aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "gul-e-ruKHsaar"
اک نئی صبح درخشاں کا روپہلا آنچلاپنے ہم راہ لئے عزم جواں کی تنویرساقیٔ وقت کے رخسار پہ لہرایا ہےیہ ہے تاریک فضاؤں میں اجالے کی لکیر
قمریاں میٹھے سروں کے ساز لے کر آ گئیںبلبلیں مل جل کے آزادی کے گن گانے لگیںگل سے اپنی نسبت دیرینہ کی کھا کر قسماہل دل کو عشق کے انداز سمجھانے لگیں
رات کے پر کیف سناٹے میں بنسی کی صداچاندنی کے سیم گوں شانے پہ لہراتی ہوئیگونجتی بڑھتی لرزتی کوہساروں کے قریبپھیلتی میداں میں پگڈنڈی پہ بل کھاتی ہوئیآ رہی ہے اس طرح جیسے کسی کی یاد آئےنیند میں ڈوبی ہوئی پلکوں کو اکساتی ہوئی
تجھ سے جو میں نے پیار کیا ہے تیرے لیے؟ نہیں اپنے لیےوقت کی بے عنوان کہانی کب تک بے عنوان رہےاے مرے سوچ نگر کی رانی اے مرے خلد خیال کی حوراتنے دنوں جو میں گھلتا رہا ہوں تیرے بنا یونہی دور ہی دورسوچ تو کیا پھل مجھ کو ملا میں من سے گیا پھر تن سے گیاشہر وطن میں اجنبی ٹھہرا آخر شہر وطن سے گیاروح کی پیاس بجھانی تھی پر یہاں ہونٹوں کی پیاس بھی بجھ نہ سکیبچتے سنبھلتے بھی ایک سلگتا روگ بنی مرے جی کی لگیدور کی بات نہ سوچ ابھی مرے ہات میں تو ذرا ہات تو دےتجھ سے جو میں نے پیار کیا ہے تیرے لیے؟ نہیں اپنے لیےباغ میں ہے اک بیلے کا تختہ بھینی ہے اس بیلے کی سگندھاے کلیو کیوں اتنے دنوں تم رکھے رہیں اسے گود میں بندکتنے ہی ہم سے روپ کے رسیا آئے یہاں اور چل بھی دیئےتم ہو کہ اتنے حسن کے ہوتے ایک نہ دامن تھام سکےصحن چمن پر بھونروں کے بادل ایک ہی پل کو چھائیں گےپھر نہ وہ جا کر لوٹ سکیں گے پھر نہ وہ جا کر آئیں گےاے مرے سوچ نگر کی رانی وقت کی باتیں رنگ اور بوہر کوئی ساتھ کسی کا ڈھونڈے گل ہوں کہ بیلے میں ہوں کہ توجو کچھ کہنا ہے ابھی کہہ لے جو کچھ سننا ہے سن لےتجھ سے جو میں نے پیار کیا ہے تیرے لیے؟ نہیں اپنے لیے
خواب گراں سے غنچوں کی آنکھیں نہ کھل سکیںگو شاخ گل سے نغمہ برابر اٹھا کیا
کیوں شام کا آنچل میلا ہےہر سمت دھواں سا پھیلا ہےمعدوم ہوئے آثار سبھیکلیوں کی چنچل آنکھیںجھکی جھکی سی موندے پلکیںگل بدن سر نگوں ہو گئےخوشبو بھی اڑیاور گیسوئے شب میں جا الجھی
دیکھ کبھی تو موسم گل کوپت جھڑ کی آوازوں میںاور کبھی تو پربت بن جااور کبھی بہہ ساگر میںصحراؤں میں تنہا چلاور ہنستا جا گلزاروں میںپتھر سے اگا لے پھولوں کوخاروں میں شیرینی بھر دےروتی شبنم ڈھلتا سورجسانجھ کی سندر بیلا بھیصبح کا تارا چاند کا ہالہہر موسم البیلا بھی
زندگی لطف بھی ہے زندگی آزار بھی ہےساز و آہنگ بھی زنجیر کی جھنکار بھی ہےزندگی دید بھی ہے حسرت دیدار بھی ہےزہر بھی آب حیات لب و رخسار بھی ہےزندگی خار بھی ہے زندگی دار بھی ہےآج کی رات نہ جا
دن میں یہ ملگجے کپڑوں میں نظر آتی ہےرات میں کرتی ہے آرائش زلف و رخساردن میں رہتی ہے یہ ناظورۂ گل پردے میںرات کے وقت دکھاتی ہے جوانی کی بہار
عشق نظارہ و دیدار سے آگے کی ہے باتعشق چشم و لب و رخسار سے آگے کی ہے باتعشق بام و در و دیوار سے آگے کی ہے بات
