aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "joBK"
گر ترے شہر میں آئے ہیں تو معذور ہیں ہموقت کا بوجھ اٹھائے ہوئے مزدور ہیں ہمایک ہی جاب پہ مدت سے بدستور ہیں ہمبشؔ سے نزدیک مشرفؔ سے بہت دور ہیں ہم
رات سناٹے کی چادر میں پڑی ہے لپٹیپتیاں سڑکوں کی سب جاگ رہی ہیں جیسےدیکھنا چاہتی ہیں شہر میں کیا ہوتا ہےمیں ہمیشہ کی طرح ہونٹوں میں سگریٹ کو دبائےسونے سے پہلے خیالات میں کھویا ہوا ہوںدن میں کیا کچھ کیا اک جائزہ لیتا ہے ضمیرایک سادہ سا ورق نامۂ اعمال ہے سبکچھ نہیں لکھا بجز اس کے پسے جاؤ یوں ہیکچھ نہیں لکھا بس اک اتنا کہ انساں کا نصیبگیلی گوندھی ہوئی مٹی کا ہے اک تودہ سادن میں سو شکلیں بنا کرتی ہیں اس مٹی سےکچھ نہیں لکھا بس اک اتنا کہ چیونٹی دل ہےجوق در جوق جو انسان نظر آتے ہیںدانہ لے کر کسی دیوار پہ چڑھنا گرنااور پھر چڑھنا چڑھے جانا یوں ہی شام و سحرکچھ نہیں لکھا بس اتنا کہ پسے جاؤ یوں ہیاور اندوہ تأسف خوشی آلام نشاطخود کو سو ناموں سے بہلاتے رہو چلتے رہوسانس رک جائے جہاں سمجھو وہیں منزل ہےاور اس دوڑ سے تھک جاؤ تو سگریٹ پی لو
مجھےپتہ ہےکہ جاب پر ہیہمارا فیوچر ٹکا ہوا ہےمگریہ رستہ تودن بہ دن ابطویل ہوتا ہی جا رہا ہےجو ڈرتمہارا ہےمیرے ڈر سےالگ نہیں ہےہو تم پریشاںتو میں بھی جاناں سکوں میں کب ہوں
جاب بھی کرنی ہے کھانا بھی پکانا ہے مجھےشعر بھی کہنے ہیں مصرع بھی اٹھانا ہے مجھے
گوشت مچھلی سبزیاں بنیے کا راشن دودھ گھیمجھ کو کھاتی ہیں یہ چیزیں میں نے کب کھایا انہیںمیرا گھر رہتا ہے مجھ میں گھر میں میں رہتا نہیںبیوی بچوں کے پھٹے کپڑوں میں ہوںاور نئے جوڑوں کی خوشیوں میں چھپا جو کرب ہے وہ بھی ہوں میںفیس میں اسکول کی کاپی کتابوں میں بھی میںمیں ہی ہوں چولھے کی گیسمیں ہی ہوں اسٹو کا گیسمیرے جوتے جونک کی مانند میرے پاؤں سے لپٹے ہوئے ہیںچوستے ہیں میرا خونمیرا اسکوٹر میرے کاندھوں پہ بیٹھا ہےمیں اس کے ٹائروں میں لپٹا ہوں اور گھستا ہوں
گھڑی کی ٹک ٹک بول رہی ہے رات کے شاید ایک بجے ہیںبٹلہ ہاؤس کی ایک گلی میں موٹے کتے بھونک رہے ہیںایک کھنڈر میں تیز روشنی چاروں جانب پھیل رہی ہےبغل میں لیٹا ساتھی میرا اب تک پب جی کھیل رہا ہےمیں بھی اب تک جاگ رہا ہوں آنکھیں موندے سوچ رہا ہوںنیچے جانا کیسا ہوگا باہر کتنی سردی ہوگیقطب ستارہ کدھر کو ہوگا رات کی رانی کیسی ہوگیصبح کا سورج کہاں پہ ہوگا ابھی خدا کیا کرتا ہوگاسڑک کنارے سونے والے جوڑے کیسے سوتے ہوں گےان کو مچھر کاٹتے ہوں گےنوم چومسکی لان میں بیٹھے بچے آخر کیسے ہوں گےان کو کتے چاٹتے ہوں گےکیا ان بھوک زدہ بچوں کے خواب میں پریاں آتی ہوں