aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ghuste"
جھکی جھکی نظروں سے پستکوںکو سینے سے لگائےدھک دھک کرتے دل کو سنبھالےکہیں آنکھیں چار نہ ہو جائیںلیب میں چور نظر سے گھستےکہ آج تو درشن ہو جائیںپر مدہوشی کا عالم تو دیکھیں کہنظریں ملیں تو شاید بے ہوش ہو جائیںای میل پر کھلے عام خط کی بات نہیں یہوہ کچرے میں پھینکا کاغذ بھی کئی تہوںمیں لگا کر سینے میں چھپائیںکوئی جان نہ لے ہماری اس خاموش محبت کوسوچ اس خیال سے ہی لال ہو جائےچھپ چھپ کر راشی پھل پڑھتےکہ شاید آج ملاقات ہو جائےہونٹوں کو سیے چپ چاپ گھومتےکہ بھول سے تیرا نام بھی لبوں پر نہ آ جائےایسی تھیں وہ محبتیں جہاں بنا دیکھےکئی صدیاں گزر جائیں
جسم نکلے ہوئے امراض کے تنوروں سےپیپ بہتی ہوئی گلتے ہوئے ناسوروں سےلوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجےاب بھی دل کش ہے ترا حسن مگر کیا کیجے
اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےقلب ماحول میں لرزاں شرر جنگ ہیں آجحوصلے وقت کے اور زیست کے یک رنگ ہیں آجآبگینوں میں تپاں ولولۂ سنگ ہیں آجحسن اور عشق ہم آواز و ہم آہنگ ہیں آججس میں جلتا ہوں اسی آگ میں جلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتیرے قدموں میں ہے فردوس تمدن کی بہارتیری نظروں پہ ہے تہذیب و ترقی کا مدارتیری آغوش ہے گہوارۂ نفس و کردارتا بہ کے گرد ترے وہم و تعین کا حصارکوند کر مجلس خلوت سے نکلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتو کہ بے جان کھلونوں سے بہل جاتی ہےتپتی سانسوں کی حرارت سے پگھل جاتی ہےپاؤں جس راہ میں رکھتی ہے پھسل جاتی ہےبن کے سیماب ہر اک ظرف میں ڈھل جاتی ہےزیست کے آہنی سانچے میں بھی ڈھلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےزندگی جہد میں ہے صبر کے قابو میں نہیںنبض ہستی کا لہو کانپتے آنسو میں نہیںاڑنے کھلنے میں ہے نکہت خم گیسو میں نہیںجنت اک اور ہے جو مرد کے پہلو میں نہیںاس کی آزاد روش پر بھی مچلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےگوشہ گوشہ میں سلگتی ہے چتا تیرے لیےفرض کا بھیس بدلتی ہے قضا تیرے لیےقہر ہے تیری ہر اک نرم ادا تیرے لیےزہر ہی زہر ہے دنیا کی ہوا تیرے لیےرت بدل ڈال اگر پھولنا پھلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےقدر اب تک تری تاریخ نے جانی ہی نہیںتجھ میں شعلے بھی ہیں بس اشک فشانی ہی نہیںتو حقیقت بھی ہے دلچسپ کہانی ہی نہیںتیری ہستی بھی ہے اک چیز جوانی ہی نہیںاپنی تاریخ کا عنوان بدلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتوڑ کر رسم کا بت بند قدامت سے نکلضعف عشرت سے نکل وہم نزاکت سے نکلنفس کے کھینچے ہوئے حلقۂ عظمت سے نکلقید بن جائے محبت تو محبت سے نکلراہ کا خار ہی کیا گل بھی کچلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتوڑ یہ عزم شکن دغدغۂ پند بھی توڑتیری خاطر ہے جو زنجیر وہ سوگند بھی توڑطوق یہ بھی ہے زمرد کا گلوبند بھی توڑتوڑ پیمانۂ مردان خرد مند بھی توڑبن کے طوفان چھلکنا ہے ابلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتو فلاطون و ارسطو ہے تو زہرا پرویںتیرے قبضہ میں ہے گردوں تری ٹھوکر میں زمیںہاں اٹھا جلد اٹھا پائے مقدر سے جبیںمیں بھی رکنے کا نہیں وقت بھی رکنے کا نہیںلڑکھڑائے گی کہاں تک کہ سنبھلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے
