aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "fizza"
ہر اک کو بھاتی ہے دل سے فضا بنارس کیوہ گھاٹ اور وہ ٹھنڈی ہوا بنارس کیوہ مندروں میں پجاریوں کا ہجوموہ گھنٹیوں کی صدا وہ فضا بنارس کیتمام ہند میں مشہور ہے یہاں کی سحرکچھ اس قدر ہے سحر خوش نما بنارس کیپجاریوں کا نہانا وہ گھاٹ پر آ کروہ صبح دم کی فضا دل کشا بنارس کیوہ کشتیوں کا سماں اور وہ سیر گنگا کیوہ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا جاں فزا بنارس کیہمارے دل سے نکلتی ہے یہ دعا اخترؔکہ پھر بھی شکل دکھائے خدا بنارس کی
لکھنا جو چاہتا تھا وہ لکھا نہیں گیانیندوں میں خواب مٹ گئےالفاظ کھو گئےاک خاموشی کا پیڑ مرے دل میں بو گئےبارش میں بد حواسی کےسارے نقوش حرفوں کے دھندلا کے بہہ گئےآنسو نے جو بھی دیکھا تھا اس کو مٹا دیادل نے ہوس کی آگ کو ساری جلا دیاکوئی نہ رنگ و روپدل درد کے قریبآشا بھی مٹ گئی ہے نراشا بھی مٹ گئیدل میں کوئی بھی ذوق تماشا نہیں رہےاپنے لیے تو کوئی بھی اچھا نہیں رہےمنظر نہیں رہے ہیں تو آنکھیں نہیں رہیںخاموش ہے زبان کہ باتیں نہیں رہیںسب پارہ پارہ ہو گیا کس افتراق میںخالی مکان سا ہے کہاں درمیان میںکچھ ذہن میں نہیں ہے میں لکھوں تو کیا لکھوںسارے نقوش گھرے ہیں قدم میں کہاں رکھوںکوئی راستہ نہیں ہے میں کس سمت میں چلوںمنزل دکھائی دے تو میں اس کی طرف بڑھوںآواز کھو گئی کہ اظہار میں کروںجی چاہتا ہے چلو بھر پانی میں ہی مروںکوئی راستہ نہیں ہےبتاؤ میں کیا کروںلکھنا جو چاہتا تھا وہ لکھا نہیں گیاکیا قبر میں سناؤں گا انہیں میں داستاںمنکر نکیر کو میںبلاؤں نہ کیوں یہاںوہ لفظ ساتھ لے کے آئیںتو میں لکھوںایک ایسی نظم جو ہو حکایت نئی نئیبن جائے جس سے میری بھی قسمت نئی نئیآئینۂ جمال ہویدا کو کیا ہوادیدہ کی روشنی کو نظارہ کو کیا ہواسب کھو گئے ہیں دانش و بینش کہاں چلیںاب وقت ہی نہیں ہے کہ دل کو سمیٹ لیںسب کچھ ادھار کھایا تھا کیسے ادا کریںاس نفس کر سواد میں جی کر بھی کیا کریںدریا کنارے جائیں وہاں ڈوب مرو ہیںپھر اس کے بعد ہوگا کیامگر فن ہم کو کچھ نہیںہاں جانتے ہیںدور کی گاؤں کے کناراگلے گی راستہ ہو کے بہت یاد بے کراںہاتھوں میں اپنی پاس سے کمی لائے گی بہارگھبرا کے سارے گاؤں کے باسی پکاریں گےجلوسی جلاؤ ناک کے کیڑے سدھاریں گےپھر چلو چلولکڑیوں کے ڈھیر پر ہمیںکریں گے سوار وہکہ بن کے پھرآگ کے نثارجب راکھ اپنی دریا میں پھر سے بہائیں گےساحل کی مٹی میں نئے گل مسکرائیں گےکھیتوں میں تازہ بوٹےنئے پودےپھر سے ابھر آئیں گےشاید کہ ختم ہو نہ کبھی بھی یہ سلسلہکتنا بھی تم پکارو اسے دیر دیر تککتنی ہی کر لو بیٹھ کر تم نئی دعاگر آسان ہوتا وہ سنناتمہاری نداکرتا کوئی دواہوتا نہ سانحہہر ہر قدم پہ کرتےسجدہ ہر کہیںاس زندگی کا ہوتاہر اک لمحہ جاں فزاہر پل میں نور ہوتاسنسان وادیوں میںچمکتا یہ قافلہاور پھیلتی زمین پراس نور کی نہاہر سمت چاند ہوتاہر اک سمت آفتابپھر پیکروں میں ڈھل کے ہر اک خوابآتے ہی مرے روبرونیا سا قلم کوئیچلتے ہم اس کے ساتھ بہت دور پر کہیںپھر لکھتے داستان وجود و عدم کہیںرکتا نہ پھر کہیں بھیہمارا قلم کہیںلکھنا جو چاہتا تھا وہ لکھا نہیں گیا
نہ اضطراب غزنوی نہ مشرب ایاز ہےنہ خون میں حرارتیں نہ سوز ہے نہ ساز ہےنہ ذوق جام و مے کدہ نہ بت کدہ کی آرزونہ طوف کوئے یار کا نہ حسرتیں نہ جستجونہ ذوق تیغ ناز ہے نہ شوق ناوک نظرنہ نالۂ حزیں رسا نہ آہ سرد میں اثرنہ ہم نشیں نہ ولولہ کہ لو کہیں لگائیں ہمنہ حوصلہ کہ سختیاں فراق کی اٹھائیں ہمنہ ساز عشق غم ربا نہ کیف زا ہے جام غمنہ اضطراب ہجر ہے نہ انتظار شام غمنہ سر خوشی نہ عاقلی نہ عاشقی نہ بندگینہ نغمۂ طرب فزا نہ غم طراز زندگیمسرتیں نہ راحتیں محبتیں نہ لذتیںبڑھی ہوئی کدورتیں بڑھی ہوئی عداوتیںنہ درد مند عشق ہیں نہ چارہ ساز درد ہیںاٹھے تو کیا رہے تو کیا کہ رہ گزر کی گرد ہیںنہ شورشیں نہ کاوشیں نہ جوش ہے نہ ولولہبجھی ہوئی طبیعتیں بجھا ہوا سا حوصلہاگر یہی ہے زندگی اگر یہی شباب ہےتو میں کہوں گا دوستو یہ مستقل عذاب ہے
