aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "faazil"
جب آدمی کے حال پہ آتی ہے مفلسیکس کس طرح سے اس کو ستاتی ہے مفلسیپیاسا تمام روز بٹھاتی ہے مفلسیبھوکا تمام رات سلاتی ہے مفلسییہ دکھ وہ جانے جس پہ کہ آتی ہے مفلسیکہیے تو اب حکیم کی سب سے بڑی ہے شاںتعظیم جس کی کرتے ہیں تو اب اور خاںمفلس ہوئے تو حضرت لقماں کیا ہے یاںعیسیٰ بھی ہو تو کوئی نہیں پوچھتا میاںحکمت حکیم کی بھی ڈوباتی ہے مفلسیجو اہل فضل عالم و فاضل کہاتے ہیںمفلس ہوئے تو کلمہ تلک بھول جاتے ہیںوہ جو غریب غربا کے لڑکے پڑھاتے ہیںان کی تو عمر بھر نہیں جاتی ہے مفلسیمفلس کرے جو آن کے محفل کے بیچ حالسب جانیں روٹیوں کا یہ ڈالا ہے اس نے جالگر گر پڑے تو کوئی نہ لیے اسے سنبھالمفلس میں ہوویں لاکھ اگر علم اور کمالسب خاک بیچ آ کے ملاتی ہے مفلسیجب روٹیوں کے بٹنے کا آ کر پڑے شمارمفلس کو دیویں ایک تونگر کو چار چارگر اور مانگے وہ تو اسے جھڑکیں بار بارمفلس کا حال آہ بیاں کیا کروں میں یارمفلس کو اس جگہ بھی چباتی ہے مفلسیمفلس کی کچھ نظر نہیں رہتی ہے آن پردیتا ہے اپنی جان وہ ایک ایک نان پرہر آن ٹوٹ پڑتا ہے روٹی کے خوان پرجس طرح کتے لڑتے ہیں اک استخوان پرویسا ہی مفلسوں کو لڑاتی ہے مفلسیکرتا نہیں حیا سے جو کوئی وہ کام آہمفلس کرے ہے اس کے تئیں انصرام آہسمجھے نہ کچھ حلال نہ جانے حرام آہکہتے ہیں جس کو شرم و حیا ننگ و نام آہوہ سب حیا و شرم اڑاتی ہے مفلسییہ مفلسی وہ شے ہے کہ جس گھر میں بھر گئیپھر جتنے گھر تھے سب میں اسی گھر کے در گئیزن بچے روتے ہیں گویا نانی گزر گئیہم سایہ پوچھتے ہیں کہ کیا دادی مر گئیبن مردے گھر میں شور مچاتی ہے مفلسیلازم ہے گر غمی میں کوئی شور غل مچائےمفلس بغیر غم کے ہی کرتا ہے ہائے ہائےمر جاوے گر کوئی تو کہاں سے اسے اٹھائےاس مفلسی کی خواریاں کیا کیا کہوں میں ہائےمردے کو بے کفن کے گڑاتی ہے مفلسیکیا کیا مفلسی کی کہوں خواری پھکڑیاںجھاڑو بغیر گھر میں بکھرتی ہیں جھکڑیاںکونے میں جالے لپٹے ہیں چھپر میں مکڑیاںپیسا نہ ہووے جن کے جلانے کو لکڑیاںدریا میں ان کے مردے بہاتی ہے مفلسیبی بی کی نتھ نہ لڑکوں کے ہاتھوں کڑے رہےکپڑے میاں کے بنیے کے گھر میں پڑے رہےجب کڑیاں بک گئیں تو کھنڈر میں پڑے رہےزنجیر نے کواڑ نہ پتھر گڑے رہےآخر کو اینٹ اینٹ کھداتی ہے مفلسینقاش پر بھی زور جب آ مفلسی کرےسب رنگ دم میں کر دے مصور کے کرکرےصورت بھی اس کی دیکھ کے منہ کھنچ رہے پرےتصویر اور نقش میں کیا رنگ وہ بھرےاس کے تو منہ کا رنگ اڑاتی ہے مفلسیجب خوب رو پہ آن کے پڑتا ہے دن سیاہپھرتا ہے بوسے دیتا ہے ہر اک کو خواہ مخواہہرگز کسی کے دل کو نہیں ہوتی اس کی چاہگر حسن ہو ہزار روپے کا تو اس کو آہکیا کوڑیوں کے مول بکاتی ہے مفلسیاس خوب رو کو کون دے اب دام اور درمجو کوڑی کوڑی بوسہ کو راضی ہو دم بہ دمٹوپی پرانی دو تو وہ جانے کلاہ جسمکیوں کر نہ جی کو اس چمن حسن کے ہو غمجس کی بہار مفت لٹاتی ہے مفلسیعاشق کے حال پر بھی جب آ مفلسی پڑےمعشوق اپنے پاس نہ دے اس کو بیٹھنےآوے جو رات کو تو نکالے وہیں اسےاس ڈر سے یعنی رات و دھنا کہیں نہ دےتہمت یہ عاشقوں کو لگاتی ہے مفلسیکیسے ہی دھوم دھام کی رنڈی ہو خوش جمالجب مفلسی ہو کان پڑے سر پہ اس کے جالدیتے ہیں اس کے ناچ کو ٹھٹھے کے بیچ ڈالناچے ہے وہ تو فرش کے اوپر قدم سنبھالاور اس کو انگلیوں پہ نچاتی ہے مفلسیاس کا تو دل ٹھکانے نہیں بھاؤ کیا بتائےجب ہو پھٹا دوپٹہ تو کاہے سے منہ چھپائےلے شام سے وہ صبح تلک گو کہ ناچے گائےاوروں کو آٹھ سات تو وہ دو ٹکے ہی پائےاس لاج سے اسے بھی لجاتی ہے مفلسیجس کسبی رنڈی کا ہو ہلاکت سے دل حزیںرکھتا ہے اس کو جب کوئی آ کر تماش بیںاک پون پیسے تک بھی وہ کرتی نہیں نہیںیہ دکھ اسی سے پوچھئے اب آہ جس کے تئیںصحبت میں ساری رات جگاتی ہے مفلسیوہ تو یہ سمجھے دل میں کہ ڈھیلا جو پاؤں گیدمڑی کے پان دمڑی کے مسی منگاؤں گیباقی رہی چھدام سو پانی بھراؤں گیپھر دل میں سوچتی ہے کہ کیا خاک کھاؤں گیآخر چبینا اس کا بھناتی ہے مفلسیجب مفلسی سے ہووے کلاونت کا دل اداسپھرتا ہے لے طنبورے کو ہر گھر کے آس پاساک پاؤ سیر آنے کی دل میں لگا کے آسگوری کا وقت ہووے تو گاتا ہے وہ ببھاسیاں تک حواس اس کے اڑاتی ہے مفلسیمفلس بیاہ بیٹی کا کرتا ہے بول بولپیسا کہاں جو جا کے وہ لاوے جہیز مولجورو کا وہ گلا کہ پھوٹا ہو جیسے ڈھولگھر کی حلال خوری تلک کرتی ہے ٹھٹھولہیبت تمام اس کی اٹھاتی ہے مفلسیبیٹے کا بیاہ ہو تو نہ بیاہی نہ ساتھی ہےنے روشنی نہ باجے کی آواز آتی ہےماں پیچھے ایک