aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "eleven"
سیرالیون کے سمگلرزہیروں کی سمگلنگ پر باتیں کر رہے ہیںشمالی بلغاریہ کے علاقوں سےعمدہ قسم کا تمباکو آنے والا ہےلائٹ ٹاور کی سیڑھیوں کے نیچےجینز کی نیکر میں کوکین کی تھیلیاں چھپا کرمیڈونا واپس جا چکی ہےبوڑھا لینوس بیٹھا ہےفوگ لائٹ کی پیلی روشنی میںلمحہ داڑھی کھجا رہا ہےساحل کی ہتھیلی پرریت کی انگلیوں میں لپٹیبرہنہ سانسوں کی الجھن پررات کا خون سرکتا ہےنڈھال جسموں کی رومانیت میںلمس کا سیلن زدہ شور گرتا ہےسمندر برف کی جھیل میںتبدیل ہو سکتا ہےسگریٹ جلانے کا آلاگیلا پڑ گیا ہےبائیتھوسلائٹر ملے گااوہ شکریہ
جبگرد و غبار کا طوفان میری جانب بڑھنے لگاتو مجھے یاد آیا کہپوری دنیا میں آنکھیں ایک جیسے آنسو بہاتی ہیںآگ میں ابلتی ہوئی ہڈیاںایک جیسی رنگت اختیار کر لیتی ہیںلہوجب جم جاتا ہےاس کے سرخ سے سیاہ ہونے کا دورانیہ ایک جتنا ہوتا ہےگرد و غبار کے طوفان نے سب کچھ ڈھانپ لیامگر ہیروشیما اور ناگا ساکی کے کھنڈرات پھر سے نمودار ہونے لگے ہیںاورسرائیو، بغداد کابل اور غزہ کی گلیوں میں کھیلنے والے بچےمیری طرف دیکھ کر مسکراتے ہیں
میں اکثر سوچتا ہوںایسا کیوں ہوتا ہےاولادوں کواپنے باپ مائیں یاد آتی ہیںتو آنکھوں میںفقط ماں باپ کےبوڑھے سراپے ہیابھرتے ڈوبتے اور جھلملاتے ہیںمیں اکثر سوچتا ہوںایسا کیوں ہوتا ہےممتا سے بھرائیماں باپ کی آنکھوں میںاولادیں کبھی بوڑھی نہیں ہوتیں
اب مرے شانے سے لگ کر کس لیے روتی ہو تمیاد ہے تم نے کہا تھا''جب نگاہوں میں چمک ہولفظ جذبوں کے اثر سے کانپتے ہوں اور تنفساس طرح الجھیں کہ جسموں کی تھکن خوشبو بنےتو وہ گھڑی عہد وفا کی ساعت نایاب ہےوہ جو چپکے سے بچھڑ جاتے ہیں لمحے ہیں مسافتجن کی خاطر پاؤں پر پہرے بٹھاتی ہےنگاہیں دھند کے پردوں میں ان کو ڈھونڈتی ہیںاور سماعت ان کی میٹھی نرم آہٹ کے لیےدامن بچھاتی ہے''اور وہ لمحہ بھی تم کو یاد ہوگاجب ہوائیں سرد تھیں اور شام کے میلے کفن پر ہاتھ رکھ کرتم نے لفظوں اور تعلق کے نئے معنی بتائے تھے، کہا تھا''ہر گھڑی اپنی جگہ پر ساعت نایاب ہےحاصل عمر گریزاں ایک بھی لمحہ نہیںلفظ دھوکہ ہیں کہ ان کا کام ابلاغ معانی کے علاوہ کچھ نہیںوقت معنی ہے جو ہر لحظہ نئے چہرے بدلتا ہےجانے والا وقت سایہ ہےکہ جب تک جسم ہے یہ آدمی کے ساتھ چلتا ہےیاد مثل نطق پاگل ہے کہ اس کے لفظ معنی سے تہی ہیںیہ جسے تم غم اذیت درد آنسودکھ وغیرہ کہہ رہے ہوایک لمحاتی تأثر ہے تمہارا وہم ہےتم کو میرا مشورہ ہے، بھول جاؤ تم سے اب تکجو بھی کچھ میں نے کہا ہے''اب مرے شانے سے لگ کر کس لیے روتی ہو تم!