پنگھٹ اور چوپال بھی سونے راہیں بھی سنسانگلیاں اور کوچے ویرانجھونکے سوکھے پتے رولیں بکھری راکھ اڑائیںراکھ اور پتے بن کے بگولے اپنا ناچ دکھائیںاور وہیں رہ جائیںیہ بستی اب توڑ چکی ہے ہستی کی زنجیر گراںاور قیود زمان و مکاںوقت کے ڈاکو چکر اس کو بساط مطابق لوٹ چکےاس کے لیے ماحول و فضا کے سارے بندھن ٹوٹ چکےماضی و حال بھی چھوٹ چکےکون آئے جو آ کر اس میں زیست کے رنگ بھرےکھیتوں کو سرسبز کرےگلی گلی اور کوچہ کوچہ پنگھٹ اور چوپالکھیلتے بچوں ہنستی جوانی سے کر دے چونچالزندہ کر دے ماضی و حال
وہ آغوش جس میں پلےاور پل کر جواں ہم ہوئے ہیںاسے چھوڑنے کی تدابیر کرنے میں مصروف ایسے ہوئے ہیںکہ زنداں سے قیدی رہائی کی راہوں کیتعمیر کرنے میں مشغول ہوتے ہیں جیسےوہ آغوش جس میں جواں ہم ہوئے ہیںاسے چھوڑ کر دور جانے کے احساس سےجو خوشی مل رہی ہےکسی بھی طرح اس سے کمتر نہیں ہےجو زنداں سے باہر نکلنے میں محسوس ہوتی ہے زندانیوں کوخوش کا یہ احساسایسا نہیں کہ فقط ایک ہم تک ہی محدود ہویہ خوشی گھر کے دیوار و در میں بھی گھر کر گئی ہےماں بہن باپ بھائی بھی گردن اٹھائے ہوئےاپنے ہم سایوں سے کہتے پھرتے نظر آ رہے ہیںکہ میرا قمر بھی عرب جا رہا ہےشریک سفر کی رگوں میں بھی خوشیاں اچھلنے لگی ہیںوہ راتوں کی سب لذتیں بھول کرجانے والے کی تیاریوں میںبڑے چاؤ سے منہمک ہو گئی ہےعجب جاں فزا ہے یہ ہجرت کا منظرمگر یہ روایت ہےمکے سے یثرب کو جاتے ہوئےمصطفیٰ اور سارے صحابی بہت رو رہے تھےوطن کی محبت انہیں روکتی تھیجدائی جگر میں تبر بھونکتی تھیوہ ہجرت کا منظر بڑا جاں گسل تھامگر آج ہجرت کا منظر بدل سا گیا ہےیہ منظر تو سچ مچ بڑا جاں فزا ہےمگر ایسا کیوں ہوا ہےیہاں تو مظالم کی وہ سختیاں بھی نہیں ہیں
عجب محبوبیت سی وقت کی فطرت میں ہوتی ہےکبھی دل کو لبھاتا ہےتو پھر اس کی عنایت کا تسلسل کم نہیں ہوتامسلسل ابر رحمت کی طرحدل کی دراڑوں میں بھی رستا ہےمحبت کی پیاسی سرزمیں سیراب کرتا ہےکبھی دن کی صباحت زیب تن کر کےاجالے بانٹتا ہےاور کبھی کالی ردائیں اوڑھ کرشب کے سکوت جاں فزا میں سانس لیتا ہےکبھی یہ پاس آ کر بیٹھ جاتا ہےیہ کہتا ہےچلو گزرے زمانے کی محبت یاد کرتے ہیںتو میرے ذہن آنگن میںیادیں بچپنا اور پھر لڑکپن اوڑھ کراترا کے چلتی ہیںکوئی دل کے کواڑوں کواچانک نیم وا کر کے ذرا سا مسکراتا ہےمری بنجر زمینوں پر طراوت آتی جاتی ہےکثافت دھلتی جاتی ہےکبھی یہ چلتے چلتے دوڑ کر آگے نکلتا ہےکہ آؤ اور مجھے چھو لومگر میں نارسائی آشنااس سے ہمیشہ دو قدم پیچھے ہی رہتا ہوںکبھی باہیں گلے میں ڈال دیتا ہےبڑی محجوب سی نظروں سے تکتا ہےتو غم کی سنگلاخی میں دراڑیں ڈال دیتا ہےکبھی اک شمع روشن کر کے کہتا ہےلپکتی دوڑتی اس زندگی میںآج تم کتنے برس کے ہواچانک روٹھ جاتا ہےکوئی منت کوئی زاری نہیں سنتاکسی صورت نہیں منتااسے اپنا بناؤ بھیتو یہ اپنا نہیں رہتاکبھی یہ دسترس میں ہی نہیں رہتاہوا پر پاؤں رکھتا ہےخلا میں پھیل جاتا ہےحد امکان سے باہر نکلتا ہےمکاں سے لا مکاں تک جس قدر وسعت میسر ہےوہاں تک جھلملاتا ہےمیں سر تا پا تحیر ہوںمگر اس کی طلسمی قید میں خوش ہوںاسی زنداں میں رہتا ہوںاسی میں سانس لیتا ہوں
شعور جاں فزا سےتیلیاں پنجروں کی توڑےیا ذرا دروازہ کھولےاڑائے پر شکستہ کو
کوئی بھی رت ہو اس کی چھبفضا کا رنگ روپ تھیوہ گرمیوں کی چھاؤں تھیوہ سردیوں کی دھوپ تھی
دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا ربکیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہوشورش سے بھاگتا ہوں دل ڈھونڈتا ہے میراایسا سکوت جس پر تقریر بھی فدا ہومرتا ہوں خامشی پر یہ آرزو ہے میریدامن میں کوہ کے اک چھوٹا سا جھونپڑا ہوآزاد فکر سے ہوں عزلت میں دن گزاروںدنیا کے غم کا دل سے کانٹا نکل گیا ہولذت سرود کی ہو چڑیوں کے چہچہوں میںچشمے کی شورشوں میں باجا سا بج رہا ہوگل کی کلی چٹک کر پیغام دے کسی کاساغر ذرا سا گویا مجھ کو جہاں نما ہوہو ہاتھ کا سرہانا سبزے کا ہو بچھوناشرمائے جس سے جلوت خلوت میں وہ ادا ہومانوس اس قدر