میلی چدر اوڑھے جاتی ہےبیٹا بنا ہے دولہا تو باوا براتی ہےمفلس کی یہ برات چڑھاتی ہے مفلسیگر بیاہ کر چلا ہے سحر کو تو یہ بلاشہدار نانا ہیجڑا اور بھاٹ منڈ چڑھاکھینچے ہوئے اسے چلے جاتے ہیں جا بہ جاوہ آگے آگے لڑتا ہوا جاتا ہے چلااور پیچھے تھپڑیوں کو بجاتی ہے مفلسیدروازے پر زنانے بجاتے ہیں تالیاںاور گھر میں بیٹھی ڈومنی دیتی ہیں گالیاںمالن گلے کی ہار ہو دوڑی لے ڈالیاںسقا کھڑا سناتا ہے باتیں رزالیاںیہ خواری یہ خرابی دکھاتی ہے مفلسیکوئی شوم بے حیا کوئی بولا نکھٹو ہےبیٹی نے جانا باپ تو میرا نکھٹو ہےبیٹے پکارتے ہیں کہ بابا نکھٹو ہےبی بی یہ دل میں کہتی ہے اچھا نکھٹو ہےآخر نکھٹو نام دھراتی ہے مفلسیمفلس کا درد دل میں کوئی ٹھانتا نہیںمفلس کی بات کو بھی کوئی مانتا نہیںذات اور حسب نسب کو کوئی جانتا نہیںصورت بھی اس کی پھر کوئی پہچانتا نہیںیاں تک نظر سے اس کو گراتی ہے مفلسیجس وقت مفلسی سے یہ آ کر ہوا تباہپھر کوئی اس کے حال پہ کرتا نہیں نگاہدالیدری کہے کوئی ٹھہرا دے رو سیاہجو باتیں عمر بھر نہ سنی ہوویں اس نے آہوہ باتیں اس کو آ کے سناتی ہیں مفلسیچولہا توانا پانی کے مٹکے میں آبی ہےپینے کو کچھ نہ کھانے کو اور نے رکابی ہےمفلس کے ساتھ سب کے تئیں بے حجابی ہےمفلس کی جورو سچ ہے کہ یاں سب کی بھابی ہےعزت سب اس کے دل کی گنواتی ہے مفلسیکیسا ہی آدمی ہو پر افلاس کے طفیلکوئی گدھا کہے اسے ٹھہرا دے کوئی بیلکپڑے پھٹے تمام بڑھے بال پھیل پھیلمنہ خشک دانت زرد بدن پر جما ہے میلسب شکل قیدیوں کی بناتی ہے مفلسیہر آن دوستوں کی محبت گھٹاتی ہےجو آشنا ہیں ان کی تو الفت گھٹاتی ہےاپنے کی مہر غیر کی چاہت گھٹاتی ہےشرم و حیا و عزت و حرمت گھٹاتی ہےہاں ناخن اور بال بڑھاتی ہے مفلسیجب مفلسی ہوئی تو شرافت کہاں رہیوہ قدر ذات کی وہ نجابت کہاں رہیکپڑے پھٹے تو لوگوں میں عزت کہاں رہیتعظیم اور تواضع کی بابت کہاں رہیمجلس کی جوتیوں پہ بٹھاتی ہے مفلسیمفلس کسی کا لڑکا جو لے پیار سے اٹھاباپ اس کا دیکھے ہاتھ کا اور پاؤں کا کڑاکہتا ہے کوئی جوتی نہ لیوے کہیں چرانٹ کھٹ اچکا چور دغاباز گٹھ کٹاسو سو طرح کے عیب لگاتی ہے مفلسیرکھتی نہیں کسی کی یہ غیرت کی آن کوسب خاک میں ملاتی ہے حرمت کی شان کوسو محنتوں میں اس کی کھپاتی ہے جان کوچوری پہ آ کے ڈالے ہی مفلس کے دھیان کوآخر ندان بھیک منگاتی ہے مفلسیدنیا میں لے کے شاہ سے اے یار تا فقیرخالق نہ مفلسی میں کسی کو کرے اسیراشراف کو بناتی ہے اک آن میں فقیرکیا کیا میں مفلسی کی خرابی کہوں نظیرؔوہ جانے جس کے دل کو جلاتی ہے مفلسی
تمہیں معلوم ہے تیمور کی فوجیں جس وقتاپنے دشمن پہ بڑھا کرتی تھیںعورتیں پیچھے رہا کرتی تھیںاور جو عالم تھے فاضل تھے ان انسانوں کا جرگہ سب کےپیچھے پیچھے ہی چلا کرتا تھاکس لیے سب کو رہ زیست پہ ہر گام بڑھانے والےسب سے پیچھے ہی چلا کرتے ہیںعلم میں ایک ہی بنیادی کمی ہے ورنہعلم ہر ایک زمانے میں ہر ایک شے سے ترقی پاتاآج اقبال یہ کہتا ہے کہ عورت ہی کا شعلہ وہ جس سے یونانحشر تک علم فلاطون سے رہے گا زندہآج اسکول میں کالج میں مقام اولعورتوں کے لیے مخصوص کیے جاتے ہیںآج انگریزی پڑھی جاتی ہے جغرافیہ تاریخ ہر اک علم یہاںایسے استاد سکھاتا ہے کہ جیسے ہم کویہی معلوم نہیں ہے کہ جو عالم تھے جو فاضل تھے ان انسانوں کا جرگہ سب سےپیچھے پیچھے ہی بڑھا کرتا تھاعورتیں ان سے ذرا آگے رہا کرتی تھیںعورتیں آج بھی آگے ہی رہا کرتی ہیںعورتیں آج بھی کہتی ہیں ہمارے گیسوچاہے بکھرے ہوں کہ ایک جوڑے میں پابند کیے بیٹھے ہوںدیکھنے والوں کی ناکام تمناؤں کوایک ہی ہاتھ کے پابند ہوا کرتے ہیںوہی اک ہاتھ جو تلوار کو پہلو میں لیےسب سے آگے ہی چلا کرتا ہےاس کو کچھ علم کی پرواہ نہیں (عورت کی بھی پرواہ کیا ہے)اس کو کچھ علم نہیں کیسے فلاطوں پل میںاک شرر بن کے بجھا کرتا ہے
ایک لمبے ہیں عالم بھی فاضل بھی ہیںسچ تو یہ ہے کہ تھوڑے سے کاہل بھی ہیں
اے درختو! تمہیں جب کاٹ دیا جائے گااور تم سوکھ کے لکڑی میں بدل جاؤ گےایسے عالم میں بہت پیش کشیں ہوں گی تمہیںتم مگر اپنی روایت سے نہ پھرنا ہرگزشاہ کی کرسی میں ڈھلنے سے کہیں بہتر ہےکسی فٹپاتھ کے ہوٹل کا وہ ٹوٹا ہوا تختہ بننامیلے کپڑوں میں سہی لوگ محبت سے جہاں بیٹھتے ہیںکسی بندوق کا دستہ بھی نہیں ہونا تمہیںچاقو چھریوں کو بھی خدمات نہ اپنی دیناایسے دروازے کی چوکھٹ بھی نہ بننا ہرگزجو محبت بھری دستک پہ کبھی کھل نہ سکےاے درختو! تمہیں جب کاٹ دیا جائے گااور تم سوکھ کے لکڑی میں بدل جاؤ گےکوئی بیساکھی بنائے تو سہارا دینااور کشتی کے لیے اتنی محبت سے تم آگے بڑھناکہ سمندر کی فراخی بھی بہت کم پڑ جائےاپنے پتوار مرے بازوؤں جیسے رکھناجو کسی اور کی طاقت کے سوا زندہ ہیںمیری دنیا کہ ابھی واقف الفت ہی نہیںمیرے بازو بھی محبت کے سوا زندہ ہیں
