aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "halq-e-husain"
وہ جو تجھ سے پہلے کا ذکر تھاوہ جو تجھ سے پہلے کی راہ تھیکہیں صبح ذات لٹی ہوئیکہیں شام عشق بجھی ہوئیکہیں دوپہر رہ ماندگاں پہ تنی ہوئیکہیں چاند پچھلے وصال کےکہیں مہر صبح کمال کےکہیں زلف وصل مزاج پر تہ گرد ہجر جمی ہوئیکہیں آس تھی کہیں پیاس تھیکہیں خشک حلق میں تیر تھاکہیں سائبان جلا ہوا کہیں بادبان میں چھید تھا
اپنی مٹی ہے مقدسجیسے ممتا کا تقدسخون کا اک ایک قطرہ دے کے بھیاس کی رکھوالی مقدمشان مومنعزم پیہمموجزن ہو روح روحجوش ایمان حسین
نیند پلکوں کے سائباں میں نہیںطائر خواب کر گیا پروازوادیٔ چشم کے افق سے پرےآنکھ محو تصورات حسینایک ہلچل سی ذہن و دل میں مچیاور نظر اک مقام ٹکتی نہیںخوشبوؤں کے حصار گردش میںہے سماعت کچھ اس قدر حساسآنکھ کی پتلیوں کے تھامے ہاتھدوڑتی ہے ادھر سے اس جانبایک لمحہ اسے قرار نہیںایک منظر پہ اعتبار نہیں
میں تیرے بہتر ساتھیوں میں نہیں تھامجھے تو عشق نے منتخب کیا تھاایک وحشت ناک بھیڑ تھی میرے ارد گردمگر میں اس بھیڑ میں ہوتے ہوئے بھیکسی وحشت کا حصہ نہ تھامیں تو تنہا تھااہل حکم کے نزدیک تو ایک باغی تھااور وہ تمام ہجوم جو فقط ہجوم تھابے چہرہ بے کردار بے ذہن فقط ہجومجو اپنی غلط ضرورتوں کی خاطروہی کہتے جو اہل حکم کہتے وہی سنتے جو انہیں سنایا جاتاوہی دیکھتے جو انہیں دکھا جاتاسوئے حسین ابن علیتم باغی ٹھہرےمیں اس ہجوم کا حصہ نہیں تھامگر تم تک آنے کے لئے مجھے اس ہجوم سے گزرنا تھاتمہارے سچ کو جاننے کے لئےمیں نے کتنے ہی جھوٹ سنےمیں باطل کے راستوں کو عبور کر کےحق تک پہنچامیں تیرے بہتر ساتھیوں میں نہیں تھامگر مشیت کو منظور تھا کہ حسین حر سے ملےکہ تاریخ کو باور ہواہل عشق کے فیصلےخدا کے فیصلے ہوتے ہیںجس نے زمانے کی قسم کھا کرخسارے کا مفہوم سمجھایااور میں نے جوم غلط کے درمیاناس مفہوم کو پا لیامیں تیرے بہتر ساتھیوں میں نہیں تھاحسین میں تیرا حر تھا
سانس روکے ہوئے وقت کے پیڑ کوچھیڑتی ہے ہواحبس چھٹنے لگابین کرتی ٹٹیری کی منحوس آواز پراوس پڑنے لگیرس بھری چاندنی سےچپکنے لگے خشک آنکھوں کے لبخشک ہوتے ہوئے حلق شب میں انڈیلی گئیقطرہ قطرہ دمکتے ہوئے جگنوؤں کی شرابرات کی شاخ پرروشنی سے مہکتے ستاروں کا بور آ گیاچاند ایسا پیالہ چھلکنے کو ہےجو اندھیروں کی پپڑی جمی تھی لب بام و دروہ اترنے کو ہےرات ڈھلنے کو ہے