ہو صورت سے میری بلبلننھے سے دل میں اس کے کھٹکا نہ کچھ مرا ہوصف باندھے دونوں جانب بوٹے ہرے ہرے ہوںندی کا صاف پانی تصویر لے رہا ہوہو دل فریب ایسا کوہسار کا نظارہپانی بھی موج بن کر اٹھ اٹھ کے دیکھتا ہوآغوش میں زمیں کی سویا ہوا ہو سبزہپھر پھر کے جھاڑیوں میں پانی چمک رہا ہوپانی کو چھو رہی ہو جھک جھک کے گل کی ٹہنیجیسے حسین کوئی آئینہ دیکھتا ہومہندی لگائے سورج جب شام کی دلہن کوسرخی لیے سنہری ہر پھول کی قبا ہوراتوں کو چلنے والے رہ جائیں تھک کے جس دمامید ان کی میرا ٹوٹا ہوا دیا ہوبجلی چمک کے ان کو کٹیا مری دکھا دےجب آسماں پہ ہر سو بادل گھرا ہوا ہوپچھلے پہر کی کوئل وہ صبح کی موذنمیں اس کا ہم نوا ہوں وہ میری ہم نوا ہوکانوں پہ ہو نہ میرے دیر و حرم کا احساںروزن ہی جھونپڑی کا مجھ کو سحر نما ہوپھولوں کو آئے جس دم شبنم وضو کرانےرونا مرا وضو ہو نالہ مری دعا ہواس خامشی میں جائیں اتنے بلند نالےتاروں کے قافلے کو میری صدا درا ہوہر دردمند دل کو رونا مرا رلا دےبے ہوش جو پڑے ہیں شاید انہیں جگا دے
یہ کائنات عظیملگتا ہےاپنی عظمت سےآج بھی مطمئن نہیں ہےکہ لمحہ لمحہوسیع تر اور وسیع تر ہوتی جا رہی ہےیہ اپنی بانہیں پسارتی ہےیہ کہکشاؤں کی انگلیوں سےنئے خلاؤں کو چھو رہی ہےاگر یہ سچ ہےتو ہر تصور کی حد سے باہرمگر کہیں پریقیناً ایسا کوئی خلا ہےکہ جس کوان کہکشاؤں کی انگلیوں نےاب تک چھوا نہیں ہےخلاجہاں کچھ ہوا نہیں ہےخلاکہ جس نے کسی سے بھی ''کن'' سنا نہیں ہےجہاں ابھی تک خدا نہیں ہےوہاںکوئی وقت بھی نہ ہوگایہ کائنات عظیماک دنچھوئے گیاس ان چھوئے خلا کواور اپنے سارے وجود سےجب پکارے گی''کن''تو وقت کو بھی جنم ملے گااگر جنم ہے تو موت بھی ہےمیں سوچتا ہوںیہ سچ نہیں ہےکہ وقت کی کوئی ابتدا ہے نہ انتہا ہےیہ ڈور لمبی بہت ہےلیکنکہیں تو اس ڈور کا سرا ہےابھی یہ انساں الجھ رہا ہےکہ وقت کے اس قفس میںپیدا ہوایہیں وہ پلا بڑھا ہےمگر اسے علم ہو گیا ہےکہ وقت کے اس قفس سے باہر بھی اک فضا ہےتو سوچتا ہےوہ پوچھتا ہےیہ وقت کیا ہے
ہوا بھی خوش گوار ہےگلوں پہ بھی نکھار ہےترنم ہزار ہےبہار پر بہار ہےکہاں چلا ہے ساقیاادھر تو لوٹ ادھر تو آارے یہ دیکھتا ہے کیااٹھا سبو سبو اٹھاسبو اٹھا پیالہ بھرپیالہ بھر کے دے ادھرچمن کی سمت کر نظرسماں تو دیکھ بے خبروہ کالی کالی بدلیاںافق پہ ہو گئیں عیاںوہ اک ہجوم مے کشاںہے سوئے مے کدہ رواںیہ کیا گماں ہے بد گماںسمجھ نہ مجھ کو ناتواںخیال زہد ابھی کہاںابھی تو میں جوان ہوںعبادتوں کا ذکر ہےنجات کی بھی فکر ہےجنون ہے ثواب کاخیال ہے عذاب کامگر سنو تو شیخ جیعجیب شے ہیں آپ بھیبھلا شباب و عاشقیالگ ہوئے بھی ہیں کبھیحسین جلوہ ریز ہوںادائیں فتنہ خیز ہوںہوائیں عطر بیز ہوںتو شوق کیوں نہ تیز ہوںنگار ہائے فتنہ گرکوئی ادھر کوئی ادھرابھارتے ہوں عیش پرتو کیا کرے کوئی بشرچلو جی قصہ مختصرتمہارا نقطۂ نظردرست ہے تو ہو مگرابھی تو میں جوان ہوںیہ گشت کوہسار کییہ سیر جوئے بار کییہ بلبلوں کے چہچہےیہ گل رخوں کے قہقہےکسی سے میل ہو گیاتو رنج و فکر کھو گیاکبھی جو بخت سو گیایہ ہنس گیا وہ رو گیایہ عشق کی کہانیاںیہ رس بھری جوانیاںادھر سے مہربانیاںادھر سے لن ترانیاںیہ آسمان یہ زمیںنظارہ ہائے دل نشیںانہیں حیات آفریںبھلا میں چھوڑ دوں یہیںہے موت اس قدر قریںمجھے نہ آئے گا یقیںنہیں نہیں ابھی نہیںابھی تو میں جوان ہوںنہ غم کشود و بست کابلند کا نہ پست کانہ بود کا نہ ہست کانہ وعدۂ الست کاامید اور یاس گمحواس گم قیاس گمنظر سے آس پاس گمہمہ بجز گلاس گمنہ مے میں کچھ کمی رہےقدح سے ہمدمی رہےنشست یہ جمی رہےیہی ہما ہمی رہےوہ راگ چھیڑ مطرباطرب فزا، الم ربااثر صدائے ساز کاجگر میں آگ دے لگاہر ایک لب پہ ہو صدانہ ہاتھ روک ساقیاپلائے جا پلائے جاابھی تو میں جوان ہوں
