aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ghuras"
تم کو یہاں کے سایہ و پرتو سے کیا غرضتم اپنے حق میں بیچ کی دیوار ہی رہو
جب ظلم و ستم کے کوہ گراںروئی کی طرح اڑ جائیں گے
کس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہےہم سے کب پیار ہے ہاں نیند تمہیں پیاری ہے
ترے جمال کی رعنائیوں میں کھو رہتاترا گداز بدن تیری نیم باز آنکھیں
ڈھل چکی رات بکھرنے لگا تاروں کا غبارلڑکھڑانے لگے ایوانوں میں خوابیدہ چراغ
غرض تصور شام و سحر میں جیتے ہیںگرفت سایۂ دیوار و در میں جیتے ہیں
بجلی چمک کے ان کو کٹیا مری دکھا دےجب آسماں پہ ہر سو بادل گھرا ہوا ہو
وجود اک وہم ہے اور وہم ہی شاید حقیقت ہےغرض جو حال تھا وہ نفس کے بازار ہی کا تھا
ہم کو رہنا ہے پہ یوں ہی تو نہیں رہنا ہےاجنبی ہاتھوں کا بے نام گراں بار ستم
بس اک مصاحب دربار کے اشارے پرگداگران سخن کے ہجوم سامنے ہیں
غرض کہ سبھی کچھ ہے تیرے لیےبتا کیا کیا تو نے میرے لیے
اے دل پہلے بھی تنہا تھے، اے دل ہم تنہا آج بھی ہیںاور ان زخموں اور داغوں سے اب اپنی باتیں ہوتی ہیں
اپنی آنکھوں میں لیے دعوت خواب آتی تھیسنگ کو گوہر نایاب و گراں جانا تھا
دلیل صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابیافق سے آفتاب ابھرا گیا دور گراں خوابی
نظر سے آس پاس گمہمہ بجز گلاس گم
بہت شجر تھے تھوڑے گھر تھےجن کو تھا دوری نے گھیرا
گراں خواب چینی سنبھلنے لگےہمالہ کے چشمے ابلنے لگے
زندگی یوں تو ہمیشہ سے پریشان سی تھیاب تو ہر سانس گراں بار ہوئی جاتی ہے
مرے گلے میں تمہاری گداز باہیں ہیںتمہارے ہونٹوں پہ میرے لبوں کے سائے ہیں
یہ فصل امیدوں کی ہم دماس بار بھی غارت جائے گی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books