وہ کتاب حسن وہ علم و ادب کی طالبہوہ مہذب وہ مؤدب وہ مقدس راہبہکس قدر پیرایہ پرور اور کتنی سادہ کارکس قدر سنجیدہ و خاموش کتنی با وقارگیسوئے پر خم سواد دوش تک پہنچے ہوئےاور کچھ بکھرے ہوئے الجھے ہوئے سمٹے ہوئےرنگ میں اس کے عذاب خیرگی شامل نہیںکیف احساسات کی افسردگی شامل نہیںوہ مرے آتے ہی اس کی نکتہ پرور خامشیجیسے کوئی حور بن جائے یکایک فلسفیمجھ پہ کیا خود اپنی فطرت پر بھی وہ کھلتی نہیںایسی پر اسرار لڑکی میں نے دیکھی ہی نہیںدختران شہر کی ہوتی ہے جب محفل کہیںوہ تعارف کے لیے آگے کبھی بڑھتی نہیں
جیپوں کی سلگتی دھول تلے پھولوں کی قبائیں ڈوب گئیںانسان کی قسمت گرنے لگی اجناس کے بھاؤ چڑھنے لگےچوپال کی رونق گھٹنے لگی بھرتی کے دفاتر بڑھنے لگے
میں جب بھیزندگی کی چلچلاتی دھوپ میں تپ کرمیں جب بھیدوسروں کے اور اپنے جھوٹ سے تھک کرمیں سب سے لڑ کے خود سے ہار کےجب بھی اس ایک کمرے میں جاتا تھاوہ ہلکے اور گہرے کتھئی رنگوں کا اک کمرہوہ بے حد مہرباں کمرہجو اپنی نرم مٹھی میں مجھے ایسے چھپا لیتا تھاجیسے کوئی ماںبچے کو آنچل میں چھپا لےپیار سے ڈانٹےیہ کیا عادت ہےجلتی دوپہر میں مارے مارے گھومتے ہو تموہ کمرہ یاد آتا ہےدبیز اور خاصا بھاریکچھ ذرا مشکل سے کھلنے والا وہ شیشم کا دروازہکہ جیسے کوئی اکھڑ باپاپنے کھردرے سینے میںشفقت کے سمندر کو چھپائے ہووہ کرسیاور اس کے ساتھ وہ جڑواں بہن اس کیوہ دونوںدوست تھیں میریوہ اک گستاخ منہ پھٹ آئینہجو دل کا اچھا تھاوہ بے ہنگم سی الماریجو کونے میں کھڑیاک بوڑھی انا کی طرحآئینے کو تنبیہ کرتی تھیوہ اک گلدانننھا سابہت شیطانان دنوں پہ ہنستا تھادریچہیا ذہانت سے بھری اک مسکراہٹاور دریچے پر جھکی وہ بیلکوئی سبز سرگوشیکتابیںطاق میں اور شیلف پرسنجیدہ استانی بنی بیٹھیںمگر سب منتظر اس بات کیمیں ان سے کچھ پوچھوںسرہانےنیند کا ساتھیتھکن کا چارہ گروہ نرم دل تکیہمیں جس کی گود میں سر رکھ کےچھت کو دیکھتا تھاچھت کی کڑیوں میںنہ جانے کتنے افسانوں کی کڑیاں تھیںوہ چھوٹی میز پراور سامنے دیوار پرآویزاں تصویریںمجھے اپنائیت سے اور یقیں سے دیکھتی تھیںمسکراتی تھیںانہیں شک بھی نہیں تھاایک دنمیں ان کو ایسے چھوڑ جاؤں گامیں اک دن یوں بھی جاؤں گاکہ پھر واپس نہ آؤں گا
کھڑی دھوپ میں اپنے گھر سے نکلناوہ چڑیاں وہ بلبل وہ تتلی پکڑناوہ گڑیوں کی شادی پہ لڑنا جھگڑناوہ جھولوں سے گرنا وہ گرتے سنبھلناوہ پیتل کے چھاؤں کے پیارے سے تحفےوہ ٹوٹی ہوئی چوڑیوں کی نشانیوہ کاغذ کی کشتی وہ بارش کا پانی
جسم سے روح تلک ریت ہی ریتنہ کہیں دھوپ نہ سایہ نہ سرابکتنے ارمان ہیں کس صحرا میںکون رکھتا ہے مزاروں کا حسابنبض بجھتی بھی بھڑکتی بھی ہےدل کا معمول ہے گھبرانا بھیرات اندھیرے نے اندھیرے سے کہاایک عادت ہے جئے جانا بھیقوس اک رنگ کی ہوتی ہے طلوعایک ہی چال بھی پیمانے کیگوشے گوشے میں کھڑی ہے مسجدشکل کیا ہو گئی مے خانے کیکوئی کہتا تھا سمندر ہوں میںاور مری جیب میں قطرہ بھی نہیںخیریت اپنی لکھا کرتا ہوںاب تو تقدیر میں خطرہ بھی نہیںاپنے ہاتھوں کو پڑھا کرتا ہوںکبھی قرآں کبھی گیتا کی طرحچند ریکھاؤں میں سیماؤں میںزندگی قید ہے سیتا کی طرحرام کب لوٹیں گے معلوم نہیںکاش راون ہی کوئی آ جاتا
یہ کیسا عشق ہے اردو زباں کا،مزا گھلتا ہے لفظوں کا زباں پرکہ جیسے پان میں مہنگا قمام گھلتا ہےیہ کیسا عشق ہے اردو زباں کا۔۔۔۔نشہ آتا ہے اردو بولنے میںگلوری کی طرح ہیں منہ لگی سب اصطلاحیںلطف دیتی ہے، حلق چھوتی ہے اردو تو، حلق سے جیسے مے کا گھونٹ اترتا ہےبڑی ارسٹوکریسی ہے زباں میںفقیری میں نوابی کا مزا دیتی ہے اردواگرچہ معنی کم ہوتے ہے اردو میںالفاظ کی افراط ہوتی ہےمگر پھر بھی، بلند آواز پڑھیے تو بہت ہی معتبر لگتی ہیں باتیںکہیں کچھ دور سے کانوں میں پڑتی ہے اگر اردوتو لگتا ہے کہ دن جاڑوں کے ہیں کھڑکی کھلی ہے، دھوپ اندر آ رہی ہےعجب ہے یہ زباں، اردوکبھی کہیں سفر کرتے اگر کوئی مسافر شعر پڑھ دے میرؔ، غالبؔ کاوہ چاہے اجنبی ہو، یہی لگتا ہے وہ میرے وطن کا ہےبڑی شائستہ لہجے میں کسی سے اردو سن کرکیا نہیں لگتا کہ ایک تہذیب کی آواز ہے, اردو
