aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "dhanda"
جو ہم سے کہو ہم کرتے ہیں کیا انشاؔ کو سمجھانا ہےاس لڑکی سے بھی کہہ لیں گے گو اب کچھ اور زمانا ہےیا چھوڑیں یا تکمیل کریں یہ عشق ہے یا افسانا ہےیہ کیسا گورکھ دھندا ہے یہ کیسا تانا بانا ہےیہ باتیں کیسی باتیں ہیں جو لوگوں نے پھیلائی ہیںتم انشاؔ جی کا نام نہ لو کیا انشاؔ جی سودائی ہیں
پہلی آوازاب سعی کا امکاں اور نہیں پرواز کا مضموں ہو بھی چکاتاروں پہ کمندیں پھینک چکے مہتاب پہ شب خوں ہو بھی چکااب اور کسی فردا کے لیے ان آنکھوں سے کیا پیماں کیجےکس خواب کے جھوٹے افسوں سے تسکین دل ناداں کیجےشیرینیٔ لب خوشبوئے دہن، اب شوق کا عنواں کوئی نہیںشادابیٔ دل تفریح نظر اب زیست کا درماں کوئی نہیںجینے کے فسانے رہنے دو اب ان میں الجھ کر کیا لیں گےاک موت کا دھندا باقی ہے جب چاہیں گے نپٹا لیں گےیہ تیرا کفن وہ میرا کفن یہ میری لحد وہ تیری ہے
افکار معیشت کےفرصت ہی نہیں دیتےمیں چاہتا ہوں دل سےکچھ کسب ہنر کر لوںگلہائے مضامیں سےدامان سخن بھر لوںہے بخت مگر واژوںفرصت ہی نہیں ملتیفرصت کو کہاں ڈھونڈوںفرصت ہی کا رونا ہےپھر جی میں یہ آتی ہےکچھ عیش ہی حاصل ہودولت ہی ملے مجھ کووہ کام کوئی سوچوںپھر سوچتا یہ بھی ہوںیہ سوچنے کا دھندافرصت ہی میں ہونا ہےفرصت ہی نہیں دیتےافکار معیشت کے
مرے دادا جو برٹش فوج کے نامی بھگوڑے تھےنہ جانے کتنی جیلوں کے انہوں نے قفل توڑے تھےچرس کا اور گانجے کا وہ کاروبار کرتے تھےخدا سے بھی نہیں ڈرتے تھے بس بیگم سے ڈرتے تھےمرے تائے بھی اپنے وقت کے مشہور چیٹر تھےکئی جیلوں کے تو وہ ہاف ایرلی بھی وزیٹر تھےہر اک غنڈہ انہیں گھر بیٹھے غنڈہ ٹیکس دیتا تھاتجوری توڑنے کا فن انہیں سے میں نے سیکھا تھاچچا مرحوم ناسک جیل سے جب واپس آئے تھےتو مشہور زمانہ اک طوائف ساتھ لائے تھےوہ ٹھمری دادرا اور بھیرویں میں بات کرتی تھیترنم میں ثریا اور لتا کو مات کرتی تھیمرے والد خدا بخشے کہیں آتے نہ جاتے تھےسحر سے شام تک اماں کے آگے دم ہلاتے تھےتھی اک بکرے نما براق داڑھی ان کے چہرے پرمگر پھر بھی کبڈی کھیلتے تھے رات کو اکثرمیں اپنے باپ دادا کے ہی نقش پا پہ چلتا ہوںمگر بس فرق اتنا ہے وہ غنڈے تھے میں نیتا ہوںپولس پیچھے تھی ان کے تھرڈ ڈگری کی ضیافت کومرے پیچھے بھی رہتی ہے مگر میری حفاظت کونہیں پروا کہ لیڈر کون اچھا کون گندہ ہےسیاست میری روزی ہے الیکشن میرا دھندہ ہےسیاست میں قدم رکھ کر حقیقت میں نے یہ جانیچرا کارے کند عاقل کہ باز آید پشیمانی
