aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "fard"
پہلے بھی تو گزرے ہیںدور نارسائی کے ''بے ریا'' خدائی کےپھر بھی یہ سمجھتے ہو ہیچ آرزو مندییہ شب زباں بندی ہے رہ خداوندیتم مگر یہ کیا جانولب اگر نہیں ہلتے ہاتھ جاگ اٹھتے ہیںہاتھ جاگ اٹھتے ہیں راہ کا نشاں بن کرنور کی زباں بن کرہاتھ بول اٹھتے ہیں صبح کی اذاں بن کرروشنی سے ڈرتے ہوروشنی تو تم بھی ہو روشنی تو ہم بھی ہیںروشنی سے ڈرتے ہوشہر کی فصیلوں پردیو کا جو سایہ تھا پاک ہو گیا آخررات کا لبادہ بھیچاک ہو گیا آخر خاک ہو گیا آخراژدہام انساں سے فرد کی نوا آئیذات کی صدا آئیراہ شوق میں جیسے راہرو کا خوں لپکےاک نیا جنوں لپکےآدمی چھلک اٹھےآدمی ہنسے دیکھو، شہر پھر بسے دیکھوتم ابھی سے ڈرتے ہو؟ہاں ابھی تو تم بھی ہوہاں ابھی تو ہم بھی ہیںتم ابھی سے ڈرتے ہو
ہوا خیمہ زن کاروان بہارارم بن گیا دامن کوہسارگل و نرگس و سوسن و نسترنشہید ازل لالہ خونیں کفنجہاں چھپ گیا پردۂ رنگ میںلہو کی ہے گردش رگ سنگ میںفضا نیلی نیلی ہوا میں سرورٹھہرتے نہیں آشیاں میں طیوروہ جوئے کہستاں اچکتی ہوئیاٹکتی لچکتی سرکتی ہوئیاچھلتی پھسلتی سنبھلتی ہوئیبڑے پیچ کھا کر نکلتی ہوئیرکے جب تو سل چیر دیتی ہے یہپہاڑوں کے دل چیر دیتی ہے یہذرا دیکھ اے ساقیٔ لالہ فامسناتی ہے یہ زندگی کا پیامپلا دے مجھے وہ مئے پردہ سوزکہ آتی نہیں فصل گل روز روزوہ مے جس سے روشن ضمیر حیاتوہ مے جس سے ہے مستی کائناتوہ مے جس میں ہے سوز و ساز ازلوہ مے جس سے کھلتا ہے راز ازلاٹھا ساقیا پردہ اس راز سےلڑا دے ممولے کو شہباز سےزمانے کے انداز بدلے گئےنیا راگ ہے ساز بدلے گئےہوا اس طرح فاش راز فرنگکہ حیرت میں ہے شیشہ باز فرنگپرانی سیاست گری خوار ہےزمیں میر و سلطاں سے بے زار ہےگیا دور سرمایہ داری گیاتماشا دکھا کر مداری گیاگراں خواب چینی سنبھلنے لگےہمالہ کے چشمے ابلنے لگےدل طور سینا و فاران دو نیمتجلی کا پھر منتظر ہے کلیممسلماں ہے توحید میں گرم جوشمگر دل ابھی تک ہے زنار پوشتمدن تصوف شریعت کلامبتان عجم کے پجاری تمامحقیقت خرافات میں کھو گئییہ امت روایات میں کھو گئیلبھاتا ہے دل کو کلام خطیبمگر لذت شوق سے بے نصیببیاں اس کا منطق سے سلجھا ہوالغت کے بکھیڑوں میں الجھا ہواوہ صوفی کہ تھا خدمت حق میں مردمحبت میں یکتا حمیت میں فردعجم کے خیالات میں کھو گیایہ سالک مقامات میں کھو گیابجھی عشق کی آگ اندھیر ہےمسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہےشراب کہن پھر پلا ساقیاوہی جام گردش میں لا ساقیامجھے عشق کے پر لگا کر اڑامری خاک جگنو بنا کر اڑاخرد کو غلامی سے آزاد کرجوانوں کو پیروں کا استاد کرہری شاخ ملت ترے نم سے ہےنفس اس بدن میں ترے دم سے ہےتڑپنے پھڑکنے کی توفیق دےدل مرتضی سوز صدیق دےجگر سے وہی تیر پھر پار کرتمنا کو سینوں میں بیدار کرترے آسمانوں کے تاروں کی خیرزمینوں کے شب زندہ داروں کی خیرجوانوں کو سوز جگر بخش دےمرا عشق میری نظر بخش دےمری ناؤ گرداب سے پار کریہ ثابت ہے تو اس کو سیار کربتا مجھ کو اسرار مرگ و حیاتکہ تیری