aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ibrat"
نہیں منت کش تاب شنیدن داستاں میریخموشی گفتگو ہے بے زبانی ہے زباں میرییہ دستور زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میںیہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میریاٹھائے کچھ ورق لالے نے کچھ نرگس نے کچھ گل نےچمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میریاڑا لی قمریوں نے طوطیوں نے عندلیبوں نےچمن والوں نے مل کر لوٹ لی طرز فغاں میریٹپک اے شمع آنسو بن کے پروانے کی آنکھوں سےسراپا درد ہوں حسرت بھری ہے داستاں میریالٰہی پھر مزہ کیا ہے یہاں دنیا میں رہنے کاحیات جاوداں میری نہ مرگ ناگہاں میریمرا رونا نہیں رونا ہے یہ سارے گلستاں کاوہ گل ہوں میں خزاں ہر گل کی ہے گویا خزاں میریدریں حسرت سرا عمریست افسون جرس دارمز فیض دل طپیدن ہا خروش بے نفس دارمریاض دہر میں نا آشنائے بزم عشرت ہوںخوشی روتی ہے جس کو میں وہ محروم مسرت ہوںمری بگڑی ہوئی تقدیر کو روتی ہے گویائیمیں حرف زیر لب شرمندۂ گوش سماعت ہوںپریشاں ہوں میں مشت خاک لیکن کچھ نہیں کھلتاسکندر ہوں کہ آئینہ ہوں یا گرد کدورت ہوںیہ سب کچھ ہے مگر ہستی مری مقصد ہے قدرت کاسراپا نور ہو جس کی حقیقت میں وہ ظلمت ہوںخزینہ ہوں چھپایا مجھ کو مشت خاک صحرا نےکسی کو کیا خبر ہے میں کہاں ہوں کس کی دولت ہوںنظر میری نہیں ممنون سیر عرصۂ ہستیمیں وہ چھوٹی سی دنیا ہوں کہ آپ اپنی ولایت ہوںنہ صہبا ہوں نہ ساقی ہوں نہ مستی ہوں نہ پیمانہمیں اس مے خانۂ ہستی میں ہر شے کی حقیقت ہوںمجھے راز دو عالم دل کا آئینہ دکھاتا ہےوہی کہتا ہوں جو کچھ سامنے آنکھوں کے آتا ہےعطا ایسا بیاں مجھ کو ہوا رنگیں بیانوں میںکہ بام عرش کے طائر ہیں میرے ہم زبانوں میںاثر یہ بھی ہے اک میرے جنون فتنہ ساماں کامرا آئینۂ دل ہے قضا کے راز دانوں میںرلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوکہ عبرت خیز ہے تیرا فسانہ سب فسانوں میںدیا رونا مجھے ایسا کہ سب کچھ دے دیا گویالکھا کلک ازل نے مجھ کو تیرے نوحہ خوانوں میںنشان برگ گل تک بھی نہ چھوڑ اس باغ میں گلچیںتری قسمت سے رزم آرائیاں ہیں باغبانوں میںچھپا کر آستیں میں بجلیاں رکھی ہیں گردوں نےعنادل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آشیانوں میںسن اے غافل صدا میری یہ ایسی چیز ہے جس کووظیفہ جان کر پڑھتے ہیں طائر بوستانوں میںوطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہےتری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میںذرا دیکھ اس کو جو کچھ ہو رہا ہے ہونے والا ہےدھرا کیا ہے بھلا عہد کہن کی داستانوں میںیہ خاموشی کہاں تک لذت فریاد پیدا کرزمیں پر تو ہو اور