ہوا خیمہ زن کاروان بہارارم بن گیا دامن کوہسارگل و نرگس و سوسن و نسترنشہید ازل لالہ خونیں کفنجہاں چھپ گیا پردۂ رنگ میںلہو کی ہے گردش رگ سنگ میںفضا نیلی نیلی ہوا میں سرورٹھہرتے نہیں آشیاں میں طیوروہ جوئے کہستاں اچکتی ہوئیاٹکتی لچکتی سرکتی ہوئیاچھلتی پھسلتی سنبھلتی ہوئیبڑے پیچ کھا کر نکلتی ہوئیرکے جب تو سل چیر دیتی ہے یہپہاڑوں کے دل چیر دیتی ہے یہذرا دیکھ اے ساقیٔ لالہ فامسناتی ہے یہ زندگی کا پیامپلا دے مجھے وہ مئے پردہ سوزکہ آتی نہیں فصل گل روز روزوہ مے جس سے روشن ضمیر حیاتوہ مے جس سے ہے مستی کائناتوہ مے جس میں ہے سوز و ساز ازلوہ مے جس سے کھلتا ہے راز ازلاٹھا ساقیا پردہ اس راز سےلڑا دے ممولے کو شہباز سےزمانے کے انداز بدلے گئےنیا راگ ہے ساز بدلے گئےہوا اس طرح فاش راز فرنگکہ حیرت میں ہے شیشہ باز فرنگپرانی سیاست گری خوار ہےزمیں میر و سلطاں سے بے زار ہےگیا دور سرمایہ داری گیاتماشا دکھا کر مداری گیاگراں خواب چینی سنبھلنے لگےہمالہ کے چشمے ابلنے لگےدل طور سینا و فاران دو نیمتجلی کا پھر منتظر ہے کلیممسلماں ہے توحید میں گرم جوشمگر دل ابھی تک ہے زنار پوشتمدن تصوف شریعت کلامبتان عجم کے پجاری تمامحقیقت خرافات میں کھو گئییہ امت روایات میں کھو گئیلبھاتا ہے دل کو کلام خطیبمگر لذت شوق سے بے نصیببیاں اس کا منطق سے سلجھا ہوالغت کے بکھیڑوں میں الجھا ہواوہ صوفی کہ تھا خدمت حق میں مردمحبت میں یکتا حمیت میں فردعجم کے خیالات میں کھو گیایہ سالک مقامات میں کھو گیابجھی عشق کی آگ اندھیر ہےمسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہےشراب کہن پھر پلا ساقیاوہی جام گردش میں لا ساقیامجھے عشق کے پر لگا کر اڑامری خاک جگنو بنا کر اڑاخرد کو غلامی سے آزاد کرجوانوں کو پیروں کا استاد کرہری شاخ ملت ترے نم سے ہےنفس اس بدن میں ترے دم سے ہےتڑپنے پھڑکنے کی توفیق دےدل مرتضی سوز صدیق دےجگر سے وہی تیر پھر پار کرتمنا کو سینوں میں بیدار کرترے آسمانوں کے تاروں کی خیرزمینوں کے شب زندہ داروں کی خیرجوانوں کو سوز جگر بخش دےمرا عشق میری نظر بخش دےمری ناؤ گرداب سے پار کریہ ثابت ہے تو اس کو سیار کربتا مجھ کو اسرار مرگ و حیاتکہ تیری نگاہوں میں ہے کائناتمرے دیدۂ تر کی بے خوابیاںمرے دل کی پوشیدہ بیتابیاںمرے نالۂ نیم شب کا نیازمری خلوت و انجمن کا گدازامنگیں مری آرزوئیں مریامیدیں مری جستجوئیں مریمری فطرت آئینۂ روزگارغزالان افکار کا مرغزارمرا دل مری رزم گاہ حیاتگمانوں کے لشکر یقیں کا ثباتیہی کچھ ہے ساقی متاع فقیراسی سے فقیری میں ہوں میں امیرمرے قافلے میں لٹا دے اسےلٹا دے ٹھکانے لگا دے اسےدما دم رواں ہے یم زندگیہر اک شے سے پیدا رم زندگیاسی سے ہوئی ہے بدن کی نمودکہ شعلے میں پوشیدہ ہے موج دودگراں گرچہ ہے صحبت آب و گلخوش آئی اسے محنت آب و گلیہ ثابت بھی ہے اور سیار بھیعناصر کے پھندوں سے بے زار بھییہ وحدت ہے کثرت میں ہر دم اسیرمگر ہر کہیں بے چگوں بے نظیریہ عالم یہ بت خانۂ شش جہاتاسی نے تراشا ہے یہ سومناتپسند اس کو تکرار کی خو نہیںکہ تو میں نہیں اور میں تو نہیںمن و تو سے ہے انجمن آفریںمگر عین محفل میں خلوت نشیںچمک اس کی بجلی میں تارے میں ہےیہ چاندی میں سونے میں پارے میں ہےاسی کے بیاباں اسی کے ببولاسی کے ہیں کانٹے اسی کے ہیں پھولکہیں اس کی طاقت سے کہسار چورکہیں اس کے پھندے میں جبریل و حورکہیں جزہ ہے شاہین سیماب رنگلہو سے چکوروں کے آلودہ چنگکبوتر کہیں آشیانے سے دورپھڑکتا ہوا جال میں ناصبورفریب نظر ہے سکون و ثباتتڑپتا ہے ہر ذرۂ کائناتٹھہرتا نہیں کاروان وجودکہ ہر لحظ ہے تازہ شان وجودسمجھتا ہے تو راز ہے زندگیفقط ذوق پرواز ہے زندگیبہت اس نے دیکھے ہیں پست و بلندسفر اس کو منزل سے بڑھ کر پسندسفر زندگی کے لیے برگ و سازسفر ہے حقیقت حضر ہے مجازالجھ کر سلجھنے میں لذت اسےتڑپنے پھڑکنے میں راحت اسےہوا جب اسے سامنا موت کاکٹھن تھا بڑا تھامنا موت کااتر کر جہان مکافات میںرہی زندگی موت کی گھات میںمذاق دوئی سے بنی زوج زوجاٹھی دشت و کوہسار سے فوج فوجگل اس شاخ سے ٹوٹتے بھی رہےاسی شاخ سے پھوٹتے بھی رہےسمجھتے ہیں ناداں اسے بے ثباتابھرتا ہے مٹ مٹ کے نقش حیاتبڑی تیز جولاں بڑی زود رسازل سے ابد تک رم یک نفسزمانہ کہ زنجیر ایام ہےدموں کے الٹ پھیر کا نام ہےیہ موج نفس کیا ہے تلوار ہےخودی