نگاہوں میں ہے کائناتمرے دیدۂ تر کی بے خوابیاںمرے دل کی پوشیدہ بیتابیاںمرے نالۂ نیم شب کا نیازمری خلوت و انجمن کا گدازامنگیں مری آرزوئیں مریامیدیں مری جستجوئیں مریمری فطرت آئینۂ روزگارغزالان افکار کا مرغزارمرا دل مری رزم گاہ حیاتگمانوں کے لشکر یقیں کا ثباتیہی کچھ ہے ساقی متاع فقیراسی سے فقیری میں ہوں میں امیرمرے قافلے میں لٹا دے اسےلٹا دے ٹھکانے لگا دے اسےدما دم رواں ہے یم زندگیہر اک شے سے پیدا رم زندگیاسی سے ہوئی ہے بدن کی نمودکہ شعلے میں پوشیدہ ہے موج دودگراں گرچہ ہے صحبت آب و گلخوش آئی اسے محنت آب و گلیہ ثابت بھی ہے اور سیار بھیعناصر کے پھندوں سے بے زار بھییہ وحدت ہے کثرت میں ہر دم اسیرمگر ہر کہیں بے چگوں بے نظیریہ عالم یہ بت خانۂ شش جہاتاسی نے تراشا ہے یہ سومناتپسند اس کو تکرار کی خو نہیںکہ تو میں نہیں اور میں تو نہیںمن و تو سے ہے انجمن آفریںمگر عین محفل میں خلوت نشیںچمک اس کی بجلی میں تارے میں ہےیہ چاندی میں سونے میں پارے میں ہےاسی کے بیاباں اسی کے ببولاسی کے ہیں کانٹے اسی کے ہیں پھولکہیں اس کی طاقت سے کہسار چورکہیں اس کے پھندے میں جبریل و حورکہیں جزہ ہے شاہین سیماب رنگلہو سے چکوروں کے آلودہ چنگکبوتر کہیں آشیانے سے دورپھڑکتا ہوا جال میں ناصبورفریب نظر ہے سکون و ثباتتڑپتا ہے ہر ذرۂ کائناتٹھہرتا نہیں کاروان وجودکہ ہر لحظ ہے تازہ شان وجودسمجھتا ہے تو راز ہے زندگیفقط ذوق پرواز ہے زندگیبہت اس نے دیکھے ہیں پست و بلندسفر اس کو منزل سے بڑھ کر پسندسفر زندگی کے لیے برگ و سازسفر ہے حقیقت حضر ہے مجازالجھ کر سلجھنے میں لذت اسےتڑپنے پھڑکنے میں راحت اسےہوا جب اسے سامنا موت کاکٹھن تھا بڑا تھامنا موت کااتر کر جہان مکافات میںرہی زندگی موت کی گھات میںمذاق دوئی سے بنی زوج زوجاٹھی دشت و کوہسار سے فوج فوجگل اس شاخ سے ٹوٹتے بھی رہےاسی شاخ سے پھوٹتے بھی رہےسمجھتے ہیں ناداں اسے بے ثباتابھرتا ہے مٹ مٹ کے نقش حیاتبڑی تیز جولاں بڑی زود رسازل سے ابد تک رم یک نفسزمانہ کہ زنجیر ایام ہےدموں کے الٹ پھیر کا نام ہےیہ موج نفس کیا ہے تلوار ہےخودی کیا ہے تلوار کی دھار ہےخودی کیا ہے راز درون حیاتخودی کیا ہے بیداری کائناتخودی جلوہ بدمست و خلوت پسندسمندر ہے اک بوند پانی میں بنداندھیرے اجالے میں ہے تابناکمن و تو میں پیدا من و تو سے پاکازل اس کے پیچھے ابد سامنےنہ حد اس کے پیچھے نہ حد سامنےزمانے کے دریا میں بہتی ہوئیستم اس کی موجوں کے سہتی ہوئیتجسس کی راہیں بدلتی ہوئیدما دم نگاہیں بدلتی ہوئیسبک اس کے ہاتھوں میں سنگ گراںپہاڑ اس کی ضربوں سے ریگ رواںسفر اس کا انجام و آغاز ہےیہی اس کی تقویم کا راز ہےکرن چاند میں ہے شرر سنگ میںیہ بے رنگ ہے ڈوب کر رنگ میںاسے واسطہ کیا کم و بیش سےنشیب و فراز و پس و پیش سےازل سے ہے یہ کشمکش میں اسیرہوئی خاک آدم میں صورت پذیرخودی کا نشیمن ترے دل میں ہےفلک جس طرح آنکھ کے تل میں ہےخودی کے نگہباں کو ہے زہر نابوہ ناں جس سے جاتی رہے اس کی آبوہی ناں ہے اس کے لیے ارجمندرہے جس سے دنیا میں گردن بلندخودی