aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "dil-e-majruuh"
عزم سے بنتا ہے مستقبل اقوام جہاںعزم انساں کو سمجھ آج کی حالت کو نہ دیکھابتری سطح کی الجھی ہوئی موجوں کا ہے ناماصل شے روح ہے بگڑی ہوئی صورت کو نہ دیکھساز بجتے ہیں محبت کے درون محفلتو در یار کے درباں کی شقاوت کو نہ دیکھکار تخلیق بہاراں میں ہیں شعلے فی الحالساون آتا ہے بس اب جیٹھ کی حدت کو نہ دیکھآج کا خون ہے رنگ گل فردا کے لئےدرد زخم دل مجروح کی شدت کو نہ دیکھاشک موتی صدف وقت میں بن جائیں گےہو کے مایوس گلو گیریٔ رقت کو نہ دیکھپیش رو پیش نظر ہیں یہی آداب حیاتصبح ہونے کو ہے اب رات کی ظلمت کو نہ دیکھ
مجھ کو معلوم تھا قاتل ہے تو ارمانوں کیدل مجروح کے ارمانوں سے تو کھیلے گیدل نہیں ہے ترے سینے میں کوئی پتھر ہےدل سے اٹھتے ہوئے طوفانوں سے تو کھیلے گی
ہم وہی اہل جنوں اہل وفا صاحب دلہم کہ ہر دور میں اوراق زمانہ کے امیںوہ لہو اپنے ہی ماتھے سے بہا ہے جس سےآج دیوار خرد کی ہے لہو رنگ جبیں
قمریاں میٹھے سروں کے ساز لے کر آ گئیںبلبلیں مل جل کے آزادی کے گن گانے لگیںگل سے اپنی نسبت دیرینہ کی کھا کر قسماہل دل کو عشق کے انداز سمجھانے لگیں
بجھا دولہو کے سمندر کے اس پارآئنہ خانوں میں اب جھلملاتے ہوئے قمقموں کو بجھا دوکہ دل جن سے روشن تھا اب ان چراغوں کی لو بجھ چکی ہےمٹا دومنقش در و بام کے جگمگاتےچمکتے ہوئے سب بتوں کو مٹا دوکہ اب لوح دل سے ہر اک نقش حرف غلط کی طرح مٹ چکا ہےاٹھا دولہو کے جزیرے میںبپھری ہوئی موت کے زرد پنجوں سے پردہ اٹھا دوکہ اب اس جزیرے میںلاشوں کے انبار بکھرے پڑے ہیںفضا میں ہر اک سمتجلتے ہوئے خون کی بو رچی ہےوہ آنکھیں جو اپنے بدن کی طرح صاف شفاف تھیںاب ان درختوں پہ بیٹھے ہوئے چیل کوؤں گدھوں کی غذا بن چکی ہیںیہ سولہ دسمبر کی بجھتی ہوئی شام ہےاور میںاس لہو کے جزیرے میں جلتا ہوا آخری آدمی ہوں
کچھ اس طرح سے بڑھا دل میں ذوق آزادیکہ رفتہ رفتہ تمنا جوان ہوتی گئیکچھ اس طرح سے اٹھی ہر طرف سے وہ آندھیجو اٹھتے اٹھتے خود اک آسمان ہوتی گئی
مجھے تیرے تصور سے خوشی محسوس ہوتی ہےدل مردہ میں بھی کچھ زندگی محسوس ہوتی ہےیہ تاروں کی چمک میں ہے نہ پھولوں ہی کی خوشبو میںتری تصویر میں جو دل کشی محسوس ہوتی ہےتجھے میں آج تک مصروف درس و وعظ پاتا ہوںتری ہستی مکمل آگہی محسوس ہوتی ہےیہ کیا ممکن نہیں تو آ کے خود اب اس کا درماں کرفضائے دہر میں کچھ برہمی محسوس ہوتی ہےاجالا سا اجالا ہے تری شمع ہدایت کاشب تیرہ میں بھی اک روشنی محسوس ہوتی ہےمیں آؤں بھی تو کیا منہ لے کے آؤں سامنے تیرےخود اپنے آپ سے شرمندگی محسوس ہوتی ہےتخیل میں ترے نزدیک جب میں خود کو پاتا ہوںمجھے اس وقت اک طرفہ خوشی محسوس ہوتی ہےتو ہی جانے کہاں لے آئی مجھ کو آرزو تیرییہ منزل اب سراپا بے خودی محسوس ہوتی ہےکنولؔ جس وقت کھو جاتا ہوں میں اس کے تصور میںمجھے تو زندگی ہی زندگی محسوس ہوتی ہے
