aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "dev-haikal"
اور تھک ہار کر واپسی میںسرکتے ہوئے ایک پتھر سے بچتے ہوئےاس طرف میں نے دیکھاتو ایسا لگایہ پہاڑی کسی دیو ہیکل فرشتے کا جوتا ہےتم کتھئی چھال کے تنگ موزے میںایک پیر ڈالےیہ جوتا پہننے کی کوشش میں لنگڑا رہے۔۔۔دوسری ٹانگ شایدکسی عالمی جنگ میں اڑ گئی ہے
جب رات بھیگ جاتی ہےتو اس کا نمکور بصر خوابوں کے سوکھے لبوں تک پہنچتا ہےاور تشنہ کام خوابوں کا دم ٹوٹنے سے ذرا پہلےان کو زندگی کی نوید سناتا ہےخواب جب موت کے دہانے سے پلٹ کر آتے ہیںتو زندگی ان کے رگ و پے میں سرعت سے دوڑتی ہےمہمیز شوق میں وہ اپنی بے بصری کو فراموش کیےتیز رفتاری کی آخری ممکنہ حد کو چھوتے ہوئےتعبیر کی منزل تک پہنچنا چاہتے ہیںموت کا سہم ان کے اعصاب شل کیے دیتا ہےبے بصری انہیں نظر نظر بھٹکاتی ہےزندگی کی بے ثباتی کا خوفدیو ہیکل جلاد کی صورت مجسم ہو کران کی شاہ رگ دبوچنے کے درپے ہوتا ہےوہ جانتے ہیںکہ چاہ کر بھی اس گرفت سےدیر تک اور دور تک آزاد نہیں رہ سکتےاسی خوف کے زیر اثرمیسر وقت میںوہ صدیوں کو لمحوں میں جی لینا چاہتے ہیںاور لمحوں سے صدیاں کشید کرنا چاہتے ہیں
جو صدیاں بچھڑ چکی ہیںمیں ان میں زندہ رہتی ہوںاور مجھے کوئی شرمندگی محسوس نہیں ہوتیسڑکوں پر تانگے کی ٹاپوں کی صدا اب بھی سنتی ہوںجیسے محو سفر ہوںاور ہوا میرے کانوں میں کچھ راز کہتی ہےپھر کسی گاڑی کے ہارن کی صدا پرچونک جاتی ہوںمیں جنگلوں کو تاراج کر کے سڑکیں بنتے دیکھتی ہوںاور بے جان بدن لیےجنگلوں کے نشان ڈھونڈھتی چلی جاتی ہوںیہ راتوں رات کنکریٹ سے بنتے ہوئے دیو ہیکل پلسڑکوں کو کشادہ کرنے کی خواہش میںتنگ ہوتا ہوا عرصۂ حیاتترقی کی آڑ میںروح کو گھائل کرنے والے سودےقطرہ قطرہ زندگی پینے والےبے بسی سے دہائی دیتے ہوئے انگنت لوگجن کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو روندتے ہوئےبڑے بڑے بلڈوزراور اب تو گٹر کی طرحابلے پڑے ٹریفک کے اس تعفن زدہ ہجوم میںکہیں پٹری کی سانسیں بھی اکھڑ رہی ہیںریل گاڑی کا انجن جانے کہاں رہ گیا ہےچپ چاپ بچھڑی صدیوں میں پناہ لیتے ہوئےمجھے شرمندگی محسوس نہیں ہوتی
جان لیکن اس قوی ہیکل کی اس کے گردن و سر میں نہ تھیجان تھی ٹخنوں میں اس کیاس کے ٹخنےسرد اور محفوظ تہہ خانے کی تہہ سے تھوڑا اوپردور تک پھیلے ہوئے بے روح ساحل پر عیاں تھےاور وہیں اک دل زدہ بیزار موسیٰؔشہر کی سب سے بڑی ہوٹل کی چھت کو چھو نہ سکنے سے خفیفنا بلد ٹخنوں کی کمزوری سے دیو عصر کیاپنے امکاں اور ارادے کے عصا کی ضرب سے نا آشنانیم مردہ سرد بے حس ریت پر سویا ہوا تھا
بیلوں پر ٹافی کھل جائےچائے کافی نل سے آئےبسکٹ ڈالی ڈالی جھولےبچہ بچہ جس کو چھو لےبگیا ہوگی کتنی پیاریلڈو ہوں جب کیاری کیاریبوندیں ٹپکے بوندیں بن کربرفی پھیلے گھر کی چھت پرحلوے کا بادل گھر آئےایسا کاش کبھی ہو جائےپیڑوں پر پیڑے لگ جائیںجب چاہیں ہم توڑ کے کھائیںہر جانب سوہن حلوہ ہوبالوشاہی کا جلوہ ہوجھرنا خیر کا بہتا جائےخوب جلیبی تیرتی آئےبیری پر جب ماریں پتھرکھیل بتاشے ٹپکیں دن بھربچہ کھائے بوڑھا کھائےایسا کاش کبھی ہو جائےقلفی کا مینار کھڑا ہوہر تارے میں کیک جڑا ہونکلیں جب سڑکوں پر گھر سےموتی چور کے لڈو برسےمیٹھے دودھ کی برساتیں ہوںپیٹھے کی سب سوغاتیں ہوںفالودے سے حوض بھرا ہولسی کا دریا بہتا ہوبارش آ کر رس برسائےایسا کاش کبھی ہو جائےنفرت ہو کڑوی بولی سےالفت ہو ہر ہمجولی سےشیریں کر دیں دنیا ساریپیار سے بھر دیں دنیا ساریدنیا میں ہر کام ہو شیریںاول آخر نام ہو شیریںسب سے حیدرؔ بولو میٹھامیٹھا کھا کر بولو میٹھاشیرینی ہونٹوں پر چھائےایسا کاش ابھی ہو جائے