گیکٹے پھٹے ہاتھوں کے تکیے کے نیچے کچھ رکھتی ہوں گیکیسی باتیں کرتے ہو جی کیا پریوں کا کام یہی ہےمحل سرائے چھوڑ کے اب وہ سڑک کنارے آئیں گی کیارات کے شاید ڈیڑھ بجے ہیں بٹلہ ہاؤس کا چوک کھلا ہےرات کو جاب سے آنے والے رات میں جاب کو جانے والےایک ہاتھ میں لیے چائے کپ ایک ہاتھ میں چھوٹی سگریٹسڑک پار کیوں دیکھ رہے ہیںبریانی کو ڈھونڈھ رہے ہیںان کے پیچھے سڑک کنارے قبرستان کا گیٹ کھلا ہےاندر کتے گھوم رہے ہیں شاید کھانا ڈھونڈھ رہے ہیںباہر سگریٹ اور کافی ہے اندر کافی تاریکی ہےمیں بھی اندر جھانک رہا ہوں ہولے ہولے سوچ رہا ہوںقبرستان کے اندر میں یہ لیٹرین کس نے بنوایاکیوں بنوایاشاید مردے رات میں اٹھ کر اس کے اندر جاتے ہوں گےحاجت پوری کرتے ہوں گےیا پھر سگریٹ پینے والے لڑکے اندر جاتے ہوں گےخاکی وردی گھر والوں سے چھپ کر سگریٹ پیتے ہوں گےایک کنارے ادب کی ملکہ سب کچھ بیٹھی دیکھ رہی ہےآگ کا دریا چاندنی بیگم شیشے کا گھر لکھنے والیعینی آپا سوچ رہی ہےمیرا قاری کیوں آیا ہےشاید اس کو گوتم شنکر طلعت نے الجھایا ہوگایا پھر اس کو خیاباں کی چمپا نے پگلایا ہوگایا پھر اس پاگل لڑکے نے شعور کی رو کو چھیڑا ہوگایا پھر اس نے آگ کا دریا آدھا پڑھ کر چھوڑا ہوگافلسفیانہ باتیں سن کر سارے مردے سوچتے ہوں گےکوئی اپنی خواب گاہ کو چھوڑ کے آخر کیوں آیا ہےمیں بھی بیٹھا سوچ رہا ہوںاتنی رات کو کیوں آیا ہوں
میں نے انٹرویو کیا کل ایک روزہ خور سےمیں زباں سے بولتا تھا وہ شکم کے زور سےمیں نے پوچھا آپ نے روزہ یہ کیوں رکھا نہیںپیٹ دکھلانے لگا بولا کہ یوں رکھا نہیںروزہ یوں رکھا نہیں چلتی نہیں باد صباموسم گرما میں روزے آئے ہیں اس مرتبہجاب کرنی ہے ضروری کام کرنا ہے مجھےکوک پزّا کے سہارے شام کرنا ہے مجھےمیں نے لسی کے گلاسوں میں پیا کچھ اور ہےدوپہر میں مرغ کھانے کا مزا کچھ اور ہےدن میں کھانے کے لیے اقرار کر لیتا ہوں میںشام کو مسجد میں بھی افطار کر لیتا ہوں میںکوئی شے کھاتے ہوئے میں نے چھپائی ہی نہیںآج تک میری ہوئی روزہ کشائی ہی نہیںروزہ خوری پر مری دنیا کو حیرانی نہیںروزہ یوں رکھا نہیں بجلی نہیں پانی نہیںمیں جو بے روزہ ہوں یہ بھی تاجروں کا ظرف ہےسو روپے اجرت ہے میری سو روپے کا برف ہےروح افزا کے بنا دنیا کی حوریں رہ گئیںروزہ داروں کے لیے سوکھی کھجوریں رہ گئیںروزہ یوں رکھا نہیں ہو جائے گا کھانا خرابلنچ پر آئے گی کل ہوٹل میں رشک ماہتابمیں ہوں شاعر مہرباں ہے مجھ پہ خلاق ازلپیش کرنی ہے مجھے محفل میں اک تازہ غزلاجر روزہ کیا ہے یہ شعروں میں بتلاؤں گا میںلنچ میں افطار کی تشریح بن جاؤں گا میںبھوک اور شاعر کا چوں کہ چولی دامن کا ہے ساتھمجھ سے بڑھ کے جانتا ہے کون روزہ کی صفاتپندرہ گھنٹے کا روزہ ہر جوان و پیر کاشام کرنا صبح کا لانا ہے جوئے شیر کا