اے جوانان وطن روح جواں ہے تو اٹھوآنکھ اس محشر نو کی نگراں ہے تو اٹھوخوف بے حرمتی و فکر زیاں ہے تو اٹھوپاس ناموس نگاران جہاں ہے تو اٹھواٹھو نقارۂ افلاک بجا دو اٹھ کرایک سوئے ہوئے عالم کو جگا دو اٹھ کرایک اک سمت سے شبخون کی تیاری ہےلطف کا وعدہ ہے اور مشق جفا کاری ہےمحفل زیست پہ فرمان قضا جاری ہےشہر تو شہر ہے گاؤں پہ بھی بمباری ہےیہ فضا میں جو گرجتے ہوئے طیارے ہیںبرسر دوش ہوا موت کے ہرکارے ہیںاس طرف ہاتھوں میں شمشیریں ہی شمشیریں ہیںاس طرف ذہن میں تدبیریں ہی تدبیریں ہیںظلم پر ظلم ہیں تعزیروں پہ تعزیریں ہیںسر پہ تلوار ہے اور پاؤں میں زنجیریں ہیںایک ہو ایک کہ ہنگامۂ محشر ہے یہیعرصۂ زیست کا ہنگامۂ اکبر ہے یہیاپنی سرحد پہ جو اغیار چلے آتے ہیںشعلہ افشاں و شرر بار چلے آتے ہیںخون پیتے ہوئے سرشار چلے آتے ہیںتم جو اٹھ جاؤ تو بے کار چلے آتے ہیںخوں جو بہہ نکلا ہے اس خوں میں بہا دو ان کوان کی کھودی ہوئی خندق میں گرا دو ان کورنگ گلہائے گلستان وطن تم سے ہےسورش نعرۂ رندان وطن تم سے ہےنشۂ نرگس خوبان وطن تم سے ہےعفت ماہ جبینان وطن تم سے ہےتم ہو غیرت کے امیں تم ہو شرافت کے امیںاور یہ خطرے میں ہیں احساس تمہیں ہے کہ نہیںیہ درندے یہ شرافت کے پرانے دشمنتم کہ ہو حامل آداب و روایات کہنجادہ پیما کے لیے خضر ہو تم یہ رہزنتم ہو خرمن کے نگہبان یہ برق خرمنخطۂ پاک میں زنہار نہ آنے پائیںآ ہی جائیں جو یہ زندہ تو نہ جانے پائیںمرد و زن پیر و جواں ان کے مظالم کے شکارخون معصوم میں ڈوبی ہوئی ان کی تلواریہ قیامت کے ہوس ناک غضب کے خوں خاران کے عصیاں کی نہ حد ہے نہ جرائم کا شماریہ ترحم سے نہ دیکھیں گے کسی کی جانبان کی توپوں کے دہن کر دو انہی کی جانبیہ تو ہیں فتنۂ بیدار دبا دو ان کویہ مٹا دیں گے تمدن کو مٹا دو ان کوپھونک دو ان کو جھلس دو کہ جلا دو ان کوشان شایان وطن ہو یہ بتا دو ان کویاد ہے تم کو کن اسلاف کی تم یادیں ہوتم تو خالد کے پسر بھیم کی اولادیں ہوتم تو تنہا بھی نہیں ہو کئی دم ساز بھی ہیںروس کے مرد بھی ہیں چین کے جاں باز بھی ہیںکچھ نہ کچھ ساتھ فرنگی کے فسوں ساز بھی ہیںاور ہم جیسے بہت زمزمہ پرداز بھی ہیںدور انسان کے سر سے یہ مصیبت کر دوآگ دوزخ کی بجھا دو اسے جنت کر دو