طبیعت جو اندر سے جھنجھلا رہی ہےتو باہر سے آواز یہ آ رہی ہےکہ اے فاضل درس گاہ حماقتحجابات دانش اٹھا کر بھی دیکھوشرافت کے پیچھے جگر ہو گیا خوںشرافت سے پیچھا چھڑا کر بھی دیکھوازل سے محبت خودی کا ہے زنداںاب اس سے ذرا باہر آ کر بھی دیکھومروت نے پہنائی ہیں بیڑیاں جوذرا ان کا لوہا گھلا کر بھی دیکھوتصور کی وادی میں بھٹکو گے کب تککبھی شہر امکاں میں جا کر بھی دیکھوغرض مظہریؔ اس دیار جنوں میںملا، کچھ نہ کھونے سے پا کر بھی دیکھوسنا مشورہ تیرا اے صوت غیبیضلالت کی سرحد میں آ کر بھی دیکھارذالت کی گردن میں بانہیں بھی ڈالیںشرافت سے پیچھا چھڑا کر بھی دیکھاحمیت کا گھونٹا گلا رفتہ رفتہمحبت کو پھانسی چڑھا کر بھی دیکھاکف مور سے اس کا لقمہ بھی چھیناحق اہل خدمت چرا کر بھی دیکھاشعور و خرد کو غرور و حسد کوسلا کر بھی دیکھا جگا کر بھیپھرے کو بہ کو عقل کی رہبری میںغرض یہ کہ کھو کر بھی، پا کر بھی دیکھانہ کھونے سے حاصل، نہ پانے سے حاصلجسے سود کہتے ہیں وہ بھی زیاں ہےیہی بس کہ تقدیر عقل و جنوں ہےیہی خشت تعمیر کون و مکاں ہےمحبت جہنم ہے، نفرت جہنمجدھر جائیں اک آگ شعلہ فشاں ہےدیار وفا یا دیار ہوس ہونہ راحت یہاں ہے نہ راحت وہاں ہےشرافت بھی غمگیں رذالت بھی غمگیںبس اب منہ نہ کھلوا خدا درمیاں ہےسمک سے سما تک تپش ہی تپش ہےفضا سے خلا تک فغاں ہی فغاں ہےخودی پاؤں پکڑے ہے جائیں کہاں ہمتصور کی جنت بنائیں کہاں ہم
پیارا ہندستان ہمارا پیارا ہندوستانجان فدا ہے اس پر اپنی دل اس پر قربانملک نہیں یہ ہے جنت کا دل کش ایک مکانپیارا ہندستان ہمارا پیارا ہندوستانپیارے پیارے دریا اس کے پیاری پیاری نہریںپیارے پیارے چشمے اس کے پیاری پیاری لہریںپیارے پیارے منظر پیاری پیاری اس کی شانپیارا ہندستان ہمارا پیارا ہندستانپیاری کھیتی باڑی پیاری پیاری پیداوارپیاری پیاری آب و ہوا ہے پیاری اس کی بہاردل میں ہمارے رہتا ہے ہر وقت اسی کا دھیانپیارا ہندستان ہمارا پیارا ہندستانپیارا پیارا دن ہے اس کا پیاری پیاری راتپیارا شام و سحر کا جلوہ پیاری ہر اک باتپیارے پیارے نظاروں کی پیاری پیاری کانپیارا ہندستان ہمارا پیارا ہندستانپیارے پھل پیاری ترکاری پیارے اس کے پھولپیارے آم اور جامن اس کے پیارے نیم ببولپیارے غلے پیارے میوے پیارے پیارے دھانپیارا ہندستان ہمارا پیارا ہندوستانپیاری گرمی پیاری سردی پیاری ہر برساتپیاری ہر ہر بات ہے اس کی پیاری ہر ہر گھاتپیاری ہے ہر اک ادا پیارا ہر ایک نشانپیارا ہندستان ہمارا پیارا ہندستاناقبالؔ اور ٹیگورؔ سے شاعر پی سی رے سے فاضلوی سی رامن شاہ سلیماں جے سی بوس سے کاملگاندھیؔ اور جناحؔ سے لیڈر ذاکرؔ سے ودوانپیارا ہندستان ہمارا پیارا ہندستانجوہرؔ انصاریؔ اجملؔ آزادؔ جواہر لالؔدادا بھائیؔ داسؔ تلکؔ گوکھیلؔ سے نیک خصال
وہاں کام زیادہ تھا لیکن سب افسراسے دیکھ کر مسکراتے اور عزت سے ہر بات کرتےنہ بے کار میں ڈانٹتے اور نہ فاضل سوالات کرتےجو اک مہربانی میں تھا سب سے بڑھ کربڑی تر نگاہوں سے اس کی طرف دیکھتاپر کبھی کچھ نہ کہتاکہ اس مہرباں نرم گفتار افسر پہ بیوی کی باتوں کااک بار رہتاجسے وہ بڑی جانفشانی سے سہتا
یہ سرحدیں.... پڑوسنیںکبھی ہنسی خوشی رہیںکبھی ذرا سی بات ہو تو لڑ پڑیںنہ آنگنوں میں ایک ساتھ رقص ہونہ بام پر ہی باہمی قدم پڑےگلی میں کوئی کھیل ہونہ تال ہو، نہ میل ہوکشیدگی کے نام پر گھٹن کی ریل پیل ہویہ سرحدیں.... پڑوسنیںپڑوسنوں سے کیا کہیںجہاں میں رنجشوں کے سب گلیشئر پگھل گئےمگر یہاں کدورتوں کی برف ہے جمی ہوئی
مہینہ بھر سر کے بال نہ کٹواؤں تو مجھے کیادیکھنے والوں کو وحشت ہونے لگتی ہےہر ہفتے ہاتھوں اور پیروں کے ناخن نہ لوں تومحسوس ہوتا ہے جانور بنتا جا رہا ہوںصبح شیو نہ بناؤں تو گھر سے نکلتے جھجک آتی ہےٹھہریے ذرا میں دیکھ لوں باہر یہ شور کیسا ہےارے مالی لان میں گھاس کی مشین پھیر رہا تھاآپ تو جانتے ہیں گھاس نہ کٹے تو مچھر جان نہیں چھوڑتےویسے کبھی آپ نے تاکستانوں میں انگور کی ٹنڈ منڈ مڈھیوں کو دیکھا ہےیقین ہی نہیں آتا کہ ان سے نئی شاخیں پھوٹیں گیجو پتوں اور گچھوں سے لد جائیں گیابھی میں نے گلاب کے پودوں کی اپنے ہاتھوں سے کانٹ چھانٹ کی ہےمیری عالم فاضل بیوی کی جان نکلتی جا رہی تھیجب میں بے دردی سے قینچی چلا رہا تھالیکن میں باغبانوں کی اولاد