قاتل و مقتول برابرظالم و مظلوم برابرقلم بھی بندوق برابرمعتوب و محبوب برابراپنی گویا ساتھی کیہر اک خاتون برابرنئی دانشوری جو پڑھیموسیٰ و قارون برابرظلم تو سب پر سانجھا تھابنی اسرائیل و فرعون برابرماں چاہے روتی رہےشہید بچے اور ملعون برابربلوچ جو گھر سے غائب ہیںسب پر مگر قانون برابرظلم کی اندھی فکر میںیزید و حسین برابرنئی نئی پڑھی صحافتمشعل و ہجوم برابراندھیرا بھی اجالے سا ہےظلمت و نور برابربصیرت پر پردہ پڑاسچ اور ہر اک جھوٹ برابرالٹی گنگا بہتی ہےمداری و افلاطون برابرجب تک اپنا نہ بہےآب و خون برابراک ان کا بھی مار گراؤپھر کہنا مارنے والا اور مرحوم برابر
اگر مجھے زباں ملےتو دل کی داستاں کہوںخود اپنے چارہ گر سے حال سعی رائیگاں کہوںکہوں کہ کیوں فسردگی ہے خیمہ زن بہار میںدھنک کے رنگ کیوں نہیں ہیں عکس شاخسار میںوہ ابر بن کے تیرتی ہیں کیوں فلک کے نیل میںگئے دنوں کی کشتیاں جو ہیں نظر کی جھیل میںالم نصیب دوستوں کو کیا ہواوہ سبز موسموں کے خواب کیا ہوئےوہ سرخ تتلیاں کہاں گئیںمیں سب کہوںمیں سچ کہوںمیں ساری داستاں کہوں اگر مجھے زباں ملےاگر مجھے زباں ملےبتاؤں سارے درد جن کو پیرہن ملا نہ حرف و صوت کاسناؤں سب کہانیاںوہ شام شام رنگتوں کی ان کہی کہانیاںبیاں کروں وہ قربتیں جو دل ہی دل میں رہ گئیںوہ دھوپ دھوپ چاہتیںجو لفظ بھی نہ بن سکیںجو اشک بن کے بہہ گئیںاگر مجھے زباں ملےاگر مجھے زباں ملےتو ارتقا کی سب حدوں کو توڑ دوںمسیح و کرشن سرمد و حسین کے تمام راز کھول دوںازل ابد کو جوڑ دوںکہوں ازل ازل نہ تھاکہوں ابد ابد نہیںکہ اس کی ابتدا نہ تھیکہ اس کی انتہا نہیںیہ روز و شب کا سلسلہ تو کوئی سلسلہ نہیںیہ پردۂ خیال ہےمگر یہ سلسلہ بھی میرے نطق و لب کے بس میں ہویہ میری دسترس میں ہواگر مجھے زباں ملے
شامل حال ہے خالق کی عنایت بن کردوستی ساتھ میں رہتی ہے ہدایت بن کر
جب اپنے کار خیر پہ شاداں ہوا کرواس وقت والدین کے حق میں دعا کرو
میں ان سے پوچھتا ہوں:پل کیسے بنایا جاتا ہےپل بنانے والے کہتے ہیں:تم نے کبھی محبت نہیں کیمیں کہتا ہوں: محبت کیا چیز ہےوہ اپنے اوزار رکھتے ہوئے کہتے ہیں:محبت کا مطلب جاننا چاہتے ہوتو پہلے دریا سے ملو۔۔۔روئے زمین پر دریا سے زیادہ محبت کرنے والا کوئی نہیںدریا اپنے سمندر کی طرف بہتا رہتا ہےیہ سپردگی ہےیہ سپردگی بچپن ہے اور بچپن بہشت۔۔۔لیکن بہشت تک پہنچنے کے لئے ایک جہنم سے گزرنا پڑتا ہےمیں پوچھتا ہوں جہنم کیا ہے؟وہ کہتے ہیں: اس سوال کا جواب درختوں کے پاس ہےکوئی بھی موسم ہو وہ اپنی جگہ نہیں چھوڑتےانہیں مٹی سے محبت ہےانہیں پرندوں اور چیونٹیوں سے محبت ہےجو ان کے جسم میں گھر بناتی ہیں'گھر کیا ہے؟' میں پوچھتا ہوں؟وہ سب ہنسنے لگتے ہیںپہلا مزدور کہتا ہے:اپنی عورت کی طرف جاؤہر سوال کا جواب مل جائے گا
