aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "gul-e-tar"
اے گل تر کس قدر دل کش ہے نظارہ تراحامل حسن ازل ہے قلب سی پارہ تراپتی پتی میں تری پیش نگاہ عارفاںلے رہا ہے اک جہان رنگ و بو انگڑائیاںفاش تیری دید سے ہے چشم بینا پر یہ رازجلوہ گر ہے آئینے کے بھیس میں آئینہ سازفرش کے رنگیں صحیفے گلشن فانی کے پھولجاں فزا ہے عرش دل پر یہ تری شان نزوللیکن اس دنیا میں حسن چند روزہ کا مآلبڑھ رہا ہے تیری جانب لے کے پیغام زوالمنتشر ہوں گے یہ اوراق کتاب رنگ و بوچاک کر دے گی خزاں آخر نقاب رنگ و بوزیب سر کر کے تجھے ارماں نکالا جائے گاپاؤں کے نیچے پھر اک دن روند ڈالا جائے گا
دوستو آج مخدوم ہم میں نہیںہاں وہی تھا جو اک نامور رہنماجو غریبوں کا ہمدرد تھااور محنت کشوں سے جسے پیار تھاہاں وہی جو پسندیدہ شاعر بھی تھاجس کی نظموں میں تھا فکر کا بانکپنجس کی غزلیں تغزل سے بھرپور تھیںجس کو مشرق میں شہرت ملیجس کو مغرب میں عزت ملیجس کو اپنے وطن میں محبت ملیمسجدوں نے صدا دی جسےمندروں نے دعا دی جسےمحفل شعر تھی جس کے دم سے جواںلے رہی تھی نیا موڑ اردو زباںیک بیک حشر سا اک بپا ہو گیااور مخدوم ہم سے جدا ہو گیامٹ گیا ایک دور اک صدی لٹ گئیآج مخدوم ہم میں نہیں دوستواب کہاں آئے گی بات مخدوم کیہے سویرا مگر اس میں سرخی نہیںہے گلستاں مگر وہ گل تر نہیںاب سہارا ہے اک یاد مخدوم کاآؤ سب ساتھ مل کر چلیں دوستواک چنبیلی کے منڈوے تلےمیکدے سے ذرا دور اس موڑ پربیٹھ کر دیر تک یاد مخدوم میںآنسوؤں کا منائیں گے اک جشن ہم
بہار حسن جواں مرگ صورت گل ترمثال خار مگر عمر درد عشق درازوہ ودیاپتی کی شاعری کیمعصوم و حسین و شوخ رادھاوہ اپنے خیال کا کنہیاان شہروں میں ڈھونڈنے گئی تھیدستور تھا جن کا سنگ باری
یا باغ میں کھلتا ہے دم صبح گل ترکیا کیا اسے ہوتے نہیں اعزاز میسربنتا ہے عروسان جہاں کے لیے زیوردستار میں نوشہ کے رہا کرتا ہے اکثرلیکن نہ کسی وضع پر اس ڈھنگ سے دیکھابیکس کی لحد پر اسے جس رنگ سے دیکھا
قصر توحید کا اک برج منور تو ہےگلشن حق کے لئے بوئے گل تر تو ہے
مٹا دو بغض و کینہ فتنہ و شروہ غنچہ ہو کہ کانٹا یا گل تربرابر سب کا حق ہے گلستاں پر
راستے پر کئی خورشید نئے جل اٹھےروشنی دیکھیے تا حد نظر پھیل گئیآسمانوں کو زمینوں کو نئے رنگ ملےاور فضا نکہت و رعنائی سے معمور ہوئی
قمریاں میٹھے سروں کے ساز لے کر آ گئیںبلبلیں مل جل کے آزادی کے گن گانے لگیںگل سے اپنی نسبت دیرینہ کی کھا کر قسماہل دل کو عشق کے انداز سمجھانے لگیں
مجھے نہ توڑو کہ میں گل تر سہیمگر اوس کے بجائے لہو میں تر ہوںمجھے نہ مارومیں زندگی کے جمال اور گہماگہمیوں کا پیامبر ہوںمجھے بچاؤ کہ میں زمیں ہوںکروڑوں کروڑوں کی کائنات بسیط میں صرف میں ہی ہوںجو خدا کا گھر ہوں
اپنی ہستی کو نہ سمجھا جو وہ انساں ہوں میںکون ہوں کیا ہوں اسے سوچ کے حیراں ہوں میںہوں گل تر کوئی یا خار مغیلاں ہوں میںدرد سر ہوں کہ کسی درد کا درماں ہوں میںراز ہوں دیدۂ ادراک سے پنہاں ہوں میں