ہوںدکھ تو مجھے بھی ہوتا ہےپلے ہوئے پودوں اور درختوں کو چھانگتے ہوئےلیکن پھول اور پھل تو اس کے بغیر یوں سمجھے رنگ ہی نہیں لاتےنہ وہ حسن نہ وہ مزہ نہ وہ بہتاتآپ بھی سوچتے ہوں گے پنجاب کا مقدمہ لڑتے لڑتےمیں حجاموں اور مالیوں کی وکالت کرنے تو نہیں چل پڑاسادہ سی بات ہے کہ انسانوں اور پودوں کی تراش خراش ہوتی رہنی چاہیےلیکن کیا بال کٹوا لیے جائیں ناخن لے لیے جائیں شیو کر لی جائےتو کام ختم ہو جاتا ہےکیا انسان صرف جسم کا نام ہے یاجذبات خیالات خواہشات اور عزائم بھی ہمارا حصہ ہیںتو کیا جسم کے ساتھ ان کی تراش خراش بھی ضروری ہےشاید جذبات اور خیالات کی تراش خراش ہی کو تہذیب کہتے ہیںشاید خواہشاتاً اور عزائم کی نوک پلک سنوارنے ہی سے تمدن نے جنم لیا ہےورنہ تو انسان غرض مندانہ حقوق ہی کے چکر سے نہیں نکلتااور ذمہ داریوں کے ادراک و احساس کی نوبت ہی نہیں آتیمعاف کیجیے یہ ساری چوری چکاری بد کاری ہوس کارییہ ساری لوٹ مار جعل سازی حرا مزدگی بے صبری نا شکر گزارییہ سارا جھوٹ فریب لالچ فتنہ فسادجذبات و خیالات اور خواہشات و عزائم کی حجامت نہ بنانے ہی کا تو نتیجہ ہےجناب جذبات کو تمیز اور خیالات کو اخلاق نہ سکھایا جائےخواہشات اور عزائم کے منہ پر انسانیت کی لگام نہ دی جائےتو پھر وہی کچھ ہوتا ہے جو آج ہمارے یہاں ہو رہا ہےاور یہ کہہ کر زیادہ دن گزارہ نہیں ہو سکتا کہاس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میںآپ ہنسیں گے میں جب بھی یہ مصرع پڑھتا ہوںاس طرح سے مجھے استرا یاد آ جاتا ہےقینچیاں یاد آ جاتی ہیں حجامت یاد آ جاتی ہےکچھ بھی ہو میں تو سمجھتا ہوں کہ قومی سطح پر ہماری حجامت بہت ضروری ہو گئی ہےہمارے صرف بال اور ناخن ہی نہیں بڑھ گئےہم ظاہر ہی میں نہیں باطن میں بھی جانور بنتے جا رہے ہیںجانوریت ہمارے دل و دماغ میں اتر گئی ہےاب تو اندر باہر حجامت کی ضرورت ہےبھئی بلاؤ کسی نشتر بدست حجام کو جو حجامت بنائے اور فصد کھولے ہماریلیکن ایک انار اور سو بیمارایک اکیلا حجام اور چودہ کروڑ انسانیہ تو ہم سب کو خود ہی آئینے کے سامنے بیٹھ کر حجامت بنائی اور فصد کھولنی پڑے گی اپنیتو بھائیو اور بہنومیرے پیارے ہم وطنوآج سے قومی سطح پر ہمارا یک نکاتی ایجنڈا کیا ٹھہرابولئے سب بولئے پورے زور سے بولئےحجامتحجامتاپنی اپنی حجامت
ایک دن حضرت حافظ نے یہ دیکھا منظرطوق زریں سے مزین ہے ہمہ گردن خراور چھکڑے میں جتا رینگ رہا ہے تازیزخم ہی زخم ہے کوڑے کا ز سر تا بہ کمرتھے جو مرحوم بڑے سادہ دل و نیک مزاج''ایں چہ شوریست'' کہا اور گرے چکرا کروہ تو اس غم کو لیے خلد بریں میں پہنچےکئی صدیوں کا زمانے نے لگایا چکرآج ہم پر بھی مگر جبر نظارہ ہے وہیوہی نیرنگ تماشا وہی نیرنگ نظروہ چراگاہ سیاست ہو کہ میدان ادبطوق زریں ہے وہی اور وہی گردن خراختیارات کی کرسی پہ خران فربہمتمکن نظر آتے ہیں بہ صد کر و فرایک کرسی پہ کسی طرح اچک کر پہنچےاور پھر دھڑ سے کھلے کشف و کرامات کے درپھر تو بقراطؔ اور ارسطوؔئے زمانہ ہیں وہعلم و حکمت میں نہیں پھر کوئی ان کا ہمسرپھر تو صحرائے جہالت بھی ہے دریائے علومپھر تو اس بے ہنری میں بھی ہیں سو سو جوہرخواہ دو حرف بھی تعلیم نہ حاصل کی ہوطوق زریں کے کرشمے سے بنے دانشورکوئی جلسہ ہو وہ ''مہمان خصوصی'' ہوں گےکوئی موقع ہو دھڑلے سے وہ دیں گے لیکچروہ زمیں کے ہوں مسائل کے خلا کی باتیںمثل مقراض زباں چلتی رہے گی فر فرعالم و فاضل و دانشور و اہل حکمتسب نظر آئیں گے قدموں پہ جھکائے ہوئے سرطوق زریں کا جو اس کو نہ کرشمہ کہیےناطقہ سر بہ گریباں کہ اسے کیا کہیے
نیلا نیلا امبر کیوں ہےدھرتی کھاتی چکر کیوں ہےبلی چوہے کیوں ہے کھاتیکالی کوئل کیوں ہے گاتیکیوں پانی میں رہتی مچھلیکیوں چرخے پر گھومے تکلیتتلی رنگ برنگی کیوں ہےیہ دنیا بے ڈھنگی کیوں ہےہندو مسلم سکھ عیسائیکیوں رکھتے مذہب کی کھائیکچھ گورے کچھ کالے کیوں ہیںاونچے پیسے والے کیوں ہیںچیزیں اتنی مہنگی کیوں ہیںجانیں اتنی سستی کیوں ہیںجھگڑا کرتے کیوں ہیں انساںدھن پر مرتے کیوں ہیں انساںخود غرضی ہی پیاری کیوں ہےمطلب کی ہی یاری کیوں ہےہر دم بم کے خطرے کیوں ہیںجنگ کے بادل بکھرے کیوں ہیںصدہا باتیں من میں اٹھتیںگھیرے مجھ کو سوچیں رہتیںمیں ہوں ننھا منا بالکاوروں جیسا کب ہوں زیرکپاپا تم ہو عالم فاضل ہر فن میں ہو پورے کاملپاپا مجھ کو بتلاؤ ناساری باتیں سمجھاؤ نا
یہ وہ سوال ہیں جو لا جواب کرتے ہیںبڑے بڑوں کی بھی جن سے کہ عقل ہو حیراںازل سے جن کی حقیقت رہی ہے پردے میںجنہیں سمجھ نہ سکا کوئی فاضل دوراں