ایک نظم کہیں سے بھی شروع ہو سکتی ہےجوتوں کی جوڑی سےیا قبر سے جو بارش میں بیٹھ گئییا اس پھول سے جو قبر کی پائینی پر کھلاہر ایک کو کہیں نہ کہیں پناہ مل گئیچینٹیوں کو جائے نماز کے نیچےاور لڑکیوں کو مری آواز میںمردہ بیل کی کھوپڑی میں گلہری نے گھر بنا لیا ہےنظم کا بھی ایک گھر ہوگاکسی جلا وطن کا دل یا انتظار کرتی ہوئی آنکھیںایک پہیہ ہے جو بنانے والے سے ادھورا رہ گیا ہےاسے ایک نظم مکمل کر سکتی ہےایک گونجتا ہوا آسمان نظم کے لیے کافی ہوتا ہےلیکن یہ ایک ناشتہ دان میں با آسانی سما سکتی ہےپھول آنسو اور گھنٹیاں اس میں پروئی جا سکتی ہیںاسے اندھیرے میں گایا جا سکتا ہےتہواروں کی دھوپ میں سکھایا جا سکتا ہےتم اسے دیکھ سکتی ہوخالی برتنوں خالی قبضوں اور خالی گہواروں میںتم اسے سن سکتی ہوہاتھ گاڑیوں اور جنازوں کے ساتھ چلتے ہوئےتم اسے چوم سکتی ہوبندرگاہوں کی بھیڑ میںتم اسے گوندھ سکتی ہوپتھر کی ماند میںتم اسے اگا سکتی ہوپودینے کی کیاریوں میںایک نظمکسی بھی رات سے تاریک نہیں کی جا سکتیکسی تلوار سے کاٹی نہیں جا سکتیکسی دیوار میں قید نہیں کی جا سکتیایک نظمکہیں بھی ساتھ چھوڑ سکتی ہےبادل کی طرحہوا کی طرحراستے کی طرحباپ کے ہاتھ کی طرح
اوزاروں کے نام بہت ہیںہتھیاروں کے دام بہت ہیںاے سوداگر کون گنےدس سے اوپر کون گنےاے دلاے بے کل فوارےکتنے گھاؤ بنے ہیں پیارے
سلاخوں سے ادھرکچھ درخت، ایک سڑک، کتے کی زنجیر تھامے ایک آدمیاور ایک ڈور جس پر رنگ برنگے کپڑے سوکھ رہے ہیںجسموں کے بغیر یہ کپڑے، بچوں کے بغیر یہ میدانمحبت کے بغیر یہ راستےدنیا کتنی چھوٹی نظر آتی ہےرنگ برنگے کپڑے سوکھ جانے پرایک عورت آئے گیتب ایک ایک کر کے یہ قمیضیں، پتلونیں اور فراکیںاپنے اپنے جسم حاصل کر لیں گےتب میدان بچوں سےاور بچے خوشی سے بھر جائیں گےیہ چھوٹی سی کائنات رنگوں سے بھر جائے گیاتنے بہت سے رنگاے عورت، اتنے بہت سے رنگ!
میں ان سے پوچھتا ہوںپل کیسے بنایا جاتا ہےپل بنانے والے کہتے ہیںتم نے کبھی محبت نہیں کیمیں کہتا ہوں محبت کیا چیز ہےوہ اپنے اوزار رکھتے ہوئے کہتے ہیںمحبت کا مطلب جاننا چاہتے ہوتو پہلے دریا سے ملوروئے زمین پر دریا سے زیادہ محبت کرنے والا کوئی نہیںدریا اپنے سمندر کی طرف بہتا رہتا ہےیہ سپردگی ہےسپردگی بچپن ہے اور بچپن بہشتلیکن بہشت تک پہنچنے کے لئے ایک جہنم سے گزرنا پڑتا ہےمیں پوچھتا ہوں جہنم کیا ہےوہ کہتے ہیں اس سوال کا جواب درختوں کے پاس ہےکوئی بھی موسم ہو وہ اپنی جگہ نہیں چھوڑتےانہیں مٹی سے محبت ہےانہیں پرندوں اور چیونٹیوں سے محبت ہےجو ان کے جسم میں گھر بناتی ہیںگھر کیا ہے میں پوچھتا ہوںوہ سب ہنسنے لگتے ہیںپہلا مزدور کہتا ہےاپنی عورت کی طرف جاؤہر سوال کا جواب مل جائے گا
