aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "kesh"
(1)کس طرح بیاں ہو ترا پیرایۂ تقریرگویا سر باطل پہ چمکنے لگی شمشیروہ زور ہے اک لفظ ادھر نطق سے نکلاواں سینۂ اغیار میں پیوست ہوئے تیرگرمی بھی ہے ٹھنڈک بھی روانی بھی سکوں بھیتاثیر کا کیا کہیے ہے تاثیر ہی تاثیراعجاز اسی کا ہے کہ ارباب ستم کیاب تک کوئی انجام کو پہنچی نہیں تدبیراطراف وطن میں ہوا حق بات کا شہرہہر ایک جگہ مکر و ریا کی ہوئی تشہیرروشن ہوئے امید سے رخ اہل وفا کےپیشانئ اعدا پہ سیاہی ہوئی تحریر(2)حریت آدم کی رہ سخت کے رہگیرخاطر میں نہیں لاتے خیال دم تعزیرکچھ ننگ نہیں رنج اسیری کہ پرانامردان صفا کیش سے ہے رشتۂ زنجیرکب دبدبۂ جبر سے دبتے ہیں کہ جن کےایمان و یقیں دل میں کیے رہتے ہیں تنویرمعلوم ہے ان کو کہ رہا ہوگی کسی دنظالم کے گراں ہاتھ سے مظلوم کی تقدیرآخر کو سرافراز ہوا کرتے ہیں احرارآخر کو گرا کرتی ہے ہر جور کی تعمیرہر دور میں سر ہوتے ہیں قصر جم و داراہر عہد میں دیوار ستم ہوتی ہے تسخیرہر دور میں ملعون شقاوت ہے شمرؔ کیہر عہد میں مسعود ہے قربانئ شبیر(3)کرتا ہے قلم اپنے لب و نطق کی تطہیرپہنچی ہے سر حرف دعا اب مری تحریرہر کام میں برکت ہو ہر اک قول میں قوتہر گام پہ ہو منزل مقصود قدم گیرہر لحظہ ترا طالع اقبال سوا ہوہر لحظہ مددگار ہو تدبیر کی تقدیرہر بات ہو مقبول، ہر اک بول ہو بالاکچھ اور بھی رونق میں بڑھے شعلۂ تقریرہر دن ہو ترا لطف زباں اور زیادہاللہ کرے زور بیاں اور زیادہ
کس دین کا مرشد ہے، کس کیش کا موجد ہےکس شہر کا شحنہ ہے کس دیس کا والی ہے؟
زندگی کون سی منزل پہ رکی ہے آ کرآگے چلتی بھی نہیںراہ بدلتی بھی نہیںسست رفتار ہے یہ دور عبوری کتناسخت و بے جان ہے وہ پیکر نوری کتناچاند اک خواب جو تھاشہر امید تہہ آب جو تھاحسن کے ماتھے کا ننھا ٹیکاپائے آدم کے تلے آتے ہیاترے چہرے کی طرح ہو گیا کتنا پھیکاہم جنوں کیش و طرح دار ہمیشہ کے جو تھےبھاگتے سایوں کے پیچھے دوڑےداہنے بائیں جو ڈالیں نظریںہو کے بے کیف ہٹا لیں نظریںموت افلاس جفا عیاریبھوت عفریت چڑیلیں خواریناچتی گاتی تھرکتی ہنستیقہقہے گالیاں لڑتی ڈستیہڈیاں چوستی یرقان زدہ لاشوں کیپنجوں میں تار کفنشعلہ دہنبستی کی بستیاں جھلساتی ہوئیشہر پہنچیں تو کھلے در پائےچڑھ گئیں سیڑھیوں پر کھٹ کھٹ کھٹبدن ہونے لگے پٹلے لیا دانتوں میں شریانوں کوویمپائر کی طرح
اب کہاں جمنا تری موجوں کی مستانہ وہ چالاب کہاں پانی کے جھرنے اور وہ لطف برشگالاب کہاں چھوٹا سا وہ رادھا کا کنج خوش گواراب کہاں وہ آہ متھرا تیرے پھولوں کی بہاراب کہاں وہ بنسی والے کی ادائے جاں نوازاب کہاں وہ آہ مرلی کی صدائے جاں نوازاب کہاں وہ خلوت راز و نیاز حسن و عشقبے صدا زیر زمیں ہیں آہ ساز حسن و عشقاو تلون کیش او کافر ادا اور دوں شعارتو نے بدلے رنگ لاکھوں آہ وضع روزگارخاک اٹھ کر آہ سر پر دامن ساحل اڑاٹکڑے ٹکڑے کر جگر کو پارہ ہائے دل اڑاسوزش غم سے پگھل جا آہ اے ریگ رواںذرے ذرے میں تیرے تصویر عبرت ہے نہاںاب کہاں وہ کنج دل کش اب کہاں رادھا کا عیشہے برنگ خندۂ گل بے بقا دنیا کا عیش
سر چشمۂ اخلاق وفا کیش و وفا کوشاے مشرق اشراق صفا ابر خطا پوشیوں تیرے دل صاف میں اشراق محبتجس طرح کہ لو صبح کو دے در نیا گوشمیں کون ہوں اک دل ہوں جسے ضبط نے ماراکر دے گی فنا مجھ کو مری کوشش خاموشوہ دل ہوں عبارت جو ہے نظم ابدی سےاک خون کا نقطہ ہوں میں پر معنی و پرجوشجبریل مرے ساتھ رہے روز ازل سےمیخانۂ عرفاں میں شب و روز قدح نوشکچھ منہ سے نکل جائیں نہ سمجھی ہوئی باتیںرہنے دو مجھے مجلس مے میں یونہی مدہوشسرسبز ہوں ظاہر میں مگر اے دل خوں گرمجس طرح حنا میں ہے نہاں آتش خاموشدل پر یہ ستم کیوں نہ ہو ہم جنس پہ تاثیرکعبہ اسی غم میں نظر آتا ہے سیہ پوشایوب نہیں ہوں کوئی معصوم نہیں ہوںتا چند مظالم پہ رہوں ساکت و خموشہیں جتنے اقارب وہ اقارب سے ہیں بد تراحباب ہیں وہ خود غرض و زود فراموشدل صاف نہیں سب ہیں سخن ساز و سخن چیںیہ مہر تو ہے زہر اگر نیش میں ہو نوشکہتے ہیں جسے دوست وہ اس دور میں عنقاسمجھے ہیں جسے مہر وہ اس عہد میں روپوشکس دور میں آئے ہیں ہم اے مجلس ساقیجب رند خرابات نشیں ہو گئے مدہوشدل کیا مری آنکھوں کا ہے ٹوٹا ہوا سوتاطوفان اٹھا دیں گے یہی چشمۂ خس پوشٹھوکر سے جلاتا ہوں مضامین کہن کوہے فتنۂ محشر مری اتری ہوئی پاپوشہم سنگ جواہر کبھی پتھر نہیں ہوتاہر چند تراشے کوئی صناع صفا کوشگو مجھ کو خدا داد طبیعت نے سنوارامجرم ہوں اگر ہوں کبھی احسان فراموشترکش میں مرے تیر بہت کم ہیں مگر ہیںایسے کہ اڑا دیں قدر انداز کے جو ہوشپندار خودی ہے عزیز ان کو تو ہمیں کیاہم عشق کے بندے ہیں وفا کیش و وفا کوش
