aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "itvaar"
طوفاں بہ دل ہے ہر کوئی دل دار دیکھناگل ہو نہ جائے مشعل رخسار دیکھناآتش بہ جاں ہے ہر کوئی سرکار دیکھنالو دے اٹھے نہ طرۂ طرار دیکھناجذب مسافران رہ یار دیکھناسر دیکھنا، نہ سنگ، نہ دیوار دیکھناکوئے جفا میں قحط خریدار دیکھناہم آ گئے تو گرمئ بازار دیکھنااس دل نواز شہر کے اطوار دیکھنابے التفات بولنا، بیزار دیکھناخالی ہیں گرچہ مسند و منبر، نگوں ہے خلقرعب قبا و ہیبت دستار دیکھناجب تک نصیب تھا ترا دیدار دیکھناجس سمت دیکھنا، گل و گلزار دیکھناپھر ہم تمیز روز و مہ و سال کر سکیںاے یاد یار پھر ادھر اک بار دیکھنا
زندگی ہے تو کوئی بات نہیں ہے اے دوستزندگی ہے تو بدل جائیں گے یہ لیل و نہاریہ شب و روز، مہ و سال گزر جائیں گےہم سے بے مہر زمانے کی نظر کے اطوارآج بگڑے ہیں تو اک روز سنور جائیں گےفاصلوں، مرحلوں راہوں کی جدائی کیا ہےدل ملے ہیں تو نگاہوں کی جدائی کیا ہے
اتوار کی دوپہر تو ہمیشہ ہی اچھی ہوتی ہےبالکل تمہاری طرحبے فکر بے پرواہ آزادمیں نے بھی ہمیشہ اسے اپنے ہی طریقے سے بتایا ہےپر جانے کیوںکچھ عرصے سے جب بھی یہ سکون بھرا وقت اپنے ساتھ بتانے کی کوشش کیتم دور دراز کے وقتوں سے نکل کے چپ چاپ میرے قریب بیٹھ جاتے ہومیرے ہاتھوں کی کھلی کتاب بند کر کےاپنے ہی قصہ سنانے لگتے ہودسمبر کی سردیبارش کی بوندےاور اتوار کی دوپہروہی قصہ جو تم نے جیا تھا کبھیمیرے ساتھلگ بھگ ہر ہفتہ دہراتے ہواور مجھے احساس بھی نہیں ہوتا کہ میں قید ہوںکچھ آزاد سے لمحوں میں ہمیشہ کے لیے
اگر میں یہ نظم نہ لکھتاتو محبت ناراض ہو جاتیاور کہتی کہ میں تمہارے ساتھسڑک پار نہیں کروں گیچائے نہیں پیوں گی اور دفتر میںکام نہیں کروں گیمحبت کی ناراضگیکسی جنگ میں ہونے والےنقصان سے زیادہ شدید ہوتی ہےوہ اور بھی کچھ کہتیجو مجھے سنائی نہ دیتااور میں اس کے نام ایک خط لکھتااگر میں وہ خط نہ لکھتا تو میرے دوست ناراض ہو جاتےاور کہتے ہم اتوار کے دن تمہارے ساتھکرکٹ نہیں کھلیں گےاور ان میں سے ایکریلوے لائن پار کرتے ہوئے خودکشی کر لیتااور ہمارے لائے ہوئے پھولاپنی قبر پہ رکھنے سے انکار کر دیتااگر میں خط نہ لکھتااگر میں نظم نہ لکھتاتو زندگی اپنا ذائقہ کس زبان پہ محسوس کرتیخواب کس رسم الخط میں لکھے جاتےموت کے راستے میںبچھائی جانے والی بارودی سرنگکون سی سر زمین پہ تیار ہوتیپناہ دینے کے لیےہمیشہ کس ملک کی سرحدیں کھلی رہتیںدھماکے سے پھٹ جانے کے لیےہر بار کون سا دل آگے بڑھتا