گلنار دیکھتی ہے یہ مزدور عورتیںچہروں پہ خاک دھول کے پونچھے ہوئے نشاںتو اور رنگ غازہ و گلگونہ و شہابسوچا بھی کس کے خون کی بنتی ہیں سرخیاںگلنار دیکھتی ہے یہ مزدور عورتیںمیلے پھٹے لباس ہیں محروم شست و شوتو اور عطر و عنبر و مشک و عبیر و عودمزدور کے بھی خون کی آتی ہے اس میں بوگلنار دیکھتی ہے یہ مزدور عورتیںتن ڈھانکنے کو ٹھیک سے کپڑا نہیں ہے پاستو اور حریر و اطلس و کم خواب و پرنیاںچبھتا نہیں بدن پہ ترے ریشمی لباسگلنار دیکھتی ہے یہ مزدور عورتیںچاندی کا کوئی گنجھ نہ سونے کا کوئی تارتو اور ہیکل زر و آویزۂ گہرسینہ پہ کوئی دم بھی دھڑکتا ہے تیرا ہارگلنار دیکھتی ہے یہ مزدور عورتیںصدیوں سے ہر نگاہ ہے فاقوں کی رہ گزرتو اور ضیافتوں میں بصد ناز جلوہ گرکس کے لہو سے گرم ہے یہ میز کی بہارگلنار دیکھتی ہے یہ مزدور عورتیںتاریک مقبروں سے مکاں ان کے کم نہیںتو اور زیب و زینت الوان زر نگارکیا تیرے قصر ناز کی ہلتی نہیں زمیںگلنار دیکھتی ہے یہ مزدور عورتیںمحنت ہی ان کا ساز ہے محنت ہی ان کا راگتو اور شغل رامش و رقص و رباب و رنگکیا تیرے ساز میں بھی دہکتی ہے کوئی آگگل نار دیکھتی ہیں یہ مزدور عورتیںمحنت پہ اپنے پیٹ سے مجبور عورتیں
یہ دعویٰ ہےجہاں میں چند لوگوں کاکہ ہم نے زندگی کو جیت رکھا ہےہمارے پاس یعنی ایٹمی ہتھیار ہیں اتنےہمارا دوست ننھا ایلین بھی ہےکروڑوں سال کی تاریخ کو اب جانتے ہیں ہمکہ ہم نے موت پر اب فتح پا لی ہےپلینٹ مارس پر پانی بھی ڈھونڈا ہےیہ سب کہتے ہوئے اکثروہ شاید بھول جاتے ہیںابھی اک چیز باقی ہے کہ جو ان میپڈ ہے اب تکجسے ہم ذہن کہتے ہیںہمارے سائنس دانوں نے بھی مانا ہےکہ اب تک کچھ ہی حصہ ذہن کاہم جان پائے ہیںبہت کچھ ہے جسے اب بھی ہمیں ڈیکوڈ کرنا ہےمیں اکثر سوچتا ہوںسوچ کر حیران ہوتا ہوںفقط کچھ گرام کے اس ذہن سے یہ ساری ہلچل ہےستارے چاند سورج تتلیاں جگنو بھری راتیںیہ سارہ آرٹ اور اس آرٹ پر تنقید جو کچھ ہےکتابوں سے بھری ہر لائبریریاور انسانوں کے دل میں بڑھ رہی دوریکہیں ناراضگی آنکھوں میں بھر کر خود میں ہی گھٹناکہیں پر بھوک بیماری یا پالیٹکس کی پاوریہ ایف بی اور ٹوئیٹر پر جو جاری ہیں سبھی بحثیںاور انسٹاگرام پر ہر پل کی تصویریںیہ دنیا بھر کی فلمیں اور فیسٹیولیہ میرے سامنے بیٹھے ہوئے پھولوں سے نازک لوگمرے ہونٹھوں سے ایک اک نظم کا یوں ٹوٹتے رہنافقط کچھ گرام کے اس ذہن سے ہی ساری ہلچل ہےنگاہیں موڑ کر یہ دیکھنا میراتمہارا مسکرانا بھیفلک کو دیکھ کر یوں روٹھ جانا بھیکہ اپنی زندگی میں روشنی کے نام پرکچھ بھی نہیں ہےاور یہ کیا کھیل ہےجس میں محض ماتیں ہی ماتیں ہیںمحض گھاتیں ہی گھاتیں ہیںمگر یہ دکھ جو ہم کو رات دن محسوس ہوتا ہےہمارے ذہن سے اٹھتا دھواں ہے بساگر ہم غور سے دیکھیں تو ڈھیروں راز کھلتے ہیںکہ میں تم سے اگر کہتا ہوںتم سے عشق کرتا ہوںتو یہ سن کر تمہاری سانس کی