aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "hech"
پہلے بھی تو گزرے ہیںدور نارسائی کے ''بے ریا'' خدائی کےپھر بھی یہ سمجھتے ہو ہیچ آرزو مندییہ شب زباں بندی ہے رہ خداوندیتم مگر یہ کیا جانولب اگر نہیں ہلتے ہاتھ جاگ اٹھتے ہیںہاتھ جاگ اٹھتے ہیں راہ کا نشاں بن کرنور کی زباں بن کرہاتھ بول اٹھتے ہیں صبح کی اذاں بن کرروشنی سے ڈرتے ہوروشنی تو تم بھی ہو روشنی تو ہم بھی ہیںروشنی سے ڈرتے ہوشہر کی فصیلوں پردیو کا جو سایہ تھا پاک ہو گیا آخررات کا لبادہ بھیچاک ہو گیا آخر خاک ہو گیا آخراژدہام انساں سے فرد کی نوا آئیذات کی صدا آئیراہ شوق میں جیسے راہرو کا خوں لپکےاک نیا جنوں لپکےآدمی چھلک اٹھےآدمی ہنسے دیکھو، شہر پھر بسے دیکھوتم ابھی سے ڈرتے ہو؟ہاں ابھی تو تم بھی ہوہاں ابھی تو ہم بھی ہیںتم ابھی سے ڈرتے ہو
جہاں زاد نیچے گلی میں ترے در کے آگےیہ میں سوختہ سر حسن کوزہ گر ہوں!تجھے صبح بازار میں بوڑھے عطار یوسفکی دکان پر میں نے دیکھاتو تیری نگاہوں میں وہ تابناکیتھی میں جس کی حسرت میں نو سال دیوانہ پھرتا رہا ہوںجہاں زاد نو سال دیوانہ پھرتا رہا ہوں!یہ وہ دور تھا جس میں میں نےکبھی اپنے رنجور کوزوں کی جانبپلٹ کر نہ دیکھاوہ کوزے مرے دست چابک کے پتلےگل و رنگ و روغن کی مخلوق بے جاںوہ سر گوشیوں میں یہ کہتےحسن کوزہ گر اب کہاں ہے؟وہ ہم سے خود اپنے عمل سےخدا وند بن کر خداؤں کے مانند ہے روئے گرداں!جہاں زاد نو سال کا دور یوں مجھ پہ گزراکہ جیسے کسی شہر مدفون پر وقت گزرےتغاروں میں مٹیکبھی جس کی خوشبو سے وارفتہ ہوتا تھا میںسنگ بستہ پڑی تھیصراحی و مینا و جام و سبو اور فانوس و گلداںمری ہیچ مایہ معیشت کے اظہار فن کے سہارےشکستہ پڑے تھےمیں خود میں حسن کوزہ گر پا بہ گل خاک بر سر برہنہسر چاک ژولیدہ مو سر بہ زانوکسی غمزدہ دیوتا کی طرح واہمہ کےگل و لا سے خوابوں کے سیال کوزے بناتا رہا تھاجہاں زاد نو سال پہلےتو ناداں تھی لیکن تجھے یہ خبر تھیکہ میں نے حسن کوزہ گر نےتری قاف کی سی افق تاب آنکھوںمیں دیکھی ہے وہ تابناکیکہ جس سے مرے جسم و جاں ابر و مہتاب کارہگزر بن گئے تھےجہاں زاد بغداد کی خواب گوں راتوہ رود دجلہ کا ساحلوہ کشتی وہ ملاح کی بند آنکھیںکسی خستہ جاں رنج بر کوزہ گر کے لیےایک ہی رات وہ کہربا تھیکہ جس سے ابھی تک ہے پیوست اس کا وجوداس کی جاں اس کا پیکرمگر ایک ہی رات کا ذوق دریا کی وہ لہر نکلاحسن کوزہ گر جس میں ڈوبا تو ابھرا نہیں ہے!
