aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "itraayaa"
اس کی مردانگی کومیرے آنسوؤں کی حاجت تھیوہ میری روح کواس وقت تک داغتا رہاجب تک اس کی پوروں میںمرد ہونے کا احساس نہیں اترایااس کے مٹی وجود کومیں نے کھارے پانی سے گوندھ کربے حسی کی بھٹی میں ڈال دیاوہ پتھر کا ہو گیامیں بین کرنے لگیہوش آیا تواسی بت کے آگےبچی کھچی تمنائیں بھینٹ کیںاور سجدہ ریز ہو گئیتپسیا امر ہوئی تودرد حرف چننے لگےاور میں نظمیں گنگنانے لگی
شیر ببر نے پہنا چوغاگیدڑ کوٹ پہن اترایا
فیض لے کر میرؔ سے آیا ہوادیکھیے اک شخص اترایا ہواہر سخنور سے یہی کہتا ہے ابمستند ہے میرا فرمایا ہوامانتا ہوں یہ بجا ہے ٹھیک ہےاس نے جو جتنا کہا ہے ٹھیک ہےیہ نیا اسلوب لائے کس طرحشعر میں جدت دکھائے کس طرحاس کا ہر اک لفظ ہے مانگا ہوایعنی اب تک جو کہا ہے بھیک ہےاس پہ کھلتے ہی نہیں غم بعد کےعہد و عصر خانماں برباد کےمیرؔ و غالبؔ کا زمانہ اور ہےعہد حاضر کا فسانہ اور ہےاس کو کیا معلوم کیا سے کیا ہوئےہائے کتنے حشر ہیں برپا ہوئےاس کو کیا معلوم غربت کی گھڑیخواب سارے ایک پل میں مر گئےاس کو کیا معلوم چھن جانے کا غمجان سے پیارے بھی اپنے نہ رہےاس کو کیا معلوم ہے اقصیٰ کا دکھجب نہتوں پر بھی میزائل چلےاس کو کیا معلوم کہ کشمیر میںکس طرح سے ماؤں کے بیٹے کٹےاس کو کیا معلوم سونامی کا دنشہر پل میں ڈوب کر میداں بنےاس کو کیا معلوم نو گیارہ کے بعدکس طرح کے ظلم تھے ڈھائے گئےاس کو کیا معلوم بم کے زور پرجرم مظلوموں سے منوائے گئےاس کو کیا معلوم کاروبار ہےجنگ کا میدان بکتے اسلحےہم سنائیں گر حروف آگہیبھول جائے ہر دلیل شاعریانگلیاں کانوں میں دے کر زور سےچیخ مارے اور مر جائے ابھی
کتر ایک ملی چوہے کو سوچا اس نے کیا بنوائےدل میں سوچا گوٹے والی ٹوپی لیجئے اک بنوائےگیا دوڑتا درزی کے گھر بولا ٹوپی کر تیارمجھ کو راجکماری لینے جانا ہوگا ندیا پاردرزی بولا بھاگ یہاں سے نہ کر تو مجھ سے تکرارچوہے جی کو برا لگا یہ درزی کا سیدھا انکارغصہ سے چوں چوں چوں کر کے اپنے تیکھے دانت دکھائےکپڑے کٹ جانے کے ڈر سے اب تو درزی جی گھبرائےکپڑا دے کر درزی کے گھر چوہا گیا بڑے بازاربولا جوہری سے اے بھائی دے سچا گوٹا گز چارمجھ کو راج کماری لینے جانا ہوگا ندیا پارجوہری بولا بھاگ یہاں سے نہ کر تو مجھ سے تکرارغصہ سے چوں چوں چوں کر کے اپنے تیکھے دانت دکھائےگوٹا کٹ جانے کے ڈر سے اب تو جوہری جی گھبرائےگوٹا لے کر درزی کے گھر پہنچا ٹوپی تھی تیارٹانگ دیا درزی نے جھٹ پٹ ٹوپی پر گوٹا گز چارٹوپی اوڑھ چوہا اترایا بنا چکورا بارم بارپھر اپنی لمبی سی دم میں باندھی چھوٹی سی تلوارموچی کو بھی دھمکا کر کے جوتے چار لئے بنوائےراجہ جان سبھی چوہوں نے پیر چھوئے اور سیس نوائےبولا چوہا چوں چوں چوں چوں بھاری فوج کرو تیارمجھ کو راج کماری لینے جانا ہوگا ندیا پارادھر ادھر سے یہاں وہاں سے نکلے چوہے چار ہزارسب سے آگے چوہا راجہ پہنچے ٹوپی لے تلوارندیا آئی کودے راجہ چھوٹی سی چھاتی پھلائےڈوب گئے پل بھر میں بھائی چوہے بولے ہائے ہائے
اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کرہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق
تمہاری قبر پرمیں فاتحہ پڑھنے نہیں آیامجھے معلوم تھاتم مر نہیں سکتےتمہاری موت کی سچی خبر جس نے اڑائی تھیوہ جھوٹا تھاوہ تم کب تھےکوئی سوکھا ہوا پتہ ہوا سے مل کے ٹوٹا تھامری آنکھیںتمہارے منظروں میں قید ہیں اب تکمیں جو بھی دیکھتا ہوںسوچتا ہوںوہ وہی ہےجو تمہاری نیک نامی اور بد نامی کی دنیا تھیکہیں کچھ بھی نہیں بدلاتمہارے ہاتھ میری انگلیوں میں سانس لیتے ہیںمیں لکھنے کے لیےجب بھی قلم کاغذ اٹھاتا ہوںتمہیں بیٹھا ہوا میں اپنی ہی کرسی میں پاتا ہوںبدن میں میرے جتنا بھی لہو ہےوہ تمہاریلغزشوں ناکامیوں کے ساتھ بہتا ہےمری آواز میں چھپ کرتمہارا ذہن رہتا ہےمری بیماریوں میں تممری لاچاریوں میں تمتمہاری قبر پر جس نے تمہارا نام لکھا ہےوہ جھوٹا ہےتمہاری قبر میں میں دفن ہوںتم مجھ میں زندہ ہوکبھی فرصت ملے تو فاتحہ پڑھنے چلے آنا
کیوں جی پر بوجھ اٹھاتا ہے ان گونوں بھاری بھاری کےجب موت کا ڈیرا آن پڑا پھر دونے ہیں بیوپاری کےکیا ساز جڑاؤ زر زیور کیا گوٹے تھان کناری کےکیا گھوڑے زین سنہری کے کیا ہاتھی لال عماری کےسب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا
تم نے جس خون کو مقتل میں دبانا چاہاآج وہ کوچہ و بازار میں آ نکلا ہےکہیں شعلہ کہیں نعرہ کہیں پتھر بن کرخون چلتا ہے تو رکتا نہیں سنگینوں سےسر اٹھاتا ہے تو دبتا نہیں آئینوں سے
حجاب فتنہ پرور اب اٹھا لیتی تو اچھا تھاخود اپنے حسن کو پردا بنا لیتی تو اچھا تھاتری نیچی نظر خود تیری عصمت کی محافظ ہےتو اس نشتر کی تیزی آزما لیتی تو اچھا تھاتری چین جبیں خود اک سزا قانون فطرت میںاسی شمشیر سے کار سزا لیتی تو اچھا تھایہ تیرا زرد رخ یہ خشک لب یہ وہم یہ وحشتتو اپنے سر سے یہ بادل ہٹا لیتی تو اچھا تھادل مجروح کو مجروح تر کرنے سے کیا حاصلتو آنسو پونچھ کر اب مسکرا لیتی تو اچھا تھاترے زیر نگیں گھر ہو محل ہو قصر ہو کچھ ہومیں یہ کہتا ہوں تو ارض و سما لیتی تو اچھا تھااگر خلوت میں تو نے سر اٹھایا بھی تو کیا حاصلبھری محفل میں آ کر سر جھکا لیتی تو اچھا تھاترے ماتھے کا ٹیکا مرد کی قسمت کا تارا ہےاگر تو ساز بے داری اٹھا لیتی تو اچھا تھاعیاں ہیں دشمنوں کے خنجروں پر خون کے دھبےانہیں تو رنگ عارض سے ملا لیتی تو اچھا تھاسنانیں کھینچ لی ہیں سرپھرے باغی جوانوں نےتو سامان جراحت اب اٹھا لیتی تو اچھا تھاترے ماتھے پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکنتو اس آنچل سے اک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا
معیشت دوسروں کے ہاتھ میں ہے میرے قبضہ میںجز اک ذہن رسا کچھ بھی نہیں پھر بھی مگر مجھ کوخروش عمر کے اتمام تک اک بار اٹھانا ہےعناصر منتشر ہو جانے نبضیں ڈوب جانے تکنوائے صبح ہو یا نالۂ شب کچھ بھی گانا ہےظفر مندوں کے آگے رزق کی تحصیل کی خاطرکبھی اپنا ہی نغمہ ان کا کہہ کر مسکرانا ہےوہ خامہ سوزی شب بیداریوں کا جو نتیجہ ہواسے اک کھوٹے سکے کی طرح سب کو دکھانا ہےکبھی جب سوچتا ہوں اپنے بارے میں تو کہتا ہوںکہ تو اک آبلہ ہے جس کو آخر پھوٹ جانا ہےغرض گرداں ہوں باد صبح گاہی کی طرح لیکنسحر کی آرزو میں شب کا دامن تھامتا ہوں جبیہ لڑکا پوچھتا ہے اخترالایمان تم ہی ہویہ لڑکا پوچھتا ہے جب تو میں جھلا کے کہتا ہوںوہ آشفتہ مزاج اندوہ پرور اضطراب آساجسے تم پوچھتے رہتے ہو کب کا مر چکا ظالماسے خود اپنے ہاتھوں سے کفن دے کر فریبوں کااسی کی آرزوؤں کی لحد میں پھینک آیا ہوںمیں اس لڑکے سے کہتا ہوں وہ شعلہ مر چکا جس نےکبھی چاہا تھا اک خاشاک عالم پھونک ڈالے گایہ لڑکا مسکراتا ہے یہ آہستہ سے کہتا ہےیہ کذب و افترا ہے جھوٹ ہے دیکھو میں زندہ ہوں
وفا خود کی ہے اور میری وفا کو آزمایا ہےمجھے چاہا ہے مجھ کو اپنی آنکھوں پر بٹھایا ہےمرا ہر شعر تنہائی میں اس نے گنگنایا ہےسنی ہیں میں نے اکثر چھپ کے نغمہ خوانیاں اس کی
ایسی یخ بستہ تعبیروں کے ہر دن سے اچھی ہیں اور سچی بھی ہیںجس میں دھندلا چکر کھاتا چمکیلا پن چھ اطراف کا روگ بنا ہے
فرش پر لیٹ گئی ہے تو کبھی روٹھ کے مجھ سےاور کبھی فرش سے مجھ کو بھی اٹھایا ہے منا کرتاش کے پتوں پہ لڑتی ہے کبھی کھیل میں مجھ سےاور کبھی لڑتی بھی ایسے ہے کہ بس کھیل رہی ہےاور آغوش میں ننھے کو
رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئیتم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئیڈرتا ہوں کہیں خشک نہ ہو جائے سمندرراکھ اپنی کبھی آپ بہاتا نہیں کوئیاک بار تو خود موت بھی گھبرا گئی ہوگییوں موت کو سینے سے لگاتا نہیں کوئیمانا کہ اجالوں نے تمہیں داغ دئے تھےبے رات ڈھلے شمع بجھاتا نہیں کوئیساقی سے گلا تھا تمہیں مے خانے سے شکوہاب زہر سے بھی پیاس بجھاتا نہیں کوئیہر صبح ہلا دیتا تھا زنجیر زمانہکیوں آج دوانے کو جگاتا نہیں کوئیارتھی تو اٹھا لیتے ہیں سب اشک بہا کےناز دل بیتاب اٹھاتا نہیں کوئی
بہت دنوں بعدتیرے خط کے اداس لفظوں نےتیری چاہت کے ذائقوں کی تمام خوشبومری رگوں میں انڈیل دی ہےبہت دنوں بعدتیری باتیںتری ملاقات کی دھنک سے دہکتی راتیںاجاڑ آنکھوں کے پیاس پاتال کی تہوں میںوصال وعدوں کی چند چنگاریوں کو سانسوں کی آنچ دے کرشریر شعلوں کی سرکشی کے تمام تیورسکھا گئی ہیںترے مہکتے مہین لفظوں کی آبشاریںبہت دنوں بعد پھر سےمجھ کو رلا گئی ہیںبہت دنوں بعدمیں نے سوچا تو یاد آیاکہ میرے اندر کی راکھ کے ڈھیر پر ابھی تکترے زمانے لکھے ہوئے ہیںسبھی فسانے