aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "kariim"
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہےپر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہےقدسی الاصل ہے رفعت پہ نظر رکھتی ہےخاک سے اٹھتی ہے گردوں پہ گزر رکھتی ہےعشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مراآسماں چیر گیا نالۂ بیباک مراپیر گردوں نے کہا سن کے کہیں ہے کوئیبولے سیارے سر عرش بریں ہے کوئیچاند کہتا تھا نہیں اہل زمیں ہے کوئیکہکشاں کہتی تھی پوشیدہ یہیں ہے کوئیکچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھامجھ کو جنت سے نکالا ہوا انساں سمجھاتھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیاعرش والوں پہ بھی کھلتا نہیں یہ راز ہے کیاتا سر عرش بھی انساں کی تگ و تاز ہے کیاآ گئی خاک کی چٹکی کو بھی پرواز ہے کیاغافل آداب سے سکان زمیں کیسے ہیںشوخ و گستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیںاس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہےتھا جو مسجود ملائک یہ وہی آدم ہےعالم کیف ہے دانائے رموز کم ہےہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہےناز ہے طاقت گفتار پہ انسانوں کوبات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کوآئی آواز غم انگیز ہے افسانہ ترااشک بیتاب سے لبریز ہے پیمانہ تراآسماں گیر ہوا نعرۂ مستانہ تراکس قدر شوخ زباں ہے دل دیوانہ تراشکر شکوے کو کیا حسن ادا سے تو نےہم سخن کر دیا بندوں کو خدا سے تو نےہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیںراہ دکھلائیں کسے رہرو منزل ہی نہیںتربیت عام تو ہے جوہر قابل ہی نہیںجس سے تعمیر ہو آدم کی یہ وہ گل ہی نہیںکوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیںڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیںہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیںامتی باعث رسوائی پیغمبر ہیںبت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیںتھا براہیم پدر اور پسر آزر ہیںبادہ آشام نئے بادہ نیا خم بھی نئےحرم کعبہ نیا بت بھی نئے تم بھی نئےوہ بھی دن تھے کہ یہی مایۂ رعنائی تھانازش موسم گل لالۂ صحرائی تھاجو مسلمان تھا اللہ کا سودائی تھاکبھی محبوب تمہارا یہی ہرجائی تھاکسی یکجائی سے اب عہد غلامی کر لوملت احمد مرسل کو مقامی کر لوکس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہےہم سے کب پیار ہے ہاں نیند تمہیں پیاری ہےطبع آزاد پہ قید رمضاں بھاری ہےتمہیں کہہ دو یہی آئین وفاداری ہےقوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیںجذب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیںجن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن تم ہونہیں جس قوم کو پروائے نشیمن تم ہوبجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہوبیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہوہو نکو نام جو قبروں کی تجارت کر کےکیا نہ بیچوگے جو مل جائیں صنم پتھر کےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا کس نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا کس نےمیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا کس نےمیرے قرآن کو سینوں سے لگایا کس نےتھے تو آبا وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہوہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہوکیا کہا بہر مسلماں ہے فقط وعدۂ حورشکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعورعدل ہے فاطر ہستی کا ازل سے دستورمسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حور و قصورتم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیںجلوۂ طور تو موجود ہے موسیٰ ہی نہیںمنفعت ایک ہے اس قوم کا نقصان بھی ایکایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایکحرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایککچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایکفرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیںکیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیںکون ہے تارک آئین رسول مختارمصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیارکس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعار اغیارہو گئی کس کی نگہ طرز سلف سے بے زارقلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیںکچھ بھی پیغام محمد کا تمہیں پاس نہیںجا کے ہوتے ہیں مساجد میں صف آرا تو غریبزحمت روزہ جو کرتے ہیں گوارا تو غریبنام لیتا ہے اگر کوئی ہمارا تو غریبپردہ رکھتا ہے اگر کوئی تمہارا تو غریبامرا نشۂ دولت میں ہیں غافل ہم سےزندہ ہے ملت بیضا غربا کے دم سےواعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہیبرق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہیرہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہیفلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہیمسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہےیعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہےشور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابودہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجودوضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنودیہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہودیوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہوتم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہودم تقریر تھی مسلم کی صداقت بیباکعدل اس کا تھا قوی لوث مراعات سے پاکشجر فطرت مسلم تھا حیا سے نمناکتھا شجاعت میں وہ اک ہستی فوق الادراکخود گدازی نم کیفیت صہبایش بودخالی از خویش شدن صورت مینا یش بودہر مسلماں رگ باطل کے لیے نشتر تھااس کے آئینۂ ہستی میں عمل جوہر تھاجو بھروسا تھا اسے قوت بازو پر تھاہے تمہیں موت کا ڈر اس کو خدا کا ڈر تھاباپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہوپھر پسر قابل میراث پدر کیونکر ہوہر کوئی مست مئے ذوق تن آسانی ہےتم مسلماں ہو یہ انداز مسلمانی ہےحیدری فقر ہے نے دولت عثمانی ہےتم کو اسلاف سے کیا نسبت روحانی ہےوہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کراور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کرتم ہو آپس میں غضب ناک وہ آپس میں رحیمتم خطا کار و خطا بیں وہ خطا پوش و کریمچاہتے سب ہیں کہ ہوں اوج ثریا پہ مقیمپہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلب سلیمتخت فغفور بھی ان کا تھا سریر کے بھییوں ہی باتیں ہیں کہ تم میں وہ حمیت ہے بھیخودکشی شیوہ تمہارا وہ غیور و خوددارتم اخوت سے گریزاں وہ اخوت پہ نثارتم ہو گفتار سراپا وہ سراپا کردارتم ترستے ہو کلی کو وہ گلستاں بکناراب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کینقش ہے صفحۂ ہستی پہ صداقت ان کیمثل انجم افق قوم پہ روشن بھی ہوئےبت ہندی کی محبت میں برہمن بھی ہوئےشوق پرواز میں مہجور نشیمن بھی ہوئےبے عمل تھے ہی جواں دین سے بدظن بھی ہوئےان کو تہذیب نے ہر بند سے آزاد کیالا کے کعبے سے صنم خانے میں آباد کیاقیس زحمت کش تنہائی صحرا نہ رہےشہر کی کھائے ہوا بادیہ پیما نہ رہےوہ تو دیوانہ ہے بستی میں رہے یا نہ رہےیہ ضروری ہے حجاب رخ لیلا نہ رہےگلۂ جور نہ ہو شکوۂ بیداد نہ ہوعشق آزاد ہے کیوں حسن بھی آزاد نہ ہوعہد نو برق ہے آتش زن ہر خرمن ہےایمن اس سے کوئی صحرا نہ کوئی گلشن ہےاس نئی آگ کا اقوام