aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ikaa.ii"
کبھی کبھی میں یہ سوچتا ہوںکہ چلتی گاڑی سے پیڑ دیکھوتو ایسا لگتا ہےدوسری سمت جا رہے ہیںمگر حقیقت میںپیڑ اپنی جگہ کھڑے ہیںتو کیا یہ ممکن ہےساری صدیاںقطار اندر قطار اپنی جگہ کھڑی ہوںیہ وقت ساکت ہواور ہم ہی گزر رہے ہوںاس ایک لمحے میںسارے لمحےتمام صدیاں چھپی ہوئی ہوںنہ کوئی آئندہنہ گزشتہجو ہو چکا ہےجو ہو رہا ہےجو ہونے والا ہےہو رہا ہےمیں سوچتا ہوںکہ کیا یہ ممکن ہےسچ یہ ہوکہ سفر میں ہم ہیںگزرتے ہم ہیںجسے سمجھتے ہیں ہمگزرتا ہےوہ تھما ہےگزرتا ہے یا تھما ہوا ہےاکائی ہے یا بٹا ہوا ہےہے منجمدیا پگھل رہا ہےکسے خبر ہےکسے پتا ہےیہ وقت کیا ہے
وہ بے خبر ہےکہ شاطر وقت کی نظر میںکوئی اکائیشجر حجر ہو کہ ذی نفس ہونظام کل سے الگ نہیں ہےوہ یہ نہیں جانتی کہ ہستی کے کارخانے میںاس کا ہونا نہ ہونا بے نام حادثہ ہےاور اس کے حصے کا کل اثاثہوہ چند لمحے وہ چند سانسیں ہیںجن میں وہ خواب دیکھتی ہےسلیقۂ ذات سے چمن کو سنوارنے کابہار جاں کو نکھارنے کا۲بجا کہ ناپائیدار ہے یہ وجود میرامیں غیر فانی حیات کے سلسلے میںاک بیچ کی کڑی ہوںرہین گردش بھی مرکز کائنات بھی ہوںجو میں نے دیکھا ہے وہ مرے خوں میں رچ گیا ہےجو میں نے سوچا ہے مجھ میں زندہ ہےاور جو کچھ سنا ہے مجھ میں سما گیا ہےہوا کی صورت ہر ایک احساسمیری سانسوں میں جی رہا ہےہر ایک منظر مرے تصور میں بس گیا ہےمیں ذات محدود اپنی پہنائیوں میںاک کائنات بھی ہوںمری رگوں میں وہ جوشش جاوداں رواں ہےجو شاخ میں پھول کی نمو ہےجو بحر میں موج کی تڑپ ہےپر کبوتر میں تاب پرواز ہےستاروں میں روشنی ہےمیں اپنے ہونے کے سب حوالوں میں رونما ہوںمیں جا بجا صورت صبا ہوںغزال خوش چشم کی کلیوں میں کھیلتا ہوںہمکتے بچے کی مسکراہٹ ہوںپیر شب خیز کی دعا ہوںمیں مہر میں ماہتاب میں ہوںیہ کیسی چاہت ہے جس سے میںایک مستقل اضطراب میں ہوںوہ کون سی منزل طلب تھیکہ رانجھا رانجھا پکارتی ہیرآپ ہی رانجھا ہو گئی تھی
اٹھ از سر نو دہر کے حالات بدل ڈالتدبیر سے تقدیر کے دن رات بدل ڈالپھر درس مساوات کی حاجت ہے جہاں کوآقائی و خدمت کے خطابات بدل ڈالکالا ہو کہ گورا ہو خدا ایک ہے سب کاقومیت بے جا کی روایات بدل ڈالچینی ہو کہ ہندی ہو برابر کے ہیں بھائیوطنیت محدود کے وہمات بدل ڈالکل چھوٹے بڑے آدم خاکی کے ہیں فرزندہر نسل سے بیزار ہو ہر ذات بدل ڈالاخلاق میں طاقت ہے فزوں تیغ و سناں سےپیکار کے یہ آہنی آلات بدل ڈالکیا ظلم ہے انسان ہو انسان کا دشمنمردان ہوس کار کی عادات بدل ڈالمحنت سے بھی مزدور کو روٹی نہیں ملتیاس بندۂ مجبور کے اوقات بدل ڈالآپس میں یہ ہر روز کی خونریزیاں کب تکخود ساختہ مذہب کی رسومات بدل ڈالحریت کامل کا وہ اعجاز دکھا تودنیائے غلامی کے طلسمات بدل ڈالخلقت کو بلا شرک سے توحید کی جانبپیروں کی فقیروں کی کرامات بدل ڈالتعلیم پہ موقوف ہے رعنائی افکاربیہودہ کتابوں کی خرافات بدل ڈالکر فکر عمل ذکر خط و خال عبث ہےاے فیضؔ ذرا اپنے خیالات بدل ڈال
مختلف ہیں آئینوں کے زاویےایک لیکن عکس ذات؛اک اکائی پر اسی کی ضرب سےکثرت وحدت کا پیدا ہے طلسمخلوت آئینہ خانہ میں کہیں کوئی نہیںصرف میں!میں ہی بتاور میں ہی بت پرست!میں ہی بزم ذات میں رونق افروزجلوہ ہائے ذات کو دیتا ہوں داد!