لے تیز چلتی ہےیہی انفاس کا پردہجو اٹھتا ہےجو گرتا ہےاسی انفاس کے پردہ کے پیچھے سےہمارا ذہن سب کچھ دیکھتا ہےسوچتا ہے بات کرتا ہےصدی سے بند دروازوں کے پیچھے سےکوئی آواز آتی ہےہمیں لگتا ہے یہ سب کچھ ہمیں تو کر رہے ہیںپر حقیقت اور ہی کچھ ہےہمیں معلوم کرنا ہےکہ جلتے ذہن کے جنگل کا راجہ کون ہے آخرہمیں معلوم کرنا ہےہمارے ذہن میں چھپ کر اشارہ کون کرتا ہےیہ کس کے حکم پر ہم روز مرتے اور جیتے ہیںیہ کس کے واسطے ہم زندگی کا زہر پیتے ہیں
کیسی سہانی کیسی رسیلی بچوں کی مسکانہنستے اور مسکاتے بچے بھارت دیس کی شانکل یہ مہکتے پھول بنیں گے آج ہیں ننھی کلیاںسایہ ان پر کئے ہوئے ہیں آشاؤں کی پریاںزہریلے کانٹوں سے نہ الجھیں یہ ننھی سی جانکیسی سہانی کیسی رسیلی بچوں کی مسکانہنستے اور مسکاتے بچے بھارت دیس کی شانننھی منی کومل کلیاں کہیں نہ مرجھا جائیںخوشبو مہکے کیاری کیاری مہکیں اور مہکائیںگلشن کے سب رکھوالوں پر فرض ہے ان کا دھیانکیسی سہانی کیسی رسیلی بچوں کی مسکانہنستے اور مسکاتے بچے بھارت دیس کی شانجیون میں اجیالا ان سے یہ دھرتی کے تارےگورے ہیں یا کالے ہیں یہ بچے پیارے پیارےماؤں کی ممتا سے پوچھو سب ہیں ایک سمانکیسی سہانی کیسی رسیلی بچوں کی مسکانہنستے اور مسکاتے بچے بھارت دیس کی شانبستی بستی نگر نگر یہ امرت جل برساؤجیون جوت جلاؤ ہر سو علم کا دیپ جلاؤجب ہوں بڑے یہ آج کے بچے نکلیں سب ودوانکیسی سہانی کیسی رسیلی بچوں کی مسکانہنستے اور مسکاتے بچے بھارت دیس کی شانصحت کی سندرتا پائیں سب کو رنگ و روپ ملےتازہ ہوا بھرپور غذا ہو ان کو سنہری دھوپ ملےپھولے پھلے پروان چڑھے یہ بھارت کی سنتانکیسی سہانی کیسی رسیلی بچوں کی مسکانہنستے اور مسکاتے بچے بھارت دیس کی شانامن کی ٹھنڈی چھاؤں میں کھیلیں ان کو سب کا پیار ملےدکھ نہ انہیں پہنچائے کوئی ان کو سکھی سنسار ملےدیس کی ساری مائیں دل میں رکھتی ہیں ارمانکیسی سہانی کیسی رسیلی بچوں کی مسکانہنستے اور مسکاتے بچے بھارت دیس کی شان
برف کے شہر کی ویران گزر گاہوں پرمیرے ہی نقش قدم میرے سپاہی ہیںمرا حوصلہ ہیںزندگیاںاپنے گناہوں کی پنہ گاہوں میں ہیںرقص کناںروشنیاںبند دروازوں کی درزوں سے ٹپکتی ہوئیقطرہ قطرہشب کی دہلیز پہ گرتی ہیں کبھیکوئی مدہوش سی لےجامہ مے اوڑھ کے آتی ہے گزر جاتی ہےرات کچھ اور بپھر جاتی ہےاور بڑھ جاتی ہیں خاموش کھڑی دیواریںبے صدا صدیوں کے چونے سے چنی دیواریںجو کہ ماضی بھی ہیں مستقبل بھیجن کے پیچھے ہے کہیںآتش لمحۂ موجود کہ جولمحۂ موجود کی حسرت ہےمری نظم کی حیرت ہے جسےڈھونڈھتا پھرتا