اتنی گزری ہے گراں چیزوں کی ارزانی مجھےہو گیا ہے تازہ سودائے غزل خوانی مجھےدودھ میں بالکل نظر آتا نہیں پانی مجھےدل نے کر رکھا ہے محو صد پریشانی مجھے''اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں''کام دھندا کچھ نہیں دل کس طرح بہلاؤں میںکیوں نہ لیڈر بن کے ساری قوم کو بہکاؤں میںجب نہیں دھندا تو چندا ہی کروں اور کھاؤں میںاسکریننگ کی کمیٹی کے نہ ہاتھ آ جاؤں میں''اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں''کیوں نہ اڈیٹر بنوں اخبار گوہر بار کااور قلم کو روپ دوں چلتی ہوئی تلوار کاہاتھ میں شملہ ہو سب اشراف کی دستار کامارشل لا میں مگر پہلا ہے ٹکڑا مار کا''اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں''سوچتا ہوں پھر کہ حج کر آؤں اسمگلر بنوںمال دین و مال دنیا کا بڑا ڈیلر بنوںملک کے اندر بنوں یا ملک کے باہر بنوںالغرض جو کچھ بنوں میں فوج سے بچ کر بنوں''اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں''کیا خبر تھی قیمتیں یوں ہوں گی سستی ایک دن''رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن''چور بازاری کی مٹ جائے گی ہستی ایک دنہوگی شیورولیٹ پہ بھی ٹو لیٹ کی تختی ایک دن''اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں''بحر کے سینے سے سونا تک اگلوایا گیاگندم خلوت نشیں بازار میں لایا گیااور ذخیرہ باز سے چکی میں پسوایا گیانفع خوروں کا دوالہ تک نکلوایا گیا''اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں''ہائے کشکول گدائی لے کے اب جائے گا کونلال گندم لا کے ہم کالوں کو کھلوائے گا کونجس کو امریکی سور کھاتے تھے وہ کھائے گا کونساتھ میں گندم کے مسٹر گھن کو پسوائے گا کون''اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں''غیر ملکی مال کو روتی ہیں اب تک بیبیاںاور ہر امپورٹ کے لائسنس کو ان کے میاںغیر بنکوں میں جو دولت ہے وہ آئے گی یہاں''یاد تھیں ہم کو بھی رنگا رنگ بزم آرائیاں''''اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں''یا میں سب کچھ چھوڑ دوں اور چور بازاری کروںزندگی کی فلم میں ایسی اداکاری کروںدونوں ہاتھوں سے کما کر عذر ناداری کروںجب حکومت ٹیکس مانگے آہ اور زاری کروں''اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں''
خالی کمرہگہری سانسیںکمرے کے اک کونے میں اک ٹوٹی پھوٹی میزمیز پہ دنیا بھر کا گورکھ دھنداکاٹھ کباڑکاٹھ کباڑ سے تھوڑا آگے ترچھا پیپر ویٹپیپر ویٹ کے نیچے کاغذکاغذ پر لفظوں کا ڈھیرڈھیر کے پاس اک ٹوٹی عینکعینک کے شیشوں کے پیچھے موٹے موٹے حرفعینک کے شیشوں سے آگے نیلے پیلے کالے دھبےدھبوں میں اوندھے منہ لیٹی عیش ٹرے میں مردہ سانسیں بجھتی سگریٹاور ماچس کی آدھی تیلیماچس کی تیلی پہ چپکا چائے کا چھلکااور اک ٹوٹی ڈنڈی کا کپکپ سے آگے میز کا کونامیز سے آگے جھولتی کرسیکرسی پر اک شخصشخص بھی وہ جس کی آنکھوں میں دنیا بھر کا دکھدنیا بھر کے دکھ کا حاصلدنیا بھر کا دکھ!!
