aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "husuul"
ہند کا آزاد ہو جانا کوئی آساں نہیںدیکھنا تم کو ابھی کیا کیا دکھایا جائے گادیکھنا تم سے ابھی کتنے کئے جائیں گے مکرکس طرح تم کو ابھی چکر میں لایا جائے گاتم میں ڈالا جائے گا اک سخت و نازک تفرقہتم کو شہ دے دے کے آپس میں لڑایا جائے گاپیشوایان مذاہب کو ملیں گی رشوتیںڈھونگ تبلیغ اور شدھی کا رچایا جائے گادھرم رکشا کے لئے تم سے لئے جائیں گے عہدتم کو مذہب اپنا خطرے میں دکھایا جائے گالیڈروں سے ہوں گے وعدے خلعت و انعام کےقلت و کثرت کا ہنگامہ اٹھایا جائے گاتم کو پروانہ عطا ہوگا خطاب و جاہ کاتم کو عہدے دے کے لالچ میں پھنسایا جائے گاگر یہ تدبیریں مقدر سے نہ راس آئیں تو پھردوسری صورت سے تم کو ڈگمگایا جائے گاانتہائی بربریت سے لیا جائے گا کامبند کر کے تم کو جیلوں میں سڑایا جائے گادانہ پانی کر دیا جائے گا بالکل تم پہ بندتم کو بھوکوں مار کے قبضے میں لایا جائے گاگرم لوہے سے تمہارے جسم داغے جائیں گےتم کو کوڑے مار کر الو بنایا جائے گاجائیدادیں سب تمہاری ضبط کر لی جائیں گیبال بچوں پر تمہارے ظلم ڈھایا جائے گاباوجود اس کے بھی تم قائم رہے ضد پر اگربے تأمل تم کو پھانسی پر چڑھایا جائے گااس طرح بھی تم اگر لائے نہ ابرو پر شکنسر تمہارے پاؤں پر آخر جھکایا جائے گا
بربط دل کے تار ٹوٹ گئےہیں زمیں بوس راحتوں کے محلمٹ گئے قصہ ہائے فکر و عمل!بزم ہستی کے جام پھوٹ گئےچھن گیا کیف کوثر و تسنیمزحمت گریہ و بکا بے سودشکوۂ بخت نا رسا بے سودہو چکا ختم رحمتوں کا نزولبند ہے مدتوں سے باب قبولبے نیاز دعا ہے رب کریمبجھ گئی شمع آرزوئے جمیلیاد باقی ہے بے کسی کی دلیلانتظار فضول رہنے دےراز الفت نباہنے والےبار غم سے کراہنے والےکاوش بے حصول رہنے دے
تو حصول زر کی خاطر کس قدر بے چین ہےکسب دولت زندگی کا تیری نسب العین ہے
چلتے چلتے دفعتاً پٹری بدلنے کا چلنتھا سیاست کے قلابازوں کا یک مشہور فنفائدہ ہوتا تھا وقتی طور پر اس کھیل میںگو سکا حضرات کہتے تھے اسے بازار پناہل شعرستان نے بھی اب اسے اپنا لیاکار آمد دیکھ کر یہ نسخۂ آہن شکنہو رہا ہے اس قدر مقبول یہ نسخہ کہ ابدل بدلتے رہتے ہیں دن رات ارباب سخننت نیا بہروپ لازم ہے پئے اظہار ذاتجب نظر کے سامنے ہو فن برائے مکر و فنوہ زمانہ جب کہ بزم شعر تھی اک رزم گاہچھوڑ دی تھی ہر نئے شاعر نے رفتار کہنگھولتے رہتے تھے وہ حضرات جام شعر میںنغمۂ بلبل کے بدلے شورش دار و رسنہوٹلوں میں بیٹھ کر ہوتا تھا ذکر انقلاباپنے سر سے باندھے پھرتے تھے تخیل میں کفنان میں کچھ لیڈر صفت