نہیں منت کش تاب شنیدن داستاں میریخموشی گفتگو ہے بے زبانی ہے زباں میرییہ دستور زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میںیہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میریاٹھائے کچھ ورق لالے نے کچھ نرگس نے کچھ گل نےچمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میریاڑا لی قمریوں نے طوطیوں نے عندلیبوں نےچمن والوں نے مل کر لوٹ لی طرز فغاں میریٹپک اے شمع آنسو بن کے پروانے کی آنکھوں سےسراپا درد ہوں حسرت بھری ہے داستاں میریالٰہی پھر مزہ کیا ہے یہاں دنیا میں رہنے کاحیات جاوداں میری نہ مرگ ناگہاں میریمرا رونا نہیں رونا ہے یہ سارے گلستاں کاوہ گل ہوں میں خزاں ہر گل کی ہے گویا خزاں میریدریں حسرت سرا عمریست افسون جرس دارمز فیض دل طپیدن ہا خروش بے نفس دارمریاض دہر میں نا آشنائے بزم عشرت ہوںخوشی روتی ہے جس کو میں وہ محروم مسرت ہوںمری بگڑی ہوئی تقدیر کو روتی ہے گویائیمیں حرف زیر لب شرمندۂ گوش سماعت ہوںپریشاں ہوں میں مشت خاک لیکن کچھ نہیں کھلتاسکندر ہوں کہ آئینہ ہوں یا گرد کدورت ہوںیہ سب کچھ ہے مگر ہستی مری مقصد ہے قدرت کاسراپا نور ہو جس کی حقیقت میں وہ ظلمت ہوںخزینہ ہوں چھپایا مجھ کو مشت خاک صحرا نےکسی کو کیا خبر ہے میں کہاں ہوں کس کی دولت ہوںنظر میری نہیں ممنون سیر عرصۂ ہستیمیں وہ چھوٹی سی دنیا ہوں کہ آپ اپنی ولایت ہوںنہ صہبا ہوں نہ ساقی ہوں نہ مستی ہوں نہ پیمانہمیں اس مے خانۂ ہستی میں ہر شے کی حقیقت ہوںمجھے راز دو عالم دل کا آئینہ دکھاتا ہےوہی کہتا ہوں جو کچھ سامنے آنکھوں کے آتا ہےعطا ایسا بیاں مجھ کو ہوا رنگیں بیانوں میںکہ بام عرش کے طائر ہیں میرے ہم زبانوں میںاثر یہ بھی ہے اک میرے جنون فتنہ ساماں کامرا آئینۂ دل ہے قضا کے راز دانوں میںرلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوکہ عبرت خیز ہے تیرا فسانہ سب فسانوں میںدیا رونا مجھے ایسا کہ سب کچھ دے دیا گویالکھا کلک ازل نے مجھ کو تیرے نوحہ خوانوں میںنشان برگ گل تک بھی نہ چھوڑ اس باغ میں گلچیںتری قسمت سے رزم آرائیاں ہیں باغبانوں میںچھپا کر آستیں میں بجلیاں رکھی ہیں گردوں نےعنادل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آشیانوں میںسن اے غافل صدا میری یہ ایسی چیز ہے جس کووظیفہ جان کر پڑھتے ہیں طائر بوستانوں میںوطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہےتری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میںذرا دیکھ اس کو جو کچھ ہو رہا ہے ہونے والا ہےدھرا کیا ہے بھلا عہد کہن کی داستانوں میںیہ خاموشی کہاں تک لذت فریاد پیدا کرزمیں پر تو ہو اور تیری صدا ہو آسمانوں میںنہ سمجھوگے تو مٹ جاؤگے اے ہندوستاں والوتمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میںیہی آئین قدرت ہے یہی اسلوب فطرت ہےجو ہے راہ عمل میں گامزن محبوب فطرت ہےہویدا آج اپنے زخم پنہاں کر کے چھوڑوں گالہو رو رو کے محفل کو گلستاں کر کے چھوڑوں گاجلانا ہے مجھے ہر شمع دل کو سوز پنہاں سےتری تاریک راتوں میں چراغاں کر کے چھوڑوں گامگر غنچوں کی صورت ہوں دل درد آشنا پیداچمن میں مشت خاک اپنی پریشاں کر کے چھوڑوں گاپرونا ایک ہی تسبیح میں ان بکھرے دانوں کوجو مشکل ہے تو اس مشکل کو آساں کر کے چھوڑوں گامجھے