سب سے پہلے عشق میں انگلی ہی پکڑی جائے ہےرفتہ رفتہ پھر کہیں پہنچے کا نمبر آئے ہےروز مجھ کو وعدۂ فردا پہ جو ٹرخائے ہےمیں تری چالوں کو سمجھوں ہوں مجھے بہلائے ہےوہ تو سچ مچ قتل کے میداں میں ہیں خنجر بکفاب نہ ٹھہرا جائے ہے مجھ سے نہ بھاگا جائے ہےدل تو دل ہاں جان کھو کر بھی نہ پایا آپ کوہم تو سنتے آئے ہیں جو کھوئے ہے وہ پائے ہےدیکھ ہاتھا پائی کی نوبت نہ آ جائے کہیںکیا تری شامت نہ گھیرا ہے جو تو شرمائے ہےان کی چاہت تھی مجھے اب میری چاہت ہے انہیںحسن بھی تو عشق کے سانچے میں ڈھلتا جائے ہےتجھ سے تیری زلف سے دونوں پریشاں ہو گئےمجھ کو تو لٹکائے ہے اور دل کو وہ لٹکائے ہےمجھ سے یہ کہہ کر سفارش کر رہے ہیں غیر کیہائے بیچارہ ہمیشہ ٹاپتا رہ جائے ہےارض دل سن کر عجیب انداز سے کہنے لگےمیری سنتا ہی نہیں بس اپنی اپنی گائے ہےکچھ مری تدبیر سے کچھ غیر کی تقدیر سےکام بنتا ہے مگر بن بن کے بگڑا جائے ہےشربت دیدار کی امید ان سے کیا کریںاب شکر ملتی نہیں ہے صرف گڑ کی چائے ہےجاگنا اور انتظار یار کرنا ہے فضولروز کا دھندا ہے یہ وہ آئے ہے نہ جائے ہےاک جھلک دکھلا کے تو ہفتوں کو پنہاں ہو گیامجھ پہ میرے یار کیوں جھوٹا کرم فرمائے ہےبات قابو کی نہیں ہے اب تو میں مجبور ہوںکیا طبیعت کو سنبھالوں دل تو پھسلا جائے ہےمیں نے مانا شعر میرے کچھ نہیں پھر بھی ظریفؔکچھ نہ کچھ محفل کا ان سے رنگ تو جم جائے ہے
سورج نے کہا ہے ہم سےہم سب کو بچائیں غم سےدنیا میں ہمارے دم سےبہیں روشنیوں کے دھارےکوئی چاند کہے کوئی چندایہ دل ہے پیار کا بندہہے پیار ہی اپنا دھنداہمیں سب لگتے ہیں پیارے
انٹرنیٹ استھان پہ بیٹھی خواب کی ملکہ!مخمل سی پوروں سے کتنے روز بنو گی؟خواب کی ریکھارنگ رنگیلے بیر بہوٹی جیسے لفظوں کی انگنائیجلتی بجھتی تصویروں کی خواب سرائیثابت انگوروں کے دانوں جیسیدنیا کی یہ ہوش ربائیتنہائی کی گاگر سے پھر لمحہ چھلکاانٹرنیٹ استھان پہ بیٹھی خواب کی ملکہ!دور کسی کیفے میں بیٹھےخواہش اور محبت کے یہ اجلے سائنیہ جلتے ہونٹوں کے خطیہ ہنسنا روناسب کچھ آدھا سچ ہےآدھے سچ میں ڈوب مرو گیگورکھ دھندا بس اک پل کاانٹرنیٹ استھان پہ بیٹھی خواب کی ملکہ!چیٹینگ روم میںسرد دلوں کے رش میں گھٹتی سانسیںانسانوں کے چہرے پہنےجذبے کھائیں روح چبائیںتنہائی کے روپ رنگیلے رقص دکھائیںحرفوں کے بجھتے انگارےکتنے دن تک اور چنوگی؟پیاس تو مانگے رستہ جل کاانٹرنیٹ استھان پہ بیٹھی خواب کی ملکہ!