فال محمود سے درگزرخودی پر نگہ رکھ ایازی نہ کروہی سجدہ ہے لائق اہتمامکہ ہو جس سے ہر سجدہ تجھ پر حرامیہ عالم یہ ہنگامۂ رنگ و صوتیہ عالم کہ ہے زیر فرمان موتیہ عالم یہ بتخانۂ چشم و گوشجہاں زندگی ہے فقط خورد و نوشخودی کی یہ ہے منزل اولیںمسافر یہ تیرا نشیمن نہیںتری آگ اس خاک داں سے نہیںجہاں تجھ سے ہے تو جہاں سے نہیںبڑھے جا یہ کوہ گراں توڑ کرطلسم زمان و مکاں توڑ کرخودی شیر مولا جہاں اس کا صیدزمیں اس کی صید آسماں اس کا صیدجہاں اور بھی ہیں ابھی بے نمودکہ خالی نہیں ہے ضمیر وجودہر اک منتظر تیری یلغار کاتری شوخئی فکر و کردار کایہ ہے مقصد گردش روزگارکہ تیری خودی تجھ پہ ہو آشکارتو ہے فاتح عالم خوب و زشتتجھے کیا بتاؤں تری سر نوشتحقیقت پہ ہے جامۂ حرف تنگحقیقت ہے آئینہ گفتار زنگفروزاں ہے سینے میں شمع نفسمگر تاب گفتار رکھتی ہے بساگر یک سر موئے برتر پرمفروغ تجلی بسوزد پرم
لبریز ہے شراب حقیقت سے جام ہندسب فلسفی ہیں خطۂ مغرب کے رام ہندیہ ہندیوں کی فکر فلک رس کا ہے اثررفعت میں آسماں سے بھی اونچا ہے بام ہنداس دیس میں ہوئے ہیں ہزاروں ملک سرشتمشہور جن کے دم سے ہے دنیا میں نام ہندہے رام کے وجود پہ ہندوستاں کو نازاہل نظر سمجھتے ہیں اس کو امام ہنداعجاز اس چراغ ہدایت کا ہے یہیروشن تر از سحر ہے زمانہ میں شام ہندتلوار کا دھنی تھا شجاعت میں فرد تھاپاکیزگی میں جوش محبت میں فرد تھا
ریاست میںمہارانیوں کے قصے گھڑنے پرعلم کی بڑی ملتی ہےبل کے سادہ کاغذ پرعلم لکھ دیا جاتا ہےتازہ دریافت پرہر فرد کی مٹھی گرم ہوتی ہے
ندائے غیبہر اک اولی الامر کو صدا دوکہ اپنی فرد عمل سنبھالےاٹھے گا جب جمع سرفروشاںپڑیں گے دار و رسن کے لالےکوئی نہ ہوگا کہ جو بچا لےجزا سزا سب یہیں پہ ہوگییہیں عذاب و ثواب ہوگایہیں سے اٹھے گا شور محشریہیں پہ روز حساب ہوگا
کیسے اک فرد کے ہونٹوں کی ذرا سی جنبشسرد کر سکتی تھی بے لوث وفاؤں کے چراغلوٹ سکتی تھی دمکتے ہوئے ہاتھوں کا سہاگتوڑ سکتی تھی مئے عشق سے لبریز ایاغ
ہم بھی حب وطن میں ہیں گو غرقہم میں اور ان میں ہے مگر یہ فرقہم ہیں نام وطن کے دیوانےوہ تھے اہل وطن کے پروانےجس نے یوسف کی داستاں ہے سنیجانتا ہوگا روئداد اس کیمصر میں قحط جب پڑا آ کراور ہوئی قوم بھوک سے مضطرکر دیا وقف ان پہ بیت الماللب تک آنے دیا نہ حرف سوالکھتیاں اور کوٹھے کھول دیےمفت سارے ذخیرے تول دیےقافلے خالی ہاتھ آتے تھےاور بھرپور یاں سے جاتے تھےیوں گئے قحط کے وہ سال گزرجیسے بچوں کی بھوک وقت سحر
وہ وقت کبھی تو آئے گا جب دل کے چمن لہرائیں گےمر جاؤں تو کیا مرنے سے مرے یہ خواب نہیں مر جائیں گےیہ خواب ہی میری دولت ہیں یہ خواب تمہیں دے جاؤں گااس دہر میں جینے مرنے کے آداب تمہیں دے جاؤں گاممکن ہے کہ یہ دنیا کی روش پل بھر کو تمہارا ساتھ نہ دےکانٹوں ہی کا تحفہ نذر کرے پھولوں کی کوئی سوغات نہ دےممکن ہے تمہارے رستے میں ہر ظلم و ستم دیوار بنےسینے میں دہکتے شعلے ہوں ہر سانس کوئی آزار بنےایسے میں نہ کھل کر رہ جانا اشکوں سے نہ آنچل بھر لیناغم آپ بڑی اک طاقت