اے ہم نشیں رہنے دے شغل سینہ کاوی میںکہ میں داغ محبت کو نمایاں کر کے چھوڑوں گادکھا دوں گا جہاں کو جو مری آنکھوں نے دیکھا ہےتجھے بھی صورت آئینہ حیراں کر کے چھوڑوں گاجو ہے پردوں میں پنہاں چشم بینا دیکھ لیتی ہےزمانے کی طبیعت کا تقاضا دیکھ لیتی ہےکیا رفعت کی لذت سے نہ دل کو آشنا تو نےگزاری عمر پستی میں مثال نقش پا تو نےرہا دل بستۂ محفل مگر اپنی نگاہوں کوکیا بیرون محفل سے نہ حیرت آشنا تو نےفدا کرتا رہا دل کو حسینوں کی اداؤں پرمگر دیکھی نہ اس آئینے میں اپنی ادا تو نےتعصب چھوڑ ناداں دہر کے آئینہ خانے میںیہ تصویریں ہیں تیری جن کو سمجھا ہے برا تو نےسراپا نالۂ بیدار سوز زندگی ہو جاسپند آسا گرہ میں باندھ رکھی ہے صدا تو نےصفائے دل کو کیا آرائش رنگ تعلق سےکف آئینہ پر باندھی ہے او ناداں حنا تو نےزمیں کیا آسماں بھی تیری کج بینی پہ روتا ہےغضب ہے سطر قرآں کو چلیپا کر دیا تو نےزباں سے گر کیا توحید کا دعویٰ تو کیا حاصلبنایا ہے بت پندار کو اپنا خدا تو نےکنویں میں تو نے یوسف کو جو دیکھا بھی تو کیا دیکھاارے غافل جو مطلق تھا مقید کر دیا تو نےہوس بالائے منبر ہے تجھے رنگیں بیانی کینصیحت بھی تری صورت ہے اک افسانہ خوانی کیدکھا وہ حسن عالم سوز اپنی چشم پر نم کوجو تڑپاتا ہے پروانے کو رلواتا ہے شبنم کوذرا نظارہ ہی اے بو الہوس مقصد نہیں اس کابنایا ہے کسی نے کچھ سمجھ کر چشم آدم کواگر دیکھا بھی اس نے سارے عالم کو تو کیا دیکھانظر آئی نہ کچھ اپنی حقیقت جام سے جم کوشجر ہے فرقہ آرائی تعصب ہے ثمر اس کایہ وہ پھل ہے کہ جنت سے نکلواتا ہے آدم کونہ اٹھا جذبۂ خورشید سے اک برگ گل تک بھییہ رفعت کی تمنا ہے کہ لے اڑتی ہے شبنم کوپھرا کرتے نہیں مجروح الفت فکر درماں میںیہ زخمی آپ کر لیتے ہیں پیدا اپنے مرہم کومحبت کے شرر سے دل سراپا نور ہوتا ہےذرا سے بیج سے پیدا ریاض طور ہوتا ہےدوا ہر دکھ کی ہے مجروح تیغ آرزو رہناعلاج زخم ہے آزاد احسان رفو رہناشراب بے خودی سے تا فلک پرواز ہے میریشکست رنگ سے سیکھا ہے میں نے بن کے بو رہناتھمے کیا دیدۂ گریاں وطن کی نوحہ خوانی میںعبادت چشم شاعر کی ہے ہر دم با وضو رہنابنائیں کیا سمجھ کر شاخ گل پر آشیاں اپناچمن میں آہ کیا رہنا جو ہو بے آبرو رہناجو تو سمجھے تو آزادی ہے پوشیدہ محبت میںغلامی ہے اسیر امتیاز ما و تو رہنایہ استغنا ہے پانی میں نگوں رکھتا ہے ساغر کوتجھے بھی چاہیئے مثل حباب آبجو رہنانہ رہ اپنوں سے بے پروا اسی میں خیر ہے تیریاگر منظور ہے دنیا میں او بیگانہ خو رہناشراب روح پرور ہے محبت نوع انساں کیسکھایا اس نے مجھ کو مست بے جام و سبو رہنامحبت ہی سے پائی ہے شفا بیمار قوموں نےکیا ہے اپنے بخت خفتہ کو بیدار قوموں نےبیابان محبت دشت غربت بھی وطن بھی ہےیہ ویرانہ قفس بھی آشیانہ بھی چمن بھی ہےمحبت ہی وہ منزل ہے کہ منزل بھی ہے صحرا بھیجرس بھی کارواں بھی راہبر بھی راہزن بھی ہےمرض کہتے ہیں سب اس کو یہ ہے لیکن مرض ایساچھپا جس میں علاج گردش چرخ کہن بھی ہےجلانا دل کا ہے گویا سراپا نور ہو جانایہ پروانہ جو سوزاں ہو تو شمع انجمن بھی ہےوہی اک حسن ہے لیکن نظر آتا ہے ہر شے میںیہ شیریں بھی ہے گویا بے ستوں بھی کوہ کن بھی ہےاجاڑا ہے تمیز ملت و آئیں نے قوموں کومرے اہل وطن کے دل میں کچھ فکر وطن بھی ہےسکوت آموز طول داستان درد ہے ورنہزباں بھی ہے ہمارے منہ میں اور تاب سخن بھی ہےنمیگردید کو تہ رشتۂ معنی رہا کردمحکایت بود بے پایاں بخاموشی ادا کردم