وید ان کے دل حق کیش کی تصویریں ہیںجلوۂ قدرت معبود کی تفسیریں ہیں
زندگی راحت جاں درد دل زار بھی ہےبانجھ کھیتی بھی ہے اور کشت گہر بار بھی ہےزندگی ایک دھنکشوخ رنگوں سے بنیزندگی قرض بھی ہے فرض بھی ہےزندگی ایک سرابزندگی جام شرابزندگی حسن شبابزندگی بوئے گلابزندگی کیوں ہو عذابجس نے جس رنگ میں دیکھا یہ بنی ویسی ہیشاد ناشاد تو آباد ہیں برباد یہاںفقر ایک پھول بھی ہے دھول بھی ہےزندگی گہرا سمندر کوئیاس فلک بوس بلندی سے پرےلوگ جیتے ہیں کہ مرنا ہے انہیںذہن و ماحول کی تاریکی میںجس طرح ہوگا بہ ہر طور گزر کر لیں گےلوگ جینے سے بہت پہلے ہی مر جاتے ہیںاک تساہل کا بہانہ ہے یہ انداز ان کاآؤ ہم زیست سجائیں اپنیعظمت آدم و حوا نہ گھٹائیں ہرگزہم وفا کیش بنیںخدمت قوم و وطن اپنا سلیقہ بن جائےحسن کے پھول بکھیریں خوشبوپیار کے نور سے روشن ہوں فضائیں ساریدل میں نفرت نہ رہےدرد مٹ جائیں ملے صبر و قرارروشنی پائے حیاترات کی ظلمتیں مٹ جائیں کہیں کھو جائیںخوگر رنج بنیں وارث اورنگ نشاطسر خوشی پائے حیاتجینا جب تک ہے سلیقہ سے جئیںموت آئے تو قرینے سے مریںحسن تدبیر سے گلشن میں گہر باری ہوکام کچھ ایسے کریںزیست جاوید بنے
ہاں کس لیے خاموش ہے او تخت جگر ریشکس غم میں سیہ پوش ہے کیا سوگ ہے در پیشکملی ہے ترے دوش پہ کیوں صورت درویشجوگی ہے ترا پنتھ کہ صوفی ہے تیرا کیشبولا کہ زمانے نے دیا نوش کبھی نیشصدیاں مجھے گزری ہیں یہاں تین کم و بیش
اے نازش کونین ستم کیش و ستم گاراے خون رگ ابر رواں جان چمن زاراے ساز محبت کی مچلتی ہوئی جھنکارمیرا کوئی ساتھی ہے نہ ہمدم ہے نہ غم خوار
حلف اٹھانے کی رسم سے بے نیاز لمحےتمام مفلوج عدل گاہوں کی مصلحت کیش بے زبانیلہو فروشی کے کل دلائلدفاتر منصفی پر تحریر کر رہے ہیں
تحسین کے طالب نہیں اوصاف خدادادآفاق ہلا دیتی ہے حق کیش کی فریادآباد کہاں حلقۂ شعری کی فضا میںبت خانۂ مانی کہ صنم خانۂ بہزادمٹ جائے گا ایوان تفاخر کا تکلفیک شعلۂ جوالہ ہے آہ دل ناشادضرغام ہے روباہ کے زرین قفس میںآزاد ہیں پابند گرفتار ہیں آزادغازی نے کہا لوٹ لو بت خانۂ دولتصوفی نے کہا چھوڑ دو عشرت گہ شدادتیزاب سیاست میں خودی جس کی ہوئی غرقوہ کاغذی لعبت بنے کیا پیکر فولادحاجات کے بت خانۂ تزویر ہزاروںبندوں نے ترے نام پہ کر ڈالے ہیں ایجادلٹ جاتا ہے ہر گام پہ عصمت کا خزانہدل کش بہت ہے مانا کہ ہر رقص پری زادجمہور کی تہذیب سے اخلاص ہے معدومامروز نئی نسل کو اللہ نہیں یادجمہور کی برکت سے ہوئے آدمی ننگےسائنس نے سو فتنۂ محشر کئے ایجاد
صاحب ملک علم مالک راممالک ملک حلم مالک راممولد پاک پھالیہ کی زمیںہیر و رانجھا کی سر زمیں کے قریںشہر گجرات میں رہے ہے یہ مقیمارض لاہور میں ہوئی تعلیمنیکی و خیر و خلق میں فیاضدوستی کے بہت بڑے نباضکارواں کارگاہ حکمت کےلعل اک معدن محبت کےطلبا کے شفیق و یاور ہیںبحر تحقیق کے شناور ہیںاکمل و افضل و علیم و خطیباکرم و اعظم و شریف و نحیفصاحب فقر و بندۂ درویشدوستوں کے بڑے عقیدے کیشان کے مسلک میں بے ریائی ہےان کی رندی میں پارسائی ہےنثر میں ان کی نظم کی بو باسنظم کی انتہا کے رمز شناسکس قدر آن بان ہے ان کیبے نیازانہ شان ہے ان کیاب بھی چہرے پہ ہے شباب کا نورسربسر علم کی شراب کا نوربات کرنے میں پھول جھڑتے ہیںکبھی لڑتے نہ یہ جھگڑتے ہیںعلم کی جستجو پہ جان نثاربہر تحقیق روز و شب بیدارراہ تحقیق پہ چلے ہیں مدامچھان ڈالے عراق و مصر و شامجرمنی روس بلجیم لندنہر جگہ دیکھے علم کے معدنکارواں علم کا ہے تیز خراماور اس کے امیر مالک رامصاحب علم و صاحب اخلاقدوستی میں یہ فرد خلق میں طاقآشتی اور علم کا اک گنجان سے پہنچا نہیں کسی کو