باقی ہے لہو دل میں تو ہر اشک سے پیدارنگ لب و رخسار صنم کرتے رہیں گے
سر رہ گزر خواب سا اک مکاںکچھ دنوں سے مرا راستہ روکتا ہےکسی نے یہاںایسے لہجے کی جھنکار لا کر سجا دی ہے جس طرح تم بولتی ہوشکستہ کواڑوں سے چھنتے ہوئےقامت و زلف و رخسار سب کچھ تمہاری طرح ہے
تجلیٔ رخسار اور نا دمیدہکوئی اور شے ہے یہ عصمت نہیں ہے
پھر مرے لب پر قصیدے ہیں لب و رخسار کےپھر کسی چہرے پہ تابانی سی تابانی ہے آج
آؤ کہ مرگ سوز محبت منائیں ہمآؤ کہ حسن ماہ سے دل کو جلائیں ہمخوش ہوں فراق قامت و رخسار یار سےسرو و گل و سمن سے نظر کو ستائیں ہمویرانی حیات کو ویران تر کریںلے ناصح آج تیرا کہا مان جائیں ہمپھر اوٹ لے کے دامن ابر بہار کیدل کو منائیں ہم کبھی آنسو بہائیں ہمسلجھائیں بے دلی سے یہ الجھے ہوئے سوالواں جائیں یا نہ جائیں نہ جائیں کہ جائیں ہمپھر دل کو پاس ضبط کی تلقین کر چکیںاور امتحان ضبط سے پھر جی چرائیں ہمآؤ کہ آج ختم ہوئی داستان عشقاب ختم عاشقی کے فسانے سنائیں ہم
تم نہیں آئے تھے جب تب بھی تو موجود تھے تمآنکھ میں نور کی اور دل میں لہو کی صورتدرد کی لو کی طرح پیار کی خوشبو کی طرحبے وفا وعدوں کی دل داری کا انداز لیےتم نہیں آئے تھے جب تب بھی تو تم آئے تھےرات کے سینے میں مہتاب کے خنجر کی طرحصبح کے ہاتھ میں خورشید کے ساغر کی طرحشاخ خوں رنگ تمنا میں گل تر کی طرحتم نہیں آؤ گے جب تب بھی تو تم آؤ گےیاد کی طرح دھڑکتے ہوئے دل کی صورتغم کے پیمانۂ سر شار کو چھلکاتے ہوئےبرگ ہائے لب و رخسار کو مہکاتے ہوئےدل کے بجھتے ہوئے انگارے کو دہکاتے ہوئےزلف در زلف بکھر جائے گا پھر رات کا رنگشب تنہائی میں بھی لطف ملاقات کا رنگروز لائے گی صبا کوئے صباحت سے پیامروز گائے گی سحر تہنیت جشن فراقآؤ آنے کی کریں باتیں کہ تم آئے ہواب تم آئے ہو تو میں کون سی شے نذر کروکہ مرے پاس بجز مہر و وفا کچھ بھی نہیںایک خوں گشتہ تمنا کے سوا کچھ بھی نہیں
عکس نقاب زینت رخسار ہو گیازیور جو سیم کا تھا طلا کار ہو گیا
حیدرآباد جسے شہر نگاراں کہیےرنگ رخسار سحر حسن بہاراں کہیے
تمہارا ہاتھ بڑھا ہے جو دوستی کے لیےمرے لیے ہے وہ اک یار غم گسار کا ہاتھوہ ہاتھ شاخ گل گلشن تمنا ہےمہک رہا ہے مرے ہاتھ میں بہار کا ہاتھ
ہزاروں دوانے تری راہ میںسر کٹانے کو تیار بیٹھے ہوئے ہیںتیری زلفوں کی ہلکی سی جنبش پہیہ رات کی تیرگیکہکشاؤں کی جھرمٹفلک در فلک اور جہاں در جہاںعالم وجد میں آ گئے ہیںتیری آنکھوں کی مستی کے آگےاہل مشرق و مغرب کے سب میکدےپھیکے پڑے ہیںتیری ہونٹوں کی لالی کی بس اک جھلک دیکھ کرگل و لالہ و یاسمن و نرگس و حناباغ کے ایک گوشے میں حیرت سے مرجھا گئیں ہیںیہ سب ٹھیک ہیں اور بجا ہےمگر ایک عاشق سوختہ بختسوختہ دل لیےاپنے کمرے کے کونے میںچپ چاپ تیری جدائی میں نوحہ کناں ہےوہ عاشق درد کی چارپائی پہ لیٹا ہواموت اور زندگی سے الجھتا ہوارات بھر جاگتا ہےتجھے کچھ خبر ہےوہ عاشقتری ایک بس ایکچشم کرم سے شفا یاب ہو گا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books