چاندی کی انگوٹھی پہ جو سونے کا چڑھا جھولاوچھی تھی لگی بولنے اترا کے بڑا بولاے دیکھنے والو تمہی انصاف سے کہناچاندی کی انگوٹھی بھی ہے کچھ گہنوں میں گہناچاندی کی انگوٹھی کے نہ میں ساتھ رہوں گیوہ اور ہے میں اور یہ ذلت نہ سہوں گیمیں قوم کی اونچی ہوں بڑا میرا گھراناوہ ذات کی گھٹیا ہے نہیں اس کا ٹھکانامیری سی کہاں چاشنی میرا سا کہاں رنگوہ مول میں اور تول میں میرے نہیں پاسنگمیری سی چمک اس میں نہ میری سی دمک ہےچاندی ہے کہ ہے رانگ مجھے اس میں بھی شک ہےیہ سنتے ہی چاندی کی انگوٹھی بھی گئی جلاللہ رے ملمع کی انگوٹھی تیرے چھل بلسونے کی ملمع پہ نہ اترا میری پیاریدو دن میں بھڑک اس کی اتر جائے گی ساریکچھ دیر حقیقت کو چھپایا بھی تو پھر کیاجھوٹوں نے جو سچوں کو چڑھایا بھی تو پھر کیامت بھول کبھی اصل تو اپنی اری احمقجب تاؤ دیا جائے گا ہو جائے گا منہ فقسچے کی تو عزت ہی بڑھے گی جو کریں جانچمشہور مثل ہے کہ نہیں سانچ کو کچھ آنچکھونے کو کھرا بن کے نکھرنا نہیں اچھاچھوٹے کو بڑا بن کے ابھرنا نہیں اچھا
وہ چائے کی پیالی پہ یاروں کے جلسےوہ سردی کی راتیں وہ زلفوں کے قصےکبھی تذکرے حسن شعلہ رخاں کےمحبت ہوئی تھی کسی کو کسی سےہر اک دل وہاں تھا نظر کا نشانہبہت یاد آتا ہے گزرا زمانہبہت اپنا انداز تھا لاابالیکبھی تھے جلالی کبھی تھے جمالیکبھی بات میں بات یوں ہی نکالیسر راہ کوئی قیامت اٹھا لیکسی کو لڑانا کسی کو بچانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہکبھی سچی باتوں کو جھوٹا بتایاکبھی جھوٹی باتوں کو سچ کر دکھایاکبھی راز دل کہہ کے اس کو چھپایاکبھی دوستوں میں یوں ہی کچھ اڑایابتا کر چھپانا چھپا کر بتانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہکبھی بزم احباب میں شعلہ افشاںکبھی یونین میں تھے شمشیر براںکبھی بزم واعظ میں تھے پا بہ جولاںبدلتے تھے ہر روز تقدیر دوراںجہاں جیسی ڈفلی وہاں ویسا گانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہزمانہ تھا وہ ایک حیوانیت کاوہ دور ملامت تھا شیطانیت کاہمیں درد تھا ایک انسانیت کااٹھائے علم ہم تھے حقانیت کابڑھے جا رہے تھے مگر باغیانہبہت یاد آتا ہے گزرا زمانہمقابل میں آئے جسارت تھی کس کوکوئی روک دے بڑھ کے ہمت تھی کس کوپکارے کوئی ہم کو طاقت تھی کس کوکہ ہر بوالہوس کو تھے ہم تازیانہبہت یاد آتا ہے گزرا زمانہخیالات پر شوق کا سلسلہ تھابدل دیں زمانے کو وہ حوصلہ تھاہر اک دل میں پیدا نیا ولولہ تھاہر اک گام احباب کا قافلہ تھاادھر دعویٰ کرنا ادھر کر دکھانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہوہ شہہ راہ میرس کے پر پیچ چکروہ شمشاد بلڈنگ پہ اک شور محشروہ مبہم سی باتیں وہ پوشیدہ نشتروہ بے فکر دنیا وہ لفظوں کے دفترکہ جن کا سرا تھا نہ کوئی ٹھکانہبہت یاد آتا ہے گزرا زمانہکسی کو ہوئی تھی کسی سے محبتکوئی کر رہا تھا