ہے یہ طاقت بس میں کر لیناہو عزم تو لو دے اٹھتا ہے ہر زخم سلگتے سینے کاجو اپنا حق خود چھین سکے ملتا ہے اسے حق جینے کالیکن یہ ہمیشہ یاد رہے اک فرد کی طاقت کچھ بھی نہیںجو بھی ہو اکیلے انساں سے دنیا کی بغاوت کچھ بھی نہیںتنہا جو کسی کو پائیں گے طاقت کے شکنجے جکڑیں گےسو ہاتھ اٹھیں گے جب مل کر دنیا کا گریباں پکڑیں گےانسان وہی ہے تابندہ اس راز سے جس کا سینا ہےاوروں کے لیے تو جینا ہی خود اپنے لیے بھی جینا ہے
سنو کہ شاید یہ نور صیقلہے اس صحیفے کا حرف اولجو ہر کس و ناکس زمیں پردل گدایان اجمعیں پراتر رہا ہے فلک سے اب کےسنو کہ اس حرف لم یزل کےہمیں تمہیں بندگان بے بسعلیم بھی ہیں خبیر بھی ہیںسنو کہ ہم بے زبان و بے کسبشیر بھی ہیں نظیر بھی ہیںہر اک اولی الامر کو صدا دوکہ اپنی فرد عمل سنبھالےاٹھے گا جب جام سرفروشاںپڑیں گے دار و رسن کے لالےکوئی نہ ہوگا کہ جو بچا لےجزا سزا سب یہیں پہ ہوگییہیں عذاب و ثواب ہوگایہیں پہ روز حساب ہوگا
کلیجہ پھنک رہا ہے اور زباں کہنے سے عاری ہےبتاؤں کیا تمہیں کیا چیز یہ سرمایہ داری ہےیہ وہ آندھی ہے جس کی رو میں مفلس کا نشیمن ہےیہ وہ بجلی ہے جس کی زد میں ہر دہقاں کا خرمن ہےیہ اپنے ہاتھ میں تہذیب کا فانوس لیتی ہےمگر مزدور کے تن سے لہو تک چوس لیتی ہےیہ انسانی بلا خود خون انسانی کی گاہک ہےوبا سے بڑھ کے مہلک موت سے بڑھ کر بھیانک ہےنہ دیکھے ہیں برے اس نے نہ پرکھے ہیں بھلے اس نےشکنجوں میں جکڑ کر گھونٹ ڈالے ہیں گلے اس نےبلائے بے اماں ہے طور ہی اس کے نرالے ہیںکہ اس نے غیظ میں اجڑے ہوئے گھر پھونک ڈالے ہیںقیامت اس کے غمزے جان لیوا ہیں ستم اس کےہمیشہ سینۂ مفلس پہ پڑتے ہیں قدم اس کےکہیں یہ خوں سے فرد مال و زر تحریر کرتی ہےکہیں یہ ہڈیاں چن کر محل تعمیر کرتی ہےغریبوں کا مقدس خون پی پی کر بہکتی ہےمحل میں ناچتی ہے رقص گاہوں میں تھرکتی ہےبظاہر چند فرعونوں کا دامن بھر دیا اس نےمگر گل باغ عالم کو جہنم کر دیا اس نےدرندے سر جھکا دیتے ہیں لوہا مان کر اس کانظر سفاک تر اس کی نفس مکروہ تر اس کاجدھر چلتی ہے بربادی کے ساماں ساتھ چلتے ہیںنحوست ہم سفر ہوتی ہے شیطاں ساتھ چلتے ہیںیہ اکثر لوٹ کر معصوم انسانوں کو راہوں میںخدا کے زمزمے گاتی ہے چھپ کر خانقاہوں میںیہ ڈائن ہے بھری گودوں سے بچے چھین لیتی ہےیہ غیرت چھین لیتی ہے حمیت چھین لیتی ہےیہ انسانوں سے انسانوں کی فطرت چھین لیتی ہےیہ آشوب ہلاکت فتنۂ اسکندر و دارازمیں کے دیوتاؤں کی کنیز انجمن آراہمیشہ خون پی کر ہڈیوں کے رتھ میں چلتی ہےزمانہ چیخ اٹھتا ہے یہ جب پہلو بدلتی ہےگرجتی گونجتی یہ آج بھی میداں میں آتی ہےمگر بد مست ہے ہر ہر قدم پر لڑکھڑاتی ہےمبارک دوستو لبریز ہے اب اس کا پیمانہاٹھاؤ آندھیاں کمزور ہے بنیاد کاشانہ
تم سے بچھڑتے وقت میں نےسوچا تھا کس طرح جیوں گا!کس کس سے چھپ کے رہ سکوں گاآنسو کہاں کہاں پیوں گا!گھر میں اگر کسی نے پوچھا!''کیا بات ہے اداس کیوں ہو''ڈر تھا مجھے کہ رو پڑوں گا!لیکن یہ اتفاق دیکھومیں گھر گیا تو میرے گھر کاایک ایک فرد رو رہا تھا!