ہوں میںگھومتا پھرتا ہوں میں برف بھری رات کی ویرانی میںان کہی نظم کی طغیانی میںہیں بھنور کتنے گہر کتنے ہیںکتنے الاپیں پس پردہ لاچشم نا بینا کے آفاق میںکتنے بے رنگ کرےکتنے دھنک رنگ خلاکتنے سپنے ہیں کہ جوشہر کے تنگ پلوں کے نیچےریستورانوں کی مہک اوڑھ کے سو جاتے ہیںکتنی نیندیں ہیں کہ جو اپنے شبستانوں میںویلیم چاٹتی ہیںجاگتی ہیں
کاش تم میرے بلیٹن کی انکر ہوتیںجو میں لکھتاوہ تم پڑتیںمیں ساری ہیڈلائنز ملتوی کر دیتاطویل اور مختصر دورانیے کیتمام رپورٹس تلف کر ڈالتاسب کمرشیل ڈراپ کرنے کی ہدایت کرتابریکنگ نیوز کی طرحتم ٹیلی پرومپٹر پرمیری لکھی ہوئیایک سطر بار بار پڑھتیںآئی لو یوآئی لو یو
جو بدل بھی جائیں سیاستیں بنیں ملتوں سے ریاستیںیہ تو ذہن کی ہیں نفاستیں ابھی انقلاب کہاں ہواہوئی بے وطن کئی ملتیں سہی فرد فرد نے ذلتیںیہ حکومتوں کی ہیں علتیں ابھی انقلاب کہاں ہواوہی مفلسوں کی روایتیں وہی منعموں کی عنایتیںوہی کار خیر کی غایتیں ابھی انقلاب کہاں ہواوہی بعد مرگ کی راحتیں وہی زندگی کی قباحتیںوہی نفرتیں وہی چاہتیں ابھی انقلاب کہاں ہوانہ بدل سکیں جو مشیتیں ہوں وہی ہماری طبیعتیںوہی عادتیں وہی نیتیں ابھی انقلاب کہاں ہواوہی دولتیں وہی حرمتیں وہی محنتیں وہی غربتیںکسے انقلاب کی فرصتیں ابھی انقلاب کہاں ہواوہی فکر زیبؔ کی حدتیں وہی ذوق شعر کی شدتیںوہی وقت وقت کی جدتیں ابھی انقلاب کہاں ہوا
جانے کتنے ہی راتیں ہوں گیجانے کتنے ہی دن ہوں گےجو تمہاری بیداری اور نیند میںچائے کی پیالیوں میںاور محبت کرنے والوں کے دلوں میں زندہ ہیںمیں تمہاری آواز تو اب بھی سن رہا ہوںکئی دنوں سے میرا فون جو بند رہاوہ اب میری روح میں کھل گیا ہےاور ہماری روحوں کے درمیان کوئی فاصلہ نہیںکون کہتا ہے کہ تمہیں دنیا پسند نہیں آئیتو تم نے دنیا چھوڑ دیابھی تو تشکیل کے کئی صفحات کی ترتیب باقی ہےابھی تو تمہیں بہتوں کے ضمیر پر پڑے ہوئےپردے اٹھانے ہیںابھی تو شیبہ اوون میں جو کیک تیار کر رہی ہےاسے کھانا باقی ہےابھی تو انجلاء تم سے میری جو شکایت کرنے والی ہےکہ میں نے یہ نہیں کیامیں نے وہ نہیں کیاگویا تمہارے مشوروں پرنئے سرے سے کان دھرنا ہےابھی تو کئی کام باقی ہیںبھابھی کو بنارسی سوئیاں تیار کرنی ہیںابھی تو تاثیر توصیف اور شرجیلتمہاری آواز سننے کے منتظر ہیںابھی تو محبوب خزاںؔ تمہیں ابدالاباد کے لئےسگریٹ چھوڑنے کا مشورہ دینے والے ہیںمیں تمہاری آواز تو اب بھی سن رہا ہوںباغ و بہار آدمی تو کبھی نہیں مرتاتمہاری باغ و بہار آواز تو میں اب بھی سن رہا ہوں