کسی کی شکایتغرض روز ڈھاتی تھی تازہ قیامتکسی کی شباہت کسی کی ملامتکسی کی تسلی کسی کا ستانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہکوئی غم زدہ تھا کوئی ہنس رہا تھاکوئی حسن ناہید پر مر مٹا تھاکوئی چشم نرگس کا بیمار سا تھاکوئی بس یوں ہی تاکتا جھانکتا تھاکبھی چوٹ کھانا کبھی مسکرانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہوہ ہر جنوری میں نمائش کے چرچےوہ پر شوق آنکھیں وہ حیران جلوےوہ چکر پہ چکر تھے بارہ دری کےوہ حسرت کہ سو بار مل کر بھی ملتےہزاروں بہانوں کا وہ اک بہانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہوہ رخ آفتابی پہ ابرو ہلالیوہ تمثال سیمیں وہ حسن مثالیشگوفوں میں کھیلی گلابوں میں پالیوہ خود اک ادا تھی ادا بھی نرالینگاہیں بچا کر نگاہیں ملا کربہت یاد آتا ہے گزرا زمانہوہ ہرچند مجھ کو نہیں جانتی تھیمگر میری نظروں کو پہچانتی تھیاگرچہ مرے دل میں وہ بس گئی تھیمگر بات بس دل کی دل میں رہی تھیمگر آج احباب سے کیا چھپانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہوہ اک شام برسات کی دن ڈھلا تھاابھی رات آئی نہ تھی جھٹپٹا تھاوہ باد بہاری سے اک گل کھلا تھادھڑکتے ہوئے دل سے اک دل ملا تھانظر سن رہی تھی نظر کا فسانہبہت یاد آتا ہے گزرا زمانہجوانی اداؤں میں بل کھا رہی تھیکہانی نگاہوں میں لہرا رہی تھیمحبت محبت کو سمجھا رہی تھیوہ چشم تمنا جھکی جا رہی تھیقیامت سے پہلے قیامت وہ ڈھانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہہمیں بیتی باتیں جو یاد آ رہی تھیںوہ مخمور نظریں جو شرما رہی تھیںبہت عقل سادہ کو بہکا رہی تھیںبڑی بے نیازی سے فرما رہی تھیںانہیں یاد رکھنا ہمیں بھول جانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہاب وہ امنگیں نہ دل میں مرادیںاب رہ گئیں چند ماضی کی یادیںیہ جی چاہتا ہے انہیں بھی بھلا دیںغم زندگی کو کہاں تک دعا دیںحقیقت بھی اب بن گئی ہے فسانہبہت یاد آتا ہے گزرا زمانہعلی گڑھ ہے بڑھ کر ہمیں کل جہاں سےہمیں عشق ہے اپنی اردو زباں سےہمیں پیار ہے اپنے نام و نشاں سےیہاں آ گئے ہم نہ جانے کہاں سےقسم دے کے ہم کو کسی کا بلانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہمحبت سے یکسر ہے انجان دنیایہ ویران بستی پریشان دنیاکمال خرد سے یہ حیران دنیاخود اپنے کیے پر پشیمان دنیاکہاں لے کے آیا ہمیں آب و دانہبہت یاد آتا ہے گزرا زمانہ
میں کہانی کے محل میں اترتی گئیپریاں دیو غلام سہیلیاں شہزادےتتلیاں بھونرے فوارےحسین نظارے دیوتا کی محبتراکشس کی شرارتپتہ ہی نہیں چلاکب ماں کی آواز ڈوبتی چلی گئیکب مجھے نیند لگ گئیاب جاگنے لگی ہوںتو حیرت میں ہوںکہ میں کہانی میں ہوںیا کہانی مجھ میں
مجھے حیرت ہےکہتے ہو کہہاتھی ایک ہی پاؤں کا مالک ہےجسے تھامے ہوئے بیٹھے ہواپنے دونوں ہاتھوں سےاٹھا کر پھینک دے غصے کے عالم میں تو جانو گےکہ وہ پاؤں نہیں خرطوم ہے اس کا
میں اس کے نام کی مہندیسجا کر اپنے ہاتھوں پرانہیں تا دیر تکتی ہوںکہ جتنا پیار وہ کرتا ہے رنگ اتنا ہی گہرا ہومگر یہ دیکھ کر حیران ہوتی ہوںنہ جانے کیوںمرے ہاتھوں پہ ہر مہندی کا رنگ کچا ہی آتا ہے