کوئی مجھ کو دور زمان و مکاں سے نکلنے کی صورت بتا دوکوئی یہ سجھا دو کہ حاصل ہے کیا ہستئ رائیگاں سےکہ غیروں کی تہذیب کی استواری کی خاطرعبث بن رہا ہے ہمارا لہو مومیائیمیں اس قوم کا فرد ہوں جس کے حصے میں محنت ہی محنت ہے نان شبینہ نہیں ہےاور اس پر بھی یہ قوم دل شاد ہے شوکت باستاں سےاور اب بھی ہے امید فردا کسی ساحر بے نشاں سےمری جاں شب و روز کی اس مشقت سے تنگ آ گیا ہوںمیں اس خشت کوبی سے اکتا گیا ہوںکہاں ہیں وہ دنیا کی تزئین کی آرزوئیںجنہوں نے تجھے مجھ سے وابستہ تر کر دیا تھاتری چھاتیوں کی جوئے شیر کیوں زہر کا اک سمندر نہ بن جائےجسے پی کے سو جائے ننھی سی جاںجو اک چھپکلی بن کے چمٹی ہوئی ہے تیرے سینۂ مہرباں سےجو واقف نہیں تیرے درد نہاں سےاسے بھی تو ذلت کی پابندگی کے لیے آلۂ کار بننا پڑے گابہت ہے کہ ہم اپنے آبا کی آسودہ کوشی کی پاداش میںآج بے دست و پا ہیںاس آئندہ نسلوں کی زنجیر پا کو تو ہم توڑ ڈالیںمگر اے مری تیرہ راتوں کی ساتھییہ شہنائیاں سن رہی ہویہ شاید کسی نے مسرت کی پہلی کرن دیکھ پائینہیں اس دریچے کے باہر تو جھانکوخدا کا جنازہ لیے جا رہے ہیں فرشتےاسی ساحر بے نشاں کاجو مغرب کا آقا تھا مشرق کا آقا نہیں تھایہ انسان کی برتری کے نئے دور کے شادیانے ہیں سن لویہی ہے نئے دور کا پرتو اولیں بھیاٹھو اور ہم بھی زمانے کی تازہ ولادت کے اس جشن میںمل کے دھومیں مچائیںشعاعوں کے طوفان میں بے محابا نہائیں
تمہاری آنکھوں کی مسکراہٹ میںمیری چاہت کی روشنی ہےیوں ہی شگوفوں کے پاس بیٹھی رہوشعاعوں کو عارض و لب سے کھیلنے دوہوا کے ہاتھوں کو اپنے گیسو بکھیرنے دوبہار کی ساری خوشبوئیںاپنے بازوؤں میں سمیٹ لومیرے چشم و دل کو یقین دلاؤکہ تم فقط خواب ہی نہیں ہوگزرتے بادل کا کوئی عکس رواں نہیں ہوتم اک حقیقت ہو محض وہم و گماں نہیں ہومرے قریب آؤ اور مری ذات کو مٹا دومجھے تم اپنے جمال کی ضو میں جذب کر لووصال میں فرد کی فنا ہےوصال میں فرد کی بقا ہےوصال میں فرد کی بقا ہےبہار کی دید عارضی ہےبہار تجرید دائمی ہے
فرد فرد مست ہےپندرہ اگست ہےجوش ہے ابال ہےرنگ ہے گلال ہےگلی گلی ہیں رونقیںعجیب سی ہیں رونقیںہم کبھی غلام تھےبھارتی غلام تھےزندگی کی شام تھیسانس تک غلام تھیفرنگیوں کے جور سےبھارتی نڈھال تھےظلم جب بہت ہوااپنی حد سے بڑھ گیابھارتی بپھر گئےہم سبھی بپھر گئےجان و مال تج دیاگھر عیال تج دیاایک ہو گئے جو ہمدور ہو گیا المحریت ملی ہمیںعافیت ملی ہمیںفرد فرد مست ہےپندرہ اگست ہے