کیا ہے تلوار کی دھار ہےخودی کیا ہے راز درون حیاتخودی کیا ہے بیداری کائناتخودی جلوہ بدمست و خلوت پسندسمندر ہے اک بوند پانی میں بنداندھیرے اجالے میں ہے تابناکمن و تو میں پیدا من و تو سے پاکازل اس کے پیچھے ابد سامنےنہ حد اس کے پیچھے نہ حد سامنےزمانے کے دریا میں بہتی ہوئیستم اس کی موجوں کے سہتی ہوئیتجسس کی راہیں بدلتی ہوئیدما دم نگاہیں بدلتی ہوئیسبک اس کے ہاتھوں میں سنگ گراںپہاڑ اس کی ضربوں سے ریگ رواںسفر اس کا انجام و آغاز ہےیہی اس کی تقویم کا راز ہےکرن چاند میں ہے شرر سنگ میںیہ بے رنگ ہے ڈوب کر رنگ میںاسے واسطہ کیا کم و بیش سےنشیب و فراز و پس و پیش سےازل سے ہے یہ کشمکش میں اسیرہوئی خاک آدم میں صورت پذیرخودی کا نشیمن ترے دل میں ہےفلک جس طرح آنکھ کے تل میں ہےخودی کے نگہباں کو ہے زہر نابوہ ناں جس سے جاتی رہے اس کی آبوہی ناں ہے اس کے لیے ارجمندرہے جس سے دنیا میں گردن بلندخودی فال محمود سے درگزرخودی پر نگہ رکھ ایازی نہ کروہی سجدہ ہے لائق اہتمامکہ ہو جس سے ہر سجدہ تجھ پر حرامیہ عالم یہ ہنگامۂ رنگ و صوتیہ عالم کہ ہے زیر فرمان موتیہ عالم یہ بتخانۂ چشم و گوشجہاں زندگی ہے فقط خورد و نوشخودی کی یہ ہے منزل اولیںمسافر یہ تیرا نشیمن نہیںتری آگ اس خاک داں سے نہیںجہاں تجھ سے ہے تو جہاں سے نہیںبڑھے جا یہ کوہ گراں توڑ کرطلسم زمان و مکاں توڑ کرخودی شیر مولا جہاں اس کا صیدزمیں اس کی صید آسماں اس کا صیدجہاں اور بھی ہیں ابھی بے نمودکہ خالی نہیں ہے ضمیر وجودہر اک منتظر تیری یلغار کاتری شوخئی فکر و کردار کایہ ہے مقصد گردش روزگارکہ تیری خودی تجھ پہ ہو آشکارتو ہے فاتح عالم خوب و زشتتجھے کیا بتاؤں تری سر نوشتحقیقت پہ ہے جامۂ حرف تنگحقیقت ہے آئینہ گفتار زنگفروزاں ہے سینے میں شمع نفسمگر تاب گفتار رکھتی ہے بساگر یک سر موئے برتر پرمفروغ تجلی بسوزد پرم
ان اسیروں کے نامجن کے سینوں میں فردا کے شب تاب گوہرجیل خانوں کی شوریدہ راتوں کی صرصر میںجل جل کے انجم نما ہوگئے ہیںآنے والے دنوں کے سفیروں کے ناموہ جو خوشبوئے گل کی طرحاپنے پیغام پر خود فدا ہوگئے ہیں
چشتی نے جس زمیں میں پیغام حق سنایانانک نے جس چمن میں وحدت کا گیت گایاتاتاریوں نے جس کو اپنا وطن بنایاجس نے حجازیوں سے دشت عرب چھڑایامیرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہےیونانیوں کو جس نے حیران کر دیا تھاسارے جہاں کو جس نے علم و ہنر دیا تھامٹی کو جس کی حق نے زر کا اثر دیا تھاترکوں کا جس نے دامن ہیروں سے بھر دیا تھامیرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہےٹوٹے تھے جو ستارے فارس کے آسماں سےپھر تاب دے کے جس نے چمکائے کہکشاں سےوحدت کی لے سنی تھی دنیا نے جس مکاں سےمیر عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سےمیرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہےبندے کلیم جس کے پربت جہاں کے سینانوح نبی کا آ کر ٹھہرا جہاں سفینارفعت ہے جس زمیں کی بام فلک کا زیناجنت کی زندگی ہے جس کی فضا میں جینامیرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے
فضا میں گھل سے گئے ہیں افق کے نرم خطوطزمیں حسین ہے خوابوں کی سرزمیں کی طرح
جب مرگ پھرا کر چابک کو یہ بیل بدن کا ہانکے گاکوئی ناج سمیٹے گا تیرا کوئی گون سیے اور ٹانکے گاہو ڈھیر اکیلا جنگل میں تو خاک لحد کی پھانکے گااس جنگل میں پھر آہ نظیرؔ اک تنکا آن نہ جھانکے گاسب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا
سلسلۂ روز و شب نقش گر حادثاتسلسلۂ روز و شب اصل حیات و مماتسلسلۂ روز و شب تار حریر دو رنگجس سے بناتی ہے ذات اپنی قبائے صفاتسلسلۂ روز و شب ساز ازل کی فغاںجس سے دکھاتی ہے ذات زیر و بم ممکناتتجھ کو پرکھتا ہے یہ مجھ کو پرکھتا ہے یہسلسلۂ روز و شب صیرفی کائناتتو ہو اگر کم عیار میں ہوں اگر کم عیارموت ہے تیری برات موت ہے میری براتتیرے شب و روز کی اور حقیقت ہے کیاایک زمانے کی رو جس میں نہ دن ہے نہ راتآنی و فانی تمام معجزہ ہائے ہنرکار جہاں بے ثبات کار جہاں بے ثباتاول و آخر فنا باطن و ظاہر فنانقش کہن ہو کہ نو منزل آخر فناہے مگر اس نقش میں رنگ ثبات دوامجس کو کیا ہو کسی مرد خدا نے تماممرد خدا کا عمل عشق سے صاحب فروغعشق ہے اصل حیات موت ہے اس پر حرامتند و سبک سیر ہے گرچہ زمانے کی روعشق خود اک سیل ہے سیل کو لیتا ہے تھامعشق کی تقویم میں عصر رواں کے سوااور زمانے بھی ہیں جن کا نہیں کوئی نامعشق دم جبرئیل عشق دل مصطفیعشق خدا کا رسول عشق خدا کا کلامعشق کی مستی سے ہے پیکر گل تابناکعشق ہے صہبائے خام عشق ہے کاس الکرامعشق فقیہہ حرام عشق امیر جنودعشق ہے ابن السبیل اس کے ہزاروں مقامعشق کے مضراب سے نغمۂ تار حیاتعشق سے نور حیات عشق سے نار حیاتاے حرم قرطبہ عشق سے تیرا وجودعشق سراپا دوام جس میں نہیں رفت و بودرنگ ہو یا خشت و سنگ چنگ ہو یا حرف و صوتمعجزۂ فن کی ہے خون جگر سے نمودقطرۂ خون جگر سل کو بناتا ہے دلخون جگر سے صدا سوز و سرور و سرودتیری فضا دل فروز میری نوا سینہ سوزتجھ سے دلوں کا حضور مجھ سے دلوں کی کشودعرش معلی سے کم سینۂ آدم نہیںگرچہ کف خاک کی حد ہے سپہر کبودپیکر نوری کو ہے سجدہ میسر تو کیااس کو میسر نہیں سوز و گداز سجودکافر ہندی ہوں میں دیکھ مرا ذوق و شوقدل میں صلوٰۃ و درود لب پہ صلوٰۃ و درودشوق مری لے میں ہے شوق مری نے میں ہےنغمۂ اللہ ہو میرے رگ و پے میں ہےتیرا جلال و جمال مرد خدا کی دلیلوہ بھی جلیل و جمیل تو بھی جلیل و جمیلتیری بنا پائیدار تیرے ستوں بے شمارشام کے صحرا میں ہو جیسے ہجوم نخیلتیرے در و بام پر وادی ایمن کا نورتیرا منار بلند جلوہ گہ جبرئیلمٹ نہیں سکتا کبھی مرد مسلماں کہ ہےاس کی اذانوں سے فاش سر کلیم و خلیلاس کی زمیں بے حدود اس کا افق بے ثغوراس کے سمندر کی موج دجلہ و دنیوب و نیلاس کے زمانے عجیب اس کے فسانے غریبعہد کہن کو دیا اس نے پیام رحیلساقی ارباب ذوق فارس میدان شوقبادہ ہے اس کا رحیق تیغ ہے اس کی اصیلمرد سپاہی ہے وہ اس کی زرہ لا الہسایۂ شمشیر میں اس کی پنہ لا الہتجھ سے ہوا آشکار بندۂ مومن کا رازاس کے دنوں کی تپش اس کی شبوں کا گدازاس کا مقام بلند اس کا خیال عظیماس کا سرور اس کا شوق اس کا نیاز اس کا نازہاتھ ہے اللہ کا بندۂ مومن کا ہاتھغالب و کار آفریں کار کشا کارسازخاکی و نوری نہاد بندۂ مولا صفاتہر دو جہاں سے غنی اس کا دل بے نیازاس کی امیدیں قلیل اس کے مقاصد جلیلاس کی ادا دل فریب اس کی نگہ دل نوازآج بھی اس دیس میں عام ہے چشم غزالاور نگاہوں کے تیر آج بھی ہیں دل نشیںبوئے یمن آج بھی اس کی ہواؤں میں ہےرنگ حجاز آج بھی اس کی نواؤں میں ہےدیدۂ انجم میں ہے تیری زمیں آسماںآہ کہ صدیوں سے ہے تیری فضا بے اذاںکون سی وادی میں ہے کون سی منزل میں ہےعشق بلا خیز کا قافلۂ سخت جاںدیکھ چکا المنی شورش اصلاح دیںجس نے نہ چھوڑے کہیں نقش کہن کے نشاںحرف غلط بن گئی عصمت پیر کنشتاور ہوئی فکر کی کشتئ نازک رواںچشم فرانسیس بھی دیکھ چکی انقلابجس سے دگر گوں ہوا مغربیوں کا جہاںملت رومی نژاد کہنہ پرستی سے پیرلذت تجدیدہ سے وہ بھی ہوئی پھر جواںروح مسلماں میں ہے آج وہی اضطرابراز خدائی ہے یہ کہہ نہیں سکتی زباںنرم دم گفتگو گرم دم جستجورزم ہو یا بزم ہو پاک دل و پاک بازنقطۂ پرکار حق مرد خدا کا یقیںاور یہ عالم تمام وہم و طلسم و مجازعقل کی منزل ہے وہ عشق کا حاصل ہے وہحلقۂ آفاق میں گرمئ محفل ہے وہکعبۂ ارباب فن سطوت دین مبیںتجھ سے حرم مرتبت اندلسیوں کی زمیںہے تہ گردوں اگر حسن میں تیری نظیرقلب مسلماں میں ہے اور نہیں ہے کہیںآہ وہ مردان حق وہ عربی شہسوارحامل خلق عظیم صاحب صدق و یقیںجن کی حکومت سے ہے فاش یہ رمز غریبسلطنت اہل دل فقر ہے شاہی نہیںجن کی نگاہوں نے کی تربیت شرق و غربظلمت یورپ میں تھی جن کی خرد راہ بیںجن کے لہو کے طفیل آج بھی ہیں اندلسیخوش دل و گرم اختلاط سادہ و روشن جبیںدیکھیے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیاگنبد نیلوفری رنگ بدلتا ہے کیاوادی کہسار میں غرق شفق ہے سحابلعل بدخشاں کے ڈھیر چھوڑ گیا آفتابسادہ و پرسوز ہے دختر دہقاں کا گیتکشتئ دل کے لیے سیل ہے عہد شبابآب روان کبیر تیرے کنارے کوئیدیکھ رہا ہے کسی اور زمانے کا خوابعالم نو ہے ابھی پردۂ تقدیر میںمیری نگاہوں میں ہے اس کی سحر بے حجابپردہ اٹھا دوں اگر چہرۂ افکار سےلا نہ سکے گا فرنگ میری نواؤں کی تابجس میں نہ ہو انقلاب موت ہے وہ زندگیروح امم کی حیات کشمکش انقلابصورت شمشیر ہے دست قضا میں وہ قومکرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حسابنقش ہیں سب ناتمام خون جگر کے بغیرنغمہ ہے سودائے خام خون جگر کے بغیر