تھے اور کچھ والنٹیرجھنڈ میں سرخاب کے ہوں جس طرح زاغ و زغننعرہ بازی میں اگر ہوتے تھے لیڈر پاؤ سیران کے ہر والنٹیر کا وزن ہوتا ڈیڑھ منرفتہ رفتہ شور غوغائی سخن کا جب تھمالگ گیا جب ماہ نخشب میں حوادث کا گہنآ گئے کچھ اور کرتب باز بزم شعر میںاک ذرا سا جانتے تھے جو نظر بندی کا فنسونگھ کر موسم کی بو اور رخ ہوا کا دیکھ کرکیچلی بدلی ہر اک والنٹیر نے دفعتاًصبح دم دیکھا تو ٹیڈی سوٹ میں ملبوس ہیںپھینک کر چپکے سے اپنا انقلابی پیرہنسر کے بالوں کی سفیدی ہو گئی غرق خضابتہ بہ تہ غازہ لگا کر دور کی رخ کی شکنشاعری کی عمر تھی گو بیس یا پچیس ساللیکن اپنے فن میں وہ بالقصد لائے بال پنکر دیا بہر صدارت پیش اپنے آپ کوجب بنائی چند نو مشقوں نے کوئی انجمناس لیے گھس پیٹھ کرتے یہ سب والنٹیربن گئے اب خام ذہنوں کے امام فکر و فنان کا مقصد ہے اگر کچھ تو حصول منفعتانقلابی شاعری ہو یا معماتی سخن
استادوں کی والدین کیکرتے اطاعت اچھے بچےخوب حصول علم کی خاطرکرتے محنت اچھے بچے
نگار گل تجھے وہ دن بھی یاد ہوں شایدکہ جن کے ذکر سے اب دل پہ تازیانہ لگےتری طلب میں وہ دار و رسن کے ہنگامےکہ جن کی بات کریں بھی تو اب فسانہ لگےبقدر ذوق جلاتے رہے لہو کے چراغکہ تو جب آئے تو یہ گھر نگار خانہ لگےاسی خیال سے ہر زخم اپنے دل پہ سہاکہ تجھ کو گردش ایام کی ہوا نہ لگےمگر جو گزری ہے ہم پر ترے حصول کے بعدوہ حال غم بھی کہیں گر تجھے برا نہ لگے
دور تکذیب کا فرہاد ہوں میری خاطرحق کی آواز صداقت کی اور شیریں ہےمیرا منصب ہے حصول شیریںوصل شیریں کے لیے تیشہ اٹھاتا ہوں میںتیشۂ عزم و یقیں جو ابھی کند نہیںسینۂ سنگ ابھی خشک نہیںہر رگ سنگ میں اک جوئے رواں پنہاں ہےمیں کہ فرہاد ہوں رگ رگ میں مریشعلۂ قطرۂ خوں جولاں ہےمیری گردن پہ ہے سربار امانت کی طرحمیرے ہی تیشے سے کٹ سکتا ہے لیکن یہ کبھیجھک تو سکتا ہی نہیںجٹ گئے ہاتھ اٹھے اور بنے ایک کماںٹوٹ سکتی نہیں ہاتھوں کی کماںچھوٹ سکتا نہیں تیشہ میرااس کی ہر ضرب جواں سے جب تکریزہ ریزہ نہیں ہوظلم و تکذیب کا یہ کوہ گراں
نئی امنگوں کی روشنی میںغرور عزم جوان کو لے کرحصول منزل کی آرزو میںچراغ الفت کی لو بڑھائےحصار صحرا عبور کرکےجو کاروان حیات پہنچافضا میں جھمکا وہ نور بن کرافق پہ ابھرا ہلال بن کرحسین راتوں کی چاندنی میںچمک اٹھا ہے دمک اٹھا ہے
وہ جنہیں مجھ سے محبت بھی ہے ہمدردی بھی ہےمیرے علمی شوق کو کہتے ہیں بیکار و فضولپوچھتے ہیں وہ مجھے کیوں ان کتابوں سے ہے عشقہو نہ مالی منفعت کا جن کے پڑھنے سے حصولجانتا ہوں میں بھی مالی فائدہ ان سے نہیںپھر بھی کرتا ہوں دل و جاں سے کتابوں کو پسندسرفرازی دے نہیں سکتی وہ دولت سے مگرمجھ کو کر دیتی ہیں خود اپنی نگاہوں میں بلند