نغمہ در جاں رقص برپا خندہ بر لبدل تمناؤں کے بے پایاں الاؤ کے قریبدل مرے صحرا نورد پیر دلریگ کے دل شاد شہری ریگ تواور ریگ ہی تیری طلبریگ کی نکہت ترے پیکر میں تیری جاں میں ہےریگ صبح عید کے مانند زرتاب و جلیلریگ صدیوں کا جمالجشن آدم پر بچھڑ کر ملنے والوں کا وصالشوق کے لمحات کے مانند آزاد و عظیمریگ نغمہ زنکہ ذرے ریگ زاروں کی وہ پازیب قدیمجس پہ پڑ سکتا نہیں دست لئیمریگ صحرا زرگری کی ایک کی لہروں سے دورچشمۂ مکر و ریا شہروں سے دورریگ شب بیدار ہے سنتی ہے ہر جابر کی چاپریگ شب بیدار ہے نگراں ہے مانند نقیبدیکھتی ہے سایۂ آمر کی چاپریگ ہر عیار غارت گر کی موتریگ استبداد کے طغیاں کے شور و شر کی موتریگ جب اٹھتی ہے اڑ جاتی ہے ہر فاتح کی نیندریگ کے نیزوں سے زخمی سب شہنشاہوں کے خوابریگ اے صحرا کی ریگمجھ کو اپنے جاگتے ذروں کے خوابوں کینئی تعبیر دےریگ کے ذروں ابھرتی صبح تمآؤ صحرا کی حدوں تک آ گیا روز طربدل مرے صحرا نورد پیر دلآ چوم ریگہے خیالوں کے پری زادوں سے بھی معصوم ریگریگ رقصاں ماہ و سال نور تک رقصاں رہےاس کا ابریشم ملائم نرم خو خنداں رہےدل مرے صحرا نورد پیر دلیہ تمناؤں کا بے پایاں الاؤراہ گم کر دوں کی مشعل اس کے لب پر آؤ آؤتیرے ماضی کے خذف ریزوں سے جاگی ہے یہ آگآگ کی قرمز زباں پر انبساط نو کے راگدل مرے صحرا نورد پیر دلسرگرانی کی شب رفتہ سے جاگکچھ شرر آغوش صرصر میں ہیں گماور کچھ زینہ بہ زینہ شعلوں کے مینار پر چڑھتے ہوئےاور کچھ تہہ میں الاؤ کی ابھیمضطرب لیکن مذبذب طفل کمسن کی طرحآگ زینہ آگ رنگوں کا خزینہآگ ان لذات کا سر چشمہ ہےجس سے لیتا ہے غذا عشاق کے دل کا تپاکچوب خشک انگور اس کی مے ہے آگسرسراتی ہے رگوں میں عید کے دن کی طرحآگ کاہن یاد سے اتری ہوئی صدیوں کی یہ افسانہ خواںآنے والے قرنہا کی داستانیں لب پہ ہیںدل مرا صحرا نورد پیر دل سن کر جواںآگ آزادی کا دل شادی کا نامآگ پیدائش کا افزائش کا نامآگ کے پھولوں میں نسریں یاسمن سنبل شفیق و نسترنآگ آرائش کا زیبائش کا نامآگ وہ تقدیس دھل جاتے ہیں جس سے سب گناہآگ انسانوں کی پہلی سانس کے مانند اک ایسا کرمعمر کا اک طول بھی جس کا نہیں کافی جوابیہ تمناؤں کا بے پایاں الاؤ گر نہ ہواس لق و دق میں نکل آئیں کہیں سے بھیڑیےاس الاؤ کو سدا روشن رکھوریگ صحرا کو بشارت ہو کہ زندہ ہے الاؤبھیڑیوں کی چاپ تک آتی نہیںآگ سے صحرا کا رشتہ ہے قدیمآگ سے صحرا کے ٹیڑھے رینگنے والےگرہ آلود ژولیدہ درختجاگتے ہیں نغمہ در جاں رقص برپا خندہ بر لباور منا لیتے ہیں تنہائی میں جشن ماہتابان کی شاخیں غیر مرئی طبل کی آواز پر دیتی ہیں تالبیخ و بن سے آنے لگتی ہے خداوندی جلاجل کی صداآگ سے صحرا کا رشتہ ہے قدیمرہروؤں صحرا نوردوں کے لیے ہے رہنماکاروانوں کا سہارا بھی ہے آگاور صحراؤں کی تنہائی کو کم کرتی ہے آگآگ کے چاروں طرف پشمینہ و دستار میں لپٹے ہوئےافسانہ گوجیسے گرد چشم مژگاں کا ہجومان کے حیرت ناک دل کش تجربوں