سنو آج ہم میں سے کسی کو موت نے تاکااچانک مر گیا کوئیچلو دارو پئیں دیوار سے سر پھوڑ کے روئیںنشہ اترے تو اس کی یاد میں اک مرثیہ لکھیںپرانے تذکروں میں اس کے خد و خال کو ڈھونڈیںکتابوں کے ورق الٹیںرسالوں اور اخباروں کی پچھلی فائلیں کھولیںدماغ و دل کے گوشے میں چھپی یادیں کریدیںتلخیاں بھولیںفراموشی کی ساری گرد جھاڑیںرنجشیں بھولیںہر اک خوبی ہم اس کے نام سے منسوب کر دیںاور ایسے شخص کو پیکر تراشیںکل جو اپنے درمیاں زندہ نہیں تھا
تجھ کو بتایا بھی تھا کہ محبتننھے بچوں کی ہنسی سے بہت مختلف ہے مگرتو نے ندی میں موجود مچھلیوں سےپانی کی عظمت کے قصے سنے اورمحبت کرنے کی ٹھان لیکاش تب تمہیں علم ہوتاالو کو آبادیوں سے نفرت کیوں ہوئیخدا نے ہمیں محبت کی دیوی سےبچانے کے لئے پرندوں کو خط دے کرہماری طرف بھیجا مگرانہیں ان تیر اندازوں نے مار ڈالا جو ابھیجنگ ہار کر اپنے گاؤں لوٹ رہے تھےندی کنارے بیٹھے دو پریمی اک دوسرے کوچومتے تو رہے مگر اک دوسرے کو بتا نہ سکےکہ محبت کس پرندے کا نام ہےزمین پر خدا کے مقرر کردہفرشتوں نے محبت کرنے کا سوچا تو انہیںسمندروں میں ضم کر دیا گیامحبت کہنے کو لفظ ہے مگرجسے تم نہ سمجھے وہ احساس تھاکئی صدیوں سے محبت کا سفر کرتامیں آج اسی جگہ ہوں جہاں سے چلا تھاکئی برس سے میرے گھر کے دروازےتیری دستک کے لیے ترس رہے ہیںاور ان کو بھی کسی کی یاد کی دیمکاندر سے کھائے جا رہی ہےمیری جاں ہجر میں انتظارکوئی آساں بات تو نہیںتیرے جانے کو آجپانچ برس مکمل ہونے کو ہیںمگر تیری چوڑیوں کی کھنک آج تکمیرے کانوں میں گونج رہی ہےتیری ہجرت کے بعد مجھے احساس ہواکہ بارش کی آواز میں بھی اک موسیقی ہےجسے سن کر لوگوں نے محبت کرنا سیکھامیں نے چاہا تھا کہ ہمارے درمیاں اک آخری ملاقات ہوتی جہاں ہملفظوں کی جگہ اک دوسرے کی خاموشی کو سمجھتےمگر اس ملاقات میں آٹھویں بر اعظم سے آئےکچھ انجان لوگ رکاوٹ بنےجو یونانی خداؤں کی ناجائز اولاد تھےتم نہیں جانتی تمہاری ہجرت کے بعدکتنے چراغوں نے زہر کے پیالے نوش کیےکتنے پرندوں نے گاؤں چھوڑ دیاکتنے پہاڑوں کو ندیوں نے اپنی آغوش میں لے لیاکتنی تتلیوں نے اپنے رنگ خدا کے کینوس کو تحفہ کر دئےتو کسی نے تیری آواز سننے کے لیےشہروں کے شور کو چھوڑ کرجنگلوں میں بسیرا کر لیاتیری ہجرت کے بعد میں نے خدا سےبغاوت کا سوچا تو خیال آیاکہ تو بھی اسی کی تخلیق ہےمیں نے ویران شاہراہوں پہ رینگتی خاموشی میںتیری ہجرت کا دکھ دیکھامیں نے بیس ہزار سال پرانے کھنڈرات کیدیوار پر تیرا نام لکھا ہوا پڑھا تو محسوس ہواتو تو گزشتہ صدیوں