aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "garmi-e-soz-e-jigar"
آؤ کہ مرگ سوز محبت منائیں ہمآؤ کہ حسن ماہ سے دل کو جلائیں ہمخوش ہوں فراق قامت و رخسار یار سےسرو و گل و سمن سے نظر کو ستائیں ہمویرانی حیات کو ویران تر کریںلے ناصح آج تیرا کہا مان جائیں ہمپھر اوٹ لے کے دامن ابر بہار کیدل کو منائیں ہم کبھی آنسو بہائیں ہمسلجھائیں بے دلی سے یہ الجھے ہوئے سوالواں جائیں یا نہ جائیں نہ جائیں کہ جائیں ہمپھر دل کو پاس ضبط کی تلقین کر چکیںاور امتحان ضبط سے پھر جی چرائیں ہمآؤ کہ آج ختم ہوئی داستان عشقاب ختم عاشقی کے فسانے سنائیں ہم
مرکز علم و ہنر میکدۂ سوز و سازسجدۂ شوق سے آباد ہے رندوں کا حرم
لیکن اس دن کے لئے اے ہم نشینو دوستوکیسی کیسی بے بہا قربانیاں دینا پڑیںخون دل دینا پڑا خون جگر دینا پڑااپنے خوابوں کی حسیں پرچھائیاں دینا پڑیں
جب بھی ظلمت کے جگر چاک کئے ہیں ہم نےاک نئی صبح کا پیغام دیا کرتے ہیںجب بھی مہتاب زر افشاں کے ہو چہرے پہ نقابجان ہم رکھ کے ہتھیلی پر الٹ دیتے ہیں
نہ ایشیا میں نہ یورپ میں سوز و ساز حیاتخودی کی موت ہے یہ اور وہ ضمیر کی موتدلوں میں ولولۂ انقلاب ہے پیداقریب آ گئی شاید جہان پیر کی موت
وہ سوز و ساز محبت وہ پر فسوں راتیںوہ ہلکا ہلکا ترنم وہ جاں فزا باتیںوہ ندیوں کا تلاطم وہ پتھروں کا خروشوہ ماہتاب جواں زرد پر سکوں خاموشوہ بہکے بہکے مناظر فسوں نواز ہواوہ نیل کنٹھ وہ چشمے پہ شارکوں کی صداطلسم عہد محبت کی مد بھری راہیںوفور کیف و جنوں کی حسیں جلو گاہیںمرے جہان محبت کی یادگاریں ہیںسرود و شعر و تغزل کی رہگزاریں ہیںنگاہ شوق وہ انداز پر فسوں یعنینئے نئے وہ مطالب وہ جذب با معنیوہ طرز خاص وہ اقدار کی نئی باتیںوہ تجربات وہ افکار کی نئی باتیںتخیلات کی دنیا کو جگمگاتی تھیںتصورات کی آنکھوں پہ کوند جاتی تھیںاگرچہ آنے کو آتی ہیں چودھویں راتیںجھجک جھجک کے نگاہوں میں پر فسوں باتیںوہ سوز و ساز محبت کی جان بن بن کرسرود و شعر حسیں پائلوں سے چھن چھن کروہ چاندنی کی حسیں وادیوں میں رقصاں ہیںوہ دور پیکر روماں جنوں بداماں ہیںوہ ساحرانہ ترانوں کو گنگناتے ہیںوہ شاعرانہ تمنا کو گدگداتے ہیںمگر میں بیکس و آوارہ پھرتا رہتا ہوںقدم قدم پہ سنبھلتا ہوں گرتا رہتا ہوں
ہے مزاج اس وقت کچھ بگڑا ہوا صیاد کااے اسیران قفس موقع نہیں فریاد کا