یوں بھی ہوا دہائی اکائی میں ڈھل گئیخورشید کے الاؤ میں ہر شے پگھل گئی
بے کلی نہ بے زارینے کوئی اداسی ہےدیکھنے کو لہجے میںخفگیاں نہیں ملتیںایک چپ سی ہے لیکنگفتگو کے زمزم کوروک روک دیتی ہےہر ادائے بے پرواتھام تھام لیتی ہےبولنے سے پہلے جوسوچنے کو کہتی ہےہر سخن مکمل ہےپھر بھی حرف کہتے ہیںبات نا مکمل ہےقربتوں کی بارش میںاک گریز کا لمحہاب بھی دھل نہیں پایاہاتھ سے تدبر کےذہن و دل کی الجھن کااک خفیف سا ریشماب بھی کھل نہیں پایازخم بے یقینی کامندمل ہوا لیکنروگ کی اکائی تواب بھی سانس لیتی ہےوقت کے سلیقے نےدکھ کی ایک سلوٹ پراک دھلی ہوئی مسکانکھول کر بچھا دی ہےآس پاس رہ کر بھیصبح و شام کرنے میںاس قدر نہ کھو جانابے خبر نہ ہو جانادل کی آخری تہہ میںکوئی بات رہتی ہے
وہ اک شخص تھاجو اکیلا تھا اس کا کوئی بھی نہ تھااک اکائی تھا وہاور اک دن خود اپنی اکائی میں ضم ہو گیااس نے مرتے ہوئے اک وصیت لکھیجس میں لکھا تھا!اے آدمی!اے وہ اک شخصجو مرے مرنے کی پہلی خبر سن کے دوڑےاور آواز دے بھائیو آؤ اس کا جنازہ اٹھاؤاور اس آواز پہ کوئی آواز اس تک نہ پہنچےاور پھر مجھ سے بیکس اکیلے کو کاندھوں پہ اپنے دھرےاور اکیلی سی اک قبر میں مجھ کو پہنچا کے محفوظ کر دےمیرا وہ دوست اتنا سا احسان مجھ پر کرےوہ مری قبر پر ایک سادہ سا کتبہ لگائےاور اس پر مرا نام لکھ دےسچ کہوں اس سے میں اپنی شہرت نہیں چاہتاکیا مرا نام اور کیوں وہ باقی رہےمیں اس واسطے چاہتا ہوں کہ جبشہر کے لوگ یہ سن کے دوڑیںکہ دیکھو یہ مشہور ہے، لوگ کہتے ہیں وہ شخص تو مر گیاسوچتے ہیں یہ اسی کی شرارت نہ ہوتاکہ ہم لوگ اب اس سے غافل رہیںاس کے فتنے سے اپنے کو محفوظ سمجھیںبس یہی چاہتا ہوںکہ ایسا کوئی شخص ڈھونڈھے مجھےتو سہولت ہو اس کو یہ تصدیق کرنے کییہ شخص سچ مچ نہیں ہےوہ اب مر چکا ہےمیں تو اب دشمنوں کے بھی آرام کے حق میں ہوںکیوں کسی کو کسی سے خلل ہو؟کیوں کسی کو نام سے ایک دہشت ہو؟سارے انسان دنیا میں آرام سے سوئیں اور خوش رہیں
ایک خلیہ ہوں میںزندگی کی اکائی ہوں میںٹوٹ کر بن رہا ہوں ازل سے یوں ہیمیں عناصر کی ترتیب ہوںمیں شعور و نظر کی وہ بنیاد ہوںجس پہ قائم ریاضی کے ٹیڑھے ستوںجس کی شاخیں ہیں ادوار کے فلسفےجو ادب آرٹ سنگیت کی روح ہیںایک ذرہ ہوں میںٹوٹ کر بن رہا ہوں ازل سے یوں ہیمیرے ہر ریزۂ مختصر میں نئی زندگیمیرے ہر سالمے میں نئی زیست ہےایک قطرہ ہوں میں اس سمندر کا جس کی غضب ناک امواج میںکشتیاں کہکشاؤں کی پھرتی ہیں تنکوں کی مانند بہتی ہوئیمیں سمندر ہوں قطرہ میرا نام ہےایک خلیہ ہوں لیکن مکمل حیاتایک ذرہ مگر مرکز کائناتمیں ہی مخلوق ہوںمیں ہی خالق ہوں دنیا کا معبود ہوںمیں ہی میں ہوں ازل سے ابد تک یہاں سے وہاں تکفقط میں ہی میں
