باقیآؤ اس کا روپ دکھائیںبچو تم کو سیر کرائیںلال قلعہ ہے سامنے دیکھومغلوں کی تاریخ کو سمجھوماضی کی تصویر ہے اس میںخوابوں کی تعبیر ہے اس میںوقت کا اک آئینہ سمجھوشام و سحر کا روپ بھی دیکھواکبر کی تلوار یہاں ہےنورجہاں کا ہار یہاں ہےعالمگیر کی مسجد دیکھوفن کا نمونہ اس کو جانودنیا میں اک جنت ہے یہاپنے وطن کی دولت ہے یہلال قلعے سے باہر آؤمسجد ہے اک سامنے دیکھوہے یہ نشانی شاہ جہاں کیدل کا سکوں دولت ہے یہاں کیآؤ چلیں اب برلا مندربستی دیکھیں پریم کی جا کریہ ہے دیکھو جنتر منتردیکھ کے اس کو عقل ہے ششدرچاہو تم تو وقت بتائےگرہن کا بھی روپ دکھائےصدر کا ایواں ہے یہ دیکھوایک گلستاں ہے یہ دیکھوباغ مغل ہے اس کے اندراپنا گزر ہے اس سے باہریہ ہے سمادھی گاندھی جی کیدور نہیں ہے شانتی ون بھیروح چمن خاموش یہاں ہےخاک وطن گل پوش یہاں ہےبچو چلیں اب مہرولی بھیدیکھ آئیں ہم لاٹ قطب کیاس کے چاروں اور کھنڈر ہیںپہلے وقتوں کے یہ نگر ہیںامبر اس سے اپنی زمیں ہےہم کو بھی کم فخر نہیں ہےمانا دہلی دیکھ لی تم نےسیر بھی کر لی کافی تم نےمل لو کھلونے سے بھی چل کرسامنے ہے وہ اس کا دفتربھائی جو الیاس ہیں اپنےکر لو تم سب درشن ان کےیوں تو چیزیں اور ہیں لیکندیکھنا ان کا کب ہے ممکنبچو تم تو تھک بھی گئے ہووقت بھی کم ہے اب گھر لوٹو
انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاندکیسی انوکھی بات رےتن کے گھاؤ تو بھر گئے داتامن کا گھاؤ نہیں بھر پاتاجی کا حال سمجھ نہیں آتاکیسی انوکھی بات رےانوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاندپیاس بجھے کب اک درشن میںتن سلگے بس ایک لگن میںمن بولے رکھ لوں نینن میںکیسی انوکھی بات رےانوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند
منگاؤ میگنٹ دیکھو ڈٹنشناٹنشن اے دل ناداں اٹنشنچلو اب پیریڈ مہندی کا آیاکہیں درشن کہیں روپک کی چھایاگرو نے سورٹھا جم کر پڑھایاہماری تو سمجھ میں کچھ نہ آیاکبیرؔ اور سورؔ میں رہتا ہے ٹنشناٹنشن اے دل ناداں اٹنشن
چپکے چپکے رات کو تشریف جب لاتا ہے چاندہر طرف دھرتی پہ کیسا نور برساتا ہے چاندپہلے دن کے چاند کو سب لوگ کہتے ہیں ہلالچودھویں تاریخ ہو تو بدر کہلاتا ہے چاندپر سکوں ماحول تارے کہکشاں ٹھنڈی ہوارات کی محفل میں اکثر رقص فرماتا ہے چاندجب گھٹا گھنگھور آتی ہے کبھی برسات میںاوڑھ کر سپنوں کی چادر شب میں سو جاتا ہے چاندکہتی ہے بچہ کو میرا چاند کہتے پیار سےاستعارہ پیار میں اک ماں کے بن جاتا ہے چاندہر گھڑی بیتاب ہیں ماما کے درشن کے لیےچھوٹے بچوں کے دلوں کو خوب بہلاتا ہے چاندتم کو بھی بچپن میں اے ابرارؔ کتنا پیار تھاجس طرح دانشؔ میاں کو آج کل بھاتا تھا چاند
درشن کے جھروکے کی پڑی تھی یہیں بنیادہوتی تھی تلا دان میں کیا کیا دہش و دادوہ عدل کی زنجیر ہوئی تھی یہیں ایجادجو سمع شہنشاہ میں پہنچاتی تھی فریادوہ نورجہاں اور جہانگیر کی افتاداس کاخ ہمایوں کو بہتفصیل ہے سب یاد
رہ گیا راہ میں جب کچھ بھی نہ کانٹوں کے سواتیرگی جھوٹ کی جب چھا گئی سچائی پرافق زندہ و پائندۂ ننکانہ سےہنس پڑی ایک کرن وقت کی تنہائی پر
