aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "jhol"
تم نے لکھا ہے مرے خط مجھے واپس کر دوڈر گئیں حسن دل آویز کی رسوائی سےمیں نہ کہتا تھا کہ تم مجھ سے محبت نہ کرویوں نہ کھیلو مرے جذبات کی رعنائی سےسب سمجھتے تھے ہمیشہ مجھے جان محفلاب مرا حال تو پوچھو مری تنہائی سےتم نئی بزم سجا لو گی تمہارا کیا ہےتمہیں ڈھونڈیں گی کہاں میری سلگتی راتیںبھول ہی جاؤ گی دو چار دنوں میں تم تودو دھڑکتے ہوئے بے تاب دلوں کی باتیںمیں کہاں جاؤں گا محرومیٔ دل کو لے کرپھوٹ کر روئیں گی جس وقت بھری برساتیںکاش کچھ پیار کا انجام تو سوچا ہوتاچھین لی میری جوانی سے جوانی تم نےمیں نہ کہتا تھا کہ تم مجھ سے محبت نہ کرولاکھ سمجھایا مگر ایک نہ مانی تم نےتم نہ مانو تو بھلا کون کہے کون سنےپیار پوجا ہے پرستش ہے تجارت تو نہیںسونے چاندی کے لئے عشق کو ٹھکرا دیناکھیل ہو سکتا ہے معیار محبت تو نہیںتم زر و سیم کی میزان میں تل سکتی ہوپیار بکتا نہیں چاہت کا کوئی مول نہیںاس سے پہلے کہ مرے عشق پر الزام دھرودیکھ لو حسن کی فطرت میں تو کچھ جھول نہیں
چاندی کی انگوٹھی پہ جو سونے کا چڑھا جھولاوچھی تھی لگی بولنے اترا کے بڑا بولاے دیکھنے والو تمہی انصاف سے کہناچاندی کی انگوٹھی بھی ہے کچھ گہنوں میں گہناچاندی کی انگوٹھی کے نہ میں ساتھ رہوں گیوہ اور ہے میں اور یہ ذلت نہ سہوں گیمیں قوم کی اونچی ہوں بڑا میرا گھراناوہ ذات کی گھٹیا ہے نہیں اس کا ٹھکانامیری سی کہاں چاشنی میرا سا کہاں رنگوہ مول میں اور تول میں میرے نہیں پاسنگمیری سی چمک اس میں نہ میری سی دمک ہےچاندی ہے کہ ہے رانگ مجھے اس میں بھی شک ہےیہ سنتے ہی چاندی کی انگوٹھی بھی گئی جلاللہ رے ملمع کی انگوٹھی تیرے چھل بلسونے کی ملمع پہ نہ اترا میری پیاریدو دن میں بھڑک اس کی اتر جائے گی ساریکچھ دیر حقیقت کو چھپایا بھی تو پھر کیاجھوٹوں نے جو سچوں کو چڑھایا بھی تو پھر کیامت بھول کبھی اصل تو اپنی اری احمقجب تاؤ دیا جائے گا ہو جائے گا منہ فقسچے کی تو عزت ہی بڑھے گی جو کریں جانچمشہور مثل ہے کہ نہیں سانچ کو کچھ آنچکھونے کو کھرا بن کے نکھرنا نہیں اچھاچھوٹے کو بڑا بن کے ابھرنا نہیں اچھا
کوئی ایسے ہنسےہنسنے والے کی مرضی ہے جیسے ہنسےکوئی ہنسے تو گھنگھرو باجیں کوئی ہنسے تو ڈھولایک ہنسی ہے سیدھی سادھی ایک ہنسی میں جھولہنسنے والے ایسے بھی ہیں جو بے بات ہنسیںایسے لوگ بھی دیکھے سب ہی جن کے ساتھ ہنسیںوہ بھی ہیں جو ہنستے ہنستے ہاتھوں کو لہرائیںوہ بھی ہیں جو ہنستے ہنستے بل بھی کھاتے جائیںہاہا ہاہا کوئی ہنسے اور کوئی ہی ہی ہی ہیکوئی ہو ہو ہو ہو ہو کوئی کھی کھی کھی کھی