روح وجدان بھٹک جاتی ہےطرز افکار بدل جاتی ہےصحرا آ جاتے ہیں دیواروں میںآسمانوں کے ورق کھلتے ہیںجوق در جوق پرے روحوں کےچلتے پھرتے نظر آ جاتے ہیںاور زمیں کانچ کے ٹکڑوں کی طرح ٹوٹتی ہے
بارش دیکھتی ہے کہ اسے کہاں برسنا ہےاور دھوپ جانتی ہے کہ اسے کہاں نہیں جانامگر وہ جاتی ہے اور شکار ہوتی ہےاور کانٹوں میں پھنس کر بٹ جاتی ہےاور ریت کے ذروں کی طرحزمین سے اٹھائی نہیں جاتیرات سمجھتی ہے اور سمجھ کر خاموش رہتی ہےصرف اپنے کونوں پر گرہیں لگاتی رہتی ہےاور کہتی ہےآ مل ڈھولن یار کدیکیدارے کے تانے بانے میںدیکھ تو میں نے کیا بنا ہےایک پھولبن! ایک راس بناور ابدھارے دھارے چلی جاتی ہوں میںبن بیچ اتروں، کانٹے رنگ دوں؟دھارے دھارے بہی جاتی ہوںاور بھید نہیں پاتی ہوںنہ پل چھن کانہ یگوں یگوں کے انتر کاتم سندر گیانی شانت ہوئےموہے اپنی سیت کرو سوامیسب چڑیاں اک سنگ بولتی ہیںموہے اپنی سیت کرو سوامی اور دور کہیں اڑ جاتی ہیںمیں اپنے ہر اک کونے پر چالیس گرہیں لگواتی ہوںتن جونک جونک ڈسواتی ہوںاور دھوپ کو یہ معلوم نہیںکب مجھ پر سایہ کرنا ہے! کب مجھ کو روشن کرنا ہےکب میری خاک اڑانی ہےکب میرے انگ انگ بھرنا ہےمیں گٹھری گیلے کپڑوں کیکس گھاٹ مجھے اب دھرنا ہے!
مرا وجوددیکھتے ہی دیکھتےایک عجائب خانے میں ڈھل رہا ہےکہ میرے لا شعور نےآثار قدیمہ کی نادر عنایتوں کوچھپا کے مجھ سےمجھ ہی میں جمع کر دیا ہےیہاں کہیں کسی ریک میںمرے حنوط شدہ حرف اور لمحےپڑے ہوئے ہیںجنہیں نہ جانے کون سا مسالہ لگا دیا گیا ہےکہ مرے جسم کی حرارت سے بھی وہگل نہیں رہے ہیںان المایوں سےمری ٹوٹی ہوئی چوڑیوں کے ساز کیآواز آ رہی ہےیہ دیکھو شیلف میںمیری بچپن کی گڑیا کاٹوٹا ہوا جسم سو رہا ہےکہیں میری سنگھار میز کا آئینہبے رنگ ہو کر چٹخ گیا ہےمگر اب بھیمیرے عذاب لمحوں کاعکس دے رہا ہےکہیں کسی سرمہ دانی میںشاید کبھی میں نے اپنی آنکھ چھوڑ دی تھیجو اس میں سے مجھے گھورتی ہےاور میری زندگیمیرے زنگ آلود زیوروں میںدب کے چیختی ہےاور پائلوں کی آواز سے ڈر رہی ہےایک ٹوٹی ہوئی کنگھی سےمرے بال الجھے ہوئے ہیںاور کنارے پہ رکھی ہوئیصراحی سے پیاس کی بورس رہی ہےکسی گھڑیال کی ٹوٹی ہوئی سوئیاک عذاب لمحے میں مرتعش ہےاور قریب ہیمیرے جذبوں کے تالاب سےباس اٹھ رہی ہےاور تماش بین،جوق در جوق میرے عجائب خانے کودیکھنے کو آ رہے ہیںان میں سے کوئی تماش بیناس عجائب خانے کیسانس لیتی ہوئی موت کوتضحیک سے دیکھ کرنظر انداز کرتا ہوا جا رہا ہےاور کوئی عجائبات کا شوقینان تمام اشیاء پہ تحقیق کر کےاپنا آپ ثابت کرنا چاہتا ہےمگر ان کو دھول میں پڑی ہوئیتاریخ کی الجھی ہوئی ڈور کاکوئی سرا نہیں مل رہا ہےاور میں کنارے پہ کھڑی ہوئیاپنے اسی ایک سرے کے ملنے کی منتظر ہوںکہ مرا وجود دیکھتے ہی دیکھتےایک عجائب خانے میں ڈھل چکا ہے