سے لوگوں کا ارماں رہامیں نے سو سالہ پرانے برگد کے پیڑ سےتیری محبت کے قصے سنے تو پتا چلاکہ خلا باز چاند پر زندگی کیتلاش میں کیوں ہیںمیں نے پرانے شاعروں کی نظموں میںتیری ہجرت کا دکھ محسوس کیامیں نے درگاہوں کے باہر بیٹھے فقیروں کے چہروں پرتیری ہجرت کا غم دیکھا ہےکتنے درخت تیری طلب کی منت کے دھاگوں سے بھر گئےاور زمیں نے انہیں اپنی آغوش میں لے لیازلزلوں سے بوسیدہ گھروں کے ملبوں سےملنے والے خطوط میںمیں نے تیرے لیے محبت بھرے جملے دیکھےمیں نے یونانی خداؤں کی کتابوں میں تیرے قصے پڑھےتو محسوس ہوا تیری محبت کی داستاں میںمیرا کردار ایک ٹشو پیپر سے زیادہ نہ تھاچنانچہ میں نے اپنی بینائی الو کو تحفہ کیاپنی لاچار محبت کو وینٹیلیٹر پر چھوڑااور جنگل کا رخ کر لیا
کھڑے کھڑے اس دوراہے پر دیکھیں ایک تماشاکیسی ہے ابھیلاشالفظوں کے انکر سے کھیلیں رنگ رنگ کی بھاشاطرح طرح کے روپ انوکھے لفظوں کے آکارشبدوں کی جھنکارپھٹی ہوئی پستک کے پنے ادھر ادھر بے کارشبدوں کے آکار سے کتنے دھرتی کے دکھ کانپیںسب کے دکھ کو ناپیںگڈو صاحب بیٹھے بیٹھے کتنے راگ الاپیںدادی اماں دادی اماں قصے روز سنائیںپریوں کی سیر کرائیںگڑیا رانی سکھیوں کے سنگ شادی روز رچائیں
الاؤں کے قریب بیٹھے ہوئے کتنی خنک شامیںگزر جاتی ہیں جیسے خواب گزرے دل تڑپتا ہےکہ یہ شامیں شبوں میں اور شبیں اجلے سویروں کےتسلسل میں گندھی طول ابد عمر خضر پاتیں
میرے سامنے بیٹھا اجنبی مجھے دیکھتا تھاشاید کوئی آبلہ پا تھامیری آنکھوں سے ہو کر گزراشاید کوئی دریا تھاکوئی سراب تھاسبھی منظروں سے اوجھلٹریفک کے دھویں میں گم ہوتا ہوا کوئی ہجوم تھاجیسے کوئی پر سکون سااماوس راتوں کا درد دیکھتے دیکھتےاپنی صورت بدلنے لگا تھامیں کہنے ہی والی تھی کہمجھے تم چاہتے ہو عمر بھر کے لئےاور اتنے میں میرے سیارے نےاس کے سیارے میں اپنی مدت پوری کیاور ایک ایلین فورس کی طرحکسی اور دنیا کی اور مجھے اڑا لے گیامیں نے کہا تھا ناوقت پھسل جاتا ہے ہاتھوں سےجواں راتیں زمانوں کی آغوش میںاک دن تھک کر سو جاتی ہیں
گھر میں داخل ہوتے ہیہم خود کو آوازیں دینے لگتے ہیںاور کپڑوں سے بھرا شاپنگ بیگپھینک دیتے ہیں بیڈ کے نیچےرکھتے ہیں اپنے جوتے صوفے پراور الماری کے دراز سے کچے امردو نکال کربیڈ شیٹ سے رگڑتے ہیںاور کترنے لگتے ہیں چار دن پرانے بسکٹجب بھی نظر پڑتی ہے آئنے پہخود کو گالیاں دیتے ہیںٹی وی سے ٹوں ٹوں کی آواز آنے پرریموٹ کے سات ٹکڑے کر کےبلی کے آگے ڈال دیتے ہیںکریڈٹ ختم ہو جانے پرسیل فون پہ شیریں لہجے والی دوشیزہ کوکھری کھری سناتے ہیںاور فریج کے نچلے دروازے کو زور سے بند کر کےخالی اوون میں سو جاتے ہیں