رنجرمز داں ہیں یہ فکر غالب کےہیں مصنف یہ ذکر غالب کےمحترم دوست عرش فرشی کےہیں مرتب یہ نذر عرشی کےہیں بہ ہر رنگ عالموں کے حبیبنذر ذاکر انہوں نے دی ترتیبعربی فارسی ہو یا اردوان کی باتوں میں سب کی ہے خوشبوان کی تصنیف عورت اور اسلامپائے گی دہر میں بقائے دوامخوب لکھا تلامذہ کا حالخاندان اسد کا حسن مقالگل رعنا ہے نسخۂ ارتنگیہ بھی با کیف ہے گل صد رنگبرتنا بم کہ ارمغاں بہ دہمبس غنیمت کہ قلب و جاں بدہمعلم را دادہ از نظر تمکیںرہنمائے براہ علم و یقیںذہن فرخندہ مغز تابندہباد در شہر علم پایندہرو راز حرص و آز و طمع و ہوسنیک خو نیک قلب و نیک نفسشہر نا مردمان و ہد آزادبس ہمیں مرد است خوش اطوارملک معنی کا بادشاہ ہے یہشہر انشا کا کج کلاہ ہے یہختم ہے عرش اب دعا پہ کلامیہ رہیں با مراد و شاد مدامحسن سیرت کی شمع جلتی رہےشاخ امید اور پھلتی رہےزندگی کو ملے نشاط تمامپر ہمیشہ رہے سرور کا جامنور خورشید کی طرح دمکےعلم و تحقیق کی ضیا چمکےعلم کی روشنی بڑھاتے رہیںہم کو بھی کچھ نہ کچھ سکھاتے رہیں
جفا شعار ستم کیش حریت دشمنڈرا رہا ہے تو آنکھیں یہ کیا دکھا کے مجھےمرے قدم کو ہو جنبش یہ غیر ممکن ہےپیام شوق سے دے درد و ابتلا کے مجھےکوئی مجھے رہ حق سے ہٹا نہیں سکتااگر یقین نہ ہو دیکھ لے ہٹا کے مجھےزباں پہ کلمۂ حق کے سوا جو حرف آ جائےتو پھونک دے مری غیرت ابھی جلا کے مجھےہے آشنا مرے کام و دہن سے تلخئ غمیہ زہر دیکھ لے سو مرتبہ پلا کے مجھےہے میرے واسطے معراج روح تختۂ دارتو خوش اگر ہے تو ہو دار پر چڑھا کے مجھےفنا ہے میرے لئے مژدۂ بقائے دوامسنا رہا ہے تو احکام کیا قضا کے مجھےسوا خدا کے کسی سے میں دب نہیں سکتانہ رکھ سکے گا تو ہرگز کبھی دبا کے مجھےترے خیال میں گر ہوں میں قابل تسخیرتو دیکھ لے غم و آلام میں پھنسا کے مجھےمری طرف سے اجازت ہے تجھ کو عام اس کیکہ دے سکے تو غم و رنج انتہا کے مجھےخوشی کے ساتھ ہوں راضی ہر ابتلا کے لئےتو منتخب مجھے کر تو سہی جفا کے لئے
شہید کا اسے دیتی ہے مرتبہ تاریخبہ کیش صدق و صفا ہے یہی بڑا انعام
حقیر و ناتواں تنکاہوا کے دوش پر پراںسمجھتا تھا کہ بحر و بر پہ میری حکمرانی ہےمگر جھونکا ہوا کا ایک البیلاتلون کیشبے پرواجب اس کے جی میں آئے رخ پلٹ جائےہوا آخر ہوا ہے کب کسی کا ساتھ دیتی ہےہوا تو بے وفا ہے کب کسی کا ساتھ دیتی ہےہوا پلٹیبلندی کا فسوں ٹوٹاحقیر و ناتواں تنکاپڑا ہے خاک پستی پرخدا جانے کوئی رہگیر بے پرواجب اپنے پاؤں سے اس کو مسلتا ہےتو اپنا خواب عظمت یاد کر کے اس کے دل پر کیا گزرتی ہے
تیرے پچکے ہوئے رخسار یہ ویراں آنکھیںہونٹ پژمردہ کہیں ساری کہانی تیریایک بھونرے نے ترے حسن کا رس چوس لیااک ستم کیش نے لوٹی ہے جوانی تیری
سنو تم سے مجھے اک بات کہنی ہےتمہارا اس قدر بیزار سا رہناخفا برہم تغافل کیش کی عادتمجھے ادراک ہے اس کا یہ عنوان محبت ہےتمہارا ہر ستم مجھ کو عزیز از جان ہے لیکنتمہاری خامشی مجھ پر قیامت سی گزرتی ہےتبسم قہقہے شادابی رخسار و لب و مژگاں کی تابانیمرے شعر و سخن کے واسطے اکسیر اعظم ہےتقاضائے محبت تو یہی ہے تمتبسم سے تکلم سے وجود حسن طینت سےمرے فکر و تخیل کو کیا کرتے رہو معمورچلو ضد چھوڑ کر اپنیترستی منتظر نظروں کو تم یک لختتجلی سے عطا معراج کر دو
بیاں کیا تجھ سے ہو ہمدم کہ شاعر کون ہے کیا ہےوہ اس دنیا میں رہ کر اور ہی عالم میں رہتا ہےکبھی تخئیل کی پہنائیوں میں گم سا پھرتا ہےکبھی کون و مکاں کی وسعتوں میں ڈوب جاتا ہےاگر تفصیل ہو درکار جو شاعر کی فطرت کیہوئی ہے مختصر اشعار میں تفسیر شاعر کیتبسم کیش تسکیں دہ تمدن ساز ہوتا ہےحیات افروز ذوق دید کا دم ساز ہوتا ہےجہان ہوش کا سرمایۂ صد ناز ہوتا ہےہر اک انداز میں سرمستیوں کا راز ہوتا ہےشعور زندگی جس کے تفکر سے سنورتا ہےجہان رنگ و بو جس کی نگاہوں میں نکھرتا ہےیہ جلوے یہ بہاریں یہ گلستاں جس کے دم سے ہےحیات شوق کی تسکیں کا ساماں جس کے دم سے ہےیہ ہر ممکن بہار بزم امکاں جس کے دم سے ہےلب اعجاز سے ہستی غزل خواں جس کے دم سے ہےیہ سب سرگرمیٔ احساس ہے شاعر کی ہستی سےسرور و کیف کی سرمستیاں ہیں اس کی مستی سےبہر عالم سلیقہ عزم و ہمت کا سکھاتا ہےبہر صورت جمال عظمت ہستی دکھاتا ہےسرود زندگی پر زندگی کے گیت گاتا ہےجہاں دل سرد پڑ جاتے ہیں شاعر مسکراتا ہےنشان عظمت انسانیت کا نام ہے شاعرسراپا لطف و عزم و ہوش کا پیغام ہے شاعر
کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوںفکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوںنالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوںہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوںجرأت آموز مری تاب سخن ہے مجھ کوشکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کوہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہمقصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہمساز خاموش ہیں فریاد سے معمور ہیں ہمنالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہماے خدا شکوۂ ارباب وفا بھی سن لےخوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لےتھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات قدیمپھول تھا زیب چمن پر نہ پریشاں تھی شمیمشرط انصاف ہے اے صاحب الطاف عمیمبوئے گل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیمہم کو جمعیت خاطر یہ پریشانی تھیورنہ امت ترے محبوب کی دیوانی تھیہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظرکہیں مسجود تھے پتھر کہیں معبود شجرخوگر پیکر محسوس تھی انساں کی نظرمانتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کو کیونکرتجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام تراقوت بازوئے مسلم نے کیا کام ترابس رہے تھے یہیں سلجوق بھی تورانی بھیاہل چیں چین میں ایران میں ساسانی بھیاسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھیاسی دنیا میں یہودی بھی تھے نصرانی بھیپر ترے نام پہ تلوار اٹھائی کس نےبات جو بگڑی ہوئی تھی وہ بنائی کس نےتھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میںخشکیوں میں کبھی لڑتے کبھی دریاؤں میںدیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میںکبھی ایفریقا کے تپتے ہوئے صحراؤں میںشان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کیکلمہ پڑھتے تھے ہمیں چھاؤں میں تلواروں کیہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مصیبت کے لیےاور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لیےتھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیےسر بکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لیےقوم اپنی جو زرو و مال جہاں پر مرتیبت فروشی کے عوض بت شکنی کیوں کرتیٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھےپاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھےتجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھےتیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھےنقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نےزیر خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نےتو ہی کہہ دے کہ اکھاڑا در خیبر کس نےشہر قیصر کا جو تھا اس کو کیا سر کس نےتوڑے مخلوق خدا وندوں کے پیکر کس نےکاٹ کر رکھ دئیے کفار کے لشکر کس نےکس نے ٹھنڈا کیا آتشکدۂ ایراں کوکس نے پھر زندہ کیا تذکرۂ یزداں کوکون سی قوم فقط تیری طلب گار ہوئیاور تیرے لیے زحمت کش پیکار ہوئیکس کی شمشیر جہانگیر جہاں دار ہوئیکس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئیکس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھےمنہ کے بل گر کے ہو اللہ احد کہتے تھےآ گیا عین لڑائی میں اگر وقت نمازقبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی ہوئی قوم حجازایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایازنہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نوازبندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئےتیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئےمحفل کون و مکاں میں سحر و شام پھرےمئے توحید کو لے کر صفت جام پھرےکوہ میں دشت میں لے کر ترا پیغام پھرےاور معلوم ہے تجھ کو کبھی ناکام پھرےدشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نےبحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا ہم نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نےتیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نےتیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نےپھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیںہم وفادار نہیں تو بھی تو دل دار نہیںامتیں اور بھی ہیں ان میں گنہ گار بھی ہیںعجز والے بھی ہیں مست مئے پندار بھی ہیںان میں کاہل بھی ہیں غافل بھی ہیں ہشیار بھی ہیںسیکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بے زار بھی ہیںرحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پربرق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پربت صنم خانوں میں کہتے ہیں مسلمان گئےہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئےمنزل دہر سے اونٹوں کے حدی خوان گئےاپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئےخندہ زن کفر ہے احساس تجھے ہے کہ نہیںاپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیںیہ شکایت نہیں ہیں ان کے خزانے معمورنہیں محفل میں جنہیں بات بھی کرنے کا شعورقہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حور و قصوراور بے چارے مسلماں کو فقط وعدۂ حوراب وہ الطاف نہیں ہم پہ عنایات نہیںبات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیںکیوں مسلمانوں میں ہے دولت دنیا نایابتیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ حسابتو جو چاہے تو اٹھے سینۂ صحرا سے حبابرہرو دشت ہو سیلی زدۂ موج سرابطعن اغیار ہے رسوائی ہے ناداری ہےکیا ترے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہےبنی اغیار کی اب چاہنے والی دنیارہ گئی اپنے لیے ایک خیالی دنیاہم تو رخصت ہوئے اوروں نے سنبھالی دنیاپھر نہ کہنا ہوئی توحید سے خالی دنیاہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں ترا نام رہےکہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے جام رہےتیری محفل بھی گئی چاہنے والے بھی گئےشب کی آہیں بھی گئیں صبح کے نالے بھی گئےدل تجھے دے بھی گئے اپنا صلہ لے بھی گئےآ کے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئےآئے عشاق گئے وعدۂ فردا لے کراب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کردرد لیلیٰ بھی وہی قیس کا پہلو بھی وہینجد کے دشت و جبل میں رم آہو بھی وہیعشق کا دل بھی وہی حسن کا جادو بھی وہیامت احمد مرسل بھی وہی تو بھی وہیپھر یہ آرزدگئ غیر سبب کیا معنیاپنے شیداؤں پہ یہ چشم غضب کیا معنیتجھ کو چھوڑا کہ رسول عربی کو چھوڑابت گری پیشہ کیا بت شکنی کو چھوڑاعشق کو عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑارسم سلمان و اویس قرنی کو چھوڑاآگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیںزندگی مثل بلال حبشی رکھتے ہیںعشق کی خیر وہ پہلی سی ادا بھی نہ سہیجادہ پیمائی تسلیم و رضا بھی نہ سہیمضطرب دل صفت قبلہ نما بھی نہ سہیاور پابندی آئین وفا بھی نہ سہیکبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہےبات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہرجائی ہےسر فاراں پہ کیا دین کو کامل تو نےاک اشارے میں ہزاروں کے لیے دل تو نےآتش اندوز کیا عشق کا حاصل تو نےپھونک دی گرمئ رخسار سے محفل تو نےآج کیوں سینے ہمارے شرر آباد نہیںہم وہی سوختہ ساماں ہیں تجھے یاد نہیںوادیٔ نجد میں وہ شور سلاسل نہ رہاقیس دیوانۂ نظارۂ محمل نہ رہاحوصلے وہ نہ رہے ہم نہ رہے دل نہ رہاگھر یہ اجڑا ہے کہ تو رونق محفل نہ رہااے خوشا آں روز کہ آئی و بصد ناز آئیبے حجابانہ سوئے محفل ما باز آئیبادہ کش غیر ہیں گلشن میں لب جو بیٹھےسنتے ہیں جام بکف نغمۂ کو کو بیٹھےدور ہنگامۂ گلزار سے یکسو بیٹھےتیرے دیوانے بھی ہیں منتظر ہو بیٹھےاپنے پروانوں کو پھر ذوق خود افروزی دےبرق دیرینہ کو فرمان جگر سوزی دےقوم آوارہ عناں تاب ہے پھر سوئے حجازلے اڑا بلبل بے پر کو مذاق پروازمضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بوئے نیازتو ذرا چھیڑ تو دے تشنۂ مضراب ہے سازنغمے بیتاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لیےطور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لیےمشکلیں امت مرحوم کی آساں کر دےمور بے مایہ کو ہمدوش سلیماں کر دےجنس نایاب محبت کو پھر ارزاں کر دےہند کے دیر نشینوں کو مسلماں کر دےجوئے خوں می چکد از حسرت دیرینۂ مامی تپد نالہ بہ نشتر کدۂ سینۂ مابوئے گل لے گئی بیرون چمن راز چمنکیا قیامت ہے کہ خود پھول ہیں غماز چمنعہد گل ختم ہوا ٹوٹ گیا ساز چمناڑ گئے ڈالیوں سے زمزمہ پرداز چمنایک بلبل ہے کہ ہے محو ترنم اب تکاس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب تکقمریاں شاخ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئیںپتیاں پھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیںوہ پرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیںڈالیاں پیرہن برگ سے عریاں بھی ہوئیںقید موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کیکاش گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کیلطف مرنے میں ہے باقی نہ مزہ جینے میںکچھ مزہ ہے تو یہی خون جگر پینے میںکتنے بیتاب ہیں جوہر مرے آئینے میںکس قدر جلوے تڑپتے ہیں مرے سینے میںاس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیںداغ جو سینے میں رکھتے ہوں وہ لالے ہی نہیںچاک اس بلبل تنہا کی نوا سے دل ہوںجاگنے والے اسی بانگ درا سے دل ہوںیعنی پھر زندہ نئے عہد وفا سے دل ہوںپھر اسی بادۂ دیرینہ کے پیاسے دل ہوںعجمی خم ہے تو کیا مے تو حجازی ہے مرینغمہ ہندی ہے تو کیا لے تو حجازی ہے مری
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہےپر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہےقدسی الاصل ہے رفعت پہ نظر رکھتی ہےخاک سے اٹھتی ہے گردوں پہ گزر رکھتی ہےعشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مراآسماں چیر گیا نالۂ بیباک مراپیر گردوں نے کہا سن کے کہیں ہے کوئیبولے سیارے سر عرش بریں ہے کوئیچاند کہتا تھا نہیں اہل زمیں ہے کوئیکہکشاں کہتی تھی پوشیدہ یہیں ہے کوئیکچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھامجھ کو جنت سے نکالا ہوا انساں سمجھاتھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیاعرش والوں پہ بھی کھلتا نہیں یہ راز ہے کیاتا سر عرش بھی انساں کی تگ و تاز ہے کیاآ گئی خاک کی چٹکی کو بھی پرواز ہے کیاغافل آداب سے سکان زمیں کیسے ہیںشوخ و گستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیںاس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہےتھا جو مسجود ملائک یہ وہی آدم ہےعالم کیف ہے دانائے رموز کم ہےہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہےناز ہے طاقت گفتار پہ انسانوں کوبات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کوآئی آواز غم انگیز ہے افسانہ ترااشک بیتاب سے لبریز ہے پیمانہ تراآسماں گیر ہوا نعرۂ مستانہ تراکس قدر شوخ زباں ہے دل دیوانہ تراشکر شکوے کو کیا حسن ادا سے تو نےہم سخن کر دیا بندوں کو خدا سے تو نےہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیںراہ دکھلائیں کسے رہرو منزل ہی نہیںتربیت عام تو ہے جوہر قابل ہی نہیںجس سے تعمیر ہو آدم کی یہ وہ گل ہی نہیںکوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیںڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیںہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیںامتی باعث رسوائی پیغمبر ہیںبت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیںتھا براہیم پدر اور پسر آزر ہیںبادہ آشام نئے بادہ نیا خم بھی نئےحرم کعبہ نیا بت بھی نئے تم بھی نئےوہ بھی دن تھے کہ یہی مایۂ رعنائی تھانازش موسم گل لالۂ صحرائی تھاجو مسلمان تھا اللہ کا سودائی تھاکبھی محبوب تمہارا یہی ہرجائی تھاکسی یکجائی سے اب عہد غلامی کر لوملت احمد مرسل کو مقامی کر لوکس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہےہم سے کب پیار ہے ہاں نیند تمہیں پیاری ہےطبع آزاد پہ قید رمضاں بھاری ہےتمہیں کہہ دو یہی آئین وفاداری ہےقوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیںجذب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیںجن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن تم ہونہیں جس قوم کو پروائے نشیمن تم ہوبجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہوبیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہوہو نکو نام جو قبروں کی تجارت کر کےکیا نہ بیچوگے جو مل جائیں صنم پتھر کےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا کس نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا کس نےمیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا کس نےمیرے قرآن کو سینوں سے لگایا کس نےتھے تو آبا وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہوہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہوکیا کہا بہر مسلماں ہے فقط وعدۂ حورشکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعورعدل ہے فاطر ہستی کا ازل سے دستورمسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حور و قصورتم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیںجلوۂ طور تو موجود ہے موسیٰ ہی نہیںمنفعت ایک ہے اس قوم کا نقصان بھی ایکایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایکحرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایککچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایکفرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیںکیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیںکون ہے تارک آئین رسول مختارمصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیارکس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعار اغیارہو گئی کس کی نگہ طرز سلف سے بے زارقلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیںکچھ بھی پیغام محمد کا تمہیں پاس نہیںجا کے ہوتے ہیں مساجد میں صف آرا تو غریبزحمت روزہ جو کرتے ہیں گوارا تو غریبنام لیتا ہے اگر کوئی ہمارا تو غریبپردہ رکھتا ہے اگر کوئی تمہارا تو غریبامرا نشۂ دولت میں ہیں غافل ہم سےزندہ ہے ملت بیضا غربا کے دم سےواعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہیبرق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہیرہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہیفلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہیمسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہےیعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہےشور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابودہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجودوضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنودیہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہودیوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہوتم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہودم تقریر تھی مسلم کی صداقت بیباکعدل اس کا تھا قوی لوث مراعات سے پاکشجر فطرت مسلم تھا حیا سے نمناکتھا شجاعت میں وہ اک ہستی فوق الادراکخود گدازی نم کیفیت صہبایش بودخالی از خویش شدن صورت مینا یش بودہر مسلماں رگ باطل کے لیے نشتر تھااس کے آئینۂ ہستی میں عمل جوہر تھاجو بھروسا تھا اسے قوت بازو پر تھاہے تمہیں موت کا ڈر اس کو خدا کا ڈر تھاباپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہوپھر پسر قابل میراث پدر کیونکر ہوہر کوئی مست مئے ذوق تن آسانی ہےتم مسلماں ہو یہ انداز مسلمانی ہےحیدری فقر ہے نے دولت عثمانی ہےتم کو اسلاف سے کیا نسبت روحانی ہےوہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کراور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کرتم ہو آپس میں غضب ناک وہ آپس میں رحیمتم خطا کار و خطا بیں وہ خطا پوش و کریمچاہتے سب ہیں کہ ہوں اوج ثریا پہ مقیمپہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلب سلیمتخت فغفور بھی ان کا تھا سریر کے بھییوں ہی باتیں ہیں کہ تم میں وہ حمیت ہے بھیخودکشی شیوہ تمہارا وہ غیور