aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "jafaa"
ہر بات کی کھوج تو ٹھیک نہیں تم ہم کو کہانی کہنے دواس نار کا نام مقام ہے کیا اس بات پہ پردا رہنے دوہم سے بھی تو سودا ممکن ہے تم سے بھی جفا ہو سکتی ہےیہ اپنا بیاں ہو سکتا ہے یہ اپنی کتھا ہو ہو سکتی ہےوہ نار بھی آخر پچھتائی کس کام کا ایسا پچھتانا؟اس بستی کے اک کوچے میں اک انشاؔ نام کا دیوانا
تمہیں بھی ضد ہے کہ مشق ستم رہے جاریہمیں بھی ناز کہ جور و جفا کے عادی ہیںتمہیں بھی زعم مہا بھارتا لڑی تم نےہمیں بھی فخر کہ ہم کربلا کے عادی ہیں
جن کا دیں پیروی کذب و ریا ہے ان کوہمت کفر ملے جرأت تحقیق ملےجن کے سر منتظر تیغ جفا ہیں ان کودست قاتل کو جھٹک دینے کی توفیق ملے
تیری آواز کا جادو ہے ابھی میرے لیےتیرے ملبوس کی خوشبو ہے ابھی میرے لیےتیری بانہیں ترا پہلو ہے ابھی میرے لیےسب سے بڑھ کر مری جاں تو ہے ابھی میرے لیےزیست کرنے کو مرے پاس بہت کچھ ہے ابھیآج کی شب تو کسی طور گزر جائے گی!آج کے بعد مگر رنگ وفا کیا ہوگاعشق حیراں ہے سر شہر صبا کیا ہوگامیرے قاتل ترا انداز جفا کیا ہوگا!
گلشن یاد میں گر آج دم باد صباپھر سے چاہے کہ گل افشاں ہو تو ہو جانے دوعمر رفتہ کے کسی طاق پہ بسرا ہوا دردپھر سے چاہے کہ فروزاں ہو تو ہو جانے دوجیسے بیگانے سے اب ملتے ہو ویسے ہی سہیآؤ دو چار گھڑی میرے مقابل بیٹھوگرچہ مل بیٹھیں گے ہم تم تو ملاقات کے بعداپنا احساس زیاں اور زیادہ ہوگاہم سخن ہوں گے جو ہم دونوں تو ہر بات کے بیچان کہی بات کا موہوم سا پردہ ہوگاکوئی اقرار نہ میں یاد دلاؤں گا نہ تمکوئی مضمون وفا کا نہ جفا کا ہوگاگرد ایام کی تحریر کو دھونے کے لیےتم سے گویا ہوں دم دید جو میری پلکیںتم جو چاہو تو سنو اور جو نہ چاہو نہ سنواور جو حرف کریں مجھ سے گریزاں آنکھیںتم جو چاہو تو کہو اور جو نہ چاہو نہ کہو
گزر رہے ہیں شب و روز تم نہیں آتیںریاض زیست ہے آزردۂ بہار ابھیمرے خیال کی دنیا ہے سوگوار ابھیجو حسرتیں ترے غم کی کفیل ہیں پیاریابھی تلک مری تنہائیوں میں بستی ہیںطویل راتیں ابھی تک طویل ہیں پیاریاداس آنکھیں تری دید کو ترستی ہیںبہار حسن پہ پابندیٔ جفا کب تکیہ آزمائش صبر گریز پا کب تکقسم تمہاری بہت غم اٹھا چکا ہوں میںغلط تھا دعویٔ صبر و شکیب آ جاؤقرار خاطر بیتاب تھک گیا ہوں میں
کھول آنکھ زمیں دیکھ فلک دیکھ فضا دیکھ!مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ!اس جلوۂ بے پردہ کو پردہ میں چھپا دیکھ!ایام جدائی کے ستم دیکھ جفا دیکھ!بیتاب نہ ہو معرکۂ بیم و رجا دیکھ!ہیں تیرے تصرف میں یہ بادل یہ گھٹائیںیہ گنبد افلاک یہ خاموش فضائیںیہ کوہ یہ صحرا یہ سمندر یہ ہوائیںتھیں پیش نظر کل تو فرشتوں کی ادائیںآئینۂ ایام میں آج اپنی ادا دیکھ!سمجھے گا زمانہ تری آنکھوں کے اشارے!دیکھیں گے تجھے دور سے گردوں کے ستارے!ناپید ترے بحر تخیل کے کنارےپہنچیں گے فلک تک تری آہوں کے شرارےتعمیر خودی کر اثر آہ رسا دیکھخورشید جہاں تاب کی ضو تیرے شرر میںآباد ہے اک تازہ جہاں تیرے ہنر میںجچتے نہیں بخشے ہوئے فردوس نظر میںجنت تری پنہاں ہے ترے خون جگر میںاے پیکر گل کوشش پیہم کی جزا دیکھ!نالندہ ترے عود کا ہر تار ازل سےتو جنس محبت کا خریدار ازل سےتو پیر صنم خانۂ اسرار ازل سےمحنت کش و خوں ریز و کم آزار ازل سےہے راکب تقدیر جہاں تیری رضا دیکھ!