کہن ایندھن ہےملت ختم رسل شعلہ بہ پیراہن ہےآج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیداآگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدادیکھ کر رنگ چمن ہو نہ پریشاں مالیکوکب غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والیخس و خاشاک سے ہوتا ہے گلستاں خالیگل بر انداز ہے خون شہدا کی لالیرنگ گردوں کا ذرا دیکھ تو عنابی ہےیہ نکلتے ہوئے سورج کی افق تابی ہےامتیں گلشن ہستی میں ثمر چیدہ بھی ہیںاور محروم ثمر بھی ہیں خزاں دیدہ بھی ہیںسیکڑوں نخل ہیں کاہیدہ بھی بالیدہ بھی ہیںسیکڑوں بطن چمن میں ابھی پوشیدہ بھی ہیںنخل اسلام نمونہ ہے برومندی کاپھل ہے یہ سیکڑوں صدیوں کی چمن بندی کاپاک ہے گرد وطن سے سر داماں تیراتو وہ یوسف ہے کہ ہر مصر ہے کنعاں تیراقافلہ ہو نہ سکے گا کبھی ویراں تیراغیر یک بانگ درا کچھ نہیں ساماں تیرانخل شمع استی و در شعلہ دو ریشۂ توعاقبت سوز بود سایۂ اندیشۂ توتو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سےنشۂ مے کو تعلق نہیں پیمانے سےہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سےپاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سےکشتئ حق کا زمانے میں سہارا تو ہےعصر نو رات ہے دھندلا سا ستارا تو ہےہے جو ہنگامہ بپا یورش بلغاری کاغافلوں کے لیے پیغام ہے بیداری کاتو سمجھتا ہے یہ ساماں ہے دل آزاری کاامتحاں ہے ترے ایثار کا خودداری کاکیوں ہراساں ہے صہیل فرس اعدا سےنور حق بجھ نہ سکے گا نفس اعدا سےچشم اقوام سے مخفی ہے حقیقت تیریہے ابھی محفل ہستی کو ضرورت تیریزندہ رکھتی ہے زمانے کو حرارت تیریکوکب قسمت امکاں ہے خلافت تیریوقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہےنور توحید کا اتمام ابھی باقی ہےمثل بو قید ہے غنچے میں پریشاں ہو جارخت بر دوش ہوائے چمنستاں ہو جاہے تنک مایہ تو ذرے سے بیاباں ہو جانغمۂ موج ہے ہنگامۂ طوفاں ہو جاقوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دےدہر میں اسم محمد سے اجالا کر دےہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہوچمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہویہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہوبزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہوخیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہےنبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہےدشت میں دامن کہسار میں میدان میں ہےبحر میں موج کی آغوش میں طوفان میں ہےچین کے شہر مراقش کے بیابان میں ہےاور پوشیدہ مسلمان کے ایمان میں ہےچشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھےرفعت شان رفعنا لک ذکرک دیکھےمردم چشم زمیں یعنی وہ کالی دنیاوہ تمہارے شہدا پالنے والی دنیاگرمی مہر کی پروردہ ہلالی دنیاعشق والے جسے کہتے ہیں بلالی دنیاتپش اندوز ہے اس نام سے پارے کی طرحغوطہ زن نور میں ہے آنکھ کے تارے کی طرحعقل ہے تیری سپر عشق ہے شمشیر تریمرے درویش خلافت ہے جہانگیر تریما سوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تریتو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تریکی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیںیہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
ہر اک سیہ شاخ کی کماں سےجگر میں ٹوٹے ہیں تیر جتنےجگر سے نوچے ہیں اور ہر اککا ہم نے تیشہ بنا لیا ہے۳الم نصیبوں جگر فگاروںکی صبح افلاک پر نہیں ہےجہاں پہ ہم تم کھڑے ہیں دونوںسحر کا روشن افق یہیں ہےیہیں پہ غم کے شرار کھل کرشفق کا گلزار بن گئے ہیںیہیں پہ قاتل دکھوں کے تیشےقطار اندر قطار کرنوںکے آتشیں ہار بن گئے ہیںیہ غم جو اس رات نے دیا ہےیہ غم سحر کا یقیں بنا ہےیقیں جو غم سے کریم تر ہےسحر جو شب سے عظیم تر ہے
