aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "kanda"
کل واشنگٹن شہر کی ہم نے سیر بہت کی یارگونج رہی تھی سب دنیا میں جس کی جے جے کارملکوں ملکوں ہم گھومے تھے بنجاروں کی مثللیکن اس کی سج دھج سچ مچ دل داروں کی مثلروشنیوں کے رنگ بہیں یوں رستہ نظر نہ آئےمن کی آنکھوں والا بھی یاں اندھا ہو ہو جائےاونچے بام چراغاں رستے روپ بھرے بازارجاگتی آنکھوں سے دیکھا ہے خوابوں کا سنسارایک سفید عمارت جس کی نگر نگر میں دھوماندر دنیا بھر کی کالک باہر سے معصومیہی سفید عمارت جس میں بہت بڑی سرکاریہیں کریں سوداگر چھوٹی قوموں کا بیوپاریہیں پہ جادو گر بیٹھا جب کہیں کی ڈور ہلائےہر بستی ناگا ساکی ہیروشیما بن جائےاسی عمارت سے کچھ دور ہی اک کالی دیوارلوگوں کا میلہ ایسا لگا تھا جیسے کوئی تیوہاراس کالی دیوار پہ کندہ دیکھے ہزاروں نامان ناموں کے بیچ لکھا تھا شہدائے وتنامآس پاس تو جمع ہوا تھا خلقت کا انبوہسب کی آنکھوں میں سناٹا چہروں پر اندوہبیکل بہنیں گھائل مائیں اور دکھی بیوائیںساجن تم کس دیس سدھارے سوچیں محبوبائیںاپنے پیاروں دل داروں کا اوجھل مکھڑا ڈھونڈیںاس کالی دیوار پہ ان کے نام کا ٹکڑا ڈھونڈیںدلوں میں دکھ آنکھوں میں شبنم ہاتھوں میں پھول اٹھائےاس ناموں کے قبرستان کا بھید کوئی کیا پائےنا تربت نا کتبہ کوئی نا ہڈی نا ماسپھر بھی پاگل نیناں کو تھی پیا ملن کی آسکہیں کہیں اس کالی سل پر کوئی سفید گلابیوں بے تاب پڑا تھا جیسے اندھی آنکھ کا خوابکانٹا بن کر سبھی کے دل میں کھٹکے ایک سوالکس کارن مٹی میں ملائے ہیروں جیسے لالہوچی من کے دیس میں ہم نے کیا کیا ستم نہ ڈھائےاس کے جیالے تو آزادی کا سورج لے آئےلیکن اتنے چاند گنوا کر ہم نے بھلا کیا پایاہم بد قسمت ایسے جن کو دھوپ ملی نا سایامکھ موتی دے کر حاصل کی یہ کالی دیواریہ کالی دیوار جو ہے بس اک خالی دیواریہ کالی دیوار جو ہے ناموں کا قبرستانواشنگٹن کے شہر میں دفن ہیں کس کس کے ارمان
میں اردو زباں ہوںمجھے آریاؤں نے پالامری اصل ہندوستاں ہےکہ میرے لہو سے ہی ویدوں کی آیات لکھی گئی ہیںیہ رام اور سیتا کی عظمت کے قصے رمائن کتھائیںکرشن اور رادھا کے رنگیں فسانےہر اک لفظ کی روح نغمہ سرا ہےمیں اردو زباں ہوںوہ گوتم کہ جس نے محبت کی پیغمبری سے جہنم کو جنت بنایامگر کس زباں میںذرا سوچئے کس زباں میںوہ پالی جو میرے گھرانے کی پالی ہوئی تھیمیں اردو زباں ہوںمجھے دیکھنا چاہتے ہو تو آؤاجنتا ایلورا کے غاروں میں دیکھویہ میں ہوںمرا حسن میری کشش ہے ابد تکمجھے دیکھنا چاہتے ہو تو آؤاشوکا کی لاٹوں میں کندہ حروف مقدس میں دیکھویہ میں ہوںصداقت عدالت کی تحریر محکممیں اردو زباں ہوںمحبت کی من موہنی داستاں ہوںمری وسعتیں بے کراں ہیںیہ اتر یہ دکھن یہ پورب یہ پچھمہر اک سمت میرے نشاں ہیںدکن جو کبھی رنگ و حرف و ادا اور چنگ و صدا سے بنا ایک قوس قزح تھاتمہیں کچھ خبر ہے وہ کیا سلسلہ تھامؤرخ سے پوچھو وہ میرا ہی جادو مرا معجزہ تھامیں خسروؔ کی پیاری ولیؔ کی نیاری قلیؔ کی دلاریخدائے سخن میرؔ کے سوز پنہاں کی میں راز داں ہوںوہ دیوان غالب وہ شہکار تخلیق آدممگر اس کا ہر شعر کہتا ہے پیہممیں اردو زباں ہوںوہ اقبالؔ جو عظمت آدمیت کا پیغامبر ہےلہو کے جمود اور دل کے تغافل کا جو نوحہ گر ہےوہ جس کی نظر بال جبریل کی ہم سفر ہےوہ جس کی صدا خواب غفلت میں بد مست انسانیت کے لئے ایک بانگ درا ہےوہ جس کی خودی دور حاضر کی فرعونیت کے لئے بحر قلزم کے ساحل پہ ضرب کلیمیؑ کی نعم البدل ہےوہ جس نے دیار غزل سے لب و عارض و زلف جیسے عناصر کو باہر نکالاوہ اقبالؔ بھی میری زلفوں کا قیدی رہا ہےمیں اردو زباں ہوںوہ آزادؔ آزادی ہند کا ایک عاشقوہ آزادؔ جس کی فغاں سوز و ستیوہ آزادؔ جس کی صدا ساز ہستیوہ آزادؔ جس کا سخن قول فیصلمگر قول فیصل کا یہ فیصلہ ہےمیں اردو زباں ہوںمیں تاریخ و تہذیب ہندوستاں ہوںمیں ہندوستانی ہوں رشک جہاں ہوںجہان محبت کی میں پاسباں ہوںمگر پاسبان وطن مجھ کو غدار کہنے لگے ہیںتو غدار کہنے کا مطلب مسلماں ہوں میں بھیمسلمان یعنی کہ دہشت جہالت غلاظت کی پہچان ہوں میںیہ پہچان میری عجب سانحہ ہےمگر سانحہ مادر ہند کا ہے یہ میرا نہیں ہےمیں کچھ بھی نہیں ہوںمجھے آریاؤں نے پالامری اصل ہندوستاں ہےمیں ہندوستانی ہوں ہندوستاں ہوںمگر میرے اہل وطن مجھ کو غدار کہنے لگے ہیںبظاہر تو ہے گرچہ یہ میری ذلتمگر اصل میں مادر ہند کی ہی یہ عصمت دری ہےمیں اردو زباں ہوںمجھے آریاؤں نے پالامری اصل ہندوستاں ہے
بغاوتوں کے علم پہ کندہاطاعتوں کا نشان واقفاصول گاہوں کے منبروں پرشرائط حکم و شیخ و منصف
میں نے کئی رنگ کے سائے سونگھے ہیںمگر دیواروں پر کندہ کیے پھولوں میںکبھی خوشبو نہیں مہکیمحبت روح میں تب اترتی ہےجب غموں کی ریت اور آنسوؤں سےہم اپنے اندر شکستگی تعمیر کرتے ہیں
مجھے معلوم تھا تم رستہ بدلو گےتبھی آنکھوں میں خوابوں کو ذرا سی بھی جگہ نہ دیمگر یہ دلمگر یہ دل بہت کمبخت ہے سنتا نہیں میریسو اب جو تم نے اپنی راہ بدلی ہےتو اب معصوم بن کے روتا دھوتا ہےمجھے کہتا ہے پھر آغوش میں لے لومجھے سینے میں پھر رکھ لومیں اب ہو بات مانوں گامگر وہ کیا ہے ناں اس پر تمہارا نام کندہ ہےتمہارا نام اب وحشت سے بڑھ کر کچھ نہیں دیتااسی کی چیز ہوتی ہے کہ جس کا نام لکھا ہوتمہاری ساری چیزیں تو تمہیں لوٹا چکی ہوں میںسنو یہ دل بھی لے جاؤاور اپنی چیزیں اب سنبھال کر رکھنادوبارہ سے تمہارے نام کا کچھ بھیکبھی بھی اور کہیں سے بھیکسی طرح بھی میرے پاس نہ آئےمیں سید ہوںمیں جو اک بار دے دوں پھر اسے واپس نہیں لیتی
بگولے ایسی ہوا اور ایک رنگا ہوا گھوڑالہو لہان دل ہمیشہ گھڑ لیتا ہے ایک دنیا اپنے لیےمحبت کہیں زیادہ سفاک ہے نفرت سےکیوں کہ یہ اچھوتی اور اجلی ہےاس ستارے کی طرحجو کندہ ہے ایک مقدس قرباں گاہ کی چھت پر
یہ کون مانےکہ لوح احساس پر گئے موسموں کے جتنے بھینقش کندہ ہیںسب کے سبآنے والی ساعت کو آئینہ ہیںجو آنکھ پڑھ لےتو مرثیہ ہیںیہ کون دیکھے ،یہ کون سمجھےکہ صبح کاذب کی بارگاہوں میں سر بہ سجدہ امین چہرےکڑی مسافت پہ پاؤں دھرنے سے پیشتر ہیگراں نقابیں الٹ رہے ہیںرہ ریا کو پلٹ رہے ہیںیہ کون سمجھے یہ کون جانے!!