لکھے ہوئے ہیںبہت دنوں بعدمیں نے سوچا تو یاد آیاکہ تیری یادوں کی کرچیاںمجھ سے کھو گئی ہیںترے بدن کی تمام خوشبوبکھر گئی ہےترے زمانے کی چاہتیںسب نشانیاںسب شرارتیںسب حکایتیں سب شکایتیں جو کبھی ہنر میںخیال تھیں خواب ہو گئی ہیںبہت دنوں بعدمیں نے سوچا تو یاد آیاکہ میں بھی کتنا بدل گیا ہوںبچھڑ کے تجھ سےکئی لکیروں میں ڈھل گیا ہوںمیں اپنے سگریٹ کے بے ارادہ دھوئیں کی صورتہوا میں تحلیل ہو گیا ہوںنہ ڈھونڈھ میری وفا کے نقش قدم کے ریزےکہ میں تو تیری تلاش کے بے کنار صحرا میںوہم کے بے اماں بگولوں کے وار سہہ کراداس رہ کرنہ جانے کس رہ میں کھو گیا ہوںبچھڑ کے تجھ سے تری طرح کیا بتاؤں میں بھینہ جانے کس کس کا ہو گیا ہوںبہت دنوں بعدمیں نے سوچا تو یاد آیا
مجھے مت بتاناکہ تم نے مجھے چھوڑنے کا ارادہ کیا تھاتو کیوںاور کس وجہ سےابھی تو تمہارے بچھڑنے کا دکھ بھی نہیں کم ہواابھی تو میںباتوں کے وعدوں کے شہر طلسمات میںآنکھ پر خوش گمانی کی پٹی لیےتم کو پیڑوں کے پیچھے درختوں کے جھنڈاور دیوار کی پشت پر ڈھونڈنے میں مگن ہوںکہیں پر تمہاری صدا اور کہیں پر تمہاری مہکمجھ پہ ہنسنے میں مصروف ہےابھی تک تمہاری ہنسی سے نبرد آزما ہوںاور اس جنگ میںمیرا ہتھیاراپنی وفا پر بھروسہ ہے اور کچھ نہیںاسے کند کرنے کی کوشش نہ کرنامجھے مت بتانا.....
وہ جس کی دید میں لاکھوں مسرتیں پنہاںوہ حسن جس کی تمنا میں جنتیں پنہاںہزار فتنے تہ پائے ناز خاک نشیںہر اک نگاہ خمار شباب سے رنگیںشباب جس سے تخیل پہ بجلیاں برسیںوقار جس کی رفاقت کو شوخیاں ترسیںادائے لغزش پا پر قیامتیں قرباںبیاض رخ پہ سحر کی صباحتیں قرباںسیاہ زلفوں میں وارفتہ نکہتوں کا ہجومطویل راتوں کی خوابیدہ راحتوں کا ہجوموہ آنکھ جس کے بناؤ پہ خالق اترائےزبان شعر کو تعریف کرتے شرم آئےوہ ہونٹ فیض سے جن کے بہار لالہ فروشبہشت و کوثر و تسنیم و سلسبیل بہ دوشگداز جسم قبا جس پہ سج کے ناز کرےدراز قد جسے سرو سہی نماز کرےغرض وہ حسن جو محتاج وصف و نام نہیںوہ حسن جس کا تصور بشر کا کام نہیںکسی زمانے میں اس رہگزر سے گزرا تھابصد غرور و تجمل ادھر سے گزرا تھااور اب یہ راہگزر بھی ہے دل فریب و حسیںہے اس کی خاک میں کیف شراب و شعر مکیںہوا میں شوخیٔ رفتار کی ادائیں ہیںفضا میں نرمیٔ گفتار کی صدائیں ہیںغرض وہ حسن اب اس رہ کا جزو منظر ہےنیاز عشق کو اک سجدہ گہ میسر ہے
مکڑے نے کہا دل میں سنی بات جو اس کیپھانسوں اسے کس طرح یہ کم بخت ہے داناسو کام خوشامد سے نکلتے ہیں جہاں میںدیکھو جسے دنیا میں خوشامد کا ہے بندایہ سوچ کے مکھی سے کہا اس نے بڑی بیاللہ نے بخشا ہے بڑا آپ کو رتبہہوتی ہے اسے آپ کی صورت سے محبتہو جس نے کبھی ایک نظر آپ کو دیکھاآنکھیں ہیں کہ ہیرے کی چمکتی ہوئی کنیاںسر آپ کا اللہ نے کلغی سے سجایایہ حسن یہ پوشاک یہ خوبی یہ صفائیپھر اس پہ قیامت ہے یہ اڑتے ہوئے گانامکھی نے سنی جب یہ خوشامد تو پسيجيبولی کہ نہیں آپ سے مجھ کو کوئی کھٹکاانکار کی عادت کو سمجھتی ہوں برا میںسچ یہ ہے کہ دل توڑنا اچھا نہیں ہوتایہ بات کہی اور اڑی اپنی جگہ سےپاس آئی تو مکڑے نے اچھل کر اسے پکڑابھوکا تھا کئی روز سے اب ہاتھ جو آئیآرام سے گھر بیٹھ کے مکھی کو اڑایا