اک آواز ابھرتی آ رہی ہےدودھیا سی روشنی اکپردۂ بینائی سے ہو کر گزرتی گزرتی جا رہی ہےسلب ہوتی جا رہی ہےقوت انکار بھیاقرار بھیکچھ ہو رہا ہے یا کہوں کچھ ہےنہیں معلوم کیا ہے اور کیوں کچھ ہےاک انبوہ فراواںجوق اندر جوق سب افراداقرا کی طرف جاتے ہوئےاور میں ادھر غار حرا کیچہل سالہ خامشی میںمحو ہوتا جا رہا ہوں
اک بڑے صاحب صدارت کے لیے ہیں دستیابکیونکہ پی ٹی وی میں اب جاری نہیں ہے ان کی جاب
شام آدھا ادھورا سا اک خواب ہےچاندنی چاند کی جیسے بس جاب ہے
امیدوں آرزوؤں خوابوں کو مسمار کرتا سوچتا ہوں میںیہ میرے دست و بازو ہیںکسی تعمیر سے پہلے ہوئی تخریب کے حامل کبھی تھے جوسفر درپیش یہ کیساکہاں پر آ گیا ہوں میںمکانوں کے بدن کو روح سے محروم کرتا ہوںیہ آہیں سسکیاں چیخیںکھنڈر پر بال بکھرائےکہیں دیوانگی کا رقص کرتی ہیںکہیں پر قہقہے بھی کھنکھاتے ہیںیہ تخت و تاج کا نشہخرد کو چھین لیتا ہےکہ جب بازار طاقت میں منات و لات اور عزیٰبدل کر ماہیت اعل حبل کا ورد کرتے ہیںتو ارزانی لہو کی چھونے لگتی ہے فلک کویہ نشہ جونک کی صورترعایا کی صداؤں کا لہو پیتابدن سے لپٹا رہتا ہےنمک لاؤنمک لائیں کہاں سے کہنمک ناپید ہے نایاب ہے اس قحط سالی میںاجارہ داری اس کی تخت شاہی کے لیے محفوظ ہے اب
افق کے زرد گالوں پر جمی ہے گرد صدیوں کیتھکن کی راکھ میں لپٹی ہوئی تاریک پگڈنڈیکسی خالی کٹورے میں پڑی ہے پیاس رادھا کینفس کی دھوپ میں جل بجھ گئے ہیں وصل کے سپنےرتوں کے بانجھ پن سے اڑ رہی ہے خاک بستی میںنہ شاخ جاں پہ کوئی گل نہ کوئی خوشبوئے ہجراںیہ کیسی فصل وحشت ہےکہ جس میں آرزو کے نخل سبزہ زار سوکھے ہیںدریچوں کے پٹولوں سے لپٹ کر مر گئی دستکنگاہوں کے پیالوں میں کوئی منظر نہیں بستافقط اک بے حسی کی جونک لپٹی ہے خیالوں سےگزرتے ساعتوں کے ریگ زاروں پرمحبت کے کتب خانے لرزتے گرد کے طوفاںنہ اب وہ لوح دل باقی نہ وہ تحریر جاں باقیوہ جن کے لمس سے کھلتے تھے ان بے جان رستوں پرگل تر کی طرح جادووہ سب جادو وہ سب قصےاسی بے مہر مٹی کی تہوں میں جا کے سوئے ہیںجہاں اب پیار کی کونپل نکلنے سے رہی سائیںعجب اک حبس ہے شام تمنا کی فضاؤں میںکہ اب حرف وفا کی راکھ بھی اڑتی نہیں یاں پریہ عشق کے بانجھ موسم ہیںعشق کے بانجھ موسم ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books