خلد بریں کو ناز تھا اپنے مکین پراور یہ بھی تھے مٹے ہوئے اک حور عین پرلالچ کی مہر کندہ تھی دل کے نگین پرٹی اے وصول کرنے کو اترا زمین پرابلیس راستے میں ملا کچھ سکھا دیااترا فلک سے تھرڈ میں انٹر لکھا دیا
ہمیں بتایا گیا ہےسرد قہقہوں کے آہنی جمود سےشمالی مریخ پر نئے ساحل بنائے جائیں گےنسبتاً کم سنجیدہ لڑکیاںہماری محبوبائیں نہیں بن سکتیںالبرٹا کے لینڈسکیپ میںونڈ ملز کے چکراتے سائےٹیولپس کی آنکھوں سے برف ہٹائیں گےعبادت گاہ کی دیواروں پر کندہخدا کے فرمان پر پھول رکھنے کے عوضوہ ہم سے بد ظن نہیں ہوگاڈیفوڈلز کے ہاتھ اکارڈین بجائیں گےجن سے پھوٹتی تھکی ہاری موسیقیتسٹریٹ لائٹ کی بوڑھی روشنی تان کر سو جائے گیواشنگٹن ڈی سی میں چیری کے درختوں پرنئے سال کے خواب اگائے جائیں گےساگانو کے سبز بانسوں سےوائلن کے تار بنائے جائیں گے جن پرریڈ انڈین ماؤں کے سینوں سے پگھلتینیلی بد دعائیں بجائی جائیں گیجواں مرگ حسیناؤں کی گول سسکیاںشکستہ پیانو کی دراڑوں سےمردہ گیتوں کے فنگرپرنٹس ادھیڑ لیں گیزنگ آلود کھڑکی کے میلے شیشوں سےکانپتی انگلیوں کی نقرئی الجھنیںادھوری نظموں کے لاشے کھرچ لیں گیاس سے پہلے کہ ہم خوف زدہ ہوںہم سے پہلے تخلیق کی جانے والیہماری محبوباؤں کے جسمانی ارتقا سےجسم ہونٹوں پر تقسیم کئے جائیں گےبرف زدہ پرندے ہمیں دیکھ پائیں گےہمارے گناہ مقدس ہیںانجان دوشیزہ کی فرمائش پر لکھے گئے ناول کی طرح
ساحل پر اک نام لکھا تھالیکن میں یہ بھول گیا تھادریا سے اک لہر اٹھی تو نقش کو دھندلا کر جائے گیریت آنکھوں میں بھر جائے گیاک پتھر پہ کندہ کرکے نام تمہارا سوچ رہا تھاجو پتھر پہ لکھ جاتے ہیں کیا وہ چھوڑ دئے جاتے ہیںپتھر توڑ دئے جاتے ہیںاور پھر میں نے پیڑ پہ لکھ کے نام تمہارا یہ سوچا تھااب یہ نام آباد رہے گا سر سبز و شاداب رہے گالیکن میں یہ بھول گیا تھاپیڑ گرایا جا سکتا ہے حرف مٹایا جا سکتا ہےدیکھیں دنیا والے کب تک جذبوں کو تسخیر کریں گےہم بھی اب کے نام تمہارا اس دل پر تحریر کریں گےمنظر منظر حیرانی ہے پس منظر آباد ہے تم سےجو کل تک ویران پڑا تھاوہ گھر اب آباد ہے تم سے
یہ اس شخص کی قبر ہےجس کے اب جسم کا کوئی ذرہ یہاں پر نہیں ہےنہ اس کو کوئی کام اس قبر سےنہ اس کو خبر ہےکہ یہ کس کا گھر ہےتو اس شخص کے ایک بے نام گھر کوکوئی کیوں کسی نام سے آج منسوب کر دےاور اس نام کا ایک کتبہ بنائےیہ دنیا ہے جس میں نہ ایسا کوئی گھر بنا ہے نہ آگے بنے گاکہ اس کا مکیں اپنے گھر میں ہمیشہ رہے گاتو اب کیا کوئی گھر؟اور اس گھر پہ اک نام کندہکہ جس مرحلے پر کسی کو کسی گھر کی کوئی ضرورت نہیں ہے