ہاں جو جفا بھی آپ نے کی قاعدے سے کیہاں ہم ہی کاربند اصول وفا نہ تھے
ایک ایسی جگہ جس میں انسان نہ بستے ہوںیہ مکر و جفا پیشہ حیوان نہ بستے ہوںانساں کی قبا میں یہ شیطان نہ بستے ہوں
سر سلامت ہے تو کیا سنگ ملامت کی کمیجان باقی ہے تو پیکان قضا اور بھی ہیںمنصف شہر کی وحدت پہ نہ حرف آ جائےلوگ کہتے ہیں کہ ارباب جفا اور بھی ہیں
ستم ایسا نہیں دیکھا جفا ایسی نہیں دیکھیوہ چپ رہنے کو کہتے ہیں جو ہم فریاد کرتے ہیں
وہ ایک طرز سخن کی خوشبووہ ایک مہکا ہوا تکلملبوں سے جیسے گلوں کی بارشکہ جیسے جھرنا سا گر رہا ہوکہ جیسے خوشبو بکھر رہی ہوکہ جیسے ریشم الجھ رہا ہوعجب بلاغت تھی گفتگو میںرواں تھا دریا فصاحتوں کاوہ ایک مکتب تھا آگہی کاوہ علم و دانش کا مے کدہ تھاوہ قلب اور ذہن کا تصادمجو گفتگو میں رواں دواں تھاوہ اس کے الفاظ کی روانیوہ اس کا رک رک کے بات کرناوہ شعلۂ لفظ اور معانیکہیں لپکنا کہیں ٹھہرناٹھہر کے پھر وہ کلام کرنابہت سے جذبوں کی پردہ داریبہت سے جذبوں کو عام کرناجو میں نے پوچھاگزشتہ شب کے مشاعرے میں بہت سے شیدائی منتظر تھےمجھے بھی یہ ہی پتہ چلا تھا کہ آپ تشریف لا رہے ہیںمگر ہوا کیاذرا توقف کے بعد بولے نہیں گیا میںنہ جا سکا میںسنو ہوا کیامیں خود کو مائل ہی کر نہ پایایہ میری حالت میری طبیعتپھر اس پہ میری یہ بد مزاجی و بد حواسییہ وحشت دلمیاں حقیقت ہے یہ بھی سن لو کہ اب ہمارے مشاعرے بھینہیں ہیں ان وحشتوں کے حاملجو میری تقدیر بن چکی ہیںجو میری تصویر بن چکی ہیںجو میری تقصیر بن چکی ہیںپھر اک توقفکہ جس توقف کی کیفیت پر گراں سماعت گزر رہی تھیاس ایک ساعت کا ہاتھ تھامے یہ اک وضاحت گزر رہی تھیادب فروشوں نے جاہلوں نے مشاعرے کو بھی اک تماشہ بنا دیا ہےغزل کی تقدیس لوٹ لی ہے ادب کو مجرا بنا دیا ہےسخن وروں نے بھی جانے کیا کیا ہمارے حصے میں رکھ دیا ہےستم تو یہ ہے کہ چیخ کو بھی سخن کے زمرے میں رکھ دیا ہےالٰہی توبہسماعتوں میں خراشیں آنے لگی ہیں اب اور شگاف ذہنوں میں پڑ گئے ہیںمیاں ہمارے قدم تو کب کے زمیں میں خفت سے گڑ گئے ہیںخموشیوں کے دبیز کہرے سے چند لمحوں کا پھر گزرناوہ جیسے خود کو اداسیوں کے سمندروں میں تلاش کرناوہ جیسے پھر سرمئی افق پر ستارے الفاظ کے ابھرنایہ زندگی سے جو بے نیازی ہے کس لیے ہےیہ روز و شب کی جو بد حواسی ہے کس لیے ہےبس اتنا سمجھوکہ خود کو برباد کر چکا ہوںسخن تو آباد خیر کیا ہومگر جہاں دل دھڑک رہے ہوں وہ شہر آباد کر چکا ہوںبچا ہی کیا ہےتھا جس کے آنے کا خوف مجھ کو وہ ایک ساعت گزر چکی ہےوہ ایک صفحہ کہ جس پے لکھا تھا زندگی کو وہ کھو چکا ہےکتاب ہستی بکھر چکی ہےپڑھا تھا میں نے بھی زندگی کومگر تسلسل نہیں تھا اس میںادھر ادھر سے یہاں وہاں سے عجب کہانی گڑھی گئی تھیسمجھ میں آئی نہ اس لیے بھی کے درمیاں سے پڑھی گئی تھیسمجھتا کیسےنہ فلسفی میں نہ کوئی عالمعقوبتوں کے سفر پہ نکلا میں اک ستارہ ہوں آگہی کااجل کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے اک استعارہ ہوں زندگی کاعتاب نازل ہوا ہے جس پر میں وہ ہی معتوب آدمی ہوںستم گروں کو طلب ہے جس کی میں وہ ہی مطلوب آدمی ہوںکبھی محبت نے یہ کہا تھا میں ایک محبوب آدمی ہوںمگر وہ ضرب جفا پڑی ہے کہ ایک مضروب آدمی ہوںمیں ایک بیکل سا آدمی ہوں بہت ہی بوجھل سا آدمی ہوںسمجھ رہی ہے یہ دنیا مجھ کو میں ایک پاگل سا آدمی ہوںمگر یہ پاگل یہ نیم وحشی خرد کے ماروں سے مختلف ہےجو کہنا چاہا تھا کہہ نہ پایاکہا گیا جو اسے یہ دنیا سمجھ نہ پائینہ بات اب تک کہی گئی ہےنہ بات اب تک سنی گئی ہےشراب و شعر و شعور کا جو اک تعلق ہے اس کے بارے میں رائے کیا ہےسنا ہے ہم نے کہ آپ پر بھی بہت سے فتوے لگے ہیں لیکنشراب نوشی حرام ہے تویہ مسئلہ بھی بڑا عجب ہےمیں ایک میکش ہوں یہ تو سچ ہےمگر یہ میکش کبھی کسی کے لہو سے سیراب کب ہوا ہےہمیشہ آنسو پیے ہیں اس نے ہمیشہ اپنا لہو پیا ہےیہ بحث چھوڑو حرام کیا ہے حلال کیا ہے عذاب کیا ہے ثواب کیا ہےشراب کیا ہےاذیتوں سے نجات ہے یہ حیات ہے یہشراب و شب اور شاعری نے بڑا سہارا دیا ہے مجھ کوسنبھال رکھا شراب نے اور رہی ہے محسن یہ رات میریاسی نے مجھ کو دئے دلاسے سنی ہے اس نے ہی بات میریہمیشہ میرے ہی ساتھ جاگی ہمیشہ میرے ہی ساتھ سوئیمیں خوش ہوا تو یہ مسکرائی میں رو دیا تو یہ ساتھ روئییہ شعر گوئی ہے خود کلامی کا اک ذریعہاسی ذریعہ اسی وسیلہ سے میں نے خود سے وہ باتیں کی ہیںجو دوسروں سے میں کہہ نہ پایاحرام کیا ہے حلال کیا ہے یہ سب تماشے ہیں مفتیوں کےیہ سارے فتنے ہیں مولوی کےحرام کر دی تھی خود کشی بھی کہ اپنی مرضی سے مر نہ پائےیہ مے کشی بھی حرام ٹھہری کہ ہم کو اپنا لہو بھی پینے کا حق نہیں ہےکہ اپنی مرضی سے ہم کو جینے کا حق نہیں ہےکسے بتائیںضمیر و ظرف بشر پہ موقوف ہیں مسائلسمندروں میں انڈیل جتنی شراب چاہےنہ حرف پانی پہ آئے گا اور نہ اوس کی تقدیس ختم ہوگیتو مے کشی کو حرام کہنے سے پہلے دیکھوکہ پینے والے کا ظرف کیا ہے ہیں کس کے ہاتھوں میں جام و مینایہ نکتہ سنجی یہ نکتہ دانی جو مولوی کی سمجھ میں آتی تو بات بنتینہ دین و مذہب کو جس نے سمجھا نہ جس نے سمجھا ہے زندگی کوطہورا پینے کی بات کر کے حرام کہتا ہے مے کشی کوجو دین و مذہب کا ذکر آیا تو میں نے پوچھاکہ اس حوالے سے رائے کیا ہےیہ خود پرستی خدا پرستی کے درمیاں کا جو فاصلہ ہےجو اک خلا ہے یہ کیا بلا ہےیہ دین و مذہب فقط کتابیںبجز کتابوں کے اور کیا ہےکتابیں ایسی جنہیں سمجھنے کی کوششیں کم ہیں اور زیادہ پڑھا گیا ہےکتابیں ایسی کہ عام انساں کو ان کے پڑھنے کا حق ہے لیکنانہیں سمجھنے کا حق نہ ہرگز دیا گیا ہےکہ ان کتابوں پہ دین و مذہب کے ٹھیکیدار اجارہ داروں کی دسترس ہےاسی لیے تو یہ دین و مذہب فساد د فتنہ بنے ہوئے ہیںیہ دین و مذہبجو علم و حکمت کے ساتھ ہو تو سکون ہوگاجو دسترس میں ہو جاہلوں کی جنون ہوگایہ عشق کیا ہے یہ حسن کیا ہےیہ زندگی کا جواز کیا ہےیہ تم ہو جی جی کے مر رہے ہو یہ میں ہوں مر مر کے جی رہا ہوںیہ راز کیا ہےہے کیا حقیقت مجاز کیا ہےسوائے خوابوں کے کچھ نہیں ہےبجز سرابوں کے کچھ نہیں ہےیہ اک سفر ہے تباہیوں کا اداسیوں کی یہ رہ گزر ہےنہ اس کو دنیا کا علم کوئی نہ اس کو اپنی کوئی خبر ہےکبھی کہیں پر نظر نہ آئے کبھی ہر اک شے میں جلوہ گر ہےکبھی زیاں ہے کبھی ضرر ہےنہ خوف اس کو نہ کچھ خطر ہےکبھی خدا ہے کبھی بشر ہےہوا حقیقت سے آشنا تو یہ سوئے دار و رسن گیا ہےکبھی ہنسا ہے یہ زیر خنجر کبھی یہ سولی پہ ہنس دیا ہےکبھی یہ گل نار ہو گیا ہے سناں پہ گفتار ہو گیا ہےکبھی ہوا ہے یہ غرق دریاکبھی یہ تقدیر دشت و صحرارقم ہوا ہے یہ آنسوؤں میںکبھی لہو نے ہے اس کو لکھاحکایت دل حکایت جاں حکایت زندگی یہی ہےاگر سلیقے سے لکھی جائے عبارت زندگی یہی ہےیہ حسن ہے اس دھنک کی صورتکہ جس کے رنگوں کا فلسفہ ہی کبھی کسی پر نہیں کھلا ہےیہ فلسفہ جو فریب پیہم کا سلسلہ ہےکہ اس کے رنگوں میں اک اشارہ ہے بے رخی کااک استعارہ ہے زندگی کاکبھی علامت ہے شوخیوں کیکبھی کنایہ ہے سادگی کابدلتے موسم کی کیفیت کے ہیں رنگ پنہاں اسی دھنک میںکشش شرارت و جاذبیت کے شوخ رنگوں نے اس دھنک کو عجیب پیکر عطا کیا ہے اک ایسا منظر عطا کیا ہےکہ جس کے سحر و اثر میں آ کرلہو بہت آنکھیں رو چکی ہیں بہت تو بینائی کھو چکی ہیںبصارتیں کیا بصیرتیں بھی تو عقل و دانائی کھو چکی ہیںنہ جانے کتنے ہی رنگ مخفی ہیں اس دھنک میںبس ایک رنگ وفا نہیں ہیںاس ایک رنگت کی آرزو نے لہو رلایا ہے آدمی کویہی بتایا ہے آگہی کویہ اک چھلاوا ہے زندگی کاحسین دھوکہ ہے زندگی کامگر مقدر ہے آدمی کافریب گندم سمجھ میں آیا تو میں نے جانایہ عشق کیا ہے یہ حسن کیا ہےیہ ایک لغزش ہے جس کے دم سے حیات نو کا بھرم کھلا ہے