جھکی جھکی نظروں سے پستکوںکو سینے سے لگائےدھک دھک کرتے دل کو سنبھالےکہیں آنکھیں چار نہ ہو جائیںلیب میں چور نظر سے گھستےکہ آج تو درشن ہو جائیںپر مدہوشی کا عالم تو دیکھیں کہنظریں ملیں تو شاید بے ہوش ہو جائیںای میل پر کھلے عام خط کی بات نہیں یہوہ کچرے میں پھینکا کاغذ بھی کئی تہوںمیں لگا کر سینے میں چھپائیںکوئی جان نہ لے ہماری اس خاموش محبت کوسوچ اس خیال سے ہی لال ہو جائےچھپ چھپ کر راشی پھل پڑھتےکہ شاید آج ملاقات ہو جائےہونٹوں کو سیے چپ چاپ گھومتےکہ بھول سے تیرا نام بھی لبوں پر نہ آ جائےایسی تھیں وہ محبتیں جہاں بنا دیکھےکئی صدیاں گزر جائیں
کتنے ہی لوگ آئے ہیں درشن کے واسطےطائر جو مر گیا ہے نشیمن کے واسطےبرطانیہ سے روس سے جاپان و مصر سےہر اک سفیر پھول چڑھانے کو آ گیالو چوڑیاں اتار للیتا بھی آ گئیبیٹا چتا کو آگ لگانے کو آ گیا
فکر و آلام کے بادل میں ہیں انوار حیاتروشنی کیا کسی تنویر کا پرتو بھی نہیںنوع انساں کی فضاؤں پہ ہے ظلمت کا جماؤشمع مہتاب کا کیا ذکر کوئی لو بھی نہیں
من کا میت ملا دےسجنی من کا میت ملا دےجس بن چین نہ موہے آئےپل چھن جس کی یاد ستائےکہاں ہے وہ بتلا دےسجنی من کا میت ملا دےدل کو میرے کھونے والیپیاری من کو موہنے والیسندر چھب دکھلا دےسجنی من کا میت ملا دےاس بن سونا ہے جگ سارامیرا من ہر پریتم پیاراروٹھ گیا ہے منا دےسجنی من کا میت ملا دےمیرا ہردے جس کا مندریاد ہے جس کی دل کے اندراس کا درشن کرا دےسجنی من کا میت ملا دےنینوں سے نج نین ملا کرنینوں میں بس جائے آکرسوئے بھاگ جگا دےسجنی من کا میت ملا دےجس سے کھنچ کر آئے بالمآ مجھ کو اپنائے بالمایسا منتر سکھا دےسجنی من کا میت ملا دےہوں میں آس لگائے بیٹھینینن دیپ جلائے بیٹھیشبھ سندیش سنا دےسجنی من کا میت ملا دے
ویرانے گلشن کب ہوں گےاب آپ کے درشن کب ہوں گے
زمانہ ہوا تیرے درشن کیےبہت چاک سینے کے میں نے سیئے
درشن کرنے اک دیوی کے ایک پجاری آیاسیس نوائے دیا جلایا اور چرنوں میں بیٹھ گیابپتا اپنی کہی نہ اس نے کوئی بھی فریاد نہ کیتکتے تکتے پھر دیوی کو کتنے ہی یگ بیت گئےدرشن کرنے اس دیوی کےجو بھی آتا سر کو جھکاتا پوجا کرتااور دنیا کی لوبھ میں لوبھیدنیا مانگتا رہ جاتاسادھو سنت فقیر سبھی یہ اس سے کہتےاے دیوانے کچھ تو مانگو تم دیوی سےوہ ہنستا اور کہتا ان سےپاپ اور پن کے چکر میں مت ڈالو مجھ کوجال ہیں یہ سب دنیا کےدنیا بس اک چھایا ہےاک استھان پہ رہنا اسے گوارا کب ہےگیتا اپنے پاس ہی رکھ لوامرت پیالہ تم ہی چکھومیں دیوانہ ہوں دیوی کا دیوی میری دیوانی ہے
دیسی اور بدیسی آ کرکھیلیں کودیں گائیں ڈل پرجل میں اس کے ناؤ چلائیںپھول کنول کے توڑ کے لائیںلہریں اس کی سندر سندرپھول کھلے ہیں اس کے تٹ پرپانی اس کا اجل نرملنکھرا ستھرا میٹھا شیتلچاروں اور اک پھلواری ہےہریالی ہی ہریالی ہےبوڑھے بچے اور نر ناریسب کو لگتی ہے یہ پیاریدرشن کرنے دنیا آئےسب کے من کو یہ بہلائے
میں جھونپڑیوں میں رہتا ہوں تیرا پل کے نیچے مسکندونوں میں طاق نہ محرابیں کیسی بیٹھک کیسا آنگنپل کے نیچے تاریکی سے کھیلی نہ کبھی سورج کی کرناور چاند دریچوں سے مجھ کو دینے آیا نہ کبھی درشن
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books