تیری صدا ہو آسمانوں میںنہ سمجھوگے تو مٹ جاؤگے اے ہندوستاں والوتمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میںیہی آئین قدرت ہے یہی اسلوب فطرت ہےجو ہے راہ عمل میں گامزن محبوب فطرت ہےہویدا آج اپنے زخم پنہاں کر کے چھوڑوں گالہو رو رو کے محفل کو گلستاں کر کے چھوڑوں گاجلانا ہے مجھے ہر شمع دل کو سوز پنہاں سےتری تاریک راتوں میں چراغاں کر کے چھوڑوں گامگر غنچوں کی صورت ہوں دل درد آشنا پیداچمن میں مشت خاک اپنی پریشاں کر کے چھوڑوں گاپرونا ایک ہی تسبیح میں ان بکھرے دانوں کوجو مشکل ہے تو اس مشکل کو آساں کر کے چھوڑوں گامجھے اے ہم نشیں رہنے دے شغل سینہ کاوی میںکہ میں داغ محبت کو نمایاں کر کے چھوڑوں گادکھا دوں گا جہاں کو جو مری آنکھوں نے دیکھا ہےتجھے بھی صورت آئینہ حیراں کر کے چھوڑوں گاجو ہے پردوں میں پنہاں چشم بینا دیکھ لیتی ہےزمانے کی طبیعت کا تقاضا دیکھ لیتی ہےکیا رفعت کی لذت سے نہ دل کو آشنا تو نےگزاری عمر پستی میں مثال نقش پا تو نےرہا دل بستۂ محفل مگر اپنی نگاہوں کوکیا بیرون محفل سے نہ حیرت آشنا تو نےفدا کرتا رہا دل کو حسینوں کی اداؤں پرمگر دیکھی نہ اس آئینے میں اپنی ادا تو نےتعصب چھوڑ ناداں دہر کے آئینہ خانے میںیہ تصویریں ہیں تیری جن کو سمجھا ہے برا تو نےسراپا نالۂ بیدار سوز زندگی ہو جاسپند آسا گرہ میں باندھ رکھی ہے صدا تو نےصفائے دل کو کیا آرائش رنگ تعلق سےکف آئینہ پر باندھی ہے او ناداں حنا تو نےزمیں کیا آسماں بھی تیری کج بینی پہ روتا ہےغضب ہے سطر قرآں کو چلیپا کر دیا تو نےزباں سے گر کیا توحید کا دعویٰ تو کیا حاصلبنایا ہے بت پندار کو اپنا خدا تو نےکنویں میں تو نے یوسف کو جو دیکھا بھی تو کیا دیکھاارے غافل جو مطلق تھا مقید کر دیا تو نےہوس بالائے منبر ہے تجھے رنگیں بیانی کینصیحت بھی تری صورت ہے اک افسانہ خوانی کیدکھا وہ حسن عالم سوز اپنی چشم پر نم کوجو تڑپاتا ہے پروانے کو رلواتا ہے شبنم کوذرا نظارہ ہی اے بو الہوس مقصد نہیں اس کابنایا ہے کسی نے کچھ سمجھ کر چشم آدم کواگر دیکھا بھی اس نے سارے عالم کو تو کیا دیکھانظر آئی نہ کچھ اپنی حقیقت جام سے جم کوشجر ہے فرقہ آرائی تعصب ہے ثمر اس کایہ وہ پھل ہے کہ جنت سے نکلواتا ہے آدم کونہ اٹھا جذبۂ خورشید سے اک برگ گل تک بھییہ رفعت کی تمنا ہے کہ لے اڑتی ہے شبنم کوپھرا کرتے نہیں مجروح الفت فکر درماں میںیہ زخمی آپ کر لیتے ہیں پیدا اپنے مرہم کومحبت کے شرر سے دل سراپا نور ہوتا ہےذرا سے بیج سے پیدا ریاض طور ہوتا ہےدوا ہر دکھ کی ہے مجروح تیغ آرزو رہناعلاج زخم ہے آزاد احسان رفو رہناشراب بے خودی سے تا فلک پرواز ہے میریشکست رنگ سے سیکھا ہے میں نے بن کے بو رہناتھمے کیا دیدۂ گریاں وطن