آج کی رات ساز درد نہ چھیڑدکھ سے بھرپور دن تمام ہوئےاور کل کی خبر کسے معلومدوش و فردا کی مٹ چکی ہیں حدودہو نہ ہو اب سحر کسے معلومزندگی ہیچ! لیکن آج کی راتایزدیت ہے ممکن آج کی راتآج کی رات ساز درد نہ چھیڑاب نہ دہرا فسانہ ہائے الماپنی قسمت پہ سوگوار نہ ہوفکر فردا اتار دے دل سےعمر رفتہ پہ اشک بار نہ ہوعہد غم کی حکایتیں مت پوچھہو چکیں سب شکایتیں مت پوچھآج کی رات ساز درد نہ چھیڑ
کچھ خواب ہیں پروردۂ انوار مگر ان کی سحر گمجس آگ سے اٹھتا ہے محبت کا خمیر اس کے شرر گمہے کل کی خبر ان کو مگر جز کی خبر گمیہ خواب ہیں وہ جن کے لیے مرتبۂ دیدۂ تر ہیچدل ہیچ ہے سر اتنے برابر ہیں کہ سر ہیچعرض ہنر ہیچ!
ہیچ ہے ہر چیز زیور غازہ افشاں رنگ و خالحسن خود اپنی جگہ ہے سو کمالوں کا کمال
جہاں پہاڑوں کے آسماں بوس سلسلے ہیںوہاں کبھی بحر موجزن تھےجہاں بیاباں میں ریت اڑتی ہےباد مسموم گونجتی ہےوہاں کبھی سبزہ زار و گلگشت کا سماں تھابلند و بالا حقیر و ہیچاس شکست و تعمیر کے تسلسل میں بہہ رہے ہیںشکست و تعمیر کے تسلسل میں تو ہے میں ہوں
جب بڑھاتے ہیں قدم پیچھے پھر ہٹتے ہی نہیںحوصلے ان کے جو بڑھتے ہیں تو گھٹتے ہی نہیںدم پیکار حریفوں سے یہ کٹتے ہی نہیںالٹے قدموں پہ بلا فتح پلٹتے ہی نہیںہیچ ہیں ان کے لیے آہنی دیواریں بھیروک سکتی نہیں فولاد کی دیواریں بھی
یارب ترے بندوں سے قضا کھیل رہی ہےاک کھیل بعنوان دغا کھیل رہی ہےجس کھیل کو صرصر نے بھی کھیلا نہ چمن میںاس کھیل کو اب باد صبا کھیل رہی ہےالجھے ہوئے حالات کے تیور ہیں خطرناکبدلے ہوئے موسم کی ہوا کھیل رہی ہےرندان تہی دست سزاوار سبو ہیں!ٹوٹی ہوئی توبہ سے گھٹا کھیل رہی ہےلغزیدہ قدم اذن خرد مانگ رہے ہیںدزیدہ نگاہوں میں حیا کھیل رہی ہےاورنگ شہی ہیچ ہے رندوں کی نظر میںمحلوں کی بلندی پہ قضا کھیل رہی ہےاحرام سے جبے سے مصلے سے عبا سےشورشؔ مری بے خوف نوا کھیل رہی ہے
سجتی تھی کبھی تن پہ جو تھی عید کی اچکنسجتے تھے کبھی ہم، تو کبھی عید کی اچکنسو سو طرح پروان چڑھی عید کی اچکناب اتنے گھٹے ہم کہ بڑھی عید کی اچکناچکن نہیں اس وقت عبا اور قبا ہےیا کوئی دوشالہ ہے جو کھونٹی پہ ٹنگا ہےاس عید کی اچکن نے مچائی تھی بڑی دھومجب اس کو پہنتے تو چمک اٹھتا تھا مقسومجاتے جو کہیں دور سے ہو جاتا تھا معلومہم اس میں نظر آتے تھے جیسے کہ ہوں معصوماس عید کی اچکن میں بڑے لعل جڑے تھےعیدی بھی ہمیں دیتے تھے جو ہم سے بڑے تھےاس عہد میں یہ عید کی اچکن تھی بنائیجس عہد میں ہم کھاتے تھے بابا کی کمائیدیتے نہ تھے افلاس کی اس وقت دہائیمل