رخصت ہوا وہ باپ سے لے کر خدا کا نامراہ وفا کی منزل اول ہوئی تماممنظور تھا جو ماں کی زیارت کا انتظامدامن سے اشک پونچھ کے دل سے کیا کلاماظہار بے کسی سے ستم ہوگا اور بھیدیکھا ہمیں اداس تو غم ہوگا اور بھیدل کو سنبھالتا ہوا آخر وہ نونہالخاموش ماں کے پاس گیا صورت خیالدیکھا تو ایک در میں ہے بیٹھی وہ خستہ حالسکتا سا ہو گیا ہے یہ ہے شدت ملالتن میں لہو کا نام نہیں زرد رنگ ہےگویا بشر نہیں کوئی تصویر سنگ ہےکیا جانے کس خیال میں گم تھی وہ بے گناہنور نظر یہ دیدۂ حسرت سے کی نگاہجنبش ہوئی لبوں کو بھری ایک سرد آہلی گوشہ ہائے چشم سے اشکوں نے رخ کی راہچہرہ کا رنگ حالت دل کھولنے لگاہر موئے تن زباں کی طرح بولنے لگاآخر اسیر یاس کا قفل دہن کھلاافسانۂ شدائد رنج و محن کھلااک دفتر مظالم چرخ کہن کھلاوا تھا دہان زخم کہ باب سخن کھلادرد دل غریب جو صرف بیاں ہواخون جگر کا رنگ سخن سے عیاں ہوارو کر کہا خموش کھڑے کیوں ہو میری جاںمیں جانتی ہوں جس لیے آئے ہو تم یہاںسب کی خوشی یہی ہے تو صحرا کو ہو رواںلیکن میں اپنے منہ سے نہ ہرگز کہوں گی ہاںکس طرح بن میں آنکھوں کے تارے کو بھیج دوںجوگی بنا کے راج دلارے کو بھیج دوںدنیا کا ہو گیا ہے یہ کیسا لہو سپیداندھا کیے ہوئے ہے زر و مال کی امیدانجام کیا ہو کوئی نہیں جانتا یہ بھیدسوچے بشر تو جسم ہو لرزاں مثال بیدلکھی ہے کیا حیات ابد ان کے واسطےپھیلا رہے ہیں جال یہ کس دن کے واسطےلیتی کسی فقیر کے گھر میں اگر جنمہوتے نہ میری جان کو سامان یہ بہمڈستا نہ سانپ بن کے مجھے شوکت و حشمتم میرے لال تھے مجھے کس سلطنت سے کممیں خوش ہوں پھونک دے کوئی اس تخت و تاج کوتم ہی نہیں تو آگ لگا دوں گی راج کوکن کن ریاضتوں سے گزارے ہیں ماہ و سالدیکھی تمہاری شکل جب اے میرے نونہالپورا ہوا جو بیاہ کا ارمان تھا کمالآفت یہ آئی مجھ پہ ہوئے جب سفید بالچھٹتی ہوں ان سے جوگ لیا جن کے واسطےکیا سب کیا تھا میں نے اسی دن کے واسطےایسے بھی نامراد بہت آئیں گے نظرگھر جن کے بے چراغ رہے آہ عمر بھررہتا مرا بھی نخل تمنا جو بے ثمریہ جائے صبر تھی کہ دعا میں نہیں اثرلیکن یہاں تو بن کے مقدر بگڑ گیاپھل پھول لا کے باغ تمنا اجڑ گیاسرزد ہوئے تھے مجھ سے خدا جانے کیا گناہمنجدھار میں جو یوں مری کشتی ہوئی تباہآتی نظر نہیں کوئی امن و اماں کی راہاب یاں سے کوچ ہو تو عدم میں ملے پناہتقصیر میری خالق عالم بہل کرےآسان مجھ غریب کی مشکل اجل کرےسن کر زباں سے ماں کی یہ فریاد درد خیزاس خستہ جاں کے دل پہ چلی غم کی تیغ تیزعالم یہ تھا قریب کہ آنکھیں ہوں اشک ریزلیکن ہزار ضبط سے رونے سے کی گریزسوچا یہی کہ جان سے بیکس گزر نہ جائےناشاد ہم کو دیکھ کے ماں اور مر نہ جائےپھر عرض کی یہ مادر ناشاد کے حضورمایوس کیوں ہیں آپ الم کا ہے کیوں وفورصدمہ یہ شاق عالم پیری میں ہے ضرورلیکن نہ دل سے کیجیے صبر و قرار دورشاید خزاں سے شکل عیاں ہو بہار کیکچھ مصلحت اسی میں ہو پروردگار کییہ جعل یہ فریب یہ سازش یہ شور و شرہونا جو ہے سب اس کے بہانے ہیں سر بسراسباب ظاہری میں نہ ان پر کرو نظرکیا جانے کیا ہے پردۂ قدرت میں جلوہ گرخاص اس کی مصلحت کوئی پہچانتا نہیںمنظور کیا اسے ہے کوئی جانتا نہیںراحت ہو یا کہ رنج خوشی ہو کہ انتشارواجب ہر ایک رنگ میں ہے شکر کرد گارتم ہی نہیں ہو کشتہ نیرنگ روزگارماتم کدے میں دہر کے لاکھوں ہیں سوگوارسختی سہی نہیں کہ اٹھائی کڑی نہیںدنیا میں کیا کسی پہ مصیبت پڑی نہیں
کریم سورججو ٹھنڈے پتھر کو اپنی گولائیدے رہا ہےجو اپنی ہمواری دے رہا ہے(وہ ٹھنڈا پتھر جو میرے مانندبھورے سبزوں میںدور ریگ و ہوا کی یادوں میں لوٹتا ہے)جو بہتے پانی کو اپنی دریا دلی کیسرشاری دے رہا ہےوہی مجھے جانتا نہیںمگر مجھی کو یہ وہم شایدکہ آپ اپنا ثبوت اپنا جواب ہوں میں!مجھے وہ پہچانتا نہیں ہےکہ میری دھیمی صدازمانے کی جھیل کے دوسرے کنارےسے آ رہی ہے