انشاؔ جی یہ کون آیا کس دیس کا باسی ہےہونٹوں پہ تبسم ہے آنکھوں میں اداسی ہےخوابوں کے گلستاں کی خوشبوئے دل آرا ہےیا صبح تمنا کے ماتھے کا ستارا ہےترسی ہوئی نظروں کو اب اور نہ ترسا رےاے حسن کے سوداگر اے روپ کے بنجارےرمنا دل انشاؔ کا اب تیرا ٹھکانا ہواب کوئی بھی صورت ہو اب کوئی بہانا ہو
یوں فضاؤں میں رواں ہے یہ صدائے دلنشیںذہن شاعر میں ہو جیسے اک اچھوتا سا خیالیا سحر کے سیم گوں رخسار پر پہلی کرنسرخ ہونٹوں سے بچھائے جس طرح بوسوں کے جال
ہاں کس کے لیے سب اس کے لیےوہ جس کے لب پر ٹیسو ہیںوہ جس کے نیناں آہو ہیںجو خار بھی ہے اور خوشبو بھیجو درد بھی ہے اور دارو بھیوہ الہڑ سی وہ چنچل سیوہ شاعر سی وہ پاگل سیلوگ آپ ہی آپ سمجھ جائیںہم نام نہ اس کا بتلائیںاے دیکھنے والو تم نے بھیاس نار کی پیت کی آنچوں میںاس دل کا تینا دیکھا ہے؟کل ہم نے سپنا دیکھا ہے
دل اک کٹیا دشت کنارےبستی کا سا حال نہیں ہےمکھیا، پیر پروہت پیادےان سب کا جنجال نہیں ہےنا بینے نہ سیٹھ نہ ٹھاکرپینٹھ نہیں چوپال نہیں ہےسونا روپا چوکی مسندیہ بھی مال منال نہیں ہےلیکن یہ جوگی دل والااے گوری کنگال نہیں ہےچاہو جو چاہت کا خزاناتم آنا اور تنہا آنا
لوگ پوچھیں گے کیوں اداس ہو تماور جو دل میں آئے سو کہیو!یوں ہی ماحول کی گرانی ہے''دن خزاں کے ذرا اداس سے ہیں'کتنے بوجھل ہیں شام کے سائےان کی بابت خموش ہی رہیونام ان کا نہ درمیاں آئےنام ان کا نہ درمیاں آئےان کی بابت خموش ہی رہیو'کتنے بوجھل ہیں شام کے سائے''دن خزاں کے ذرا اداس سے ہیں''یونہی ماحول کی گرانی ہے'اور جو دل میں آئے سو کہیو!
لب پر نام کسی کا بھی ہو، دل میں تیرا نقشا ہےاے تصویر بنانے والی جب سے تجھ کو دیکھا ہے
دل درد کی شدت سے خوں گشتہ و سی پارہاس شہر میں پھرتا ہے اک وحشی و آوارہشاعر ہے کہ عاشق ہے، جوگی ہے کہ بنجارہدروازہ کھلا رکھنا
شہر دل کی گلیوں میںشام سے بھٹکتے ہیںچاند کے تمنائیبے قرار سودائیدل گداز تاریکیروح و جاں کو ڈستی ہےروح و جاں میں بستی ہےشہر دل کی گلیوں میںتاک شب کی بیلوں پرشبنمیں سرشکوں کیبیقرار لوگوں نےبے شمار لوگوں نےیادگار چھوڑی ہےاتنی بات تھوڑی ہے
شہر دل کی گلیوں میںشام سے بھٹکتے ہیںچاند کے تمنائیبے قرار سودائیدل گداز تاریکیجاں گداز تنہائیروح و جاں کو ڈستی ہےروح و جاں میں بستی ہےشہر دل کی گلیوں میںتاک شب کی بیلوں پرشبنمیں سرشکوں کیبے قرار لوگوں نےبے شمار لوگوں نےیادگار چھوڑی ہےاتنی بات تھوڑی ہےصد ہزار باتیں تھیںحیلۂ شکیبائیصورتوں کی زیبائیقامتوں کی رعنائیان سیاہ راتوں میںایک بھی نہ یاد آئیجا بجا بھٹکتے ہیںکس کی راہ تکتے ہیںچاند کے تمنائییہ نگر کبھی پہلےاس قدر نہ ویراں تھاکہنے والے کہتے ہیںقریۂ نگاراں تھاخیر اپنے جینے کایہ بھی ایک ساماں تھاآج دل میں ویرانیابر بن کے گھر آئیآج دل کو کیا کہئےبا وفا نہ ہرجائیپھر بھی لوگ دیوانےآ گئے ہیں سمجھانےاپنی وحشت دل کےبن لئے ہیں افسانےخوش خیال دنیا نےگرمیاں تو جاتی ہیںوہ رتیں بھی آتی ہیںجب ملول راتوں میںدوستوں کی باتوں میںجی نہ چین پائے گااور اوب جائے گاآہٹوں سے گونجے گیشہر دل کی پنہائیاور چاند راتوں میںچاندنی کے شیدائیہر بہانے نکلیں گےآرزو کی گیرائیڈھونڈنے کو رسوائیسرد سرد راتوں کوزرد چاند بخشے گابے حساب تنہائیبے حجاب تنہائیشہر دل کی گلیوں میں
دل پیت کی آگ میں جلتا ہے ہاں جلتا ہے اسے جلنے دواس آگ سے تم تو دور رہو ٹھنڈی نہ کرو پنکھا نہ جھلوہر محفل میں ہم دونوں کی کیا کیا نہیں باتیں ہوتی ہیںان باتوں کا مفہوم ہے کیا تم کیا سمجھو تم کیا جانودل چل کے لبوں تک آ نہ سکا لب کھل نہ سکے غم جا نہ سکااپنا تو بس اتنا قصہ تھا تم اپنی سناؤ اپنی کہووہ شام کہاں وہ رات کہاں وہ وقت کہاں وہ بات کہاںجب مرتے تھے مرنے نہ دیا اب جیتے ہیں اب جینے دو
دل کی نہ پوچھو کیا کچھ چاہے دل کا تو پھیلا ہے دامنگیت سے گال غزل سی آنکھیں ساعد سیمیں برگ دہنجوڑے کے انہیں پھولوں کو دیکھو کل کی سی ان میں باس کہاںایک اک تارا کر کے ڈوبی ماتھے کی طناز افشاںسہنے کا دکھ سہ نہ سکے ہم کہنے کی باتیں کہہ نہ سکےپاس ترے کبھی آ نہ سکے ہم دور بھی تجھ سے رہ نہ سکےکس سے کہے اب روح کی بپتا کس کو سنائے من کی باتدور کی راہ بھٹکتا راہی جیون رات گھنیری راتہونٹوں کی پیاس بجھانی ہے اب ترے جی کو یہ بات لگے نہ لگےتجھ سے جو میں نے پیار کیا ہے؟ تیرے لیے نہیں اپنے لیے
کس سے اس درد جدائی کی شکایت کہیےیاں تو سینے میں نیستاں کا نیستاں ہوگاکس سے اس دل کے اجڑنے کی حکایت کہیےسننے والا بھی جو حیراں نہیں، حیراں ہوگاایسی باتوں سے نہ کچھ بات بنے گی اپنیسونی آنکھوں میں نراشا کا گھلے گا کاجلخالی سپنوں سے نہ اوقات بنے گی اپنییہ شب ماہ بھی کٹ جائے گی بے کل بے کل
کوئی دیکھے یہ مجبوریاں دوریاںایک ہی شہر میں ہم کہاں تم کہاںدوستوں نے بھی چھوڑی ہیں دال داریاںآج وقف غم الفت رائیگاںہم جو پھرتے ہیں وحشت زدہ سرگراںتھے کبھی صاحب آبرو شہر میںلوگ طعنوں سے کیا کیا جتاتے نہیںایسے راہی تو منزل کو پاتے نہیںجی سے اک دوسرے کو بھلاتے نہیںسامنے بھی مگر آتے جاتے نہیںاور جائیں تو آنکھیں ملاتے نہیںہائے کیا کیا نہیں گفتگو شہر میں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books