اسے پڑھ کر ہی بن جاتا ہے کوئی عالم و فاضلتو کوئی ڈاکٹر انجینئر قانون داں عاقل
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہےپر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہےقدسی الاصل ہے رفعت پہ نظر رکھتی ہےخاک سے اٹھتی ہے گردوں پہ گزر رکھتی ہےعشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مراآسماں چیر گیا نالۂ بیباک مراپیر گردوں نے کہا سن کے کہیں ہے کوئیبولے سیارے سر عرش بریں ہے کوئیچاند کہتا تھا نہیں اہل زمیں ہے کوئیکہکشاں کہتی تھی پوشیدہ یہیں ہے کوئیکچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھامجھ کو جنت سے نکالا ہوا انساں سمجھاتھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیاعرش والوں پہ بھی کھلتا نہیں یہ راز ہے کیاتا سر عرش بھی انساں کی تگ و تاز ہے کیاآ گئی خاک کی چٹکی کو بھی پرواز ہے کیاغافل آداب سے سکان زمیں کیسے ہیںشوخ و گستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیںاس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہےتھا جو مسجود ملائک یہ وہی آدم ہےعالم کیف ہے دانائے رموز کم ہےہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہےناز ہے طاقت گفتار پہ انسانوں کوبات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کوآئی آواز غم انگیز ہے افسانہ ترااشک بیتاب سے لبریز ہے پیمانہ تراآسماں گیر ہوا نعرۂ مستانہ تراکس قدر شوخ زباں ہے دل دیوانہ تراشکر شکوے کو کیا حسن ادا سے تو نےہم سخن کر دیا بندوں کو خدا سے تو نےہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیںراہ دکھلائیں کسے رہرو منزل ہی نہیںتربیت عام تو ہے جوہر قابل ہی نہیںجس سے تعمیر ہو آدم کی یہ وہ گل ہی نہیںکوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیںڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیںہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیںامتی باعث رسوائی پیغمبر ہیںبت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیںتھا براہیم پدر اور پسر آزر ہیںبادہ آشام نئے بادہ نیا خم بھی نئےحرم کعبہ نیا بت بھی نئے تم بھی نئےوہ بھی دن تھے کہ یہی مایۂ رعنائی تھانازش موسم گل لالۂ صحرائی تھاجو مسلمان تھا اللہ کا سودائی تھاکبھی محبوب تمہارا یہی ہرجائی تھاکسی یکجائی سے اب عہد غلامی کر لوملت احمد مرسل کو مقامی کر لوکس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہےہم سے کب پیار ہے ہاں نیند تمہیں پیاری ہےطبع آزاد پہ قید رمضاں بھاری ہےتمہیں کہہ دو یہی آئین وفاداری ہےقوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیںجذب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیںجن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن تم ہونہیں جس قوم کو پروائے نشیمن تم ہوبجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہوبیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہوہو نکو نام جو قبروں کی تجارت کر کےکیا نہ بیچوگے جو مل جائیں صنم پتھر کےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا کس نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا کس نےمیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا کس نےمیرے قرآن کو سینوں سے لگایا کس نےتھے تو آبا وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہوہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہوکیا کہا بہر مسلماں ہے فقط وعدۂ حورشکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعورعدل ہے فاطر ہستی کا ازل سے دستورمسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حور و قصورتم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیںجلوۂ طور تو موجود ہے موسیٰ ہی نہیںمنفعت ایک ہے اس قوم کا نقصان بھی ایکایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایکحرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایککچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایکفرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیںکیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیںکون ہے تارک آئین رسول مختارمصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیارکس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعار اغیارہو گئی کس کی نگہ طرز سلف سے بے زارقلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیںکچھ بھی پیغام محمد کا تمہیں پاس