یا خدا ہند پر کرم فرمااس کی تکلیف کالعدم فرماہیں پریشاں بہت حواس اس کےنہیں ہمدرد کوئی پاس اس کےفقر و فاقہ سے پائمال ہے ابقرض میں اس کا بال بال ہے ابنہ ہی صنعت نہ اب تجارت ہےساری آسودگی وہ غارت ہےعلم و فن سے ہے اس کا گھر خالیعقل و ادراک سے ہے سر خالیاچھے اطوار مٹ گئے اس کےنیک کردار مٹ گئے اس کےخلق ہے اب نہ مہر و الفت ہےآتشی ہے نہ اب اخوت ہےرنگ بالکل ہے ملک کا بدلاسارا پانی ہے چاہ کا گدلاہر طرف جہل ہے لڑائی ہےدشمن آپس میں بھائی بھائی ہےنہ محبت ہے اب نہ ہمدردینہ دلیری نہ اب جواں مردینہ روا داری و شرافت ہےنہ اب امن و امان و راحت ہےہر طرف ہے فساد ہنگامہکوئی رستم ہے اور کوئی گامااب کہاں صلح و خیر کی باتیںجب ہیں کانوں میں غیر کی باتیںجان بل کی ہیں سازشیں جاریملک پر ہیں نوازشیں جاریایک سے ہے کبھی شناسائیدوسرے کے لیے کبھی سائیکبھی ان کو لڑا دیا سب سےکبھی ان کو بھڑا دیا سب سےکبھی ان کو پولس و تھانہ ہےاور کبھی ان کو جیل خانہ ہےیہی منظر یہاں ہے شام و سحربس یہی ہو رہا ہے آٹھ پہرجانتا ہے ہر اک یہ سب باتیںپھر بھی خالی نہیں حوالاتیںوہی جنگ و جدل وہی جھگڑےوہی بغض و عناو کے رگڑےیا خدا دے ہمیں وہ عقل سلیمکہ سمجھ ہم سکیں ہر اک سکیمپڑ سکے پھر نہ کوئی زد ہم پرکھل سکیں سارے نیک و بد ہم پرختم کر دیں یہ تفرقہ سازیآگ میں جھونک دیں تبر یازیسب کریں مل کے ملک کی خدمتدور ہو اس کی عسرت و نکبتحکمت و فن وطن میں پھیلائیںشاہراہیں مسل کی کھل جائیںعلم و سائنس ملک میں بھر دیںاس زمیں کو ہم آسماں کر دیںہم پہ کھل جائیں سب وہ عقل کے رازہو اس کا یورپ کے طرۂ اعزازصنعتوں کی ہو گرم بازاریگاؤں گاؤں میں ہوں ملیں جاریریل، موٹر، جہاز ،طیارےخود یہ تیار ہم کریں سارےکبھی صحرا ہو مستقر اپناہو کبھی ٹاپوؤں میں گھر اپنامانچسٹر پہ خاک ڈالیں گےگھر سے جاپان کو نکالیں ہمنہ رہیں ہم کسی کے بھی محتاجملک اپنا ہو اور اپنا راجہم میں گر اتحاد ہو جائےملک آباد شاد ہو جائے
بڑوں کا راج تو صدیوں سے ہے زمانے میںکبھی ہوا نہیں دنیا میں راج چھوٹوں کااگر ہمیں بھی ملے اختیار اے لوگوتو ہم دکھائیں تمہیں کام کاج چھوٹوں کاملک میں بچوں کی گر سرکار ہوزندگی اک جشن اک تہوار ہوحکم دیں ایسے کلینڈر کے لئےجس میں دو دن بعد اک اتوار ہوسب کو دیں اسکول جیسا یونیفارمایک سی ہر پینٹ ہر شلوار ہوہاسٹل تعمیر ہو سب کے لئےکوئی بھی انساں نہ بے گھر بار ہوراشٹر بھاشا ہم اشاروں کو بنائیںدکھن اتر میں نہ پھر تکرار ہوہم منسٹر ہوں تو وہ سسٹم بنےجس میں مفلس ہو نہ ساہوکار ہوقومی دولت کے خزانے ہوں بھرےخود ہی لے لے جس کو جو درکار ہوعید دیوالی سبھی مل کر منائیںآدمی کو آدمی سے پیار ہوملک میں بچوں کی گر سرکار ہو