جاتی تھی جس شے کی ضرورت نظر آئیہر بات پہ جب روٹھ کے ہنسنے کا مزہ تھاتب عید کی اچکن کے پہننے کا مزہ تھااس عید کی اچکن کو پہن لیتے تھے جب ہمآتی تھی نظر ہیچ ہمیں سلطنت جمجس نے مجھے دیکھا وہ یہی کہتا تھا ہر دم''جب تک کہ نہ دیکھا تھا قد یار کا عالم''''میں معتقد فتنۂ محشر نہ ہوا تھا''میں بھی غم دنیا کا شناور نہ ہوا تھااس عید کی اچکن نے گلے ان سے ملایاگھبراتا تھا پاس آنے سے جن لوگوں کا سایہکس کس کے نہ جانے بت پندار کو ڈھایاجب عید کا دن آیا تو پھر دل کو سجایااچکن نہیں ماضی کا سنہرا سا ورق ہےہم بدلے پر اچکن نہیں بدلی یہ قلق ہےاے جعفریؔ اچکن کو نہ لٹکا مرے آگے''جز وہم نہیں ہستیٔ اشیا مرے آگے''وہ دھوپ ڈھلی رہ گیا سایا مرے آگےاب قصۂ ماضی کو نہ دہرا مرے آگےکام آئی یہ اچکن نہ غریب الوطنی میں''ہر چند سبک دست ہوئے بت شکنی میں''
لمحۂ نو عظیم ہےسوزش دل ہے کیا بلا جذب و جنوں بھی کچھ نہیںسانجھ سماج ہیچ ہیں رشتہ خوں بھی کچھ نہیںحسرت و آرزو کی نے بندش و بستگی کی لےدمدمۂ قدیم ہے
اے قطب مینار اے بھارت کی عظمت کے نشاںہر گھڑی سایہ فگن رہتا ہے تجھ پر آسماںتیرے ہر اک سنگ میں پنہاں ہے تیری داستاںدیدۂ حیرت سے تکتے ہیں تجھے اہل جہاںسر بلندی پر تری ہم ہندیوں کو ناز ہےتو ہماری خوش نما تاریخ کا غماز ہےتیرا مسکن ارض دلی رشک حسن کوہ قافچاند سورج روز تیرے گرد کرتے ہیں طوافساری دنیا کو ہے تیری عظمتوں کا اعترافتجھ سے ہوتا ہے ہماری قومیت کا انکشافتیری صناعی زمانے کے لئے پر پیچ ہےآج بھی پیرس کا ٹاور تیرے آگے ہیچ ہےتو ہماری شان و شوکت کا ہے تابندہ گواہتجھ سے روشن ہے ہمارے علم و فن کی شاہراہتجھ پہ پڑتے ہی چمک اٹھتی ہے حیرت سے نگاہتو ہمارا پاسباں ہے تو ہمارا خیر خواہترجمان وقت ہے تو رہنمائے فن ہے توہاں لباس سنگ میں اک پیکر آہن ہے تو
امیدہے غلط نوحۂ غم گوہر شہوار ہے توفی الحقیقت بڑی عزت کا سزا وار ہے توموجزن ہے تری رگ رگ میں شہیدوں کا لہوبدر و احزاب کی جنگوں کا علم دار ہے توجرأت خالد جاں باز ملی ہے تجھ کووارث زور شہ حیدر کرار ہے توکون کہتا ہے تجھے جنس دنی ہیچ مبرزتو بہت کچھ ہے اگر مسلم بیدار ہے توتو اگر چاہے نکل سکتی ہے صحرا میں بھی راہسعئ پیہم کے لیے کوہ گراں اک پر کاہکون کہتا ہے کہ سامان سے وابستہ ہےتیری عزت ترے ایمان سے وابستہ ہےسب سے اول تجھے لازم ہے خدا کی پہچانآدمیت اسی عرفان سے وابستہ ہےخود گرا پڑتا ہے لازم ہے خدا کی پہچانتیری وقعت بھی تری آن سے وابستہ ہےاس سے کٹ جائے تو کوڑی بھی نہیں مول تراقدر و قیمت تری قرآن سے وابستہ ہےتو ہے شاکی کہ زمانہ نے تجھے کھویا ہےاور زمانے کو شکایت ہے کہ تو سویا ہے