کی نوحہ خوانی میںعبادت چشم شاعر کی ہے ہر دم با وضو رہنابنائیں کیا سمجھ کر شاخ گل پر آشیاں اپناچمن میں آہ کیا رہنا جو ہو بے آبرو رہناجو تو سمجھے تو آزادی ہے پوشیدہ محبت میںغلامی ہے اسیر امتیاز ما و تو رہنایہ استغنا ہے پانی میں نگوں رکھتا ہے ساغر کوتجھے بھی چاہیئے مثل حباب آبجو رہنانہ رہ اپنوں سے بے پروا اسی میں خیر ہے تیریاگر منظور ہے دنیا میں او بیگانہ خو رہناشراب روح پرور ہے محبت نوع انساں کیسکھایا اس نے مجھ کو مست بے جام و سبو رہنامحبت ہی سے پائی ہے شفا بیمار قوموں نےکیا ہے اپنے بخت خفتہ کو بیدار قوموں نےبیابان محبت دشت غربت بھی وطن بھی ہےیہ ویرانہ قفس بھی آشیانہ بھی چمن بھی ہےمحبت ہی وہ منزل ہے کہ منزل بھی ہے صحرا بھیجرس بھی کارواں بھی راہبر بھی راہزن بھی ہےمرض کہتے ہیں سب اس کو یہ ہے لیکن مرض ایساچھپا جس میں علاج گردش چرخ کہن بھی ہےجلانا دل کا ہے گویا سراپا نور ہو جانایہ پروانہ جو سوزاں ہو تو شمع انجمن بھی ہےوہی اک حسن ہے لیکن نظر آتا ہے ہر شے میںیہ شیریں بھی ہے گویا بے ستوں بھی کوہ کن بھی ہےاجاڑا ہے تمیز ملت و آئیں نے قوموں کومرے اہل وطن کے دل میں کچھ فکر وطن بھی ہےسکوت آموز طول داستان درد ہے ورنہزباں بھی ہے ہمارے منہ میں اور تاب سخن بھی ہےنمیگردید کو تہ رشتۂ معنی رہا کردمحکایت بود بے پایاں بخاموشی ادا کردم
او دیس سے آنے والے بتاکیا اب بھی پرانے کھنڈروں پرتاریخ کی عبرت طاری ہےان پورنا کے اجڑے مندر پرمایوسی و حسرت طاری ہےسنسان گھروں پر چھاؤنی کےویرانی و رقت طاری ہےاو دیس سے آنے والے بتا
لوگ اس منظر جانکاہ کو جب دیکھیں گےاور بڑھ جائے گا کچھ سطوت شاہی کا جلالتیرے انجام سے ہر شخص کو عبرت ہوگیسر اٹھانے کا رعایا کو نہ آئے گا خیال
وقت سے پہلے ہی آئی ہے قیامت دیکھیےمنہ کو ڈھانپے رو رہی ہے آدمیت دیکھیےدور جا کر کس لیے تصویر عبرت دیکھیےاپنے قبلہ جوشؔ صاحب ہی کی حالت دیکھیے
بچو نہ تم سمجھنا ہرگز اسے کہانییہ ہے تمہارے حق میں عبرت کا تازیانہ
آسماں بادل کا پہنے خرقۂ دیرینہ ہےکچھ مکدر سا جبین ماہ کا آئینہ ہےچاندنی پھیکی ہے اس نظارۂ خاموش میںصبح صادق سو رہی ہے رات کی آغوش میںکس قدر اشجار کی حیرت فزا ہے خامشیبربط قدرت کی دھیمی سی نوا ہے خامشیباطن ہر ذرۂ عالم سراپا درد ہےاور خاموشی لب ہستی پہ آہ سرد ہےآہ جولاں گاہ عالمگیر یعنی وہ حصاردوش پر اپنے اٹھائے سیکڑوں صدیوں کا بارزندگی سے تھا کبھی معمور اب سنسان ہےیہ خموشی اس کے ہنگاموں کا گورستان ہےاپنے سکان کہن کی خاک کا دل دادہ ہےکوہ کے سر پر مثال پاسباں استادہ ہےابر کے روزن سے وہ بالائے بام آسماںناظر عالم ہے نجم سبز فام آسماںخاک بازی وسعت دنیا کا ہے منظر اسےداستاں ناکامئ انساں کی ہے ازبر اسےہے ازل سے یہ مسافر سوئے منزل جا رہاآسماں سے انقلابوں کا تماشا دیکھتاگو سکوں ممکن نہیں عالم میں اختر کے لیےفاتحہ خوانی کو یہ ٹھہرا ہے دم بھر کے لیےرنگ و آب زندگی سے گل بدامن ہے زمیںسیکڑوں خوں گشتہ تہذیبوں کا مدفن ہے زمیںخواب گہ شاہوں کی ہے یہ منزل حسرت فزادیدۂ عبرت خراج اشک گلگوں کر اداہے تو گورستاں مگر یہ خاک گردوں پایہ ہےآہ اک برگشتہ قسمت قوم کا سرمایہ ہےمقبروں کی شان حیرت آفریں ہے اس قدرجنبش مژگاں سے ہے چشم تماشا کو حذرکیفیت ایسی ہے ناکامی کی اس تصویر میںجو اتر سکتی نہیں آئینۂ تحریر میںسوتے ہیں خاموش آبادی کے ہنگاموں سے دورمضطرب رکھتی تھی جن کو آرزوئے ناصبورقبر کی ظلمت میں ہے ان آفتابوں کی چمکجن کے دروازوں پہ رہتا ہے جبیں گستر فلککیا یہی ہے ان شہنشاہوں کی عظمت کا مآلجن کی تدبیر جہانبانی سے ڈرتا تھا زوالرعب فغفوری ہو دنیا میں کہ شان قیصریٹل نہیں سکتی غنیم موت کی یورش کبھیبادشاہوں کی بھی کشت عمر کا حاصل ہے گورجادۂ عظمت کی گویا آخری منزل ہے گورشورش بزم طرب کیا عود کی تقریر کیادردمندان جہاں کا نالۂ شب گیر کیاعرصۂ پیکار میں ہنگامۂ شمشیر کیاخون کو گرمانے والا نعرۂ تکبیر کیااب کوئی آواز سوتوں کو جگا سکتی نہیںسینۂ ویراں میں جان رفتہ آ سکتی نہیںروح مشت خاک میں زحمت کش بیداد ہےکوچہ گرد نے ہوا جس دم نفس فریاد ہےزندگی انساں کی ہے مانند مرغ خوش نواشاخ پر بیٹھا کوئی دم چہچہایا اڑ گیاآہ کیا آئے ریاض دہر میں ہم کیا گئےزندگی کی شاخ سے پھوٹے کھلے مرجھا گئےموت ہر شاہ و گدا کے خواب کی تعبیر ہےاس ستم گر کا ستم انصاف کی تصویر ہےسلسلہ ہستی کا ہے اک بحر نا پیدا کناراور اس دریائے بے پایاں کی موجیں ہیں مزاراے ہوس خوں رو کہ ہے یہ زندگی بے اعتباریہ شرارے کا تبسم یہ خس آتش سوارچاند جو صورت گر ہستی کا اک اعجاز ہےپہنے سیمابی قبا محو خرام ناز ہےچرخ بے انجم کی دہشت ناک وسعت میں مگربیکسی اس کی کوئی دیکھے ذرا وقت سحراک ذرا سا ابر کا ٹکڑا ہے جو مہتاب تھاآخری آنسو ٹپک جانے میں ہو جس کی فنازندگی اقوام کی بھی ہے یوں ہی بے اعتباررنگ ہائے رفتہ کی تصویر ہے ان کی بہاراس زیاں خانے میں کوئی ملت گردوں وقاررہ نہیں سکتی ابد تک بار دوش روزگاراس قدر قوموں کی بربادی سے ہے خوگر جہاںدیکھتا بے اعتنائی سے ہے یہ منظر جہاںایک صورت پر نہیں رہتا کسی شے کو قرارذوق جدت سے ہے ترکیب مزاج روزگارہے نگین دہر کی زینت ہمیشہ نام نومادر گیتی رہی آبستن اقوام نوہے ہزاروں قافلوں سے آشنا یہ رہ گزرچشم کوہ نور نے دیکھے ہیں کتنے تاجورمصر و بابل مٹ گئے باقی نشاں تک بھی نہیںدفتر ہستی میں ان کی داستاں تک بھی نہیںآ دبایا مہر ایراں کو اجل کی شام نےعظمت یونان و روما