الاؤں کے قریں بیٹھے ہوئے کتنی خنک شامیںگزر جاتی ہیں جیسے خواب گزرے دل تڑپتا ہےکہ شامیں شبوں میں اور شبیں اجلے سویروں کےتسلسل میں گندھی طول ابد عمر خضر پاتیں
محبت کہنے کو لفظ ہے مگرجسے تم نہ سمجھے وہ احساس تھاکئی صدیوں سے محبت کا سفر کرتامیں آج اسی جگہ ہوں جہاں سے چلا تھاکئی برس سے میرے گھر کے دروازےتیری دستک کے لیے ترس رہے ہیںاور ان کو بھی کسی کی یاد کی دیمکاندر سے کھائے جا رہی ہےمیری جاں ہجر میں انتظارکوئی آساں بات تو نہیںتیرے جانے کو آجپانچ برس مکمل ہونے کو ہیںمگر تیری چوڑیوں کی کھنک آج تکمیرے کانوں میں گونج رہی ہےتیری ہجرت کے بعد مجھے احساس ہواکہ بارش کی آواز میں بھی اک موسیقی ہےجسے سن کر لوگوں نے محبت کرنا سیکھامیں نے چاہا تھا کہ ہمارے درمیاں اک آخری ملاقات ہوتی جہاں ہملفظوں کی جگہ اک دوسرے کی خاموشی کو سمجھتےمگر اس ملاقات میں آٹھویں بر اعظم سے آئےکچھ انجان لوگ رکاوٹ بنےجو یونانی خداؤں کی ناجائز اولاد تھےتم نہیں جانتی تمہاری ہجرت کے بعدکتنے چراغوں نے زہر کے پیالے نوش کئےکتنے پرندوں نے گاؤں چھوڑ دیاکتنے پہاڑوں کو ندیوں نے اپنی آغوش میں لے لیاکتنی تتلیوں نے اپنے رنگ خدا کے کینوس کو تحفہ کر دئےتو کسی نے تیری آواز سننے کے لیےشہروں کے شور کو چھوڑ کرجنگلوں میں بسیرا کر لیاتیری ہجرت کے بعد میں نے خدا سےبغاوت کا سوچا تو خیال آیاکہ تُو بھی اسی کی تخلیق ہےمیں نے ویران شاہراہوں پہ رینگتی خاموشی میںتیری ہجرت کا دکھ دیکھامیں نے بیس ہزار سال پرانے کھنڈرات کیدیوار پر تیرا نام لکھا پڑھا تو محسوس ہواتو تو گزشتہ صدیوں سے لوگوں کا ارمان رہامیں نے سو سالہ پرانے برگد کے پیڑ سےتیری محبت کے قصے سنے تو پتا چلاکہ خلا باز چاند پر زندگی کیتلاش میں کیوں ہیںمیں نے پرانے شاعروں کی نظموں میںتیری ہجرت کا دکھ محسوس کیامیں نے درگاہوں کے باہر بیٹھے فقیروں کے چہروں پرتیری ہجرت کا غم دیکھا ہےکتنے درخت تیری طلب کی منت کے دھاگوں سے بھر گئےاور زمیں نے انہیں اپنی آغوش میں لے لیازلزلوں سے بوسیدہ گھروں کے ملبوں سےملنے والے خطوط میںمیں نے تیرے لیے محبت بھرے جملے دیکھےمیں نے یونانی خداؤں کی کتابوں میں تیرے قصے پڑھےتو محسوس ہوا تیری محبت کی داستاں میںمیرا کردار ایک ٹشو پیپر سے زیادہ نہ تھاچنانچہ میں نے اپنی بینائی الو کو تحفہ کیاپنی لاچار محبت کو وینٹیلیٹر پر چھوڑااور جنگل کا رخ کر لیا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books