تجھ سے جو میں نے پیار کیا ہے تیرے لیے؟ نہیں اپنے لیےوقت کی بے عنوان کہانی کب تک بے عنوان رہےاے مرے سوچ نگر کی رانی اے مرے خلد خیال کی حوراتنے دنوں جو میں گھلتا رہا ہوں تیرے بنا یونہی دور ہی دورسوچ تو کیا پھل مجھ کو ملا میں من سے گیا پھر تن سے گیاشہر وطن میں اجنبی ٹھہرا آخر شہر وطن سے گیاروح کی پیاس بجھانی تھی پر یہاں ہونٹوں کی پیاس بھی بجھ نہ سکیبچتے سنبھلتے بھی ایک سلگتا روگ بنی مرے جی کی لگیدور کی بات نہ سوچ ابھی مرے ہات میں تو ذرا ہات تو دےتجھ سے جو میں نے پیار کیا ہے تیرے لیے؟ نہیں اپنے لیےباغ میں ہے اک بیلے کا تختہ بھینی ہے اس بیلے کی سگندھاے کلیو کیوں اتنے دنوں تم رکھے رہیں اسے گود میں بندکتنے ہی ہم سے روپ کے رسیا آئے یہاں اور چل بھی دیئےتم ہو کہ اتنے حسن کے ہوتے ایک نہ دامن تھام سکےصحن چمن پر بھونروں کے بادل ایک ہی پل کو چھائیں گےپھر نہ وہ جا کر لوٹ سکیں گے پھر نہ وہ جا کر آئیں گےاے مرے سوچ نگر کی رانی وقت کی باتیں رنگ اور بوہر کوئی ساتھ کسی کا ڈھونڈے گل ہوں کہ بیلے میں ہوں کہ توجو کچھ کہنا ہے ابھی کہہ لے جو کچھ سننا ہے سن لےتجھ سے جو میں نے پیار کیا ہے تیرے لیے؟ نہیں اپنے لیے
تہ نجوم، کہیں چاندنی کے دامن میںہجوم شوق سے اک دل ہے بے قرار ابھیخمار خواب سے لبریز احمریں آنکھیںسفید رخ پہ پریشان عنبریں آنکھیںچھلک رہی ہے جوانی ہر اک بن مو سےرواں ہو برگ گل تر سے جیسے سیل شمیمضیائے مہ میں دمکتا ہے رنگ پیراہنادائے عجز سے آنچل اڑا رہی ہے نسیمدراز قد کی لچک سے گداز پیدا ہےادائے ناز سے رنگ نیاز پیدا ہےاداس آنکھوں میں خاموش التجائیں ہیںدل حزیں میں کئی جاں بلب دعائیں ہیںتہ نجوم کہیں چاندنی کے دامن میںکسی کا حسن ہے مصروف انتظار ابھیکہیں خیال کے آباد کردہ گلشن میںہے ایک گل کہ ہے نا واقف بہار ابھی
نہ جانے اس لمحۂ گریزاں کے تنگ دامن میں کتنی صدیاں سمٹ گئی تھیںنہ جانے میری نظر میں کتنے نئے افق جگمگائےکتنے ہی چاند سورج ابھر کے ڈوبےنہ جانے وہ کون سا جہاں تھازمیں کہ پاؤں تلے کوئی فرش زر ہو جیسےفلک کہ سر پر ردائے آب گہر ہو جیسےفضا منورہوا معطرنفس نفس میں بسی ہوئی نکہت گل ترخلاؤں میں مشتری و زہرہ کا رقص جاریتمام عالم پہ ہلکا ہلکا سرور طارینہ جانے میں کس خیال میں گمکس ابر پارے پہ اڑ رہا تھاغرور سے سر بلند کر کے ہر اک ستارے کو دیکھتا تھاکہ ایک دل دوز چیخ گونجی فضا کی خاموش وسعتوں میںمیں چونک اٹھاپلٹ کے دیکھاگلی سے اک ہڈیوں کا ڈھانچہ گزر رہا تھاجو چیخ کر ایک اک سے کہتا تھا ''ایک روٹیخدا تمہارا بھلا کرے گا''
خواب گراں سے غنچوں کی آنکھیں نہ کھل سکیںگو شاخ گل سے نغمہ برابر اٹھا کیا
کیوں شام کا آنچل میلا ہےہر سمت دھواں سا پھیلا ہےمعدوم ہوئے آثار سبھیکلیوں کی چنچل آنکھیںجھکی جھکی سی موندے پلکیںگل بدن سر نگوں ہو گئےخوشبو بھی اڑیاور گیسوئے شب میں جا الجھی