لوٹ لی ایام نےآہ مسلم بھی زمانے سے یوں ہی رخصت ہواآسماں سے ابر آزاری اٹھا برسا گیاہے رگ گل صبح کے اشکوں سے موتی کی لڑیکوئی سورج کی کرن شبنم میں ہے الجھی ہوئیسینۂ دریا شعاعوں کے لیے گہوارہ ہےکس قدر پیارا لب جو مہر کا نظارہ ہےمحو زینت ہے صنوبر جوئبار آئینہ ہےغنچۂ گل کے لیے باد بہار آئینہ ہےنعرہ زن رہتی ہے کوئل باغ کے کاشانے میںچشم انساں سے نہاں پتوں کے عزلت خانے میںاور بلبل مطرب رنگیں نوائے گلستاںجس کے دم سے زندہ ہے گویا ہوائے گلستاںعشق کے ہنگاموں کی اڑتی ہوئی تصویر ہےخامۂ قدرت کی کیسی شوخ یہ تحریر ہےباغ میں خاموش جلسے گلستاں زادوں کے ہیںوادی کہسار میں نعرے شباں زادوں کے ہیںزندگی سے یہ پرانا خاک داں معمور ہےموت میں بھی زندگانی کی تڑپ مستور ہےپتیاں پھولوں کی گرتی ہیں خزاں میں اس طرحدست طفل خفتہ سے رنگیں کھلونے جس طرحاس نشاط آباد میں گو عیش بے اندازہ ہےایک غم یعنی غم ملت ہمیشہ تازہ ہےدل ہمارے یاد عہد رفتہ سے خالی نہیںاپنے شاہوں کو یہ امت بھولنے والی نہیںاشک باری کے بہانے ہیں یہ اجڑے بام و درگریۂ پیہم سے بینا ہے ہماری چشم تردہر کو دیتے ہیں موتی دیدۂ گریاں کے ہمآخری بادل ہیں اک گزرے ہوئے طوفاں کے ہمہیں ابھی صد ہا گہر اس ابر کی آغوش میںبرق ابھی باقی ہے اس کے سینۂ خاموش میںوادئ گل خاک صحرا کو بنا سکتا ہے یہخواب سے امید دہقاں کو جگا سکتا ہے یہہو چکا گو قوم کی شان جلالی کا ظہورہے مگر باقی ابھی شان جمالی کا ظہور
دیکھ آئے ہم بھی دو دن رہ کے دہلی کی بہارحکم حاکم سے ہوا تھا اجتماع انتشارآدمی اور جانور اور گھر مزین اور مشینپھول اور سبزہ چمک اور روشنی ریل اور تارکراسن اور برق اور پٹرولیم اور تارپینموٹر اور ایروپلین اور جمگھٹے اور اقتدارمشرقی پتلوں میں تھی خدمت گزاری کی امنگمغربی شکلوں سے شان خود پسندی آشکارشوکت و اقبال کے مرکز حضور امپررزینت و دولت کی دیوی امپرس عالی تباربحر ہستی لے رہا تھا بے دریغ انگڑائیاںتھیمس کی امواج جمنا سے ہوئی تھیں ہم کنارانقلاب دہر کے رنگین نقشے پیش تھےتھی پئے اہل بصیرت باغ عبرت میں بہارذرے ویرانوں سے اٹھتے تھے تماشا دیکھنےچشم حیرت بن گئی تھی گردش لیل و نہارجامے سے باہر نگاہ ناز فتاحان ہندحد قانونی کے اندر آنریبلوں کی قطارخرچ کا ٹوٹل دلوں میں چٹکیاں لیتا ہوافکر ذاتی میں خیال قوم غائب فی المزاردعوتیں انعام اسپیچیں قواعد فوج کمپعزتیں خوشیاں امیدیں احتیاطیں اعتبارپیش رو شاہی تھی پھر ہز ہائینس پھر اہل جاہبعد اس کے شیخ صاحب ان کے پیچھے خاکسار
مگر افسوس یہ دنیا ہے مقام عبرترنج کی یاد دلاتا ہے خیال راحت