سنئے یہ ایک قصہگڈو کی سادگی کاگڈو کے ماسٹر نےاک دن یہ اس سے پوچھاگڈو میاں تمہارےپاپا کا کیا ہے پیشہپیشہ کا لفظ سن کرگڈو نہ کچھ بھی سمجھاآسان ڈھنگ سے پھریوں ماسٹر نے پوچھاگڈو تمہارے فادرکا کیا ہے کام دھنداگڈو نے خامشی سےکچھ دیر تک تو سوچاپھر توتلی زباں میںآہستگی سے بولارہتے نہیں ہیں گھر میںدن کو تو میرے پاپاممی ہی صرف میریکرتی ہے کام سارا
گڑیا ہماری جوان ہےاب اس کی شادی کا دھیان ہےاچھا سا گڈا دکھاؤ جیرشتہ کوئی اچھا لاؤ جیگڑیا ہے اٹھارہ سال کیمالک ہے حسن و جمال کیتعلیم بھی اس نے پائی ہےاور محنتی انتہائی ہےگڈا ہو اکیس سال کاخوش خلق اچھے خیال کاگورا ہو یا سانولا ہو وہکیا دیکھنا اس کے رنگ کوکرتا نہ ہو وہ نشہ کوئیکرتا ہو دھندہ یا نوکریپاؤں پہ اپنے کھڑا ہو وہاچھا سنبھالے جو بیوی کوہو فکر اس کو سماج کیاور اپنے بھی کام کاج کیلالچ کبھی نہ ہو جہیز کیایسا کوئی گڈا لاؤ جیگڑیا کا حق جو ادا کرےاپنے برابر کا درجہ دےہر بات اگر تم نے مان لیٹھہرا لو تاریخ عقد کی
شرارت کی پتلی تھی باجی کی منیوہ اتنی سی فتنی تھی باجی کی منیادھر اور ادھر تھی وہ بس آتی جاتییوں ہی پھرتی رہتی وہ ڈنڈے بجاتیکبھی بے کہے چیز اس کی اٹھا لینہ پوچھا گچھا منہ میں رکھ جھٹ سے کھا لیکبھی منہ بنایا کبھی منہ چڑھایاکبھی پاس بیٹھے ہوئے کو ہٹایاکبھی بال نوچے کبھی چٹکیاں لیںکبھی پن چبھو دی کبھی گھڑکیاں دیںکبھی اس سہیلی کا جوتا چھپایاکبھی اس سہیلی کا حلوہ اڑایاکتاب اس کی پھاڑی دوات اس کی توڑیغرض کوئی باقی شرارت نہ چھوڑیشرارت سے بس بوٹی بوٹی بھری تھیوہ منی شرارت کی اک پھلجھڑی تھیکڑھائی بنائی نہ کھانا پکانانہ سینا پرونا نہ پڑھنا پڑھاناوہ گھر کا کوئی کام دھندا نہ کرتییوں ہی سارے دن گھر میں بیکار پھرتیکہانی یہ منی کی ہے خوب نیرؔپڑھی جائے گی شوق سے خوب گھر گھر
لاؤ مجھ کو دکھلاؤ توآنکھوں میں ہیں کیسے خوابکچے ہیں یا پکے خواباچھا ان کے دام بتاؤدیکھو اتنا ذہن میں رکھنااس بازار میں خوابوں کے اب دام گرے ہیںسچ سچ میں اک بات بتاؤںبرسوں پہلے میں نے بھی یہ کام کیا تھاخواب بنے تھے خواب تھے بیچےمجھ کو تو یہ گورکھ دھندا راس نہ آیانیند گنوائی چین گنوایادیکھو میرا کہنا مانوایسا کاروبار نہ کرناخوابوں کا بیوپار نہ کرناایسے کاروبار میں اکثرگھاٹا سہنا پڑتا ہےکچے سپنے ٹوٹ گریں توآنکھیں چھلنی کرتے ہیںنیند کا پنچھی کھو جاتا ہےجینا مشکل ہو جاتا ہے
دیکھو دیکھو بھالو آیااپنے ساتھ مداری لایاچھوٹے چھوٹے بچے آئےآٹا پیسہ ساتھ وہ لائےسب کو کھیل تماشہ پیاراجیون کا یہ ایک سہارابول اٹھا لو ڈمرو والاپیچھے پیچھے ہو لو لا لادیکھو کسی کو کاٹ نہ کھائیںہم مزدور نہ مارے جائیںکالو لالو کا یہ جوڑاتاؤ جی کچھ ہٹ کے تھوڑابول رہا ہے بھالو والادیکھ رہے ہیں خالو خالہچرخہ بھی وہ اچھا کاتےہنستے ہنستے بل پڑ جاتےبھوکا پیٹ دکھاتا ہے وہسب کو خوب ہنساتا ہے وہپھیر کے ہم کو ہاتھ بتاتاسو کر اس جا وہ مر جاتاپھر اٹھتا ہے کہتا ہے وہسارے دکھ سکھ سہتا ہے وہسب کچھ ہے یہ پیٹ کا دھندہورنہ ان کا حال ہے مندہ
کیا کھائے کیا خیرات کرے اک نمبر والا بندہ جیدو نمبر بن کب چلتا ہے یہ دھرم کرم کا دھندا جیدن رات چلے جو لنگر جی یہ چڑھت چڑھاوا جو بھی ہےسب برکت نمبر دو کی ہے سب برکت نمبر دو کی ہے