کچھ دیر کوپرس کندھے سے اتاروگاڑی کی چابیاتنی حفاظت سے رکھوکہ ڈھونڈنے میں وقت لگےمجبوراً رکنا پڑےآؤان لمحوں میں گھر کر لیںوہ جو تم کو نہ کر سکیںآج کر ڈالوبرسوں کے خوابدماغ جو ایک لمحہ میںخواب کرتا ہےحقیقت کر ڈالوانعام میں جو ملےکوکھ میں صدیوں بعدجنم دینے کو چھپا رکھناآنے والے وقتوں میںشاید ہمصرف عجائب گھروں میں ملیں
ماں نے بچے کو یہ سمجھایا بہت دیر تلکاے نئے سال ترے جشن طرب کا مطلبسال نویعنی کہ خوشیوں کا ہے اک سیل رواںاب نہ افلاس کے آنسو ہوں گےاور ہوں گے نہ کسی شہر میںدہشت کے نشاںرخ معصوم پہ حیرت کی لکیریں ابھریںاور پھر ڈوب گئیںماں نے شاید ابھی اخبار نہیں دیکھا ہے
خداوندامری مجہول فطرت پرمنڈھی ہے کینچلی کیسیکہ جس پر ناخن تدبیر کا جادو نہیں چلتاسبھی آلات جراحی کو میں نے آزمایا ہےمگر وہ کینچلی ہے ہستیٔ خود کی عجب عاشقچپک کر رہ گئی ہے جومرے ٹھنڈے مساموں سےخداوندامری مجہول فطرت کوحقیقت آشنا کر دےسراپا آئینہ کر دے
اپنے خوابوں کو جو تعبیر نہیں دے پاتاجو بدل سکتا نہیں ان کو حقیقت میں کبھیوہ یہاں راندۂ درگاہ ٹھہر جاتا ہےایسے افراد کہ جوخواب کی تعبیر پہ ہوتے ہیں مصرکاش بس اتنی حقیقت ہی سے واقف ہو جائیںکم نہیں خواب کی تعبیر سے کچھ قیمت خوابلذت خواب
میں بندی قربانضد نہیں کرتے میری جانکھیل کھلونے کاٹھ کے بونےسب کے سب حیرانضد نہیں کرتے میری جانرونی صورت کیا سوچیں گےگھر آئے مہمانضد نہیں کرتے میری جاندادی نے فرمائش پوری کر دیآن کی آنضد نہیں کرتے میری جانلو بیٹھک میں دوڑ کے دے آؤدادا کو پاناب تو ہنس دو میری جان
کوزہ گرروز و شبرقص کرتے ہوئے چاک پرگیلی مٹی کا تودہ ہوں میںتیرا ذوق نظرتیرا دست ہنرجیسی ہیئت مجھے چاہے دےہاں مگرتیرا فن بھیپرکھ کے عمل سے نہیں بالاتریاد اتنا رہےکوزہ گر
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میںضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہواسے آواز دینی ہو اسے واپس بلانا ہوہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میںمدد کرنی ہو اس کی یار کی ڈھارس بندھانا ہوبہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہوہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میںبدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہوکسی کو یاد رکھنا ہو کسی کو بھول جانا ہوہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میںکسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہوحقیقت اور تھی کچھ اس کو جا کے یہ بتانا ہوہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں۔۔۔۔۔
ماہ و سال سے تھوڑا ہٹ کےدشت اور در سے دورہجر وصال کی زد سے باہررات اور دن کے پارکبھی فرصت سے مل یار
میں کار جہاں سے نہیں آگاہ ولیکنارباب نظر سے نہیں پوشیدہ کئی رازکر تو بھی حکومت کے وزیروں کی خوشامددستور نیا اور نئے دور کا آغازمعلوم نہیں ہے یہ خوشامد کہ حقیقتکہہ دے کئی الو کو اگر رات کا شہباز
تھوڑی دیر کو ساتھ رہے کسی دھندلے شہر کے نقشے پرہاتھ میں ہاتھ دیے گھومے کہیں دور دراز کے رستے پربے پردہ استھانوں پر دو اڑتے ہوئے گیتوں کی طرحغصے میں کبھی لڑتے ہوئے کبھی لپٹے ہوئے پیڑوں کی طرحاپنی اپنی راہ چلے پھر آخر شب کے میداں میںاپنے اپنے گھر کو جاتے دو حیراں بچوں کی طرح
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books