بیست و شش سال در خدمت فن بسر کردہ امبہ چشم نم اوراق تر کردہ امدر فقیری گزر کردہ امحرف سر کردہ امیہ جو لفظوں کی پیغمبری ہے نہ ہوتی تو عبرتسرا میں بھلا کون جیتامیں لفظوں میں سسکارتا ہوںسنا تم نے سرنغمۂ تازہ کا یہ کتنے قرنوں سے دل میں کسیسل کی صورت جما تھایہ جوئے رواں تم تک آئی مگر کتنےخورشید و مہتاب آہنگبنتے ہوئے بجھ گئےکتنے دن گل ہوئےکتنی راتیں ڈھلیںخیر کیسا حسابایسے نغموں میں خوں اور چراغوں کے روغن کا ایکپرسہ کسے دوںبھلا کوئی عزا دار ہےپرسہ داروں کی تمثیل میں کوئی وقفہ نہیں
چشم حق بیں کے لئے عبرت کے نظارہ ملےہستیٔ انسان پہ جو زندگانی دیکھ کر
عبرت و دہشت کا خنجر ہے دل غم ناک پرہائے یہ بے دم پڑا ہے کون ٹھنڈی خاک پر
ایک کچھوے کے آ گئی جی میںکیجئے سیر و گشت خشکی کیجا رہا تھا چلا ہوا خاموشاس سے ناحق الجھ پڑا خرگوشمیاں کچھوے! تمہاری چال ہے یہیا کوئی شامت اور وبال ہے یہیوں قدم پھونک پھونک دھرتے ہوگویا اتو زمیں پہ دھرتے ہوکیوں ہوئے چل کے مفت میں بد نامبے چلے کیا اٹک رہا تھا کامتم کو یہ حوصلہ نہ کرنا تھاچلو پانی میں ڈوب مرنا تھایہ تن و توش اور یہ رفتارایسی رفتار پر خدا کی ماربولا کچھوا کہ ہوں خفا نہ حضورمیں تو ہوں آپ معترف بہ قصوراگر آہستگی ہے جرم و گناہتو میں خود اپنے جرم کا ہوں گواہمجھ کو جو سخت سست فرمایاآپ نے سب درست فرمایامجھ کو غافل مگر نہ جانئے گابندہ پرور برا نہ مانئے گایوں زبانی جواب تو کیا دوںشرط بد کر چلو تو دکھلا دوںتم تو ہو آفتاب میں ذرہپر مٹا دوں گا آپ کا غرہسن کے خرگوش نے یہ تلخ جوابکہا کچھوے سے یوں زروئے عتابتو کرے میری ہم سری کا خیالتیری یہ تاب یہ سکت یہ مجالچیونٹی کے جو پر نکل آئےتو یقیں ہے کہ اب اجل آئےارے بے باک! بد زباں منہ پھٹتو نے دیکھی کہاں ہے دوڑ جھپٹجب میں تیزی سے جست کرتا ہوںشہسواروں کو پست کرتا ہوںگرد کو میری باد پا نہ لگےلاکھ دوڑے مرا پتہ نہ لگےریل ہوں برق ہوں چھلاوا ہوںمیں چھلاوے کا بلکہ باوا ہوںتیری میری نبھے گی صحبت کیاآسماں کو زمیں سے نسبت کیاجس نے بھگتے ہوں ترکی و تازیایسے مریل سے کیا بدے بازیبات کو اب زیادہ کیا دوں طولخیر کرتا ہوں تیری شرط قبولہے مناسب کہ امتحاں ہو جائےتاکہ عیب و ہنر عیاں ہو جائےالغرض اک مقام ٹھہرا کرہوئے دونوں حریف گرم سفربسکہ زوروں پہ تھا چڑھا خرگوشتیزی پھرتی سے یوں بڑھا خرگوشجس طرح جائے توپ کا گولایا گرے آسمان سے اولاایک دو کھیت چوکڑی بھر کےاپنی چستی پہ آفریں کر کےکسی گوشہ میں سو گیا جا کرفکر ''کیا ہے چلیں گے سستا کر''اور کچھوا غریب آہستہچلا سینہ کو خاک پر گھستاسوئی گھنٹے کی جیسے چلتی ہےیا بہ تدریج چھاؤں ڈھلتی ہےیوں ہی چلتا رہا بہ استقلالنہ کیا کچھ ادھر ادھر کا خیالکام کرتا رہا جو پے در پےکر گیا رفتہ رفتہ منزل طےحیف خرگوش رہ گیا سوتاثمرہ غفلت کا اور کیا ہوتاجب کھلی آنکھ تو سویرا تھاسخت شرمندگی نے گھیرا تھاصبر و محبت میں ہے سرافرازیسست کچھوے نے جیت لی بازینہیں قصہ یہ دل لگی کے لیےبلکہ عبرت ہے آدمی کے لیےہے سخن اس حجاب میں روپوشورنہ کچھوا کہاں کہاں خرگوش