تو نے جس وقت یہ انسان بنایا یا رباس گھڑی مجھ کو تو اک آنکھ نہ بھایا یا رباس لیے میں نے سر اپنا نہ جھکایا یا ربلیکن اب پلٹی ہے کچھ ایسی ہی کایا یا ربعقل مندی ہے اسی میں کہ میں توبہ کر لوںسوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوںابتداءً تھی بڑی نرم طبیعت اس کیقلب و جاں پاک تھے شفاف تھی طینت اس کیپھر بتدریج بدلنے لگی خصلت اس کیاب تو خود مجھ پہ مسلط ہے شرارت اس کیاس سے پہلے کہ میں اپنا ہی تماشا کر لوںسوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوںبھر دیا تو نے بھلا کون سا فتنہ اس میںپکتا رہتا ہے ہمیشہ کوئی لاوا اس میںایک اک سانس ہے اب صورت شعلہ اس میںآگ موجود تھی کیا مجھ سے زیادہ اس میںاپنا آتش کدۂ ذات ہی ٹھنڈا کر لوںسوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوںاب تو یہ خوں کے بھی رشتوں سے اکڑ جاتا ہےباپ سے بھائی سے بیٹے سے بھی لڑ جاتا ہےجب کبھی طیش میں ہتھے سے اکھڑ جاتا ہےخود مرے شر کا توازن بھی بگڑ جاتا ہےاب تو لازم ہے کہ میں خود کو ہی سیدھا کر لوںسوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوںمیری نظروں میں تو بس مٹی کا مادھو تھا بشرمیں سمجھتا تھا اسے خود سے بہت ہی کمترمجھ پہ پہلے نہ کھلے اس کے سیاسی جوہرکان میرے بھی کترتا ہے یہ لیڈر بن کرشیطنت چھوڑ کے میں بھی یہی دھندا کر لوںسوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوںاب جھجھکتا ہے نہ ڈرتا ہے نہ شرماتا ہےنت نئی فتنہ گری روز یہ دکھلاتا ہےاب یہ ظالم میرے بہکاوے میں کب آتا ہےمیں برا سوچتا رہتا ہوں یہ کر جاتا ہےکیا ابھی اس کی مریدی کا ارادہ کر لوںسوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوںاب جگہ کوئی نہیں میرے لیے دھرتی پرمیرے شر سے بھی سوا ہے یہاں انسان کا شراب تو لگتا ہے یہی فیصلہ مجھ کو بہتراس سے پہلے کہ پہنچ جائے یاں سوپر پاورمیں کسی اور ہی سیارے پہ قبضہ کر لوںسوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوںظلم کے دام بچھائے ہیں نرالے اس نےنت نئے پیچ عقائد میں بھی ڈالے اس نےکر دئے قید اندھیروں میں اجالے اس نےکام جتنے تھے مرے سارے سنبھالے اس نےاب تو خود کو میں ہر اک بوجھ سے ہلکا کر لوںسوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوںاستقامت تھی کبھی اس کی مصیبت مجھ کواپنے ڈھب پر اسے لانا تھا قیامت مجھ کوکرنی پڑتی تھی بہت اس پہ مشقت مجھ کواب یہ عالم ہے کہ دن رات ہے فرصت مجھ کواب کہیں گوشہ نشینی میں گزارہ کر لوںسوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوںمست تھا میں تیرے انساں کی حقارت کر کےخود پہ نازاں تھا بہت تجھ سے بغاوت کر کےکیا ملا مجھ کو مگر ایسی حماقت کر کےاب یہی کہتا ہوں میں خود پہ ملامت کر کےکیا یہ ممکن ہے کہ پھر تیری اطاعت کر لوںسوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں
ایک دن میں نے کہا یہ ایک جوتے چور سےجوتیوں پر کیوں ہمیشہ تیری رہتی ہے نظراور بھی گر ہیں کئی روزی کمانے کے لئےچھوڑ یہ چوری کے دھندے کوئی اچھا کام کرسن کے میری بات یہ اس نے دیا ہنس کر جوابتم تو بالکل چونچ ہو تم کو نہیں کچھ بھی خبراس سے بڑھ کر کون سا دھندا ہے انٹرنیشنلشہرۂ آفاق عالمگیر ہے اپنا ہنرچپہ چپہ چور بازاری کا ہے بازار گرمچل رہا ہے ہر جگہ دھندا یہی شام و سحرہر جگہ چوری کا چرچا ہر جگہ ہے لوٹ ماردن دہاڑے لٹ رہا ہے ہر طرف فرد بشرپھر گرانی کی گرانباری سے پتلا حال ہےشیونگ اسٹک کی وہ قیمت ہے کہ منڈھ جاتا ہے سریہ وہ دھندا ہے بری ہے قید انکم ٹیکس سےیہ وہ پیشہ ہے نہیں جس پر گرانی کا اثراس میں فرقہ واریت ہے اور نہ صوبہ واریتبین الاقوامی ہماری ہے مصفیٰ رہگزرشرط اتنی ہے کہ ہو ایسی صفائی ہاتھ میںایک جنبش میں چلے جوتا ادھر پاؤں ادھرجو صفایا قوم کا کر دے وہی لیڈر ہے آجہو صفائی ہاتھ میں جس کے وہ ہے اہل ہنراور بھی اس کے علاوہ سینکڑوں ایسے ہیں چورڈالتے رہتے ہیں جو ڈاکے پہ ڈاکے بے خطربعض ایسے ہیں چرا لیتے ہیں مضموں شعر کےاور کہہ لیتے ہیں اپنا شعر ڈاکا ڈال کرتم بھی تو چوری چھپے ان گنت کرتے ہو گناہڈالتے رہتے ہو ہر سو تم بھی دزدیدہ نظرجوتیاں چٹخاتے تم پھرتے ہو روزی کے لئےاپنی روزی ہم کما لیتے ہیں جوتے مار کر
کتنی بار یہ تالے ٹوٹےمہریں چن چن لے جائیں گے سانس کنوارےدھندا کروٹدھندا آہٹ گویا سوچ ہے تانے بانےوقت پرانے پہلو پہلو نئے ٹھکانےکون سی ایسی جنس یہاںجو اب بھی مہنگیمہنگے سکے سینکڑوں گودیںخوشی مناؤ دیے جلاؤچاندی سونا ناطہ جوڑے