چوراہوں پر کھڑے ہوئے بکروں کے ہیں جو غولتو ان کے منہ کو کھول کے دانتوں کو مت ٹٹولقیمت میں ورنہ آئے گا فوراً ہی اتنا جھولسونے کا جیسے بکرا ہو ایسا پڑے گا مولخود ہی کہے گا بکرا کہ تجھ میں اگر ہے عقل''اپنی گلی میں مجھ کو نہ کر دفن بعد قتل''
مرے پیارے خداوندا مجھے کیونکر نہ جانےاپنے بے وقعت فسانے کے حوالوں میںکہیں پر جھول لگتا ہے یہ قصہ کچھ عجب سا ہے
رات کو کمرے کا سناٹاجکڑ لیتا ہے اپنے آہنی ہاتھوں میںاور پھر لا پٹختا ہے اسی بستر پہجس کی برق سی براق چادر کی ہر ایک سلوٹ میں تم لپٹی پڑی ہوداہنی جانب کا ہلکا جھولجس سے اک مکمل جسم کا خاکہ ابھرتا ہےاسنو اینجل کا شایداس بدن کا جو تم اپنے ساتھ لے کر جا چکی ہواور میں ڈرتا ہوں بائیں ہاتھ سوتا ہوںتمہارا نقش بستر سے اسنو اینجل کا خاکہ مٹ گیاتو شب کے سناٹے میں کس سے بات ہوگی
گلابی لب، مسکراتے عارض، جبیں کشادہ، بلند قامتنگاہ میں بجلیوں کی جھل مل، اداؤں میں شبنمی لطافتدھڑکتا سینہ، مہکتی سانسیں، نوا میں رس، انکھڑیوں میں امرتہمہ حلاوت، ہمہ ملاحت، ہمہ ترنم، ہمہ نزاکتلچک لچک گنگنا رہی ہویہ خواب کیسا دکھا رہی ہو
ہم خوابوں کے بیوپاری تھےپر اس میں ہوا نقصان بڑاکچھ بخت میں ڈھیروں کالک تھیکچھ اب کے غضب کا کال پڑاہم راکھ لیے ہیں جھولی میںاور سر پہ ہے ساہوکار کھڑایاں بوند نہیں ہے ڈیوے میںوہ باج بیاج کی بات کرےہم بانجھ زمین کو تکتے ہیںوہ ڈھور اناج کی بات کرےہم کچھ دن کی مہلت مانگیںوہ آج ہی آج کی بات کرے
تمہارا جسم ہر اک لہر کے جھکولے سےمری کھلی ہوئی باہوں میں جھول جاتا ہے
تجھ سے بچھڑ کر بھی زندہ تھامر مر کر یہ زہر پیا ہےچپ رہنا آسان نہیں تھابرسوں دل کا خون کیا ہےجو کچھ گزری جیسی گزریتجھ کو کب الزام دیا ہےاپنے حال پہ خود رویا ہوںخود ہی اپنا چاک سیا ہےکتنی جانکاہی سے میں نےتجھ کو دل سے محو کیا ہےسناٹے کی جھیل میں تو نےپھر کیوں پتھر پھینک دیا ہے
وقت کے اگلے شہر کے سارے باشندےسب دن سب راتیںجو تم سے ناواقف ہوں گےوہ کب میری بات سنیں گےمجھ سے کہیں گےجاؤ اپنی راہ لو راہیہم کو کتنے کام پڑے ہیںجو بیتی سو بیت گئیاب وہ باتیں کیوں دہراتے ہوکندھے پر یہ جھولی رکھےکیوں پھرتے ہو کیا پاتے ہومیں بے چارہاک بنجارہآوارہ پھرتے پھرتے جب تھک جاؤں گاتنہائی کے ٹیلے پر جا کر بیٹھوں گاپھر جیسے پہچان کے مجھ کواک بنجارہ جان کے مجھ کووقت کے اگلے شہر کے سارے ننھے منے بھولے لمحےننگے پاؤںدوڑے دوڑے بھاگے بھاگے آ جائیں گےمجھ کو گھیر کے بیٹھیں گےاور مجھ سے کہیں گےکیوں بنجارےتم تو وقت کے کتنے شہروں سے گزرے ہوان شہروں کی کوئی کہانی ہمیں سناؤان سے کہوں گاننھے لمحو!