بنا ہے کوٹ یہ نیلام کی دکاں کے لیےصلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لیےبڑا بزرگ ہے یہ آزمودہ کار ہے یہکسی مرے ہوئے گورے کی یادگار ہے یہنہ دیکھ کہنیوں پہ اس کی خستہ سامانیپہن چکے ہیں اسے ترک اور ایرانیبڑا بزرگ ہے یہ گو قلیل قیمت ہےمیاں بزرگوں کا سایہ بڑا غنیمت ہےجو قدردان ہیں وہ جانتے ہیں قیمت کوکہ آفتاب چرا لے گیا ہے رنگت کویہ کوٹ کوٹوں کی دنیا کا باوا آدم ہےاگرچہ ہے وہ نگہ جو نگاہ سے کم ہےگزشتہ صدیوں کی تاریخ کا ورق ہے یہ کوٹخریدو اس کو کہ عبرت کا اک سبق ہے یہ کوٹ
ہر سمت گٹھلیوں کے وہ انبار ہائے ہائےدل چھلکے چھلکے ہو گیا عبرت مقام ہے
اب کہاں جمنا تری موجوں کی مستانہ وہ چالاب کہاں پانی کے جھرنے اور وہ لطف برشگالاب کہاں چھوٹا سا وہ رادھا کا کنج خوش گواراب کہاں وہ آہ متھرا تیرے پھولوں کی بہاراب کہاں وہ بنسی والے کی ادائے جاں نوازاب کہاں وہ آہ مرلی کی صدائے جاں نوازاب کہاں وہ خلوت راز و نیاز حسن و عشقبے صدا زیر زمیں ہیں آہ ساز حسن و عشقاو تلون کیش او کافر ادا اور دوں شعارتو نے بدلے رنگ لاکھوں آہ وضع روزگارخاک اٹھ کر آہ سر پر دامن ساحل اڑاٹکڑے ٹکڑے کر جگر کو پارہ ہائے دل اڑاسوزش غم سے پگھل جا آہ اے ریگ رواںذرے ذرے میں تیرے تصویر عبرت ہے نہاںاب کہاں وہ کنج دل کش اب کہاں رادھا کا عیشہے برنگ خندۂ گل بے بقا دنیا کا عیش
کیا یہی زندگی ہے کہ ہماپنے ہونے کی خوشیاں مناتے رہیںجسم کی لذتوں نفس کی شہوتوں میں بھٹکتے رہیںسارے بے آسرا غم گزیدوں کو عبرت کا ذریعہ سمجھ کراپنی آسائشوں نعمتوں کے لیے سجدۂ شکر میں اپنے سر کو جھکاتے رہیںکیا یہی زندگی ہےکیا یہی زندگی ہے کہ ہمغاصبوں زرپرستوں سے نظریں چرا کربے کسوں بے سہاروں کو صبر و قناعت کی تلقین کرتے رہیںگر یہی زندگی ہے تو میرے خداچھین لے ہم سے اپنی خلافت کا منصبکہ ہم واقعی اس کے لائق نہیںورنہ اے میرے رب رحم کر رحم کرزندگی دی ہے ہم کو تو پھرزندگی کا سلیقہ سکھا دے
اک شہر تھا اک باغ تھااک شہر تھایا تازہ میووں سے لدا اک باغ تھااک باغ تھایا شوخ رنگوں سے بھرا بازار تھابازار تھا یا جگنوؤں کی روشنی سے کھیلتی اک رات تھیاک رات تھییا گنگناتی جھومتینغمات کی بارش میں بھیگیوصل کی سوغات تھیاک شہر تھا اک باغ تھا اک رات تھیاور ان کے دامن میںبہار وصل کی سوغات تھیاک روز رنگ و نور کے موسم کوباد شرط اڑا کر لے گئیاک موج خوں کہئے اسےاس شہر کے اس باغ کےنام و نشاں سارے بہا کر لے گئیاے نوحہ گراے راقم افسانۂ زیر و زبراے چشم حیرت چشم ترعبرت کی جا ہے کس قدراب یاد کا ہے ایک افسردہ نگراس شہر میںکچھ دیر کو ٹھہریں ذرانوحہ کریںقصہ لکھیںتاریخ کے اوراق میںاک باب کھولیں یاد کاتقدیر ہست و بود کامغموم افسانہ لکھیں