نہیںجا کے ہوتے ہیں مساجد میں صف آرا تو غریبزحمت روزہ جو کرتے ہیں گوارا تو غریبنام لیتا ہے اگر کوئی ہمارا تو غریبپردہ رکھتا ہے اگر کوئی تمہارا تو غریبامرا نشۂ دولت میں ہیں غافل ہم سےزندہ ہے ملت بیضا غربا کے دم سےواعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہیبرق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہیرہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہیفلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہیمسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہےیعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہےشور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابودہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجودوضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنودیہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہودیوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہوتم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہودم تقریر تھی مسلم کی صداقت بیباکعدل اس کا تھا قوی لوث مراعات سے پاکشجر فطرت مسلم تھا حیا سے نمناکتھا شجاعت میں وہ اک ہستی فوق الادراکخود گدازی نم کیفیت صہبایش بودخالی از خویش شدن صورت مینا یش بودہر مسلماں رگ باطل کے لیے نشتر تھااس کے آئینۂ ہستی میں عمل جوہر تھاجو بھروسا تھا اسے قوت بازو پر تھاہے تمہیں موت کا ڈر اس کو خدا کا ڈر تھاباپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہوپھر پسر قابل میراث پدر کیونکر ہوہر کوئی مست مئے ذوق تن آسانی ہےتم مسلماں ہو یہ انداز مسلمانی ہےحیدری فقر ہے نے دولت عثمانی ہےتم کو اسلاف سے کیا نسبت روحانی ہےوہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کراور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کرتم ہو آپس میں غضب ناک وہ آپس میں رحیمتم خطا کار و خطا بیں وہ خطا پوش و کریمچاہتے سب ہیں کہ ہوں اوج ثریا پہ مقیمپہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلب سلیمتخت فغفور بھی ان کا تھا سریر کے بھییوں ہی باتیں ہیں کہ تم میں وہ حمیت ہے بھیخودکشی شیوہ تمہارا وہ غیور و خوددارتم اخوت سے گریزاں وہ اخوت پہ نثارتم ہو گفتار سراپا وہ سراپا کردارتم ترستے ہو کلی کو وہ گلستاں بکناراب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کینقش ہے صفحۂ ہستی پہ صداقت ان کیمثل انجم افق قوم پہ روشن بھی ہوئےبت ہندی کی محبت میں برہمن بھی ہوئےشوق پرواز میں مہجور نشیمن بھی ہوئےبے عمل تھے ہی جواں دین سے بدظن بھی ہوئےان کو تہذیب نے ہر بند سے آزاد کیالا کے کعبے سے صنم خانے میں آباد کیاقیس زحمت کش تنہائی صحرا نہ رہےشہر کی کھائے ہوا بادیہ پیما نہ رہےوہ تو دیوانہ ہے بستی میں رہے یا نہ رہےیہ ضروری ہے حجاب رخ لیلا نہ رہےگلۂ جور نہ ہو شکوۂ بیداد نہ ہوعشق آزاد ہے کیوں حسن بھی آزاد نہ ہوعہد نو برق ہے آتش زن ہر خرمن ہےایمن اس سے کوئی صحرا نہ کوئی گلشن ہےاس نئی آگ کا اقوام کہن ایندھن ہےملت ختم رسل شعلہ بہ پیراہن ہےآج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیداآگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدادیکھ کر رنگ چمن ہو نہ پریشاں مالیکوکب غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والیخس و خاشاک سے ہوتا ہے گلستاں خالیگل بر انداز ہے خون شہدا کی لالیرنگ گردوں کا ذرا دیکھ تو عنابی ہےیہ نکلتے ہوئے سورج کی افق تابی ہےامتیں گلشن ہستی میں ثمر چیدہ بھی ہیںاور محروم ثمر بھی ہیں خزاں دیدہ بھی ہیںسیکڑوں نخل ہیں کاہیدہ بھی بالیدہ بھی ہیںسیکڑوں بطن چمن میں ابھی پوشیدہ بھی ہیںنخل اسلام نمونہ ہے برومندی کاپھل ہے یہ سیکڑوں صدیوں کی چمن بندی کاپاک ہے گرد وطن سے سر داماں تیراتو وہ یوسف ہے کہ ہر مصر ہے کنعاں تیراقافلہ ہو نہ سکے گا کبھی ویراں تیراغیر یک بانگ درا کچھ نہیں ساماں تیرانخل شمع استی و در شعلہ دو ریشۂ توعاقبت سوز بود سایۂ اندیشۂ توتو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سےنشۂ مے کو تعلق نہیں پیمانے سےہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سےپاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سےکشتئ حق کا زمانے میں سہارا تو ہےعصر نو رات ہے دھندلا سا ستارا تو ہےہے جو ہنگامہ بپا یورش بلغاری کاغافلوں کے لیے پیغام ہے بیداری کاتو سمجھتا ہے یہ ساماں ہے دل آزاری کاامتحاں ہے ترے ایثار کا خودداری کاکیوں ہراساں ہے صہیل فرس اعدا سےنور حق بجھ نہ سکے گا نفس اعدا سےچشم اقوام سے مخفی ہے حقیقت تیریہے ابھی محفل ہستی کو ضرورت تیریزندہ رکھتی ہے زمانے کو حرارت تیریکوکب قسمت امکاں ہے خلافت تیریوقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہےنور توحید کا اتمام ابھی باقی ہےمثل بو قید ہے غنچے میں پریشاں ہو جارخت بر دوش ہوائے چمنستاں ہو جاہے تنک مایہ تو ذرے سے بیاباں ہو جانغمۂ موج ہے ہنگامۂ طوفاں ہو جاقوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دےدہر میں اسم محمد سے اجالا کر دےہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہوچمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہویہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہوبزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہوخیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہےنبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہےدشت میں دامن کہسار میں میدان میں ہےبحر میں موج کی آغوش میں طوفان میں ہےچین کے شہر مراقش کے بیابان میں ہےاور پوشیدہ مسلمان کے ایمان میں ہےچشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھےرفعت شان رفعنا لک ذکرک دیکھےمردم چشم زمیں یعنی وہ کالی دنیاوہ تمہارے شہدا پالنے والی دنیاگرمی مہر کی پروردہ ہلالی دنیاعشق والے جسے کہتے ہیں بلالی دنیاتپش اندوز ہے اس نام سے پارے کی طرحغوطہ زن نور میں ہے آنکھ کے تارے کی طرحعقل ہے تیری سپر عشق ہے شمشیر تریمرے درویش خلافت ہے جہانگیر تریما سوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تریتو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تریکی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیںیہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
بول کہ لب آزاد ہیں تیرےبول زباں اب تک تیری ہےتیرا ستواں جسم ہے تیرابول کہ جاں اب تک تیری ہےدیکھ کہ آہن گر کی دکاں میںتند ہیں شعلے سرخ ہے آہنکھلنے لگے قفلوں کے دہانےپھیلا ہر اک زنجیر کا دامنبول یہ تھوڑا وقت بہت ہےجسم و زباں کی موت سے پہلےبول کہ سچ زندہ ہے اب تکبول جو کچھ کہنا ہے کہہ لے
ہاں دل کا دامن پھیلا ہےکیوں گوری کا دل میلا ہےہم کب تک پیت کے دھوکے میںتم کب تک دور جھروکے میںکب دید سے دل کو سیری ہو
امید کی جھوٹی جنت کے رہ رہ کے نہ دکھلا خواب ہمیںآئندہ کی فرضی عشرت کے وعدوں سے نہ کر بیتاب ہمیںکہتا ہے زمانہ جس کو خوشی آتی ہے نظر کم یاب ہمیں
مرے غنیم نے مجھ کو پیام بھیجا ہےکہ حلقہ زن ہیں مرے گرد لشکری اس کےفصیل شہر کے ہر برج ہر منارے پرکماں بہ دست ستادہ ہیں عسکری اس کے
چراغ جن سے محبت کی روشنی پھیلےچراغ جن سے دلوں کے دیار روشن ہوںچراغ جن سے ضیا امن و آشتی کی ملےچراغ جن سے دیئے بے شمار روشن ہوں
ہوا خیمہ زن کاروان بہارارم بن گیا دامن کوہسارگل و نرگس و سوسن و نسترنشہید ازل لالہ خونیں کفنجہاں چھپ گیا پردۂ رنگ میںلہو کی ہے گردش رگ سنگ میںفضا نیلی نیلی ہوا میں سرورٹھہرتے نہیں آشیاں میں طیوروہ جوئے کہستاں اچکتی ہوئیاٹکتی لچکتی سرکتی ہوئیاچھلتی پھسلتی سنبھلتی ہوئیبڑے پیچ کھا کر نکلتی ہوئیرکے جب تو سل چیر دیتی ہے یہپہاڑوں کے دل چیر دیتی ہے یہذرا دیکھ اے ساقیٔ لالہ فامسناتی ہے یہ زندگی کا پیامپلا دے مجھے وہ مئے پردہ سوزکہ آتی نہیں فصل گل روز روزوہ مے جس سے روشن ضمیر حیاتوہ مے جس سے ہے مستی کائناتوہ مے جس میں ہے سوز و ساز ازلوہ مے جس سے کھلتا ہے راز ازلاٹھا ساقیا پردہ اس راز سےلڑا دے ممولے کو شہباز سےزمانے کے انداز بدلے گئےنیا راگ ہے ساز بدلے گئےہوا اس طرح فاش راز فرنگکہ حیرت میں ہے شیشہ باز فرنگپرانی سیاست گری خوار ہےزمیں میر و سلطاں سے بے زار ہےگیا دور سرمایہ داری گیاتماشا دکھا کر مداری گیاگراں خواب چینی سنبھلنے لگےہمالہ کے چشمے ابلنے لگےدل طور سینا و فاران دو نیمتجلی کا پھر منتظر ہے کلیممسلماں ہے توحید میں گرم جوشمگر دل ابھی تک ہے زنار پوشتمدن تصوف شریعت کلامبتان عجم کے پجاری تمامحقیقت خرافات میں کھو گئییہ امت روایات میں کھو گئیلبھاتا ہے دل کو کلام خطیبمگر لذت شوق سے بے نصیببیاں اس کا منطق سے سلجھا ہوالغت کے بکھیڑوں میں الجھا ہواوہ صوفی کہ تھا خدمت حق میں مردمحبت میں یکتا حمیت میں فردعجم کے خیالات میں کھو گیایہ سالک مقامات میں کھو گیابجھی عشق کی آگ اندھیر ہےمسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہےشراب کہن پھر پلا ساقیاوہی جام گردش میں لا ساقیامجھے عشق کے پر لگا کر اڑامری خاک