و خوددارتم اخوت سے گریزاں وہ اخوت پہ نثارتم ہو گفتار سراپا وہ سراپا کردارتم ترستے ہو کلی کو وہ گلستاں بکناراب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کینقش ہے صفحۂ ہستی پہ صداقت ان کیمثل انجم افق قوم پہ روشن بھی ہوئےبت ہندی کی محبت میں برہمن بھی ہوئےشوق پرواز میں مہجور نشیمن بھی ہوئےبے عمل تھے ہی جواں دین سے بدظن بھی ہوئےان کو تہذیب نے ہر بند سے آزاد کیالا کے کعبے سے صنم خانے میں آباد کیاقیس زحمت کش تنہائی صحرا نہ رہےشہر کی کھائے ہوا بادیہ پیما نہ رہےوہ تو دیوانہ ہے بستی میں رہے یا نہ رہےیہ ضروری ہے حجاب رخ لیلا نہ رہےگلۂ جور نہ ہو شکوۂ بیداد نہ ہوعشق آزاد ہے کیوں حسن بھی آزاد نہ ہوعہد نو برق ہے آتش زن ہر خرمن ہےایمن اس سے کوئی صحرا نہ کوئی گلشن ہےاس نئی آگ کا اقوام کہن ایندھن ہےملت ختم رسل شعلہ بہ پیراہن ہےآج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیداآگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدادیکھ کر رنگ چمن ہو نہ پریشاں مالیکوکب غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والیخس و خاشاک سے ہوتا ہے گلستاں خالیگل بر انداز ہے خون شہدا کی لالیرنگ گردوں کا ذرا دیکھ تو عنابی ہےیہ نکلتے ہوئے سورج کی افق تابی ہےامتیں گلشن ہستی میں ثمر چیدہ بھی ہیںاور محروم ثمر بھی ہیں خزاں دیدہ بھی ہیںسیکڑوں نخل ہیں کاہیدہ بھی بالیدہ بھی ہیںسیکڑوں بطن چمن میں ابھی پوشیدہ بھی ہیںنخل اسلام نمونہ ہے برومندی کاپھل ہے یہ سیکڑوں صدیوں کی چمن بندی کاپاک ہے گرد وطن سے سر داماں تیراتو وہ یوسف ہے کہ ہر مصر ہے کنعاں تیراقافلہ ہو نہ سکے گا کبھی ویراں تیراغیر یک بانگ درا کچھ نہیں ساماں تیرانخل شمع استی و در شعلہ دو ریشۂ توعاقبت سوز بود سایۂ اندیشۂ توتو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سےنشۂ مے کو تعلق نہیں پیمانے سےہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سےپاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سےکشتئ حق کا زمانے میں سہارا تو ہےعصر نو رات ہے دھندلا سا ستارا تو ہےہے جو ہنگامہ بپا یورش بلغاری کاغافلوں کے لیے پیغام ہے بیداری کاتو سمجھتا ہے یہ ساماں ہے دل آزاری کاامتحاں ہے ترے ایثار کا خودداری کاکیوں ہراساں ہے صہیل فرس اعدا سےنور حق بجھ نہ سکے گا نفس اعدا سےچشم اقوام سے مخفی ہے حقیقت تیریہے ابھی محفل ہستی کو ضرورت تیریزندہ رکھتی ہے زمانے کو حرارت تیریکوکب قسمت امکاں ہے خلافت تیریوقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہےنور توحید کا اتمام ابھی باقی ہےمثل بو قید ہے غنچے میں پریشاں ہو جارخت بر دوش ہوائے چمنستاں ہو جاہے تنک مایہ تو ذرے سے بیاباں ہو جانغمۂ موج ہے ہنگامۂ طوفاں ہو جاقوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دےدہر میں اسم محمد سے اجالا کر دےہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہوچمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہویہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہوبزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہوخیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہےنبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہےدشت میں دامن کہسار میں میدان میں ہےبحر میں موج کی آغوش میں طوفان میں ہےچین کے شہر مراقش کے بیابان میں ہےاور پوشیدہ مسلمان کے ایمان میں ہےچشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھےرفعت شان رفعنا لک ذکرک دیکھےمردم چشم زمیں یعنی وہ کالی دنیاوہ تمہارے شہدا پالنے والی دنیاگرمی مہر کی پروردہ ہلالی دنیاعشق والے جسے کہتے ہیں بلالی دنیاتپش اندوز ہے اس نام سے پارے کی طرحغوطہ زن نور میں ہے آنکھ کے تارے کی طرحعقل ہے تیری سپر عشق ہے شمشیر تریمرے درویش خلافت ہے جہانگیر تریما سوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تریتو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تریکی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیںیہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books