ہم چاند نگر پر جاتے ہی کھولیں گے ایک نیا مکتبتعلیم نہ ہوگی جس میں کبھی سب آزادی سے گھومیں گےاستاد پڑھیں گے درجوں میں ہم لوگ خوشی سے گھومیں گےاسکول نہ جا کر باغوں میں تفریح کریں گے بے مطلبہم چاند نگر پر جاتے ہی کھولیں گے ایک نیا مکتبپڑھنے کے لیے بچوں کو جہاں مرغا نہ بنایا جائے گاچانٹے نہ جمائے جائیں گے ڈنڈوں سے نہ پیٹا جائے گااستاد کے مولیٰ بخش جہاں دکھلا نہ سکیں گے کچھ کرتبہم چاند نگر پر جاتے ہی کھولیں گے ایک نیا مکتبجو یاد کرے گا خوب سبق تا عمر نہ ہوگا پاس وہیجو کھیل میں لے گا دلچسپی پڑھنے میں نہ ہوگا فیل کبھیدراصل ہمارے مکتب کا ہوگا ہر اک دستور عجبہم چاند نگر پر جاتے ہی کھولیں گے ایک نیا مکتبجس دن بھی پڑا بیمار کوئی اسکول میں ہوگا ہالی ڈےدو بوند بھی پانی برسا تو ہو جائے گا فوراً رینی ڈےہفتے میں تو کم سے کم چھ دن اتوار منائیں گے ہم سبہم چاند نگر پر جاتے ہی کھولیں گے ایک نیا مکتبکھلیں گے کبھی جب ہم کرکٹ تو خوب اڑائیں گے چھکےہاکی میں دکھائیں گے وہ ہنر رہ جائیں گے سب ہکے بکےہر ٹیم سے میچیں جیتے گا ہم لوگوں کا فٹ بال کلبہم چاند نگر پر جاتے ہی کھولیں گے ایک نیا مکتب
یہ دیش کہ ہندو اور مسلم تہذیبوں کا شیرازہ ہےصدیوں کی پرانی بات ہے یہ پر آج بھی کتنی تازہ ہےتاریخ ہے اس کی ایک عمل تحلیلوں کا ترکیبوں کاسمبندھ وہ دو آدرشوں کا سنجوگ وہ دو تہذیبوں کاوہ ایک تڑپ وہ ایک لگن کچھ کھونے کی کچھ پانے کیوہ ایک طلب دو روحوں کے اک قالب میں ڈھل جانے کیدو شمعوں کی لو پیچاں جیسے اک شعلۂ نو بن جانے کیدو دھاریں جیسے مدرا کی بھرتی ہوئی کسی پیمانے کییوں ایک تجلی جاگ اٹھی نظروں میں حقیقت والوں کیجس طرح حدیں مل جاتی ہوں دو سمت سے دو اجیالوں کیآوازۂ حق جب لہرا کر بھگتی کا ترانہ بنتا ہےیہ ربط بہم یہ جذب دروں خود ایک زمانہ بنتا ہےچشتی کا قطب کا ہر نعرہ یک رنگی میں ڈھل جاتا ہےہر دل پہ کبیر اور تلسی کے دوہوں کا فسوں چل جاتا ہےنانک کا کبت بن جاتی ہے میرا کا بھجن بن جاتا ہےدل دل سے جو ہم آہنگ ہوئے اطوار ملے انداز ملےاک اور زباں تعمیر ہوئی الفاظ سے جب الفاظ ملےیہ فکر و بیاں کی رعنائی دنیائے ادب کی جان بنییہ میرؔ کا فن چکبستؔ کی لے غالبؔ کا امر دیوان بنیتہذیب کی اس یکجہتی کو اردو کی شہادت کافی ہےکچھ اور نشاں بھی ملتے ہیں تھوڑی سی بصیرت کافی ہےتعمیر کے پردے میں بھی کئی بے لوث فسوں مل جاتے ہیںرنپور کے مندر میں ہم کو مسجد کے ستوں مل جاتے ہیںوحدت کی اسی چنگاری سے دل موم ہوا ہے پتھر کااجمیر کی جامع مسجد میں خود عکس ہے اجنبی مندر کاپھر اور ذرا یہ فن بڑھ کر مانند غزل بن جاتا ہےمرمر کی رو پہلی چاندی سے اک تاج محل بن جاتا ہےیہ نقش بہم تہذیبوں کا موجود ہے سو تصویروں میںمنصورؔ منوہرؔ دولتؔ اور ہاشمؔ کی سبک تحریروں میںدل ساتھ دھڑکتے آئے ہیں خود ساز پتا دے دیتے ہیںترتیب سروں کی کیسے ہوئی خود راگ صدا دے دیتے ہیں