خوف آفت سے کہاں دل میں ریا آئے گیبات سچی ہے جو وہ لب پہ سدا آئے گیدل سے نکلے گی نہ مر کر بھی وطن کی الفتمیری مٹی سے بھی خوشبوئے وفا آئے گیمیں اٹھا لوں گا بڑے شوق سے اس کو سر پرخدمت قوم و وطن میں جو بلا آئے گیسامنا صبر و شجاعت سے کروں گا میں بھیکھنچ کے مجھ تک جو کبھی تیغ جفا آئے گیغیر زعم اور خودی سے جو کرے گا حملہمیری امداد کو خود ذات خدا آئے گیآتما ہوں میں بدل ڈالوں گا فوراً چولاکیا بگاڑے گی اگر میری قضا آئے گیخون روئے گی سما پر میرے مرنے پہ شفقغم منانے کے لیے کالی گھٹا آئے گیابر تر اشک بہائے گا مرے لاشے پرخاک اڑانے کے لیے باد صبا آئے گیزندگانی میں تو ملنے سے جھجکتی ہے فلکؔخلق کو یاد مری بعد فنا آئے گی
یزید نقشۂ جور و جفا بناتا ہےحسین اس میں خط کربلا بناتا ہےیزید موسم عصیاں کا لا علاج مرضحسین خاک سے خاک شفا بناتا ہےیزید کاخ کثافت کی ڈولتی بنیادحسین حسن کی حیرت سرا بناتا ہےیزید تیز ہواؤں سے جوڑ توڑ میں گمحسین سر پہ بہن کے ردا بناتا ہےیزید لکھتا ہے تاریکیوں کو خط دن بھرحسین شام سے پہلے دیا بناتا ہےیزید آج بھی بنتے ہیں لوگ کوشش سےحسین خود نہیں بنتا خدا بناتا ہے
میرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنگل پوش تیری وادیاںفرحت نشاں راحت رساںتیرے چمن زاروں پہ ہےگلزار جنت کا گماںہر شاخ پھولوں کی چھڑیہر نخل طوبیٰ ہے یہاںکوثر کے چشمے جا بجاتسنیم ہر آب رواںہر برگ روح تازگیہر پھول جان گلستاںہر باغ باغ دلکشیہر باغ باغ بے خزاںدل کش چراگاہیں تریڈھوروں کے جن میں کارواںانجم صفت گلہائے نوہر تختۂ گل آسماںنقش ثریا جا بجاہر ہر روش اک کہکشاںتیری بہاریں دائمیتیری بہاریں جاوداںتجھ میں ہے روح زندگیپیہم رواں پیہم دواںدریا وہ تیرے تند خوجھیلیں وہ تیری بے کراںشام اودھ کے لب پہ ہےحسن ازل کی داستاںکہتی ہے راز سرمدیصبح بنارس کی زباںاڑتا ہے ہفت افلاک پران کارخانوں کا دھواںجن میں ہیں لاکھوں محنتیصنعت گری کے پاسباںتیری بنارس کی زریرشک حریر و پرنیاںبیدر کی فن کاری میں ہیںصنعت کی سب باریکیاںعظمت ترے اقبال کیتیرے پہاڑوں سے عیاںدریاؤں کا پانی، تریتقدیس کا اندازہ داںکیا بھارتیندوؔ نے کیاگنگا کی لہروں کا بیاںاقبالؔ اور چکبستؔ ہیںعظمت کے تیری نغمہ خواںجوشؔ و فراقؔ و پنتؔ ہیںتیرے ادب کے ترجماںتلسیؔ و خسروؔ ہیں تیریتعریف میں رطب اللساںگاتے ہیں نغمہ مل کے سباونچا رہے تیرا نشاںمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنتیرے نظاروں کے نگیںدنیا کی خاتم میں نہیںسارے جہاں میں منتخبکشمیر کی ارض حسیںفطرت کا رنگیں معجزہفردوس بر روئے زمیںفردوس بر روئے زمیںہاں ہاں ہمیں است و ہمیںسر سبز جس کے دشت ہیںجس کے جبل ہیں سرمگیںمیوے بہ کثرت ہیں جہاںشیریں مثال انگبیںہر زعفراں کے پھول میںعکس جمال حورعیںوہ مالوے کی چاندنیگم جس میں ہوں دنیا و دیںاس خطۂ نیرنگ میںہر اک فضا حسن آفریںہر شے میں حسن زندگیدل کش مکاں دل کش زمیںہر مرد مرد خوب روہر ایک عورت نازنیںوہ تاج کی خوش پیکریہر زاویے سے دل نشیںصنعت گروں کے دور کیاک یادگار مرمریںہوتی ہے جو ہر شام کوفیض شفق سے احمریںدریا کی موجوں