aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "khambe"
وہ سڑک کے اس جانبروشنی کے کھمبے سے!
اجڑی منڈی، لاغر کتے، ٹوٹے کھمبے خالی کھیتکیا اس نہر کے پل کے آگے ایسا شہر خموشاں تھا
کھمبےدھندلی محرابیں
کہیں فٹ پاتھ پہ لیٹے ہوئے بے جان سے جسمجن پہ کھمبے یوں کھڑے تھے
دھوپ اتنی دھواں دھار گر رہی ہے کہ بجلی کے کھمبے اور چلے گئے ہیںاب کبھی کچھ نہیں سنائی دے سکے گا
تیرہ و تار ہے کتنی یہ گلیٹمٹماتی ہے جہاں کھمبے پر
کوئی در ڈھونڈے کوئی راہ مانگےاچانک کسی سرد کھمبے کی بے نور آنکھوں سے جھانکے
موٹر کے پہیے بجلی کے کھمبے پہ چند چھینٹے کچھچکنی سڑک پہ دور تک اک سرخ سی لکیر
اپنی گاڑی دے ماریراستے کے کھمبے سے
ایک بجلی کے کھمبے تلےکتنے زندہ بچے
ہلتی تھی وہ ادھر ادھرچلتی تھی وہ کھمبوں پر
دور تک فٹپاتھ پر روندے ہوئے سائےپول پر بجلی کے کھمبے سے لٹکتی ایک چمگادڑ
روشنی کے کھمبے کے نیچےمیں نے اپنے سر کو اپنے قدموں میں الجھتے دیکھا
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایازنہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہواور راج کرے گی خلق خدا
بجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہوبیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہو
نبض ہستی کا لہو کانپتے آنسو میں نہیںاڑنے کھلنے میں ہے نکہت خم گیسو میں نہیں
وہ شاید مائدے کی گند بریانی نہ کھاتی ہووہ نان بے خمیر میدہ کم تر ہی چباتی ہو
ہوئے مدفون دریا زیر دریا تیرنے والےطمانچے موج کے کھاتے تھے جو بن کر گہر نکلے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books