آئنہ دیکھنے کا شوق ہے وہاس کا ہر شخص مبتلا دیکھاسامنے آئنے کے بن ٹھن کرہم نے احباب کو کھڑا دیکھاکوئی موچھوں پہ تاؤ دیتا ہےکوئی ڈاڑھی سنوارتا دیکھاکوئی کپڑوں کو صاف کرتا ہےکوئی منہ دیکھتا ہوا دیکھاشانہ ہے یا برش ہے یا رومالہاتھ خالی نہ ایک کا دیکھاشوق ہے عام جامہ زیبی کاجس کو دیکھا ہے خود نما دیکھادیکھا سب نے ہی اپنا جسم و لباسلیک یہ طرفہ ماجرا دیکھادیکھنے سے کبھی نہیں سیریروز گو چہرہ بارہا دیکھااپنی صورت کے سب ہیں شیدائیسب کو اپنا فریفتہ دیکھاصورت ظاہری مگر اے دوستجس نے دیکھی ہے اس نے کیا دیکھادیکھنے والا اس کو کہتے ہیںجس نے باطن بھی برملا دیکھادل کا آئینہ پاس ہے سب کےصاف ایسا کم آئنا دیکھامجھ سے پوچھو تو وہ ہے نیک نصیبجس نے یہ آئنہ ذرا دیکھاصورت حال ہے خبر پائیاور اپنا برا بھلا دیکھانطق و اطوار دین اور ایماںسب کو جیسے ہیں برملا دیکھااور پھر لے کے سعی کا رومالنقص جو جو کہ جا بہ جا دیکھااس کی اس طرح سے صفائی کیکہ نہ آنکھوں نے پھر ذرا دیکھایہ ہے آئینہ دیکھنا اے دوستدیکھا اس طرح تو بجا دیکھا
اور پھر ایک اتوار کواس کے دونوں بڑے بھائیوں بھابیوں نےحساب اور چولھے الگ جب کیےاس نے اماں کو خود اعتمادی سے دیکھاکہ اب اس کے اپنے دوپٹے قمیص اور شلوار چپل کے جوڑےنمک مرچ آلو مٹر پیاز لہسن چقندر ٹماٹرپودینہ، کڑھی پات زیرہ، مسالے،چنے مونگ ماش اور مسر، ساری دالیںمہینے میں دو بار قیمہ یا مرغی کا سالنچھٹی کلاس میں پڑھنے والے غبی چھوٹے بھائی کی ٹیوشنکتابوں کا خرچہیہ سب اس اکیلی کی ہے ذمہ داری
اک طرف راحت کا اور فرحت کا کالاک طرف ہولی میں اڑتا ہے گلالاک طرف یاروں کی عشرت کوشیاںاک طرف ہم اور حال پر ملالاک طرف دور شراب آتشیںاک طرف تلچھٹ کا ملنا بھی محالدیکھتے ہیں تجھ کو جب اٹھتی ہے ہوکآہ اے ہندوستاں اے خستہ حالرحم کے قابل یہ بربادی تریدید کے قابل یہ تیرا ہے زوالکس قدر خوں ریز ہے کتنا قبیحتیری مسجد اور مندر کا سوالاف ترے بیٹوں کی رزم آرائیاںآہ ان کے باہمی جنگ و جدالاپنے فرزندوں کے یہ اطوار دیکھدیکھ یہ لعنت کے قابل چال ڈھالکس قدر ذلت کے دل دادہ ہیں یہبے کمالی میں ہیں کتنے با کمالسینۂ تہذیب پر ہے پنجہ زندین کے جھگڑوں میں ان کا اشتعالدامن اخلاق پر دھبا ہے ایکان کی وحشت خیزیوں کا اتصال