سے الگیا اک بط نظارہ بیںیا طائر نوری کوئیپرواز کرنے کے قریںیا اہل دنیا سے الگاک عابد عزلت گزیںنقش اجنتا کی قسمجچتا نہیں ارژنگ چیںشان ایلورا دیکھ کرجھکتی ہے آذر کی جبیںچتوڑ ہو یا آگرہایسے نہیں قلعے کہیںبت گر ہو یا نقاش ہوتو سب کی عظمت کا امیںمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطندل کش ترے دشت و چمنرنگیں ترے شہر و چمنتیرے جواں رعنا جواںتیرے حسیں گل پیرہناک انجمن دنیا ہے یہتو اس میں صدر انجمنتیرے مغنی خوش نواشاعر ترے شیریں سخنہر ذرہ اک ماہ مبیںہر خار رشک نستریںغنچہ ترے صحرا کا ہےاک نافۂ مشک ختنکنکر ہیں تیرے بے بہاپتھر ترے لعل یمنبستی سے جنگل خوب ترباغوں سے حسن افروز بنوہ مور وہ کبک دریوہ چوکڑی بھرتے ہرنرنگیں ادا وہ تتلیاںبابنی میں وہ ناگوں کے پھنوہ شیر جن کے نام سےلرزے میں آئے اہرمنکھیتوں کی برکت سے عیاںفیضان رب ذو المننچشموں کے شیریں آب سےلذت کشاں کام و دہنتابندہ تیرا عہد نوروشن ترا عہد کہنکتنوں نے تجھ پر کر دیاقربان اپنا مال دھنکتنے شہیدوں کو ملےتیرے لیے دار و رسنکتنوں کو تیرا عشق تھاکتنوں کو تھی تیری لگنتیرے جفا کش محنتیرکھتے ہیں عزم کوہ کنتیرے سپاہی سورمابے مثل یکتائے زمنبھیشمؔ سا جن میں حوصلہارجنؔ سا جن میں بانکپنعالم جو فخر علم ہیںفن کار نازاں جن پہ فنرائےؔ و بوسؔ و شیرؔگلدنکرؔ، جگرؔ متھلیؔ شرنولاٹھولؔ، ماہرؔ، بھارتیبچنؔ، مہادیویؔ، سمنؔکرشننؔ، نرالاؔ، پریمؔ چندٹیگورؔ و آزادؔ و رمنؔمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنکھیتی تری ہر اک ہریدل کش تری خوش منظریتیری بساط خاک کےذرے ہیں مہر و مشتریجہلم کاویری ناگ وہگنگا کی وہ گنگوتریوہ نربدا کی تمکنتوہ شوکت گوداوریپاکیزگی سرجو کی وہجمنا کی وہ خوش گوہریدلربہ آب نیلگوںکشمیر کی نیلم پریدل کش پپیہے کی صداکوئل کی تانیں مد بھریتیتر کا وہ حق سرہطوطی کا وہ ورد ہریصوفی ترے ہر دور میںکرتے رہے پیغمبریچشتیؔ و نانکؔ سے ملیفقر و غنا کو برتریعدل جہانگیری میں تھیمضمر رعایا پروریوہ نورتن جن سے ہوئیتہذیب دور اکبریرکھتے تھے افغان و مغلاک صولت اسکندریراناؤں کے اقبال کیہوتی ہے کس سے ہم سریساونت وہ یودھا ترےتیرے جیالے وہ جرینیتی ودر کی آج تککرتی ہے تیری رہبریاب تک ہے مشہور زماںچانکیہؔ کی دانش وریویاس اور وشوامتر سےمنیوں کی شان قیصریپاتنجلی و سانکھ سےرشیوں کی حکمت پروریبخشے تجھے انعام نوہر دور چرخ چنبریخوش گوہری دے آب کواور خاک کو خوش جوہریذروں کو مہر افشانیاںقطروں کو دریا گستریمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنتو رہبر نوع بشرتو امن کا پیغام برپالے ہیں تو نے گود میںصاحب خرد صاحب نظرافضل تریں ان سب میں ہےباپو کا نام معتبرہر لفظ جس کا دل نشیںہر بات جس کی پر اثرجس نے لگایا دہر میںنعرہ یہ بے خوف و خطربے کار ہیں تیر و سناںبے سود ہیں تیغ و تبرہنسا کا رستہ جھوٹ ہےحق ہے اہنسا کی ڈگردرماں ہے یہ ہر درد کایہ ہر مرض کا چارہ گرجنگاہ عالم میں کوئیاس سے نہیں بہتر سپرکرتا ہوں میں تیرے لیےاب یہ دعائے مختصررونق پہ ہوں تیرے چمنسرسبز ہوں تیرے شجرنخل امید بہتریہر فصل میں ہو بارورکوشش ہو دنیا میں کوئیخطہ نہ ہو زیر و زبرتیرا ہر اک باسی رہےنیکو صفت نیکو سیرہر زن سلیقہ مند ہوہر مرد ہو صاحب ہنرجب تک ہیں یہ ارض و فلکجب تک ہیں یہ شمس و قمرمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطن
طوفاں بہ دل ہے ہر کوئی دل دار دیکھناگل ہو نہ جائے مشعل رخسار دیکھناآتش بہ جاں ہے ہر کوئی سرکار دیکھنالو دے اٹھے نہ طرۂ طرار دیکھناجذب مسافران رہ یار دیکھناسر دیکھنا، نہ سنگ، نہ دیوار دیکھناکوئے جفا میں قحط خریدار دیکھناہم آ گئے تو گرمئ بازار دیکھنااس دل نواز شہر کے اطوار دیکھنابے التفات بولنا، بیزار دیکھناخالی ہیں گرچہ مسند و منبر، نگوں ہے خلقرعب قبا و ہیبت دستار دیکھناجب تک نصیب تھا ترا دیدار دیکھناجس سمت دیکھنا، گل و گلزار دیکھناپھر ہم تمیز روز و مہ و سال کر سکیںاے یاد یار پھر ادھر اک بار دیکھنا
لکھنؤ میرے وطن میرے چمن زار وطنتیرے گہوارۂ آغوش میں اے جان بہاراپنی دنیائے حسیں دفن کیے جاتا ہوںتو نے جس دل کو دھڑکنے کی ادا بخشی تھیآج وہ دل بھی یہیں دفن کیے جاتا ہوںدفن ہے دیکھ مرا عہد بہاراں تجھ میںدفن ہے دیکھ مری روح گلستاں تجھ میںمیری گل پوش جواں سال امنگوں کا سہاگمیری شاداب تمنا کے مہکتے ہوئے خوابمیری بیدار جوانی کے فروزاں مہ و سالمیری شاموں کی ملاحت مری صبحوں کا جمالمیری محفل کا فسانہ مری خلوت کا فسوںمیری دیوانگئ شوق مرا ناز جنوںمیرے مرنے کا سلیقہ مرے جینے کا شعورمیرا ناموس وفا میری محبت کا غرورمیری نبضوں کا ترنم مرے نغموں کی پکارمیرے شعروں کی سجاوٹ مرے گیتوں کا سنگارلکھنؤ اپنا جہاں سونپ چلا ہوں تجھ کواپنا ہر خواب جواں سونپ چلا ہوں تجھ کواپنا سرمایۂ جاں سونپ چلا ہوں تجھ کولکھنؤ میرے وطن میرے چمن زار وطنیہ مرے پیار کا مدفن ہی نہیں ہے تنہادفن ہیں اس میں محبت کے خزانے کتنےایک عنوان میں مضمر ہیں فسانے کتنےاک بہن اپنی رفاقت کی قسم کھائے ہوئےایک ماں مر کے بھی سینے میں لیے ماں کا گدازاپنے بچوں کے لڑکپن کو کلیجے سے لگائےاپنے کھلتے ہوئے معصوم شگوفوں کے لیےبند آنکھوں میں بہاروں کے جواں خواب بسائےیہ مرے پیار کا مدفن ہی نہیں ہے تنہاایک ساتھی بھی تہ خاک یہاں سوتی ہےعرصۂ دہر کی بے رحم کشاکش کا شکارجان دے کر بھی زمانے سے نہ مانے ہوئے ہاراپنے تیور میں وہی عزم جواں سال لیےیہ مرے پیار کا مدفن ہی نہیں ہے تنہادیکھ اک شمع سر راہ گزر چلتی ہےجگمگاتا ہے اگر کوئی نشان منزلزندگی اور بھی کچھ تیز قدم چلتی ہےلکھنؤ میرے وطن مرے چمن زار وطندیکھ اس خواب گہ ناز پہ کل موج صبالے کے نو روز بہاراں کی خبر آئے گیسرخ پھولوں کا بڑے ناز سے گوندھے ہوئے ہارکل اسی خاک پہ گل رنگ سحر آئے گیکل اسی خاک کے ذروں میں سما جائے گا رنگکل مرے پیار کی تصویر ابھر آئے گیاے مری روح چمن خاک لحد سے تیریآج بھی مجھ کو ترے پیار کی بو آتی ہےزخم سینے کے مہکتے ہیں تری خوشبو سےوہ مہک ہے کہ مری سانس گھٹی جاتی ہےمجھ سے کیا بات بنائے گی زمانے کی جفاموت خود آنکھ ملاتے ہوئے شرماتی ہےمیں اور ان آنکھوں سے دیکھوں تجھے پیوند زمیںاس قدر ظلم نہیں ہائے نہیں ہائے نہیںکوئی اے کاش بجھا دے مری آنکھوں کے دیےچھین لے مجھ سے کوئی کاش نگاہیں میریاے مری شمع وفا اے مری منزل کے چراغآج تاریک ہوئی جاتی ہیں راہیں میریتجھ کو روؤں بھی تو کیا روؤں کہ ان آنکھوں میںاشک پتھر کی طرح جم سے گئے ہیں میرےزندگی عرصہ گہ جہد مسلسل ہی سہیایک لمحے کو قدم تھم سے گئے ہیں میرےپھر بھی اس عرصہ گہ جہد مسلسل سے مجھےکوئی آواز پہ آواز دئیے جاتا ہےآج سوتا ہی تجھے چھوڑ کے جانا ہوگاناز یہ بھی غم دوراں کا اٹھانا ہوگازندگی دیکھ مجھے حکم سفر دیتی ہےاک دل شعلہ بجاں ساتھ لیے جاتا ہوںہر قدم تو نے کبھی عزم جواں بخشا تھا!میں وہی عزم جواں ساتھ لیے جاتا ہوںچوم کر آج تری خاک لحد کے ذرےان گنت پھول محبت کے چڑھاتا جاؤںجانے اس سمت کبھی میرا گزر ہو کہ نہ ہوآخری بار گلے تجھ کو لگاتا جاؤںلکھنؤ میرے وطن میرے چمن زار وطندیکھ اس خاک کو آنکھوں میں بسا کر رکھنااس امانت کو کلیجے سے لگا کر رکھنا