روایتوں کا لباس پہنےگزشتگاں کا نصاب تھامےطرازیت کے نگار خانوں میں بین کرتیگھٹن زدہ قافیوں ردیفوں کے درمیاںمنتشر خیالوں کے بوجھ اپنے دل حزیں پراٹھائے پھرتی ہوئی اکائیوفور تخلیق سے پریشاںقدم قدم فرد فرد ہوتی بکھر رہی ہےاسی کے جز ہیںجو اس پہ حاوی ہوئے تو ایسےکہ آپ اپنی الگ ہی دنیا بسا رہے ہیںعجیب دنیاجو کہکشاں سے الگ کھڑی ہےجو اپنے محور پہ دم بخود ہےمگر وہ آزردہ کہکشاںگردشوں سے لڑتیکئی زمانے گزار آئیمکالمے سے مکاشفے تکمشاہدے سے معاملے تککئی سفر تھے کئی پڑاؤجہاں وہ دیوانہ وار پھرتی رہیخلش کم ہوئی نہ عنواں ہی بن سکااور خیال تشکیل کے مراحل میں گم رہا
اے میرے صفر صفر صفر۔۔۔۔۔!دائیں نہیں بائیں لیٹونفی اثبات کے اس وصال میںتمہاری اکائی تو میں ہوں!کہو۔۔ میں تمہیں کون سی رفاقت سے ضرب دوںکہ میری روح اور بدن پر رواں رواں پورے آ جاؤتمہیں کون سے ہندسے پر تقسیم کروں؟کہ تنہائی جس کے مساوی نہ آئے!نفی اثبات کے اس وصال میںاس سے پہلے کہ ہم اپنے دائروں کو توڑ کر باہر نکلیں!ہمیں اپنے بچھڑے ہوئے لمس کو قوس بنا کراپنے کناروں کو جوڑ لینا چاہیئے!
زندگی کی ندی میں نہاتے ہوئےخوف کھاتے ہو تمجب فنا کے سمندر میں غوطے لگاؤ گےتب کیا کرو گےسو مصنوعی ٹھنڈک کے مارے ہوئےمردہ خانہ نما بند دڑبے سے نکلوجیواور ساون کی بارش میں ناچوجیو اور دیکھوشمالی پہاڑوں پہ برفیں پگھلتے ہیسبزے کا جوبن چڑھا ہےپپیہے نے آواز دے کرپکارا ہے پی کوسو تم بھی پکارو کسی کوسنوجب تمہارے لہو میں جمی برف پگھلے گیجھرنا بہے گاتو پھر زندگی کی ندی اور فنا کا سمندرگلے مل کے ناچیں گےتازہ اکائی کی صورتاٹھو اور اس لمحۂ جاں فزا کو پکڑ لومبادا کوئی لمحۂ جاں گسل تم کو پا لے
سفر پر نکلا مسافر پلٹ کر اپنے گھر کو آ جاتا ہےزمین دائرے میں گھوم کر پھر اسی مقام سے اپنے سفر کی ابتدا کرتی ہےوقت ایک تیز رفتار گھوڑا ہےجو حال کو ماضی میں تبدیل کرتا مستقبل کی طرف دوڑا چلا جا رہا ہےکمہار کا چاک گھوم رہا ہےاورکمہار کے مشاق ہاتھ مٹی سے مختلف پیکر تراش رہے ہیںتہذیب و تمدن انتہا کو پہنچ کر پھر اپنی ابتدا کو پلٹتے ہیںتمہاری پسند نا پسند پر تمہارے اسلاف اثر انداز ہیںآدمی اپنے سنسکاروں سے بندھا ہےیہ کال چکرکمہار کا گھومتا ہوا پہیہتمہاری تحقیق تجدید ہے تمہارے پہلوں کیہر مکمل نا مکمل ہےہر تخلیقایک تجسس نا مکمل سے مکمل کی طرفزندگیاکائی میں اکائی کے جمع کا عمللا محدود تک