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہےپر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہےقدسی الاصل ہے رفعت پہ نظر رکھتی ہےخاک سے اٹھتی ہے گردوں پہ گزر رکھتی ہےعشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مراآسماں چیر گیا نالۂ بیباک مراپیر گردوں نے کہا سن کے کہیں ہے کوئیبولے سیارے سر عرش بریں ہے کوئیچاند کہتا تھا نہیں اہل زمیں ہے کوئیکہکشاں کہتی تھی پوشیدہ یہیں ہے کوئیکچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھامجھ کو جنت سے نکالا ہوا انساں سمجھاتھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیاعرش والوں پہ بھی کھلتا نہیں یہ راز ہے کیاتا سر عرش بھی انساں کی تگ و تاز ہے کیاآ گئی خاک کی چٹکی کو بھی پرواز ہے کیاغافل آداب سے سکان زمیں کیسے ہیںشوخ و گستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیںاس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہےتھا جو مسجود ملائک یہ وہی آدم ہےعالم کیف ہے دانائے رموز کم ہےہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہےناز ہے طاقت گفتار پہ انسانوں کوبات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کوآئی آواز غم انگیز ہے افسانہ ترااشک بیتاب سے لبریز ہے پیمانہ تراآسماں گیر ہوا نعرۂ مستانہ تراکس قدر شوخ زباں ہے دل دیوانہ تراشکر شکوے کو کیا حسن ادا سے تو نےہم سخن کر دیا بندوں کو خدا سے تو نےہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیںراہ دکھلائیں کسے رہرو منزل ہی نہیںتربیت عام تو ہے جوہر قابل ہی نہیںجس سے تعمیر ہو آدم کی یہ وہ گل ہی نہیںکوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیںڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیںہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیںامتی باعث رسوائی پیغمبر ہیںبت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیںتھا براہیم پدر اور پسر آزر ہیںبادہ آشام نئے بادہ نیا خم بھی نئےحرم کعبہ نیا بت بھی نئے تم بھی نئےوہ بھی دن تھے کہ یہی مایۂ رعنائی تھانازش موسم گل لالۂ صحرائی تھاجو مسلمان تھا اللہ کا سودائی تھاکبھی محبوب تمہارا یہی ہرجائی تھاکسی یکجائی سے اب عہد غلامی کر لوملت احمد مرسل کو مقامی کر لوکس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہےہم سے کب پیار ہے ہاں نیند تمہیں پیاری ہےطبع آزاد پہ قید رمضاں بھاری ہےتمہیں کہہ دو یہی آئین وفاداری ہےقوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیںجذب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیںجن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن تم ہونہیں جس قوم کو پروائے نشیمن تم ہوبجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہوبیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہوہو نکو نام جو قبروں کی تجارت کر کےکیا نہ بیچوگے جو مل جائیں صنم پتھر کےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا کس نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا کس نےمیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا کس نےمیرے قرآن کو سینوں سے لگایا کس نےتھے تو آبا وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہوہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہوکیا کہا بہر مسلماں ہے فقط وعدۂ حورشکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعورعدل ہے فاطر ہستی کا ازل سے دستورمسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حور و قصورتم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیںجلوۂ طور تو موجود ہے موسیٰ ہی نہیںمنفعت ایک ہے اس قوم کا نقصان بھی ایکایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایکحرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایککچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایکفرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیںکیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیںکون ہے تارک آئین رسول مختارمصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیارکس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعار اغیارہو گئی کس کی نگہ طرز سلف سے بے زارقلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیںکچھ بھی پیغام محمد کا تمہیں پاس نہیںجا کے ہوتے ہیں مساجد میں صف آرا تو غریبزحمت روزہ جو کرتے ہیں گوارا تو غریبنام لیتا ہے اگر کوئی ہمارا تو غریبپردہ رکھتا ہے اگر کوئی تمہارا تو غریبامرا نشۂ دولت میں ہیں غافل ہم سےزندہ ہے ملت بیضا غربا کے دم سےواعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہیبرق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہیرہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہیفلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہیمسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہےیعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہےشور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابودہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجودوضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنودیہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہودیوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہوتم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہودم تقریر تھی مسلم کی صداقت بیباکعدل اس کا تھا قوی لوث مراعات سے پاکشجر فطرت مسلم تھا حیا سے نمناکتھا شجاعت میں وہ اک ہستی فوق الادراکخود گدازی نم کیفیت صہبایش بودخالی از خویش شدن صورت مینا یش بودہر مسلماں رگ باطل کے لیے نشتر تھااس کے آئینۂ ہستی میں عمل جوہر تھاجو بھروسا تھا اسے قوت بازو پر تھاہے تمہیں موت کا ڈر اس کو خدا کا ڈر تھاباپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہوپھر پسر قابل میراث پدر کیونکر ہوہر کوئی مست مئے ذوق تن آسانی ہےتم مسلماں ہو یہ انداز مسلمانی ہےحیدری فقر ہے نے دولت عثمانی ہےتم کو اسلاف سے کیا نسبت روحانی ہےوہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کراور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کرتم ہو آپس میں غضب ناک وہ آپس میں رحیمتم خطا کار و خطا بیں وہ خطا پوش و کریمچاہتے سب ہیں کہ ہوں اوج ثریا پہ مقیمپہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلب سلیمتخت فغفور بھی ان کا تھا سریر کے بھییوں ہی باتیں ہیں کہ تم میں وہ حمیت ہے بھیخودکشی شیوہ تمہارا وہ غیور و خوددارتم اخوت سے گریزاں وہ اخوت پہ نثارتم ہو گفتار سراپا وہ سراپا کردارتم ترستے ہو کلی کو وہ گلستاں بکناراب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کینقش ہے صفحۂ ہستی پہ صداقت ان کیمثل انجم افق قوم پہ روشن بھی ہوئےبت ہندی کی محبت میں برہمن بھی ہوئےشوق پرواز میں مہجور نشیمن بھی ہوئےبے عمل تھے ہی جواں دین سے بدظن بھی ہوئےان کو تہذیب نے ہر بند سے آزاد کیالا کے کعبے سے صنم خانے میں آباد کیاقیس زحمت کش تنہائی صحرا نہ رہےشہر کی کھائے ہوا بادیہ پیما نہ رہےوہ تو دیوانہ ہے بستی میں رہے یا نہ رہےیہ ضروری ہے حجاب رخ لیلا نہ رہےگلۂ جور نہ ہو شکوۂ بیداد نہ ہوعشق آزاد ہے کیوں حسن بھی آزاد نہ ہوعہد نو برق ہے آتش زن ہر خرمن ہےایمن اس سے کوئی صحرا نہ کوئی گلشن ہےاس نئی آگ کا اقوام