شاعری کی طرف کھلتے ہیں میرے دروازےاور دروازوں کے اس پار دمکتی دنیاکھینچتی ہے مرا دامان چلے بھی آؤتنگنائے در و دیوار سے باہر جا کرمیں بھی اطراف و جوانب کی خبر لاؤں گا
ازل سے تم بہ رہے ہو سندھوقریب آؤہمیں سناؤ وہ سارے قصے جو تم پہ بیتے ہیں اس سفر میںاناج گھر میںتمہاری زرخیزیوں کی چادر بچھی ہوئی ہےجنوب کی سمت بہنے والے مہان سندھوتمہیں مبارک شمال کی برف کا پگھلناتمہارے تہذیب یافتہ کنارے ابد کو آواز دے رہے ہیںہمارے ملاح اور مچھیرے تمہاری چاہت میں نغمہ گر ہیںزمیں کے نقشے پہ ایک نیلی لکیر جو مسکرا رہی ہےوصال کا گیت گا رہی ہے
آدھا پیڑ خزاں کی زد میں جس پر پھول نہ پاتآدھے سیارے پر سورج آدھے پر برساتآدھے فوارے پر پانی اور آدھے میں ریتسچے ہاتھ درانتی والے کاٹ رہے ہیں کھیتاچھی فصل ہوئی ہے اب کے مالک کا احساناس آنگن میں آؤ ساتھی مل کر کوٹیں دھانایک طرف پیتل کی گھنٹی ایک طرف دیواراس اجلی آواز کے رخ پر کھولے رکھو دوارخالی ہاتھ نہیں لوٹے گا اے میرے پاتالکان کنوں کا ٹوکرا ہو یا ماہی گیر کا جال
اے مورپنکھتو مو قلمتختی مجھے درکار ہےچاروں طرفرنگوں کا اک تیوہار ہےبوچھار ہےبوچھار میں دو پھول ہیںاک پھول جوڑے کے لیےاک سبز پانی کے لیے
اے دل اے بندۂ وطن ہوشیارخواب غفلت سے ہو ذرا بیداراو شراب خودی کے متوالےگھر کی چوکھٹ کے چومنے والےنام ہے کیا اسی کا حب وطنجس کی تجھ کو لگی ہوئی ہے لگنکبھی بچوں کا دھیان آتا ہےکبھی یاروں کا غم ستاتا ہےیاد آتا ہے اپنا شہر کبھیلو کبھی اہل شہر کی ہے لگینقش ہیں دل پہ کوچہ و بازارپھرتے آنکھوں میں ہیں در و دیوارکیا وطن کیا یہی محبت ہےیہ بھی الفت میں کوئی الفت ہےاس میں انساں سے کم نہیں ہیں درنداس سے خالی نہیں چرند و پرندٹکڑے ہوتے ہیں سنگ غربت میںسوکھ جاتے ہیں روکھ فرقت میںجا کے کابل میں آم کا پوداکبھی پروان چڑھ نہیں سکتاآ کے کابل سے یاں بہی و انارہو نہیں سکتے بارور زنہارمچھلی جب چھوٹتی ہے پانی سےہاتھ دھوتی ہے زندگانی سےآگ سے جب ہوا سمندر دوراس کو جینے کا پھر نہیں مقدورگھوڑے جب کھیت سے بچھڑتے ہیںجان کے لالے ان کے پڑتے ہیںگائے، بھینس اونٹ ہو یا بکریاپنے اپنے ٹھکانے خوش ہیں سبھیکہیے حب وطن اسی کو اگرہم سے حیواں نہیں ہیں کچھ کم ترہے کوئی اپنی قوم کا ہمدردنوع انساں کا سمجھیں جس کو فردجس پہ اطلاق آدمی ہو صحیحجس کو حیواں پہ دے سکیں ترجیحقوم پر کوئی زد نہ دیکھ سکےقوم کا حال بد نہ دیکھ سکےقوم سے جان تک عزیز نہ ہوقوم سے بڑھ کے کوئی چیز نہ ہوسمجھے ان کی خوشی کو راحت جاںواں جو نو روز ہو تو عید ہو یاںرنج کو ان کے سمجھے مایۂ غمواں اگر سوگ ہو تو یاں ماتمبھول جائے سب اپنی قدر جلیلدیکھ کر بھائیوں کو خوار و ذلیلجب پڑے ان پہ گردش افلاکاپنی آسائشوں پہ ڈال دے خاک