آنکھ بوجھل ہےمگر نیند نہیں آتی ہےمیری گردن میں حمائل تری بانہیں جو نہیںکسی کروٹ بھی مجھے چین نہیں پڑتا ہےسرد پڑتی ہوئی راتمانگنے آئی ہے پھر مجھ سےترے نرم بدن کی گرمیاور دریچوں سے جھجکتی ہوئی آہستہ ہواکھوجتی ہے مرے غم خانے میںتیری سانسوں کی گلابی خوشبو!میرا بستر ہی نہیںدل بھی بہت خالی ہےاک خلا ہے کہ مری روح میں دہشت کی طرح اترا ہےتیرا ننھا سا وجودکیسے اس نے مجھے بھر رکھا تھاترے ہوتے ہوئے دنیا سے تعلق کی ضرورت ہی نہ تھیساری وابستگیاں تجھ سے تھیںتو مری سوچ بھی، تصویر بھی اور بولی بھیمیں تری ماں بھی، تری دوست بھی ہمجولی بھیتیرے جانے پہ کھلالفظ ہی کوئی مجھے یاد نہیںبات کرنا ہی مجھے بھول گیا!تو مری روح کا حصہ تھامرے چاروں طرفچاند کی طرح سے رقصاں تھا مگرکس قدر جلد تری ہستی نےمرے اطراف میں سورج کی جگہ لے لی ہےاب ترے گرد میں رقصندہ ہوں!وقت کا فیصلہ تھاترے فردا کی رفاقت کے لیےمیرا امروز اکیلا رہ جائےمرے بچے، مرے لالفرض تو مجھ کو نبھانا ہے مگردیکھ کہ کتنی اکیلی ہوں میں!
وہ چائے کی پیالی پہ یاروں کے جلسےوہ سردی کی راتیں وہ زلفوں کے قصےکبھی تذکرے حسن شعلہ رخاں کےمحبت ہوئی تھی کسی کو کسی سےہر اک دل وہاں تھا نظر کا نشانہبہت یاد آتا ہے گزرا زمانہبہت اپنا انداز تھا لاابالیکبھی تھے جلالی کبھی تھے جمالیکبھی بات میں بات یوں ہی نکالیسر راہ کوئی قیامت اٹھا لیکسی کو لڑانا کسی کو بچانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہکبھی سچی باتوں کو جھوٹا بتایاکبھی جھوٹی باتوں کو سچ کر دکھایاکبھی راز دل کہہ کے اس کو چھپایاکبھی دوستوں میں یوں ہی کچھ اڑایابتا کر چھپانا چھپا کر بتانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہکبھی بزم احباب میں شعلہ افشاںکبھی یونین میں تھے شمشیر براںکبھی بزم واعظ میں تھے پا بہ جولاںبدلتے تھے ہر روز تقدیر دوراںجہاں جیسی ڈفلی وہاں ویسا گانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہزمانہ تھا وہ ایک حیوانیت کاوہ دور ملامت تھا شیطانیت کاہمیں درد تھا ایک انسانیت کااٹھائے علم ہم تھے حقانیت کابڑھے جا رہے تھے مگر باغیانہبہت یاد آتا ہے گزرا زمانہمقابل میں آئے جسارت تھی کس کوکوئی روک دے بڑھ کے ہمت تھی کس کوپکارے کوئی ہم کو طاقت تھی کس کوکہ ہر بوالہوس کو تھے ہم تازیانہبہت یاد آتا ہے گزرا زمانہخیالات پر شوق کا سلسلہ تھابدل دیں زمانے کو وہ حوصلہ تھاہر اک دل میں پیدا نیا ولولہ تھاہر اک گام احباب کا قافلہ تھاادھر دعویٰ کرنا