چین ہے خواب ہے کہانی ہےمائشہ میری زندگانی ہےہر طرف اس سے شادمانی ہےہر نظارے کا رنگ دھانی ہےرنگ میں روپ میں نزاکت میںسب میں پریوں کی وہ تو رانی ہےاس کی آنکھوں سے نور چھنتا ہےاس کے ہونٹوں پہ گل فشانی ہےایسی نازک کہ پنکھڑی بھی نہیںپھول کوئی وہ داستانی ہےمستقل بام و در مہکتے ہیںوہ مرے گھر کی رات رانی ہےاس کی معصوم مسکراہٹ میںکچھ فرشتوں کی بھی نشانی ہےنغمگی جسم و جاں میں گھل جائےایسی ہونٹوں پہ خوش بیانی ہےایسا گل کاریوں میں جادو ہےآگ بھی جس کے دم سے پانی ہےہیچ مخمل ہے جلد کے آگےرنگ بھی رشک ارغوانی ہےاس کے تلووں کے لمس میں بھی عجبنشۂ کیف جاودانی ہےاس سے ہر آنکھ میں بصارت ہےاس سے ہر دل میں شادمانی ہےاس کے ہونے سے میرے آنگن میںتپش دھوپ بھی سہانی ہےبے ضرر بے زبان ہے لیکنہر طرف اس کی حکمرانی ہےباپ قربان ماں فدا اس پراور نانی تو بس دیوانی ہےدادا دادی کے دل کی دھڑکن ہےسنی ماموں کی جان جانی ہےشاہدہ ہوں کہ بے بی باجی ہوںہر کوئی اس پری کی نانی ہےفخر انعام کی چہیتی ہےسلو شاداب کی بھی رانی ہےدل مہک کا چہک رہا اس سےلب پہ صفیہ کے لن ترانی ہےبن بلائے ہمیں بلاتی ہےوہ تو گڑیا عجب سیانی ہےاے غضنفرؔ بتا کہ محفل میںکیا کوئی مائشہ کا ثانی ہے
وہ اک مفکر عظیم شاعرتھا وہ اقبال شاعروں کاوہ زندگانی کا رازداںوہ کامرانی کا نغمہ خواںمقبول تھا ہند و پاک میں وہ یکساںترانۂ ہند کا وہ خالقوہ فلسفی تھا وہ رہنما تھادیا فلسفہ جس نے خودی و بے خودی کاتمام دنیا کے نظم ہائے سیاستتمام دنیا کے نقطہ ہائے نظرتھے اس کی چشم بینا میں روشنتھا مگر وہ عاشق ایشیاحریف تھا اہل مغرب کا وہخطاب جس کو دیا تھا قوم نے اس کیوہی تھا شاعر مشرقتھا وہ مبلغ اسلام کا بے شککہ اسلام ہے امن و راحت کا مذہبوہ تھا اک مرد کامل انساں مکملگرچہ تھا برہمن زادہ کشمیر کانظر میں اس کی تھا دیوتا ساوطن کی مٹی کا ہر ایک ذرہخرد تھی اس کی نگاہ میں ہیچ و پستجنون عشق کا تھا وہ دل سے قائلوہ تھا اک پیغمبر علم و عمل کاتھی نہ محدود شاعری اس کینہ تھا محدود دائرہ اس کے پیغام کاتھے مخاطب اس کے ساری دنیا کے عام و خاصکسانوں مزدوروں کا تھا وہ حامیکہہ گیا وہ اپنے شعر میںجس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزیاس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو
بن لادنتورا بورا میں ہوتاتو ایسی محشری مارجس سےپہاڑ سرمہ بن گئےزمین راکھ ہو گئیآسمان سیاہ پڑ گیاکب کا ختم ہو چکا ہوتامگر کرۂ ارض پر جگہ جگہہیبت ناک آتشیں پھنکاریںکربناک دل دوز چیخیںاس حقیقت کی غماز ہیںکہ بن لادنمرا نہیںزندہ ہےیہ پھنکاریں اور چیخیںاس بات کی بھی دلیل ہیںکہ لادنتورا بورا کے علاوہدوسرے خطوں میں بھی موجود ہےسوال یہ ہے کہلادن ختم کیوں نہیں ہواکیا وہ واقعی اتنا زبردست ہےکہ سارے جہان کی مجموعی طاقت بھیاس کے آگے ہیچ ہےکیا اس نے آب حیات پی لی ہےکہ کبھی مر نہیں سکتاکیا وہ قفس بن گیا ہےکہ اپنی خاکستر سے پھر پیدا ہو جاتا ہےکیا وہ شد سکندری ہےکہ یاجوج ماجوج کی زبانیںاسے پوری طرح چاٹ نہیں پاتیںکیا وہ راون ہےکہ اس کا ایک سر افغانستان میںتو باقی نو دوسرے جہاں میںاور کیا اس نے کوئی وردان پا لیا ہےکہ سر کٹ کر پھر دھڑ سے آ لگتا ہےکیا وہ بھیشم پتامہ ہےکہ اپنی اچھا کے بغیر مر نہیں سکتاکیا اس نے اپنا کلون بنا لیا ہےکہ اس کا خاتمہ نا ممکن ہو گیا ہےسوال یہ بھی ہےکہ میزائلوں کا نشانہ چوک کیوں جاتا ہےکیا ان کے پرزے ڈھیلے ہیںکہ وہ اپنا توازن کھو بیٹھتی ہیںبے سمتی کا شکار ہو جاتی ہیںکیا وہ اندھی ہیںکہ بن لادن کو دیکھ نہیں پاتیںکیا ان کی بینائی کمزور ہےکہ وہ لادن اور غیر لادن میں تمیز نہیں کر پاتیںبن لادن کوئی سچ تو نہیںکہ شکونی کی چال اس کے آگے ناکام ہو جائےوہ لاکشا گرہ سے بچ کر نکل جائےاگیات باس سے واپس آ جائےاس کا چیر ہرن نہ ہو سکےتیروں کی شیا پر زندہ رہ جائےکہیں ایسا تو نہیںکہ میزائلیں اسے مارنا ہی نہیں چاہتیںاگر ایسا ہےتو یہ محشری مارکس کے لیےیہ مسلسل یلغارکیوںحیران و پریشان ارجنکروک شیتر میں چیختا پھر رہا ہےمگر آج کی مہابھارت میںان سوالوں کا جواب دینے والاکوئی کرشن نہیںکوئی کرشن نہیں
کیسی آواز ہےکوئی کہتا ہےیہ دشت موجود و مشہور و موہوم بسحد ادراک و احساس و آواز تک ہی نہیںچشم و دل کا یہ طائر جسےسیر پرواز سمجھے ہو مجبور ہےمشت پر سر بریدہ و پابند ہیاس کا سرمایہ ہے جس پہ مغرور ہےتا بہ حد خرد تا بہ حد جنوںجو بھی ہے ہیچ و بے مایہ ہےکیا غرض اس سےیہ کیا ہے کیسا ہے کب سے ہے کب تک رہے گااسے بھول جاؤ کہ تم خود حریف خداوند آفاق ہوان سوالات میں خود تمہاری ہی توہین ہےتم دل عرش آثار کا آئینہ لے کے آئے ہوجس میں کئی رنگ کیتیز رو سست رو شوخ مدھم سجل مستقل متصلمنتشر منفعل منقسم سادہ پیچیدہ مبہم گران و سبکنیک و منحوسموجود و مشہور و موہوم پرچھائیاںیوں گزرتی ہیںجیسے کوئیدھیرے دھیرے سے پلکوں کو چھوتا رہے خواب میںکون ہے کون ہےماورائے خردماورائے جنوںماورائے نظرماورائے نفسمنتظر مضطرباپنی صورت دکھانے کو بے چین ہےکیسی آواز ہے جو ازل سے تعاقب میں ہےمیرے لہجے کا ایمان اس کے تخاطب میں ہےیہ کہیں میری آواز ہی تو نہیںمیں مجھی کو صدا دے رہا ہوں بڑی دیر سےبڑی دور سےمیں ہی اپنا حریف ازلمیں ہی اپنا حریف ابدمجھ کو میرا پتہ دو کہ میںاپنی آواز کی گونج ہوں