جگنو بنا کر اڑاخرد کو غلامی سے آزاد کرجوانوں کو پیروں کا استاد کرہری شاخ ملت ترے نم سے ہےنفس اس بدن میں ترے دم سے ہےتڑپنے پھڑکنے کی توفیق دےدل مرتضی سوز صدیق دےجگر سے وہی تیر پھر پار کرتمنا کو سینوں میں بیدار کرترے آسمانوں کے تاروں کی خیرزمینوں کے شب زندہ داروں کی خیرجوانوں کو سوز جگر بخش دےمرا عشق میری نظر بخش دےمری ناؤ گرداب سے پار کریہ ثابت ہے تو اس کو سیار کربتا مجھ کو اسرار مرگ و حیاتکہ تیری نگاہوں میں ہے کائناتمرے دیدۂ تر کی بے خوابیاںمرے دل کی پوشیدہ بیتابیاںمرے نالۂ نیم شب کا نیازمری خلوت و انجمن کا گدازامنگیں مری آرزوئیں مریامیدیں مری جستجوئیں مریمری فطرت آئینۂ روزگارغزالان افکار کا مرغزارمرا دل مری رزم گاہ حیاتگمانوں کے لشکر یقیں کا ثباتیہی کچھ ہے ساقی متاع فقیراسی سے فقیری میں ہوں میں امیرمرے قافلے میں لٹا دے اسےلٹا دے ٹھکانے لگا دے اسےدما دم رواں ہے یم زندگیہر اک شے سے پیدا رم زندگیاسی سے ہوئی ہے بدن کی نمودکہ شعلے میں پوشیدہ ہے موج دودگراں گرچہ ہے صحبت آب و گلخوش آئی اسے محنت آب و گلیہ ثابت بھی ہے اور سیار بھیعناصر کے پھندوں سے بے زار بھییہ وحدت ہے کثرت میں ہر دم اسیرمگر ہر کہیں بے چگوں بے نظیریہ عالم یہ بت خانۂ شش جہاتاسی نے تراشا ہے یہ سومناتپسند اس کو تکرار کی خو نہیںکہ تو میں نہیں اور میں تو نہیںمن و تو سے ہے انجمن آفریںمگر عین محفل میں خلوت نشیںچمک اس کی بجلی میں تارے میں ہےیہ چاندی میں سونے میں پارے میں ہےاسی کے بیاباں اسی کے ببولاسی کے ہیں کانٹے اسی کے ہیں پھولکہیں اس کی طاقت سے کہسار چورکہیں اس کے پھندے میں جبریل و حورکہیں جزہ ہے شاہین سیماب رنگلہو سے چکوروں کے آلودہ چنگکبوتر کہیں آشیانے سے دورپھڑکتا ہوا جال میں ناصبورفریب نظر ہے سکون و ثباتتڑپتا ہے ہر ذرۂ کائناتٹھہرتا نہیں کاروان وجودکہ ہر لحظ ہے تازہ شان وجودسمجھتا ہے تو راز ہے زندگیفقط ذوق پرواز ہے زندگیبہت اس نے دیکھے ہیں پست و بلندسفر اس کو منزل سے بڑھ کر پسندسفر زندگی کے لیے برگ و سازسفر ہے حقیقت حضر ہے مجازالجھ کر سلجھنے میں لذت اسےتڑپنے پھڑکنے میں راحت اسےہوا جب اسے سامنا موت کاکٹھن تھا بڑا تھامنا موت کااتر کر جہان مکافات میںرہی زندگی موت کی گھات میںمذاق دوئی سے بنی زوج زوجاٹھی دشت و کوہسار سے فوج فوجگل اس شاخ سے ٹوٹتے بھی رہےاسی شاخ سے پھوٹتے بھی رہےسمجھتے ہیں ناداں اسے بے ثباتابھرتا ہے مٹ مٹ کے نقش حیاتبڑی تیز جولاں بڑی زود رسازل سے ابد تک رم یک نفسزمانہ کہ زنجیر ایام ہےدموں کے الٹ پھیر کا نام ہےیہ موج نفس کیا ہے تلوار ہےخودی کیا ہے تلوار کی دھار ہےخودی کیا ہے راز درون حیاتخودی کیا ہے بیداری کائناتخودی جلوہ بدمست و خلوت پسندسمندر ہے اک بوند پانی میں بنداندھیرے اجالے میں ہے تابناکمن و تو میں پیدا من و تو سے پاکازل اس کے پیچھے ابد سامنےنہ حد اس کے پیچھے نہ حد سامنےزمانے کے دریا میں بہتی ہوئیستم اس کی موجوں کے سہتی ہوئیتجسس کی راہیں بدلتی ہوئیدما دم نگاہیں بدلتی ہوئیسبک اس کے ہاتھوں میں سنگ گراںپہاڑ اس کی ضربوں سے ریگ رواںسفر اس کا انجام و آغاز ہےیہی اس کی تقویم کا راز ہےکرن چاند میں ہے شرر سنگ میںیہ بے رنگ ہے ڈوب کر رنگ میںاسے واسطہ کیا کم و بیش سےنشیب و فراز و پس و پیش سےازل سے ہے یہ کشمکش میں اسیرہوئی خاک آدم میں صورت پذیرخودی کا نشیمن ترے دل میں ہےفلک جس طرح آنکھ کے تل میں ہےخودی کے نگہباں کو ہے زہر نابوہ ناں جس سے جاتی رہے اس کی آبوہی ناں ہے اس کے لیے ارجمندرہے جس سے دنیا میں گردن بلندخودی فال محمود سے درگزرخودی پر نگہ رکھ ایازی نہ کروہی سجدہ ہے لائق اہتمامکہ ہو جس سے ہر سجدہ تجھ پر حرامیہ عالم یہ ہنگامۂ رنگ و صوتیہ عالم کہ ہے زیر فرمان موتیہ عالم یہ بتخانۂ چشم و گوشجہاں زندگی ہے فقط خورد و نوشخودی کی یہ ہے منزل اولیںمسافر یہ تیرا نشیمن نہیںتری آگ اس خاک داں سے نہیںجہاں تجھ سے ہے تو جہاں سے نہیںبڑھے جا یہ کوہ گراں توڑ کرطلسم زمان و مکاں توڑ کرخودی شیر مولا جہاں اس کا صیدزمیں اس کی صید آسماں اس کا صیدجہاں اور بھی ہیں ابھی بے نمودکہ خالی نہیں ہے ضمیر وجودہر اک منتظر تیری یلغار کاتری شوخئی فکر و کردار کایہ ہے مقصد گردش روزگارکہ تیری خودی تجھ پہ ہو آشکارتو ہے فاتح عالم خوب و زشتتجھے کیا بتاؤں تری سر نوشتحقیقت پہ ہے جامۂ حرف تنگحقیقت ہے آئینہ گفتار زنگفروزاں ہے سینے میں شمع نفسمگر تاب گفتار رکھتی ہے بساگر یک سر موئے برتر پرمفروغ تجلی بسوزد پرم
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books