(۱)اے سب سے اول اور آخرجہاں تہاں، حاضر اور ناظراے سب داناؤں سے داناسارے تواناؤں سے توانااے بالا، ہر بالاتر سےچاند سے سورج سے امبر سےاے سمجھے بوجھے بن سوجھےجانے پہچانے بن بوجھےسب سے انوکھے سب سے نرالےآنکھ سے اوجھل دل کے اجالےاے اندھوں کی آنکھ کے تارےاے لنگڑے لولوں کے سہارےناتیوں سے چھوٹوں کے ناتیساتھیوں سے بچھڑوں کے ساتھیناؤ جہاں کی کھینے والےدکھ میں تسلی دینے والےجب اب تب تجھ سا نہیں کوئیتجھ سے ہیں سب تجھ سا نہیں کوئیجوت ہے تیری جل اور تھل میںباس ہے تیری پھول اور پھل میںہر دل میں ہے تیرا بسیراتو پاس اور گھر دور ہے تیراراہ تری دشوار اور سکڑینام ترا رہ گیر کی لکڑیتو ہے ٹھکانا مسکینوں کاتو ہے سہارا غمگینوں کاتو ہے اکیلوں کا رکھوالاتو ہے اندھیرے گھر کا اجالالاگو اچھے اور برے کاخواہاں کھوٹے اور کھرے کابید نراسے بیماروں کاگاہک مندے بازاروں کاسوچ میں دل بہلانے والےبپتا میں یاد آنے والے(۲)اے بے وارث گھروں کے وارثبے بازو بے پروں کے وارثبے آسوں کی آس ہے تو ہیجاگتے سوتے پاس ہے تو ہیبس والے ہیں یا بے بس ہیںتو نہیں جن کا وہ بے کس ہیںساتھی جن کا دھیان ہے تیرادسرایت کی وہاں نہیں پروادل میں ہے جن کے تیری بڑائیگنتے ہیں وہ پربت کو رائیبیکس کا غم خوار ہے تو ہیبری بنی کا یار ہے تو ہیدکھیا دکھی یتیم اور بیوہتیرے ہی ہاتھ ان سب کا ہے کھیواتو ہی مرض دے تو ہی دوا دےتو ہی دوا دارو میں شفا دےتو ہی پلائے زہر کے پیالےتو ہی پھر امرت زہر میں ڈالےتو ہی دلوں میں آگ لگائےتو ہی دلوں کی لگی بجھائےچمکارے چمکار کے مارےمارے مار کے پھر چمکارےپیار کا تیرے پوچھنا کیا ہےمار میں بھی اک تیری مزا ہے(۳)اے رحمت اور ہیبت والےشفقت اور دباغت والےاے اٹکل اور دھیان سے باہرجان سے اور پہچان سے باہرعقل سے کوئی پا نہیں سکتابھید ترے حکموں میں ہیں کیا کیاایک کو تو نے شاد کیا ہےایک کے دل کو داغ دیا ہےاس سے نہ تیرا پیار کچھ ایسااس سے نہ تو بیزار کچھ ایساہر دم تیری آن نئی ہےجب دیکھو تب شان نئی ہےیہاں پچھوا ہے وہاں پروا ہےگھر گھر تیرا حکم نیا ہےپھول کہیں کملائے ہوئے ہیںاور کہیں پھل آئے ہوئے ہیںکھیتی ایک کی ہے لہراتیایک کا ہر دم خون سکھاتیایک پڑے ہیں دھن کو ڈبوئےایک ہیں گھوڑے بیچ کے سوئےایک نے جب سے ہوش سنبھالارنج سے اس کو پڑا نہ پالاایک نے اس جنجال میں آ کرچین نہ دیکھا آنکھ اٹھا کرمینہ کہیں دولت کا ہے برستاہے کوئی پانی تک کو ترستاایک کو مرنے تک نہیں دیتےایک اکتا گیا لیتے لیتےحال غرض دنیا کا یہی ہےغم پہلے اور بعد خوشی ہےرنج کا ہے دنیا کے