aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "dil-aazaar"
جسے دل مان لیتا ہےوہی ہے اعتبار آزرؔاگر یہ بھی نہیں ہوگاتو پھر امید کیا ہواپنے جینے کی
پہلے مشہور فسوں کار ستم گار تھے یہپہلے دل سوز و دل آزار جفا کار تھے یہپہلے مجبوروں پہ چلتی ہوئی تلوار تھے یہاب ہیں ٹوٹی ہوئی تلوار انہیں کچھ نہ کہوکہہ چکے ان کو تو سو بار انہیں کچھ نہ کہو
زمانہ دل آزار ہے بھی تو کیا غممجھے تیری دل داریوں کا یقیں ہے
اس ساعت خوں آشام سے تھیوہ ساری رونق منظر کیاس ساعت دل آزار سے ہےاک زرد اداس سی خاموشیاس منظر سے اس منظر تکاک منظر تھا اب وہ بھی نہیںاک کٹنے والی گردن تھیاک خنجر تھا اب وہ بھی نہیںاب وہ بھی نہیں جو دیکھتے ہوںیہ جیت ہوئی یا ہار ہوئیاب وہ بھی نہیں جو کہتے ہوںیہ زیست ہمیں آزار ہوئیاب وہ بھی نہیں جو لکھتے ہوںاحوال جسے تاریخ کہیںاب یہ بھی نہیں کہ یہ لاشےمٹی میں ملیں گلزار بنیںاب انساں کھیت نہ حیواں ہیںگھر مدرسے دفتر اور نہ ملیںانگشت کی اک جنبش سے کہیںمیزائل داغا جا بھی چکااک جوہری رقص کے تھمنے تکجو دور حیات تھا جا بھی چکااس زیست کے بندی خانے سےہم مثل اجل آزاد ہوئےیہ کیسے ملک بسائے تھےاک لمحے میں برباد ہوئےہے آخری منظر تاراجیہوں جس کا ایک حوالہ میںیہ منظر کیسا منظر ہےجسے تنہا دیکھنے والا میںاب اس صف میں بھی کوئی نہیںاب اس صف میں بھی کوئی نہیںمیں تنہا بیٹھا سوچتا ہوںکچھ جینے کا امکان تو ہوآ بیٹھے پاس جو دشمن کےدشمن ہی سہی انسان تو ہو
دل آزاری بھی اک فن ہےاور کچھ لوگ توساری زندگی اسی کی روٹی کھاتے ہیںچاہے ان کا برج کوئی ہوعقرب ہی لگتے ہیںتیسرے درجے کے پیلے اخباروں پر یہاپنی یرقانی سوچوں سےاور بھی زردی ملتے رہتے ہیںمالا باری کیبن ہوں یا پانچ ستارہ ہوٹلکہیں بھی قے کرنے سے باز نہیں آتےاوپر سے اس عمل کوفقرے بازی کہتے ہیںجس کا پہلا نشانہ عمومابل کو ادا کرنے والا ساتھی ہوتا ہے!
مگر وہ باہر کا میںاسی ظالموں کے لشکر سےہے نبرد آزما مسلسلکبھی وہ ظالم پہ حملہ آورکبھی وہ مظلوم کی حمایت میںدل فگار و ملول و گریاں
تکلیف کی راتیں ہوں کہ آزار کے دن ہوںمیرے لیے سب مرحلے آسان رہے ہیںجب بھی میں حوادث کے نشانے پہ رہا ہوںمیرے لیے کچھ لوگ پریشان رہے ہیں
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشتدرد سے بھر گیا بہتروئے ہیں ہم ہزار باردر پہ تمہارے بیٹھ کےچلمن اٹھا کے ایک دندیکھا نہیں جناب نےدیر نہیں حرم نہیں در نہیں آستاں نہیںبیٹھے ہیں رہ گزر پہ ہمشاید جناب کا گزر اس رہ گزر سے ہو کبھیہم دیکھ لیں گے گر تمہیںآنکھوں میں دید آئے گیہم کو نوید امن کی تھوڑی سی بھیک چاہیےتھوڑا سا تم کو دیکھ کےہلچلیں مچی ہیں جو سینۂ سوز میں بہتتھوڑا سا چین پائیں گیوا حسرتا کہ یار نے کھینچا ستم سے اپنا ہاتھہم کو حریص لذت آزار سوچ کےاور اس فریب میں وہ خوداک رات خواب میں آ گئےبوسہ دیا شراب بھی دیآنکھوں کو چوم چوم کر ہم سے کہاکہ اب تو وحشت دل و دماغآتش میں جا کے پھینک دےاب بھی سنبھل وگرنہ پھراک ایسی شب بھی آئے گیسایۂ گریزاں ہو کے جبتجھ کو وہ چھوڑ جائے گا
مہرباں دن وہ مرا درد شناساپنی زنبیل کے صد رنگ ذخیرے سے مجھےروز دیتا رہا سوغات نئیمجھ پہ کرتا رہا ہر روز عنایات نئیدل کو برماتا رہاخوں کو گرماتا رہاآئی جس وقت مگر رات نئیاپنا سرمایہ سمیٹے ہوئے مستور ہوادل مرا فیض گریزاں سے شکستہ خاطرشب کے زنداں میں گرفتارغریب و ناداراک نئے خوف کے آزار سے معمور ہوا