ادھر کر دکھانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہوہ شہہ راہ میرس کے پر پیچ چکروہ شمشاد بلڈنگ پہ اک شور محشروہ مبہم سی باتیں وہ پوشیدہ نشتروہ بے فکر دنیا وہ لفظوں کے دفترکہ جن کا سرا تھا نہ کوئی ٹھکانہبہت یاد آتا ہے گزرا زمانہکسی کو ہوئی تھی کسی سے محبتکوئی کر رہا تھا کسی کی شکایتغرض روز ڈھاتی تھی تازہ قیامتکسی کی شباہت کسی کی ملامتکسی کی تسلی کسی کا ستانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہکوئی غم زدہ تھا کوئی ہنس رہا تھاکوئی حسن ناہید پر مر مٹا تھاکوئی چشم نرگس کا بیمار سا تھاکوئی بس یوں ہی تاکتا جھانکتا تھاکبھی چوٹ کھانا کبھی مسکرانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہوہ ہر جنوری میں نمائش کے چرچےوہ پر شوق آنکھیں وہ حیران جلوےوہ چکر پہ چکر تھے بارہ دری کےوہ حسرت کہ سو بار مل کر بھی ملتےہزاروں بہانوں کا وہ اک بہانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہوہ رخ آفتابی پہ ابرو ہلالیوہ تمثال سیمیں وہ حسن مثالیشگوفوں میں کھیلی گلابوں میں پالیوہ خود اک ادا تھی ادا بھی نرالینگاہیں بچا کر نگاہیں ملا کربہت یاد آتا ہے گزرا زمانہوہ ہرچند مجھ کو نہیں جانتی تھیمگر میری نظروں کو پہچانتی تھیاگرچہ مرے دل میں وہ بس گئی تھیمگر بات بس دل کی دل میں رہی تھیمگر آج احباب سے کیا چھپانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہوہ اک شام برسات کی دن ڈھلا تھاابھی رات آئی نہ تھی جھٹپٹا تھاوہ باد بہاری سے اک گل کھلا تھادھڑکتے ہوئے دل سے اک دل ملا تھانظر سن رہی تھی نظر کا فسانہبہت یاد آتا ہے گزرا زمانہجوانی اداؤں میں بل کھا رہی تھیکہانی نگاہوں میں لہرا رہی تھیمحبت محبت کو سمجھا رہی تھیوہ چشم تمنا جھکی جا رہی تھیقیامت سے پہلے قیامت وہ ڈھانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہہمیں بیتی باتیں جو یاد آ رہی تھیںوہ مخمور نظریں جو شرما رہی تھیںبہت عقل سادہ کو بہکا رہی تھیںبڑی بے نیازی سے فرما رہی تھیںانہیں یاد رکھنا ہمیں بھول جانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہاب وہ امنگیں نہ دل میں مرادیںاب رہ گئیں چند ماضی کی یادیںیہ جی چاہتا ہے انہیں بھی بھلا دیںغم زندگی کو کہاں تک دعا دیںحقیقت بھی اب بن گئی ہے فسانہبہت یاد آتا ہے گزرا زمانہعلی گڑھ ہے بڑھ کر ہمیں کل جہاں سےہمیں عشق ہے اپنی اردو زباں سےہمیں پیار ہے اپنے نام و نشاں سےیہاں آ گئے ہم نہ جانے کہاں سےقسم دے کے ہم کو کسی کا بلانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہمحبت سے یکسر ہے انجان دنیایہ ویران بستی پریشان دنیاکمال خرد سے یہ حیران دنیاخود اپنے کیے پر پشیمان دنیاکہاں لے کے آیا ہمیں آب و دانہبہت یاد آتا ہے گزرا زمانہ
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books