مرے پاسموت کے بہت سے آپشنز ہیںمیں کسی بھی وقت کہیں بھی مارا جا سکتا ہوںموبائل چھیننے والا نوجوانمجھے ٹخنے پر گولی مار سکتا ہےپولس کے ناکے پر نہ رکنے کی پاداش میںمجھے تھانے کے اندر مارا جا سکتا ہےرات کے پچھلے پہرگھر میں گھسنے والا ڈاکو کالی جیب ہونے کے جرم میںمجھے بندوق کے ہٹ مارک سے ہلاک کر سکتا ہےجی پی فنڈ کے حصول کی خاطرمیںاے جی آفس کی سیڑھیاں چڑھتے چڑھتےدل کے دورے سے بھی مر سکتا ہوںاورکسی گنجان مارکیٹ یا مسجد میں ہونے والے دھماکے میں با آسانیشہادت پا سکتا ہوںاب توغربت کی لکیر سے لٹک کرمیرے بھوک سے مرنے کے امکانات بھی پیدا ہونے لگے ہیںاگرچہ جنگ میں کام آنے کا زمانہ گزر چکا ہےمگر بعض مقدس دشمنمیری موت کے عوض جنت کے طلب گار ہیںمیری سماجی موت سے اب کسی کو کوئی فائدہ نہیںحتٰی کہ مجھے بھی نہیںمگر پلاٹ مافیا کے علاوہ ذخیرہ اندوز اور سٹے بازمیری موت کے منتظر ہیںاورانہوں نے مجھے بے توقیر کر کےسڑک پر میری خود سوزی کا راستہ کشادہ کر دیا ہےجمہوریت اور انسانی حقوق کی بازیافت کے لیے مرنا میرا خواب تھامگربچوں کی فیسیں ادا کرنے کے لیے اور ٹائم لگانے کے باعثمیرے پاس ایسی عیاشی کے لیے وقت نہیںسومیں بقائمی ہوش و حواس ایسے فرسودہ نظریات کو مسترد کرتا ہوںرات دیر گئےگھر لوٹتے ہوئےراہ گیری موت مارے جانا میری ہرگز ترجیح نہیںمگر اس میں حرج بھی کیا ہےکہ اس کے عوض سرکاری خزانے سے پانچ لاکھ روپے ملتے ہیںمیںزندہ رہنے کے امکانات سے تقریباً محروم کیا جا چکا ہوںمگر نہ جانے کیوںمیں زندہ رہنا چاہتا ہوں
محبت جس میں لغزش بھی حصول کامرانی ہےمحبت جس کی ہر کاوش سرور جاودانی ہےمحبت جس میں غم بھی انتہائے شادمانی ہےمحبت جس کی تفسیر و وضاحت بے زبانی ہے
یہ رضائے رب جلیل تھیکہ نبی نے سیر کی عرش کیکوئی سویا سایہ تیغ میںتو رضائے رب جلی ملیکبھی طور پہ ہوئی انتہاکہ خدا بھی جلوہ نما ہواکبھی رحمتوں کا نزول تھاکبھی عشق کا یہ حصول تھاکہ نہایت اس کی حسین تھاکہیں آرزوئے وطن ہوئیکہیں خامشی بھی سخن ہوئیکہیں چاہتوں کا خراج تھا
سکھ کا حصولاور دکھ سے نجاتصرف دو ہی تو مسئلے نہیں ہیں زندگی کےسکھ اور دکھ کے بیچ بھی تو مسئلے ہیں
یہ خوش لباس لڑکیاںحسیں حسیں جواں جواںحصول علم کے لیےقدم قدم رواں دواںخوشی سے دل مہک اٹھےنظر پڑی جہاں جہاںکھلی ہوئی کتاب میںشرافتوں کی داستاںحقیقتیں سمٹ گئیںٹھہر کے دم لیا جہاںشراب کی مثال ہیںشباب کی یہ سرخیاںیہ انقلاب کی ادامیں دیکھتا چلا گیا