ایک تھی رانیسن کے کہانیسارے ننھے لمحےغمگیں ہو کر مجھ سے یہ پوچھیں گےتم کیوں ان کے شہر نہ آئیںلیکن ان کو بہلا لوں گاان سے کہوں گایہ مت پوچھوآنکھیں موندواور یہ سوچوتم ہوتیں تو کیسا ہوتاتم یہ کہتیںتم وہ کہتیںتم اس بات پہ حیراں ہوتیںتم اس بات پہ کتنی ہنستیںتم ہوتیں تو ایسا ہوتاتم ہوتیں تو ویسا ہوتا
وہ شخص کہ جس کی خاطر ہماس دیس پھریں اس دیس پھریںجوگی کا بنا کر بھیس پھریںچاہت کے نرالے گیت لکھیںجی موہنے والے گیت لکھیںدھرتی کے مہکتے باغوں سےکلیوں کی جھولی بھر لائیںامبر کے سجیلے منڈل سےتاروں کی ڈولی بھر لائیں
یا شکارے میں کسی جھیل پہ جب رات بسر ہواور پانی کے چھپاکوں میں بجا کرتی ہیں ٹلیاںسبکیاں لیتی ہواؤں کے بھی بین سنے ہیں؟
آہو مانگے بن کا رمنابھنورا چاہے پھول کی ڈالیسوکھے کھیت کی کونپل مانگےاک گھنگھور بدریا کالیدھوپ جلے کہیں سایہ چاہیںاندھی راتیں دیپ دوالیہم کیا مانگیں ہم کیا چاہیںہونٹ سلے اور جھولی خالیدل بھنورا نہ پھول نہ کونپلبگیا نا بگیا کا مالیدل آہو نہ دھوپ نہ سایادل کی اپنی بات نرالیدل تو کسی درشن کا بھوکادل تو کسی درشن کا سوالینام لیے بن پڑا پکارےکسے پکارے دشت کنارے
میرے اسکول مری یادوں کے پیکر سن لےمیں ترے واسطے روتا ہوں برابر سن لےتیرے استادوں نے محنت سے پڑھایا ہے مجھےتیری بینچوں نے ہی انسان بنایا ہے مجھےنا تراشیدہ سا ہیرا تھا تراشا تو نےذہن تاریک کو بخشا ہے اجالا تو نےعلم کی جھیل کا تیراک بنایا ہے مجھےخوف کو چھین کے بے باک بنایا ہے مجھےتجھ سے شفقت بھی ملی تجھ سے محبت بھی ملیدولت علم ملی مجھ کو شرافت بھی ملیشفقتیں ایسی ملی ہیں مجھے استادوں کیپرورش کرتا ہو جیسے کوئی شہزادوں کیتیری چاہت میں میں اس درجہ بھی کھو جاتا تھاتیری بینچوں پہ ہی کچھ دیر کو سو جاتا تھا
یہ تیری جھیل سی آنکھوں میں رتجگوں کے بھنوریہ تیرے پھول سے چہرے پہ چاندنی کی پھواریہ تیرے لب یہ دیار یمن کے سرخ عقیقیہ آئینے سی جبیں سجدہ گاہ لیل و نہار
در ہائے آب دار و شرر ہائے دل نشیںشب ہائے تلخ و ترش و سحر ہائے شکریںعقل نشاط خیز و جنون غم آفریںدولت وہ کون ہے جو مری جیب میں نہیںٹکرائی جب بھی مجھ سے خجل سروری ہوئییوں ہے ترے فقیر کی جھولی بھری ہوئی