چودھویں رات کے چاند اور زمیں کے مابیننارسائی کا جو دکھ ہے وہ ہمارا دکھ ہےسرمئی ہجر کی تا حد نظر پہنائیان گنت تاروں کے جھرمٹ میں چھپی تنہائیچاند کے دکھ کا مداوا نہیں یہ یکتائیرخ مہتاب کو چھونے کی لگن میں بے تابکہکشاؤں کی عروسہ کے مچلتے ارمانسینۂ بحر پہ بپھری ہوئی پاگل موجیںرات بھر شدت جذبات سے یوں اٹھتی ہیںجس طرح پچھلے پہر لمس کی حسرت جاگےجیسے رگ رگ میں سلگتی ہوئی تشنہ خواہشجسم کے سارے مساموں میں چراغاں کر دےہائے اس کرب کے عالم میں کہاں ممکن ہےقبل از روز جزا چاک جدائی سلناآسماں زاد کا اس خاک پری سے ملناقوت ثقل کی ڈوروں سے بندھے یہ اجرامدائروں میں یوں مقید ہیں کہ کچھ بھی کر لیںایک دوجے کی پناہوں میں نہیں جا سکتےشاید ان نور کے پاروں کی طرح ہیں ہم بھیکب سے محتاط خموشی کے مداروں میں رواںاک جنوں خیز محبت کا سفر کرتے ہیںہجر میں دل یوں سلگتے ہیں کہ جاں جاتی ہےوعدۂ قرب خدا جانے وفا ہو کہ نہ ہووصل کا سوچ کے ہی جان پہ بن آتی ہےٹوٹ کر بکھرے جو آغاز جہاں میں ریزےساعت حشر کے آنے پہ ہی یکجا ہوں گےمہر و مہ ارض و سما روح بدن بھی یعنیآخرش ایک اکائی میں سمٹ جائیں گےنارسائی کے عذابوں میں یوں گزری ہے حیاتجی میں آتا ہے کہ اب کوئی قیامت اترےتوڑ کر اپنے مداروں کو ملاقاتیں ہوںمہرباں شامیں ہوں کچھ خوشبو بھری راتیں ہوں
میری پیدائش کے بعدسب سے پہلے میری ماں پیدا ہوئیپھر دوسرے رشتےتعلقدرد اور وابستگیکائناتی رشتوں کا بار گراںاور پھرچپکے سے تو پیدا ہوئیرنگخوشبوخواب سا تیرا وجوددائرہ در دائرہبے کراں وسعت سمیٹےاک اکائیمیں نے تیرے رنگ خوشبو خواب سےاپنے اندر اک جہان تازہ کی تعمیر کیاور سفر پر چل پڑامثل موج تہ نشیںاپنے ہی ساحل کاٹتاگہرائیوں سے جوجھتاآگے بڑھاتحت اندر تحت کے لمبے سفر میںتیرا پیکر میرا خوابخواب میرا حوصلہخواب تیری جستجواپنی تلاشآج تک گرم سفر ہوںاندرون ذات اندر ذاتہر طرف تیرا وجودہر طرف میرا ظہورعکس اندر عکس میںخواب اندر خواب توخواب کا یہ سلسلہدائرہ در دائرہدور تک پھیلا ہواخواب کی تجسیم کاریزندگی میریمرا زاد سفرموسموں کی زد پہ ہیں تنہا ہوں آجایک بوسیدہ شجر ساوقت کے نیزوں سے چھلنیزرد شاخوں سے تعلق قطع ہونے کا قلقخشک پتوں سے سکڑتے ٹوٹتے رشتوں کا غماور تڑختی چھالوں سے کمزور تر ہوتی ہوئی وابستگی کے کرب سے خستہ تر حالدم بہ دم نزدیک آتی دھند کے اس پار سےسن رہا ہوں آنے والے موسموں کے تازہ دم قدموں کی چاپسبز شاخوں تازہ پتوں اور نئی چھالوں کے گیتتو کہاں ہے میرے خوابآخری لمحہ ہےآ مری آنکھوں سے دیکھمجھ سے پہلےمر رہی ہےلمحہ لمحہ آجساری کائنات