نہ سنا مجھ کو تو پیغام محبت اے دوستکس کو ہے فرصت تجدید محبت اے دوستزندگی سلسلۂ سوز جگر ہے اے دوستآج آفات سے بے چین بشر ہے اے دوستجس کو دیکھو وہی با دیدۂ تر ہے اے دوستروز آتی ہے نئی ایک قیامت اے دوستکس کو ہے فرصت تجدید محبت اے دوست
گرمی آئی گرمی آئیجمبو میاں موٹے نے اوڑھی رضائیجاڑا آیا جاڑا آیاجمبو میاں موٹے نے پنکھا چلایابرسات آئی برسات آئیجمبو میاں موٹے نے کشتی بنائی
وہ کب کے آئے بھی اور گئے بھی نظر میں اب تک سما رہے ہیںیہ چل رہے ہیں، وہ پھر رہے ہیں، یہ آ رہے ہیں وہ جا رہے ہیںوہی قیامت ہے قد بالا وہی ہے صورت، وہی سراپالبوں کو جنبش، نگہ کو لرزش، کھڑے ہیں اور مسکرا رہے ہیںوہی لطافت، وہی نزاکت، وہی تبسم، وہی ترنممیں نقش حرماں بنا ہوا تھا وہ نقش حیرت بنا رہے ہیںخرام رنگیں، نظام رنگیں، کلام رنگیں، پیام رنگیںقدم قدم پر، روش روش پر نئے نئے گل کھلا رہے ہیںشباب رنگیں، جمال رنگیں، وہ سر سے پا تک تمام رنگیںتمام رنگیں بنے ہوئے ہیں، تمام رنگیں بنا رہے ہیںتمام رعنائیوں کے مظہر، تمام رنگینیوں کے منظرسنبھل سنبھل کر سمٹ سمٹ کر سب ایک مرکز پر آ رہے ہیںبہار رنگ و شباب ہی کیا ستارہ و ماہتاب ہی کیاتمام ہستی جھکی ہوئی ہے، جدھر وہ نظریں جھکا رہے ہیںطیور سرشار ساغر مل ہلاک تنویر لالہ و گلسب اپنی اپنی دھنوں میں مل کر عجب عجب گیت گا رہے ہیںشراب آنکھوں سے ڈھل رہی ہے، نظر سے مستی ابل رہی ہےچھلک رہی ہے اچھل رہی ہے، پئے ہوئے ہیں پلا رہے ہیںخود اپنے نشے میں جھومتے ہیں، وہ اپنا منہ آپ چومتے ہیںخراب مستی بنے ہوئے ہیں، ہلاک مستی بنا رہے ہیںفضا سے نشہ برس رہا ہے، دماغ پھولوں میں بس رہا ہےوہ کون ہے جو ترس رہا ہے؟ سبھی کو میکش پلا رہے ہیںزمین نشہ، زمان نشہ، جہان نشہ، مکان نشہمکان کیا؟ لا مکان نشہ، ڈبو رہے ہیں پلا رہے ہیںوہ روئے رنگیں و موجۂ یم، کہ جیسے دامان گل پہ شبنمیہ گرمیٔ حسن کا ہے عالم، عرق عرق میں نہا رہے ہیںیہ مست بلبل بہک رہے ہیں، قریب عارض چہک رہے ہےگلوں کی چھاتی دھڑک رہی ہے، وہ دست رنگیں بڑھا رہے ہیںیہ موج و دریا، یہ ریگ و صحرا یہ غنچہ و گل، یہ ماہ و انجمذرا جو وہ مسکرا دیئے ہیں وہ سب کے سب مسکرا رہے ہیںفضا یہ نغموں سے بھر گئی ہے کہ موج دریا ٹھہر گئی ہےسکوت نغمہ بنا ہوا ہے، وہ جیسے کچھ گنگنا رہے ہیںاب آگے جو کچھ بھی ہو مقدر، رہے گا لیکن یہ نقش دل پرہم ان کا دامن پکڑ رہے ہیں، وہ اپنا دامن چھڑا رہے ہیںیہ اشک جو بہہ رہے ہیں پیہم، اگرچہ سب ہیں یہ حاصل غممگر یہ معلوم ہو رہا ہے، کہ یہ بھی کچھ مسکرا رہے ہیںذرا جو دم بھر کو آنکھ جھپکی، یہ دیکھتا ہوں نئی تجلیطلسم صورت مٹا رہے ہیں، جمال معنی بنا رہے ہیںخوشی سے لبریز شش جہت ہے، زبان پر شور تہنیت ہےیہ وقت وہ ہے جگرؔ کے دل کو وہ اپنے دل سے ملا رہے ہیں