بربط دل کے تار ٹوٹ گئےہیں زمیں بوس راحتوں کے محلمٹ گئے قصہ ہائے فکر و عمل!بزم ہستی کے جام پھوٹ گئےچھن گیا کیف کوثر و تسنیمزحمت گریہ و بکا بے سودشکوۂ بخت نا رسا بے سودہو چکا ختم رحمتوں کا نزولبند ہے مدتوں سے باب قبولبے نیاز دعا ہے رب کریمبجھ گئی شمع آرزوئے جمیلیاد باقی ہے بے کسی کی دلیلانتظار فضول رہنے دےراز الفت نباہنے والےبار غم سے کراہنے والےکاوش بے حصول رہنے دے
ہمیں بھی رو لے ہجوم گریہ کہ پھر نہ آئیں گے غم کے موسمہمیں بھی رو لے کہ ہم وہی ہیںجو آفتابوں کی بستیوں سے سراغ لائے تھے ان سویروں کا جن کو شبنم کے پہلے قطروں نے غسل بخشاسفید رنگوں سے نور معنی نکال لیتے تھے اور چاندی اجالتے تھےشفق پہ ٹھہرے سنہرے بادل سے زرد سونے کو ڈھالتے تھےخنک ہواؤں میں خوشبوؤں کو ملا کے ان کو اڑانے والےصبا کی پرتوں پہ شعر لکھ کر عدم کی شکلیں بنانے والےدماغ رکھتے تھے لفظ و معنی کا اور دست ہنر کے مالکوقار نور چراغ ہم تھےہمیں بھی رو لے ہجوم گریہہمیں بھی رو لے کہ ہم وہی ہیںجو تیز آندھی میں صاف چہروں کو دیکھ لیتے تھے اور سانسوں کو بھانپتے تھےفلک نشینوں سے گفتگوئیں تھیں اور پریوں سے کھیلتے تھےکریم لوگوں کی صحبتوں میں کشادہ کوئے سخا کو دیکھاکبھی نہ روکا تھا ہم کو سورج کے چوبداروں نے قصر بیضا کے داخلے سےوہی تو ہم ہیںوہی تو ہم ہیں جو لٹ چکے ہیں حفیظ راہوں پہ لٹنے والےاسی فلک کی سیہ زمیں پر جہاں پہ لرزاں ہیں شور نالہ سے عادلوں کی سنہری کڑیاںہمیں بھی رو لے ہجوم گریہہمیں بھی رو لے کہ ان دنوں میں ہماری پشتوں پہ بار ہوتا ہے زخم تازہ کے سرخ پھولوں کا اور گردن میں سرد آہن کی کہنہ لڑیاںہماری ضد میں سفید ناخن قلم بنانے میں دست قاتل کا ساتھ دیتے ہیں اور نیزے اچھالتے ہیںہوا کی لہروں نے ریگ صحرا کی تیز دھاروں سے رشتے جوڑےشریر ہاتھوں سے کنکروں کی سیاہ بارش کے رابطے ہیںہماری ضد میں ہی ملکوں ملکوں کے شہریاروں نے عہد باندھےیہی کہ ہم کو دھوئیں سے باندھیں اور اب دھوئیں سے بندھے ہوئے ہیںسو ہم پہ رونے کے نوحہ کرنے کے دن یہی ہیں ہجوم گریہکہ مستعد ہیں ہمارے ماتم کو گہرے سایوں کی سرد شامیںخزاں رسیدہ طویل شامیںہمیں بھی رو لے ہجوم گریہ کہ پھر نہ آئیں گے غم کے موسم
شیریں نرمل جھرنے جیسیٹھنڈی تازہ ہوا کے ایسیرم جھم اور برکھا کی طرح توسورج اور چندا سی سخی ہےجلتی دھوپ میں بادل ہے تورب کے پیار کی چھاگل ہے توہاں ماں بالکل ایسی ہے توتو سیتا تو مریم ہے ماںرابعہ اور صفیہ ہےتو ہے یشودھا تو ہے حلیمہزینب تو ہے فاطمہؓ ہے توپاروتی اور دیوکی ہےآمنہ اور حوا ہے تویہ دھرتی یہ دنیا تجھ سےدنیا کی سب رونق تجھ سےتو دنیا کی مالک ہےیہ دنیا تیری ہے ماںتو نے ہم کو کیا کیا بخشےپیر پیمبر بھائی دوستاور پھولوں سی بہنا دیہر سکھ اور ہر غم کی ساتھیبالکل اپنی ہی جیسیمحبوبہ بھی تو نے دیتو سچ مچ دیوی ہے ماںسارے رشتے ناتے تجھ سےرشتوں کی جننی ہے توہاں ماں بالکل ایسی ہے توتو ہے کریم اور تو ہے حلیمخالق تو ہے رازق ہے توستاری غفاری تجھ میںرحمت اور عظمت کی مورترب کے سارے گن ہیں تجھ میںماں بالکل تو رب جیسی ہےیا شاید رب تیرے جیساکیوں کہ ماں اب رب بھی توتیری طرح مجبور بہت ہےاپنوں کے زخموں سے وہ بھیلگتا ہے کہ چور بہت ہےماں بالکل تو رب جیسی ہےیا شاید رب تیرے جیسا
تماشا گہہ لالہ زارمگر نوحہ خوانی کی یہ سرگرانی کہاں تک؟کہ منزل ہے دشوار غم سے غم جاوداں تک!وہ سب تھے کشادہ دل و ہوش مند و پرستار رب کریموہ سب خیر کے راہ داں راہ شناسہمیں آج محسن کش و نا سپاسوہ شاہنشہان عظیموہ پندار رفتہ کا جاہ و جلال قدیمہماری ہزیمت کے سب بے بہا تار و پو تھےفنا ان کی تقدیر ہم ان کی تقدیر کے نوحہ گر ہیںاسی کی تمنا میں پھر سوگوارتماشا گہہ لالہ زار!