وقت کی دھند میں لپٹے منظراور سناٹا دل کے اندرباری باری سانجھ سویرےاک انجانا خوف جگائیںان ہونی کو دھیان میں لائیںدونوں میرے خواب چرائیں
ضمیر وقت کی آواز روح عصر کا کربسمیٹے دامن دل میں نہ جانے کب سے تھاحصار جبر و ستم میں دکھوں کی بستی میںجلائے شمع قلم ہم کلام شب سے تھا
پوجتا ہے پیڑ کوئیکوئی پتھر پوجتا ہےاور مندر میں کوئیبھگوان کو بس ڈھونڈھتا ہےگر شردھا من میں نہیں توپوجنا بے کار ہےآستھا ہے دل میں توہر ذرے میں بھگوان ہے
دیوار جنوں سے لگ کر رونااپنا ہی نوحہ در و دیوار سے کہناپاگل پن کے آثار بہت ہیںکہتے نہیں لیکن طلب گار بہت ہیںیقیں مانو ہم بیمار بہت ہیںتو ہے تو بھی دل کے آزار بہت ہیںاور دل پیچیدہ کے اسرار بہت ہیں
جب وہ تنہا ہوتے ہیںاک پل نیند نہیں آتی جبسناٹے جب ڈستے ہیں تومیری رچناؤں کو پڑھ کراپنا دل بہلاتے ہیںمن جب بیکل ہوتا ہےیا دل جب بوجھل ہوتا ہےگیت مرے گا لیتے ہیںلیکن جب مجھ سے ملتے ہیںوہ مجھ کو پاگل کہتے ہیںکیوں کہ میں اک شاعر ہوں
بیزار فضا درپئے آزار صبا ہےیوں ہے کہ ہر اک ہمدم دیرینہ خفا ہےہاں بادہ کشو آیا ہے اب رنگ پہ موسماب سیر کے قابل روش آب و ہوا ہےامڈی ہے ہر اک سمت سے الزام کی برساتچھائی ہوئی ہر دانگ ملامت کی گھٹا ہےوہ چیز بھری ہے کہ سلگتی ہے صراحیہر کاسۂ مے زہر ہلاہل سے سوا ہےہاں جام اٹھاؤ کہ بیاد لب شیریںیہ زہر تو یاروں نے کئی بار پیا ہےاس جذبۂ دل کی نہ سزا ہے نہ جزا ہےمقصود رہ شوق وفا ہے نہ جفا ہےاحساس غم دل جو غم دل کا صلہ ہےاس حسن کا احساس ہے جو تیری عطا ہےہر صبح گلستاں ہے ترا روئے بہاریںہر پھول تری یاد کا نقش کف پا ہےہر بھیگی ہوئی رات تری زلف کی شبنمڈھلتا ہوا سورج ترے ہونٹوں کی فضا ہےہر راہ پہنچتی ہے تری چاہ کے در تکہر حرف تمنا ترے قدموں کی صدا ہےتعزیر سیاست ہے نہ غیروں کی خطا ہےوہ ظلم جو ہم نے دل وحشی پہ کیا ہےزندان رہ یار میں پابند ہوئے ہمزنجیر بکف ہے نہ کوئی بند بپا ہے''مجبوری و دعویٔ گرفتارئ الفتدست تۂ سنگ آمدہ پیمان وفا ہے''
قرب تھا باعث آزار تو پھر اے دل زاردور رہ کر بھی مجھے یاد نہ آئے کوئی
کبھی راحت کبھی آزار جاں معلوم ہوتی ہےمحبت ایک پیہم امتحاں معلوم ہوتی ہےجو تم روٹھے بہار زندگی بھی پھر گئی مجھ سےنوید گل بھی پیغام خزاں معلوم ہوتی ہےفریب آرزو نے کر دیا گم گشتہ منزلکہ گرد راہ بھی سنگ نشاں معلوم ہوتی ہےسر سجدہ جھکایا اس قدر شوق عبادت نےجبیں میری تمہارا آستاں معلوم ہوتی ہےکچھ ایسے بس گئے ہو دل میں آنکھوں میں تصور میںکہ دو قالب ہیں لیکن ایک جاں معلوم ہوتی ہےکبھی روح طرب رقصاں نظر آتی تھی کانٹوں میںنشاط گل بھی اب آزار جاں معلوم ہوتی ہےنہ چھیڑ اے ہم نشیں اتنا الم انگیز افسانہکہ سنتا ہوں تو اپنی داستاں معلوم ہوتی ہے
بہت بکنے لگا ہے یہ دل حسرت زدہ اب توکہیں ایسا نہ ہو کچھ راز کی باتیں بھی کہہ جائےمگر اس مسئلے کا ایک حل یہ ہےمرے منہ کھولتے ہی تممجھے چپ شاہ کے روزے کی چپکے سے قسم دے کرزباں کا بتمرے ہونٹوں کی محرابوں میں رکھ دواور مجھے خاموش کر دو
دن بھر کے مصروف قدمجب لوٹ کے گھر کو آتے ہیںتواپنے ساتھ تھکے شانوں پرشل ہاتھوں کا بار اٹھائےبوجھل آنکھوں کی مدھم بینائی لے کرآؤ آزر سننے کی اک ہلکی سی امید لیےگھر کی دہلیز پہ رک جاتے ہیں
کیا مجھے اپنا بنانے کے لیے آئی ہویا مرا درد بڑھانے کے لیے آئی ہو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books