بیزار فضا درپئے آزار صبا ہےیوں ہے کہ ہر اک ہمدم دیرینہ خفا ہےہاں بادہ کشو آیا ہے اب رنگ پہ موسماب سیر کے قابل روش آب و ہوا ہےامڈی ہے ہر اک سمت سے الزام کی برساتچھائی ہوئی ہر دانگ ملامت کی گھٹا ہےوہ چیز بھری ہے کہ سلگتی ہے صراحیہر کاسۂ مے زہر ہلاہل سے سوا ہےہاں جام اٹھاؤ کہ بیاد لب شیریںیہ زہر تو یاروں نے کئی بار پیا ہےاس جذبۂ دل کی نہ سزا ہے نہ جزا ہےمقصود رہ شوق وفا ہے نہ جفا ہےاحساس غم دل جو غم دل کا صلہ ہےاس حسن کا احساس ہے جو تیری عطا ہےہر صبح گلستاں ہے ترا روئے بہاریںہر پھول تری یاد کا نقش کف پا ہےہر بھیگی ہوئی رات تری زلف کی شبنمڈھلتا ہوا سورج ترے ہونٹوں کی فضا ہےہر راہ پہنچتی ہے تری چاہ کے در تکہر حرف تمنا ترے قدموں کی صدا ہےتعزیر سیاست ہے نہ غیروں کی خطا ہےوہ ظلم جو ہم نے دل وحشی پہ کیا ہےزندان رہ یار میں پابند ہوئے ہمزنجیر بکف ہے نہ کوئی بند بپا ہے''مجبوری و دعویٔ گرفتارئ الفتدست تۂ سنگ آمدہ پیمان وفا ہے''
فریادئی جفائے ایام ہو رہا ہوںپامال جور بخت ناکام ہو رہا ہوںسرگشتۂ خیال انجام ہو رہا ہوںبستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںبد نام ہو رہا ہوںسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںسلمیٰ سے دل لگا کر سلمیٰ سے دل لگا کراس حوروش کے غم میں دنیا و دیں گنوا کرہوش و حواس کھو کر صبر و سکوں لٹا کربیٹھے بٹھائے دل میں غم کی خلش بسا کرہر چیز کو بھلا کرسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںکہتی ہیں سب یہ کس کی تڑپا گئی ہے صورتسلمیٰ کی شاید اس کے من بھا گئی ہے صورتاور اس کے غم میں اتنی مرجھا گئی ہے صورتمرجھا گئی ہے صورت کمھلا گئی ہے صورتسنولا گئی ہے صورتسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںپنگھٹ پہ جب کہ ساری ہوتی ہیں جمع آ کرگاگر کو اپنی رکھ کر، گھونگھٹ اٹھا اٹھا کریہ قصہ چھیڑتی ہیں مجھ کو بتا بتا کرسلمیٰ سے باتیں کرتے دیکھا ہے اس کو جا کرہم نے نظر بچا کرسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںراتوں کو گیت گانے جب مل کر آتی ہیں سبتالاب کے کنارے دھومیں مچاتی ہیں سبجنگل کی چاندنی میں منگل مناتی ہیں سبتو میرے اور سلمیٰ کے گیت گاتی ہیں سباور ہنستی جاتی ہیں سبسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںکھیتوں سے لوٹتی ہیں جب دن چھپے مکاں کوتب راستے میں باہم وہ میری داستاں کودہرا کے چھیڑتی ہیں سلمیٰ کو میری جاں کواور وہ حیا کی ماری سی لیتی ہے زباں کوکہ چھیڑے اس بیاں کوسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںکہتی ہے رحم کھا کر یوں ایک ماہ طلعتیہ شہری نوجواں تھا کس درجہ خوبصورتآنکھوں میں بس رہی ہے اب بھی وہ پہلی رنگتدو دن میں آہ کیا ہے کیا ہو گئی ہے حالتاللہ تیری قدرتسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںاس شمع رو کا جب سے پروانہ بن گیا ہوںبستی کی لڑکیوں میں افسانہ بن گیا ہوںہر ماہ وش کے لب کا پیمانہ بن گیا ہوںدیوانہ ہو رہا ہوں دیوانہ بن گیا ہوںدیوانہ بن گیا ہوںسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںان کی زباں پہ میری جتنی کہانیاں ہیںکیا جانیں یہ کہ دل کی سب مہربانیاں ہیںکمسن ہیں بے خبر ہیں اٹھتی جوانیاں ہیںکیا سمجھیں غم کے ہاتھوں کیوں سر گرانیاں ہیںکیوں خوں فشانیاں ہیںسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںہر اک کے رحم کا یوں اظہار ہو رہا ہےبے چارے کو یہ کیسا آزار ہو رہا ہےدیکھے تو کوئی جانے بیمار ہو رہا ہےکس درجہ زندگی سے بیزار ہو رہا ہےناچار ہو رہا ہےسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںاک پوچھتی ہے آ کر