گلوبل ولیج کی آزاد مارکیٹ میںحصول انصاف عنقا ہو چکا ہےآزادیٔ رائے کے نام پر پیچیدہ افکار پک رہے ہیںکہیں پہ سائنس فتح کے نعرے لگا رہی ہےکہیں پہ انسانیت اپنا چہرہ چھپا رہی ہےعجیب جنگی جنوں کا دنیا کو سامنا ہےفن تشہیر نے مصنوعات ناقص کو بھیکاملیت کا درجہ عطا کیا ہےیہ دور ارتقا تو حرکت معکوس بن چکا ہے
ہر اک نفع جائز نقصان کے بطن سے ہےانہوں نے جو حاصل کیا وہ زیادہ تھااور آخر شب کے کچھ خواب کو جو گنوایاوہ کم تھااسی نا تناسب حصول و خسارہ کا رد عمل ہےکہ منزل کی آغوش میں بھیانہیں سکھ نہیں ہے
چنانچہ سر شام ہم سب کسی خاندان فرنگی سے بہر ملاقات نکلےیہاں میرا ''ہم سب'' سے مطلب ہے وہ دوسرے ہم وطن اور پڑوسی کہ جو ملک افرنگ کی اس بڑیجامعہ میں حصول زر علم و دانش کو آئے ہوئے تھے''کسی'' سے یہ مطلب ہے ہم کو خبر تک نہیں تھی کہ ہم سب کہاں جا رہے ہیںکہاں کس کو کس شخص کی میزبانی ملے گیبہرحال یہ طائفہ اجنبی مہمانوں کا اک درمیانے سے گھر میزبانوں ہی کی رہنمائی میں پہونچاوہاں ہم سے پہلے بھی کچھ لوگ موجود تھےروایات بیگانگی فرنگی میں بستہطنابوں میں برفیلے ٹھٹھرے ہوئے یخ زدہ موسموں میں مقیدمگر جن کے چہروں پہ ان کی معیشت کے رسمی شگوفے کھلے تھےتعارف کی اک مختصر تیز ٹھنڈی سی گردانسو آخری نام کے آخری حرف کی ڈوبتی چند لہریںسو آخری ہاتھ کے کھردرے چند ریزےمرے حافظے میں تو کچھ بھی نہیں رہ گیا تھاچنانچہ تعارف کے سنگین فرشوں کو اک بار پھر سے کریدا تو دیکھاسطح سخت تھی اور ناخن بڑے نرم تھےاس اثنا میں اک خانم میزبان دونوں ہاتھوں میں سینی اٹھائےنبید مصفا و گل رنگ کے کچھ بلوریں پیالے سجائےبصد ناز و انداز آئیںابھی اس نبید مصفا کے دو چار چکر ہوئے تھےکہ بوسیدہ رسموں کی اونچی فصلیںتعصب کے تاریک زنداںتکلف کی چکنی منڈیریںتصنع کی پرخار باڑھیںسراسر یہ سب گر گئیں اور اجنبی ہم وطن بن گئے
ماہ اور سال کتنے بیت گئےبے سبب بے حصول بے منشاہائے لیکن یہ ایک اک لمحہکچھ بھی کیجے گزر نہیں پاتاچبھ رہا ہے جگر میں اک کانٹاکاش میرا بھی کوئی ہو جاتاکاش میرا بھی کوئی ہو جاتاکاش میرا بھی کوئی ہو جاتا
حقیقت کا تقاضا ہے ہو دل کو جستجو پہلےحصول مدعا کو چاہئے کچھ آرزو پہلےنگاہیں خود ہی آئیں گی چمن میں بہر نظارہترے گلشن کے پھولوں میں مگر ہو رنگ و بو پہلےاگر شیشہ میں صہبا ہے تو مے کش مل ہی جائیں گےمہیا میکدے میں چاہئے جام و سبو پہلےسما جائے گا سرمہ بن کے خلقت کی نگاہوں میںتو اپنی ذات میں پیدا کرے گر آبرو پہلےہرے ہو جائیں گے اک دن تری امید کے بوٹےچمن میں آنسوؤں کی تو بہا دے آب جو پہلےگریباں چاک ہو مجنوں صفت گر شوق لیلیٰ ہےپھرا کر دشت وحشت میں مثال قیس تو پہلےخودی کو گر مٹائے گا خدا بھی مل ہی جائے گااٹھایا چاہئے دل سے حجاب ما و تو پہلےضروری ہے کہ کھل جائیں قبولیت کے دروازےدعاؤں کو پوریؔ دل سے نکلنے کی ہو خو پہلے