اب آنکھوں میں جنبش نہ چہرے پہ کوئی تبسم نہ تیوریفقط کان سنتے چلے جا رہے ہیںیہ اک گلستاں ہے ہوا لہلہاتی ہے کلیاں چٹکتی ہیںغنچے مہکتے ہیں اور پھول کھلتے ہیں کھل کھل کے مرجھا کےگرتے ہیں اک فرش مخمل بناتے ہیں جس پرمری آرزوؤں کی پریاں عجب آن سے یوں رواں ہیںکہ جیسے گلستاں ہی اک آئینہ ہےاسی آئینے سے ہر اک شکل نکھری سنور کر مٹی اور مٹ ہی گئی پھر نہ ابھرییہ پربت ہے خاموش ساکنکبھی کوئی چشمہ ابلتے ہوئے پوچھتا ہے کہ اس کی چٹانوں کے اس پار کیا ہےمگر مجھ کو پربت کا دامن ہی کافی ہے دامن میں وادی ہے وادی میں ندیہے ندی میں بہتی ہوئی ناؤ ہی آئینہ ہےاسی آئینے میں ہر اک شکل نکھری مگر ایک پل میں جو مٹنے لگی ہے توپھر نہ ابھرییہ صحرا ہے پھیلا ہوا خشک بے برگ صحرابگولے یہاں تند بھوتوں کا عکس مجسم بنے ہیں
سفید شرٹ تھی تم سیڑھیوں پہ بیٹھے تھےمیں جب کلاس سے نکلی تھی مسکراتے ہوئےہماری پہلی ملاقات یاد ہے نا تمہیںاشارے کرتے تھے تم مجھ کو آتے جاتے ہوئےتمام رات وہ آنکھیں نہ بھولتی تھیں مجھےکہ جن میں میرے لئے عزت اور وقار دکھےمجھے یہ دنیا بیابان تھی مگر اک دنتم ایک بار دکھے اور بے شمار دکھےمجھے یہ ڈر تھا کہ تم بھی کہیں وہی تو نہیںجو جسم پر ہی تمنا کے داغ چھوڑتے ہیںخدا کا شکر ہے کہ تم ان سے مختلف نکلےجو پھول توڑ کے غصے میں باغ چھوڑتے ہیںزیادہ وقت نہ گزرا تھا اس تعلق کوکہ اس کے بعد وہ لمحہ قریں قریں آیاچھوا تھا تم نے مجھے اور مجھے محبت پریقین آیا تھا لیکن کبھی نہیں آیاپھر اس کے بعد میرا نشۂ سکوت گیامیں کشمکش میں تھی تم میرے کون لگتے ہومیں امرتا تمہیں سوچوں تو میرے ساحر ہومیں فارحہ تمہیں دیکھوں تو جون لگتے ہوہم ایک ساتھ رہے اور ہمیں پتہ نہ چلاتعلقات کی حد بندیاں بھی ہوتی ہیںمحبتوں کے سفر میں جو راستے ہیں وہیہوس کی سمت میں پگڈنڈیاں بھی ہوتی ہیںتمہارے واسطے جو میرے دل میں ہے حافیؔتمہیں میں کاش یہ سب کچھ کبھی بتا پاتیاور اب مزید نہ ملنے کی کوئی وجہ نہیںبس اپنی ماں سے میں آنکھیں نہیں ملا پاتی
قلب و نظر کی زندگی دشت میں صبح کا سماںچشمۂ آفتاب سے نور کی ندیاں رواں!حسن ازل کی ہے نمود چاک ہے پردۂ وجوددل کے لیے ہزار سود ایک نگاہ کا زیاں!سرخ و کبود بدلیاں چھوڑ گیا سحاب شب!کوہ اضم کو دے گیا رنگ برنگ طیلساں!گرد سے پاک ہے ہوا برگ نخیل دھل گئےریگ نواح کاظمہ نرم ہے مثل پرنیاںآگ بجھی ہوئی ادھر، ٹوٹی ہوئی طناب ادھرکیا خبر اس مقام سے گزرے ہیں کتنے کارواںآئی صدائے جبرئیل تیرا مقام ہے یہیاہل فراق کے لیے عیش دوام ہے یہیکس سے کہوں کہ زہر ہے میرے لیے مئے حیاتکہنہ ہے بزم کائنات تازہ ہیں میرے واردات!کیا نہیں اور غزنوی کارگہ حیات میںبیٹھے ہیں کب سے منتظر اہل حرم کے سومنات!ذکر عرب کے سوز میں، فکر عجم کے ساز میںنے عربی مشاہدات، نے عجمی تخیلاتقافلۂ حجاز میں ایک حسین بھی نہیںگرچہ ہے تاب دار ابھی گیسوئے دجلہ و فرات!عقل و دل و نگاہ کا مرشد اولیں ہے عشقعشق نہ ہو تو شرع و دیں بتکدۂ تصورات!صدق خلیل بھی ہے عشق صبر حسین بھی ہے عشق!معرکۂ وجود میں بدر و حنین بھی ہے عشق!آیۂ کائنات کا معنئ دیر یاب تو!نکلے تری تلاش میں قافلہ ہائے رنگ و بو!جلوتیان مدرسہ کور نگاہ و مردہ ذوقجلوتیان میکدہ کم طلب و تہی کدو!میں کہ مری غزل میں ہے آتش رفتہ کا سراغمیری تمام سرگزشت کھوئے ہوؤں کی جستجو!باد صبا کی موج سے نشو و نمائے خار و خس!میرے نفس کی موج سے نشو و نمائے آرزو!خون دل و جگر سے ہے میری نوا کی پرورشہے رگ ساز میں رواں صاحب ساز کا لہو!فرصت کشمکش میں ایں دل بے قرار رایک دو شکن زیادہ کن گیسوئے تابدار رالوح بھی تو، قلم بھی تو، تیرا وجود الکتاب!گنبد آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب!عالم آب و خاک میں تیرے ظہور سے فروغذرۂ ریگ کو دیا تو نے طلوع آفتاب!شوکت سنجر و سلیم تیرے جلال کی نمود!فقر جنیدؔ و بایزیدؔ تیرا جمال بے نقاب!شوق ترا اگر نہ ہو میری نماز کا اماممیرا قیام بھی حجاب !میرا سجود بھی حجاب!تیری نگاہ ناز سے دونوں مراد پا گئےعقل، غیاب و جستجو! عشق، حضور و اضطراب!تیرہ و تار ہے جہاں گردش آفتاب سے!طبع زمانہ تازہ کر جلوۂ بے حجاب سے!تیری نظر میں ہیں تمام میرے گزشتہ روز و شبمجھ کو خبر نہ تھی کہ ہے علم تخیل بے رطب!تازہ مرے ضمیر میں معرکۂ کہن ہوا!عشق تمام مصطفی! عقل تمام بو لہب!گاہ بحیلہ می برد، گاہ بزور می کشدعشق کی ابتدا عجب عشق کی انتہا عجب!عالم سوز و ساز میں وصل سے بڑھ کے ہے فراقوصل میں مرگ آرزو! ہجر میں لذت طلب!عین وصال میں مجھے حوصلۂ نظر نہ تھاگرچہ بہانہ جو رہی میری نگاہ بے ادب!گرمئ آرزو فراق! شورش ہائے و ہو فراق!موج کی جستجو فراق! قطرہ کی آبرو فراق!
شہر کے گوشوں میں ہیں بکھرے ہوئےپا شکستہ سر بریدہ خوابجن سے شہر والے بے خبر!گھومتا ہوں شہر کے گوشوں میں روز و شبکہ ان کو جمع کر لوںدل کی بھٹی میں تپاؤںجس سے چھٹ جائے پرانا میلان کے دست و پا پھر سے ابھر آئیںچمک اٹھیں لب و رخسار و گردنجیسے نو آراستہ دولہوں کے دل کی حسرتیںپھر سے ان خوابوں کو سمت رہ ملے!
زمانہ آیا ہے بے حجابی کا عام دیدار یار ہوگاسکوت تھا پردہ دار جس کا وہ راز اب آشکار ہوگاگزر گیا اب وہ دور ساقی کہ چھپ کے پیتے تھے پینے والےبنے گا سارا جہان مے خانہ ہر کوئی بادہ خوار ہوگاکبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گےبرہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خارزار ہوگاسنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخرجو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگانکل کے صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کو الٹ دیا تھاسنا ہے یہ قدسیوں سے میں نے وہ شیر پھر ہوشیار ہوگاکیا مرا تذکرہ جو ساقی نے بادہ خواروں کی انجمن میںتو پیر مے خانہ سن کے کہنے لگا کہ منہ پھٹ ہے خوار ہوگادیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہےکھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگاتمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گیجو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگاسفینۂ برگ گل بنا لے گا قافلہ مور ناتواں کاہزار موجوں کی ہو کشاکش مگر یہ دریا سے پار ہوگاچمن میں لالہ دکھاتا پھرتا ہے داغ اپنا کلی کلی کویہ جانتا ہے کہ اس دکھاوے سے دل جلوں میں شمار ہوگاجو ایک تھا اے نگاہ تو نے ہزار کر کے ہمیں دکھایایہی اگر کیفیت ہے تیری تو پھر کسے اعتبار ہوگاکہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیںتو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگاخدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارےمیں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہوگایہ رسم بزم فنا ہے اے دل گناہ ہے جنبش نظر بھیرہے گی کیا آبرو ہماری جو تو یہاں بے قرار ہوگامیں ظلمت شب میں لے کے نکلوں گا اپنے در ماندہ کارواں کوشرر فشاں ہوگی آہ میری نفس مرا شعلہ بار ہوگانہیں ہے غیر از نمود کچھ بھی جو مدعا تیری زندگی کاتو اک نفس میں جہاں سے مٹنا تجھے مثال شرار ہوگانہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانا ابھی وہی کیفیت ہے اس کیکہیں سر راہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا
فکر انساں پر تری ہستی سے یہ روشن ہواہے پر مرغ تخیل کی رسائی تا کجاتھا سراپا روح تو بزم سخن پیکر ترازیب محفل بھی رہا محفل سے پنہاں بھی رہادید تیری آنکھ کو اس حسن کی منظور ہےبن کے سوز زندگی ہر شے میں جو مستور ہےمحفل ہستی تری بربط سے ہے سرمایہ دارجس طرح ندی کے نغموں سے سکوت کوہسارتیرے فردوس تخیل سے ہے قدرت کی بہارتیری کشت فکر سے اگتے ہیں عالم سبزہ وارزندگی مضمر ہے تیری شوخی تحریر میںتاب گویائی سے جنبش ہے لب تصویر میںنطق کو سو ناز ہیں تیرے لب اعجاز پرمحو حیرت ہے ثریا رفعت پرواز پرشاہد مضموں تصدق ہے ترے انداز پرخندہ زن ہے غنچۂ دلی گل شیراز پرآہ تو اجڑی ہوئی دلی میں آرامیدہ ہےگلشن ویمر میں تیرا ہم نوا خوابیدہ ہےلطف گویائی میں تیری ہم سری ممکن نہیںہو تخیل کا نہ جب تک فکر کامل ہم نشیںہائے اب کیا ہو گئی ہندوستاں کی سر زمیںآہ اے نظارہ آموز نگاہ نکتہ بیںگیسوئے اردو ابھی منت پزیر شانہ ہےشمع یہ سودائی دل سوزئ پروانہ ہےاے جہان آباد اے گہوارۂ علم و ہنرہیں سراپا نالۂ خاموش تیرے بام درذرے ذرے میں ترے خوابیدہ ہیں شمس و قمریوں تو پوشیدہ ہیں تیری خاک میں لاکھوں گہردفن تجھ میں کوئی فخر روزگار ایسا بھی ہےتجھ میں پنہاں کوئی موتی آبدار ایسا بھی ہے
سرشار نگاہ نرگس ہوں پا بستۂ گیسوئے سنبل ہوںیہ میرا چمن ہے میرا چمن میں اپنے چمن کا بلبل ہوںہر آن یہاں صہبائے کہن اک ساغر نو میں ڈھلتی ہےکلیوں سے حسن ٹپکتا ہے پھولوں سے جوانی ابلتی ہےجو طاق حرم میں روشن ہے وہ شمع یہاں بھی جلتی ہےاس دشت کے گوشے گوشے سے اک جوئے حیات ابلتی ہےاسلام کے اس بت خانے میں اصنام بھی ہیں اور آذر بھیتہذیب کے اس مے خانے میں شمشیر بھی ہے اور ساغر بھییاں حسن کی برق چمکتی ہے یاں نور کی بارش ہوتی ہےہر آہ یہاں اک نغمہ ہے ہر اشک یہاں اک موتی ہےہر شام ہے شام مصر یہاں ہر شب ہے شب شیراز یہاںہے سارے جہاں کا سوز یہاں اور سارے جہاں کا ساز یہاںیہ دشت جنوں دیوانوں کا یہ بزم وفا پروانوں کییہ شہر طرب رومانوں کا یہ خلد بریں ارمانوں کیفطرت نے سکھائی ہے ہم کو افتاد یہاں پرواز یہاںگائے ہیں وفا کے گیت یہاں چھیڑا ہے جنوں کا ساز یہاںاس فرش سے ہم نے اڑ اڑ کر افلاک کے تارے توڑے ہیںناہید سے کی ہے سرگوشی پروین سے رشتے جوڑے ہیںاس بزم میں تیغیں کھینچی ہیں اس بزم میں ساغر توڑے ہیںاس بزم میں آنکھ بچھائی ہے اس بزم میں دل تک جوڑے ہیںاس بزم میں نیزے پھینکے ہیں اس بزم میں خنجر چومے ہیںاس بزم میں گر کر تڑپے ہیں اس بزم میں پی کر جھومے ہیںآ آ کے ہزاروں بار یہاں خود آگ بھی ہم نے لگائی ہےپھر سارے جہاں نے دیکھا ہے یہ آگ ہمیں نے بجھائی ہےیاں ہم نے کمندیں ڈالی ہیں یاں ہم نے شب خوں مارے ہیںیاں ہم نے قبائیں نوچی ہیں یاں ہم نے تاج اتارے ہیںہر آہ ہے خود تاثیر یہاں ہر خواب ہے خود تعبیر یہاںتدبیر کے پائے سنگیں پر جھک جاتی ہے تقدیر یہاںذرات کا بوسہ لینے کو سو بار جھکا آکاش یہاںخود آنکھ سے ہم نے دیکھی ہے باطل کی شکست فاش یہاںاس گل کدۂ پارینہ میں پھر آگ بھڑکنے والی ہےپھر ابر گرجنے والے ہیں پھر برق کڑکنے والی ہےجو ابر یہاں سے اٹھے گا وہ سارے جہاں پر برسے گاہر جوئے رواں پر برسے گا ہر کوہ گراں پر برسے گاہر سرو و سمن پر برسے گا ہر دشت و دمن پر برسے گاخود اپنے چمن پر برسے گا غیروں کے چمن پر برسے گاہر شہر طرب پر گرجے گا ہر قصر طرب پر کڑکے گایہ ابر ہمیشہ برسا ہے یہ ابر ہمیشہ برسے گا
او دیس سے آنے والے بتاکیا آم کے اونچے پیڑوں پراب بھی وہ پپیہے بولتے ہیںشاخوں کے حریری پردوں میںنغموں کے خزانے گھولتے ہیںساون کے رسیلے گیتوں سےتالاب میں امرس گھولتے ہیںاو دیس سے آنے والے بتا