تم بے قرار کیوں ہوکچھ تو ہمیں بتاؤ یوں دل فگار کیوں ہوکیا روگ ہے کہو تو تم اشک بار کیوں ہودیوانے کیوں ہوئے ہو دیوانہ وار کیوں ہوبا حال زار کیوں ہوسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںجاؤں شکار کو گر باہمرہان صحراکھیتوں سے گھورتی ہیں یوں دختران صحرابجلی کی روشنی کو جیسے میان صحراتاریک شب میں دیکھیں کچھ آہوان صحراحیرت کشان صحراسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںاک شوخ چھیڑتی ہے اس طرح پاس آ کردیکھو وہ جا رہی ہے سلمیٰ نظر بچا کرشرما کے مسکرا کر آنچل سے منہ چھپا کرجاؤ نا پیچھے پیچھے دو باتیں کر لو جا کرکھیتوں میں چھپ چھپا کرسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںگویا ہمیں حسد سے کچھ نازنین نگاہیںسلمیٰ کی بھا گئی ہیں کیوں دل نشیں نگاہیںان سے زیادہ دل کش ہیں یہ حسیں نگاہیںالقصہ ایک دل ہے سو خشمگیں نگاہیںشوق آفریں نگاہیںسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںاک شوخ تازہ دارد سسرال سے گھر آ کرسکھیوں سے پوچھتی ہے جس دم مجھے بتا کریہ کون ہے تو ظالم کہتی ہیں مسکرا کرتم اس کا حال پوچھو سلمیٰ کے دل سے جا کریہ گیت اسے سنا کرسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوں
اٹھی ہے مغرب سے گھٹاپینے کا موسم آ گیاہے رقص میں اک مہ لقانازک ادا ناز آفریںہاں ناچتی جا گائے جانظروں سے دل برمائے جاتڑپائے جا تڑپائے جااو دشمن دنیا و دیں!تیرا تھرکنا خوب ہےتیری ادائیں دل نشیںلیکن ٹھہر تو کون ہےاو نیم عریاں نازنیںکیا مشرقی عورت ہے توہرگز نہیں ہرگز نہیںتیری ہنسی بے باک ہےتیری نظر چالاک ہےاف کس قدر دل سوز ہےتقریر بازاری تریکتنی ہوس آموز ہےیہ سادہ پرکاری تریشرم اور عزت والیاںہوتی ہیں عفت والیاںوہ حسن کی شہزادیاںپردے کی ہیں آبادیاںچشم فلک نے آج تکدیکھی نہیں ان کی جھلکسرمایۂ شرم و حیازیور ہے ان کے حسن کاشوہر کے دکھ سہتی ہیں وہمنہ سے نہیں کہتی ہیں وہکب سامنے آتی ہیں وہغیرت سے کٹ جاتی ہیں وہاعزاز ملت ان سے ہےنام شرافت ان سے ہےایمان پر قائم ہیں وہپاکیزہ و صائم ہیں وہتجھ میں نہیں شرم و حیاتجھ میں نہیں مہر و وفاسچ سچ بتا تو کون ہےاو بے حیا تو کون ہےاحساس عزت کیوں نہیںشرم اور غیرت کیوں نہیںیہ پر فسوں غمزے ترےنا محرموں کے سامنےہٹ سامنے سے دور ہومردود ہو مقہور ہوتقدیر کی ہیٹی ہے توشیطان کی بیٹی ہے توجس قوم کی عورت ہے تواس قوم پر لعنت ہے تولیکن ٹھہر جانا ذراتیری نہیں کوئی خطامردوں میں غیرت ہی نہیںقومی حمیت ہی نہیںوہ ملت بیضا کہ تھیسارے جہاں کی روشنیجمعیت اسلامیاںشاہنشہ ہندوستاںاب اس میں دم کچھ بھی نہیںہم کیا ہیں ہم کچھ بھی نہیںملی سیاست اٹھ گئیبازو کی طاقت اٹھ گئیشان حجازی اب کہاںوہ ترکتازی اب کہاںاب غزنوی ہمت گئیاب بابری شوکت گئیایمان عالمگیر کامسلم کے دل سے اٹھ گیاقوم اب جفا پیشہ ہوئیعزت گدا پیشہ ہوئیاب رنگ ہی کچھ اور ہےبے غیرتی کا دور ہےیہ قوم اب مٹنے کو ہےیہ نرد اب پٹنے کو ہےافسوس یہ ہندوستاں!یہ گلشن جنت نشاں!ایمان داروں کا وطنطاعت گزاروں کا وطنرہ جائے گا ویرانہ پھربن جائے گا بت خانہ پھرلیکن مجھے کیا خبط ہےتقریر کیوں بے ربط ہےایسا بہک جاتا ہوں میںمنہ آئی بک جاتا ہوں میںاتنا شرابی ہو گیاعقل و خرد کو کھو گیامجھ کو زمانے سے غرضمٹنے مٹانے سے غرضہندوستاں سے کام کیااندیشۂ انجام کیاجینے دو جینے دو مجھےپینے دو پینے دو مجھےجب حشر کا دن آئے گااس وقت دیکھا جائے گاہاں ناچتی جا گائے جانظروں سے دل برمائے جاتڑپائے جا تڑپائے جااو دشمن دنیا و دیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books