زینب میں تیری باندیتو ایسی با حوصلہاس شان سے جلتی زمین پر چلیکہ سچ کو ضرورت نہ رہی کسی حیل حجت کیتیرے لئے آسمانوں سے کوئی معجزہ نہیں اترااجڑا ہوا گھر بے بضاعتی زمین و آسمان کی سختیاںاور تیری استقامتکہ اس قدر خوں ریزی کے بعد بھی یزیدی فتح کا خط نہ لے سکےکسی ایک فرد واحد سے نہیںتو ایک پورے غلط نظام کے مقابل تھییہ وہ مقام تھا کہ تاریخ دانوں و محققین نے ہار جیت کے نظریات کو الگ انداز سے دیکھاتیری مامتا کو سلام زینب اپنے جگر گوشوں کا غم اٹھا کر خود کو ٹوٹنے نہیں دیاایوانوں میں سر جوڑے بیٹھے اہل سیاستکسی نتیجے پر نہیں پہنچ پاتےکہ بچوں کو ذبح کرنے والےانسان ہیں مسلمان ہیںزینبمعصوم علی اصغر کو ذبح کرنے والوں کوتو نے خدا کا یہ فرمان باور کرایا تھااللہ ظالموں کو دوست نہیں رکھتاکربلا ایک راہ ہدایتروشنی ذرا سی درز کسی جھری سے داخل ہو کرپھیلے ہوئے اندھیرے پر غالب آ جاتی ہےاور تاریکی کو سویرے میں بدل دینے والے رب کو معلوم ہےکہ عشق کو باقی رکھنے کے لئے لہو سے آبیاری کی گئیلہو بہتا ہےتو زمیں زر خیز ہوتی ہےوہ طائف ہو کوفہ ہو یا میری بد نصیب زمیناندھا ہجوم ہاتھوں میں پتھر لئےجلا کو بجھا دیتا چاہتا ہےجلا جو دعا گو ہےمعبود انہیں بخش دے یہ نہیں جانتے یہ کیا کر رہے ہیںجلا باطل کے ہاتھوں میں بیعت نہیں کرتیجلا مسیحا ہےمجھے مصلوب کرنے والو شقی القلب حکمرانوبھلا پھوٹتی کرنوں کو بھی کوئی صلیب دے سکاجلا زینب ہےجو جلے ہوئے اندھیروں کے بعدہونے والی اجڑی صبح سےاس کٹھن مسافت کو طے کرتی ہےکہ بہت سی گھٹن اور ہزار صعوبتوں کے بعدایک وہ مقام آتا ہےجو تخت کو نشان عبرت بنا دے
سامنے تیرے ہے وہ سالوں سے رانا کی مثالبعد شادی کیا ہوا ہے چودھری صاحب کا حالبن گئی ہے شیخ جی کے واسطے شادی وبالاور یہی جنجال ہے مرے لیے وجہ زوالڈال ہم بد بخت انسانوں پہ عبرت کی نظراے مرے ہمدم خدا کے واسطے شادی نہ کر
سحر تھا جس کی باتوں میںنخل ثمر تھاجس کے ہاتھوں میںجادو بیاں ایساجو بانجھ زمینوں سے فصلیں اگا گیاوجود کی بے معنی کتابوں میںہمیں درس عبرت دے گیاموت اور زیست کے درمیاںکتنے فاصلے مسدود کر گیاتجربات کا بس اپنے پیالوں میں گھول کرشاخوں میں آنسو کھلا گیالے آیا وہ سوغاتجو زخم دل کا مداوا بھی بنیقدرت نے اس کو بخشیدیار شوق کی رہبریہر لمحہ جس نے کی اپنی ذات کی نگہبانیترقی پسندوں میں ساحرؔایک نرالا شاعر تھا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books