گلا کیاتحفہ یہی لے دے کے ہے یاں کایہاں نہیں بنتی رنج سہے بنرنج نہیں سب ایک سے لیکنایک سے یہاں رنج ایک ہے بالاایک سے ہے درد ایک نرالاگھاؤ ہے گو ناسور کی صورتپر اسے کیا ناسور سے نسبتتپ وہی دق کی شکل ہے لیکندق نہیں رہتی جان لیے بندق ہو وہ یا ناسور ہو کچھ ہودے نہ جو اب امید کسی کوروز کا غم کیوں کر سہے کوئیآس نہ جب باقی رہے کوئیتو ہی کر انصاف اے مرے مولاکون ہے جو بے آس ہے جیتاگو کہ بہت بندے ہیں پر ارماںکم ہیں مگر مایوس ہیں جو یاںخواہ دکھی ہے خواہ سکھی ہےجو ہے اک امید اس کو بندھی ہےکھیتیاں جن کی کھڑی ہیں سوکھیآس وہ باندھے بیٹھے ہیں مینہ کیگھٹا جن کی اساڑی میں ہےساونی کی امید نہیں ہےڈوب چکی ہے ان کی اگیتیدیتی ہے ڈھارس ان کو پچھیتیایک ہے اس امید پہ جیتااب ہوئی بیٹی اب ہوا بیٹاایک کو جو اولاد ملی ہےاس کو امنگ شادیوں کی ہےرنج ہے یا قسمت میں خوشی ہےکچھ ہے مگر اک آس بندھی ہےغم نہیں ان کو غمگیں ہیںجو دل ناامید نہیں ہیںکال میں کچھ سختی نہیں ایسیکال میں ہے جب آس سمیں کیسہل ہے موجوں سے چھٹکاراجب کہ نظر آتا ہے کناراپر نہیں اٹھ سکتی وہ مصیبتآئے گی جس کے بعد نہ راحتشاد ہو اس رہ گیر کا کیا دل؟مر کے کٹے گی جس کی منزلان اجڑوں کو کل پڑے کیوں کرگھر نہ بسے گا جن کا جنم بھران بچھڑوں کا کیا ہے ٹھکانا؟جن کو نہ ملنے دے گا زمانہاب یہ بلا ٹلتی نہیں ٹالیمجھ پہ ہے جو تقدیر نے ڈالیآئیں بہت دنیا میں بہاریںعیش کی گھر گھر پڑیں پکاریںپڑے بہت باغوں میں جھولےڈھاک بہت جنگل میں پھولےگئیں اور آئیں چاندنی راتیںبرسیں کھلیں بہت برساتیںپر نہ کھلی ہرگز نہ کھلے گیوہ جو کلی مرجھائی تھی دل کیآس ہی کا بس نام ہے دنیاجب نہ رہی یہی تو رہا کیا؟ایسے بدیسی کا نہیں غم کچھجس کو نہ ہو ملنے کی قسم کچھرونا ان بن باسیوں کا ہےدیس نکالا جن کو ملا ہےحکم سے تیرے پر نہیں چارہکڑوی میٹھی سب ہے گوارازور ہے کیا پتے کا ہوا پرچاہے جدھر لے جائے اڑا کرتنکا اک اور سات سمندرجائے کہاں موجوں سے نکل کرقسمت ہی میں جب تھی جدائیپھر ٹلتی کس طرح یہ آئی؟آج کی بگڑی ہو تو بنے بھیازل کی بگڑی خاک بنے گیتو جو چاہے وہ نہیں ٹلتابندے کا یاں بس نہیں چلتامارے اور نہ دے تو رونےتھپکے اور نہ دے تو سونےٹھہرے بن آتی ہے نہ بھاگےتیری زبردستی کے آگےتجھ سے کہیں گر بھاگنا چاہیںبند ہیں چاروں کھونٹ کی راہیںتو مارے اور خواہ نوازےپڑی ہوئی ہوں میں تیرے دروازےتجھ کو اپنا جانتی ہوں میںتجھ سے نہیں تو کس سے کہوں میںماں ہی سدا بچہ کو مارےاور بچہ ماں ماں ہی پکارے(۴)اے مرے زور اور قدرت والےحکمت اور حکومت والےمیں لونڈی تیری دکھیارےدروازے کی تیری بھکاریموت کی خواہاں جان کی