ساقی کی ہر نگاہ پہ بل کھا کے پی گیالہروں سے کھیلتا ہوا لہرا کے پی گیابے کیفیوں کے کیف سے گھبرا کے پی گیاتوبہ کو توڑ تاڑ کے تھرا کے پی گیازاہد! یہ تیری شوخئ رندانہ دیکھنارحمت کو باتوں باتوں میں بہلا کے پی گیاسر مستئ ازل مجھے جب یاد آ گئیدنیائے اعتبار کو ٹھکرا کے پی گیاآزردگئ خاطر ساقی کو دیکھ کرمجھ کو یہ شرم آئی کہ شرما کے پی گیااے رحمت تمام مری ہر خطا معافمیں انتہائے شوق میں گھبرا کے پی گیاپیتا بغیر اذن یہ کب تھی مری مجالدر پردہ چشم یار کی شہ پا کے پی گیااس جان مے کدہ کی قسم بارہا جگرؔکل عالم بسیط پہ میں چھا کے پی گیا
آئی جب ان کی یاد تو آتی چلی گئیہر نقش ماسوا کو مٹاتی چلی گئیہر منظر جمال دکھاتی چلی گئیجیسے انہیں کو سامنے لاتی چلی گئیہر واقعہ قریب تر آتا چلا گیاہر شے حسین تر نظر آتی چلی گئیویرانۂ حیات کے ایک ایک گوشہ میںجوگن کوئی ستار بجاتی چلی گئیدل پھنک رہا تھا آتش ضبط فراق سےدیپک کو مے گسار بناتی چلی گئیبے حرف و بے حکایت و بے ساز و بے صدارگ رگ میں نغمہ بن کے سماتی چلی گئیجتنا ہی کچھ سکون سا آتا چلا گیااتنا ہی بے قرار بناتی چلی گئیکیفیتوں کو ہوش سا آتا چلا گیابے کیفیوں کو نیند سی آتی چلی گئیکیا کیا نہ حسن یار سے شکوے تھے عشق کوکیا کیا نہ شرمسار بناتی چلی گئیتفریق حسن و عشق کا جھگڑا نہیں رہاتمئیز قرب و بعد مٹاتی چلی گئیمیں تشنہ کام شوق تھا پیتا چلا گیاوہ مست انکھڑیوں سے پلاتی چلی گئیاک حسن بے جہت کی فضائے بسیط میںاڑتی گئی مجھے بھی اڑاتی چلی گئیپھر میں ہوں اور عشق کی بیتابیاں جگرؔاچھا ہوا وہ نیند کی ماتی چلی گئی
اپنا ہی سا اے نرگس مستانہ بنا دےمیں جب تجھے جانوں مجھے دیوانہ بنا دےہر قید سے ہر رسم سے بیگانہ بنا دےدیوانہ بنا دے مجھے دیوانہ بنا دےاک برق ادا خرمن ہستی پہ گرا کرنظروں کو مری طور کا افسانہ بنا دےہر دل ہے تری بزم میں لبریز مئے عشقاک اور بھی پیمانہ سے پیمانہ بنا دےتو ساقی مے خانہ بھی تو نشہ و مے بھیمیں تشنۂ ہستی مجھے مستانہ بنا دےاللہ نے تجھ کو مے و مے خانہ بنایاتو ساری فضا کو مے و مے خانہ بنا دےتو ساقئ مے خانہ ہے میں رند بلا نوشمیرے لئے مے خانہ کو پیمانہ بنا دےیا دیدہ و دل میں مرے تو آپ سما جایا پھر دل و دیدہ ہی کو ویرانہ بنا