اہل دولت کا سن چکے تم حالاب سنو روئیداد اہل کمالفاضلوں کو ہے فاضلوں سے عنادپنڈتوں میں پڑے ہوئے ہیں فسادہے طبیبوں میں نوک جھوک سداایک سے ایک کا ہے تھوک جدارہنے دو اہل علم ہیں اس طرحپہلوانوں میں لاگ ہو جس طرحعیدو والوں کا ہے اگر پٹھاشیخو والوں میں جا نہیں سکتاشاعروں میں بھی ہے یہی تکرارخوشنویسوں کو ہے یہی آزارلاکھ نیکوں کا کیوں نہ ہو اک نیکدیکھ سکتا نہیں ہے ایک کو ایکاس پہ طرہ یہ ہے کہ اہل ہنردور سمجھے ہوئے ہیں اپنا گھرملی اک گانٹھ جس کو ہلدی کیاس نے سمجھا کہ میں ہوں پنسارینسخہ اک طب کا جس کو آتا ہےسگے بھائی سے وہ چھپاتا ہےجس کو آتا ہے پھونکنا کشتہہے ہماری طرف سے وہ گونگاجس کو ہے کچھ رمل میں معلوماتوہ نہیں کرتا سیدھے منہ سے باتباپ بھائی ہو یا کہ ہو بیٹابھید پاتا نہیں منجم کاکام کندلے کا جس کو ہے معلومہے زمانہ میں اس کی بخل کی دھومالغرض جس کے پاس ہے کچھ چیزجان سے بھی سوا ہے اس کو عزیزقوم پر ان کا کچھ نہیں احساںان کا ہونا نہ ہونا ہے یکساںسب کمالات اور ہنر ان کےقبر میں ان کے ساتھ جائیں گےقوم کیا کہہ کے ان کو روئے گینام پر کیوں کہ جان کھوئے گیتربیت یافتہ ہیں جو یاں کےخواہ بی اے ہوں اس میں یا ایم اےبھرتے حب وطن کا گو دم ہیںپر محب وطن بہت کم ہیںقوم کو ان سے جو امیدیں تھیںاب جو دیکھا تو سب غلط نکلیںہسٹری ان کی اور جیوگرفیسات پردے میں منہ دیے ہے پڑیبند اس قفل میں ہے علم ان کاجس کی کنجی کا کچھ نہیں ہے پتالیتے ہیں اپنے دل ہی دل میں مزےگویا گونگے کا گڑ ہیں کھائے ہوئےکرتے پھرتے ہیں سیر گل تنہاکوئی پاس ان کے جا نہیں سکتااہل انصاف شرم کی جا ہےگر نہیں بخل یہ تو پھر کیا ہےتم نے دیکھا ہے جو وہ سب کو دکھاؤتم نے چکھا ہے جو وہ سب کو چکھاؤیہ جو دولت تمہارے پاس ہے آجہم وطن اس کے ہیں بہت محتاجمنہ کو ایک اک تمہارے ہے تکتاکہ نکلتا ہے منہ سے آپ کے کیاآپ شائستہ ہیں تو اپنے لیےکچھ سلوک اپنی قوم سے بھی کیےمیز کرسی اگر لگاتے ہیں آپقوم سے پوچھئے تو پن ہے نہ پاپمنڈا جوتا گر آپ کو ہے پسندقوم کو اس سے فائدہ نہ گزندقوم پر کرتے ہو اگر احساںتو دکھاؤ کچھ اپنا جوش نہاںکچھ دنوں عیش میں خلل ڈالوپیٹ میں جو ہے سب اگل ڈالوعلم کو کر دو کو بہ کو ارزاںہند کو کر دکھاؤ انگلستاں
میں سوچتا تھا کہ تم آؤگی تمہیں پا کرمیں اس جہان کے دکھ درد بھول جاؤں گاگلے میں ڈال کے بانہیں جو جھول جاؤ گیمیں آسمان کے تارے بھی توڑ لاؤں گا
خوار ہوئے دمڑی کے پیچھے اور کبھی جھولی بھر مالایسے چھوڑ کے اٹھے جیسے چھوا تو کر دے گا کنگالسیانے بن کر بات بگاڑی ٹھیک پڑی سادہ سی چالچھانا دشت محبت کتنا آبلہ پا مجنوں کی مثالکبھی سکندر کبھی قلندر کبھی بگولہ کبھی خیالسوانگ رچائے اور گزر کی اس آباد خرابے میںدیکھو ہم نے کیسے بسر کی اس آباد خرابے میں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books