حریم محمل میں آ گیا ہوں سلام لے لوسلام لے لو کہ میں تمہارا امین قاصد خجل مسافر عزا کی وادی سے لوٹ آیامیں لوٹ آیا مگر سراسیمہ اس طرح سےکہ پچھلے قدموں پلٹ کے دیکھا نہ گزرے رستوں کے فاصلوں کوجہاں پہ میرے نشان پا اب تھکے تھکے سے گرے پڑے تھےحریم محمل میں وہ سفیر نوید پرورجسے زمانے کے پست و بالا نے اتنے قصے پڑھا دئیے تھےجو پہلے قرنوں کی تیرگی کو اجال دیتےتمہیں خبر ہےیہ میرا سینہ قدیم اہرام میں اکیلا وہ اک حرم تھاعظیم رازوں کے کہنہ تابوت جس کی کڑیوں میں بس رہے تھےانہیں ہواؤں کا ڈر نہیں تھانہ صحرا زادوں کے نسلی کا ہی ان کی گرد خبر کو پہنچےحریم محمل میں وہ امانت کا پاسباں ہوںجو چرم آہو کے نرم کاغذ پہ لکھے نامے کو لے کے نکلاوہی کہ جس کے سوار ہونے کو تم نے بخشا جہاز صحراطویل راہوں میں خالی مشکوں کا بار لے کر ہزار صدیاں سفر میں گرداںکہیں سرابوں کی بہتی چاندی کہیں چٹانوں کی سخت قاشیںمیان راہ سفر کھڑے تھے جکڑنے والے نظر کے لوبھیمگر نہ بھٹکا بھٹکنے والاجو دم لیا تو عزا میں جا کرحریم محمل سنو فسانے جو سن سکو تومیں چلتے چلتے سفر کے آخر پہ ایسی وادی میں جا کے ٹھہرااور اس پہ گزرے حریص لمحوں کے ان نشانوں کو دیکھ آیاجہاں کے نقشے بگڑ گئے ہیںجہاں کے طبقے الٹ گئے ہیںوہاں کی فصلیں زقوم کی ہیںہوائیں کالی ہیں راکھ اڑ کر کھنڈر میں ایسے پھنکارتی ہےکہ جیسے اژدر چہار جانب سے جبڑے کھولے غدر مچاتےزمیں پہ کینہ نکالتے ہوںکثیف زہروں کی تھیلیوں کو غضب سے باہر اچھالتے ہوںمہیب سائے میں دیوتاؤں کا رقص جاری تھاٹوٹے ہاتھوں کی ہڈیوں سے وہ دہل باطل کو پیٹتے تھےضعیف کوؤں نے اہل قریہ کی قبریں کھودیںتو ان کے ناخن نحیف پنجوں سے جھڑ کے ایسے بکھر رہے تھےچکوندروں نے چبا کے پھینکے ہوں جیسے ہڈی کے خشک ریزےحریم محمل وہی وہ منزل تھی جس کے سینے پہ میں تمہاری نظر سے پہنچا اٹھائے مہر و وفا کے نامےوہیں پہ بیٹھا تھا سر بہ زانو تمہارا محرمکھنڈر کے بوسیدہ پتھروں پر حزین و غمگیںوہیں پہ بیٹھا تھاقتل ناموں کے محضروں کو وہ پڑھ رہا تھاجو پستیوں کے کوتاہ ہاتھوں نے اس کی قسمت میں لکھ دئیے تھےحریم محمل میں اپنے ناقہ سے نیچے اترا تو میں نے دیکھا کہ اس کی آنکھیں خموش و ویراںغبار صحرا مژہ پہ لرزاں تھا ریت دیدوں میں اڑ رہی تھیمگر شرافت کی ایک لو تھی کہ اس کے چہرے پہ نرم ہالہ کیے ہوئے تھیوہ میرے لہجے کو جانتا تھاہزار منزل کی دوریوں کے ستائے قاصد کے اکھڑے قدموں کی چاپ سنتے ہی اٹھ کھڑا تھادیار وحشت میں بس رہا تھاپہ تیری سانسوں کے زیر و بم سے اٹھی حرارت سے آشنا تھاوہ کہہ رہا تھا یہاں سے جاؤ کہ یاں خرابوں کے کارخانے ہیںروز و شب کے جو سلسلے ہیں کھلے خساروں کی منڈیاں ہیںوہ ڈر رہا تھا تمہارا قاصد کہیں خساروں میں بٹ نہ جائےحریم محمل میں کیا بتاؤں وہیں پہ کھویا تھا میرا ناقہفقط خرابے کے چند لمحے ہی اس کے گودے کو کھا گئے تھےاسی مقام طلسم گر میں وہ استخوانوں میں ڈھل گیا تھاجہاں پہ بکھرا پڑا تھا پہلے تمہارے محرم کا اسپ تازیاور اب وہ ناقہ کے استخواں