کہن ایندھن ہےملت ختم رسل شعلہ بہ پیراہن ہےآج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیداآگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدادیکھ کر رنگ چمن ہو نہ پریشاں مالیکوکب غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والیخس و خاشاک سے ہوتا ہے گلستاں خالیگل بر انداز ہے خون شہدا کی لالیرنگ گردوں کا ذرا دیکھ تو عنابی ہےیہ نکلتے ہوئے سورج کی افق تابی ہےامتیں گلشن ہستی میں ثمر چیدہ بھی ہیںاور محروم ثمر بھی ہیں خزاں دیدہ بھی ہیںسیکڑوں نخل ہیں کاہیدہ بھی بالیدہ بھی ہیںسیکڑوں بطن چمن میں ابھی پوشیدہ بھی ہیںنخل اسلام نمونہ ہے برومندی کاپھل ہے یہ سیکڑوں صدیوں کی چمن بندی کاپاک ہے گرد وطن سے سر داماں تیراتو وہ یوسف ہے کہ ہر مصر ہے کنعاں تیراقافلہ ہو نہ سکے گا کبھی ویراں تیراغیر یک بانگ درا کچھ نہیں ساماں تیرانخل شمع استی و در شعلہ دو ریشۂ توعاقبت سوز بود سایۂ اندیشۂ توتو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سےنشۂ مے کو تعلق نہیں پیمانے سےہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سےپاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سےکشتئ حق کا زمانے میں سہارا تو ہےعصر نو رات ہے دھندلا سا ستارا تو ہےہے جو ہنگامہ بپا یورش بلغاری کاغافلوں کے لیے پیغام ہے بیداری کاتو سمجھتا ہے یہ ساماں ہے دل آزاری کاامتحاں ہے ترے ایثار کا خودداری کاکیوں ہراساں ہے صہیل فرس اعدا سےنور حق بجھ نہ سکے گا نفس اعدا سےچشم اقوام سے مخفی ہے حقیقت تیریہے ابھی محفل ہستی کو ضرورت تیریزندہ رکھتی ہے زمانے کو حرارت تیریکوکب قسمت امکاں ہے خلافت تیریوقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہےنور توحید کا اتمام ابھی باقی ہےمثل بو قید ہے غنچے میں پریشاں ہو جارخت بر دوش ہوائے چمنستاں ہو جاہے تنک مایہ تو ذرے سے بیاباں ہو جانغمۂ موج ہے ہنگامۂ طوفاں ہو جاقوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دےدہر میں اسم محمد سے اجالا کر دےہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہوچمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہویہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہوبزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہوخیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہےنبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہےدشت میں دامن کہسار میں میدان میں ہےبحر میں موج کی آغوش میں طوفان میں ہےچین کے شہر مراقش کے بیابان میں ہےاور پوشیدہ مسلمان کے ایمان میں ہےچشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھےرفعت شان رفعنا لک ذکرک دیکھےمردم چشم زمیں یعنی وہ کالی دنیاوہ تمہارے شہدا پالنے والی دنیاگرمی مہر کی پروردہ ہلالی دنیاعشق والے جسے کہتے ہیں بلالی دنیاتپش اندوز ہے اس نام سے پارے کی طرحغوطہ زن نور میں ہے آنکھ کے تارے کی طرحعقل ہے تیری سپر عشق ہے شمشیر تریمرے درویش خلافت ہے جہانگیر تریما سوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تریتو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تریکی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیںیہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
آپ کو علم ہے وہ آج نہیں آئی ہیں؟میری ہر دوست سے اس نے یہی پوچھا ہوگاکیوں نہیں آئی وہ کیا بات ہوئی ہے آخرخود سے اس بات پہ سو بار وہ الجھا ہوگاکل وہ آئے گی تو میں اس سے نہیں بولوں گاآپ ہی آپ کئی بار وہ روٹھا ہوگاوہ نہیں ہے تو بلندی کا سفر کتنا کٹھنسیڑھیاں چڑھتے ہوئے اس نے یہ سوچا ہوگاراہداری میں ہرے لان میں پھولوں کے قریباس نے ہر سمت مجھے آن کے ڈھونڈا ہوگا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books