کیوں تعجب ہے مری صحرا نوردی پر تجھےیہ تگا پوئے دمادم زندگی کی ہے دلیلاے رہين خانہ تو نے وہ سماں دیکھا نہیںگونجتی ہے جب فضائے دشت میں بانگ رحیلریت کے ٹیلے پہ وہ آہو کا بے پروا خراموہ حضر بے برگ و ساماں وہ سفر بے سنگ و ميلوہ نمود اختر سیماب پا ہنگام صبحیا نمایاں بام گردوں سے جبین جبرئيلوہ سکوت شام صحرا میں غروب آفتابجس سے روشن تر ہوئی چشم جہاں بين خليلاور وہ پانی کے چشمے پر مقام کارواںاہل ایماں جس طرح جنت میں گرد سلسبيلتازہ ویرانے کی سودائے محبت کو تلاشاور آبادی میں تو زنجيري کشت و نخيلپختہ تر ہے گردش پیہم سے جام زندگیہے یہی اے بے خبر راز دوام زندگی
آئیں بہاریں مجھ کو منانےتم بن میں تو منہ نہ بولیلاکھ فضا میں گیت سے گونجےلیکن میں نے آنکھ نہ کھولی
نہیں منت کش تاب شنیدن داستاں میریخموشی گفتگو ہے بے زبانی ہے زباں میرییہ دستور زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میںیہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میریاٹھائے کچھ ورق لالے نے کچھ نرگس نے کچھ گل نےچمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میریاڑا لی قمریوں نے طوطیوں نے عندلیبوں نےچمن والوں نے مل کر لوٹ لی طرز فغاں میریٹپک اے شمع آنسو بن کے پروانے کی آنکھوں سےسراپا درد ہوں حسرت بھری ہے داستاں میریالٰہی پھر مزہ کیا ہے یہاں دنیا میں رہنے کاحیات جاوداں میری نہ مرگ ناگہاں میریمرا رونا نہیں رونا ہے یہ سارے گلستاں کاوہ گل ہوں میں خزاں ہر گل کی ہے گویا خزاں میریدریں حسرت سرا عمریست افسون جرس دارمز فیض دل طپیدن ہا خروش بے نفس دارمریاض دہر میں نا آشنائے بزم عشرت ہوںخوشی روتی ہے جس کو میں وہ محروم مسرت ہوںمری بگڑی ہوئی تقدیر کو روتی ہے گویائیمیں حرف زیر لب شرمندۂ گوش سماعت ہوںپریشاں ہوں میں مشت خاک لیکن کچھ نہیں کھلتاسکندر ہوں کہ آئینہ ہوں یا گرد کدورت ہوںیہ سب کچھ ہے مگر ہستی مری مقصد ہے قدرت کاسراپا نور ہو جس کی حقیقت میں وہ ظلمت ہوںخزینہ ہوں چھپایا مجھ کو مشت خاک صحرا نےکسی کو کیا خبر ہے میں کہاں ہوں کس کی دولت ہوںنظر میری نہیں ممنون سیر عرصۂ ہستیمیں وہ چھوٹی سی دنیا ہوں کہ آپ اپنی ولایت ہوںنہ صہبا ہوں نہ ساقی ہوں نہ مستی ہوں نہ پیمانہمیں اس مے خانۂ ہستی میں ہر شے کی حقیقت ہوںمجھے راز دو عالم دل کا آئینہ دکھاتا ہےوہی کہتا ہوں جو کچھ سامنے آنکھوں کے آتا ہےعطا ایسا بیاں مجھ کو ہوا رنگیں بیانوں میںکہ بام عرش کے طائر ہیں میرے ہم زبانوں میںاثر یہ بھی ہے اک میرے جنون فتنہ ساماں کامرا آئینۂ دل ہے قضا کے راز دانوں میںرلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوکہ عبرت خیز ہے تیرا فسانہ سب فسانوں میںدیا رونا مجھے ایسا کہ سب کچھ دے دیا گویالکھا کلک ازل نے مجھ کو تیرے نوحہ خوانوں میںنشان برگ گل تک بھی نہ چھوڑ اس باغ میں گلچیںتری قسمت سے رزم آرائیاں ہیں باغبانوں میںچھپا کر آستیں میں بجلیاں رکھی ہیں گردوں نےعنادل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آشیانوں میںسن اے غافل صدا میری یہ ایسی چیز ہے جس کووظیفہ جان کر پڑھتے ہیں طائر بوستانوں میںوطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہےتری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میںذرا دیکھ اس کو جو کچھ ہو رہا ہے ہونے والا ہےدھرا کیا ہے بھلا عہد کہن کی داستانوں میںیہ خاموشی کہاں تک لذت فریاد پیدا کرزمیں پر تو ہو اور تیری صدا ہو آسمانوں میںنہ سمجھوگے تو مٹ جاؤگے اے ہندوستاں والوتمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میںیہی