سےجب دمک اٹھتی ہے ریتذرہ ذرہ بجنے لگتا ہے مثال ساز جاںگوش بر آواز رہتے ہیں درختاور ہنس دیتے ہیں اپنی عارفانہ بے نیازی سے کبھییہ تمناؤں کا بے پایاں الاؤ گر نہ ہوریگ اپنی خلوت بے نور و خودبیں میں رہےاپنی یکتائی کی تحسیں میں رہےاس الاؤ کو سدا روشن رکھویہ تمناؤں کا بے پایاں الاؤ گر نہ ہوایشیا افریقہ پہنائی کا نامبے کار پہنائی کا نامیورپ اور امریکہ دارائی کا نامتکرار دارائی کا ناممیرا دل صحرا نورد پیر دلجاگ اٹھا ہے مشرق و مغرب کی ایسی یک دلیکے کاروانوں کا نیا رویا لیےیک دلی ایسی کہ ہوگی فہم انساں سے ورایک دلی ایسی کہ ہم سب کہہ اٹھیںاس قدر عجلت نہ کراژدہام گل نہ بنکہہ اٹھیں ہمتو غم کل تو نہ تھیاب لذت کل بھی نہ بنروز آسائش کی بے دردی نہ بنیک دلی بن ایسا سناٹا نہ بنجس میں تابستاں کی دوپہروں کیبے حاصل کسالت کے سوا کچھ بھی نہ ہواس جفا گر یک دلی کے کارواں یوں آئیں گےدست جادو گر سے جیسے پھوٹ نکلے ہوں طلسمعشق حاصل خیز سے یا زور پیدائی سے جیسے ناگہاںکھل گئے ہوں مشرق و مغرب کے جسمجسم صدیوں کے عقیمکارواں فرخندہ پے اور ان کا بارکیسہ کیسہ تخت جم اور تاج کےکوزہ کوزہ فرد کی سطوت کی مےجامہ جامہ روز و شب محنت کا خےنغمہ نغمہ حریت کی گرم لےسالکو فیروز بختو آنے والے قافلوشہر سے لوٹو گے تم تو پاؤ گےریت کے سرحد پہ جو روح ابد خوابیدہ تھیجاگ اٹھی ہے شکوہ ہائے نے سے وہریت کی تہہ میں جو شرمیلی سحر روئیدہ تھیجاگ اٹھی ہے حریت کی لے سے وہاتنی دوشیزہ تھی اتنی مرد نا دیدہ تھی صبحپوچھ سکتے تھے نہ اس کی عمر ہمدرد سے ہنستی نہ تھیذروں کی رعنائی پہ بھی ہنستی نہ تھیایک محجوبانہ بے خبری میں ہنس دیتی تھی صبحاب مناتی ہے وہ صحرا کا جلالجیسے عز و جل کے پاؤں کی یہی محراب ہوزیر محراب آ گئی ہو اس کو بے داری کی راتخود جناب عز و جل سے جیسے امید زفافسارے ناکردہ گناہ اس کے معافصبح صحرا شادباداے عروس عز و جل فرخندہ رو تابندہ کھوتو اک ایسے حجرۂ شب سے نکل کر آئی ہےدست قاتل نے بہایا تھا جہاں ہر سیج پرسینکڑوں تاروں کا رخشندہ لہو پھولوں کے پاسصبح صحرا سر مرے زانو پہ رکھ کر داستاںان تمنا کے شہیدوں کی نہ کہہان کی نیمہ رس امنگوں آرزوؤں کی نہ کہہجن سے ملنے کا کوئی امکاں نہیںشہد تیرا جن کو نش جاں نہیںآج بھی کچھ دور اس صحرا کے پاردیو کی دیوار کے نیچے نسیمروز و شب چلتی ہے مبہم خوف سے سہمی ہوئیجس طرح شہروں کی راہوں پر یتیمنغمہ بر لب تاکہ ان کی جاں کا سناٹا ہو دورآج بھی اس ریگ کے ذروں میں ہیںایسے ذرے آپ ہی اپنے غنیمآج بھی اس آگ کے شعلوں میں ہیںوہ شرر جو اس کی تہہ میں پر بریدہ رہ گئےمثل حرف ناشنیدہ رہ گئےصبح صحرا اے عروس عز و جلآ کہ ان کی داستاں دہرائیں ہمان کی عزت ان کی عظمت گائیں ہمصبح ریت اور آگ ہم سب کا جلالیک دلی کے کارواں ان کا جمالآؤاس تحلیل کے حلقے میں ہم مل جائیںآؤشاد باغ اپنی تمناؤں کا بے پایاں الاؤ