بھیتمہارے محرم کے اسپ تازی کے استخوانوں میں مل گئے ہیںحریم محمل وہی وہ پتھر تھے جن پہ رکھے تھے میں نے مہر و وفا کے نامےجہاں پہ زندہ رتوں میں باندھے تھے تم نے پیمان و عہد اپنےمگر وہ پتھر کہ اب عجائب کی کار گہہ ہیںتمہارے نامے کی اس عبارت کو کھا گئے ہیںشفا کے ہاتھوں سے جس کو تم نے رقم کیا تھاسو اب نہ ناقہ نہ کوئی نامہ نہ لے کے آیا جواب نامہمیں نامراد و خجل مسافرمگر تمہارا امین قاصد عزا کی وادی سے لوٹ آیااور اس نجیب و کریم محرم وفا کے پیکر کو دیکھ آیاجو آنے والے دنوں کی گھڑیاں ابد کی سانسوں سے گن رہا ہے
یہ جبر ماہ و سال میں گھری ہوئی زمیں مری گواہ ہےنشاط کی ابد کنار منزلوں میں ایک عمر سے میں ان کریم اور جمیل ساعتوں کا منتظر ہوںجن کی بازگشت سے مرے وجود کی صداقتوں کا انکشاف ہوخدا کرے بشارتیں سنانے والے خوش کلام طائروں کی ٹولیاںافق سے شاخ گل تلک علامت وصال کی لکیریں کھینچ دیںلہو کی وسعتوں کا انکشاف ہولہو کی عظمتوں کا انکشاف ہوبدن کے راستے وجود کی صداقتوں کا انکشاف ہو
یہ عقیدہ ہندوؤں کا ہے نہایت ہی قدیمجب کبھی مذہب کی حالت ہوتی ہے زار و سقیمقادر مطلق جو ہے دانائے اسرار و کریمبھیجتا ہے رہنمائی کے لیے اپنا ندیم
خدا رام ہے اور خدا ایشوروہ بھگوان ہے کل جہاں اس کا گھراسی کا کرم اور اسی کی دیایہ مکتب یہ تعلیم کا حوصلہکتابوں میں وہ کارخانوں میں وہزمیں ہی نہیں آسمانوں میں وہاسی کی نوازش کا اظہار ہیںجو سر سبز و شاداب اشجار ہیںاسی کی عنایت چمن رنگ و بومحبت مسرت خوشی جستجوبرائی سے ہم کو بچائے وہیاندھیرے میں رستہ دکھائے وہیوہ رحمان ہے اور وہی ہے رحیمگنہ گار کے حق میں رب کریم
اے آرزوئے حیاتاب کی بار جان بھی چھوڑتجھے خبر ہی نہیں کیسے دن گزرتے ہیںاے آرزوئے نفساب معاف کر مجھ کوتجھے یہ علم نہیں کتنی مہنگی ہیں سانسیںکہ تو تو لفظ ہےبس ایک لفظ ادھ مردہترے خمیر کی مٹی کا رنگ لال گلالسلگتی آگ نے تجھ کو جنا ہے اور تو خوداک ایسی بانجھ ہے جس سے کوئی امید نہیںتو ایسا زہر ہے جو پی کے کوئی بھی انساںخود اپنے آپ کو کوئی خدا سمجھتا ہےتو اک شجر ہے جو بس دھوپ بانٹتا ہی رہےتو اک سفر ہے جو صدیوں سے بڑھتا جاتا ہےتو ایسا دم ہے جو مردوں کو زندہ کرتا ہےتو وہ کرم ہے جو ہر اک کریم مانگتا ہےتو وہ طلب ہے جسے خود خدا بھی پوجتے ہیںتو وہ طرب ہے جسے خود خوشی بھی مانگتی ہےتو مجھ کو جتنے بھی اب شوخ رنگ دکھلائےتو چاہے زندگی کو میرے پاس لے آئےوقار اب ترے قدموں میں گرنے والا نہیںاے آرزوئے حیاتاب میں پہلے والا نہیں
سرد یخ بستہ موسموں کی نویدجانے کس کس کے نام آئی تھیکہر آلود تھی فضا ایسیصبح کچھ اونگھتی ہوئی جاگیاس کی آغوش سے ہمکتا ہواایک سورج قلانچیں بھرتا ہواآسمان فسوں کے میداں میںشوخ کرنوں کو چھیڑتا نکلاہو گیا خطۂ افق گل رنگمیں تھا محبوس اپنے کمرے میںدفعتاً دیکھتا ہوں نور کریمہے کھڑا یاد کے دریچے پرچند معصوم سا سوال لیےجھانکتا ہے ادھر ادھر ششدردوسرا منظریاد ہے فروری مہینہ تھانو شگفتہ نئی بہار کے دنفیس بک پر ملے تھے جب دونوںاس نے کی التجا رفاقت کیمیں نے ہنس کر اسے قبول کیاگرم شعلہ تھا اس کو پھول کیااس نے دل کا سلام بھیجا تھامیں نے جاں کا پیام بھیجا تھا