۲زمیں کا زمانہ ہے یہہم زمیں بوس ہوئےسبز رنگوں کے سرابنیلگوں سطح آبہم فلک بوس ہوئےاور یہ بھول گئےتھے کبھی اپنے بدن پر تیرے قدموں کے نشاںسبز پتوں کے سوااور بھی رنگ تھے رنگوں سے سواکون سا کیف تھا ان چیزوں میںجن کی تم روح تھے ہم پیکر تھےنور ہو سایہ ہو کہ تاریکی ہولاکھ میں جسم سے اور روح سے آراستہ پیراستہ ہو کر اٹھوںبن بھی جائے یہ زمیںمیری کرشمہ گہ آلات گریتو مگر اور ہی کچھ چیز ہےتو نہ نوری ہے نہ ناری ہے نہ خاک آبیتو نہ شمسی ہے نہ ارضی ہے نہ ہے مہتابیتو نہ مریخ سے زہرہ سے نہ سرطان سے ہےتیرے قدموں کے نشاں اور کہیں دیکھے تھےجسم قد شکل یہ اطوار یہ تیور تیرےتیری بو باس لباس پھول یہ زیور تیرےخامشی تیری یہ آواز یہ چلنا تیرا آنا جانایہ ستاروں کا غبارسلسلہ ہے یہ اداؤں کاکہ ہے جسم کے پردوں پہ تیری روح کے نغموں کا خماراک نئی شان کا ہر روز نکھاراور پھر سوچتا ہوںتو تو کچھ اور ہے ان چیزوں کا مجموعہ نہیںتو تو کچھ اور ہے ان سے بھی سواان کے ہونے کا نہ ہونے کا بھی پابند نہیں تیرا وجودتیرے قدموں کے نشاں اور کہیں دیکھے تھےتیرے قدموں سے تو ہے آج بھی شاداب مرا سارا وجودیاد رکھنے کی یہی بات تھی ابن آدمتم نے جب چاند پہ رکھا تھا قدمتم کسی اور ستارے سے یہاں آئے تھے
کل جو سپنے تھے ادھورے آج پورے ہوں گے وہآج ہم جمہوریت کا گیت گائیں گے ضرورامن کی شمعیں جلیں ہر سو اجالا ہو گیامٹ گئے ہیں ظلم کی تاریکیوں کے سب غرورکہہ دو ساری ظلمتوں سے تلخیوں سے ہوں وہ دورکیوں کہ ارزاں ہو گئی ہے دہر میں صہبائے نورآج پھر تاریکیوں کے مٹ ہی جائیں گے نشاںدیپ خوشیوں کے جلیں گے بستیٔ غم خوار میںخود بخود منزل کھنچی آئے گی قدموں کے تلےعزم نو کی خو بھی شامل ہوگی جب اطوار میںمتحد ہے کتنا بھارت دہر کو بتلائیں گےعظمت جمہوریت دنیا کو ہم دکھلائیں گےایک ہی دیوار کے سائے میں ہیں دیر و حرمہاں وہی بھارت ہے یہ جو امن کی تصویر ہےگوتم و گاندھی جواہر لال اور آزاد نےدیکھا تھا جو خواب پہروں اس کی یہ تعبیر ہےکہہ دو دنیا سے حسیں کردار بھی اب سیکھ لےآئے ہم سے امن کے اطوار بھی اب سیکھ لےآج وہ دن ہے کہ جس دن کے لیے تھے خوں بہےچندر شیکھر اور بھگت سنگھ اور پھر گاندھی کے خوناور ہاں جوہر علی مختار و سید تھے وہیتھا سدا جن کے دلوں سے سر کٹانے کا جنوندیش کی خاطر ہوا جن کا جنم اور موت بھیموت جن کی موت پہ روتی رہی روتی رہی