دیکھ کبھی تو موسم گل کوپت جھڑ کی آوازوں میںاور کبھی تو پربت بن جااور کبھی بہہ ساگر میںصحراؤں میں تنہا چلاور ہنستا جا گلزاروں میںپتھر سے اگا لے پھولوں کوخاروں میں شیرینی بھر دےروتی شبنم ڈھلتا سورجسانجھ کی سندر بیلا بھیصبح کا تارا چاند کا ہالہہر موسم البیلا بھی
مری زلفیں نہیں کالی گھٹا ہیںمری پیشانی ہے مہتاب جیسیمری آنکھیں کنول کی پنکھڑی ہیںمرے لب ہیں گلابوں سے مشابہمرے گالوں میں ہے لالی شفق کیمری گردن صراحی دار دیکھومری باہیں ہیں مثل شاخ صندلبدن میرا ہے لالہ زار دیکھواداؤں میں مری جادوگری ہےمری ہستی مکمل شاعری ہےہوس کے مارو میں بازار میں ہوںگل تر ہوں پہ نوک خار میں ہوںمرے حسن و جوانی کے مناسبلگاؤ دام اور مجھ کو خریدوکہ ہر صورت ادا کرنا ہے مجھ کوکسی بیوی کی لاچاری کا قرضہکسی شوہر کی بیماری کا قرضہ
وہ پھیلنا خوشبو کا وہ کلیوں کا چٹکناوہ چاندنی مدھم وہ سمندر کا جھلکناوہ چھاؤں میں تاروں کی گل تر کا مہکناوہ جھومنا سبزہ کا وہ کھیتوں کا لہکنا
اے قلم کیا کہوں میں سحر بیانی تیریحال دل اپنا سناتا ہوں زبانی تیریتو کھلاتا ہے نئے گل جو رواں ہوتا ہےرنگ یہ شاخ گل تر میں کہاں ہوتا ہےتیری آواز ہے کانوں کو صریر دل کشسو ترانوں سے ہے بہتر یہ نفیر دل کشاک جہاں پر ہے تسلط ترا قبضہ تیراہر زمانے میں چلا کرتا ہے سکہ تیراذوق ہے جن کو سمجھتے ہیں وہ توقیر تیریچٹکیاں دل میں لیا کرتی ہے تحریر تیریبڑھ کے اعجاز سے ہے سحر نگاری تیرینقش دل کش میں ترے شکل ہے پیاری تیریکبھی دو لفظوں میں روتوں کو ہنسا دیتا ہےہنسنے والوں کو کبھی تو ہی رلا دیتا ہےہم نے بچتے نہ سنا ایک بھی مارا تیراجو ہے تلوار وہ ہے مانتی لوہا تیراتیری رفتار سے دل وقف الم ہوتے ہیںتیری جنبش سے سر اکثر کے قلم ہوتے ہیںبھیجتا ہے کبھی پیغام محبت تو ہیدل مغموم کو ہے باعث حجت تو ہیدشمن جان حزیں عیسیٰ دوراں تو ہےسم قاتل ہے کبھی چشمۂ حیواں تو ہےکوئی کس طرح کہے آج سے کل سے تو ہےسب کو تسلیم یہ ہے روز ازل سے تو ہےختم تا حشر نہیں ہوگا کبھی کام تیراصفحۂ دہر سے مٹنے کا نہیں نام تیراجتنی دنیا میں کتابیں ہیں رقم کیں تو نےجلوہ افروز نظر پیارے قلم کیں تو نےتیری جنبش کا نتیجہ ہیں یہ دفتر لاکھوںنقش خوش رنگ کے ممنون ہیں پتھر لاکھوںتیرا لکھا ہوا میرا خط تقدیر بھی ہےکیا کہوں لوح جبیں پر تری تحریر بھی ہےدو جہاں میں ہے لقب خامۂ قدرت تیرااللہ اللہ یہ ہے پایۂ رفعت تیراتیری ممنون مری سینکڑوں تحریریں ہیںتیری کھینچی ہوئی خوش رنگ وہ تصویریں ہیںاے قلم رشتۂ الفت ترا ٹوٹے نہ کبھیہاتھ سے باسطؔ رنجور کے چھوٹے نہ کبھی
اے مرے دوست! مرے غم کے پرکھنے والےبس چلے میرا تو لا دوں تجھے روح گل تربخش دوں اپنی تڑپ، اپنا جنوں اپنی نظرپھر تجھے اپنے شب و روز کا عالم دکھلاؤںہر تبسم میں تجھے شائبہ غم دکھلاؤںخون ناحق پہ جو ہوتا ہے وہ ماتم دکھلاؤںپرتو خور سے جو بے جاں ہے وہ شبنم دکھلاؤںتجھ کو دکھلاؤں کہ بے رنگ ہے کس درجہ سحر
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books