مرے خدا تو مرے قلب کو منور کرمرے وجود کو بہتر سے اور بہتر کرمری حیات ترے ذکر میں گزر جائےکرم بس اتنا اے پروردگار مجھ پر کر
وقت ساکتاور جامدجیسے سورجاور یہ احساس کی دھرتی ہےجو پھرتی ہے اس کے گردجس کو ہم نے بھول سے سمجھا ہےماضی حال مستقبل
کائنات جس کی باگیںکسی حادثے کے ہاتھ میں دے کرخدا وند کریم عبادتیں بٹور رہا ہےکیا اسے صرف یہی غرض ہےکہ وہ پہچانا جائے یااس کے ہونے کیکچھ اور بھی حقیقت ہےاس ملک میں جہاں بظاہر آزادی ہےغلامی کے طوق پہنے ہوئے ایڑیاں رگڑتی دل مسوستی جاں بہ لب زندگیعمر کا طویل سفر طے کرنے کہاں جائے گیکیا کوئی اور زندگی بخش سیارہ دریافت ہو چکا ہےکیا کوئی اور زمین ڈھونڈ لی گئی ہےاتنی بڑی دنیا میں کیا چھوٹے پن کو دفن کرنے کی کوئی جگہ باقی نہیںکیا سمندروں نے اقرار کر لیا ہے کہ وہ مردار نگلیں گےاور کشتیوں کو بندرگاہوں کے کناروں پر پہنچا کر قزاقوں کے حوالے کر دیں گےآنکھ جب پتھر برسانے لگے گی تو آنسو بھر خجالتماتھے سے نمودار ہو کر اپنے ہونے کا احساس دلائیں گےاس آزاد ملک میں جہاں غلامی کے طوق پہنےایڑیاں رگڑتی دل مسوستی جاں بہ لب زندگی انتظار میں ہےکہ عبادتیں بٹورتا خدا کائنات کی سیڑھیوں تک تو آئے
لفظ تنہا کوئی معنی رکھتا نہیںاپنے معنی کی خاطرالفاظ کی بھیڑ میں خود کو کھونا پڑے گاورنہ حرف غلط کی طرحصفحۂ دہر سے وہ بھی مٹ جائے گا
یوم الست کی بات ہےاقرار سبھی جب کر چکے تھےعہد بھی پکے ہو چکے تھےپھر انہی توحید لمحوں میںروح میری نےسہمے سہمے جھجھکتے لہجےیہ جھک کے اپنے کریم رب سےکہا کہ مالک نواز مجھ کوطویل تاریک کٹھن سفر میںحیات جس کا ہے نام رکھااک ایسا انمول پیارا رشتہدوستی ہے نام جس کایہ سن کے ہر سو سکوت تھا چھایاجمود طاری تھا ہر ایک شے پرحیراں ملائک یہ سوچتے تھےیہ روح سزا کی ہے مستحق ابرحیم رب کو جو پیار آیاتو میری جانباک رحمتوں کا حصار آیایہ فرمان ملائک کو ہوا یکایکوفا کی مٹی کو گوندھ رکھوپھر ملاؤ چاہت کا عود و عنبربے ریائی انڈیلو اس میںکرو بے لوث وفاؤں کا عرق شاملیک جان ہوں جب سبھی یہ اجزاتو ہر روح انساں میں کر دو شاملیہ بنیاد تھی رشتۂ دوستی کیرشتوں کے اس ہجوم میں مونامیری خوش نصیبی کہ کریم رب نےدوستی کے کتنے مہرباں ستارےمیرے آسمان زندگی پہ ضو فشاں کئے ہیںتو اے مہر و وفا کی مٹی میں گندھے میرے دوستویہ نظم میری تمہارے نامکہ محبتوں نے تمہاری مجھے مالا مال کیااور اس دوستی نےمیری ہستی کو بے مثال کیا
یہ دھتورا ہےکانٹوں بھرااور وہ اس کا ہے ہم سفرزندگی کا انتم سفرنیچے کانٹوں کا بستراور اوپر سے کرنوں کے نیزےیا وہ گردش کرےیا وہ کروٹ ہی بدلےازل سے وہ زخموں سے ہے چور چورجانے کتنے سہے اس نے دکھ اپنے لمبے سفر میںکتنے آنسو بہائے ہیں اس نےخون کے سات ساگر بنے ہیںکون اندازہ کر سکتا ہے اس کے دکھ کا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books