آیا ہے لے کے موسم سوغات مچھروں کیہر سمت ہو رہی ہے برسات مچھروں کیکم ذات مچھروں کی بد ذات مچھروں کیہم خوب جانتے ہیں اوقات مچھروں کیدیتے ہیں حسب عادت بیماریوں کو دعوتکر کر کے ہم ضیافت دن رات مچھروں کیہے ماجرا یہ کیسا کیا قہر ہے خدا کانازل جو ہو رہی ہیں آفات مچھروں کیآتی ہیں ہنستی گاتی جاتی ہیں گنگناتیافواج مچھروں کی بارات مچھروں کیبچھو سے بھی زیادہ زہریلے ہو چکے ہیںکچھ بڑھ چکی ہے اتنی اوقات مچھروں کیپھیلا کے کیوں غلاظت آلودگی نجاستکرتے ہیں پرورش کیوں حالات مچھروں کیہر چیز سے انوکھی ہر شے سے ہیں نرالیاطوار مچھروں کے حرکات مچھروں کیچلتی ہیں سائیں سائیں جب تیز تر ہوائیںبنتی ہیں بن بنائے کچھ بات مچھروں کیاس دور میں ہے قلت ہر چیز کی مگر ہےافراط مچھروں کی بہتات مچھروں کیاپنا لہو پلا کر ہم لوگ راہیؔ اکثرکرتے رہے تواضع دن رات مچھروں کی
صاحب ملک علم مالک راممالک ملک حلم مالک راممولد پاک پھالیہ کی زمیںہیر و رانجھا کی سر زمیں کے قریںشہر گجرات میں رہے ہے یہ مقیمارض لاہور میں ہوئی تعلیمنیکی و خیر و خلق میں فیاضدوستی کے بہت بڑے نباضکارواں کارگاہ حکمت کےلعل اک معدن محبت کےطلبا کے شفیق و یاور ہیںبحر تحقیق کے شناور ہیںاکمل و افضل و علیم و خطیباکرم و اعظم و شریف و نحیفصاحب فقر و بندۂ درویشدوستوں کے بڑے عقیدے کیشان کے مسلک میں بے ریائی ہےان کی رندی میں پارسائی ہےنثر میں ان کی نظم کی بو باسنظم کی انتہا کے رمز شناسکس قدر آن بان ہے ان کیبے نیازانہ شان ہے ان کیاب بھی چہرے پہ ہے شباب کا نورسربسر علم کی شراب کا نوربات کرنے میں پھول جھڑتے ہیںکبھی لڑتے نہ یہ جھگڑتے ہیںعلم کی جستجو پہ جان نثاربہر تحقیق روز و شب بیدارراہ تحقیق پہ چلے ہیں مدامچھان ڈالے عراق و مصر و شامجرمنی روس بلجیم لندنہر جگہ دیکھے علم کے معدنکارواں علم کا ہے تیز خراماور اس کے امیر مالک رامصاحب علم و صاحب اخلاقدوستی میں یہ فرد خلق میں طاقآشتی اور علم کا اک گنجان سے پہنچا نہیں کسی کو رنجرمز داں ہیں یہ فکر غالب کےہیں مصنف یہ ذکر غالب کےمحترم دوست عرش فرشی کےہیں مرتب یہ نذر عرشی کےہیں بہ ہر رنگ عالموں کے حبیبنذر ذاکر انہوں نے دی ترتیبعربی فارسی ہو یا اردوان کی باتوں میں سب کی ہے خوشبوان کی تصنیف عورت اور اسلامپائے گی دہر میں بقائے دوامخوب لکھا تلامذہ کا حالخاندان اسد کا حسن مقالگل رعنا ہے نسخۂ ارتنگیہ بھی با کیف ہے گل صد رنگبرتنا بم کہ ارمغاں بہ دہمبس غنیمت کہ قلب و جاں بدہمعلم را دادہ از نظر تمکیںرہنمائے براہ علم و یقیںذہن فرخندہ مغز تابندہباد در شہر علم پایندہرو راز حرص و آز و طمع و ہوسنیک خو نیک قلب و نیک نفسشہر نا مردمان و ہد آزادبس ہمیں مرد است خوش اطوارملک معنی کا بادشاہ ہے یہشہر انشا کا کج کلاہ ہے یہختم ہے عرش اب دعا پہ کلامیہ رہیں با مراد و شاد مدامحسن سیرت کی شمع جلتی رہےشاخ امید اور پھلتی رہےزندگی کو ملے نشاط تمامپر ہمیشہ رہے سرور کا جامنور خورشید کی طرح دمکےعلم و تحقیق کی ضیا چمکےعلم کی روشنی بڑھاتے رہیںہم کو بھی کچھ نہ کچھ سکھاتے رہیں