اتنے بڑے نظام میں صرف اک میری ہی نیکی سے کیا ہوتا ہےمیں تو اس سے زیادہ کر ہی کیا سکتا ہوںمیز پر اپنی ساری دنیاکاغذ اور قلم اور ٹوٹی پھوٹی نظمیںساری چیزیں بڑے قرینے سے رکھ دی ہیںدل میں بھری ہوئی ہیں اتنی اچھی اچھی باتیںان باتوں کا دھیان آتا ہے تو یہ سانس بڑی ہی بیش بہا لگتی ہےمجھ کو بھی تو کیسی کیسی باتوں سے راحت ملتی ہےمجھ کو اس راحت میں صادق پا کرسارے جھوٹ مری تصدیق کو آ جاتے ہیںایک اگر میں سچا ہوتامیری اس دنیا میں جتنے قرینے سجے ہوئے ہیںان کی جگہ بے ترتیبی سے پڑے ہوئے کچھ ٹکڑے ہوتےمیرے جسم کے ٹکڑے کالے جھوٹ کے اس چلتے آرے کے نیچے
ایسی قوت جو صرف نہیں ہوتی ہےاذیت بن جاتی ہےمیرے دل میں کتنی محبت تھیجس کو زمانے کی بے مہری اور سرد طبیعت نےاظہار میں آنے نہ دیاآخر میں نے سارا درد سمیٹااور تیری آنکھوں پر وار دیادنیا میرے لیے تیری صورت میںپیمانہ حسن و خیر بنییوں تو محبت فرد سے فرد کو ہوتی ہےلیکن تجھ سے میری محبتوہ نقطہ ہے جس کے چاروں طرفآفاق کی گردش ہوتی ہے
ہم تو شاعر ہیں ہم سچ نہیں بولتےجان جاں سچ پہ کیوں اتنا اصرار ہےسچ کی عظمت سے کب ہم کو انکار ہےہم بھی شاعر ہیں آخر اسی قوم کےجس کا ہر فرد بکنے پہ تیار ہےہم ہیں لفظوں کے تاجر یہ بازار ہےسچ تو یہ ہے گزرتے ہوئے وقت سےفائدہ جو اٹھا لے وہ فن کار ہےہم نہ سقراط ہیں ہم نہ منصور ہیںہم سے سچ کی توقع ہی بیکار ہےتیز تلوار سی وقت کی دھار ہےاس لیے جان جاں اپنی تحریر سےخوف تعزیر سےسچے موتی کبھی ہم نہیں رولتےہم تو شاعر ہیں ہم سچ نہیں بولتے
کیا تم سے ہر فرد نہیں ہےتمہیں ذرا بھی درد نہیں ہے
مفلسی تھی تو اس میں بھی اک شان تھیکچھ نہ تھا کچھ نہ ہونے پہ بھی آن تھیچوٹ کھاتی گئی چوٹ کرتی گئیزندگی کس قدر مردہ میدان تھیجو بظاہر شکستہ سا اک ساز تھاوہ کروڑوں دکھے دل کی آواز تھاراہ میں گرتے پڑتے سنبھلتے ہوئےسامراجی کے تیور بدلتے ہوئےآ گئے زندگی کے نئے موڑ پرموت کے راستے سے ٹہلتے ہوئےبن کے بادل اٹھے دیش پر چھا گئےپریم رس سوکھے کھیتوں پہ برسا گئےاب وہ جنتا کی سمپت ہے دھنپت نہیںصرف دو چار کے گھر کی دولت نہیںلاکھوں دل ایک ہوں جس میں وہ پریم ہےدو دلوں کی محبت محبت نہیںاپنے سندیش سے سب کو چونکا دیاپریمؔ نے پریم کا ارتھ سمجھا دیافرد تھا فرد سے کارواں بن گیاایک تھا ایک سے اک جہاں بن گیااے بنارس ترا ایک مشت غباراٹھ کے معمار ہندوستاں بن گیامرنے والے کے جینے کا انداز دیکھدیکھ کاشی کی مٹی کا اعجاز دیکھ
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books