آفرینش سمے ڈال دیجے خدایابدن میں تنوع کی حیرت گریمیری موروثیت کی جڑوں میں ہر اک سانس لیتی اکائی کے خلیوں کی مٹی بنےریڑھ کی مرکزی جالیوں میں عجائب کدوں کا خزانہ چھپےمیرے ہاتھوں پہ بھٹکے ہوئے راہ گیروں کی منزل کا نقشہ بنےاور آنکھوں کی ان پتلیوں میں طلسمی چراغوں کا جنگل بسےاپنی آنکھوں کی اس روشنی سے زمیں کی تہوں کو فروزاں کروںاور فاقہ کشوں کی زمینوں میں گیہوں کی صورت اگوںبے وطن کشتیوں کے مہاجر قبیلوں کا مانجھی بنوںسرد پربت کی تیکھی ہواؤں کو سہتے مکینوں کا سورج بنوںاور ازل سے گپھاؤں کے تاریک منظر میں پہلی شعاعوں کا مژدہ بنوںہڈیاں نوچ کھاتے ہوئے دیوتاؤں کے سینوں میں پلتی ہوس کا صفایا کروںکھردرے پاؤں والوں کے پاؤں تلےمخملیں سبز سپنے بچھاتی ہوئی گھاس کا ایک رستہ بنوںیہ جو ممکن نہ ہو تو مری خاک سے چند گرتے مکانوں کی دیوار کو ہی اٹھا دیجیےمیری مٹی سے مسکن بنا دیجیے
میری مجروح خلوتدہائی پہ اترے بھی تو کس طرحزہر شر شربت خیر کے ذائقےمیرے نطق و زباں کے لئے وقف ہیںصرف سود و زیاں کے لئے وقف ہیںمیں تصور کا محتاجصورت گری سے بہلتا رہوںذہن کے نیم اجالوں میںگرتا سنبھلتا رہوںحلقۂ روز و شب سے مچلتی ہوئیساری چنگاریاں مجھ پہ برسا کریںبحر ادراک کے سب کے سب جزر و مدمجھ پہ ٹوٹا کریںمیں نگاہوں میں خار مغیلاں لئےبس زمینوں زمینوں بھٹکتا رہوںاپنے سائے کو ہلکا سا نقطہ کیےانگنت نیم خوابیدہ آنکھوں کو تکتا رہوںاپنی پہچان کے واسطے اپنی تعریف میںصرف اتنا کہوںمیں اکائی گزیدہ سر انجمنمیرے چاروں طرفبے اماں اک گگنسوچ بنسوچ بن سورج بن
میں فقط جسم نہیں ذہن بھی ہوںسب قصیدے لب و رخسار کے برحق لیکنچشم میگوں کے ادھرقامت شمشاد کے ساتھزلف پیچاں سے پرےمیری اک سوچ بھی ہے فکر بھی ہےمیں کہ تخلیق بشر کا ہوں وسیلہ لیکنکیوں دکھائی نہیں دیتا ہے تمہیں میرا شعورمیری دانش کے کئی رنگ ہیں تاریخ کے پاسمیرے افکار مری رائے مرا طرز خیالان کی توقیر کروتم نے عورت کو فقط حور شمائل سمجھاناوک عشق کا گھائل سمجھاتم نے صدیوں سے ادھورا مجھے تسلیم کیااس میں ترمیم کروسچ کی تعظیم کرومیں فقط جسم نہیں ذہن بھی ہوںمیں اکائی ہوں مکمل مجھے تسلیم کرو
لو میں ایک اکائی ہوںپتھر کے ٹکڑے کی طرح ایک اکائیپتھر کی تحریریں دیکھوکتنی دھاریںلہریں بیچبھنورجیسے طوفانی سمندر کی نبضیں چلتے چلتے تھم جائیںجیسے سمندر مر جائے
چہروں کے گرداب میں ہر سوجن میں اکائی پھنسی ہوئی ہےمشترکات کے طوفانوں میںفرد کی کشتی گھری ہوئی ہےتنہائی دیتی ہے سہاراپھر بھی نہیں ہوتا کچھ حاصلخود کو اگر پتوار بنا لودور نہیں نروان کا ساحل
خال و خطدست و پادست و پا کی تمام انگلیاںانگلیوں سے لگے سارے ناخن کی گولائیاںسارے اعضا علامات ہم رشتگیہر تعلق نگر اعتبارات کاہر اکائی رواں اپنے مرکز کی سمت
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books