ہے دسہرا یادگا عظمت ہندوستاںہندوؤں کی اک قدیمی فتح و نصرت کا نشاںاک مٹی سی یہ نشانی دولت و اقبال کییاد دلواتی ہے ان ایام فرخ فال کیجب کہ تھی ہم میں بھی ایسے زور و طاقت کی نمودہیچ تھی دیوان روئیں تن کی جس سے ہست و بودجب اکیلے اٹھ کھڑے ہوتے تھے ہم بہر نبرداور کر دیتے تھے اپنے دشمنوں کو گرد گرددل میں ہمت ہاتھ میں اپنے فقط شور الاماںباندھ کر وہ پل سمندر کو کیا ہم نے عبورجس کو حیراں دیکھ کر ہیں آج بھی اہل شعورفوج راون لا تعد تھی ریگ صحرا کی طرحاور امنڈ آئی تھی وقت جنگ دریا کی طرحراون خونخوار اور وہ کوہ پیکر اس کے دیوجن کی خوں خواری کا تھا سارے زمانے میں غریوقلعہ وہ لنکا کا جو نا قابل التسخیر تھاجس پہ نازاں اپنے دل میں راون بے پیر تھاتھے طلائی برج جس کے اور مرصع بام و درجن کی چوٹی پر نہ پہنچے کوئی مرغ تیز پرسودۂ لعل و زمرد تھی وہاں کی خاک بھیاک طلسم ایسا کہ قاصر تھا جہاں اور اک بھیہم نے ایسے دشمنوں پر فتح پائی تھی کبھیاپنے حصے میں بھی یہ معجز نمائی تھی کبھیآج وہ دن ہے کہ ہم اس یاد کو تازہ کریںروئے زیبائے عروس فتح پر غازہ کریںمل کے گائیں رام کے گن دل میں ہو جوش سرورقلب صافی مخزن وحدت ہو سینہ رشک طوریہ دسہرا عشرۂ عشرت ہے اپنے واسطےخالق کونین کی نعمت ہے اپنے واسطے
ہر شے ہے ہیچ نیلمؔ ماں کی تڑپ کے آگےماں جیسی پیاری مورت دنیا میں ہے نہ ہوگی
متاع زیست مری لاکھ ہیچ مایہ سہیمگر ستارے فلک کے نہ جانے کیوں یوں ہیاداس اداس نگاہوں سے مجھ کو تکتے ہیںبھلا یہ سائے مری راہ روک سکتے ہیں
بحر غم میں ہے سخت طغیانیسر سے اوپر گزر گیا پانیکب تک اے نزہت برشتہ جگرشور یا رب سے عرش جنبانیرونے دھونے سے جان کھونے سےکہیں بنتے ہیں کام دیوانیدرد دل درد آفریں کو سناکر گزر جی میں ہے جو کچھ ٹھانیدشت وحدت ہے دشت وحدت ہےدیکھ آہستہ کر فرس رانیبے خبر پہلے نقش کر دل پرعظمت بارگاہ یزدانیمایۂ رشک یاں بضاعت مورہیچ واں شوکت سلیمانیپہلے دے صدقہ ماسوا اللہپہلے کر جان و دل کی قربانیچاہیے بہر نظر جنس گراںچاہیے خوں کو بسد افشانیصدف فکر سے نکال گہرتر بہ تر کر عرق سے پیشانینزہت بینوا ہے ہدیہ بدستہو قبول جناب سلطانیہدیہ کیا ایک سادہ دفتر پرلکھ کے لائی ہوں لفظ لا ثانیدیں ہے الفت وطن فغانستاںعرف ''مجنوں'' ہے پیشہ حسانی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books