شفق کی دلہن اپنے غرفے سے کب تک مجھے دیکھ کر مسکراتی رہے گیسنہری لبادے کی زر کار کرنیں کہاں تک یوں ہی گنگناتی رہیں گیکہاں تک زمرد کے پردے پہ یہ سرخ پھولوں کے نغمے مچلتے رہیں گےکہ آخر کوئی چاند کوئی اندھیرا کسی شرق تیرہ کے در سے نکل کرابھی اس کو پہنائے گا تیرگی کا وہ جامہ کہ اس کی جواں ریت امنگیںستارے اڑاتی ہوئی ڈوب جائیں گی مغرب کی خاموش خونیں خلا میںشفق کی دلہن جھانک کر دیکھتی ہےمجھے دیکھتی ہےمرے دل کے بجھتے ہوئے سرخ شعلوں کی پرواز بے کار کو دیکھتی ہےکہ یہ زندگی جو ودیعت ہوئی تھی کہ ہر سمت سیلاب نغمہ بہا دےحصول مسرت کی خاطر ہر اک سنگ خارا کو اک مرمریں بت بنا دےوہ بت جو ہر اک تان پر مسکرا دے ہر اک سمت سیلاب نغمہ بہا دےہر اک نغمہ تاریک راتوں کے سینوں کو یوں گدگدا دےکہ تاریکیوں سے وہ انوار پھوٹیں جنہیں آفتاب سحر خود صدا دےمگر اب یہی زندگی بجھ رہی ہے زمانے کے بیتاب آب رواں میںشفق کی دلہن جھانک کر دیکھتی ہے کسے دیکھتی ہے مجھے دیکھتی ہےمجھے دیکھتی ہے تو میں اپنے غرفے کی بانہوں کو ملنے کی تاکید کر دوںکہ میں تو اسی حال میں رات دن وقت کے نور و ظلمت میں گھلتا رہا ہوںمرے پاس کوئی سنہری لبادہ نہیں ہے نہ کوئی زمرد کے پردےمجھے بے سبب دیکھنے میں ہے کیا اب کہ میں اس کو حاصل نہیں کر سکوں گامجھے اپنی دن بھر کی تھک ہار کر میرے پاس آنے والی دلہن سے غرض ہےمری زرد رو ملتجی اور بے حس دلہن مجھ کو ایسے کہاں دیکھتی ہےاسے اس سے کیا بجھ رہا ہوں دما دم دما دم پیاپے پیاپے و دما دماسے ایسی باتوں سے رغبت نہیں ہےاسے تو غرض اس سے ہے تھک چکی ہے گھریلو شب و روز کی الجھنوں سےیہ اس کا تقاضا ہے لے جاؤں اس کو کہیں دور بادل سے پربت سے بھی دورجہاں ہوں سنہری لبادوں کی کرنیں وہ زر کار کرنیں کہ جو گنگنائیںجہاں ہوں زمرد کے پردوں پہ خوں رنگ پھولوں کے نغمے کہ جو مسکرائیںجہاں نیلمی سرد غرفے ہوں غرفےذرا کھول دوں اپنے غرفے کی باہیںشفق کی دلہن جا چکی ہے ہر اک سمت ہیں آسماں پرستاروں کے آنسوادھر آ ادھر آ مری زرد رو میری بے حس دلہن میری آغوش میں آکہ میں ڈر رہا تھامجھے دیکھتی تھی شفق کی دلہن تیرے ہوتے ہوئے بھی مجھے دیکھتی تھیمجھے گھورتی تھی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books