محبت کورے کاغذ پر کبھی لکھی نہیں جاتیکہ مٹ جانے کا خطرہ ہےمحبت صاف پتھر پر کبھی کندہ نہیں کرتےکہ پتھر ٹوٹ سکتا ہےمحبت دل کے آئینے میں ہی تحریر ہوتی ہےاگر دل ٹوٹ بھی جائےمحبت کرچیاں بن کر سدا سینے میں رہتی ہےہمیشہ زندہ رہتی ہے
یہ کتبہ فلاں سن کا ہےیہ سن اس لیے اس پر کندہ کیاکہ سب وارثوں پر یہ واضح رہےکہ اس روز برسی ہے مرحوم کیعزیز و اقارب یتامیٰ مساکین کوضیافت سے اپنی نوازیں سبھی کو بلائیںکہ سب مل کے مرحوم کے حق میں دست دعا کو اٹھائیںزباں سے کہیں اپنی'' مرحوم کی مغفرت ہو''بزرگ مقدس کے نام مقدس پہ بھیجیں درود و سلامسبھی خاص و عاممگر یہ بھی ملحوظ خاطر رہےعزیز و اقارب کا شرب و طعاماور اس کا نظامالگ ہو وہاں سےجہاں ہوں یتامیٰ مساکین اندھے بھکاریپھٹے اور میلے لباسوں میں سب عورتیں اور بچےکئی لولے لنگڑے مریض اور گندےوہی جن کو کہتے ہیں ہم سب عواموہاں ہوگا اک شور و غل اژدہامیہ کر دیں گے ہم سب کا جینا حرام
اک دن یوں ہی چلتے چلتے دل کی دھڑکن رک جائے گینبض کی جنبش تھم جائے گیسارا تماشا جن آنکھوں سے اس دنیا کا دیکھا ہےوہ آنکھیں پتھرا جائیں گیچشمے جھرنے پھول کنول کے کوہ و بیاباں دشت و دمنحسن قد انا کا عالم سر چنبیلی رنگ چمنساغر مینا آنکھ کی مستی عارض کاکل زلف گھٹانغمہ خوشبو پیار محبت رقص تبسم حرف وفاسب سے رشتہ ٹوٹے گابرف کی صورت جم جائے گا ہر جذبہ ہر اک احساستاریکی میں کھو جائے گی اپنی ہستی اپنی ذاتاک پتھر پر کندہ ہوگی دھندھلی سی تاریخ وفاتسارے شور شرابے کا انجام فقط خاموشی ہےان روشن لمحوں سے آگے آخری لمحہ تاریکی ہےوہ لمحہ سب کی تاک میں ہے بس اتنا ہی یاد رکھولوگو اپنی قبر کا کتبہ اپنے اپنے ساتھ رکھو
محلے کا جو رکھوالا تھااس نے عادتاً لاٹھی بجا کربلغمی آواز سے نعرہ لگایاجاگتے رہنامرے اخبار والے نے ادھرمعمول سے ہٹ کرمجھے آواز دے کر روز کا اخبار ڈالایہی کچھ دودھ والے نے کیااور پھیری والے نے میں سو کر صبح جب اٹھا تو ان معصوم لوگوں نےاشاروں اور کنایوں سے مجھے چاہا بتانا اور سمجھانا جو شاید اک زمانے کو پتا تھا ماسوا میرےکہ میرے نام کی تختی سےمیرا نام غائب ہےبظاہر فیصلہ صائب ہےان تازہ خداؤں کا ہمارے ناخداؤں کامگر یہ بھی انہیں معلوم تو ہوگاجو خالق ہے زمین و آسماں کاوہ جو مالک ہےرقم تقدیر کرتا ہےوہی تحریر کرتا ہےنہیں ممکن مٹانامیری جیسی عاجز و مجبور ہستی کے لئے جو کچھ بھی وہ تحریر کرتا ہےجو وہ تقدیر کرتا ہےیقیں میرامرا ایمان ہے اس پرکہ میری لوح پر سب کچھاسی طرح سے کندہ ہےمرے خالق نے میرے نام کوکل کی طرح سےآج بھی محفوظ رکھا ہےوہ میرے نام کوکل بھی یوں ہی محفوظ رکھے گا