اس نے اتنی کتابیں چاٹ ڈالیںکہ اس کی عورت کے پیر کاغذ کی طرح ہو گئےوہ روز کاغذ پہ اپنا چہرہ لکھتا اور گندہ ہوتااس کی عورت جو خاموشی کاڑھے بیٹھی تھیکاغذوں کے بھونکنے پر سارتر کے پاس گئیتم راںؔ بو اور فرائڈؔ سے بھی مل آئے ہو کیاسیفوؔ میری سیفوؔ میرابائیؔ کی طرح مت بولومیں سمجھ گئی اب اس کی آنکھیںکیٹسؔ کی آنکھیں ہوئی جاتی ہیںمیں جو سوہنی کا گھڑا اٹھائے ہوئے تھیاپنا نام لیلیٰ بتا چکی تھیمیں نے کہالیلیٰ مجمع کی باتیں میرے سامنے مت دہرایا کروتنہائی بھی کوئی چیز ہوتی ہےشیکسپئیر کے ڈراموں سے چن چن کر اس نے ٹھمکے لگائےمجھے تنہا دیکھ کرسارتر فرائڈؔ کے کمرے میں چلا گیاوہ اپنی تھیوری سے گر گر پڑتامیں سمجھ گئی اس کی کتاب کتنی ہےلیکن بہر حال سارتر تھااور کل کو مجمع میں بھی ملنا تھامیں نے بھیڑ کی طرف اشارہ کیا تو بولااتنے سارے سارتروں سے مل کر تمہیں کیا کرنا ہےاگر زیادہ ضد کرتی ہو تو اپنے وارث شاہؔہیر سیال کے کمروں میں چلے چلتے ہیںسارتر سے استعارہ ملتے ہیمیں نے ایک تنقیدی نشست رکھیمیں نے آدھا کمرہ بھی بڑی مشکل سے حاصل کیا تھاسو پہلے آدھے فرائڈؔ کو بلایاپھر آدھے راںؔ بو کو بلایاآدھی آدھی بات پوچھنی شروع کیجان ڈنؔ کیا کر رہا ہےسیکنڈ ہینڈ شاعروں سے نجات چاہتا ہےچوروں سے سخت نالاں ہےدانتےؔ اس وقت کہاں ہےوہ جہنم سے بھی فرار ہو چکا ہےاس کو شبہ تھاوہ خواجہ سراؤں سے زیادہ دیر مقابلہ نہیں کر سکتااپنے پس منظر میںایک کتا مسلسل بھونکنے کے لیے چھوڑ گیا ہےاس کتے کی خصلت کیا ہےبیاترؔچے کی یاد میں بھونک رہا ہےتمہارا تصور کیا کہتا ہےسارتروں کی تصور کے لحاظ سےاب اس کا رخ گوئٹےؔ کے گھر کی طرف ہو گیا ہے
اے دیکھنے والواس حسن کو دیکھواس راز کو سمجھویہ نقش خیالییہ فکرت عالییہ پیکر تنویریہ کرشن کی تصویرمعنی ہے کہ صورتصنعت ہے کہ فطرتظاہر ہے کہ مستورنزدیک ہے یا دوریہ نار ہے یا نوردنیا سے نرالایہ بانسری والاگوکل کا گوالاہے سحر کہ اعجازکھلتا ہی نہیں رازکیا شان ہے واللہکیا آن ہے واللہحیران ہوں کیا ہےاک شان خدا ہےبت خانے کے اندرخود حسن کا بت گربت بن گیا آ کروہ طرفہ نظارےیاد آ گئے سارےجمنا کے کنارےسبزے کا لہکناپھولوں کا مہکناگھنگھور گھٹائیںسرمست ہوائیںمعصوم امنگیںالفت کی ترنگیںوہ گوپیوں کے ساتھہاتھوں میں دیئے ہاتھرقصاں ہوا برج ناتھبنسی میں جو لے ہےنشہ ہے نہ مے ہےکچھ اور ہی شے ہےاک روح ہے رقصاںاک کیف ہے لرزاںایک عقل ہے مے نوشاک ہوش ہے مدہوشاک خندہ ہے سیالاک گریہ ہے خوش حالاک عشق ہے مغروراک حسن ہے مجبوراک سحر ہے مسحوردربار میں تنہالاچار ہے کرشناآ شیام ادھر آسب اہل خصومتہیں در پئے عزتیہ راج دلارےبزدل ہوئے سارےپردہ نہ ہو تاراجبیکس کی رہے لاجآ جا میرے کالےبھارت کے اجالےدامن میں چھپا لےوہ ہو گئی ان بنوہ گرم ہوا رنغالب ہے دریودھنوہ آ گئے جگدیشوہ مٹ گئی تشویشارجن کو بلایااپدیش سنایاغم زاد کا غم کیااستاد کا غم کیالو ہو گئی تدبیرلو بن گئی تقدیرلو چل گئی شمشیرسیرت ہے عدو سوزصورت نظر افروزدل کیفیت اندوزغصے میں جو آ جائےبجلی ہی گرا جائےاور لطف پر آئےتو گھر بھی لٹا جائےپریوں میں ہے گلفامرادھا کے لیے شیامبلرام کا بھیامتھرا کا بسیابندرا میں کنھیابن ہو گئے ویراںبرباد گلستاںسکھیاں ہیں پریشاںجمنا کا کناراسنسان ہے ساراطوفان ہیں خاموشموجوں میں نہیں جوشلو تجھ سے لگی ہےحسرت ہی یہی ہےاے ہند کے راجااک بار پھر آ جادکھ درد مٹا جاابر اور ہوا سےبلبل کی صدا سےپھولوں کی ضیا سےجادو اثری گمشوریدہ سری گمہاں تیری جدائیمتھرا کو نہ بھائیتو آئے تو شان آئےتو آئے تو جان آئےآنا نہ اکیلےہوں ساتھ وہ میلےسکھیوں کے جھمیلے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books