جمعہ اور اتوار لگا ہےسستا پھر بازار لگا ہے
یہ اتوار آئے گا پھر سات دن میںیہ پکنک کے پل ہیں بڑے ہی سلونے
غریب آدمی ایک قصبے میں تھابہت دل میں رکھتا تھا خوف خداغریبی میں ایمان داری میں بھینہ قصبے میں تھا اس سے بڑھ کر کوئیاکیلا نہ تھا بیوی بچے بھی تھےجو تھے سب کے سب نیک خصلت بڑےسہانا سماں دن تھا اتوار کاکہ اک چھوٹی لڑکی سے ماں نے کہااٹھو لاؤ آٹا کہ روٹی پکاؤںبلکتے ہیں بچے انہیں کچھ کھلاؤںگئی لڑکی آٹا لیا آ گئیلگی گوندھنے ماں تو گھبرا گئیکہ آٹے میں دو بالیاں تھیں پڑیہر اک سبز کاغذ میں لپٹی ہوئیکھرے سونے کی کام باریک تھاوہ تھیں دیکھنے میں بہت خوش نماجو لڑکی نے دیکھیں تو جھٹ بول اٹھییقیناً یہ ہوں گی دکاں دار کیابھی دیجئے کر دوں واپس اسےیہ آٹے میں رکھی گئیں بھول سےدکاں دار کے پاس لڑکی گئیکہا یہ تو ہیں بالیاں آپ کیملی ہیں یہ آٹے سے لے لیجئےکہ بوری میں شاید گریں آپ سےدکاں دار بولا اٹھا لو تمہیںسنو ان کا قصہ یہ میری نہیںیہاں ایک آیا امیر آدمیمجھے بالیاں دیں ہدایت یہ کییہ دینا کسی سخت محتاج کودیانت میں بھی سب سے بڑھ کر جو ہویہ باتیں تمہیں میں ہیں لو بس اٹھاؤتمہاری ہیں یہ بالیاں لے بھی جاؤگھر آئی جو لڑکی لیے بالیاںسنا قصہ حیراں ہوئی سخت ماںدیانت سے ہوتا ہے راضی خدادیانت کا لڑکی کو یہ پھل ملا
کل سے جانا ہے اسکولرہو نہ کھیلوں میں مشغولسورج دیکھو ڈوب چلاکپڑے بدلو لگ گئی دھولگزر گیا اتوار کا دنخوشیوں کی بوچھار کا دن
میں یہی سوچ رہا تھا کہ سر شام مجھےجاتے سورج کے بھی اطوار کچھ ایسے ہی ملےاس کا منہ زرد تھا احساس جدائی ہوگااس نے اک بدلی کا منہ چوم لیا چپکے سےدفعتاً بدلی کا منہ سرخ ہوا اور حیادوڑی خوں بن کے رگ و پے میں کہ گلنار ہوئیاس کے دامن پہ چھلک اٹھے ستارے آنسواور سورج کی طرح خود بھی وہیں ڈوب گئیوہی تارے تھے مگر رات کے اخبار فروشیہ خبر شام سے ہی سارے فلک پر پہنچیپہلے تو لاکھوں دریچوں سے نگہباں جھانکےچاندنی چھٹکی تو پھر چاند نے کی رکھوالیصبح دم نیند کے ماتے تھے سبھی اہل فلکسورج آیا تو کسی کو نہ رہا اس کا خیالوہی بدلی تھی افق پر وہی عنوان حیادونوں تکتے رہے مبہوت نگاہوں سے جمالپھر محبت نے کیا ثبت سلام رنگیںسرخ بدلی کا لہو دوڑ گیا چار طرفدونوں خوش تھے انہیں معلوم تھا آزاد ہیں وہان کا ملنا نہیں انساں کی نگاہوں کا ہدفمیں نے دیکھی ہے مگر دونوں کی یہ گستاخیمیں خبر دیتا ہوں اخبار کو دیکھو تو سہی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books