اصلی جاپانی دو نالینانا کی بندوق نرالیکندہ اس کا مٹ میلا ساروپ ڈراؤنا صورت کالینانا جی اس کے رسیا تھےنانی تھی اس کی متوالیلیتے تھے اس سے جو نشانہجاتا تھا وہ اکثر خالیچڑیوں کا جینا دوبھر تھاچھپتی تھیں وہ ڈالی ڈالینانا جی اک روز گئے تھےدیکھنے جب میلہ ویشالینانی کو سمجھا کے گئے تھےکرنی تھی اس کی رکھوالیساری رات گزاری باہرمیلے کی تھی شان نرالیگھر پر رات کو ڈاکو آئےتوڑ کے روشن دان کی جالینانی کو پستول دکھا کرلے بھاگے بندوق کمالیشور مچاتی پیچھے دوڑیںوہ تھیں دلیر بڑی دل والیہلا سن کر لوگ بھی دوڑےلے کر بلم اور بھجالیچور ہوئے تب نو دو گیارہچھوڑ گئے بندوق مثالینانا کے گھر اسی خوشی میںاگلے روز منی دیوالینانی جی نے اسی خوشی میںگھر گھر بھیجی کھیر کی تھالی
اس نے سوچایاد گاری چوک میں چاروں طرفیہ بولتے بازار ہیںاس لیے افسردگی میں گم کھڑےاس بید مجنوں پرنظر پڑتی نہیںجو اکیلا رہ گیا ہے قصہ خوانوں میں یہاںبے رنگ اکھڑتی چھال پرچاقو سے کندہ نام پھیکا پڑ گیا ہےکندہ کاری جا ملی ہے خاک سےوقت کی غفلت نے کیا ثابت کیازخم کھانے اور لگانے والوں میںکون فتح یاب ہیں
ہوا کی پشت پہ کتنے نقوش کندہ ہیںکہیں نفس کی لکیریںکہیں بساط ہنرحیات و موت کے پرتوالم کی پرچھائیںلہو کے رنگ میں ڈوبا ہوا فلک کا دھواںکبھی زمین کا دامن غبار آلودہکبھی گرجتا ہوا سیل بے کراں لرزاںمثال حرف تمنا یہ نقش مٹ نہ سکےہوا کی پشت پہ کب سے نقوش کندہ ہیں
شو شروع ہونے سے بہت پہلےحال بھر چکا تھاشیشے کے بڑے چیمبر میںپانی بھر کربازی گر نے آخری ڈبکی لگائیاور لوگوں نے دیکھااس کے ہاتھوں کی زنجیریںمقفل تھیںجنہیں وہ جان بوجھ کرمقررہ وقت کے اندرکھولنا بھول گیا تھااس کی بے جان کھلی آنکھوں میںگذشتہ رات اس کی محبوبہ کے کہے ہوئےالفاظ کندہ تھے
وہی ہوا ہے یہ جان جاناںبسنت رت کی سنہری پائلبجاتی کنگنوہ پگھلے سونے پہ لہریں لیتیبدلتی رت کا پیام لیتیجوانیوں کا سلام لیتیمری نگاہوں کو تیری پلکوں سے جذب کر کےوہ تیرے ہونٹوں کے جام مے گوں سےمیرے ہونٹوں کی تشنگی کو مگس کی مانند اپنے سپنے میں جا سموتیوہی ہوا ہے یہ جان جاناںکبھی درختوںکبھی چٹانوںکبھی کتابوں میں نام لکھتیہمارے دونوں کے نام کندہوفائے ایفائے عہد کے ہیںچمکتے روشن نشاں ہمارےابھی وہیں ہیںوہیں رہیں گےملال کیسا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books