دےقطرے میں وہ دریا ہے جو عالم کو ڈبو دےذرے میں وہ صحرا ہے کہ دیوانہ بنا دےلیکن مجھے ہر قید تعین سے بچا کرجو چاہے وہ اے نرگس مستانہ بنا دےعالم تو ہے دیوانہ جگر! حسن کی خاطرتو اپنے لئے حسن کو دیوانہ بنا دےکب تک نگہ یار نہ ہوگی متبسمتو اپنا ہر انداز حریفانہ بنا دےمنکر تو نہ بن حسن کے اعجاز نظر کاکہنے کے لئے اپنے کو بیگانہ بنا دےجب تک کرم خاص کا دریا نہ امنڈ آئےتو اور بھی حال اپنا سفیہانہ بنا دےبت خانے آ نکلے تو کعبہ کی بنا ڈالکعبے میں پہنچ جائے تو بت خانہ بنا دےجو موج اٹھے دل سے ترے جوش طلب میںسر رکھ کے وہیں سجدۂ شکرانہ بنا دےجب مائل الطاف نظر آئے وہ خودبیںتو ہر نگہ شوق کو افسانہ بنا دےکونین بھی مل جائے تو دامن کو نہ پھیلاکونین کو بھولا ہوا افسانہ بنا دےپھر عرض کر اس طرح جگرؔ شوق و ادب سےبے باک اگر جرأت رندانہ بنا دےتجھ کو نگہ یار! قسم میرے جنوں کیناصح کو بھی میرا ہی سا دیوانہ بنا دےمیں ہوں ترے قدموں میں مجھے کچھ نہیں کہنااب جو بھی ترا لطف کریمانہ بنا دے
اک حدی خوان محبت اک نقیب اتحاداک فدائے سوز ناقوس و اذاں پیدا ہوا
لٹیرے لوٹ کے بستی اجاڑےکوئی آواز ہنگامہکوئی شور نہ چیخسپاہی پیٹھ پھیرےپولس ناکے سے باہرمے کدہ میںوکیلوں کے گوؤن سب خود ہی کالےکسے منصف کریںسب گونگے بہرےعدالت میں ترازو زینت اجلاسنہ گیتا ہے نہ قرآںہیں جزدانوں میں ان کی صرف جلدیںکٹورے آنسوؤں کے خالی خالیدل آشفتہ آتش بار و سوز نالۂ شب گیردل سنگیںسنہری کرسیاں خنداں لب و مست
انتہائے فشار حسرت میںشدت سوز و ساز فرقت میں
جذبۂ سوز دروں آج گرفتار ہواایک شاعر کا جنوں آج گرفتار ہوا
سردی گزری گرمی آئیساتھ میں اپنے ہلچل لائیگرم ہوا ہر سو چلتی ہےسورج سے دھرتی جلتی ہےانسانوں کا حال برا ہےحیوانوں میں حشر بپا ہےجھلس رہے ہیں پیڑ اور پودےپگھل رہے ہیں برف کے تودےسوکھ گئے ہیں ندی نالےپڑ گئے سب کی جان کے لالےاترا ہوا ہے سب کا چہرہگھر کے باہر لو کا خطرہڈھونڈ رہا ہے ہر اک سایاگرمی نے اتنا گرمایاٹھنڈا پانی لسی شربتبڑھ گئی ان سے سب کی چاہتلیموں کا رس آم کا پتاکھاتے ہیں سب شوق سے گناپنکھا تیزی سے چلتا ہےجسم مگر پھر بھی جلتا ہےسب کی زباں پر پانی پانیبھیج دے مولیٰ برکھا رانی
رخ پر برہ کا رنگ ہے یا کہ ملن کی آسدنیائے سوز و ساز دکھاتی چلی گئی
لبوں کی بھیگی بھیگی سلوٹوں کو مضمحل کر دےنمایاں رنگ پیشانی پہ عکس سوز دل کر دے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books