دشمنجان اپنی ہے آپ اجیرناپنے پرائے کی دھتکاریمیکے اور سسرال پہ بھاریسہہ کے بہت آزار چلی ہوںدنیا سے بیزار چلی ہوںدل پر میرے داغ ہیں جتنےمنہ میں بول نہیں ہیں اتنےدکھ دل کا کچھ کہہ نہیں سکتیاس کے سوا کچھ کہہ نہیں سکتیتجھ پہ ہے روشن سب دکھ دل کاتجھ سے حقیقت اپنی کہوں کیابیاہ کے دم پائی تھی نہ لینےلینے کے یاں پڑ گئے دینےخوشی میں بھی دکھ ساتھ نہ آیاغم کے سوا کچھ ہات نہ آیاایک خوشی نے غم یہ دکھائےایک ہنسی نے گل ہی کھلائےکیسا تھا یہ بیاہ نناواںجوں ہی پڑا اس کا پرچھاواںچین سے رہنے دیا نہ جی کوکر دیا ملیامیٹ خوشی کورو نہیں سکتی تنگ ہوں یاں تکاور روؤں تو روؤں کہاں تکہنس ہنس دل بہلاؤں کیوں کراوسوں پیاس بجھاؤں کیوں کرایک کا کچھ جینا نہیں ہوتاایک نہ ہنستا بھلا نہ روتالیٹے گر سونے کے بہانےپائنتی کل ہے اور نہ سرہانےجاگیے تو بھی بن نہیں پڑتیجاگنے کی آخر کوئی حد بھیاب کل ہم کو پڑے گی مر کرگور ہے سونی سیج سے بہتربات سے نفرت کام سے وحشتٹوٹی آس اور بجھی طبیعتآبادی جنگل کا نمونہدنیا سونی اور گھر سونادن ہے بھیانک اور رات ڈرانییوں گزری ساری یہ جوانیبہنیں اور بہنیلیاں میریساتھ کی جو تھیں کھیلیاں میریمل نہ سکیں جی کھول کے مجھ سےخوش نہ ہوئیں ہنس بول کے مجھ سےجب آئیں رو دھو کے گئیں وہجب گئیں بے کل ہو کے گئیں وہکوئی نہیں دل کا بہلاواآ نہیں چکتا میرا بلاواآٹھ پہر کا ہے یہ جلاپاکاٹوں گی کس طرح رنڈاپاتھک گئی دکھ سہتے سہتےتھم گئے آنسو بہتے بہتےآگ کھلی دل کی نہ کسی پرگھل گئی جان اندر ہی اندردیکھ کے چپ جانا نہ کسی نےجان کو پھونکا دل کی لگی نےدبی تھی بھوبھل میں چنگاریلی نہ کسی نے خبر ہماریقوم میں وہ خوشیاں بیاہوں کیشہر میں وہ دھوئیں ساہوں کیتہواروں کا آئے دن آنااور سب کا تہوار مناناوہ چیت اور پھاگن کی ہوائیںوہ ساون بھادوں کی گھٹائیںوہ گرمی کی چاندنی راتیںوہ ارمان بھری برساتیںکس سے کہوں کس طور سے کاٹیںخیر کٹیں جس طور سے کاٹیںچاؤ کے اور خوشیوں کے سمے سبآتے ہیں خوش کل جان کو ہو جبرنج میں ہیں سامان خوشی کےاور جلانے والے ہی کےگھر برکھا اور پیا بدیسیآئیو برکھا کہیں نہ ایسیدن یہ جوانی کے کٹے ایسےباغ میں پنچھی قید ہو جیسےرت گئی ساری سر ٹکراتےاڑ نہ سکے پر ہوتے سارےکسی نے ہوگی کچھ کل پائیمجھے تو شادی راس نہ آئیآس بندھی لیکن نہ ملا کچھپھول آیا اور پھل نہ لگا کچھرہ گیا دے کر چاند دکھائیچاند ہوا پر عید نہ آئیپھل کی خاطر برچھی کھائیپھل نہ ملا اور جان گنوائیریت میں ذرے دیکھ چمکتےدوڑ پڑی میں جھیل سمجھ کےچاروں کھونٹ نظر دوڑائیپر پانی کی بوند نہ پائی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books