آئین قدرت ہے یہی اسلوب فطرت ہےجو ہے راہ عمل میں گامزن محبوب فطرت ہےہویدا آج اپنے زخم پنہاں کر کے چھوڑوں گالہو رو رو کے محفل کو گلستاں کر کے چھوڑوں گاجلانا ہے مجھے ہر شمع دل کو سوز پنہاں سےتری تاریک راتوں میں چراغاں کر کے چھوڑوں گامگر غنچوں کی صورت ہوں دل درد آشنا پیداچمن میں مشت خاک اپنی پریشاں کر کے چھوڑوں گاپرونا ایک ہی تسبیح میں ان بکھرے دانوں کوجو مشکل ہے تو اس مشکل کو آساں کر کے چھوڑوں گامجھے اے ہم نشیں رہنے دے شغل سینہ کاوی میںکہ میں داغ محبت کو نمایاں کر کے چھوڑوں گادکھا دوں گا جہاں کو جو مری آنکھوں نے دیکھا ہےتجھے بھی صورت آئینہ حیراں کر کے چھوڑوں گاجو ہے پردوں میں پنہاں چشم بینا دیکھ لیتی ہےزمانے کی طبیعت کا تقاضا دیکھ لیتی ہےکیا رفعت کی لذت سے نہ دل کو آشنا تو نےگزاری عمر پستی میں مثال نقش پا تو نےرہا دل بستۂ محفل مگر اپنی نگاہوں کوکیا بیرون محفل سے نہ حیرت آشنا تو نےفدا کرتا رہا دل کو حسینوں کی اداؤں پرمگر دیکھی نہ اس آئینے میں اپنی ادا تو نےتعصب چھوڑ ناداں دہر کے آئینہ خانے میںیہ تصویریں ہیں تیری جن کو سمجھا ہے برا تو نےسراپا نالۂ بیدار سوز زندگی ہو جاسپند آسا گرہ میں باندھ رکھی ہے صدا تو نےصفائے دل کو کیا آرائش رنگ تعلق سےکف آئینہ پر باندھی ہے او ناداں حنا تو نےزمیں کیا آسماں بھی تیری کج بینی پہ روتا ہےغضب ہے سطر قرآں کو چلیپا کر دیا تو نےزباں سے گر کیا توحید کا دعویٰ تو کیا حاصلبنایا ہے بت پندار کو اپنا خدا تو نےکنویں میں تو نے یوسف کو جو دیکھا بھی تو کیا دیکھاارے غافل جو مطلق تھا مقید کر دیا تو نےہوس بالائے منبر ہے تجھے رنگیں بیانی کینصیحت بھی تری صورت ہے اک افسانہ خوانی کیدکھا وہ حسن عالم سوز اپنی چشم پر نم کوجو تڑپاتا ہے پروانے کو رلواتا ہے شبنم کوذرا نظارہ ہی اے بو الہوس مقصد نہیں اس کابنایا ہے کسی نے کچھ سمجھ کر چشم آدم کواگر دیکھا بھی اس نے سارے عالم کو تو کیا دیکھانظر آئی نہ کچھ اپنی حقیقت جام سے جم کوشجر ہے فرقہ آرائی تعصب ہے ثمر اس کایہ وہ پھل ہے کہ جنت سے نکلواتا ہے آدم کونہ اٹھا جذبۂ خورشید سے اک برگ گل تک بھییہ رفعت کی تمنا ہے کہ لے اڑتی ہے شبنم کوپھرا کرتے نہیں مجروح الفت فکر درماں میںیہ زخمی آپ کر لیتے ہیں پیدا اپنے مرہم کومحبت کے شرر سے دل سراپا نور ہوتا ہےذرا سے بیج سے پیدا ریاض طور ہوتا ہےدوا ہر دکھ کی ہے مجروح تیغ آرزو رہناعلاج زخم ہے آزاد احسان رفو رہناشراب بے خودی سے تا فلک پرواز ہے میریشکست رنگ سے سیکھا ہے میں نے بن کے بو رہناتھمے کیا دیدۂ گریاں وطن کی نوحہ خوانی میںعبادت چشم شاعر کی ہے ہر دم با وضو رہنابنائیں کیا سمجھ کر شاخ گل پر آشیاں اپناچمن میں آہ کیا رہنا جو ہو بے آبرو رہناجو تو سمجھے تو آزادی ہے پوشیدہ محبت میںغلامی ہے اسیر امتیاز ما و تو رہنایہ استغنا ہے پانی میں نگوں رکھتا ہے ساغر کوتجھے بھی چاہیئے مثل حباب آبجو رہنانہ رہ اپنوں سے بے پروا اسی میں خیر ہے تیریاگر منظور ہے دنیا میں او بیگانہ خو رہناشراب روح پرور ہے محبت نوع انساں کیسکھایا اس نے مجھ کو مست بے جام و سبو رہنامحبت ہی سے پائی ہے شفا بیمار قوموں نےکیا ہے اپنے بخت خفتہ کو بیدار قوموں نےبیابان محبت دشت غربت بھی وطن بھی ہےیہ ویرانہ قفس بھی آشیانہ بھی چمن بھی ہےمحبت ہی وہ منزل ہے کہ منزل بھی ہے صحرا بھیجرس بھی کارواں بھی راہبر بھی راہزن بھی ہےمرض کہتے ہیں سب اس کو یہ ہے لیکن مرض ایساچھپا جس میں علاج گردش چرخ کہن بھی ہےجلانا دل کا ہے گویا سراپا نور ہو جانایہ پروانہ جو سوزاں ہو تو شمع انجمن بھی ہےوہی اک حسن ہے لیکن نظر آتا ہے ہر شے میںیہ شیریں بھی ہے گویا بے ستوں بھی کوہ کن بھی ہےاجاڑا ہے تمیز ملت و آئیں نے قوموں کومرے اہل وطن کے دل میں کچھ فکر وطن بھی ہےسکوت آموز طول داستان درد ہے ورنہزباں بھی ہے ہمارے منہ میں اور تاب سخن بھی ہےنمیگردید کو تہ رشتۂ معنی رہا کردمحکایت بود بے پایاں بخاموشی ادا کردم
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books